[rank_math_breadcrumb]

طیارے زمین پر: انڈین ایئرفورس کے جنگی جہازوں، ہیلی کاپٹر اور تربیتی طیاروں کے حادثات کی ستر سال کے دوران مسلسل تباہی کی کہانی

حال ہی میں دُبئی ایئر شو کے دوران انڈین  تیجس طیارہ حادثے کا شکار ہوا جسے بین الاقوامی میڈیا نے نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔

یہ ویڈیو انڈین  فضائیہ کے سات دہائیوں کے دوران دو ہزار تین سو چوہتر طیارے تباہ ہونے کی کہانی ہے۔ ان حادثات میں ایک ہزار تین سو پانچ پائلٹ اور دو سو سے زیادہ فضائی عملے کے لوگ ہلاک ہوئے۔

انڈین  فضائیہ نے گذشتہ سات دِہائیوں میں جتنے طیارے کھوئے ہیں، وہ دنیا کی کسی بھی بڑی ایئرفورس سے کہیں زیادہ ہیں۔ سرکاری بیانات بہت محدود ہیں، آزاد ذرائع، تحقیقی رپورٹس، پارلیمانی دستاویزات اور دفاعی ماخذ ایک ایسی تصویر دکھاتے ہیں جس میں حادثات معمول نہیں بلکہ ایک مستقل سانحہ بن چکے ہیں۔

سب سے مُستَنَد اور قابلِ قبول تحقیق ریڈف کے دفاعی ماہر اَجے شُکلہ اور مُحقق دیوش کَپور نے کی۔ ان کے مطابق 1952 سے 2021 تک کل انڈین  فضائیہ کے 2304 طیارے تباہ ہوئے۔

ان میں1126  جنگی طیارے، 1248 ٹرانسپورٹ اور دوسرے طیارے، 196ہیلی کاپٹر اور 229 تربیتی طیارے شامل تھے۔ ان حادثات میں 1305 پائلٹ ہلاک ہوئے۔ یہ واحد ڈیٹا ہے جس میں ستر سال کا مکمل ریکارڈ محفوظ ہے۔

1950 سے 1990 تک کا عرصہ انڈین  فضائیہ کے لیے سب سے تباہ کن دور ثابت ہوا۔ انڈیا کے اپنے دفاعی ماخذ ‘بھارت رکھشک’ کے مطابق اس زمانے میں زیادہ تر حادثات کی وجوہات پائلٹ کی غلطی، فنی خرابی، ناقص دیکھ بھال اور پرانے جہاز تھے۔ انڈیا ٹوڈے کے دفاعی رپورٹر شِوَ اَروڑَ نے لکھا کہ اس دور میں انڈین  فضائیہ کا حفاظتی رکارڈ دنیا کی خطرناک ترین فضائی قوتوں میں شمار ہوتا تھا۔

انڈین  فضائیہ کے سب سے زیادہ حادثات مگ-21 سے جڑے ہیں، جسے دنیا بھر میں دی فلائنگ کافن یعنی ‘اُڑتا تابوت’ بھی کہا جاتا ہے۔ بین الاقوامی اداروں اے پی نیوز، انڈیا ٹوڈے اور ٹائمز آف انڈیا کے مطابق مگ-21 نے سب سے زیادہ پائلٹ مارے۔

انڈیا نے اسے ساٹھ برس بعد بھی ریٹائر نہیں کیا۔ 2000 کی دہائی میں ہر سال پانچ میں مگ-21 گرنے کی رپورٹس سامنے آتی رہیں۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق سن 2015 سے 2024 کے درمیان 104 مگ-21 کے حادثات میں 73 پائلٹ ہلاک ہوئے۔

بڑے اور نمایاں حادثات کی فہرست بھی طویل ہے۔ پاکستان کے ساتھ 1965 کی جنگ میں انڈیا کے 59 طیارے گرے۔ 1971 کی جنگ میں 45 طیارے تباہ ہوئے۔ 1982 سے 1990 تک مگ-21 کے حادثات نے ہولَناک سلسلہ قائم رکھا، اور اس دوران تقریباً 250 مگ-21 تباہ ہوئے۔ 2016 میں این-32 ٹرانسپورٹ طیارہ سمندر میں لاپتہ ہوا۔ اس میں 29 اہلکار سوار تھے۔ یہ انڈیا کی تاریخ کا سب سے بڑا غیر جنگی حادثہ تھا جس کا ملبہ آج تک نہیں ملا۔

2019 میں بالاکوٹ کشیدگی کے دوران انڈین مگ مار گرایا گیا اور پائلٹ ابھی نندن کو پاکستان نے گرفتار کیا۔ یہ واقعہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا۔

جدید دور میں بھی انڈیا فضائی حادثات نہیں روک سکا۔ 2024 میں میراج-2000 گر کر تباہ ہوا۔2025 میں میں جیگوار تربیتی طیارہ گرنے سے دونوں پائلٹ ہلاک ہوئے۔ 2025 ہی میں دبئی ایئر شو کے دوران انڈین  تیجس طیارہ حادثے کا شکار ہوا جسے بین الاقوامی میڈیا نے نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔

انڈین پارلیمانی کمیٹی برائے دفاع نے سن 2019 سے 2023 کی رپورٹس میں لکھا کہ حادثات کی بڑی وجوہات پرانے طیارے، ناقص تربیت، انسانی غلطیاں اور دیکھ بھال کے کمزور نظام ہیں۔

عالمی میڈیا بھی یہی تصویر پیش کرتا ہے۔ بی بی سی لکھتا ہے کہ انڈیا کے پاس دنیا کے سب سے زیادہ حادثہ خیز پرانے طیارے ہیں۔ الجزیرہ کہتا ہے کہ انڈیا کے جدید کاری کے دعووں کے باوجود طیارے مسلسل گر رہے ہیں۔ اے پی نیوز نے لکھا کہ Mug  مگ-21 کے حادثات معمول بن چکے ہیں اور انڈیا پرانے جہازوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکا۔

اگر تمام ماخذ یکجا کریں تو سن 1952 سے 2021 تک انڈیا کے 2374 طیارے تباہ ہوئے۔ 2021 سے 2025 تک تک مزید 21 سے 25 حادثات ریکارڈ ہوئے۔ یوں 2025 تک تک مجموعی تباہی تقریباً 2400 سے 2420 طیاروں تک پہنچتی ہے۔

یہ صرف مشینوں کا نقصان نہیں۔ ان حادثات میں ایک ہزار تین سو پانچ پائلٹ اور دو سو سے زیادہ فضائی عملہ ہلاک ہوا۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا غیر جنگی فوجی فضائی نقصان ہے۔

یہ ریکارڈ صرف حادثات کی فہرست نہیں۔ یہ ایک مسلسل نظامی ناکامی کی کہانی ہے۔ غلط طیاروں کی خریداری، ناقص تربیت، بوسیدہ نظام، پرانے جہازوں پر انحصار اور حفاظتی اصولوں کی کمزوری نے انڈین  فضائیہ کو ایسی تباہی تک پہنچایا ہے جس کی مثال دنیا میں کم ملتی ہے۔

ستر برس میں انڈیا نے جتنے فوجی طیارے گرائے اور کھوئے ہیں، دنیا کے کئی ملکوں نے اپنی پوری عسکری تاریخ میں اتنے جہاز بنائے بھی نہیں۔ یہ نقصان صرف تعداد کا نہیں، بلکہ ایک ایسی ناکامی کا ثبوت ہے جو سات دہائیوں میں مسلسل دوہرائی جاتی رہی اور آج تک ختم نہیں ہوئی۔

اسی بارے میں: