امریکہ، ایران جنگ: سمندر مر رہا ہے: جنگ نے آبی زندگی کو کیا نقصان پہنچایا؟

جنگ

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ شروع کی گئی جنگ نے جہاں انسانی تباہی مچائی ہے، وہاں دنیا کی آبی زندگی کو بھی تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور آبنائے المندب کی چوکسی کے بعد، امریکہ نے ایرانی سمندری حدود کا گھیراؤ کر کے پوری دنیا کے لیے صورتحال خراب کر دی ہے۔

اس کے نتیجے میں ہزاروں تیل کے ٹینکرز بندرگاہوں پر کھڑے ہیں، جہاں ان کا لاکھوں افراد پر مشتمل عملہ مسلسل سمندری ماحول میں رہتے ہوئے کئی ذہنی اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو چکا ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ میں ادویات کی قلت بھی پیدا ہونے لگی ہے۔ اس سمندری جنگ میں کئی ممالک کے آئل ٹینکرز کو ڈرونز اور میزائلوں سے تباہ کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف سمندری پانی آلودہ ہوا ہے بلکہ آبی حیات بھی موت کا شکار ہو گئی ہے اور خلیجی ممالک سمیت کئی خطوں میں نئی بیماریوں نے جنم لیا ہے، جس پر طبی ماہرین شدید پریشان ہیں۔

تیل کا رساؤ: آبی اور انسانی صحت کے لیے خطرہ

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور آبنائے المندب جیسے حساس سمندری راستوں میں تیل کے جہازوں کو نشانہ بنانا نہ صرف عالمی معیشت بلکہ ماحولیات اور انسانی صحت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ تیل کا سمندر میں بہنا آبی جانوروں کے لیے موت کا پیغام ہوتا ہے۔ تیل پانی کی سطح پر ایک تہہ جما دیتا ہے، جس کی وجہ سے آکسیجن پانی میں داخل نہیں ہو پاتی اور مچھلیاں و دیگر جاندار دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں۔

 اس کے علاوہ سمندری پرندوں اور جانوروں جیسے اود بلاؤ کے بالوں پر تیل لگنے سے ان کے جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور وہ ‘ہائپو تھرمیا’ کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔

 انسانی صحت پر زہریلے اثرات

تیل کی یہ آلودگی بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر انسانوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ جب مچھلیاں آلودہ پانی پیتی ہیں تو زہریلے کیمیائی مادے (جیسے ہائیڈرو کاربن) ان کے گوشت میں شامل ہو جاتے ہیں۔

ایسی مچھلی کھانے سے انسانوں میں کینسر، جگر کی بیماریوں اور پیٹ کی تکلیف کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مزید برآں، تیل سے نکلنے والی گیسیں (VOCs) ہوا میں شامل ہو کر ساحلی علاقوں کے مکینوں کے لیے سانس کی تکلیف، سر درد اور آنکھوں میں جلن کا باعث بنتی ہیں۔

 ماحولیاتی نظام کی تباہی اور طبی چیلنجز

سائنسدانوں کے مطابق سمندر سے حاصل ہونے والی جڑی بوٹیاں طبی تحقیق اور ادویات سازی میں استعمال ہوتی ہیں، جو اس آلودگی کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہیں۔ سمندری ماحول میں کیمیائی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسے بیکٹیریا پیدا ہو سکتے ہیں جو ادویات کے خلاف مزاحمت (Antimicrobial Resistance) رکھتے ہوں، جو طبی دنیا کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

بحیرہ احمر کی نایاب مرجان کی چٹانیں (Coral Reefs) اور ساحلی جنگلات (Mangroves) بھی اس کی زد میں ہیں۔ جہازوں کی یہ تباہی ‘ماحولیاتی دہشت گردی’ کا روپ اختیار کر رہی ہے جس کے اثرات دہائیوں تک ختم نہیں ہوں گے۔

 اعداد و شمار اور حالیہ نقصانات

حالیہ جنگی صورتحال میں ‘ایم وی روبیمار’ اور ‘سونیون’ جیسے جہازوں پر حملے سب سے بڑا ماحولیاتی دھچکا ثابت ہوئے ہیں۔ ‘روبیمار’ میں موجود 21,000 میٹرک ٹن امونیم فاسفیٹ نے سمندر کا کیمیائی توازن بگاڑ دیا ہے، جس سے ‘الجی’ کی مقدار بڑھنے اور آکسیجن ختم ہونے سے مچھلیوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ سپلائی چین متاثر ہونے سے عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو غریب ممالک کے لیے ایک الگ انسانی بحران ہے۔

 عالمی انتباہ: ایک ٹائمنگ بم

عالمی اداروں (UN اور IMO) نے اس صورتحال کو ‘ٹائمنگ بم’ سے تشبیہ دی ہے۔ ‘نیچر’ اور ‘دی گارڈین’ جیسے جرنلز کے مطابق یہ سمندر کی ‘جینیاتی لائبریری’ کا جل کر راکھ ہونا ہے۔ ڈبلیو ایچ او (WHO) کے مطابق بیٹریاں، رنگ اور دیگر کیمیائی مادے پانی کو زہریلا بنا رہے ہیں، جس سے آنے والی نسلوں میں پیدائشی نقائص اور ہارمونز کا عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔

 حل اور مستقبل کی حکمت عملی

ماہرین کا مطالبہ ہے کہ سمندر کو ‘جنگ سے پاک’ علاقہ قرار دیا جائے، ورنہ یہ ‘مردار سمندر’ بن جائے گا۔ مشورہ دیا گیا ہے کہ:

 ماحولیاتی فورس قائم کر کے سمندر کی صفائی کی جائے۔ تجارت کے لیے خشک راستے اور ریلوے کا استعمال کیا جائے۔ شمسی اور ہوائی توانائی کی طرف توجہ دی جائے۔

اگر جنگ ختم بھی ہو جائے تو سمندر کی صفائی ایک انتہائی مہنگا اور طویل عمل ہوگا۔ اس مسئلے کا اصل حل سیاست میں ہے۔ اگر عالمی طاقتیں ‘ماحولیاتی سلامتی’ کو اپنی ‘سیاسی انا’ پر فوقیت دیں گی تو ہی سمندر بچ سکے گا، ورنہ انسان جنگ تو جیت سکتا ہے لیکن فطرت ہار جائے گی، جس کا نتیجہ ایسی عالمی بھوک اور بیماری ہوگی جس کا کوئی علاج نہیں ہوگا۔ یہ محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی بائیولوجیکل ایمرجنسی ہے۔

اسی بارے میں: