Tag: جنگ

  • ایران جنگ کے اثرات: امریکہ میں مہنگائی تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    ایران جنگ کے اثرات: امریکہ میں مہنگائی تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے اثرات اب عام لوگوں کی زندگیوں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھ رہی ہے اور صارفین پر مالی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 میں امریکہ میں مہنگائی کی شرح گزشتہ تین برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ تیل اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں، جو ایران کے ساتھ جاری جنگ اور مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث پیدا ہوئیں۔

    فروری کے آخر میں شروع ہونے والی اس جنگ کے بعد پٹرول کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔ ماہرینِ اقتصادیات کے مطابق جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اس کے اثرات پوری معیشت پر پڑتے ہیں کیونکہ سامان کی نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کا بوجھ آخرکار صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

    امریکی شہریوں کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث اپنی بچتوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کی بچت کی شرح کم ہو کر صرف 2.6 فیصد رہ گئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خاندان اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنی محفوظ رقم استعمال کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک نے جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری درکار ہے۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں محدود نوعیت کے حملے بھی ہوئے ہیں، لیکن دونوں فریق مذاکرات جاری رکھنے پر متفق دکھائی دیتے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جنگ بندی اب بھی نازک مرحلے میں ہے اور کسی بھی وقت صورتحال دوبارہ خراب ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی منڈیوں میں بے چینی پائی جاتی ہے اور سرمایہ کار مستقبل کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

    معاشی ماہرین کے مطابق اگر مہنگائی کی رفتار اسی طرح برقرار رہی اور تنخواہوں میں اسی تناسب سے اضافہ نہ ہوا تو صارفین اپنی خریداری کم کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اور اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کا خاتمہ قریب ہے، لیکن انہوں نے حال ہی میں یہ بھی تسلیم کیا کہ مذاکرات ابھی مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوئے اور کئی اہم معاملات پر اتفاقِ رائے ہونا باقی ہے۔

  • ایران جنگ کے اثرات، کنڈوم کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافے کا خدشہ

    ایران جنگ کے اثرات، کنڈوم کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافے کا خدشہ

    دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی آبادی پہلے ہی کئی ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، جہاں وسائل محدود اور خاندانی منصوبہ بندی کے ذرائع ناکافی ہیں۔ ایسے میں مانع حمل طریقوں میں سب سے مؤثر اور قابلِ رسائی ذریعہ سمجھے جانے والے کنڈوم کی ممکنہ مہنگائی نے ایک نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ایران اور امریکہ، اسرائیل کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے پیدا ہونے والا سپلائی بحران بتایا جا رہا ہے۔

    اس سلسلے میں ملائیشیا کی معروف کنڈوم ساز کمپنی Karex نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی برقرار رہی تو اس کی مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کنڈوم بنانے والی اس کمپنی کے مطابق کنڈوم بنانے میں استعمال ہونے والے خام مال کی قلت اور ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔

    Karex ہر سال 5 ارب سے زائد کنڈوم تیار کرتی ہے اور معروف برانڈز Durex اور Trojan سمیت برطانیہ کے قومی صحت کے نظام نیشنل ہیلتھ سروس کو بھی سپلائی فراہم کرتی ہے۔

    کمپنی کے چیف ایگزیکٹو گوہ میاہ کیات نے بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران سے جڑی حالیہ جنگی صورتحال نے عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر تیل اور اس سے وابستہ مصنوعات کی ترسیل میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں، جو کنڈوم کی تیاری کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

    کنڈوم بنانے کے عمل میں لیٹیکس کو محفوظ رکھنے کے لیے امونیا اور چکناہٹ کے لیے سلیکون پر مبنی مواد استعمال ہوتا ہے، جو براہِ راست پیٹرولیم مصنوعات سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ جب تیل کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو ان بائی پراڈکٹ اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔

    گوہ میاہ کیات کے مطابق اس سال کنڈوم کی طلب میں بھی تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک وجہ عالمی غیر یقینی صورتحال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں لوگ خاندانی منصوبہ بندی کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ معاشی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہوتا ہے۔

    ایک اور عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں گوہ میاہ کیات کا کہنا تھا کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد سے کمپنی کو مصنوعی ربڑ اور نائٹرائل سمیت کنڈوم کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد، پیکجنگ اشیا اور چکناہٹ کے لیے استعمال ہونے والے ایلومینیم فوائل اور سلیکون آئل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ Karex کے پاس آئندہ چند ماہ کے لیے کنڈوم کا وافر ذخیرہ موجود ہے، مگر بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداوار میں اضافے کی کوششوں میں یہ جنگی صورتحال سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس غیر ملکی امداد میں بڑی کٹوتیوں، خصوصاً امریکی امدادی ادارے USAID کی جانب سے اخراجات میں کمی کے باعث عالمی سطح پر کنڈوم کے ذخائر میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ یورپ اور امریکا جیسے مقامات تک Karex کی ترسیل اب تقریباً دو ماہ میں مکمل ہو رہی ہے، جو پہلے ایک ماہ میں ہو جاتی تھی۔

    گوہ میاہ کیات نے کہا کہ اس وقت بڑی تعداد میں کنڈوم ایسے بحری جہازوں میں موجود ہیں جو اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے، حالانکہ ان کی شدید ضرورت ہے۔ ان کے بقول کئی ترقی پذیر ممالک میں اسٹاک کی کمی ہے کیونکہ مصنوعات کی ترسیل میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔

  • امریکہ، ایران جنگ: سمندر مر رہا ہے: جنگ نے آبی زندگی کو کیا نقصان پہنچایا؟

    امریکہ، ایران جنگ: سمندر مر رہا ہے: جنگ نے آبی زندگی کو کیا نقصان پہنچایا؟

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ شروع کی گئی جنگ نے جہاں انسانی تباہی مچائی ہے، وہاں دنیا کی آبی زندگی کو بھی تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور آبنائے المندب کی چوکسی کے بعد، امریکہ نے ایرانی سمندری حدود کا گھیراؤ کر کے پوری دنیا کے لیے صورتحال خراب کر دی ہے۔

    اس کے نتیجے میں ہزاروں تیل کے ٹینکرز بندرگاہوں پر کھڑے ہیں، جہاں ان کا لاکھوں افراد پر مشتمل عملہ مسلسل سمندری ماحول میں رہتے ہوئے کئی ذہنی اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو چکا ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ میں ادویات کی قلت بھی پیدا ہونے لگی ہے۔ اس سمندری جنگ میں کئی ممالک کے آئل ٹینکرز کو ڈرونز اور میزائلوں سے تباہ کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف سمندری پانی آلودہ ہوا ہے بلکہ آبی حیات بھی موت کا شکار ہو گئی ہے اور خلیجی ممالک سمیت کئی خطوں میں نئی بیماریوں نے جنم لیا ہے، جس پر طبی ماہرین شدید پریشان ہیں۔

    تیل کا رساؤ: آبی اور انسانی صحت کے لیے خطرہ

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور آبنائے المندب جیسے حساس سمندری راستوں میں تیل کے جہازوں کو نشانہ بنانا نہ صرف عالمی معیشت بلکہ ماحولیات اور انسانی صحت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ تیل کا سمندر میں بہنا آبی جانوروں کے لیے موت کا پیغام ہوتا ہے۔ تیل پانی کی سطح پر ایک تہہ جما دیتا ہے، جس کی وجہ سے آکسیجن پانی میں داخل نہیں ہو پاتی اور مچھلیاں و دیگر جاندار دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں۔

     اس کے علاوہ سمندری پرندوں اور جانوروں جیسے اود بلاؤ کے بالوں پر تیل لگنے سے ان کے جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور وہ ‘ہائپو تھرمیا’ کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔

     انسانی صحت پر زہریلے اثرات

    تیل کی یہ آلودگی بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر انسانوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ جب مچھلیاں آلودہ پانی پیتی ہیں تو زہریلے کیمیائی مادے (جیسے ہائیڈرو کاربن) ان کے گوشت میں شامل ہو جاتے ہیں۔

    ایسی مچھلی کھانے سے انسانوں میں کینسر، جگر کی بیماریوں اور پیٹ کی تکلیف کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مزید برآں، تیل سے نکلنے والی گیسیں (VOCs) ہوا میں شامل ہو کر ساحلی علاقوں کے مکینوں کے لیے سانس کی تکلیف، سر درد اور آنکھوں میں جلن کا باعث بنتی ہیں۔

     ماحولیاتی نظام کی تباہی اور طبی چیلنجز

    سائنسدانوں کے مطابق سمندر سے حاصل ہونے والی جڑی بوٹیاں طبی تحقیق اور ادویات سازی میں استعمال ہوتی ہیں، جو اس آلودگی کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہیں۔ سمندری ماحول میں کیمیائی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسے بیکٹیریا پیدا ہو سکتے ہیں جو ادویات کے خلاف مزاحمت (Antimicrobial Resistance) رکھتے ہوں، جو طبی دنیا کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

    بحیرہ احمر کی نایاب مرجان کی چٹانیں (Coral Reefs) اور ساحلی جنگلات (Mangroves) بھی اس کی زد میں ہیں۔ جہازوں کی یہ تباہی ‘ماحولیاتی دہشت گردی’ کا روپ اختیار کر رہی ہے جس کے اثرات دہائیوں تک ختم نہیں ہوں گے۔

     اعداد و شمار اور حالیہ نقصانات

    حالیہ جنگی صورتحال میں ‘ایم وی روبیمار’ اور ‘سونیون’ جیسے جہازوں پر حملے سب سے بڑا ماحولیاتی دھچکا ثابت ہوئے ہیں۔ ‘روبیمار’ میں موجود 21,000 میٹرک ٹن امونیم فاسفیٹ نے سمندر کا کیمیائی توازن بگاڑ دیا ہے، جس سے ‘الجی’ کی مقدار بڑھنے اور آکسیجن ختم ہونے سے مچھلیوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ سپلائی چین متاثر ہونے سے عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو غریب ممالک کے لیے ایک الگ انسانی بحران ہے۔

     عالمی انتباہ: ایک ٹائمنگ بم

    عالمی اداروں (UN اور IMO) نے اس صورتحال کو ‘ٹائمنگ بم’ سے تشبیہ دی ہے۔ ‘نیچر’ اور ‘دی گارڈین’ جیسے جرنلز کے مطابق یہ سمندر کی ‘جینیاتی لائبریری’ کا جل کر راکھ ہونا ہے۔ ڈبلیو ایچ او (WHO) کے مطابق بیٹریاں، رنگ اور دیگر کیمیائی مادے پانی کو زہریلا بنا رہے ہیں، جس سے آنے والی نسلوں میں پیدائشی نقائص اور ہارمونز کا عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔

     حل اور مستقبل کی حکمت عملی

    ماہرین کا مطالبہ ہے کہ سمندر کو ‘جنگ سے پاک’ علاقہ قرار دیا جائے، ورنہ یہ ‘مردار سمندر’ بن جائے گا۔ مشورہ دیا گیا ہے کہ:

     ماحولیاتی فورس قائم کر کے سمندر کی صفائی کی جائے۔ تجارت کے لیے خشک راستے اور ریلوے کا استعمال کیا جائے۔ شمسی اور ہوائی توانائی کی طرف توجہ دی جائے۔

    اگر جنگ ختم بھی ہو جائے تو سمندر کی صفائی ایک انتہائی مہنگا اور طویل عمل ہوگا۔ اس مسئلے کا اصل حل سیاست میں ہے۔ اگر عالمی طاقتیں ‘ماحولیاتی سلامتی’ کو اپنی ‘سیاسی انا’ پر فوقیت دیں گی تو ہی سمندر بچ سکے گا، ورنہ انسان جنگ تو جیت سکتا ہے لیکن فطرت ہار جائے گی، جس کا نتیجہ ایسی عالمی بھوک اور بیماری ہوگی جس کا کوئی علاج نہیں ہوگا۔ یہ محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی بائیولوجیکل ایمرجنسی ہے۔

  • ایران جنگ نے جہاں دبئی کی رونق اور رنگینیوں کو متاثر کیا ہے وہیں پراپرٹی کی قیمتوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا : کیا دبئی کی عشروں سے قائم شان و شوکت ختم ہورہی ہے؟

    ایران جنگ نے جہاں دبئی کی رونق اور رنگینیوں کو متاثر کیا ہے وہیں پراپرٹی کی قیمتوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا : کیا دبئی کی عشروں سے قائم شان و شوکت ختم ہورہی ہے؟

    دبئی جو سرمایہ کاری کے لیے محفوظ سمجھا جاتا تھا اور دنیا بھر کے امیر ترین افراد کے لیے سرمایہ کاری کی پسندیدہ جگہ تھی، مگر اب اس کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ زوال پذیر ہے۔
    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس (28 February 2026) کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ اور یو اے ای میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد دبئی کے اس تاثر کو نقصان پہنچا ہے کہ یہ دنیا کے امیر افراد کے لیے ایک محفوظ سرمایہ کاری کی جگہ ہے۔
    رپورٹ کے مطابق مارچ کے آغاز میں متحدہ عرب امارات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں رئیل اسٹیٹ کے لین دین کی مقدار 37 فیصد گری جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 49 فیصد کم رہی۔ اہم ترین علاقوں میں بھی جائیدادوں کی قیمتوں میں واضح گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے، جہاں قیمتوں میں بارہ سے پندرہ فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔
    ہوٹل انڈسٹری: ہمیشہ بھرے رہنے والے دبئی کے ہوٹل بھی کچھ ہی دنوں میں خالی ہوگئے۔ لائٹ ہاؤس انٹیلیجنس کے مطابق ہوٹل بکنگ 90 فیصد سے گر کر سولہ فیصد رہ گئی ہے۔
    تجارت اور ڈیجیٹل سروسز: سپلائی چین متاثر ہونے سے اہم اشیا کی فروخت پر براہ راست اثر پڑا ہے اور مالز خالی ہیں، جس سے چھوٹے تاجروں کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ایرانی حملوں سے بعض ڈیجیٹل سروس کے اداروں کو بھی جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
    مجموعی طور پر یو اے ای کی معیشت اس وقت دباؤ میں ہے۔
    سوال یہ ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد دبئی کو اپنا وقار اور شان و شوکت بحال کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟

  • انڈیا : مہنگے داموں گیس سلنڈرز فروخت کرنے کے لئے بڑا ذخیرہ قبرستان میں چھُپائے جانے کا انکشاف

    انڈیا : مہنگے داموں گیس سلنڈرز فروخت کرنے کے لئے بڑا ذخیرہ قبرستان میں چھُپائے جانے کا انکشاف

    امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے خطے کے سب سے بڑے ملک بھارت کو گیس کی قلت کے سنگین بحران میں دھکیل دیا ہے۔

    جس سے بڑھتی ہوئی چوری اوربلیک مارکیٹنگ پولیس کے لئے چیلنج بن گئی ہے۔

    پولیس کارروائیوں کے دوران قبرستان میں گیس سلنڈرز چھپانے کا انوکھا اور بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید متحرک کردیا ہے۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ سے جنوبی ایشیا میں بھی توانائی کا بحران مسلسل بڑھ رہا ہے،
    بھارت میں گھریلو استمعال کے لئے ایل پی جی کا حصول شہریوں کے لئے چیلنج بن گیا ہے۔

    بھارت کے شہر حیدرآباد میں پولیس نے قبرستان میں چھپائے گئے414 گیس سلنڈرز برآمد کر لیے ہیں۔
    بلیک مارکیٹنگ اور چوری کو روکنے کے لئے صرف ایک روز میں تقریباً 2,600 چھاپے مارے گئے اور 700 گیس سلنڈرز ضبط کیے گئے ہیں۔

    پولیس نے گیس سلنڈر چھپانے میں ملوث 10 افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے، جبکہ اس واقعہ میں شامل ایک ڈسٹری بیوٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ سلنڈرز بلیک مارکیٹ میں فروخت کیے جا رہے تھے۔ کمرشل گیس سلنڈرز تقریباً 2100 بھارتی روپے میں ملتا ہے، اسے غیر قانونی طور پر 6000 روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔

    خلیج فارس میں جاری جنگ کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر سپلائی چین میں خلل پڑا ہے۔ بھارت چونکہ اپنی تقریباً 60 فیصد ایل پی جی ضروریات درآمد کرتا ہے، اس لیے اس بحران کا اثر بھارت میں زیادہ شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔

  • موت کا نیا چہرہ: جدید جنگوں کا انسانیت پر وار

    موت کا نیا چہرہ: جدید جنگوں کا انسانیت پر وار

    آج کے دور کی جنگ صرف محاذوں پر لڑنے والے سپاہیوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ‘سائلنٹ کلر’ یعنی ‘خاموش قاتل’ بن کر عام شہریوں کی رگوں میں داخل ہو چکی ہے۔ جب بم گرتے ہیں، تو وہ صرف عمارتیں نہیں ڈھاتے، بلکہ وہ آنے والی نسلوں کی صحت، آبی وسائل اور خوراک کے نظام کو ہمیشہ کے لیے زہر آلود کر دیتے ہیں۔

    ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں کیمیائی دھواں اور ایٹمی تابکاری انسانی جسم کو ایک خاموش قبرستان میں تبدیل کر رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ، خاص طور پر ایران اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ہونے والی فوجی کشمکش، پابندیوں، اور کیمیائی و صنعتی حادثات نے ایک ایسی ‘خاموش تباہی’ کو جنم دیا ہے، جس کے اثرات بموں کے دھماکوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔

    ایران: پابندیاں اور ماحولیاتی دہشت گردی

    ایران اس وقت دوہری جنگ لڑ رہا ہے، ایک سیاسی اور دوسری ماحولیاتی۔ ایران کی تیل کی تنصیبات اور کیمیکل پلانٹس پر ہونے والے سائبر حملوں اور ٹارگٹڈ بمباری نے ہولناک نتائج دیے ہیں۔ ‘دی لینسٹ’ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران کے صنعتی شہروں خاص کر اہواز اور عسلویہ میں ہوا کا معیار عالمی معیار سے 10 سے 20 گنا زیادہ خراب ہو چکا ہے۔

    یہاں پھیپھڑوں کے کینسر میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو گزشتہ ماہ دگنا بڑھ گیا ہے۔ پانی کے ذخائر سخت متاثر ہوئے ہیں۔ ایران کے 90 فیصد زیر زمین آبی ذخائر مکمل طور پر خشک یا زہریلے ہو چکے ہیں۔

    ماحولیاتی ماہرین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تہران اور اصفہان میں سالانہ 40,000 سے زیادہ اموات صرف آلودگی کی وجہ سے ہوئیں، جبکہ خوزستان میں جنگی کیمیائی اثرات کے باعث 1.2 ملین ہیکٹر زمین بنجر بن گئی۔ عراق ایران بارڈر پر یورینیم اور فاسفورس کے اثر کے سبب بچوں میں معذوری کی شرح میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ماحولیاتی ماہر ڈاکٹر کاویہ مدنی کا کہنا ہے کہ: ‘مشرق وسطیٰ میں جنگ صرف بارود تک محدود نہیں ہے۔ ہم ماحولیاتی اپارتھائیڈ کا شکار ہیں، جہاں آنے والی نسل کو زہر ورثے میں مل رہا ہے۔’

    برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ لکھتا ہے کہ ایران پر لگی معاشی پابندیوں کی وجہ سے وہ جدید ‘گرین ٹیکنالوجی’ حاصل نہیں کر سکتا، جس کی وجہ سے پرانے کیمیکل پلانٹس زیادہ زہر خارج کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے، جو بنا گولی کے لڑی جا رہی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بتایا ہے کہ انہیں ایران اور عراق کے سرحدی علاقوں میں ‘ڈیپلیٹیڈ یورینیم’ کے آثار ملے ہیں، جو ایٹمی تابکاری کی ایک کم شدت والی مگر مستقل شکل ہیں۔

    کیمیکل پلانٹس کی تباہی اور ہائبرڈ آلودگی

    جدید جنگوں میں صنعتی علاقوں کو نشانہ بنانا ایک خطرناک رجحان بن گیا ہے۔ جب کیمیکل فیکٹریاں آگ کی لپیٹ میں آتی ہیں، تو وہاں سے نکلنے والا دھواں صرف کاربن نہیں ہوتا۔ امونیا اور فاسجین جیسی گیسیں ہوا میں شامل ہو جاتی ہیں، جو سانس کے نظام کو تباہ کرتی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں دمہ، پھیپھڑوں کا کینسر اور جلد کی لاعلاج بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

    کیمیائی مادے زمینی پانی میں مل کر پینے کے پانی کو زہریلا بنا دیتے ہیں، جس سے گردوں اور جگر کے امراض عام ہو گئے ہیں۔

    زراعت کی بربادی اور غذائی بحران

    جنگ صرف زمین پر قبضہ نہیں، یہ زمین کی زرخیزی کا قتل بھی ہے۔ بمباری اور گولیوں کے بارود میں موجود سیسہ، پارہ اور اینٹیمونی مٹی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ مادے فصلوں کے ذریعے انسانی خوراک کا حصہ بنتے ہیں۔ زہریلے دھوئیں کی وجہ سے تیزابی بارشیں ہوتی ہیں، جو کھڑی فصلوں کو جلا دیتی ہیں۔ مٹی میں موجود یہ زہر لوگوں کے ڈی این اے کو متاثر کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں بچوں میں پیدائشی معذوریاں بڑھ رہی ہیں۔

    ایران والی جنگ کی وجہ سے اس وقت لبنان، یمن اور شام کی زرعی زمین بھی تباہ ہونا شروع ہو گئی ہے۔ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں سوکھنا شروع ہو گئی ہیں۔ جو پھل اور سبزیاں پیدا ہو رہی ہیں، وہ بے ذائقہ ہیں۔ کیمیکل پلانٹس کی آگ سے نکلنے والا دھواں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتا ہے، جو بارش کے ساتھ مل کر زمین کی زرخیزی کو مکمل ختم کر دیتا ہے۔

    ایٹمی تابکاری: ایک ان دیکھا عذاب

    ایٹمی پلانٹس کے قریب لڑی جانے والی جنگوں نے پوری دنیا کو ‘تابکاری کے خوف’ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر کوئی حادثہ ہوتا ہے یا تابکاری خارج ہوتی ہے، تو اس کے نتائج صدیوں تک ختم نہیں ہوتے۔ یہ تابکاری خلیات کو اندرونی طور پر جلا دیتی ہے۔ تابکاری کے اثر میں آئے ہوئے علاقوں میں تھائیرائڈ اور بلڈ کینسر کی شرح میں 400 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    ایٹمی تابکاری اور کیمیائی دھواں مل کر اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے سورج کی خطرناک شعاعیں براہ راست انسانوں پر پڑتی ہیں۔

    ایران کے حساس صنعتی انفراسٹرکچر، خاص طور پر تیل، گیس اور کیمیکل پلانٹس پر ہونے والے سائبر حملے اب صرف ڈیٹا کی چوری تک محدود نہیں رہے، بلکہ وہ براہ راست ‘فزیکل ڈیمیج’ یعنی جسمانی تباہی اور زہریلے مواد کے اخراج کا سبب بن رہے ہیں۔

    سن 2020 میں نطنز نیوکلیئر فیسیلٹی میں ایک بڑا دھماکہ اور آگ لگی، جس کا سبب سائبر تخریب کاری بتایا گیا۔ اس سے یورینیم گیس یو ایف 6 کے اخراج کا خدشہ پیدا ہوا اور زیر زمین سہولیات کو نقصان پہنچا۔

    سن 2021 میں بندر عباس کی ریفائنری کے کنٹرول سسٹم پر حملہ ہوا، جس سے پائپ لائنوں میں پریشر بڑھ گیا، بڑے پیمانے پر تیل کا اخراج ہوا اور زہریلا دھواں ہوا میں پھیل گیا۔

    سن 2022 میں خوزستان اسٹیل کمپنی پر ‘پریڈیٹری اسپیکٹر’ نامی گروپ نے حملہ کیا، جس سے پگھلتے ہوئے لوہے کا سسٹم خراب ہوا اور صنعتی گیسوں کے اخراج سے قریبی آبادی میں سانس کے مسائل بڑھ گئے۔

    سن 2023 میں اصفہان کے کیمیکل پلانٹ پر ڈرون حملے کے ساتھ سائبر سیکیورٹی جام کی گئی، جس کے نتیجے میں نائٹرک ایسڈ اور دیگر خطرناک کیمیکلز کا لیکیج ہوا جو زمینی پانی میں شامل ہو گیا۔

    سن 2024 میں ملک گیر گیس نیٹ ورک پر سائبر حملہ ہوا، جس سے کئی مقامات پر دھماکے ہوئے۔

    اور اب پھر امریکہ اور اسرائیل خطرناک بنکر مار بموں کے ساتھ پورے ایران پر دن رات حملے کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی معطلی اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے عالمی میڈیا پر مکمل پابندی کی وجہ سے وہاں صرف گزشتہ مہینے ہونے والی تباہی کی کوئی خبر ہی نہیں مل پا رہی، لیکن عالمی توانائی ایجنسی کے حکام نے بتایا ہے کہ جتنی تباہی امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں کی ہے، اس کا چوتھا حصہ بھی ایران نے عرب ممالک اور اسرائیل میں نہیں کیا۔ لیکن ہمیں ایران میں ہونے والی خاموش موتوں پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔

    ماہرین نے بتایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر اگرچہ ایٹم بم استعمال نہیں کیا لیکن اس کی سطح کے خطرناک حملے کیے ہیں۔ جن میں وہ اسکاڈا سسٹم کو ہیک کر کے صنعتی کنٹرول سسٹم میں داخل ہو کر والوز کو غلط وقت پر کھولنے یا بند کرنے کا طریقہ استعمال کر رہے ہیں، جس سے پریشر بڑھ جاتا ہے اور پائپ پھٹ جاتے ہیں۔ نیوکلیئر یا کیمیکل ری ایکٹرز کے کولنگ سسٹم کو بند کر دیا جاتا ہے، جس سے درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے کیمیائی مادے گیس بن کر فضا میں خارج ہوتے ہیں۔

    حملہ آور سب سے پہلے سائرن اور سیفٹی الارم کو بند کرتے ہیں، تاکہ لیکیج کا عملے کو تب پتہ چلے جب نقصان حد سے بڑھ چکا ہو۔

    رائٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران کے پیٹرو کیمیکل شعبے پر ہونے والے حملے صرف معاشی نقصان کے لیے نہیں، بلکہ خطے میں ماحولیاتی دہشت گردی پھیلانے کے لیے ہیں۔ ایران کی خلیجی پٹی میں تیل اور کیمیکل کے لیکیج کی وجہ سے سمندری حیات مکمل طور پر ختم ہو رہی ہے، جس کے اثرات متحدہ عرب امارات اور کویت تک پہنچ سکتے ہیں۔

     ان سائبر حملوں کے نتیجے میں جو کیمیائی زہر، مثلاً پولی کلورینیٹڈ بائی فینائلز مٹی میں جذب ہوتا ہے، وہ 20 سے 50 سال تک وہاں موجود رہتا ہے۔ ایران کے زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں یہ لیکیج ہوئے ہیں، وہاں پیدا ہونے والی فصلیں اب کھانے کے لائق نہیں رہیں۔

    مشرق وسطیٰ میں کیمیائی لیکیج کی وجہ سے جو ‘سائلنٹ میوٹیشن’ ہو رہی ہے، وہ ایٹمی ہیروشیما سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ زہر اب خوراک کی زنجیر میں داخل ہو چکا ہے۔ ہم ایران میں ایسے بچے دیکھ رہے ہیں جن کی جینیاتی ساخت میں ایسی تبدیلیاں آئی ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھیں۔ یہ جنگ کا نیا اور ہولناک چہرہ ہے۔

    ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں، جہاں ہمارا ہتھیار ہمارا اپنا دشمن بن چکا ہے۔ جنگوں کے معاشی نقصان تو شاید دہائیوں میں پورے ہو جائیں، لیکن جو زہر ہماری مٹی، پانی اور ہوا میں گھل چکا ہے، اسے صاف کرنا شاید اگلی کئی نسلوں کے لیے ممکن نہ ہو۔ یہ صرف سیاسی جنگ نہیں، یہ ‘بائیولوجیکل خودکشی’ ہے۔

    عالمی میڈیا کا مشترکہ تجزیہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی اتحادیوں کی مداخلت اور ایران کی مزاحمت کے نتیجے میں جو کیمیائی اور تابکاری کچرا پیدا ہوا ہے، وہ کسی بڑے ایٹمی دھماکے سے کم نہیں ہے۔ یہ علاقہ اب رہنے کے قابل نہیں رہ رہا، اور اگر عالمی برادری نے مداخلت نہ کی تو اگلے 20 سالوں میں یہاں کی آدھی آبادی موذی امراض میں مبتلا ہو جائے گی۔

    ایران اور عرب ممالک میں اتحادیوں کی جنگی پالیسیوں اور سائبر تخریب کاری نے ایک ایسا ‘بایو کیمیکل ٹرپ’ تیار کر دیا ہے، جس سے نکلنے کے لیے شاید صدیاں درکار ہوں گی۔ یہ صرف علاقائی مسئلہ نہیں، بلکہ عالمی ماحولیاتی المیہ ہے۔

  • جنگ عظیم کے دوران اتحادی فوجیوں کے پانی کے لیے ہالیجی جھیل بنانے والے کاریگروں کی رہائش گاہیں آج بھی موجود

    جنگ عظیم کے دوران اتحادی فوجیوں کے پانی کے لیے ہالیجی جھیل بنانے والے کاریگروں کی رہائش گاہیں آج بھی موجود

    دوسری جنگ عظیم کے دوران کراچی اتحادی افواج کا سب سے اہم اڈہ تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں برطانوی، امریکی اور دیگر ممالک کے فوجی یہاں موجود تھے، اور جنگ کب ختم ہوگی اس بارے میں کوئی یقین نہیں تھا۔ ان تمام فوجیوں کے لیے پانی کا انتظام ایک بڑا چیلنج بن گیا۔ موجودہ پانی کی فراہمی ناکافی تھی، اس لیے انگریز حکومتِ سندھ نے ایک بڑا منصوبہ ہاتھ میں لیا۔

    ہالیجی  جھیل اس وقت ایک چھوٹی سی کھاری جھیل تھی۔ 1940 سے 1943 کے دوران تقریباً پچیس سو مزدوروں نے دن رات کام کرکے اسے میٹھے پانی کے ذخیرے میں تبدیل کر دیا۔ جھیل کے گرد مٹی کا بہت بڑا بند بنایا گیا، نمکین پانی نکالا گیا، اور دریائے سندھ سے ایک نہر کھود کر اسے جوڑ دیا گیا۔ یہ پورا کام صرف دو سال میں مکمل ہوا اور 1943 میں جھیل تیار ہوگئی۔ آپ کو جو بورڈ ملا ہے وہ اسی دورِ تعمیر کا نشان ہے۔

    چھوٹی سی کھارے پانی کی جھیل کو میٹھے پانی کا ذخیرہ بنانے کے لیے کام کرنے عملے اور مزدوروں کی رہائش گاہ کے لیے بنائے گئی عمارتیں آٹھ دہائیوں کے باجود قائم ہیں۔ وہاں جنریٹر، پانی کی موٹرز اور دیگر سامان بھی جوں کا توں موجود ہے۔

    جنگ کے بعد یہ جھیل کراچی کے پانی کی اہم فراہم کنندہ رہی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ جگہ قدرتی اعتبار سے بھی منفرد بن گئی۔ میٹھے پانی کے اس ذخیرے نے پرندوں کی ہجرت کے راستے پر ایک محفوظ ٹھکانا فراہم کیا۔ رفتہ رفتہ ہالیجی  جھیل ایشیا کی سب سے بڑی پرندوں کی پناہ گاہ کے طور پر مشہور ہوگئی۔ سنہ 1972 میں سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے اسے محفوظ علاقہ قرار دیا اور 1976 میں اسے رامسر کنونشن کے تحت بین الاقوامی اہمیت کی آبی زمین تسلیم کیا گیا۔

    آج ہالیجی  جھیل پانی کی قلت کے باعث اپنے عروج کے دور میں نہیں ہے، مگر یہ عمارتیں اس عظیم تاریخی منصوبے کی خاموش گواہی دے رہا ہے جب ایک جنگی ضرورت نے ایک ایسی جھیل وجود میں لائی جو بعد میں شہر کی پیاس بجھانے اور قدرتی حیات کی حفاظت کا باعث بنی۔

  • جنگ کے دھماکے یا زمین کی موت، جدید ہتھیاروں کے ذریعے انسانیت اور ماحول کے خلاف ایک خاموش تباہی

    جنگ کے دھماکے یا زمین کی موت، جدید ہتھیاروں کے ذریعے انسانیت اور ماحول کے خلاف ایک خاموش تباہی

    عالمی سیاست کا سب سے خطرناک مرحلہ اب مشرق وسطیٰ بن چکا ہے، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست اور بالواسطہ حملے صرف علاقائی کشیدگی نہیں بلکہ ایک بڑے عالمی طاقت کے کھیل کا حصہ ہیں۔ دنیا ایک طرف ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے نغمے گا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف یہی دنیا جنگ کے دھماکوں سے زمین کی سانسیں گھونٹ رہی ہے۔

    میزائل، ڈرون اور کیمیائی ہتھیار بظاہر عسکری کامیابی سمجھے جاتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ انسانیت، ماحول اور مستقبل کے لیے خاموش تباہی کا پیغام ہیں۔

    جدید ہتھیاروں کے استعمال سے فضا میں زہریلی گیسیں شامل ہو رہی ہیں، جو نہ صرف مقامی ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ عالمی موسمیاتی تبدیلی کو بھی تیز کر رہی ہیں۔ پانی کے ذخائر آلودہ ہو رہے ہیں، زمین کی زرخیزی ختم ہو رہی ہے اور جنگلی حیات معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔

    مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ بعض ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے مادے جیسے ‘ڈی پلیٹڈ یورینیم’ طویل عرصے تک انسانی صحت کے لیے زہر بن جاتے ہیں، جس کے اثرات نسلوں تک جاری رہتے ہیں، جن میں کینسر، پیدائشی نقائص اور ذہنی صدمات شامل ہیں۔

    جب دنیا کی بڑی طاقتیں میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کو ‘سیکیورٹی’ کا نام دیتی ہیں تو درحقیقت یہ زمین، انسانی صحت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل پر ایک منظم حملہ ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنگیں نہ صرف انسانوں کو ہلاک کرتی ہیں بلکہ ماحولیاتی نظام کو تباہ کر کے ایسے نقصانات چھوڑ جاتی ہیں جو دہائیوں تک برقرار رہتے ہیں۔

    بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق جدید جنگ کے صرف چودہ دنوں میں تقریباً پانچ ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں خارج ہوئی، جو درجنوں ممالک کے سالانہ اخراج کے برابر ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق ایک جنگ کے مجموعی اخراج اکتیس ملین ٹن تک پہنچ سکتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ہر میزائل زمین کو مزید گرم کر رہا ہے۔ پانی، زمین اور خوراک کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے، جبکہ زرعی نظام تباہ ہو رہے ہیں۔

    جنگوں میں ہزاروں شہری ہلاک اور زخمی ہوتے ہیں، اور کروڑوں افراد بے گھر ہو جاتے ہیں۔ سماجی ڈھانچے ٹوٹ جاتے ہیں، جبکہ ماحولیاتی نقصان بیس سے تیس سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔ بعض علاقوں میں زمین اور پانی کبھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو پاتے۔ موسمیاتی تبدیلی نئی بیماریوں کو جنم دے رہی ہے، جبکہ زہریلی گیسیں بارش کے ساتھ مل کر صحت کے لیے مزید خطرات پیدا کر رہی ہیں۔

    مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اب صرف سیاسی یا عسکری مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک سنگین ماحولیاتی اور انسانی بحران بن چکی ہے۔ جب میزائل آسمان کو چیرتے ہیں تو وہ صرف اہداف کو تباہ نہیں کرتے بلکہ ہوا کو زہریلا، پانی کو آلودہ اور مستقبل کو جلا دیتے ہیں۔

    جدید جنگیں اب سرحدوں تک محدود نہیں رہیں، بلکہ ان کے اثرات ہوا، پانی، زمین اور انسانی جسم تک پہنچ چکے ہیں۔ ہر دھماکہ صرف عمارتوں کو نہیں بلکہ ماحولیاتی توازن، انسانی صحت اور آنے والی نسلوں کے مقدر کو بھی تباہ کر رہا ہے۔

    آخرکار سوال یہی ہے کہ کیا یہ ترقی ہے یا تباہی کی طرف ایک تیز رفتار سفر؟ اگر دنیا نے اس تباہی کو نہ روکا تو آنے والی جنگیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ بیماریوں، بھوک اور ماحولیاتی تباہی سے لڑی جائیں گی۔

    آخر میں سوال یہ ہے، کیا انسان جنگ جیت رہا ہے یا آہستہ آہستہ خود کو ہار رہا ہے؟

  • کیا تیسری عالمی جنگ کا خاموشی سے آغاز ہوگیا ہے؟ مشرقِ وسطیٰ سے ایشیا تک طاقت کی خطرناک شطرنج

    کیا تیسری عالمی جنگ کا خاموشی سے آغاز ہوگیا ہے؟ مشرقِ وسطیٰ سے ایشیا تک طاقت کی خطرناک شطرنج

    دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں کسی بھی ملک کا مستقبل غیر یقینی ہو چکا ہے۔ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کو آگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب جنگ کا مقصد صرف فتح حاصل کرنا نہیں رہا بلکہ دشمن کو معاشی، سیاسی اور نفسیاتی طور پر کمزور کرنا بن چکا ہے، جہاں ہر طاقت دوسرے کو طویل عرصے تک تھکانے کی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔

    اس وقت دنیا دو بڑے جنگی محاذوں اور کئی علاقائی تنازعات کے گھیرے میں ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال ایک خطرناک موڑ اختیار کر چکی ہے، جہاں امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم جاری ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کے بیلسٹک میزائل نظام اور فضائی صلاحیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ وہ آبنائے ہرمز میں سمندری آمد و رفت کو روک نہ سکے۔

    ایران نے ‘کشیدگی میں اضافہ’ کی پالیسی اپناتے ہوئے اپنے اتحادی گروہوں کو متحرک کر کے جنگ کو 14 مختلف ممالک تک پھیلا دیا ہے تاکہ پورے خطے کو ‘نو گو زون’ بنایا جا سکے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کی کوشش ہے کہ ایران کی طاقت کو اس حد تک کمزور کر دیا جائے کہ وہ مستقبل میں عالمی تجارتی راستوں کو یرغمال نہ بنا سکے، جبکہ ماہرین ‘حکومت کی تبدیلی’ کو ایک مشکل مگر ممکن ہدف قرار دے رہے ہیں۔

    یہ جنگ اب ‘طویل تھکا دینے والی جنگ’ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ روس کی افواج نے کچھ علاقوں میں معمولی پیش رفت کی مگر یوکرین کی جوابی کارروائی نے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔ اس معاملے پر نیٹو کے ممالک نے صدر ٹرمپ کی اپیل پر کہا ہے کہ وہ یوکرین کے معاملے پر توجہ دیں گے اور دوسری جنگوں میں شامل ہو کر اپنا نقصان نہیں کریں گے۔

    روس اب ‘مستقل محاذی جنگ’ پر توجہ دے رہا ہے اور ڈرونز اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے میدانِ جنگ کو زیادہ شفاف بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ دشمن کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔

    دوسری جانب چین نے تائیوان پر قبضے کے لیے حکمت عملی تیار کر لی ہے، جس پر حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ کے چینی دورے کے بعد متوقع ہے۔ امریکہ کے لیے اصل جیوپولیٹیکل چیلنج چین ہی ہے، اسی لیے وہ اس کے اتحادیوں پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔

    امریکہ کی نیشنل انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر تلسی گیبارڈ نے سینیٹ کمیٹی کے سامنے بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کا میزائل پروگرام تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اب یہ صرف علاقائی نہیں رہا بلکہ ممکنہ طور پر عالمی حد تک بڑھ رہا ہے۔ میزائل کی رینج میں اضافہ امریکہ کے لیے براہِ راست خطرہ بن سکتا ہے۔

    پاکستان کے پاس پہلے ہی ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، اس لیے میزائل اور جوہری صلاحیت کا امتزاج ایک بڑا اسٹریٹجک خدشہ ہے۔ واشنگٹن دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان ایک ‘جوہری تشویش’ ہے۔

    امریکہ اور اس کے عرب اتحادیوں کی ایران کے ساتھ جنگ دراصل ‘طاقت کے توازن’ کی جنگ ہے۔ ان ممالک نے اسرائیل کی مالی مدد سے جنوبی ایشیا پر اثر و رسوخ بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی ہے، جس میں پاکستان ایک اہم مہرہ ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان پر نئی پابندیاں، فوجی پروگرام پر دباؤ اور آئی ایم ایف کے ذریعے سخت معاشی پالیسیاں مسلط کی جا سکتی ہیں۔ سی این این کے مطابق یہ خدشات حقیقی ہیں، تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سب جیوپولیٹیکل دباؤ اور طاقت کی سیاست کا حصہ ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو اس وقت تقریباً 3000 میزائلوں کا خطرہ ہے جو 2035 تک بڑھ کر 16000 ہو سکتا ہے۔

    یہ جنگ عالمی معیشت کو مفلوج کر رہی ہے۔ پہلے تیل، پھر پانی اور اب گیس کے ذخائر کو نشانہ بنانے سے بجلی اور کھاد کا بحران پیدا ہو چکا ہے۔ ایران اب توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے اور تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ یہ جنگ اب ‘معاشی جنگ اور فوجی جنگ’ بن چکی ہے۔ ایران کا مقصد جنگ جیتنا نہیں بلکہ اسے مہنگا اور طویل بنا کر عالمی معیشت کو دباؤ میں لانا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل ایران کی قیادت کو ختم کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے تناؤ کے باعث امریکہ اپنے دفاعی نظام ایشیا سے نکال کر وہاں منتقل کر رہا ہے، جس سے مشرقی ایشیا میں سیکیورٹی خلا پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی اقتصادی فورمز کے مطابق ‘جیو اکنامک تصادم’ اس سال کا سب سے بڑا خطرہ ہے، جبکہ خوراک کی قلت کو بھی جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے رجحانات بڑھ رہے ہیں۔

    سی این این کی ایک لیک رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک خفیہ میٹنگ میں امریکی جنرلز نے اعتراف کیا کہ ایران کی زیرِ زمین تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ ایران اکیلا نہیں بلکہ لبنان، شام، عراق اور یمن میں اس کے اتحادی موجود ہیں، جو کسی بھی براہِ راست حملے کی صورت میں بیک وقت کارروائی کر سکتے ہیں۔

    اس کے جواب میں اسرائیل نے اپنے دفاعی نظام جیسے ایرو-3 کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے اور نئی لیزر ٹیکنالوجی ‘آئرن بیم’ کو میدان میں لا رہا ہے۔ اسرائیلی قیادت کا واضح مؤقف ہے کہ اگر امریکہ پیچھے ہٹتا ہے تو اسرائیل خود ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا حق رکھتا ہے۔

    یہ جنگ اب کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک عالمی طاقت کی بازی بن چکی ہے، جہاں ہر قدم ایک بڑے تصادم کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اگر توانائی، سائبر اور فوجی محاذ ایک ساتھ پوری شدت سے ٹکرا گئے تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہے گی۔

     

  • بارود کے ڈھیر پر بیٹھی عرب بادشاہتیں: جنگ، کاروبار ہے یا بقا کا سوال؟

    بارود کے ڈھیر پر بیٹھی عرب بادشاہتیں: جنگ، کاروبار ہے یا بقا کا سوال؟

    مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسی آگ کی لپیٹ میں ہے جس کا ایندھن عرب ممالک کا تیل اور سرمایہ ہے، مگر اس کا کنٹرول کہیں اور بیٹھا ہے۔ یہ صرف میزائلوں کی جنگ نہیں، بلکہ ایک عالمی ”خونی بزنس“ بھی ہے، جس میں طاقتور ممالک اپنے مفادات سمیٹ رہے ہیں، جبکہ خلیجی ریاستیں عملاً گراؤنڈ زیرو بن چکی ہیں۔

    ٹرمپ کی پالیسیوں اور ایران کی جارحانہ حکمت عملی کے درمیان عرب ممالک کا وہ بھرم ٹوٹ چکا ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔ تیل کے کنویں خطرے میں ہیں، اسٹاک مارکیٹیں دباؤ کا شکار ہیں، اور واشنگٹن سے لے کر تہران تک ایک نیا طاقت کا کھیل جاری ہے۔ اب سوال صرف دفاع کا نہیں، بلکہ اس پیچیدہ سفارتی جال سے نکلنے کا ہے، جہاں دوست اور دشمن کی سرحدیں دھندلا چکی ہیں۔

    یورپ اور برطانیہ بھی اس کشمکش میں خاموش کردار ادا کر رہے ہیں۔ خفیہ آپریشنز، جنگی طیاروں کی نقل و حرکت، اور نئی صف بندیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ یہ تنازع اب علاقائی نہیں رہا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ایک طرف کھڑے ہیں، جبکہ ایران اپنی حکمت عملی کے ساتھ جواب دے رہا ہے۔

    اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نقصان صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں۔ اربوں ڈالر دفاعی نظام پر خرچ ہو رہے ہیں۔ ہوائی اڈوں کی بندش، تجارتی سرگرمیوں میں تعطل، اور اسٹاک مارکیٹوں سے سرمائے کا انخلا خلیجی معیشتوں کو شدید دھچکا دے رہا ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو خطے کی معاشی بنیادیں ہل سکتی ہیں۔

    ایران کے حملے صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں رہے، بلکہ خلیجی ریاستوں کے اس تاثر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ دنیا کے محفوظ ترین کاروباری مراکز ہیں۔ اب یہ ممالک ایک مشکل دوراہے پر کھڑے ہیں۔ یا تو وہ کھل کر کسی فریق کا ساتھ دیں، یا غیر جانبدار رہ کر اپنے شہروں کو خطرے میں ڈالیں۔

    گزشتہ برسوں میں عمان، قطر اور سعودی عرب نے سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی تھی، مگر حالیہ پیش رفت نے واضح کر دیا ہے کہ بڑی طاقتیں کسی بھی وقت حالات کو بدل سکتی ہیں۔ خلیجی سیکیورٹی ماڈل، جو امریکی فوجی اڈوں پر انحصار کرتا تھا، اب سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

    عرب ممالک کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا وہ اس جنگ کا حصہ بنیں یا اس سے دور رہیں۔ غزہ کی صورتحال پہلے ہی عوامی جذبات کو متاثر کر چکی ہے۔ اگر عرب ممالک ایران کے خلاف کھل کر سامنے آتے ہیں تو داخلی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری طرف، کسی بھی بڑی جنگ کے نتیجے میں عدم استحکام، مہاجرین کا دباؤ اور شدت پسندی جیسے مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔

    امریکہ کے اندر بھی اس جنگ پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ سفارتی عملے کی واپسی اور فوجی نقصانات نے سیاسی دباؤ کو بڑھا دیا ہے۔ بعض امریکی رہنماؤں کے بیانات نے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے، جس کے جواب میں عرب میڈیا اور حکومتوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

    اس تمام صورتحال نے ایک حقیقت واضح کر دی ہے۔ فائدہ اس جنگ سے وہ اٹھا رہا ہے جو دور بیٹھ کر فیصلے کر رہا ہے، چاہے وہ ہتھیار بیچنے والے ہوں یا عالمی منڈیوں کو کنٹرول کرنے والے۔ طاقت اب صرف دولت کا نام نہیں، بلکہ اثر و رسوخ اور کنٹرول کا نام ہے۔

    عرب ممالک کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ امریکی دفاعی چھتری پر انحصار اب پہلے جیسا محفوظ نہیں رہا۔ بقا کا راستہ شاید دوسروں کی جنگ کا حصہ بننے میں نہیں، بلکہ اپنی آزاد دفاعی اور سیاسی شناخت کو مضبوط کرنے میں ہے۔

    اگر آج فیصلہ نہ کیا گیا، تو آنے والی نسلیں شاید صرف خالی تیل کے کنوؤں اور تباہ شدہ شہروں کی تاریخ ہی پڑھیں گی۔