آج کے دور کی جنگ صرف محاذوں پر لڑنے والے سپاہیوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ‘سائلنٹ کلر’ یعنی ‘خاموش قاتل’ بن کر عام شہریوں کی رگوں میں داخل ہو چکی ہے۔ جب بم گرتے ہیں، تو وہ صرف عمارتیں نہیں ڈھاتے، بلکہ وہ آنے والی نسلوں کی صحت، آبی وسائل اور خوراک کے نظام کو ہمیشہ کے لیے زہر آلود کر دیتے ہیں۔
ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں کیمیائی دھواں اور ایٹمی تابکاری انسانی جسم کو ایک خاموش قبرستان میں تبدیل کر رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ، خاص طور پر ایران اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ہونے والی فوجی کشمکش، پابندیوں، اور کیمیائی و صنعتی حادثات نے ایک ایسی ‘خاموش تباہی’ کو جنم دیا ہے، جس کے اثرات بموں کے دھماکوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔
ایران: پابندیاں اور ماحولیاتی دہشت گردی
ایران اس وقت دوہری جنگ لڑ رہا ہے، ایک سیاسی اور دوسری ماحولیاتی۔ ایران کی تیل کی تنصیبات اور کیمیکل پلانٹس پر ہونے والے سائبر حملوں اور ٹارگٹڈ بمباری نے ہولناک نتائج دیے ہیں۔ ‘دی لینسٹ’ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران کے صنعتی شہروں خاص کر اہواز اور عسلویہ میں ہوا کا معیار عالمی معیار سے 10 سے 20 گنا زیادہ خراب ہو چکا ہے۔
یہاں پھیپھڑوں کے کینسر میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو گزشتہ ماہ دگنا بڑھ گیا ہے۔ پانی کے ذخائر سخت متاثر ہوئے ہیں۔ ایران کے 90 فیصد زیر زمین آبی ذخائر مکمل طور پر خشک یا زہریلے ہو چکے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تہران اور اصفہان میں سالانہ 40,000 سے زیادہ اموات صرف آلودگی کی وجہ سے ہوئیں، جبکہ خوزستان میں جنگی کیمیائی اثرات کے باعث 1.2 ملین ہیکٹر زمین بنجر بن گئی۔ عراق ایران بارڈر پر یورینیم اور فاسفورس کے اثر کے سبب بچوں میں معذوری کی شرح میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماحولیاتی ماہر ڈاکٹر کاویہ مدنی کا کہنا ہے کہ: ‘مشرق وسطیٰ میں جنگ صرف بارود تک محدود نہیں ہے۔ ہم ماحولیاتی اپارتھائیڈ کا شکار ہیں، جہاں آنے والی نسل کو زہر ورثے میں مل رہا ہے۔’
برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ لکھتا ہے کہ ایران پر لگی معاشی پابندیوں کی وجہ سے وہ جدید ‘گرین ٹیکنالوجی’ حاصل نہیں کر سکتا، جس کی وجہ سے پرانے کیمیکل پلانٹس زیادہ زہر خارج کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے، جو بنا گولی کے لڑی جا رہی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بتایا ہے کہ انہیں ایران اور عراق کے سرحدی علاقوں میں ‘ڈیپلیٹیڈ یورینیم’ کے آثار ملے ہیں، جو ایٹمی تابکاری کی ایک کم شدت والی مگر مستقل شکل ہیں۔
کیمیکل پلانٹس کی تباہی اور ہائبرڈ آلودگی
جدید جنگوں میں صنعتی علاقوں کو نشانہ بنانا ایک خطرناک رجحان بن گیا ہے۔ جب کیمیکل فیکٹریاں آگ کی لپیٹ میں آتی ہیں، تو وہاں سے نکلنے والا دھواں صرف کاربن نہیں ہوتا۔ امونیا اور فاسجین جیسی گیسیں ہوا میں شامل ہو جاتی ہیں، جو سانس کے نظام کو تباہ کرتی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں دمہ، پھیپھڑوں کا کینسر اور جلد کی لاعلاج بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
کیمیائی مادے زمینی پانی میں مل کر پینے کے پانی کو زہریلا بنا دیتے ہیں، جس سے گردوں اور جگر کے امراض عام ہو گئے ہیں۔
زراعت کی بربادی اور غذائی بحران
جنگ صرف زمین پر قبضہ نہیں، یہ زمین کی زرخیزی کا قتل بھی ہے۔ بمباری اور گولیوں کے بارود میں موجود سیسہ، پارہ اور اینٹیمونی مٹی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ مادے فصلوں کے ذریعے انسانی خوراک کا حصہ بنتے ہیں۔ زہریلے دھوئیں کی وجہ سے تیزابی بارشیں ہوتی ہیں، جو کھڑی فصلوں کو جلا دیتی ہیں۔ مٹی میں موجود یہ زہر لوگوں کے ڈی این اے کو متاثر کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں بچوں میں پیدائشی معذوریاں بڑھ رہی ہیں۔
ایران والی جنگ کی وجہ سے اس وقت لبنان، یمن اور شام کی زرعی زمین بھی تباہ ہونا شروع ہو گئی ہے۔ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں سوکھنا شروع ہو گئی ہیں۔ جو پھل اور سبزیاں پیدا ہو رہی ہیں، وہ بے ذائقہ ہیں۔ کیمیکل پلانٹس کی آگ سے نکلنے والا دھواں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتا ہے، جو بارش کے ساتھ مل کر زمین کی زرخیزی کو مکمل ختم کر دیتا ہے۔
ایٹمی تابکاری: ایک ان دیکھا عذاب
ایٹمی پلانٹس کے قریب لڑی جانے والی جنگوں نے پوری دنیا کو ‘تابکاری کے خوف’ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر کوئی حادثہ ہوتا ہے یا تابکاری خارج ہوتی ہے، تو اس کے نتائج صدیوں تک ختم نہیں ہوتے۔ یہ تابکاری خلیات کو اندرونی طور پر جلا دیتی ہے۔ تابکاری کے اثر میں آئے ہوئے علاقوں میں تھائیرائڈ اور بلڈ کینسر کی شرح میں 400 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ایٹمی تابکاری اور کیمیائی دھواں مل کر اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے سورج کی خطرناک شعاعیں براہ راست انسانوں پر پڑتی ہیں۔
ایران کے حساس صنعتی انفراسٹرکچر، خاص طور پر تیل، گیس اور کیمیکل پلانٹس پر ہونے والے سائبر حملے اب صرف ڈیٹا کی چوری تک محدود نہیں رہے، بلکہ وہ براہ راست ‘فزیکل ڈیمیج’ یعنی جسمانی تباہی اور زہریلے مواد کے اخراج کا سبب بن رہے ہیں۔
سن 2020 میں نطنز نیوکلیئر فیسیلٹی میں ایک بڑا دھماکہ اور آگ لگی، جس کا سبب سائبر تخریب کاری بتایا گیا۔ اس سے یورینیم گیس یو ایف 6 کے اخراج کا خدشہ پیدا ہوا اور زیر زمین سہولیات کو نقصان پہنچا۔
سن 2021 میں بندر عباس کی ریفائنری کے کنٹرول سسٹم پر حملہ ہوا، جس سے پائپ لائنوں میں پریشر بڑھ گیا، بڑے پیمانے پر تیل کا اخراج ہوا اور زہریلا دھواں ہوا میں پھیل گیا۔
سن 2022 میں خوزستان اسٹیل کمپنی پر ‘پریڈیٹری اسپیکٹر’ نامی گروپ نے حملہ کیا، جس سے پگھلتے ہوئے لوہے کا سسٹم خراب ہوا اور صنعتی گیسوں کے اخراج سے قریبی آبادی میں سانس کے مسائل بڑھ گئے۔
سن 2023 میں اصفہان کے کیمیکل پلانٹ پر ڈرون حملے کے ساتھ سائبر سیکیورٹی جام کی گئی، جس کے نتیجے میں نائٹرک ایسڈ اور دیگر خطرناک کیمیکلز کا لیکیج ہوا جو زمینی پانی میں شامل ہو گیا۔
سن 2024 میں ملک گیر گیس نیٹ ورک پر سائبر حملہ ہوا، جس سے کئی مقامات پر دھماکے ہوئے۔
اور اب پھر امریکہ اور اسرائیل خطرناک بنکر مار بموں کے ساتھ پورے ایران پر دن رات حملے کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی معطلی اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے عالمی میڈیا پر مکمل پابندی کی وجہ سے وہاں صرف گزشتہ مہینے ہونے والی تباہی کی کوئی خبر ہی نہیں مل پا رہی، لیکن عالمی توانائی ایجنسی کے حکام نے بتایا ہے کہ جتنی تباہی امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں کی ہے، اس کا چوتھا حصہ بھی ایران نے عرب ممالک اور اسرائیل میں نہیں کیا۔ لیکن ہمیں ایران میں ہونے والی خاموش موتوں پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
ماہرین نے بتایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر اگرچہ ایٹم بم استعمال نہیں کیا لیکن اس کی سطح کے خطرناک حملے کیے ہیں۔ جن میں وہ اسکاڈا سسٹم کو ہیک کر کے صنعتی کنٹرول سسٹم میں داخل ہو کر والوز کو غلط وقت پر کھولنے یا بند کرنے کا طریقہ استعمال کر رہے ہیں، جس سے پریشر بڑھ جاتا ہے اور پائپ پھٹ جاتے ہیں۔ نیوکلیئر یا کیمیکل ری ایکٹرز کے کولنگ سسٹم کو بند کر دیا جاتا ہے، جس سے درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے کیمیائی مادے گیس بن کر فضا میں خارج ہوتے ہیں۔
حملہ آور سب سے پہلے سائرن اور سیفٹی الارم کو بند کرتے ہیں، تاکہ لیکیج کا عملے کو تب پتہ چلے جب نقصان حد سے بڑھ چکا ہو۔
رائٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران کے پیٹرو کیمیکل شعبے پر ہونے والے حملے صرف معاشی نقصان کے لیے نہیں، بلکہ خطے میں ماحولیاتی دہشت گردی پھیلانے کے لیے ہیں۔ ایران کی خلیجی پٹی میں تیل اور کیمیکل کے لیکیج کی وجہ سے سمندری حیات مکمل طور پر ختم ہو رہی ہے، جس کے اثرات متحدہ عرب امارات اور کویت تک پہنچ سکتے ہیں۔
ان سائبر حملوں کے نتیجے میں جو کیمیائی زہر، مثلاً پولی کلورینیٹڈ بائی فینائلز مٹی میں جذب ہوتا ہے، وہ 20 سے 50 سال تک وہاں موجود رہتا ہے۔ ایران کے زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں یہ لیکیج ہوئے ہیں، وہاں پیدا ہونے والی فصلیں اب کھانے کے لائق نہیں رہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کیمیائی لیکیج کی وجہ سے جو ‘سائلنٹ میوٹیشن’ ہو رہی ہے، وہ ایٹمی ہیروشیما سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ زہر اب خوراک کی زنجیر میں داخل ہو چکا ہے۔ ہم ایران میں ایسے بچے دیکھ رہے ہیں جن کی جینیاتی ساخت میں ایسی تبدیلیاں آئی ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھیں۔ یہ جنگ کا نیا اور ہولناک چہرہ ہے۔
ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں، جہاں ہمارا ہتھیار ہمارا اپنا دشمن بن چکا ہے۔ جنگوں کے معاشی نقصان تو شاید دہائیوں میں پورے ہو جائیں، لیکن جو زہر ہماری مٹی، پانی اور ہوا میں گھل چکا ہے، اسے صاف کرنا شاید اگلی کئی نسلوں کے لیے ممکن نہ ہو۔ یہ صرف سیاسی جنگ نہیں، یہ ‘بائیولوجیکل خودکشی’ ہے۔
عالمی میڈیا کا مشترکہ تجزیہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی اتحادیوں کی مداخلت اور ایران کی مزاحمت کے نتیجے میں جو کیمیائی اور تابکاری کچرا پیدا ہوا ہے، وہ کسی بڑے ایٹمی دھماکے سے کم نہیں ہے۔ یہ علاقہ اب رہنے کے قابل نہیں رہ رہا، اور اگر عالمی برادری نے مداخلت نہ کی تو اگلے 20 سالوں میں یہاں کی آدھی آبادی موذی امراض میں مبتلا ہو جائے گی۔
ایران اور عرب ممالک میں اتحادیوں کی جنگی پالیسیوں اور سائبر تخریب کاری نے ایک ایسا ‘بایو کیمیکل ٹرپ’ تیار کر دیا ہے، جس سے نکلنے کے لیے شاید صدیاں درکار ہوں گی۔ یہ صرف علاقائی مسئلہ نہیں، بلکہ عالمی ماحولیاتی المیہ ہے۔