Tag: امریکہ

  • امریکہ، ایران کے مابین شدید کشیدگی کم کرانے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا: سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

    امریکہ، ایران کے مابین شدید کشیدگی کم کرانے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا: سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے امریکہ، ایران کے مابین شدید کشیدگی کے بعد دونوں فرقین کے درمیاں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار کرنے پر پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو جنگ کے بجائے سفارت کاری کی طرف واپس آنا چاہیے۔ 

    منگل کو اسلام آباد میں پاکستان کے وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گوتریش نے پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مکالمے کی راہ ہموار کرنے اور ثالثی کے کردار کی تعریف کی ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش منگل کو پاکستان کے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے۔ ان کا یہ دورہ آٹھ اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا۔

    یہ 2022 کے بعد پاکستان کا ان کا پہلا دورہ ہے۔ 2022 میں انہوں نے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ تاہم، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے ان کا پاکستان کا پہلا دورہ فروری 2020 میں ہوا تھا۔

     اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے کے دوران عالمی اور علاقائی امن، فلسطین، کشمیر، افغانستان اور امریکہ ایران تنازع سمیت اہم امور پر پاکستانی قیادت سے بات چیت کی ہے۔ ا

    انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو جنگ کے بجائے سفارت کاری کی طرف واپس آنا چاہیے۔ 

    نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات میں دریائے سندھ کے پانی کے معاہدے سے متعلق پاکستان کے مؤقف سے بھی آگاہ کیا۔ 

    ملاقات میں پاکستان کی امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششوں پر بھی بات ہوئی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو سب سے مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دورے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی تیاری بھی اہم موضوع ہے۔ وہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے دفتر کا دورہ کریں گے جہاں انہیں آفات سے نمٹنے، ابتدائی اطلاع کے نظام اور موسمیاتی خطرات سے بچاؤ کے اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی۔ 

    اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد آفات سے نمٹنے اور اپنی تیاری بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔  

    گوتریش اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان کے دفتر کا بھی دورہ کریں گے۔ یہ دورہ پاکستان اور اقوام متحدہ کے دیرینہ تعاون کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و سلامتی کے معاملات پر بات چیت کا موقع فراہم کرے گا۔  

    اقوام متحدہاقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے طور پر گوتریش کی مدت 31 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ پاکستان کا موجودہ دورہ ان کے عہدے کی مدت کے اختتام سے قبل اہم دوروں میں شامل ہے۔  

  • ٹرمپ کا مصنوعی ذہانت کے لیے خصوصی فورس بنانے کا اعلان، نیا مشیر مقرر کرنے کا فیصلہ

    ٹرمپ کا مصنوعی ذہانت کے لیے خصوصی فورس بنانے کا اعلان، نیا مشیر مقرر کرنے کا فیصلہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی فورس بنانے اور مصنوعی ذہانت کے لیے نیا اعلیٰ سطحی مشیر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم انہوں نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ مجوزہ فورس کس طرح کام کرے گی، اس کے اختیارات کیا ہوں گے اور اسے کب قائم کیا جائے گا۔

    ہفتے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے لیے ایک نیا مشیر مقرر کریں گے، جسے ’اے آئی زار‘ کہا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے  ’اے آئی فورس‘ بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

    ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس اہم صنعت کی ترقی میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت ایک انتہائی اہم صنعت ہے اور حکومت اسے ترقی دینے، مدد فراہم کرنے اور اس کی نگرانی کرنے کے لیے کام کرے گی۔

    امریکی صدر نے کہا کہ حکومت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں غلط استعمال اور نقصان دہ سرگرمیوں پر نظر رکھے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے نئے قوانین بنانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ امریکا میں پہلے سے فوجداری اور دیوانی انصاف کا نظام موجود ہے جس کے ذریعے غلط کام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے استعمال اور اس کے ممکنہ خطرات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ امریکی قانون ساز اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے کو کس حد تک حکومتی نگرانی اور ضابطوں کا پابند بنایا جانا چاہیے۔

    خبررساں ادارے روئیٹرزکے مطابق رواں ماہ مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک سے وابستہ رہنے والے سابق محقق جیکب کوکسون نے بھی مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات پر سخت تشویش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت تیار کرنے والے بعض ماہرین کو حقیقی خدشہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اس دہائی کے اختتام تک انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

    ٹرمپ تاہم مصنوعی ذہانت پر اضافی پابندیوں کے مطالبات کو مسلسل مسترد کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ بہت زیادہ حکومتی ضابطے امریکی مصنوعی ذہانت کی صنعت کی ترقی کو سست کر سکتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ امریکا کو اس شعبے میں چین کے مقابلے میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے تیز رفتار ترقی کی ضرورت ہے۔

    اگر ٹرمپ اپنے اعلان پر عمل کرتے ہیں تو یہ ان کی حکومت میں مصنوعی ذہانت کے دوسرے اعلیٰ سطحی مشیر کی تقرری ہوگی۔ اس سے قبل سرمایہ کاری کے شعبے سے وابستہ ڈیوڈ سیکس اس عہدے پر کام کر چکے ہیں۔ سیکس نے رواں سال موسم بہار میں یہ ذمہ داری چھوڑ دی تھی اور بعد میں بیرونی مشیر کے طور پر کام جاری رکھا۔

    ڈیوڈ سیکس بھی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نئے وفاقی قوانین کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے رواں ہفتے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت کی ذمہ داری خود اٹھانی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر کسی مصنوعی ذہانت کی مصنوعات سے نقصان ہوتا ہے تو متعلقہ کمپنی کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، تاہم اس مقصد کے لیے نئے وفاقی قوانین ضروری نہیں ہیں۔

    وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے اعلان پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل نہیں دیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ مجوزہ ’اے آئی فورس‘ کس ادارے کے تحت کام کرے گی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ یہ فورس حکومتی ادارہ ہوگی یا کسی دوسرے انتظامی ڈھانچے کے تحت کام کرے گی۔

    مصنوعی ذہانت کے معاملے میں امریکا اور چین کے درمیان مقابلہ بھی ٹرمپ کے اعلان کا ایک اہم پس منظر ہے۔ دونوں ممالک مصنوعی ذہانت کو اپنی معاشی اور دفاعی طاقت کے لیے انتہائی اہم سمجھتے ہیں اور اس شعبے میں عالمی برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بعض سربراہوں کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت پر سخت قوانین امریکی کمپنیوں کی رفتار کم کر سکتے ہیں اور انہیں چینی کمپنیوں کے مقابلے میں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تاہم مصنوعی ذہانت کی حفاظت کے حامی اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تیزی سے ترقی کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

    ٹرمپ کا نیا اعلان چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی آئندہ ملاقات سے قبل سامنے آیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں مسابقت جاری ہے۔

    دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اتوار کو نیویارک میں چین کے نائب وزیر اعظم ہی لائفنگ سے ملاقات کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں مصنوعی ذہانت کی سلامتی، تجارت اور دیگر معاشی معاملات پر بات چیت ہوگی۔

    امریکی حکومت کے لیے مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ قومی سلامتی، معیشت اور عالمی طاقت کے توازن سے بھی جڑ چکی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے ’اے آئی فورس‘ اور نئے ’اے آئی زار‘ کا اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی پالیسی اور نگرانی کے نظام کو مزید منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم اس منصوبے کی اصل نوعیت اور اختیارات کا فیصلہ آئندہ حکومتی اقدامات سے ہی واضح ہوگا۔

  • دنیا کو LNG ایکسپورٹ کرنے والا ‘قطر’ امریکہ سے LNG امپورٹ کرنے پر مجبور، کیا عالمی گیس جنگ پاکستان کو دیوالیہ کر سکتی ہے؟

    دنیا کو LNG ایکسپورٹ کرنے والا ‘قطر’ امریکہ سے LNG امپورٹ کرنے پر مجبور، کیا عالمی گیس جنگ پاکستان کو دیوالیہ کر سکتی ہے؟

    سال 2026 امریکہ عالمی جیوپولیٹکس اور توانائی کی تاریخ میں ایک ایسے موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے پرانے اتحادوں کو ملیامیٹ کرکے ایک نیا معاشی نظام وضع کیا۔

    مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی جزوی ناکہ بندی نے ایک ایسا غیر متوقع بحران پیدا کر دیا ہے جس کی زد میں دنیا کا سب سے بڑا LNG برآمد کنندہ قطر بھی آ چکا ہے۔

    بلومبرگ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، جو قطر کل تک دنیا کی ایک تہائی گیس سپلائی کنٹرول کرتا تھا، آج وہ اپنی عالمی ساکھ اور معاہدوں کو بچانے کے لیے خود امریکہ سے LNG خریدنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ لیکن اس جیوپولیٹیکل جنگ کا سب سے خوفناک اور براہِ راست اثر خلیج سے ہزاروں میل دور بیٹھے ترقی پذیر ممالک، بالخصوص پاکستان پر پڑ رہا ہے، جہاں توانائی کا شعبہ ایک گہرے مالیاتی گڑھے میں گرتا دکھائی دے رہا ہے۔

    بحران کا آغاز: قطر کی انرجی ایمپائر کو شدید دھچکا

    اس پورے بحران کی جڑیں مارچ 2026 امریکہ میں ہونے والے ان واقعات میں ہیں، جب ایران کے مبینہ ڈرون اور میزائل حملوں نے قطر کی سب سے بڑی گیس فیسلیٹی ‘راس لفان’ کو نشانہ بنایا۔ قطر انرجی کے حکام کے مطابق اس حملے نے ملک کی 17 فیصد LNG پیدا کرنے کی صلاحیت کو چشمِ زدن میں مفلوج کر دیا۔ رہی سہی کسر آبنائے ہرمز کی بندش نے پوری کر دی، جہاں سے قطر کے گیس ٹینکرز کا گزرنا محال ہو گیا۔

    اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران قطر سے روانہ ہونے والے گیس برآمدی جہازوں کی تعداد 509 سے گر کر صرف 18 رہ گئی، یعنی قطر کی گیس برآمدات میں 96 فیصد کی تاریخی اور ہولناک کمی واقع ہو چکی ہے۔

    اس صورتِ حال نے قطر کو ناگزیر حالات کے تحت معاہدے معطل کرنے، یعنی ‘فورس میجر’ کا اعلان کرنے پر مجبور کیا۔ تاہم، چین، جنوبی کوریا، اٹلی اور بیلجیم جیسے بڑے خریداروں کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کی پاسداری قطر کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گئی۔

    یہی وجہ ہے کہ قطر نے اب اپنی زمین سے گیس نکالنے کے بجائے امریکی کمپنیوں ‘Venture Global’ اور ‘Cheniere’ کے ساتھ 2031امریکہ تک کے طویل المدتی معاہدوں پر بات چیت شروع کر دی ہے، تاکہ امریکہ سے گیس خرید کر اپنے خریداروں کو سپلائی کی جا سکے۔

    اس اقدام نے امریکہ کو عالمی LNG مارکیٹ میں ایک غیر معمولی اہمیت دے دی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں گیس کی اس افراتفری نے قیمتوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔

    عالمی گیس منڈیاں: قیمتوں کا طوفان

    قطر کے بحران نے یورپ اور ایشیا کی گیس مارکیٹس کو شدید دباؤ سے دوچار کر دیا ہے۔ روس، یوکرین جنگ کے بعد یورپ پہلے ہی پائپ لائن گیس کی کمی کا سامنا کرتے ہوئے LNG پر انحصار بڑھا رہا تھا۔

    اب قطر کی سپلائی متاثر ہونے سے یورپ کا گیس بینچ مارک ‘Dutch TTF’ ستمبر 2026امریکہ میں 80 یورو فی میگاواٹ آور سے تجاوز کر گیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 144 فیصد اضافہ ہے۔

    امریکی انویسٹمنٹ بینک ‘Goldman Sachs’ کی پیش گوئی کے مطابق، اگر آبنائے ہرمز کا بحران سردیوں تک برقرار رہا تو گیس کی قیمتیں 105 یورو فی میگاواٹ آور تک جا سکتی ہیں، جس سے یورپ میں سردیوں کے دوران توانائی کے بحران کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

    دوسری جانب ایشیا میں اسپاٹ LNG کا بینچ مارک ‘JKM’ 25.90 ڈالر فی MMBtu کی سطح کو چھو رہا ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے امیر ممالک سردیاں آنے سے پہلے ہر ممکن قیمت پر گیس کے ذخائر بھرنے کی دوڑ میں شامل ہیں، جس کے باعث اسپاٹ مارکیٹ میں مقابلہ مزید سخت ہو گیا ہے اور کم آمدنی والے ممالک کے لیے LNG حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کا توانائی سیکٹر: ملکی معیشت پر ساڑھے پانچ ارب ڈالر کا متوقع بوجھ

    عالمی منڈی کی اس جنگ میں پاکستان بھی متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان اپنی گیس کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ قطر کے ساتھ کیے گئے طویل المدتی معاہدوں کے ذریعے پورا کرتا رہا ہے۔ قطر کی جانب سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد جب پاکستان LNG لمیٹڈ، یعنی  PLL، نے ستمبر 2026 امریکہ کے لیے اسپاٹ مارکیٹ کا رخ کیا تو موصول ہونے والی بولیوں نے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔

    پاکستان کو 26.97 ڈالر فی MMBtu تک کی مہنگی بولیاں موصول ہوئیں، جنہیں ملکی خزانے کی صورتِ حال کے پیشِ نظر حکومت نے مسترد کر دیا۔ اگرچہ حال ہی میں قطر کا ایک جہاز ‘المرونہ’ کسی نہ کسی طرح کراچی پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے، لیکن یہ ضرورت کے مقابلے میں انتہائی محدود مقدار ہے۔

    اگر پاکستان کی سالانہ 350 ملین MMBtu LNG درآمد کا مالیاتی حساب کیا جائے تو صورتِ حال مزید واضح ہوتی ہے۔

    بحران سے پہلے جب گیس 9 ڈالر فی MMBtu کے حساب سے مل رہی تھی تو پاکستان کا سالانہ درآمدی بل تقریباً 3.15 ارب ڈالر بنتا تھا۔ اب اگر اوسط قیمت 25 ڈالر فی MMBtu تک پہنچتی ہے تو یہ بل تقریباً 8.75 ارب ڈالر ہو سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملکی معیشت پر تقریباً 5.60 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 1,500 ارب پاکستانی روپے، کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

    بجلی کے شعبے پر بھی اس کے براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ RLNG سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت میں ایندھن کی قیمت بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ گیس کی قیمت میں اس قدر اضافے کی صورت میں RLNG پر چلنے والے پاور پلانٹس کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا اثر بجلی کے نرخوں اور صنعتی لاگت پر پڑنے کا خدشہ ہے۔

    مستقبل کا منظرنامہ: قلیل المدتی بحران اور طویل المدتی ریلیف

    عالمی توانائی کے ماہرین اور مختلف مالیاتی اداروں کی پیش گوئیوں کے مطابق گیس کی قیمتوں میں موجودہ دباؤ مستقل رہنا ضروری نہیں۔ 2026 امریکہ اور 2027 امریکہ پاکستان اور دنیا کے لیے توانائی کے حوالے سے انتہائی مشکل سال ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم 2028امریکہ کے بعد عالمی LNG سپلائی میں اضافے سے صورتحال تبدیل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    امریکہ اور قطر کے نئے LNG توسیعی منصوبے مارکیٹ میں اضافی گیس لا سکتے ہیں، جس سے مستقبل میں طلب اور رسد کے درمیان توازن بہتر ہونے اور قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کا امکان ہے۔

    پیش گوئیوں کے مطابق 2028امریکہ تک ایشیا میں گیس کی قیمت تقریباً 14 ڈالر اور 2030امریکہ تک 7.15 ڈالر فی MMBtu تک آ سکتی ہے۔ اگر یہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوتی ہیں تو پاکستان کے لیے LNG درآمد کی لاگت میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

    اب کیا راستہ بچا؟

    پاکستان کے لیے اس معاشی تجزیے کا لبِ لباب یہ ہے کہ ملک کو عالمی LNG مارکیٹ میں اچانک پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لیے قلیل اور طویل المدتی حکمتِ عملی دونوں اختیار کرنا ہوں گی۔

    حکومت کے لیے فوری چیلنج یہ ہے کہ بجلی اور گیس کی طلب پوری کرتے ہوئے درآمدی ایندھن پر پڑنے والے اضافی مالی دباؤ کو محدود کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی توانائی کے وسائل، قابلِ تجدید توانائی، سولر اور ونڈ پاور کے منصوبوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں عالمی LNG مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ پر انحصار کم کیا جا سکے۔

    اگر پاکستان موجودہ بحران کے دوران اپنی توانائی کی ضروریات کو متبادل ذرائع کے ذریعے متوازن کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور مستقبل میں عالمی LNG سپلائی بڑھنے کے نتیجے میں قیمتیں کم ہوتی ہیں تو توانائی کا شعبہ دوبارہ نسبتاً مستحکم ہو سکتا ہے۔

    لیکن اگر عالمی گیس کی قیمتوں میں اضافہ طویل عرصے تک برقرار رہا تو درآمدی بل، بجلی کی پیداواری لاگت اور ملکی معیشت پر اس کے اثرات ایک بڑا مالیاتی چیلنج بن سکتے ہیں۔

  • بارود کے ڈھیر پر بکھرتا ہوا موسم: مکہ اکارڈ، شنگھائی سیلاب اور پاکستان کا تزویراتی امتحان

    بارود کے ڈھیر پر بکھرتا ہوا موسم: مکہ اکارڈ، شنگھائی سیلاب اور پاکستان کا تزویراتی امتحان

    بین الاقوامی تعلقات اور عالمی سیاست کی تاریخ میں اگست 2026 کا یہ مہینہ ایک ایسے تزویراتی موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جہاں جغرافیائی سیاست اور ماحولیاتی آفات نے مل کر دنیا کا نقشہ تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔

    ایک طرف پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی ‘مکہ جوائنٹ ڈیٹرنس اگریمنٹ’، یعنی مکہ اکارڈ، پر دستخط کر کے مشرق وسطیٰ میں امریکی عسکری تسلط کے خاتمے کا بگل بجا دیا ہے۔

    لیکن دوسری طرف، اسی خطے میں ایران نے سخت گیر جرنیلوں کی نئی عسکری صف بندی کر کے اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کر کے ایک نئی سرد جنگ کی بنیاد رکھ دی ہے۔ سیکیورٹی کے اس ابلتے ہوئے لاوے کے بیچ، بحر الکاہل کے ساحل پر طوفان نوح کا منظر پیش کرتے ہوئے چین کا سب سے بڑا معاشی مرکز، شنگھائی، ‘ٹائیفون ڈولفن’ کی طوفانی بارشوں میں ڈوب گیا ہے، جس نے ثابت کر دیا ہے کہ اب انسانوں کے بنائے ہوئے عسکری بلاک قدرت کے ماحولیاتی ہتھیاروں کے سامنے موم کی دیوار ہیں۔

    ان تمام متصادم عالمی لہروں کے عین مرکز میں پاکستان کھڑا ہے، جسے بیک وقت اپنی معاشی بقا، ماحولیاتی سفارت کاری اور سفارتی پل کا سب سے بڑا امتحان دینا ہے۔

    مکہ اکارڈ اور مشرق وسطیٰ کا نیا سیکیورٹی ڈھانچہ

    مکہ اکارڈ مسلم دنیا کی تزویراتی تاریخ کا ایک انقلابی اور کثیر قطبی قدم ہے۔ نیٹو کے آرٹیکل پانچ کی طرز پر بنائے گئے اس ‘اجتماعی دفاعی معاہدے’ کی رو سے اب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ میں سے کسی ایک پر بھی مسلح بیرونی حملہ، تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    یہ معاہدہ بنیادی طور پر سعودی عرب کی جانب سے واشنگٹن کی سیکیورٹی چھتری پر عشروں پرانے انحصار کو ختم کرنے کا آغاز ہے۔ خلیج فارس کے دفاع کے لیے اب امریکی پینٹاگون کے بجائے ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور پاکستان کی جوہری و روایتی عسکری قوت کو ضامن بنایا گیا ہے۔ اگرچہ بانی ممالک نے اسے خالصتاً ‘دفاعی’ قرار دیا ہے، لیکن واشنگٹن اور نئی دہلی میں اس نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ یہ بلاک خلیج میں امریکی بالادستی کو براہ راست چیلنج کر رہا ہے۔

    ایران کی عسکری صف بندی اور مکہ اتحاد سے ٹکراؤ کے خدشات

    مکہ اکارڈ کے جواب میں تہران نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک ‘کاغذی معاہدہ’ قرار دیا ہے۔ ایران اس اتحاد کو اسرائیل کے خلاف ڈھال کے بجائے اپنے گرد گھیرا تنگ کرنے والا ایک ‘سنی عسکری بلاک’ تصور کر رہا ہے۔

    اسی تزویراتی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے تہران میں ہنگامی عسکری تبدیلیاں کرتے ہوئے محسن رضائی کو نیا سیکیورٹی چیف اور میجر جنرل علی عبداللہی کو پاسداران انقلاب کا کمانڈر مقرر کیا ہے۔ یہ تمام سخت گیر جرنیل جنگی حکمت عملی کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ ایران نے اپنی روایتی اور پاسداران انقلاب کی افواج کو ایک ہی کمانڈ کے تحت لا کر آبنائے ہرمز پر کنٹرول سخت کرنے اور وہاں سے گزرنے والے کارگو جہازوں پر فیس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اگرچہ مکہ اتحاد اور ایران کے درمیان براہ راست جنگ کا امکان کم ہے، لیکن یمن کے حوثی باغیوں کے ذریعے سعودی آرامکو پر حملوں اور بحری راستوں کی بندش کی صورت میں نیابتی جنگ تیز ہونے کا پورا خطرہ موجود ہے۔

    شنگھائی کا سیلاب اور عالمی رسدی سلسلے کا بحران

    جب مشرق وسطیٰ بارود کی بو سے مہک رہا ہے، تب چین کے معاشی انجن شنگھائی میں آنے والے سیلاب نے دنیا کو ایک اور پٹڑی پر لا کھڑا کیا ہے۔ 151 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ساحل سے ٹکرانے والے ٹائیفون ڈولفن نے شنگھائی کے جدید ترین بنیادی ڈھانچے اور نکاسی آب کے نظام کو گھٹنوں کے بل لا کھڑا کیا۔

    شہر کے تجارتی اضلاع زیر آب آ چکے ہیں، ہزاروں پروازیں منسوخ ہیں اور وائی گاو چیاؤ اور یانگ شان جیسی دنیا کی مصروف ترین بندرگاہیں بند ہو چکی ہیں۔ شنگھائی کے اس تعطل نے عالمی رسدی سلسلے کو ہلا کر رکھ دیا ہے، کیونکہ اسمارٹ فونز، مائیکرو چپس اور آٹو پارٹس کا خام مال پھنس جانے سے امریکہ اور یورپ کی مارکیٹیں شدید متاثر ہو رہی ہیں، جو عالمی معیشت میں نئی مہنگائی کا سبب بنے گا۔

    شنگھائی کا یہ منظرنامہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی حدت اور ماحولیاتی تبدیلی اب دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور سیکیورٹی حقیقت بن چکے ہیں۔

    ماحولیاتی انصاف اور پاکستان کی ماحولیاتی سفارت کاری

    اگر چین جیسی عالمی معیشت ماحولیاتی تبدیلیوں کے سامنے بے بس ہو سکتی ہے تو پاکستان کا موسمیاتی بحران زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ پاکستان دنیا میں کاربن کا اخراج کرنے والے ممالک میں ایک فیصد سے بھی کم کا حصہ دار ہے، لیکن گلیشیئرز کے پگھلنے اور سیلابوں کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔

    حال ہی میں آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والے 1.3 ارب ڈالر کے ماحولیاتی فنڈ کے بعد پاکستان کی ‘ماحولیاتی سفارت کاری’ کو ایک نیا رخ اپنانا ہوگا۔ پاکستان کو عالمی سطح پر ‘ماحولیاتی انصاف’ کا مقدمہ لڑتے ہوئے امیر ممالک سے خیرات کے بجائے کاربن کا ہرجانہ اور معاوضہ مانگنا ہوگا۔

    اس کے ساتھ ہی، پاکستان کو اپنی اندرونی حکمرانی کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ایک ‘مرکزی ماحولیاتی ڈیٹا بینک’ قائم کرنا ہوگا اور 18ویں ترمیم کے تحت سندھ اور پنجاب جیسی صوبائی حکومتوں کو براہ راست عالمی فنڈز کے حصول کی خودمختاری دینی ہوگی، تاکہ بیوروکریٹک سرخ فیتہ شاہی کا خاتمہ ہو سکے۔

    امریکی دباؤ اور پاکستان کا سفارتی پل

    اس پورے منظرنامے کا سب سے پرپیچ پہلو پاکستان کا سفارتی کردار ہے۔ چین اور روس اس بات کے حامی ہیں کہ مکہ اتحاد اور ایران کے درمیان اس سرد جنگ کو ختم کرایا جائے، کیونکہ ان کا اصل ہدف خطے سے امریکی اثر و رسوخ کو نکالنا ہے۔

    اس ثالثی میں پاکستان، اپنی جغرافیائی حیثیت اور مکہ اکارڈ کا بانی رکن ہونے کی وجہ سے، اگر چاہے تو بیجنگ اور ماسکو کے لیے ایک ‘مرکزی سفارتی پل’ بن سکتا ہے۔ لیکن جیسے ہی پاکستان اس بلاک کا حصہ بن کر ایران اور سعودی عرب کو قریب لانے کی کوشش کرے گا، واشنگٹن کی طرف سے شدید سفارتی اور معاشی دباؤ آئے گا۔ امریکہ آئی ایم ایف کے فنڈز روک کر، ایف اے ٹی ایف یا بھارتی کارڈ استعمال کر کے پاکستان کو بیک فٹ پر لانے کی کوشش کر سکتا ہے۔

    اس امریکی بلیک میلنگ اور معاشی دباؤ سے بچنے کے لیے پاکستان کو چین اور سعودی عرب سے ٹھوس ‘مالیاتی ضمانتیں’ مانگنی ہوں گی۔ ان ضمانتوں میں آئی ایم ایف کا متبادل ہنگامی فنڈ، سعودی عرب کی طرف سے موخر ادائیگیوں پر طویل مدتی تیل کی سپلائی، سی پیک کے قرضوں کی ازسرنو تنظیم، اور ڈالر کے بجائے چینی یوآن میں تجارت کی تحریری یقین دہانیاں شامل ہونی چاہئیں۔

    خلاصہ کلام یہ کہ اگست 2026 کا یہ عالمی منظرنامہ پاکستان کو ایک زبردست لیکن خطرناک موقع فراہم کر رہا ہے۔ شنگھائی کا سیلاب یہ یاد دلاتا ہے کہ سیکیورٹی اب صرف بارود اور ٹینکوں کا نام نہیں، بلکہ ماحول اور بقا کی جنگ بن چکی ہے۔

    پاکستان مکہ اکارڈ کے سائے میں اپنے ایٹمی و عسکری قد کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں امن کا سفارتی پل تو بن سکتا ہے، لیکن اسے اپنی کمزور معیشت کو بچانے کے لیے چین اور خلیج کی مالیاتی لائف لائن کو مضبوط کرنا ہوگا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اب تلوار کی دھار پر چلتے ہوئے یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ خیرات مانگنے والا کشکول توڑ کر عالمی اسٹیج پر حق، انصاف اور توازن کی ایک بڑی طاقت بن کر ابھرنے کے لیے تیار ہے۔

  • امریکہ نے جبری مشقت روکنے میں ناکامی پر پاکستان سمیت 60 ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد نئے ٹیرف نافذ کر دیے

    امریکہ نے جبری مشقت روکنے میں ناکامی پر پاکستان سمیت 60 ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد نئے ٹیرف نافذ کر دیے

    گذشتہ ہفتے یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کی شرائط پر مکمل عمل درآمد نہ کرنے پر تنقید کے بعد اب امریکہ نے بھی ’جبری مشقت‘ روکنے میں ناکامی پر پاکستان سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد تک نئے ٹیرف نافذ کر دیے ہیں، جن کا اطلاق آج سے ہو گیا ہے۔

    متاثرہ ممالک میں بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، برطانیہ، چین، یورپی یونین، کینیڈا اور جاپان بھی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جس پر نئے امریکی ٹیرف منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

    پاکستان میں ماضی میں بھی مزدوروں کے حقوق، بچوں سے مشقت اور جبری مزدوری کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور لیبر قوانین پر عمل درآمد کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اب بھی ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔

    پاکستانی تاجروں کے نمائندے اور ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے صدر مجید عزیز نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر جبری مشقت ی نئی شق کو ٹیرف عائد کرنے کی وجہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف تجارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری، سفارتی تعلقات اور سیاحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

    جبری مشقت کے الزامات کی بنیاد پر جاری کیا گیا صدارتی حکم نامہ عدالتوں یا دوطرفہ مذاکرات میں زیادہ دیر برقرار رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست میں یورپی ممالک کو بھی ان ممالک کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے جہاں آمرانہ حکومتیں ہیں یا جمہوری نظام موجود نہیں۔ حالانکہ کئی یورپی ممالک نے قوانین سازی، بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے کنونشنز کی توثیق اور سخت نگرانی کے ذریعے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔

    پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے جبری مشقت کے خاتمے یا اس میں نمایاں کمی لانے کے لیے سنجیدہ اور فوری اقدامات کیے ہیں۔

    مثبت پہلو صرف یہ ہے کہ اگر پاکستان، ٹرمپ انتظامیہ کی نظر میں ایک قابل اعتماد شراکت دار سمجھا جاتا ہے تو ممکن ہے اس پر اضافی ٹیرف عائد نہ کیا جائے، یا پھر صرف علامتی نوعیت کا معمولی ٹیرف لگایا جائے۔

    ای ایف پی کا مؤقف ہے کہ جبری مشقت نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ پائیدار کاروباری ترقی، منصفانہ مسابقت اور معاشی ترقی کی راہ میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جبری مشقت کا خاتمہ حکومتوں، آجروں، مزدوروں اور آجر تنظیموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

    امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق نئے ٹیرف ان تمام ممالک پر لاگو ہوں گے جن سے امریکہ بڑی مقدار میں اشیا درآمد کرتا ہے۔ ان 60 ممالک سے ہونے والی درآمدات امریکہ کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 99.4 فیصد بنتی ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد کیا گیا ہے۔ ان تحقیقات میں الزام لگایا گیا تھا کہ مختلف ممالک میں جبری مشقت کے ذریعے تیار ہونے والی اشیا امریکہ برآمد کی جا رہی ہیں اور متعلقہ حکومتیں اس مسئلے کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہیں۔

    امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرف 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوں گے۔ پاکستان 10 فیصد ٹیرف والے ممالک میں شامل ہے، کیونکہ انہوں نے مبینہ جبری مشقت کے خاتمے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ان اقدامات سے مطمئن نہیں اور اس مسئلے پر نظر رکھے گا۔

    یہ نئے ٹیرف ایسے وقت میں نافذ کیے گئے ہیں جب اس سال کے آغاز میں صدر ٹرمپ کی جانب سے تقریباً تمام درآمدات پر عائد کیا گیا 10 فیصد عمومی ٹیرف امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔ اس فیصلے کے بعد امریکی انتظامیہ نے ایک مختلف قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے نئے ٹیرف نافذ کیے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کے سینئر حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اپنی تجارتی پالیسی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے دستیاب ہر قانونی اختیار استعمال کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ایک قانونی اختیار پر عدالت پابندی عائد کر دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت اپنی تجارتی حکمت عملی ترک کر دے گی۔

    امریکی انتظامیہ نے ان ٹیرف کے نفاذ کے لیے ٹریڈ ایکٹ 1974ء کی شق 301 کا سہارا لیا ہے۔ تجارتی ماہرین کے مطابق اس قانون کے تحت لگائے جانے والے ٹیرف عدالتوں میں زیادہ مضبوط قانونی حیثیت رکھتے ہیں اور ماضی میں بھی ایسے اقدامات عدالتی چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود برقرار رہے ہیں۔

    امریکہ نے واضح کیا ہے کہ تمام درآمدات پر یہ ٹیرف لاگو نہیں ہوں گے۔ خام تیل، قدرتی گیس اور بعض ایسی مصنوعات جن کی مقامی سطح پر دستیابی ممکن نہیں، انہیں اس اقدام سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے تاکہ امریکی معیشت اور صنعت کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرف کو اسی وقت نافذ کیا گیا جب پہلے سے موجود 10 فیصد عمومی ٹیرف کی مدت ختم ہوئی، تاکہ درآمد کنندگان کو ایک ہی وقت میں مختلف اقسام کے ٹیرف کا سامنا نہ کرنا پڑے اور کاروباری اداروں کے لیے نظام نسبتاً آسان رہے۔

    حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کاروباری حلقے بار بار ٹیرف کی شرحوں میں تبدیلی سے پریشان تھے۔ اس لیے اب حکومت نے نسبتاً واضح اور مستقل نظام متعارف کرانے کی کوشش کی ہے تاکہ درآمد کنندگان کو پہلے سے معلوم ہو کہ انہیں کس شرح سے ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔

    ادھر یورپی یونین نے امریکی اقدام پر سخت ردعمل دیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس نے ان ٹیرف کو "منفی حیرت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جبری مشقت سے متعلق امریکی الزامات بے بنیاد ہیں۔

    سوئٹزرلینڈ نے بھی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امریکی فیصلے کی مخالفت کی ہے، جبکہ ناروے نے کہا ہے کہ وہ جواب میں امریکی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

    برازیل نے بھی اپنے سامان پر 12.5 فیصد ٹیرف مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی تعلقات باہمی برابری کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔ دوسری جانب میکسیکو کے وزیر اقتصادیات نے کہا ہے کہ ان کے ملک پر مؤثر ٹیرف کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    آسٹریلیا، جس پر بھی 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے، نے امریکی فیصلے کو مکمل طور پر غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ آسٹریلوی وزیر تجارت ڈان فیرل نے کہا کہ ان کی حکومت امریکہ سے مسلسل رابطے میں رہے گی تاکہ آسٹریلوی مصنوعات پر عائد تمام ٹیرف ختم کرائے جا سکیں۔

    امریکی انتظامیہ اس کے علاوہ بھی مزید تجارتی تحقیقات کر رہی ہے۔ ان میں ایک تحقیق چین، میکسیکو اور یورپی یونین سمیت بڑے تجارتی شراکت داروں پر عالمی سطح پر صنعتی پیداوار کی ضرورت سے زیادہ صلاحیت پیدا کرنے کے الزامات سے متعلق ہے۔

    اسی ہفتے وائٹ ہاؤس نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ آئندہ ماہ سے کینیڈا کی بعض مصنوعات پر 50 فیصد تک نیا ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔ یہ اقدام ایک ایسے امریکی قانون کے تحت کیا جا رہا ہے جسے اس سے پہلے کبھی استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی حکومت تجارتی پالیسی کو مزید سخت بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں دیگر ممالک پر بھی نئے تجارتی اقدامات متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ پاکستان سمیت متاثرہ ممالک کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ یہ نئے امریکی ٹیرف ان کی برآمدات اور امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔

  • چین کی امریکہ کو للکار، شی جن پنگ نے نیا عالمی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا نظام بنانے کا اعلان کردیا

    چین کی امریکہ کو للکار، شی جن پنگ نے نیا عالمی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا نظام بنانے کا اعلان کردیا

    چین کے صدر شی جن پنگ نے خود کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نئے عالمی نظام کا حامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اس شعبے میں کھلے تعاون اور اوپن سورس ٹیکنالوجی کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

    انہوں نے یہ بات جمعہ کے روز شنگھائی میں ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس (WAIC) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ تیزی سے ترقی کرنے والے اس شعبے کے قواعد و ضوابط پر صرف ایک ملک کا اثر و رسوخ نہیں ہونا چاہیے۔

    شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اوپن سورس مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے ’تاریخی موقع‘ سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ چین ترقی پذیر ممالک کو مصنوعی ذہانت کی صلاحیت بڑھانے میں مدد فراہم کرے گا۔

    اسی مقصد کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں ہزاروں افراد کو اے آئی کی تربیت فراہم کی جائے گی، جبکہ افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ، برکس اور دیگر علاقائی تنظیموں کے ساتھ مشترکہ تعاون کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر جدید ٹیکنالوجی تک رسائی صرف چند ممالک تک محدود رہی تو اس سے دنیا میں ’تاریخی ناانصافیاں‘ جنم لے سکتی ہیں۔

    شی جن پنگ کے اس خطاب کو اب تک مصنوعی ذہانت کے عالمی نظام کے بارے میں چین کے سب سے واضح مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے اوپن سورس اے آئی ماڈلز پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہونے چاہییں۔ اس طرح چین نے خود کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکہ کے متبادل عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، ایسے وقت میں جب جدید ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ تیزی سے جاری ہے۔

    شی جن پنگ نے مصنوعی ذہانت کی اہمیت کو بھاپ کے انجن اور بجلی کی ایجاد سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی دنیا میں ایک بڑا انقلاب لا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین گلوبل ساؤتھ، یعنی ترقی پذیر ممالک، کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی، مہارت اور تجربہ شیئر کرنا چاہتا ہے۔

    اس کے ساتھ ہی چین اس نئی ٹیکنالوجی کے لیے عالمی اصول اور ضابطے بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

    امریکی پیکس سلیکا کا متبادل

    اپنی تقریر میں شی جن پنگ نے چین کے مجوزہ عالمی اے آئی اتحاد کو ایک ایسے متبادل کے طور پر پیش کیا جو امریکہ کی قیادت میں قائم کیے گئے ’پیکس سلیکا‘ نامی بین الاقوامی اقدام کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اس امریکی اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت اور اہم معدنی وسائل کی عالمی سپلائی چین کو محفوظ بنانا ہے، تاہم شی جن پنگ نے اپنی تقریر میں امریکہ کا نام براہِ راست نہیں لیا۔

    چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ حالیہ عرصے میں بار بار یہ مؤقف پیش کر رہے ہیں کہ بیجنگ کی مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی دراصل اس کوشش کا جواب ہے جسے چین، امریکہ کی قیادت میں قائم کیے جانے والے ’اے آئی آئرن کرٹن‘ یعنی مصنوعی ذہانت کی ایک نئی دیوار قرار دیتا ہے۔

    جمعرات کو چینی سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی سے وابستہ معروف سوشل میڈیا اکاؤنٹ یو یوان تان تیان نے ایک تبصرے میں کہا کہ چین ایک نیا عالمی نظام قائم کرنا چاہتا ہے، جہاں تمام ممالک اور پوری انسانیت مل کر اوپن سورس مصنوعی ذہانت کا ایسا نظام تشکیل دیں جس میں سب کی شمولیت ہو اور ہر ملک کو برابر کے مواقع حاصل ہوں۔

    شنگھائی میں ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس نے بھی یہ ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ چینی کمپنیوں کے اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور وہ امریکہ کی کمپنیوں، جیسے اوپن اے آئی اور انتھروپک کے محدود رسائی والے ماڈلز کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

    نئی چینی چینی ماڈلز اور مصنوعات

    اسی دوران بیجنگ کی نئی ٹیکنالوجی کمپنی مون شاٹ اے آئی نے جمعہ کو اپنا نیا اے آئی ماڈل کیمی کے تھری (Kimi K3) متعارف کرایا۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ پیرامیٹرز کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اوپن اے آئی ماڈل ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک ماہ قبل امریکی حکومت نے سکیورٹی خدشات کے باعث انتھروپک کے جدید ترین اے آئی ماڈلز کی دستیابی اچانک محدود کر دی تھی۔

    ماہرین کے مطابق چین اس وقت مصنوعی ذہانت کو اپنی صنعتی اور معاشی حکمت عملی کا اہم ستون بنا چکا ہے۔ حکومت کئی برسوں سے جدید چپس، ڈیٹا سینٹرز، سافٹ ویئر، روبوٹکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ اس شعبے میں بیرونی انحصار کم کیا جا سکے۔

    کانفرنس میں چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی اپنی نئی مصنوعات پیش کیں۔ ہواوے نے اپنا جدید اٹلس 950 سپر پوڈ اے آئی کمپیوٹنگ نظام متعارف کرایا، جسے امریکہ کی جدید ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کی کوشش کا اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کئی چینی کمپنیوں نے نئے اوپن سورس اے آئی ماڈلز بھی پیش کیے، جن کا مقصد عالمی منڈی میں امریکی کمپنیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔

    دوسری جانب امریکہ اور یورپی ممالک نے حالیہ برسوں میں قومی سلامتی کے خدشات کے باعث چین کو جدید سیمی کنڈکٹر چپس اور بعض حساس ٹیکنالوجیز کی برآمد پر مختلف پابندیاں عائد کی ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کا استعمال فوجی مقاصد کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے، جبکہ بیجنگ ان پابندیوں کو اپنی تکنیکی ترقی روکنے کی کوشش قرار دیتا ہے۔

    اسی پس منظر میں چین نے ایک نئی بین الاقوامی تنظیم ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس تنظیم کے بانی ارکان میں پاکستان سمیت 29 ممالک شامل ہیں۔ تنظیم کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون، مشترکہ اصولوں کی تشکیل اور محفوظ استعمال کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔ اس کا مرکزی دفتر شنگھائی میں قائم کیا جائے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی قیادت کے لیے امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے مقابلے کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق بیجنگ صرف جدید ٹیکنالوجی تیار کرنے پر ہی توجہ نہیں دے رہا بلکہ وہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے عالمی قوانین اور معیار طے کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

    مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے استعمال نے دنیا بھر میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مناسب قوانین اور نگرانی کا نظام نہ بنایا گیا تو یہ ٹیکنالوجی سائبر حملوں، غلط معلومات، جرائم اور فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ اسی لیے مختلف ممالک اس شعبے کے لیے عالمی ضابطے بنانے پر زور دے رہے ہیں، تاہم اس بارے میں اب تک عالمی اتفاق رائے سامنے نہیں آ سکا۔

    مختلف عالمی نظریات

    17 سے 20 جولائی تک ہونے والی اس کانفرنس کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور چین، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے دوران مصنوعی ذہانت پر اپنی پہلی سرکاری سطح کی بات چیت کی تیاری کر رہے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ہونے والے ایک اجلاس میں دونوں ممالک نے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اگر اس شعبے پر بہت زیادہ قوانین اور پابندیاں لگائی گئیں تو نئی ایجادات اور ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب چین نے اپنے کم لاگت والے اوپن سورس اے آئی ماڈلز کو فروغ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ترقی پذیر ممالک کو جدید ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی ملے گی اور عالمی سطح پر موجود فرق کم ہوگا۔

    امریکہ کی تجویز کردہ ’اے آئی اپرچیونٹی اسٹیٹمنٹ‘ کی حمایت اب تک 35 ممالک کر چکے ہیں، جبکہ چین کی قیادت میں قائم ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) میں 29 ممالک شامل ہوئے ہیں۔

    امریکی مؤقف سے واقف ایک ذریعے کے مطابق قازقستان واحد ایسا ملک ہے جو دونوں اقدامات کا حصہ بنا ہے۔ اس ذریعے کا کہنا تھا کہ دونوں فہرستوں میں کم مشترکہ ممالک ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے فریم ورک کی حمایت کرنے والے زیادہ تر ممالک نے چین کے متبادل منصوبے کی تائید نہیں کی۔

    ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس میں چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندوں کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف اور تھائی لینڈ کے وزیر اعظم انوتن چرن ویراکول بھی شریک ہیں۔

  • ایک جنگ، دو محاذ، امریکہ کے میزائل ختم، چین کے لیے کھلا موقع

    ایک جنگ، دو محاذ، امریکہ کے میزائل ختم، چین کے لیے کھلا موقع

    ایران کے ساتھ تیسری بار جنگ شروع ہونے کے باعث امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے کم ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ دفاعی ماہرین نے سی این این کو بتایا ہے کہ ہتھیاروں کی یہ کمی مستقبل میں چین یا شمالی کوریا کے ساتھ ممکنہ جنگ کی صورت میں امریکی فوج کی لڑنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

    واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف گزشتہ سات ہفتوں کی جنگ کے دوران امریکہ اپنے جدید ترین میزائلوں کا ایک بڑا حصہ استعمال کر چکا ہے۔ اس میں تقریباً 45 فیصد پریسیژن اسٹرائیک میزائل، نصف سے زیادہ تھاڈ میزائل، اور تقریباً 50 فیصد پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل شامل ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ پیسہ نہیں بلکہ وقت ہے۔ ان پیچیدہ ہتھیاروں کو دوبارہ تیار کرنے اور ذخائر کو مکمل کرنے میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔

    امریکی دفاعی ماہرین کو تشویش ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ایران کے ساتھ جنگ مزید طویل ہوئی تو امریکہ کے پاس چین کو بحرالکاہل خصوصاً تائیوان کے معاملے میں روکنے کے لیے ہتھیار کم پڑ سکتے ہیں۔

    واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے اپنی تازہ جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ واشنگٹن کے ہتھیاروں کی سپلائی کم ہو رہی ہے، لیکن ابھی وہ نازک سطح تک نہیں پہنچی۔

    فروری سے اب تک جاری جنگ میں امریکہ نے ایران کے 13,000 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے ہیں، جن میں بنیادی طور پر اپنے سات طاقتور میزائلوں اور دفاعی نظاموں کا استعمال کیا گیا۔ ان میں ٹوماہاک، جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائل، اسٹینڈرڈ میزائل تھری، اسٹینڈرڈ میزائل سکس، تھاڈ اور پیٹریاٹ شامل ہیں، جن میں سے امریکہ اپنے دستیاب ذخائر کا نصف سے زیادہ استعمال کر چکا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ان سے کم فاصلے تک مار کرنے والے ہزاروں ہتھیار ابھی بھی ذخیرے میں موجود ہیں، لیکن اب ان کے استعمال کا وقت بھی آتا دکھائی دے رہا ہے، اور اگر جنگ مزید ایک مہینہ جاری رہی تو وہ بھی ختم ہو سکتے ہیں۔

    امریکہ کے پاس سمندر سے زمین پر مار کرنے والے تقریباً 3,000 ٹوماہاک میزائل موجود تھے، جن میں سے ایران کے ساتھ جنگ میں تقریباً 1,000 استعمال ہو چکے ہیں۔

    جاسم کے تقریباً 4,000 میزائلوں میں سے 1,100 استعمال کیے جا چکے ہیں۔

    پی آر ایس ایم نئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہیں، جن کی سپلائی پہلے ہی محدود تھی۔ 2023 سے اب تک ان میں سے صرف 90 میزائل امریکی دفاعی ادارے کو فراہم کیے گئے، جبکہ جنگ میں ان میں سے 40 سے 70 استعمال ہو چکے ہیں۔ ایک امریکی فوجی رہنما کے مطابق اس جنگ میں ان کی تقریباً پوری دستیاب انوینٹری خرچ کر دی گئی ہے۔

    اسٹینڈرڈ میزائل تھری اس جنگ میں استعمال ہونے والا سب سے مہنگا ہتھیار ہے، جس کی فی یونٹ قیمت تقریباً 28 ملین ڈالر ہے۔ یہ بحری جہاز سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل انٹرسیپٹر ہے۔ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس اس کے تقریباً 410 میزائل تھے، جن میں سے اندازاً 130 سے 250 استعمال کیے جا چکے ہیں۔

    اسٹینڈرڈ میزائل سکس بھی بحری جہازوں سے داغے گئے۔ یہ میزائل بنیادی طور پر دشمن کے طیاروں، کروز میزائلوں اور بعض دیگر فضائی خطرات کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس اس کے تقریباً 1,160 میزائل موجود تھے، لیکن اندازوں کے مطابق ایران کی جنگ میں ان میں سے 190 سے 370 تک استعمال ہو چکے ہیں۔

    انتہائی مہنگے تھاڈ اینٹی بیلسٹک میزائل نظام کے اپریل تک امریکہ کے پاس تقریباً 360 انٹرسیپٹر موجود تھے، جن میں سے 190 سے 290 تک استعمال کیے جا چکے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھاڈ کی آٹھ بیٹریاں جن میں لانچر، انٹرسیپٹر اور ریڈار نظام شامل ہوتے ہیں، کے ذخائر بھی نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں۔

    پیٹریاٹ میزائلوں کے بارے میں اندازہ ہے کہ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس تقریباً 2,330 موجود تھے، جن میں سے 1,060 سے 1,430 کے درمیان استعمال کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ اس وقت پینٹاگون کے پاس تقریباً 400 پرانے پیٹریاٹ میزائل موجود ہیں، لیکن بتایا جاتا ہے کہ وہ اس جنگ میں استعمال کے قابل نہیں ہیں۔

    عالمی دفاعی مبصرین نے ٹرمپ انتظامیہ کی تیز اور جارحانہ حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطی میں ایران کے خلاف جنگ کو تیز کر کے خود کو ایسے خطرے میں ڈال رہا ہے جیسے کوئی ویڈیو گیم کھیل رہا ہو، جس سے ایشیا میں چین کو کھلا میدان مل سکتا ہے۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پینٹاگون کا یہ بیان کہ ہمارے پاس ہر چیز موجود ہے محض ایک سیاسی بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی دفاعی پیداواری صنعت اس وقت بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے سے قاصر ہے۔

    اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو جنگ کو طول دینے کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر جنگ جاری رہی تو امریکی اسلحہ ساز کارخانے دن رات کام کرنے کے باوجود بھی اتنے بڑے ذخائر جلد دوبارہ تیار نہیں کر سکیں گے۔

    واشنگٹن کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کے لیے زیادہ اہم محاذ کون سا ہے، مشرق وسطی میں ایران کے ساتھ مقابلہ یا بحرالکاہل کے خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنا۔ ماہرین کے مطابق امریکہ کے لیے بیک وقت دونوں محاذوں پر پوری طاقت کے ساتھ جنگ لڑنا اس کی استطاعت سے باہر ہو سکتا ہے۔

    الجزیرہ کے ایک پروگرام میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے رہنماؤں نے یہ تاثر دینا شروع کر دیا ہے کہ ان کے پاس لامحدود ہتھیار موجود ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر انتظامیہ نے امریکی دفاعی صنعت کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور انہیں میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کی پیداوار ہنگامی بنیادوں پر دن رات جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ ان کمپنیوں نے بھی اس کام کا آغاز تیز رفتار بنیادوں پر کر دیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے جون میں ہی ڈیفنس پروڈکشن ایکٹ پر دستخط کر دیے تھے۔ اگرچہ اسے کانگریس کی منظوری حاصل نہیں ہوئی، تاہم اسے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق دفاعی پیداوار بڑھانے کا یہ حکم اس بات کی علامت ہے کہ پینٹاگون کے اندر مستقبل کی سپلائی اور وقت کے حوالے سے سنجیدہ خدشات موجود ہیں۔

    ایک طرف امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف اس کے عرب اتحادی بھی واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے بھی امریکی دفاعی صنعت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، اس لیے انہیں بھی ان کے خریدے ہوئے تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل فراہم کیے جائیں۔

    تاہم واشنگٹن نے انہیں واضح طور پر بتایا ہے کہ یہ ذخائر خود امریکہ کے پاس بھی تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد روس کے خلاف جنگ کے دوران یوکرین کو فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ موجودہ جنگ کے باعث مزید میزائل فوری طور پر دستیاب نہیں۔

    پہلے سے موجود سپلائی آرڈرز بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ جاپان کے لیے 400 ٹوماہاک میزائلوں کی فراہمی، جو 2025 سے 2027 کے درمیان مکمل ہونی تھی، مقررہ وقت پر پوری نہ ہو سکی۔ اس پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مئی میں کہا تھا کہ اس آرڈر کی تکمیل میں مزید دو سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔

    اسی دوران سوئٹزرلینڈ نے جون میں فرانس، اسرائیل اور جنوبی کوریا سے میزائل دفاعی نظام خریدنے کے لیے بیک وقت مذاکرات شروع کیے، جبکہ جاپان کے لیے ریتھیون کا 2022 کا آرڈر بھی تاخیر کا شکار ہے۔

    وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے حال ہی میں کہا کہ اب نئے میزائل حاصل کرنے میں مہینے نہیں بلکہ سال لگ سکتے ہیں۔ اسی لیے امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں ایسی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جس میں میزائلوں پر کم انحصار ہو۔ ان کا اشارہ زمینی جنگ کی طرف تھا، جہاں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور عام فوجی نسبتاً کم قیمت ہتھیاروں کے ساتھ جنگ لڑ سکتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ اب بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ امریکی اسلحہ ساز کارخانے دن رات کام کر کے فوری طور پر نئے ذخائر فراہم کر دیں گے، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ کو طویل کر کے دراصل امریکہ کے جدید ہتھیاروں کے ذخائر کو ختم کرنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ اپنی مجوزہ 2027 کی 1.5 ٹریلین ڈالر کی دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ جدید ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ رقم 2026 کے دفاعی بجٹ سے تقریباً 44 فیصد زیادہ ہے۔

    سی ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے آئندہ سال کے لیے 785 ٹوماہاک میزائل طلب کیے تھے، لیکن ان میں سے صرف چند ہی فراہم ہو سکے۔ اسی طرح اس سال 821 جاسم میزائل درکار تھے، مگر وہ بھی تاحال مکمل طور پر فراہم نہیں کیے جا سکے۔

    پی آر ایس ایم کے 1,134 میزائل درکار تھے، لیکن اس سال صرف 70 فراہم کیے گئے۔

    اسٹینڈرڈ میزائل تھری کی ایک بڑی تعداد، جس کی درخواست کئی برس پہلے دی گئی تھی، اب تک فراہم نہیں ہو سکی۔ اسٹینڈرڈ میزائل سکس کے 540 میزائل طلب کیے گئے تھے، مگر صرف 125 موصول ہوئے۔ تھاڈ کے 857 انٹرسیپٹر میزائلوں کی درخواست کی گئی، لیکن اس سال صرف 92 فراہم کیے گئے۔

    اسی طرح پیٹریاٹ میزائلوں کے لیے 2027 تک 3,202 میزائلوں کی درخواست دی گئی، جبکہ اب تک صرف 172 فراہم کیے جا سکے ہیں۔

    دوسری جانب، اگرچہ اسرائیل کی دفاعی صنعت بہت ترقی یافتہ ہے، لیکن بیک وقت لبنان، یمن، غزہ اور ایران کے خلاف کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کی وجہ سے اس کے ہتھیاروں کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    اسرائیل کے مشہور دفاعی نظام آئرن ڈوم اور ایرو گزشتہ دو برس سے مسلسل استعمال ہو رہے ہیں۔ حزب اللہ اور حوثی طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرون مسلسل داغ رہے ہیں، جس کے باعث اسرائیل کو انہیں فضا میں تباہ کرنے کے لیے بڑی تعداد میں مہنگے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔

    غزہ اور لبنان میں وسیع پیمانے پر بمباری کی وجہ سے اسرائیل کو آرٹلری گولوں اور گائیڈڈ بموں کی بھی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا، جسے پورا کرنے کے لیے امریکہ نے ہنگامی بنیادوں پر اسرائیل کو فضائی راستے سے اسلحہ فراہم کیا۔

    دریں اثنا، امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک اراکین نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایران جنگ، اسرائیل کے لیے جنگی فنڈنگ اور دفاعی تعاون سے متعلق سالانہ بل کو 50 کے مقابلے میں 46 ووٹوں سے روک دیا۔

    سینیٹ کی نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کمیٹی میں چک شومر، کرس وان ہولن، برنی سینڈرز، الزبتھ وارن، ایڈ مارکی، جیف مرکلے اور پیٹر ویلچ سمیت کئی سینیٹرز نے مؤقف اختیار کیا کہ نیتن یاہو کی حکومت کو امریکی ٹیکس دہندگان کا مزید پیسہ دینا بند کیا جانا چاہیے۔

    اس کے علاوہ 14 شہری اور جنگ مخالف تنظیموں، جن میں امریکن سول لبرٹیز یونین، جے اسٹریٹ، کوڈ پنک اور دیگر خارجہ پالیسی سے متعلق تنظیمیں شامل ہیں، نے بھی سینیٹ سے اپیل کی کہ اس بل کی منظوری نہ دی جائے۔

    اب سوال یہ نہیں رہا کہ امریکہ جنگ جیت سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ بیک وقت دو محاذوں پر جنگ لڑنے کی اپنی صلاحیت کو کب تک برقرار رکھ سکتا ہے۔

    جب تک امریکہ کا دفاعی پیداواری نظام برسوں کے بجائے مہینوں کی رفتار سے جدید ہتھیار تیار کرنے کے قابل نہیں ہوتا، ایران کے ساتھ جاری جنگ صرف مشرق وسطی کا مسئلہ نہیں رہے گی، بلکہ بحرالکاہل میں امریکہ کی مستقبل کی عسکری طاقت اور چین کے مقابلے میں اس کی حکمت عملی کا بھی ایک بڑا امتحان بن سکتی ہے۔

  • امریکہ میں سیاسی پناہ کے ذریعے رہائش اور روزگار کیسے ملتا ہے؟

    امریکہ میں سیاسی پناہ کے ذریعے رہائش اور روزگار کیسے ملتا ہے؟

    سندھ میں رہنے والے بہت سے نوجوان سوشل میڈیا پر اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ فلاں کارکن، صحافی یا عام آدمی کے پاس نہ کوئی بڑی ڈگری تھی، نہ خاص ہنر اور نہ ہی زیادہ دولت تھی۔ وہ یہاں عام زندگی گزارتا تھا، لیکن آج امریکہ میں اچھی گاڑی، گھر اور خوشحال زندگی کیسے گزار رہا ہے؟

    کچھ لوگ انہیں غدار کہتے ہیں، کچھ انہیں ایجنسیوں کا آدمی قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے سندھ کا سودا کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی باتیں زیادہ تر لاعلمی، معلومات کی کمی اور اپنی ناکامیوں کو دوسروں پر ڈالنے کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

    امریکہ اور کینیڈا میں مستقل رہنے والے سندھی مختلف پس منظر رکھتے ہیں۔ کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر، انجینئر، بینکر، ماہرِ معیشت اور دوسرے پیشہ ور افراد ہیں۔ کچھ خوشحال کاروباری یا بڑے زمیندار خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

    کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس وقت امریکہ گئے جب ویزا حاصل کرنا نسبتاً آسان تھا اور وہاں محنت کرکے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوگئے۔ بعض افراد امریکہ کی ویزا لاٹری کے ذریعے بھی گئے تھے، لیکن کئی برسوں سے پاکستان اس پروگرام میں شامل نہیں ہے۔

    اب بات ان کارکنوں، صحافیوں اور عام لوگوں کی کرتے ہیں جو یہاں عام زندگی گزارتے تھے لیکن آج امریکہ میں بہتر حالات میں رہ رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پہلے وزٹ ویزا پر امریکہ گئے۔ امریکہ کا وزٹ ویزا حاصل کرنا خود ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔

    جب کوئی شخص امریکہ پہنچتا ہے تو ایئرپورٹ پر امیگریشن افسر اس سے آنے کی وجہ، قیام کی جگہ اور دیگر سوالات کرتے ہیں۔ اگرچہ اس کے پاس درست ویزا اور ٹکٹ ہو، پھر بھی امیگریشن افسر اسے واپس بھیج سکتے ہیں یا چند دنوں سے لے کر چھ ماہ تک قیام کی اجازت دے سکتے ہیں۔

    زیادہ تر لوگ مقررہ مدت کے اندر واپس اپنے ملک آ جاتے ہیں، لیکن کچھ افراد امریکہ پہنچنے کے بعد سیاسی پناہ (Asylum) کی درخواست دے دیتے ہیں۔ اس کے بعد کئی برس تک ان کے لیے اپنے ملک واپس جانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اگر وہ درخواست کے دوران اپنے ملک واپس جائیں تو ان کی درخواست متاثر ہو سکتی ہے۔ اس عرصے میں وہ عموماً کسی دوسرے ملک کا سفر بھی نہیں کر سکتے۔

    سیاسی پناہ کا قانون بہت پیچیدہ ہے اور یہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور امریکی قوانین پر مبنی ہے۔

    امریکہ میں سیاسی پناہ کا قانونی نظام

    امریکہ میں سیاسی پناہ کے قوانین 1951ء کے اقوام متحدہ کے مہاجر کنونشن، 1967ء کے پروٹوکول اور امریکی Refugee Act 1980 پر مبنی ہیں۔

    اس قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی جان یا آزادی کو اپنے ملک میں خطرہ ہو تو اسے زبردستی واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔

    سیاسی پناہ کن بنیادوں پر مل سکتی ہے؟

    امریکی قانون کے مطابق درخواست گزار کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اسے درج ذیل میں سے کسی ایک یا زیادہ وجوہات کی بنا پر ظلم یا خطرے کا سامنا ہے۔

    سیاسی نظریات یا سیاسی سرگرمی

    نسل

    مذہب

    قومیت

    کسی مخصوص سماجی گروہ سے تعلق، جیسے جنسی شناخت (LGBTQ+)، گھریلو تشدد کا شکار خواتین یا کسی خاص خاندان کے افراد

    صرف غربت، بے روزگاری یا خراب امن و امان سیاسی پناہ کے لیے کافی وجہ نہیں سمجھے جاتے۔

    کن دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے؟

    سیاسی پناہ کی درخواست کے ساتھ عام طور پر درج ذیل دستاویزات جمع کرائی جاتی ہیں۔

    فارم I-589

    پاسپورٹ یا شناختی دستاویزات

    تفصیلی ذاتی بیان

    ایف آئی آر یا عدالتی ریکارڈ (اگر موجود ہو)

    میڈیکل رپورٹس

    اخباری تراشے یا خبروں کے لنک

    دھمکی آمیز خطوط، پیغامات یا سوشل میڈیا کے اسکرین شاٹس

    سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں یا معتبر افراد کے تصدیقی خطوط

    اقوام متحدہ، امریکی محکمہ خارجہ یا ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹس، جو متعلقہ ملک کی صورتحال بیان کرتی ہوں۔

    درخواست کا طریقہ

    اگر کسی شخص پر ملک بدری کا مقدمہ نہ ہو تو وہ امریکہ پہنچنے کے ایک سال کے اندر USCIS میں درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے بعد بائیومیٹرک مرحلہ ہوتا ہے اور پھر اسائلم افسر انٹرویو لیتا ہے۔

    اگر کسی شخص کو ملک بدر کیا جا رہا ہو یا وہ غیر قانونی طور پر داخل ہوا ہو تو اس کا مقدمہ امیگریشن عدالت میں چلتا ہے، جہاں امیگریشن جج فیصلہ کرتا ہے۔

    درخواست کے بعد کیا حیثیت ہوتی ہے؟

    درخواست جمع ہونے کے بعد درخواست گزار کو Asylum Seeker یعنی سیاسی پناہ کا امیدوار سمجھا جاتا ہے۔ جب تک مقدمہ زیر سماعت ہو، وہ امریکہ میں قانونی طور پر رہ سکتا ہے، بشرطیکہ وہ کسی سنگین جرم میں ملوث نہ ہو۔

    اس دوران وہ اپنے ملک واپس نہیں جا سکتا، کیونکہ ایسا کرنے سے اس کی درخواست مسترد سمجھی جا سکتی ہے۔

    کیا سیاسی پناہ کا درخواست گزار کام کر سکتا ہے؟

    جی ہاں، لیکن فوراً نہیں۔

    درخواست جمع ہونے کے 150 دن بعد وہ Employment Authorization Document (EAD) کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ عام طور پر تقریباً 180 دن بعد اسے ورک پرمٹ مل سکتا ہے۔

    ورک پرمٹ ملنے کے بعد اسے سوشل سکیورٹی نمبر جاری کیا جاتا ہے، جس کے بعد وہ امریکہ میں قانونی طور پر ملازمت یا کاروبار کر سکتا ہے۔

    فیصلہ آنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

    قانون کے مطابق کوشش کی جاتی ہے کہ نئے مقدمات کا انٹرویو 45 دن اور فیصلہ 180 دن میں ہو جائے، لیکن مقدمات کی بڑی تعداد کی وجہ سے عملی طور پر 2 سے 5 سال یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

    اگر درخواست منظور ہو جائے

    اگر سیاسی پناہ مل جائے تو درخواست گزار کو Asylee کا درجہ ملتا ہے۔

    اس کے بعد وہ:

    امریکہ میں مستقل طور پر رہ اور کام کر سکتا ہے۔

    اپنی بیوی یا شوہر اور 21 سال سے کم عمر غیر شادی شدہ بچوں کو امریکہ بلانے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

    ایک سال بعد گرین کارڈ کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

    سفری دستاویز حاصل کر سکتا ہے۔

    گرین کارڈ ملنے کے پانچ سال بعد امریکی شہریت کے لیے اہل ہو جاتا ہے۔

    اگر درخواست مسترد ہو جائے

    اگر درخواست مسترد ہو جائے تو کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔

    اگر مقدمہ ابتدائی مرحلے میں مسترد ہو تو اسے امیگریشن عدالت بھیجا جا سکتا ہے، جہاں درخواست گزار کو دوبارہ اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملتا ہے۔

    اگر امیگریشن جج بھی درخواست مسترد کر دے تو پہلے Board of Immigration Appeals (BIA) اور پھر وفاقی عدالت میں اپیل کی جا سکتی ہے۔

    اگر تمام اپیلیں بھی مسترد ہو جائیں تو عدالت ملک بدری کا حکم جاری کر سکتی ہے۔ اس صورت میں متعلقہ شخص کو واپس بھیجا جا سکتا ہے اور کئی سال تک امریکہ میں داخلے پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔

    اگر ثابت ہو جائے کہ درخواست میں جھوٹے یا جعلی ثبوت پیش کیے گئے تھے تو متعلقہ شخص کو مستقبل میں امریکی امیگریشن کے تقریباً تمام فوائد سے مستقل طور پر محروم کیا جا سکتا ہے۔

    نتیجہ

    امریکہ میں سیاسی پناہ کا نظام ان افراد کے لیے بنایا گیا ہے جو واقعی ظلم، جبر یا جان کے خطرے کا سامنا کر رہے ہوں۔ تاہم اس کے لیے مضبوط قانونی بنیاد اور قابلِ اعتماد ثبوت ضروری ہوتے ہیں۔

    جن لوگوں کو امریکہ میں سیاسی پناہ ملی، ان میں سے اکثر نے وہاں سخت محنت کی۔ کسی نے ٹیکسی چلائی، کسی نے ریسٹورنٹ، سپر مارکیٹ، پیٹرول پمپ، ہوٹل یا دوسرے اداروں میں کام کیا۔

    مسلسل محنت کے بعد ان میں سے بہت سے لوگ آج اپنے خاندانوں کے ساتھ بہتر زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو گرین کارڈ یا شہریت حاصل کرنے کے باوجود معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

  • ایران جنگ میں امن کردار، کیا پاکستان کو معاشی فائدہ بھی ملے گا؟

    ایران جنگ میں امن کردار، کیا پاکستان کو معاشی فائدہ بھی ملے گا؟

    ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور امن معاہدے میں کردار کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سفارتی کامیابی پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے بھی کسی بڑے معاشی فائدے میں تبدیل ہو سکے گی یا نہیں۔

    بین الاقوامی خبررساں ادارے رائٹرز کے صحافی عریبہ شاہد اور سعد سعید کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی اہم بات چیت میں بھی حصہ لیا۔ عالمی رہنماؤں نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کردار نے نہ صرف جنگ بندی میں مدد دی بلکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی عالمی ترسیل میں ممکنہ بڑے بحران کو بھی ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس سفارتی کامیابی کے نتیجے میں عالمی سطح پر بہتر ساکھ حاصل ہوئی ہے۔ اگر حکومت اس موقع سے درست انداز میں فائدہ اٹھائے تو غیر ملکی سرمایہ کاری، تجارت، برآمدات اور علاقائی اقتصادی تعاون میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کے وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو ملک اپنے اندر استحکام پیدا کرتا ہے اور دنیا میں امن کے قیام میں کردار ادا کرتا ہے، وہ سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت آئندہ مالی سال کے لیے چار فیصد معاشی ترقی کا ہدف رکھے ہوئے ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں استحکام آنے سے تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان ایران، خلیجی ممالک اور ترکی کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ بلوچستان کی سرحدی تجارت کو وسعت دینے، توانائی، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ اگر ان شعبوں میں پیش رفت ہوتی ہے تو اس سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

    تاہم متعدد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف کامیاب سفارت کاری پاکستان کے معاشی مسائل حل نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق ملک کو اب بھی کمزور برآمدات، محدود ٹیکس نیٹ، بیرونی قرضوں، مالی خسارے اور بار بار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے امداد لینے جیسے بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ جب تک ان مسائل پر سنجیدگی سے قابو نہیں پایا جاتا، اس وقت تک سفارتی کامیابیوں کے معاشی فوائد محدود رہ سکتے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق بعض مغربی سفارت کاروں نے بھی اشارہ دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون بڑھانے میں دلچسپی موجود ہے۔ تاہم ابھی تک کسی بڑے مالی پیکیج یا غیر معمولی سرمایہ کاری کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنی بہتر ہوتی ہوئی عالمی ساکھ کو معاشی اصلاحات کے ساتھ جوڑ دے تو وہ طویل مدت میں نمایاں فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے لیے کاروباری ماحول کو بہتر بنانا، سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنا، برآمدات میں اضافہ کرنا اور پائیدار معاشی پالیسی اختیار کرنا ضروری ہوگا۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران پاکستان کو توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا سامنا رہا۔ جنگ بندی کے بعد ان خطرات میں کمی آئی ہے، جس سے پاکستان سمیت پورے خطے میں معاشی سرگرمیوں کے بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ وہ اپنی سفارتی کامیابی کو معاشی پالیسی میں تبدیل کرے۔ اگر حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنے، برآمدات بڑھانے، ٹیکس اصلاحات نافذ کرنے اور کاروباری ماحول بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو حالیہ سفارتی کردار مستقبل میں معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

    رائٹرز کے صحافی عریبہ شاہد اور سعد سعید اپنی رپورٹ کے اختتام پر لکھتے ہیں کہ پاکستان کے پاس اس وقت ایک نادر موقع موجود ہے۔ دنیا میں امن کے لیے ادا کیا گیا کردار ملک کی عالمی ساکھ بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوا ہے، لیکن اس کامیابی کو دیرپا معاشی فائدے میں تبدیل کرنے کے لیے مضبوط معاشی اصلاحات، پالیسیوں کا تسلسل اور مؤثر حکومتی اقدامات ناگزیر ہوں گے۔

  • گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی فورڈ کو مصنوعی ذہانت کے بجائے انجینئر دوبارہ بھرتی کیوں کرنا پڑے؟

    گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی فورڈ کو مصنوعی ذہانت کے بجائے انجینئر دوبارہ بھرتی کیوں کرنا پڑے؟

    امریکہ کی معروف گاڑیاں بنانے والی کمپنی فورڈ نے اعتراف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے کا فیصلہ کمپنی کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔ خودکار نظاموں سے مطلوبہ معیار حاصل نہ ہونے اور اربوں ڈالر کے نقصانات کے بعد کمپنی کو سینکڑوں تجربہ کار انجینئر دوبارہ ملازمت پر رکھنا پڑے، جس کے بعد گاڑیوں کے معیار میں نمایاں بہتری آئی۔

    فورڈ کے اعلیٰ حکام کے مطابق کمپنی نے گزشتہ تین برسوں کے دوران 350 سے زائد سینئر اور تجربہ کار انجینئرز کو دوبارہ بھرتی کیا۔ کمپنی کے اندر انہیں غیر رسمی طور پر ‘گرے بیئرڈز’ یعنی سفید داڑھی والے ماہرین کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کے پاس کئی دہائیوں کا عملی تجربہ موجود ہے۔ ان انجینئرز کو دوبارہ اس لیے لایا گیا تاکہ وہ ان خامیوں کی نشاندہی کر سکیں جو مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار نظام بروقت پکڑنے میں ناکام رہے تھے۔

    فورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر کمار گلہوترا نے برطانوی نشریاتی ادارے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ کمپنی معیار کی جانچ کے لیے مسلسل خودکار نظاموں پر انحصار بڑھا رہی تھی، لیکن اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ ان کے مطابق کمپنی نے دوبارہ تکنیکی ماہرین کو شامل کیا جو پیداواری عمل شروع ہونے سے پہلے ہی پرزوں اور ڈیزائن میں موجود ممکنہ خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    کمپنی نے گزشتہ چند برسوں میں فیکٹریوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی معائنہ اور جانچ کے نظام متعارف کرائے تھے تاکہ پیداوار تیز ہو اور معیار بھی بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ پیچیدہ انجینئرنگ مسائل میں مصنوعی ذہانت انسانی تجربے اور فیصلے کا مکمل متبادل ثابت نہیں ہو سکی۔ کئی ایسے نقائص سامنے آئے جنہیں صرف برسوں کے تجربے کے حامل انجینئر ہی سمجھ سکتے تھے۔

    فورڈ کے نائب صدر برائے وہیکل ہارڈویئر انجینئرنگ چارلس پون نے اعتراف کیا کہ کمپنی نے یہ سمجھ لیا تھا کہ صرف مصنوعی ذہانت متعارف کرا دینے اور اس میں ڈیزائن سے متعلق معلومات شامل کرنے سے خود بخود اعلیٰ معیار کی گاڑیاں تیار ہونے لگیں گی۔ لیکن بعد میں احساس ہوا کہ مصنوعی ذہانت کی کامیابی کا انحصار بھی اسی معلومات پر ہوتا ہے جو اسے تربیت کے دوران فراہم کی جاتی ہے۔ اگر تجربہ کار انجینئرز کی مہارت اور برسوں کا عملی علم نظام میں منتقل نہ کیا جائے تو مصنوعی ذہانت بہترین نتائج نہیں دے سکتی۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں کمپنی نے اپنے ان انجینئرز کے تجربے کو وہ اہمیت نہیں دی جو کئی مختلف ماڈلز اور منصوبوں پر کام کر چکے تھے۔ ان کے جانے کے بعد ان کا ادارہ جاتی علم بھی ضائع ہو گیا، جس کے باعث مصنوعی ذہانت کو تربیت دینے والے نظام کمزور معلومات پر انحصار کرتے رہے اور ڈیزائن کی خامیوں کو بروقت پکڑنے میں ناکام رہے۔

    کمپنی کے مطابق دوبارہ بھرتی کیے گئے انجینئرز کو صرف معیار بہتر بنانے کی ذمہ داری نہیں دی گئی بلکہ انہیں نوجوان انجینئرز کی تربیت، مصنوعی ذہانت کے لیے بہتر ڈیٹا تیار کرنے اور خودکار نظاموں کو مزید مؤثر بنانے کا کام بھی سونپا گیا۔

    اس کے ساتھ ساتھ فورڈ نے 40 ماہرین پر مشتمل ایک الگ سافٹ ویئر کوالٹی ایشورنس ٹیم بھی قائم کی ہے، جبکہ ایک لاکھ سے زائد نئے خودکار اے آئی ٹیسٹ بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ سافٹ ویئر اور ڈیزائن میں موجود باریک خامیوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

    ان اقدامات کے بعد کمپنی کے معیار میں نمایاں بہتری آئی۔ جے ڈی پاور کی 2026 کی ابتدائی معیار کی سالانہ رپورٹ میں فورڈ کو عام صارفین کے لیے گاڑیاں بنانے والے برانڈز میں پہلی پوزیشن حاصل ہوئی۔ یہ گزشتہ 16 برسوں میں پہلی مرتبہ ہے کہ فورڈ اس درجہ بندی میں سرفہرست آیا ہے۔ اس سروے میں نئی گاڑی خریدنے والے صارفین سے پہلے 90 دن کے دوران پیش آنے والے مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق فورڈ نے ہر 100 گاڑیوں پر 152 مسائل کا ریکارڈ بنایا، جو دیگر بڑے برانڈز کے مقابلے میں بہتر رہا۔ کمپنی کے مقبول ماڈلز ایف 150، مسٹینگ اور سپر ڈیوٹی مسلسل دوسرے سال بھی اپنے اپنے شعبوں میں بہترین قرار پائے۔

    تاہم کمپنی کے لیے تمام مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ فورڈ اب بھی امریکہ میں سب سے زیادہ گاڑیاں واپس بلانے والی کمپنی ہے۔ صرف 2026 کے دوران کمپنی نے 51 مرتبہ مختلف ماڈلز واپس منگوائے، جن کی تعداد ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ بنتی ہے۔ کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مسائل پرانے پیداواری فیصلوں اور سابقہ خودکار نظاموں سے متعلق تھے، نہ کہ حالیہ اصلاحات سے۔

    گزشتہ چند برسوں میں فورڈ نے اپنے ملازمین کی تعداد میں بھی نمایاں کمی کی تھی۔ 2020 کے بعد کمپنی تقریباً پانچ ہزار 300 تنخواہ دار ملازمتیں ختم کر چکی ہے، جبکہ امریکی آٹو صنعت میں مجموعی طور پر 20 ہزار سے زیادہ دفتری ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔

    فورڈ کے چیف ایگزیکٹو جم فارلے نے یہ بھی کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں امریکہ میں دفتری ملازمتوں کے تقریباً نصف حصے کو متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم اب کمپنی کا حالیہ تجربہ اس خیال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے کیونکہ صرف مصنوعی ذہانت پر انحصار مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ فورڈ کا تجربہ ان کمپنیوں کے لیے اہم سبق ہے جو انسانی مہارت کو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگرچہ اے آئی رفتار، تجزیے اور خودکار عمل میں نمایاں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن انسانی تجربہ، عملی مشاہدہ اور پیچیدہ حالات میں فیصلہ سازی اب بھی ایسی صلاحیتیں ہیں جنہیں مکمل طور پر مشینوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

    ادھر امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ملازمین کی تربیت کا مسئلہ بھی اہم بنتا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں اوپن اے آئی، اینتھروپک، ایمیزون اور مائیکروسافٹ سمیت کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے امریکی کارکنوں کو اے آئی کے دور کے مطابق نئی مہارتیں سکھانے کے لیے 50 کروڑ ڈالر کے ایک غیر منافع بخش منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    تاہم فورڈ کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف نئی تربیت ہی کافی نہیں، بلکہ اداروں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کن تجربہ کار ملازمین کی مہارت کسی بھی قیمت پر ضائع نہیں ہونی چاہیے۔

    فورڈ نے واضح کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کا استعمال بند نہیں کرے گی، بلکہ آئندہ اسے انسانی نگرانی اور تجربے کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے گا۔ کمپنی کے مطابق جدید ٹیکنالوجی ایک مؤثر ذریعہ ضرور ہے، لیکن بہترین نتائج اسی وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب مشینوں کی رفتار اور انسانوں کے تجربے کو ایک ساتھ استعمال کیا جائے۔