Tag: جنگ

  • عوام پر نفسیاتی اور معاشی جنگ کیسے مسلط کی جاتی ہے؟

    عوام پر نفسیاتی اور معاشی جنگ کیسے مسلط کی جاتی ہے؟

    دنیا کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ حکمران طبقات نے اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے صرف طاقت، قانون اور ریاستی اداروں کا سہارا نہیں لیا، بلکہ عوام کو مختلف ادوار میں سیاسی، مذہبی، نسلی، لسانی، قومی، معاشی اور نفسیاتی کشمکش میں بھی الجھائے رکھا ہے۔

    جب کسی معاشرے کے محنت کش، متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لوگ اپنے بنیادی حقوق، روزگار، تعلیم، صحت، عزت اور بہتر زندگی کے لیے متحد ہونے لگیں تو انہیں تقسیم کرنے کے لیے کبھی مذہب کا سہارا لیا جاتا ہے، کبھی زبان و قومیت کا، کبھی سیاسی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل کیا جاتا ہے اور کبھی معاشی حالات اس قدر مشکل بنا دیے جاتے ہیں کہ انسان اجتماعی جدوجہد کے بجائے صرف اپنے گھر کا چولہا جلانے کی فکر میں مبتلا ہو جائے۔

    آج پاکستان میں عام آدمی کو درپیش صورتحال کو صرف مہنگائی کا مسئلہ سمجھنا شاید کافی نہیں۔ بڑھتی ہوئی قیمتیں، روزگار کے محدود مواقع، بجلی اور گیس کے بھاری بل، علاج اور تعلیم کے اخراجات، ٹرانسپورٹ کے کرائے اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مل کر ایک ایسی معاشی کیفیت پیدا کر رہی ہیں جس کے اثرات انسان کی ذہنی اور سماجی زندگی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

    تازہ مثال پٹرول کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 12 روپے 90 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 72 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 358 روپے 77 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 381 روپے 77 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتیں 8 ستمبر سے نافذالعمل ہیں۔

    بظاہر یہ چند روپے کا اضافہ ہے، مگر اس کے اثرات صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتے۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو موٹر سائیکل، رکشہ، کار، بس اور ٹرک کا سفر مہنگا ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے تو سبزی، پھل، دودھ، آٹا، دال، گوشت اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی ہیں۔ فیکٹری سے مارکیٹ اور مارکیٹ سے گھر تک ہر چیز کی نقل و حمل کا خرچ عام آدمی کی جیب سے وصول کیا جاتا ہے۔

    ایک مزدور جو روزانہ موٹر سائیکل پر کام پر جاتا ہے، اس کے لیے پٹرول کا ہر اضافہ اس کی اجرت میں عملی کمی کے برابر ہے۔ تنخواہ وہی، مگر سفر کا خرچ زیادہ۔ دکاندار کے اخراجات زیادہ، صارف کی قوتِ خرید کم۔ یوں معاشی دباؤ کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کا سب سے بڑا بوجھ محنت کش طبقہ برداشت کرتا ہے۔

    اس صورتحال کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے جس پر ہمارے ہاں کم بات ہوتی ہے۔ جب ایک شخص صبح گھر سے نکلتے ہوئے یہ سوچے کہ آج کا پٹرول، بچوں کی فیس، بجلی کا بل، راشن اور دوا کیسے پوری ہوگی تو اس کے ذہن میں اجتماعی مسائل کے بجائے ذاتی بقا کا سوال سب سے بڑا بن جاتا ہے۔ وہ سیاسی جلسے میں جانے، احتجاج میں شرکت کرنے، کسی اجتماعی تحریک کا حصہ بننے یا اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے بجائے اضافی مزدوری تلاش کرنا زیادہ ضروری سمجھتا ہے۔

    یہی وہ مقام ہے جہاں معاشی دباؤ ایک نفسیاتی اثر پیدا کرتا ہے۔

    اگر ایک متوسط طبقے کے شہری کے پاس اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوانے کے لیے پیسے نہ ہوں، اگر رکشے یا بس کا کرایہ برداشت کرنا مشکل ہو جائے تو وہ شہر کے کسی احتجاج، جلسے یا عوامی اجتماع میں کیسے پہنچے گا؟ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شہری اپنے گھر تک محدود ہو جاتا ہے۔ اس کی سیاسی سرگرمی موبائل فون کی اسکرین تک محدود رہ جاتی ہے اور عملی اجتماعی مزاحمت کمزور پڑتی جاتی ہے۔

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں عوامی تحریکوں نے ہمیشہ اسی وقت قوت حاصل کی جب معاشی مشکلات نے عوام کو ایک دوسرے کے قریب کیا اور سیاسی شعور نے انہیں مشترکہ مطالبات کے گرد متحد کیا۔ مزدور تحریکیں، کسان تحریکیں، طلبہ تحریکیں اور جمہوری جدوجہدیں اس بات کی مثال ہیں کہ جب عوام اپنے مسائل کو انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی مسئلہ سمجھتے ہیں تو حکمرانوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔

    لیکن آج کا مسئلہ یہ ہے کہ عوام کو ایک مشترکہ معاشی مسئلے پر متحد ہونے کے بجائے مختلف سیاسی، لسانی، مذہبی اور گروہی بحثوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ ایک غریب دوسرے غریب سے لڑ رہا ہے، متوسط طبقہ اپنے سے کمزور طبقے کو مسئلے کی جڑ سمجھ رہا ہے، سیاسی کارکن ایک دوسرے کو دشمن تصور کر رہے ہیں، جبکہ اصل معاشی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

    یہ صورتحال کسی ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں۔ ریاستی و سیاسی نظام میں آنے والی مختلف حکومتوں نے اپنے اپنے ادوار میں عوام کو مختلف نعروں کے ذریعے متحرک بھی کیا اور تقسیم بھی۔ کبھی روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ سامنے آیا، کبھی اسلامی نظام، کبھی جمہوریت، کبھی ترقی، کبھی تبدیلی اور کبھی قومی سلامتی۔ عوام نے ہر دور میں امیدیں وابستہ کیں، مگر بنیادی معاشی مسائل بڑی حد تک اپنی جگہ موجود رہے۔

    قانون اور ریاست کا بنیادی مقصد شہری کو تحفظ، انصاف اور مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔ لیکن جب عام شہری کو یہ محسوس ہونے لگے کہ قانون طاقتور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ ہے، روزگار میرٹ کے بجائے تعلقات سے ملتا ہے، تعلیم اور صحت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔ یہی عدم اعتماد معاشرتی بے چینی کو جنم دیتا ہے۔

    سندھ کا عام آدمی اس بحران کو روزانہ اپنی زندگی میں محسوس کر رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں کسان پانی، مہنگی کھاد، بجلی اور پیداوار کی قیمت کے مسائل سے دوچار ہے۔ شہری علاقوں میں مزدور روزگار، کرایوں، بجلی، پانی، تعلیم اور علاج کے اخراجات کے درمیان پستا ہے۔

    کراچی جیسے شہر میں ایک طرف صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں ہیں تو دوسری طرف ٹرانسپورٹ، پانی، بجلی، کچرے اور بنیادی شہری سہولیات کے مسائل بھی موجود ہیں۔

    معاشی دباؤ صرف جیب خالی نہیں کرتا، یہ انسان کے رویے بھی تبدیل کرتا ہے۔ گھر میں آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہوں تو شوہر اور بیوی میں اختلاف بڑھ سکتا ہے، والدین بچوں کی ضروریات پوری نہ ہونے پر ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں، نوجوان مستقبل سے مایوس ہو سکتے ہیں اور بعض افراد قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ یوں مہنگائی ایک معاشی مسئلے سے بڑھ کر سماجی اور نفسیاتی بحران بن جاتی ہے۔

    سب سے خطرناک صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب عوام مسلسل مشکلات کو اپنی قسمت سمجھنے لگیں۔

    اگر ایک معاشرہ یہ سوچ لے کہ ‘کچھ نہیں بدل سکتا’، ‘سب ایک جیسے ہیں’، ‘آواز اٹھانے سے کیا ہوگا؟’ تو یہی سوچ حکمران طبقے کے لیے سب سے بڑی کامیابی بن جاتی ہے، کیونکہ حکمرانی صرف طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ عوام کے اندر بے بسی کا احساس پیدا کرکے بھی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

    یہاں میڈیا اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہے۔ عوام کو صرف ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کے بجائے انہیں ان کے حقیقی معاشی اور سماجی مسائل سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا عوامی طاقت کو تقسیم کرتا ہے۔

    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مزدور، کسان، طلبہ، تاجر، صحافی، وکلا، اساتذہ اور متوسط طبقہ اپنے اپنے مسائل کو ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھیں۔ پٹرول کی قیمت صرف موٹر سائیکل چلانے والے کا مسئلہ نہیں؛ یہ کسان، مزدور، دکاندار، طالب علم، مریض، مسافر اور ہر شہری کا مسئلہ ہے۔

    عوامی مزاحمت کا مطلب صرف سڑکوں پر نکلنا نہیں۔ آئینی اور قانونی دائرے میں پرامن احتجاج، اجتماعی آواز، شہری تنظیم سازی، ووٹ کا شعوری استعمال، مقامی مسائل پر مسلسل سوال اٹھانا، آزاد صحافت کی حمایت اور منتخب نمائندوں سے جواب طلبی بھی جمہوری مزاحمت کی شکلیں ہیں۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ پٹرول آج 358 روپے 77 پیسے فی لیٹر ہوگیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک عام آدمی کی آمدنی اس رفتار سے کیوں نہیں بڑھ رہی جس رفتار سے اس کے اخراجات بڑھ رہے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ مہنگائی کا بوجھ ہمیشہ کمزور طبقے ہی کے کندھوں پر کیوں پڑتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات دینے کے بجائے انہیں ہر بحران کے بعد مزید قربانی دینے کے لیے کیوں کہا جاتا ہے؟

    جب تک یہ سوال اجتماعی سوال نہیں بنیں گے، ہر شخص اپنے اپنے گھر میں بیٹھ کر اپنے مسئلے کا حل تلاش کرتا رہے گا۔ اور جب عوام اپنے اجتماعی مسائل کو انفرادی قسمت سمجھنے لگیں تو حکمرانوں کے لیے سب سے مشکل کام بھی آسان ہو جاتا ہے۔

    اس لیے آج سب سے بڑی ضرورت صرف مہنگائی کے خلاف آواز اٹھانا نہیں بلکہ عوام کو معاشی، سیاسی اور نفسیاتی بے بسی سے نکالنا ہے۔ کیونکہ بھوکا انسان پہلے روٹی تلاش کرتا ہے، پریشان انسان پہلے اپنے گھر کو بچاتا ہے اور خوف زدہ انسان پہلے خاموشی اختیار کرتا ہے۔

    مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب یہی خاموش لوگ اپنے دکھ کو مشترکہ دکھ اور اپنے مسائل کو مشترکہ مسئلہ سمجھ لیتے ہیں تو معاشرے میں تبدیلی کی بنیاد پڑتی ہے۔

    عوام کو تقسیم کرکے حکمرانی شاید کچھ عرصے تک جاری رکھی جا سکتی ہے، لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ عوام کب اپنی خاموشی کو طاقت اور اپنی کمزوری کو اجتماعی شعور میں تبدیل کرتے ہیں۔

  • 22 اگست 1859: جب انگریزوں کے خلاف بغاوت کے الزام میں امر روپلو کولہی کو پھانسی دی گئی

    22 اگست 1859: جب انگریزوں کے خلاف بغاوت کے الزام میں امر روپلو کولہی کو پھانسی دی گئی

    انگریزوں کے خلاف بغاوت اور جنگ کرنے والے سندھ کے قومی ہیرو امر روپلو کولہی نے ننگرپارکر سے 15 کلومیٹر شمال مشرق کی طرف واقع گاؤں کونبھاری میں تقریباً 1818 میں جنم لیا۔ ان کے والد کا نام شامتو اور والدہ کا نام کیسر بائی تھا۔ وہ کولہیوں کی گوئل ذات سے تعلق رکھتے تھے۔

    انگریزوں نے سندھ پر قبضہ کرنے کے بعد تھر اور پارکر سمیت سندھ کے مختلف علاقوں کو انتظامی طور پر حیدرآباد کے ساتھ ملا دیا۔ انہوں نے رعایا اور مقامی حکمرانوں میں سے کچھ کو دباؤ کے ذریعے اور کچھ کو لالچ دے کر اپنے زیر اثر کرنا شروع کیا، لیکن پارکر کے سوڈھوں اور کولہیوں نے انگریزی حکومت کو قبول نہیں کیا اور کسی بھی قسم کا ٹیکس دینے سے انکار کر دیا۔

    سوڈھوں نے اپنی آزاد اور خودمختار حیثیت برقرار رکھی۔ انگریزوں نے انہیں اپنا حکم ماننے اور ان پر انتظامی احکامات نافذ کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔

    انگریز ریزیڈنٹ جنرل ٹروٹ نے مختلف ٹیکسوں کی وصولی کے لیے دیو مل کو مختیارکار مقرر کرکے ننگرپارکر بھیجا، لیکن سوڈھے، کولہی اور کھوسہ اپنے مؤقف پر قائم رہے۔

    پارکر کا بہادر شخص روپلو کولہی بھی اپنے ساتھیوں سمیت ویراواہ کی رانی لادھو سنگھ اور اس کے بیٹے ادھے سنگھ کے ساتھ مل کر اپنی دھرتی کے دفاع کے لیے کھڑا ہوگیا۔

    1843 سے 1859 تک انگریز سوڈھوں اور ان کے ساتھی کولہیوں کو زیر نہیں کر سکے۔ 15 اپریل 1859 کو روپلو کولہی کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف بڑی بغاوت شروع کی گئی۔

    کولہیوں نے انگریزی کیمپ پر حملے کیے، خزانے لوٹے اور سرکاری دفاتر کو آگ لگا دی۔ ان حملوں میں انگریز جنرل جارج بوتھ ٹروٹ کی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

    ادھے سنگھ کے اچانک حملے کی وجہ سے ٹروٹ وہاں سے فرار ہوگیا اور پورن واہ گاؤں میں لادھی میگھواڑ کے گھر میں جانوروں کے چھپر کے نیچے جا کر چھپ گیا۔ وہاں سے لادھی میگھواڑ اور بھوڈیسر کے ٹھاکروں نے اسے رات کے وقت اونٹ پر بٹھا کر حیدرآباد روانہ کر دیا۔ مزید دیکھیے: ٹروٹ، جارج بوتھ، جلد دوم۔

    اس طرح سوڈھوں اور کولہیوں نے ادھے سنگھ اور روپلو کولہی کی قیادت میں ننگرپارکر پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ سوڈھے اور کولہی اس کامیابی پر بے فکر ہو کر بیٹھ گئے۔

    بھٹوں اور چارنوں نے اس واقعے پر دوہے اور شاعری بنائی، مثلاً:

    ‘ادھے سنگھ اچانک آیا، بھورو کو بھگا دیا،

    کر بھوڈی را کانپ اٹھے، موچی نے چھپا دیا۔’

    راڻوں اور کولہیوں کی فتح اور جشن دیکھ کر ڈیسا کی طرف بھاگ جانے والی انگریز فوج دوبارہ جمع ہوگئی۔ اس نے ننگرپارکر شہر سے جنوب کی طرف راڻاسر تالاب کے قریب خیمے لگا دیے اور ننگرپارکر پر حملے کی تیاری شروع کردی۔

    حیدرآباد سے کرنل ٹروٹ نے کراچی کے کرنل ایونز سے مل کر احمدآباد اور ڈیسا سے آنے والی تازہ فوجی کمک کے ساتھ ننگرپارکر پر حملہ کردیا۔

    اس شدید حملے میں سیکڑوں کولہی اور سوڈھے وطن پر قربان ہوگئے۔ ویراواہ کا راڻو لادھو سنگھ گرفتار ہوگیا۔ روپلو اور اس کے ساتھی مڈو اور ڈجو کارونجھر میں مورچے بنا کر بیٹھ گئے۔ موقع ملتے ہی وہ انگریزوں کے دفاتر پر حملے کرتے اور پھر کارونجھر میں چھپ جاتے تھے۔

    راڻوں نے جنرل ٹروٹ کو بہت تلاش کیا، لیکن وہ ہاتھ نہیں آسکا۔ انہوں نے کچھ انگریز سپاہیوں کو مار ڈالا۔ اس پر غصے میں آکر کرنل ایونز کی فوج نے ننگرپارکر کے شمال کی طرف دینسی گاؤں کے قریب راڻوں اور کولہیوں کے خلاف بڑا حملہ کیا، لیکن وہ ناکام رہے۔

    راڻے اور کولہی کارونجھر میں مورچہ بند تھے۔ جب انگریز اپنے قدم پوری طرح نہیں جما سکے تو تنگ آکر انہوں نے کچھ غداروں کو بڑی رقمیں دے کر اپنے ساتھ ملا لیا، جنہوں نے انگریزوں کے لیے جاسوسی کی۔ ان میں ساڑ دھری مندر کا پجاری ہنس پوری باوو، کاسبو کا رہائشی سیٹھ مہاوجی لوہانہ اور دوسرے لوگ شامل تھے۔

    ان کی دی ہوئی اطلاع پر ساڑ دھری جانے والی راہ پر قائم کنویں سے پانی بھرتے ہوئے روپلو کولہی کو گرفتار کرلیا گیا۔

    قید کے دوران روپلو پر سخت تشدد کیا گیا۔ ہاتھوں کی انگلیوں پر روئی کی بتیاں بنا کر انہیں آگ لگائی گئی۔ طرح طرح کے عذاب دیے گئے، لیکن روپلو نے نہ انگریزوں کے سامنے سر جھکایا اور نہ ہی اپنے چھپے ہوئے ساتھیوں کے بارے میں کوئی اطلاع دی۔

    اس دوران روپلو کی بیوی میناوتی کو بلایا گیا تاکہ وہ روپلو کی حالت دیکھ کر اسے بغاوت سے دستبردار ہونے پر مجبور کرے۔ لیکن میناوتی نے روپلو سے کہا:

    ‘روپلا! اگر تم نے دھرتی اور قوم سے غداری کی تو لوگ مجھے طعنے دیں گے۔ تم ناانصافی کے خلاف وطن کے لیے اپنی جان دے کر سرخرو ہوجاؤ۔ اس کے بعد میں ایک بہادر کی بیوہ کہلا کر فخر کے ساتھ زندگی گزار سکوں گی۔’

    دوسری طرف روپلو کے ساتھیوں کی کارونجھر میں کارروائیاں جاری رہیں۔ پارکر کے اس عظیم بہادر روپلو کولہی کو 22 اگست 1859 کی رات 8 بجے گوڑدھرو ندی کے کنارے کھڑے ببول کے درخت سے لٹکا کر، بغیر کسی مقدمے کے سرعام پھانسی دے دی گئی۔

    روپلو کی شہادت کے بعد بھی اس کے ساتھی لڑتے رہے۔ غداروں کو انگریزوں نے جاگیریں دیں۔ راڻو کرن سنگھ کو عمرکوٹ کے قلعے میں پھانسی دے دی گئی۔

    روپلو اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کروانے والے انگریزوں کے جاسوس ہنس پوری باوو کو کارونجھر کے قریب، مہاوجی لوہانے کو کاسبو کے قریب اور ٹروٹ کو پناہ دینے والے لادھی میگھواڑ کو پورن واہ کے قریب جاگیریں انعام کے طور پر دی گئیں۔

    امر روپلو کولہی کی اولاد میں سے کچھ خاندان آج بھی کونبھاری میں رہتے ہیں، جہاں روپلو کے گھر کے آثار آج بھی موجود ہیں۔

    روپلو کولہی کو سندھی شاعروں نے بھی خوب خراج تحسین پیش کیا ہے۔ مشہور ڈرامہ نویس علی بابا نے ان کے کردار پر ‘کارونجھر کا قیدی’ کے نام سے ڈراما بھی لکھا۔ اس کے علاوہ روپلو پر سیکڑوں مضامین اور درجنوں کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔

  • ایک جنگ، دو محاذ، امریکہ کے میزائل ختم، چین کے لیے کھلا موقع

    ایک جنگ، دو محاذ، امریکہ کے میزائل ختم، چین کے لیے کھلا موقع

    ایران کے ساتھ تیسری بار جنگ شروع ہونے کے باعث امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے کم ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ دفاعی ماہرین نے سی این این کو بتایا ہے کہ ہتھیاروں کی یہ کمی مستقبل میں چین یا شمالی کوریا کے ساتھ ممکنہ جنگ کی صورت میں امریکی فوج کی لڑنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

    واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف گزشتہ سات ہفتوں کی جنگ کے دوران امریکہ اپنے جدید ترین میزائلوں کا ایک بڑا حصہ استعمال کر چکا ہے۔ اس میں تقریباً 45 فیصد پریسیژن اسٹرائیک میزائل، نصف سے زیادہ تھاڈ میزائل، اور تقریباً 50 فیصد پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل شامل ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ پیسہ نہیں بلکہ وقت ہے۔ ان پیچیدہ ہتھیاروں کو دوبارہ تیار کرنے اور ذخائر کو مکمل کرنے میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔

    امریکی دفاعی ماہرین کو تشویش ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ایران کے ساتھ جنگ مزید طویل ہوئی تو امریکہ کے پاس چین کو بحرالکاہل خصوصاً تائیوان کے معاملے میں روکنے کے لیے ہتھیار کم پڑ سکتے ہیں۔

    واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے اپنی تازہ جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ واشنگٹن کے ہتھیاروں کی سپلائی کم ہو رہی ہے، لیکن ابھی وہ نازک سطح تک نہیں پہنچی۔

    فروری سے اب تک جاری جنگ میں امریکہ نے ایران کے 13,000 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے ہیں، جن میں بنیادی طور پر اپنے سات طاقتور میزائلوں اور دفاعی نظاموں کا استعمال کیا گیا۔ ان میں ٹوماہاک، جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائل، اسٹینڈرڈ میزائل تھری، اسٹینڈرڈ میزائل سکس، تھاڈ اور پیٹریاٹ شامل ہیں، جن میں سے امریکہ اپنے دستیاب ذخائر کا نصف سے زیادہ استعمال کر چکا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ان سے کم فاصلے تک مار کرنے والے ہزاروں ہتھیار ابھی بھی ذخیرے میں موجود ہیں، لیکن اب ان کے استعمال کا وقت بھی آتا دکھائی دے رہا ہے، اور اگر جنگ مزید ایک مہینہ جاری رہی تو وہ بھی ختم ہو سکتے ہیں۔

    امریکہ کے پاس سمندر سے زمین پر مار کرنے والے تقریباً 3,000 ٹوماہاک میزائل موجود تھے، جن میں سے ایران کے ساتھ جنگ میں تقریباً 1,000 استعمال ہو چکے ہیں۔

    جاسم کے تقریباً 4,000 میزائلوں میں سے 1,100 استعمال کیے جا چکے ہیں۔

    پی آر ایس ایم نئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہیں، جن کی سپلائی پہلے ہی محدود تھی۔ 2023 سے اب تک ان میں سے صرف 90 میزائل امریکی دفاعی ادارے کو فراہم کیے گئے، جبکہ جنگ میں ان میں سے 40 سے 70 استعمال ہو چکے ہیں۔ ایک امریکی فوجی رہنما کے مطابق اس جنگ میں ان کی تقریباً پوری دستیاب انوینٹری خرچ کر دی گئی ہے۔

    اسٹینڈرڈ میزائل تھری اس جنگ میں استعمال ہونے والا سب سے مہنگا ہتھیار ہے، جس کی فی یونٹ قیمت تقریباً 28 ملین ڈالر ہے۔ یہ بحری جہاز سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل انٹرسیپٹر ہے۔ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس اس کے تقریباً 410 میزائل تھے، جن میں سے اندازاً 130 سے 250 استعمال کیے جا چکے ہیں۔

    اسٹینڈرڈ میزائل سکس بھی بحری جہازوں سے داغے گئے۔ یہ میزائل بنیادی طور پر دشمن کے طیاروں، کروز میزائلوں اور بعض دیگر فضائی خطرات کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس اس کے تقریباً 1,160 میزائل موجود تھے، لیکن اندازوں کے مطابق ایران کی جنگ میں ان میں سے 190 سے 370 تک استعمال ہو چکے ہیں۔

    انتہائی مہنگے تھاڈ اینٹی بیلسٹک میزائل نظام کے اپریل تک امریکہ کے پاس تقریباً 360 انٹرسیپٹر موجود تھے، جن میں سے 190 سے 290 تک استعمال کیے جا چکے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھاڈ کی آٹھ بیٹریاں جن میں لانچر، انٹرسیپٹر اور ریڈار نظام شامل ہوتے ہیں، کے ذخائر بھی نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں۔

    پیٹریاٹ میزائلوں کے بارے میں اندازہ ہے کہ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس تقریباً 2,330 موجود تھے، جن میں سے 1,060 سے 1,430 کے درمیان استعمال کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ اس وقت پینٹاگون کے پاس تقریباً 400 پرانے پیٹریاٹ میزائل موجود ہیں، لیکن بتایا جاتا ہے کہ وہ اس جنگ میں استعمال کے قابل نہیں ہیں۔

    عالمی دفاعی مبصرین نے ٹرمپ انتظامیہ کی تیز اور جارحانہ حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطی میں ایران کے خلاف جنگ کو تیز کر کے خود کو ایسے خطرے میں ڈال رہا ہے جیسے کوئی ویڈیو گیم کھیل رہا ہو، جس سے ایشیا میں چین کو کھلا میدان مل سکتا ہے۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پینٹاگون کا یہ بیان کہ ہمارے پاس ہر چیز موجود ہے محض ایک سیاسی بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی دفاعی پیداواری صنعت اس وقت بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے سے قاصر ہے۔

    اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو جنگ کو طول دینے کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر جنگ جاری رہی تو امریکی اسلحہ ساز کارخانے دن رات کام کرنے کے باوجود بھی اتنے بڑے ذخائر جلد دوبارہ تیار نہیں کر سکیں گے۔

    واشنگٹن کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کے لیے زیادہ اہم محاذ کون سا ہے، مشرق وسطی میں ایران کے ساتھ مقابلہ یا بحرالکاہل کے خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنا۔ ماہرین کے مطابق امریکہ کے لیے بیک وقت دونوں محاذوں پر پوری طاقت کے ساتھ جنگ لڑنا اس کی استطاعت سے باہر ہو سکتا ہے۔

    الجزیرہ کے ایک پروگرام میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے رہنماؤں نے یہ تاثر دینا شروع کر دیا ہے کہ ان کے پاس لامحدود ہتھیار موجود ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر انتظامیہ نے امریکی دفاعی صنعت کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور انہیں میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کی پیداوار ہنگامی بنیادوں پر دن رات جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ ان کمپنیوں نے بھی اس کام کا آغاز تیز رفتار بنیادوں پر کر دیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے جون میں ہی ڈیفنس پروڈکشن ایکٹ پر دستخط کر دیے تھے۔ اگرچہ اسے کانگریس کی منظوری حاصل نہیں ہوئی، تاہم اسے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق دفاعی پیداوار بڑھانے کا یہ حکم اس بات کی علامت ہے کہ پینٹاگون کے اندر مستقبل کی سپلائی اور وقت کے حوالے سے سنجیدہ خدشات موجود ہیں۔

    ایک طرف امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف اس کے عرب اتحادی بھی واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے بھی امریکی دفاعی صنعت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، اس لیے انہیں بھی ان کے خریدے ہوئے تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل فراہم کیے جائیں۔

    تاہم واشنگٹن نے انہیں واضح طور پر بتایا ہے کہ یہ ذخائر خود امریکہ کے پاس بھی تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد روس کے خلاف جنگ کے دوران یوکرین کو فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ موجودہ جنگ کے باعث مزید میزائل فوری طور پر دستیاب نہیں۔

    پہلے سے موجود سپلائی آرڈرز بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ جاپان کے لیے 400 ٹوماہاک میزائلوں کی فراہمی، جو 2025 سے 2027 کے درمیان مکمل ہونی تھی، مقررہ وقت پر پوری نہ ہو سکی۔ اس پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مئی میں کہا تھا کہ اس آرڈر کی تکمیل میں مزید دو سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔

    اسی دوران سوئٹزرلینڈ نے جون میں فرانس، اسرائیل اور جنوبی کوریا سے میزائل دفاعی نظام خریدنے کے لیے بیک وقت مذاکرات شروع کیے، جبکہ جاپان کے لیے ریتھیون کا 2022 کا آرڈر بھی تاخیر کا شکار ہے۔

    وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے حال ہی میں کہا کہ اب نئے میزائل حاصل کرنے میں مہینے نہیں بلکہ سال لگ سکتے ہیں۔ اسی لیے امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں ایسی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جس میں میزائلوں پر کم انحصار ہو۔ ان کا اشارہ زمینی جنگ کی طرف تھا، جہاں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور عام فوجی نسبتاً کم قیمت ہتھیاروں کے ساتھ جنگ لڑ سکتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ اب بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ امریکی اسلحہ ساز کارخانے دن رات کام کر کے فوری طور پر نئے ذخائر فراہم کر دیں گے، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ کو طویل کر کے دراصل امریکہ کے جدید ہتھیاروں کے ذخائر کو ختم کرنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ اپنی مجوزہ 2027 کی 1.5 ٹریلین ڈالر کی دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ جدید ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ رقم 2026 کے دفاعی بجٹ سے تقریباً 44 فیصد زیادہ ہے۔

    سی ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے آئندہ سال کے لیے 785 ٹوماہاک میزائل طلب کیے تھے، لیکن ان میں سے صرف چند ہی فراہم ہو سکے۔ اسی طرح اس سال 821 جاسم میزائل درکار تھے، مگر وہ بھی تاحال مکمل طور پر فراہم نہیں کیے جا سکے۔

    پی آر ایس ایم کے 1,134 میزائل درکار تھے، لیکن اس سال صرف 70 فراہم کیے گئے۔

    اسٹینڈرڈ میزائل تھری کی ایک بڑی تعداد، جس کی درخواست کئی برس پہلے دی گئی تھی، اب تک فراہم نہیں ہو سکی۔ اسٹینڈرڈ میزائل سکس کے 540 میزائل طلب کیے گئے تھے، مگر صرف 125 موصول ہوئے۔ تھاڈ کے 857 انٹرسیپٹر میزائلوں کی درخواست کی گئی، لیکن اس سال صرف 92 فراہم کیے گئے۔

    اسی طرح پیٹریاٹ میزائلوں کے لیے 2027 تک 3,202 میزائلوں کی درخواست دی گئی، جبکہ اب تک صرف 172 فراہم کیے جا سکے ہیں۔

    دوسری جانب، اگرچہ اسرائیل کی دفاعی صنعت بہت ترقی یافتہ ہے، لیکن بیک وقت لبنان، یمن، غزہ اور ایران کے خلاف کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کی وجہ سے اس کے ہتھیاروں کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    اسرائیل کے مشہور دفاعی نظام آئرن ڈوم اور ایرو گزشتہ دو برس سے مسلسل استعمال ہو رہے ہیں۔ حزب اللہ اور حوثی طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرون مسلسل داغ رہے ہیں، جس کے باعث اسرائیل کو انہیں فضا میں تباہ کرنے کے لیے بڑی تعداد میں مہنگے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔

    غزہ اور لبنان میں وسیع پیمانے پر بمباری کی وجہ سے اسرائیل کو آرٹلری گولوں اور گائیڈڈ بموں کی بھی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا، جسے پورا کرنے کے لیے امریکہ نے ہنگامی بنیادوں پر اسرائیل کو فضائی راستے سے اسلحہ فراہم کیا۔

    دریں اثنا، امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک اراکین نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایران جنگ، اسرائیل کے لیے جنگی فنڈنگ اور دفاعی تعاون سے متعلق سالانہ بل کو 50 کے مقابلے میں 46 ووٹوں سے روک دیا۔

    سینیٹ کی نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کمیٹی میں چک شومر، کرس وان ہولن، برنی سینڈرز، الزبتھ وارن، ایڈ مارکی، جیف مرکلے اور پیٹر ویلچ سمیت کئی سینیٹرز نے مؤقف اختیار کیا کہ نیتن یاہو کی حکومت کو امریکی ٹیکس دہندگان کا مزید پیسہ دینا بند کیا جانا چاہیے۔

    اس کے علاوہ 14 شہری اور جنگ مخالف تنظیموں، جن میں امریکن سول لبرٹیز یونین، جے اسٹریٹ، کوڈ پنک اور دیگر خارجہ پالیسی سے متعلق تنظیمیں شامل ہیں، نے بھی سینیٹ سے اپیل کی کہ اس بل کی منظوری نہ دی جائے۔

    اب سوال یہ نہیں رہا کہ امریکہ جنگ جیت سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ بیک وقت دو محاذوں پر جنگ لڑنے کی اپنی صلاحیت کو کب تک برقرار رکھ سکتا ہے۔

    جب تک امریکہ کا دفاعی پیداواری نظام برسوں کے بجائے مہینوں کی رفتار سے جدید ہتھیار تیار کرنے کے قابل نہیں ہوتا، ایران کے ساتھ جاری جنگ صرف مشرق وسطی کا مسئلہ نہیں رہے گی، بلکہ بحرالکاہل میں امریکہ کی مستقبل کی عسکری طاقت اور چین کے مقابلے میں اس کی حکمت عملی کا بھی ایک بڑا امتحان بن سکتی ہے۔

  • ایران جنگ میں امن کردار، کیا پاکستان کو معاشی فائدہ بھی ملے گا؟

    ایران جنگ میں امن کردار، کیا پاکستان کو معاشی فائدہ بھی ملے گا؟

    ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور امن معاہدے میں کردار کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سفارتی کامیابی پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے بھی کسی بڑے معاشی فائدے میں تبدیل ہو سکے گی یا نہیں۔

    بین الاقوامی خبررساں ادارے رائٹرز کے صحافی عریبہ شاہد اور سعد سعید کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی اہم بات چیت میں بھی حصہ لیا۔ عالمی رہنماؤں نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کردار نے نہ صرف جنگ بندی میں مدد دی بلکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی عالمی ترسیل میں ممکنہ بڑے بحران کو بھی ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس سفارتی کامیابی کے نتیجے میں عالمی سطح پر بہتر ساکھ حاصل ہوئی ہے۔ اگر حکومت اس موقع سے درست انداز میں فائدہ اٹھائے تو غیر ملکی سرمایہ کاری، تجارت، برآمدات اور علاقائی اقتصادی تعاون میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کے وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو ملک اپنے اندر استحکام پیدا کرتا ہے اور دنیا میں امن کے قیام میں کردار ادا کرتا ہے، وہ سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت آئندہ مالی سال کے لیے چار فیصد معاشی ترقی کا ہدف رکھے ہوئے ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں استحکام آنے سے تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان ایران، خلیجی ممالک اور ترکی کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ بلوچستان کی سرحدی تجارت کو وسعت دینے، توانائی، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ اگر ان شعبوں میں پیش رفت ہوتی ہے تو اس سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

    تاہم متعدد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف کامیاب سفارت کاری پاکستان کے معاشی مسائل حل نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق ملک کو اب بھی کمزور برآمدات، محدود ٹیکس نیٹ، بیرونی قرضوں، مالی خسارے اور بار بار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے امداد لینے جیسے بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ جب تک ان مسائل پر سنجیدگی سے قابو نہیں پایا جاتا، اس وقت تک سفارتی کامیابیوں کے معاشی فوائد محدود رہ سکتے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق بعض مغربی سفارت کاروں نے بھی اشارہ دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون بڑھانے میں دلچسپی موجود ہے۔ تاہم ابھی تک کسی بڑے مالی پیکیج یا غیر معمولی سرمایہ کاری کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنی بہتر ہوتی ہوئی عالمی ساکھ کو معاشی اصلاحات کے ساتھ جوڑ دے تو وہ طویل مدت میں نمایاں فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے لیے کاروباری ماحول کو بہتر بنانا، سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنا، برآمدات میں اضافہ کرنا اور پائیدار معاشی پالیسی اختیار کرنا ضروری ہوگا۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران پاکستان کو توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا سامنا رہا۔ جنگ بندی کے بعد ان خطرات میں کمی آئی ہے، جس سے پاکستان سمیت پورے خطے میں معاشی سرگرمیوں کے بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ وہ اپنی سفارتی کامیابی کو معاشی پالیسی میں تبدیل کرے۔ اگر حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنے، برآمدات بڑھانے، ٹیکس اصلاحات نافذ کرنے اور کاروباری ماحول بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو حالیہ سفارتی کردار مستقبل میں معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

    رائٹرز کے صحافی عریبہ شاہد اور سعد سعید اپنی رپورٹ کے اختتام پر لکھتے ہیں کہ پاکستان کے پاس اس وقت ایک نادر موقع موجود ہے۔ دنیا میں امن کے لیے ادا کیا گیا کردار ملک کی عالمی ساکھ بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوا ہے، لیکن اس کامیابی کو دیرپا معاشی فائدے میں تبدیل کرنے کے لیے مضبوط معاشی اصلاحات، پالیسیوں کا تسلسل اور مؤثر حکومتی اقدامات ناگزیر ہوں گے۔

  • ایران جنگ کے اثرات: امریکہ میں مہنگائی تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    ایران جنگ کے اثرات: امریکہ میں مہنگائی تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے اثرات اب عام لوگوں کی زندگیوں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھ رہی ہے اور صارفین پر مالی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 میں امریکہ میں مہنگائی کی شرح گزشتہ تین برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ تیل اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں، جو ایران کے ساتھ جاری جنگ اور مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث پیدا ہوئیں۔

    فروری کے آخر میں شروع ہونے والی اس جنگ کے بعد پٹرول کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔ ماہرینِ اقتصادیات کے مطابق جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اس کے اثرات پوری معیشت پر پڑتے ہیں کیونکہ سامان کی نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کا بوجھ آخرکار صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

    امریکی شہریوں کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث اپنی بچتوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کی بچت کی شرح کم ہو کر صرف 2.6 فیصد رہ گئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خاندان اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنی محفوظ رقم استعمال کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک نے جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری درکار ہے۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں محدود نوعیت کے حملے بھی ہوئے ہیں، لیکن دونوں فریق مذاکرات جاری رکھنے پر متفق دکھائی دیتے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جنگ بندی اب بھی نازک مرحلے میں ہے اور کسی بھی وقت صورتحال دوبارہ خراب ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی منڈیوں میں بے چینی پائی جاتی ہے اور سرمایہ کار مستقبل کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

    معاشی ماہرین کے مطابق اگر مہنگائی کی رفتار اسی طرح برقرار رہی اور تنخواہوں میں اسی تناسب سے اضافہ نہ ہوا تو صارفین اپنی خریداری کم کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اور اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کا خاتمہ قریب ہے، لیکن انہوں نے حال ہی میں یہ بھی تسلیم کیا کہ مذاکرات ابھی مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوئے اور کئی اہم معاملات پر اتفاقِ رائے ہونا باقی ہے۔

  • ایران جنگ کے اثرات، کنڈوم کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافے کا خدشہ

    ایران جنگ کے اثرات، کنڈوم کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافے کا خدشہ

    دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی آبادی پہلے ہی کئی ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، جہاں وسائل محدود اور خاندانی منصوبہ بندی کے ذرائع ناکافی ہیں۔ ایسے میں مانع حمل طریقوں میں سب سے مؤثر اور قابلِ رسائی ذریعہ سمجھے جانے والے کنڈوم کی ممکنہ مہنگائی نے ایک نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ایران اور امریکہ، اسرائیل کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے پیدا ہونے والا سپلائی بحران بتایا جا رہا ہے۔

    اس سلسلے میں ملائیشیا کی معروف کنڈوم ساز کمپنی Karex نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی برقرار رہی تو اس کی مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کنڈوم بنانے والی اس کمپنی کے مطابق کنڈوم بنانے میں استعمال ہونے والے خام مال کی قلت اور ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔

    Karex ہر سال 5 ارب سے زائد کنڈوم تیار کرتی ہے اور معروف برانڈز Durex اور Trojan سمیت برطانیہ کے قومی صحت کے نظام نیشنل ہیلتھ سروس کو بھی سپلائی فراہم کرتی ہے۔

    کمپنی کے چیف ایگزیکٹو گوہ میاہ کیات نے بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران سے جڑی حالیہ جنگی صورتحال نے عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر تیل اور اس سے وابستہ مصنوعات کی ترسیل میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں، جو کنڈوم کی تیاری کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

    کنڈوم بنانے کے عمل میں لیٹیکس کو محفوظ رکھنے کے لیے امونیا اور چکناہٹ کے لیے سلیکون پر مبنی مواد استعمال ہوتا ہے، جو براہِ راست پیٹرولیم مصنوعات سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ جب تیل کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو ان بائی پراڈکٹ اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔

    گوہ میاہ کیات کے مطابق اس سال کنڈوم کی طلب میں بھی تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک وجہ عالمی غیر یقینی صورتحال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں لوگ خاندانی منصوبہ بندی کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ معاشی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہوتا ہے۔

    ایک اور عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں گوہ میاہ کیات کا کہنا تھا کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد سے کمپنی کو مصنوعی ربڑ اور نائٹرائل سمیت کنڈوم کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد، پیکجنگ اشیا اور چکناہٹ کے لیے استعمال ہونے والے ایلومینیم فوائل اور سلیکون آئل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ Karex کے پاس آئندہ چند ماہ کے لیے کنڈوم کا وافر ذخیرہ موجود ہے، مگر بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداوار میں اضافے کی کوششوں میں یہ جنگی صورتحال سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس غیر ملکی امداد میں بڑی کٹوتیوں، خصوصاً امریکی امدادی ادارے USAID کی جانب سے اخراجات میں کمی کے باعث عالمی سطح پر کنڈوم کے ذخائر میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ یورپ اور امریکا جیسے مقامات تک Karex کی ترسیل اب تقریباً دو ماہ میں مکمل ہو رہی ہے، جو پہلے ایک ماہ میں ہو جاتی تھی۔

    گوہ میاہ کیات نے کہا کہ اس وقت بڑی تعداد میں کنڈوم ایسے بحری جہازوں میں موجود ہیں جو اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے، حالانکہ ان کی شدید ضرورت ہے۔ ان کے بقول کئی ترقی پذیر ممالک میں اسٹاک کی کمی ہے کیونکہ مصنوعات کی ترسیل میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔

  • امریکہ، ایران جنگ: سمندر مر رہا ہے: جنگ نے آبی زندگی کو کیا نقصان پہنچایا؟

    امریکہ، ایران جنگ: سمندر مر رہا ہے: جنگ نے آبی زندگی کو کیا نقصان پہنچایا؟

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ شروع کی گئی جنگ نے جہاں انسانی تباہی مچائی ہے، وہاں دنیا کی آبی زندگی کو بھی تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور آبنائے المندب کی چوکسی کے بعد، امریکہ نے ایرانی سمندری حدود کا گھیراؤ کر کے پوری دنیا کے لیے صورتحال خراب کر دی ہے۔

    اس کے نتیجے میں ہزاروں تیل کے ٹینکرز بندرگاہوں پر کھڑے ہیں، جہاں ان کا لاکھوں افراد پر مشتمل عملہ مسلسل سمندری ماحول میں رہتے ہوئے کئی ذہنی اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو چکا ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ میں ادویات کی قلت بھی پیدا ہونے لگی ہے۔ اس سمندری جنگ میں کئی ممالک کے آئل ٹینکرز کو ڈرونز اور میزائلوں سے تباہ کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف سمندری پانی آلودہ ہوا ہے بلکہ آبی حیات بھی موت کا شکار ہو گئی ہے اور خلیجی ممالک سمیت کئی خطوں میں نئی بیماریوں نے جنم لیا ہے، جس پر طبی ماہرین شدید پریشان ہیں۔

    تیل کا رساؤ: آبی اور انسانی صحت کے لیے خطرہ

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور آبنائے المندب جیسے حساس سمندری راستوں میں تیل کے جہازوں کو نشانہ بنانا نہ صرف عالمی معیشت بلکہ ماحولیات اور انسانی صحت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ تیل کا سمندر میں بہنا آبی جانوروں کے لیے موت کا پیغام ہوتا ہے۔ تیل پانی کی سطح پر ایک تہہ جما دیتا ہے، جس کی وجہ سے آکسیجن پانی میں داخل نہیں ہو پاتی اور مچھلیاں و دیگر جاندار دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں۔

     اس کے علاوہ سمندری پرندوں اور جانوروں جیسے اود بلاؤ کے بالوں پر تیل لگنے سے ان کے جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور وہ ‘ہائپو تھرمیا’ کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔

     انسانی صحت پر زہریلے اثرات

    تیل کی یہ آلودگی بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر انسانوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ جب مچھلیاں آلودہ پانی پیتی ہیں تو زہریلے کیمیائی مادے (جیسے ہائیڈرو کاربن) ان کے گوشت میں شامل ہو جاتے ہیں۔

    ایسی مچھلی کھانے سے انسانوں میں کینسر، جگر کی بیماریوں اور پیٹ کی تکلیف کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مزید برآں، تیل سے نکلنے والی گیسیں (VOCs) ہوا میں شامل ہو کر ساحلی علاقوں کے مکینوں کے لیے سانس کی تکلیف، سر درد اور آنکھوں میں جلن کا باعث بنتی ہیں۔

     ماحولیاتی نظام کی تباہی اور طبی چیلنجز

    سائنسدانوں کے مطابق سمندر سے حاصل ہونے والی جڑی بوٹیاں طبی تحقیق اور ادویات سازی میں استعمال ہوتی ہیں، جو اس آلودگی کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہیں۔ سمندری ماحول میں کیمیائی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسے بیکٹیریا پیدا ہو سکتے ہیں جو ادویات کے خلاف مزاحمت (Antimicrobial Resistance) رکھتے ہوں، جو طبی دنیا کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

    بحیرہ احمر کی نایاب مرجان کی چٹانیں (Coral Reefs) اور ساحلی جنگلات (Mangroves) بھی اس کی زد میں ہیں۔ جہازوں کی یہ تباہی ‘ماحولیاتی دہشت گردی’ کا روپ اختیار کر رہی ہے جس کے اثرات دہائیوں تک ختم نہیں ہوں گے۔

     اعداد و شمار اور حالیہ نقصانات

    حالیہ جنگی صورتحال میں ‘ایم وی روبیمار’ اور ‘سونیون’ جیسے جہازوں پر حملے سب سے بڑا ماحولیاتی دھچکا ثابت ہوئے ہیں۔ ‘روبیمار’ میں موجود 21,000 میٹرک ٹن امونیم فاسفیٹ نے سمندر کا کیمیائی توازن بگاڑ دیا ہے، جس سے ‘الجی’ کی مقدار بڑھنے اور آکسیجن ختم ہونے سے مچھلیوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ سپلائی چین متاثر ہونے سے عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو غریب ممالک کے لیے ایک الگ انسانی بحران ہے۔

     عالمی انتباہ: ایک ٹائمنگ بم

    عالمی اداروں (UN اور IMO) نے اس صورتحال کو ‘ٹائمنگ بم’ سے تشبیہ دی ہے۔ ‘نیچر’ اور ‘دی گارڈین’ جیسے جرنلز کے مطابق یہ سمندر کی ‘جینیاتی لائبریری’ کا جل کر راکھ ہونا ہے۔ ڈبلیو ایچ او (WHO) کے مطابق بیٹریاں، رنگ اور دیگر کیمیائی مادے پانی کو زہریلا بنا رہے ہیں، جس سے آنے والی نسلوں میں پیدائشی نقائص اور ہارمونز کا عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔

     حل اور مستقبل کی حکمت عملی

    ماہرین کا مطالبہ ہے کہ سمندر کو ‘جنگ سے پاک’ علاقہ قرار دیا جائے، ورنہ یہ ‘مردار سمندر’ بن جائے گا۔ مشورہ دیا گیا ہے کہ:

     ماحولیاتی فورس قائم کر کے سمندر کی صفائی کی جائے۔ تجارت کے لیے خشک راستے اور ریلوے کا استعمال کیا جائے۔ شمسی اور ہوائی توانائی کی طرف توجہ دی جائے۔

    اگر جنگ ختم بھی ہو جائے تو سمندر کی صفائی ایک انتہائی مہنگا اور طویل عمل ہوگا۔ اس مسئلے کا اصل حل سیاست میں ہے۔ اگر عالمی طاقتیں ‘ماحولیاتی سلامتی’ کو اپنی ‘سیاسی انا’ پر فوقیت دیں گی تو ہی سمندر بچ سکے گا، ورنہ انسان جنگ تو جیت سکتا ہے لیکن فطرت ہار جائے گی، جس کا نتیجہ ایسی عالمی بھوک اور بیماری ہوگی جس کا کوئی علاج نہیں ہوگا۔ یہ محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی بائیولوجیکل ایمرجنسی ہے۔

  • ایران جنگ نے جہاں دبئی کی رونق اور رنگینیوں کو متاثر کیا ہے وہیں پراپرٹی کی قیمتوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا : کیا دبئی کی عشروں سے قائم شان و شوکت ختم ہورہی ہے؟

    ایران جنگ نے جہاں دبئی کی رونق اور رنگینیوں کو متاثر کیا ہے وہیں پراپرٹی کی قیمتوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا : کیا دبئی کی عشروں سے قائم شان و شوکت ختم ہورہی ہے؟

    دبئی جو سرمایہ کاری کے لیے محفوظ سمجھا جاتا تھا اور دنیا بھر کے امیر ترین افراد کے لیے سرمایہ کاری کی پسندیدہ جگہ تھی، مگر اب اس کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ زوال پذیر ہے۔
    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس (28 February 2026) کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ اور یو اے ای میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد دبئی کے اس تاثر کو نقصان پہنچا ہے کہ یہ دنیا کے امیر افراد کے لیے ایک محفوظ سرمایہ کاری کی جگہ ہے۔
    رپورٹ کے مطابق مارچ کے آغاز میں متحدہ عرب امارات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں رئیل اسٹیٹ کے لین دین کی مقدار 37 فیصد گری جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 49 فیصد کم رہی۔ اہم ترین علاقوں میں بھی جائیدادوں کی قیمتوں میں واضح گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے، جہاں قیمتوں میں بارہ سے پندرہ فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔
    ہوٹل انڈسٹری: ہمیشہ بھرے رہنے والے دبئی کے ہوٹل بھی کچھ ہی دنوں میں خالی ہوگئے۔ لائٹ ہاؤس انٹیلیجنس کے مطابق ہوٹل بکنگ 90 فیصد سے گر کر سولہ فیصد رہ گئی ہے۔
    تجارت اور ڈیجیٹل سروسز: سپلائی چین متاثر ہونے سے اہم اشیا کی فروخت پر براہ راست اثر پڑا ہے اور مالز خالی ہیں، جس سے چھوٹے تاجروں کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ایرانی حملوں سے بعض ڈیجیٹل سروس کے اداروں کو بھی جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
    مجموعی طور پر یو اے ای کی معیشت اس وقت دباؤ میں ہے۔
    سوال یہ ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد دبئی کو اپنا وقار اور شان و شوکت بحال کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟

  • انڈیا : مہنگے داموں گیس سلنڈرز فروخت کرنے کے لئے بڑا ذخیرہ قبرستان میں چھُپائے جانے کا انکشاف

    انڈیا : مہنگے داموں گیس سلنڈرز فروخت کرنے کے لئے بڑا ذخیرہ قبرستان میں چھُپائے جانے کا انکشاف

    امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے خطے کے سب سے بڑے ملک بھارت کو گیس کی قلت کے سنگین بحران میں دھکیل دیا ہے۔

    جس سے بڑھتی ہوئی چوری اوربلیک مارکیٹنگ پولیس کے لئے چیلنج بن گئی ہے۔

    پولیس کارروائیوں کے دوران قبرستان میں گیس سلنڈرز چھپانے کا انوکھا اور بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید متحرک کردیا ہے۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ سے جنوبی ایشیا میں بھی توانائی کا بحران مسلسل بڑھ رہا ہے،
    بھارت میں گھریلو استمعال کے لئے ایل پی جی کا حصول شہریوں کے لئے چیلنج بن گیا ہے۔

    بھارت کے شہر حیدرآباد میں پولیس نے قبرستان میں چھپائے گئے414 گیس سلنڈرز برآمد کر لیے ہیں۔
    بلیک مارکیٹنگ اور چوری کو روکنے کے لئے صرف ایک روز میں تقریباً 2,600 چھاپے مارے گئے اور 700 گیس سلنڈرز ضبط کیے گئے ہیں۔

    پولیس نے گیس سلنڈر چھپانے میں ملوث 10 افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے، جبکہ اس واقعہ میں شامل ایک ڈسٹری بیوٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ سلنڈرز بلیک مارکیٹ میں فروخت کیے جا رہے تھے۔ کمرشل گیس سلنڈرز تقریباً 2100 بھارتی روپے میں ملتا ہے، اسے غیر قانونی طور پر 6000 روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔

    خلیج فارس میں جاری جنگ کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر سپلائی چین میں خلل پڑا ہے۔ بھارت چونکہ اپنی تقریباً 60 فیصد ایل پی جی ضروریات درآمد کرتا ہے، اس لیے اس بحران کا اثر بھارت میں زیادہ شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔

  • موت کا نیا چہرہ: جدید جنگوں کا انسانیت پر وار

    موت کا نیا چہرہ: جدید جنگوں کا انسانیت پر وار

    آج کے دور کی جنگ صرف محاذوں پر لڑنے والے سپاہیوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ‘سائلنٹ کلر’ یعنی ‘خاموش قاتل’ بن کر عام شہریوں کی رگوں میں داخل ہو چکی ہے۔ جب بم گرتے ہیں، تو وہ صرف عمارتیں نہیں ڈھاتے، بلکہ وہ آنے والی نسلوں کی صحت، آبی وسائل اور خوراک کے نظام کو ہمیشہ کے لیے زہر آلود کر دیتے ہیں۔

    ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں کیمیائی دھواں اور ایٹمی تابکاری انسانی جسم کو ایک خاموش قبرستان میں تبدیل کر رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ، خاص طور پر ایران اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ہونے والی فوجی کشمکش، پابندیوں، اور کیمیائی و صنعتی حادثات نے ایک ایسی ‘خاموش تباہی’ کو جنم دیا ہے، جس کے اثرات بموں کے دھماکوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔

    ایران: پابندیاں اور ماحولیاتی دہشت گردی

    ایران اس وقت دوہری جنگ لڑ رہا ہے، ایک سیاسی اور دوسری ماحولیاتی۔ ایران کی تیل کی تنصیبات اور کیمیکل پلانٹس پر ہونے والے سائبر حملوں اور ٹارگٹڈ بمباری نے ہولناک نتائج دیے ہیں۔ ‘دی لینسٹ’ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران کے صنعتی شہروں خاص کر اہواز اور عسلویہ میں ہوا کا معیار عالمی معیار سے 10 سے 20 گنا زیادہ خراب ہو چکا ہے۔

    یہاں پھیپھڑوں کے کینسر میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو گزشتہ ماہ دگنا بڑھ گیا ہے۔ پانی کے ذخائر سخت متاثر ہوئے ہیں۔ ایران کے 90 فیصد زیر زمین آبی ذخائر مکمل طور پر خشک یا زہریلے ہو چکے ہیں۔

    ماحولیاتی ماہرین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تہران اور اصفہان میں سالانہ 40,000 سے زیادہ اموات صرف آلودگی کی وجہ سے ہوئیں، جبکہ خوزستان میں جنگی کیمیائی اثرات کے باعث 1.2 ملین ہیکٹر زمین بنجر بن گئی۔ عراق ایران بارڈر پر یورینیم اور فاسفورس کے اثر کے سبب بچوں میں معذوری کی شرح میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ماحولیاتی ماہر ڈاکٹر کاویہ مدنی کا کہنا ہے کہ: ‘مشرق وسطیٰ میں جنگ صرف بارود تک محدود نہیں ہے۔ ہم ماحولیاتی اپارتھائیڈ کا شکار ہیں، جہاں آنے والی نسل کو زہر ورثے میں مل رہا ہے۔’

    برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ لکھتا ہے کہ ایران پر لگی معاشی پابندیوں کی وجہ سے وہ جدید ‘گرین ٹیکنالوجی’ حاصل نہیں کر سکتا، جس کی وجہ سے پرانے کیمیکل پلانٹس زیادہ زہر خارج کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے، جو بنا گولی کے لڑی جا رہی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بتایا ہے کہ انہیں ایران اور عراق کے سرحدی علاقوں میں ‘ڈیپلیٹیڈ یورینیم’ کے آثار ملے ہیں، جو ایٹمی تابکاری کی ایک کم شدت والی مگر مستقل شکل ہیں۔

    کیمیکل پلانٹس کی تباہی اور ہائبرڈ آلودگی

    جدید جنگوں میں صنعتی علاقوں کو نشانہ بنانا ایک خطرناک رجحان بن گیا ہے۔ جب کیمیکل فیکٹریاں آگ کی لپیٹ میں آتی ہیں، تو وہاں سے نکلنے والا دھواں صرف کاربن نہیں ہوتا۔ امونیا اور فاسجین جیسی گیسیں ہوا میں شامل ہو جاتی ہیں، جو سانس کے نظام کو تباہ کرتی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں دمہ، پھیپھڑوں کا کینسر اور جلد کی لاعلاج بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

    کیمیائی مادے زمینی پانی میں مل کر پینے کے پانی کو زہریلا بنا دیتے ہیں، جس سے گردوں اور جگر کے امراض عام ہو گئے ہیں۔

    زراعت کی بربادی اور غذائی بحران

    جنگ صرف زمین پر قبضہ نہیں، یہ زمین کی زرخیزی کا قتل بھی ہے۔ بمباری اور گولیوں کے بارود میں موجود سیسہ، پارہ اور اینٹیمونی مٹی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ مادے فصلوں کے ذریعے انسانی خوراک کا حصہ بنتے ہیں۔ زہریلے دھوئیں کی وجہ سے تیزابی بارشیں ہوتی ہیں، جو کھڑی فصلوں کو جلا دیتی ہیں۔ مٹی میں موجود یہ زہر لوگوں کے ڈی این اے کو متاثر کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں بچوں میں پیدائشی معذوریاں بڑھ رہی ہیں۔

    ایران والی جنگ کی وجہ سے اس وقت لبنان، یمن اور شام کی زرعی زمین بھی تباہ ہونا شروع ہو گئی ہے۔ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں سوکھنا شروع ہو گئی ہیں۔ جو پھل اور سبزیاں پیدا ہو رہی ہیں، وہ بے ذائقہ ہیں۔ کیمیکل پلانٹس کی آگ سے نکلنے والا دھواں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتا ہے، جو بارش کے ساتھ مل کر زمین کی زرخیزی کو مکمل ختم کر دیتا ہے۔

    ایٹمی تابکاری: ایک ان دیکھا عذاب

    ایٹمی پلانٹس کے قریب لڑی جانے والی جنگوں نے پوری دنیا کو ‘تابکاری کے خوف’ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر کوئی حادثہ ہوتا ہے یا تابکاری خارج ہوتی ہے، تو اس کے نتائج صدیوں تک ختم نہیں ہوتے۔ یہ تابکاری خلیات کو اندرونی طور پر جلا دیتی ہے۔ تابکاری کے اثر میں آئے ہوئے علاقوں میں تھائیرائڈ اور بلڈ کینسر کی شرح میں 400 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    ایٹمی تابکاری اور کیمیائی دھواں مل کر اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے سورج کی خطرناک شعاعیں براہ راست انسانوں پر پڑتی ہیں۔

    ایران کے حساس صنعتی انفراسٹرکچر، خاص طور پر تیل، گیس اور کیمیکل پلانٹس پر ہونے والے سائبر حملے اب صرف ڈیٹا کی چوری تک محدود نہیں رہے، بلکہ وہ براہ راست ‘فزیکل ڈیمیج’ یعنی جسمانی تباہی اور زہریلے مواد کے اخراج کا سبب بن رہے ہیں۔

    سن 2020 میں نطنز نیوکلیئر فیسیلٹی میں ایک بڑا دھماکہ اور آگ لگی، جس کا سبب سائبر تخریب کاری بتایا گیا۔ اس سے یورینیم گیس یو ایف 6 کے اخراج کا خدشہ پیدا ہوا اور زیر زمین سہولیات کو نقصان پہنچا۔

    سن 2021 میں بندر عباس کی ریفائنری کے کنٹرول سسٹم پر حملہ ہوا، جس سے پائپ لائنوں میں پریشر بڑھ گیا، بڑے پیمانے پر تیل کا اخراج ہوا اور زہریلا دھواں ہوا میں پھیل گیا۔

    سن 2022 میں خوزستان اسٹیل کمپنی پر ‘پریڈیٹری اسپیکٹر’ نامی گروپ نے حملہ کیا، جس سے پگھلتے ہوئے لوہے کا سسٹم خراب ہوا اور صنعتی گیسوں کے اخراج سے قریبی آبادی میں سانس کے مسائل بڑھ گئے۔

    سن 2023 میں اصفہان کے کیمیکل پلانٹ پر ڈرون حملے کے ساتھ سائبر سیکیورٹی جام کی گئی، جس کے نتیجے میں نائٹرک ایسڈ اور دیگر خطرناک کیمیکلز کا لیکیج ہوا جو زمینی پانی میں شامل ہو گیا۔

    سن 2024 میں ملک گیر گیس نیٹ ورک پر سائبر حملہ ہوا، جس سے کئی مقامات پر دھماکے ہوئے۔

    اور اب پھر امریکہ اور اسرائیل خطرناک بنکر مار بموں کے ساتھ پورے ایران پر دن رات حملے کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی معطلی اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے عالمی میڈیا پر مکمل پابندی کی وجہ سے وہاں صرف گزشتہ مہینے ہونے والی تباہی کی کوئی خبر ہی نہیں مل پا رہی، لیکن عالمی توانائی ایجنسی کے حکام نے بتایا ہے کہ جتنی تباہی امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں کی ہے، اس کا چوتھا حصہ بھی ایران نے عرب ممالک اور اسرائیل میں نہیں کیا۔ لیکن ہمیں ایران میں ہونے والی خاموش موتوں پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔

    ماہرین نے بتایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر اگرچہ ایٹم بم استعمال نہیں کیا لیکن اس کی سطح کے خطرناک حملے کیے ہیں۔ جن میں وہ اسکاڈا سسٹم کو ہیک کر کے صنعتی کنٹرول سسٹم میں داخل ہو کر والوز کو غلط وقت پر کھولنے یا بند کرنے کا طریقہ استعمال کر رہے ہیں، جس سے پریشر بڑھ جاتا ہے اور پائپ پھٹ جاتے ہیں۔ نیوکلیئر یا کیمیکل ری ایکٹرز کے کولنگ سسٹم کو بند کر دیا جاتا ہے، جس سے درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے کیمیائی مادے گیس بن کر فضا میں خارج ہوتے ہیں۔

    حملہ آور سب سے پہلے سائرن اور سیفٹی الارم کو بند کرتے ہیں، تاکہ لیکیج کا عملے کو تب پتہ چلے جب نقصان حد سے بڑھ چکا ہو۔

    رائٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران کے پیٹرو کیمیکل شعبے پر ہونے والے حملے صرف معاشی نقصان کے لیے نہیں، بلکہ خطے میں ماحولیاتی دہشت گردی پھیلانے کے لیے ہیں۔ ایران کی خلیجی پٹی میں تیل اور کیمیکل کے لیکیج کی وجہ سے سمندری حیات مکمل طور پر ختم ہو رہی ہے، جس کے اثرات متحدہ عرب امارات اور کویت تک پہنچ سکتے ہیں۔

     ان سائبر حملوں کے نتیجے میں جو کیمیائی زہر، مثلاً پولی کلورینیٹڈ بائی فینائلز مٹی میں جذب ہوتا ہے، وہ 20 سے 50 سال تک وہاں موجود رہتا ہے۔ ایران کے زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں یہ لیکیج ہوئے ہیں، وہاں پیدا ہونے والی فصلیں اب کھانے کے لائق نہیں رہیں۔

    مشرق وسطیٰ میں کیمیائی لیکیج کی وجہ سے جو ‘سائلنٹ میوٹیشن’ ہو رہی ہے، وہ ایٹمی ہیروشیما سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ زہر اب خوراک کی زنجیر میں داخل ہو چکا ہے۔ ہم ایران میں ایسے بچے دیکھ رہے ہیں جن کی جینیاتی ساخت میں ایسی تبدیلیاں آئی ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھیں۔ یہ جنگ کا نیا اور ہولناک چہرہ ہے۔

    ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں، جہاں ہمارا ہتھیار ہمارا اپنا دشمن بن چکا ہے۔ جنگوں کے معاشی نقصان تو شاید دہائیوں میں پورے ہو جائیں، لیکن جو زہر ہماری مٹی، پانی اور ہوا میں گھل چکا ہے، اسے صاف کرنا شاید اگلی کئی نسلوں کے لیے ممکن نہ ہو۔ یہ صرف سیاسی جنگ نہیں، یہ ‘بائیولوجیکل خودکشی’ ہے۔

    عالمی میڈیا کا مشترکہ تجزیہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی اتحادیوں کی مداخلت اور ایران کی مزاحمت کے نتیجے میں جو کیمیائی اور تابکاری کچرا پیدا ہوا ہے، وہ کسی بڑے ایٹمی دھماکے سے کم نہیں ہے۔ یہ علاقہ اب رہنے کے قابل نہیں رہ رہا، اور اگر عالمی برادری نے مداخلت نہ کی تو اگلے 20 سالوں میں یہاں کی آدھی آبادی موذی امراض میں مبتلا ہو جائے گی۔

    ایران اور عرب ممالک میں اتحادیوں کی جنگی پالیسیوں اور سائبر تخریب کاری نے ایک ایسا ‘بایو کیمیکل ٹرپ’ تیار کر دیا ہے، جس سے نکلنے کے لیے شاید صدیاں درکار ہوں گی۔ یہ صرف علاقائی مسئلہ نہیں، بلکہ عالمی ماحولیاتی المیہ ہے۔