Tag: امریکہ

  • امریکہ نے جبری مشقت روکنے میں ناکامی پر پاکستان سمیت 60 ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد نئے ٹیرف نافذ کر دیے

    امریکہ نے جبری مشقت روکنے میں ناکامی پر پاکستان سمیت 60 ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد نئے ٹیرف نافذ کر دیے

    گذشتہ ہفتے یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کی شرائط پر مکمل عمل درآمد نہ کرنے پر تنقید کے بعد اب امریکہ نے بھی ’جبری مشقت‘ روکنے میں ناکامی پر پاکستان سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد تک نئے ٹیرف نافذ کر دیے ہیں، جن کا اطلاق آج سے ہو گیا ہے۔

    متاثرہ ممالک میں بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، برطانیہ، چین، یورپی یونین، کینیڈا اور جاپان بھی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جس پر نئے امریکی ٹیرف منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

    پاکستان میں ماضی میں بھی مزدوروں کے حقوق، بچوں سے مشقت اور جبری مزدوری کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور لیبر قوانین پر عمل درآمد کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اب بھی ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔

    پاکستانی تاجروں کے نمائندے اور ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے صدر مجید عزیز نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر جبری مشقت ی نئی شق کو ٹیرف عائد کرنے کی وجہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف تجارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری، سفارتی تعلقات اور سیاحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

    جبری مشقت کے الزامات کی بنیاد پر جاری کیا گیا صدارتی حکم نامہ عدالتوں یا دوطرفہ مذاکرات میں زیادہ دیر برقرار رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست میں یورپی ممالک کو بھی ان ممالک کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے جہاں آمرانہ حکومتیں ہیں یا جمہوری نظام موجود نہیں۔ حالانکہ کئی یورپی ممالک نے قوانین سازی، بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے کنونشنز کی توثیق اور سخت نگرانی کے ذریعے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔

    پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے جبری مشقت کے خاتمے یا اس میں نمایاں کمی لانے کے لیے سنجیدہ اور فوری اقدامات کیے ہیں۔

    مثبت پہلو صرف یہ ہے کہ اگر پاکستان، ٹرمپ انتظامیہ کی نظر میں ایک قابل اعتماد شراکت دار سمجھا جاتا ہے تو ممکن ہے اس پر اضافی ٹیرف عائد نہ کیا جائے، یا پھر صرف علامتی نوعیت کا معمولی ٹیرف لگایا جائے۔

    ای ایف پی کا مؤقف ہے کہ جبری مشقت نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ پائیدار کاروباری ترقی، منصفانہ مسابقت اور معاشی ترقی کی راہ میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جبری مشقت کا خاتمہ حکومتوں، آجروں، مزدوروں اور آجر تنظیموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

    امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق نئے ٹیرف ان تمام ممالک پر لاگو ہوں گے جن سے امریکہ بڑی مقدار میں اشیا درآمد کرتا ہے۔ ان 60 ممالک سے ہونے والی درآمدات امریکہ کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 99.4 فیصد بنتی ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد کیا گیا ہے۔ ان تحقیقات میں الزام لگایا گیا تھا کہ مختلف ممالک میں جبری مشقت کے ذریعے تیار ہونے والی اشیا امریکہ برآمد کی جا رہی ہیں اور متعلقہ حکومتیں اس مسئلے کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہیں۔

    امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرف 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوں گے۔ پاکستان 10 فیصد ٹیرف والے ممالک میں شامل ہے، کیونکہ انہوں نے مبینہ جبری مشقت کے خاتمے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ان اقدامات سے مطمئن نہیں اور اس مسئلے پر نظر رکھے گا۔

    یہ نئے ٹیرف ایسے وقت میں نافذ کیے گئے ہیں جب اس سال کے آغاز میں صدر ٹرمپ کی جانب سے تقریباً تمام درآمدات پر عائد کیا گیا 10 فیصد عمومی ٹیرف امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔ اس فیصلے کے بعد امریکی انتظامیہ نے ایک مختلف قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے نئے ٹیرف نافذ کیے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کے سینئر حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اپنی تجارتی پالیسی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے دستیاب ہر قانونی اختیار استعمال کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ایک قانونی اختیار پر عدالت پابندی عائد کر دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت اپنی تجارتی حکمت عملی ترک کر دے گی۔

    امریکی انتظامیہ نے ان ٹیرف کے نفاذ کے لیے ٹریڈ ایکٹ 1974ء کی شق 301 کا سہارا لیا ہے۔ تجارتی ماہرین کے مطابق اس قانون کے تحت لگائے جانے والے ٹیرف عدالتوں میں زیادہ مضبوط قانونی حیثیت رکھتے ہیں اور ماضی میں بھی ایسے اقدامات عدالتی چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود برقرار رہے ہیں۔

    امریکہ نے واضح کیا ہے کہ تمام درآمدات پر یہ ٹیرف لاگو نہیں ہوں گے۔ خام تیل، قدرتی گیس اور بعض ایسی مصنوعات جن کی مقامی سطح پر دستیابی ممکن نہیں، انہیں اس اقدام سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے تاکہ امریکی معیشت اور صنعت کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرف کو اسی وقت نافذ کیا گیا جب پہلے سے موجود 10 فیصد عمومی ٹیرف کی مدت ختم ہوئی، تاکہ درآمد کنندگان کو ایک ہی وقت میں مختلف اقسام کے ٹیرف کا سامنا نہ کرنا پڑے اور کاروباری اداروں کے لیے نظام نسبتاً آسان رہے۔

    حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کاروباری حلقے بار بار ٹیرف کی شرحوں میں تبدیلی سے پریشان تھے۔ اس لیے اب حکومت نے نسبتاً واضح اور مستقل نظام متعارف کرانے کی کوشش کی ہے تاکہ درآمد کنندگان کو پہلے سے معلوم ہو کہ انہیں کس شرح سے ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔

    ادھر یورپی یونین نے امریکی اقدام پر سخت ردعمل دیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس نے ان ٹیرف کو "منفی حیرت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جبری مشقت سے متعلق امریکی الزامات بے بنیاد ہیں۔

    سوئٹزرلینڈ نے بھی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امریکی فیصلے کی مخالفت کی ہے، جبکہ ناروے نے کہا ہے کہ وہ جواب میں امریکی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

    برازیل نے بھی اپنے سامان پر 12.5 فیصد ٹیرف مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی تعلقات باہمی برابری کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔ دوسری جانب میکسیکو کے وزیر اقتصادیات نے کہا ہے کہ ان کے ملک پر مؤثر ٹیرف کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    آسٹریلیا، جس پر بھی 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے، نے امریکی فیصلے کو مکمل طور پر غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ آسٹریلوی وزیر تجارت ڈان فیرل نے کہا کہ ان کی حکومت امریکہ سے مسلسل رابطے میں رہے گی تاکہ آسٹریلوی مصنوعات پر عائد تمام ٹیرف ختم کرائے جا سکیں۔

    امریکی انتظامیہ اس کے علاوہ بھی مزید تجارتی تحقیقات کر رہی ہے۔ ان میں ایک تحقیق چین، میکسیکو اور یورپی یونین سمیت بڑے تجارتی شراکت داروں پر عالمی سطح پر صنعتی پیداوار کی ضرورت سے زیادہ صلاحیت پیدا کرنے کے الزامات سے متعلق ہے۔

    اسی ہفتے وائٹ ہاؤس نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ آئندہ ماہ سے کینیڈا کی بعض مصنوعات پر 50 فیصد تک نیا ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔ یہ اقدام ایک ایسے امریکی قانون کے تحت کیا جا رہا ہے جسے اس سے پہلے کبھی استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی حکومت تجارتی پالیسی کو مزید سخت بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں دیگر ممالک پر بھی نئے تجارتی اقدامات متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ پاکستان سمیت متاثرہ ممالک کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ یہ نئے امریکی ٹیرف ان کی برآمدات اور امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔

  • چین کی امریکہ کو للکار، شی جن پنگ نے نیا عالمی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا نظام بنانے کا اعلان کردیا

    چین کی امریکہ کو للکار، شی جن پنگ نے نیا عالمی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا نظام بنانے کا اعلان کردیا

    چین کے صدر شی جن پنگ نے خود کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نئے عالمی نظام کا حامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اس شعبے میں کھلے تعاون اور اوپن سورس ٹیکنالوجی کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

    انہوں نے یہ بات جمعہ کے روز شنگھائی میں ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس (WAIC) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ تیزی سے ترقی کرنے والے اس شعبے کے قواعد و ضوابط پر صرف ایک ملک کا اثر و رسوخ نہیں ہونا چاہیے۔

    شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اوپن سورس مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے ’تاریخی موقع‘ سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ چین ترقی پذیر ممالک کو مصنوعی ذہانت کی صلاحیت بڑھانے میں مدد فراہم کرے گا۔

    اسی مقصد کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں ہزاروں افراد کو اے آئی کی تربیت فراہم کی جائے گی، جبکہ افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ، برکس اور دیگر علاقائی تنظیموں کے ساتھ مشترکہ تعاون کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر جدید ٹیکنالوجی تک رسائی صرف چند ممالک تک محدود رہی تو اس سے دنیا میں ’تاریخی ناانصافیاں‘ جنم لے سکتی ہیں۔

    شی جن پنگ کے اس خطاب کو اب تک مصنوعی ذہانت کے عالمی نظام کے بارے میں چین کے سب سے واضح مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے اوپن سورس اے آئی ماڈلز پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہونے چاہییں۔ اس طرح چین نے خود کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکہ کے متبادل عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، ایسے وقت میں جب جدید ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ تیزی سے جاری ہے۔

    شی جن پنگ نے مصنوعی ذہانت کی اہمیت کو بھاپ کے انجن اور بجلی کی ایجاد سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی دنیا میں ایک بڑا انقلاب لا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین گلوبل ساؤتھ، یعنی ترقی پذیر ممالک، کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی، مہارت اور تجربہ شیئر کرنا چاہتا ہے۔

    اس کے ساتھ ہی چین اس نئی ٹیکنالوجی کے لیے عالمی اصول اور ضابطے بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

    امریکی پیکس سلیکا کا متبادل

    اپنی تقریر میں شی جن پنگ نے چین کے مجوزہ عالمی اے آئی اتحاد کو ایک ایسے متبادل کے طور پر پیش کیا جو امریکہ کی قیادت میں قائم کیے گئے ’پیکس سلیکا‘ نامی بین الاقوامی اقدام کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اس امریکی اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت اور اہم معدنی وسائل کی عالمی سپلائی چین کو محفوظ بنانا ہے، تاہم شی جن پنگ نے اپنی تقریر میں امریکہ کا نام براہِ راست نہیں لیا۔

    چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ حالیہ عرصے میں بار بار یہ مؤقف پیش کر رہے ہیں کہ بیجنگ کی مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی دراصل اس کوشش کا جواب ہے جسے چین، امریکہ کی قیادت میں قائم کیے جانے والے ’اے آئی آئرن کرٹن‘ یعنی مصنوعی ذہانت کی ایک نئی دیوار قرار دیتا ہے۔

    جمعرات کو چینی سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی سے وابستہ معروف سوشل میڈیا اکاؤنٹ یو یوان تان تیان نے ایک تبصرے میں کہا کہ چین ایک نیا عالمی نظام قائم کرنا چاہتا ہے، جہاں تمام ممالک اور پوری انسانیت مل کر اوپن سورس مصنوعی ذہانت کا ایسا نظام تشکیل دیں جس میں سب کی شمولیت ہو اور ہر ملک کو برابر کے مواقع حاصل ہوں۔

    شنگھائی میں ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس نے بھی یہ ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ چینی کمپنیوں کے اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور وہ امریکہ کی کمپنیوں، جیسے اوپن اے آئی اور انتھروپک کے محدود رسائی والے ماڈلز کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

    نئی چینی چینی ماڈلز اور مصنوعات

    اسی دوران بیجنگ کی نئی ٹیکنالوجی کمپنی مون شاٹ اے آئی نے جمعہ کو اپنا نیا اے آئی ماڈل کیمی کے تھری (Kimi K3) متعارف کرایا۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ پیرامیٹرز کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اوپن اے آئی ماڈل ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک ماہ قبل امریکی حکومت نے سکیورٹی خدشات کے باعث انتھروپک کے جدید ترین اے آئی ماڈلز کی دستیابی اچانک محدود کر دی تھی۔

    ماہرین کے مطابق چین اس وقت مصنوعی ذہانت کو اپنی صنعتی اور معاشی حکمت عملی کا اہم ستون بنا چکا ہے۔ حکومت کئی برسوں سے جدید چپس، ڈیٹا سینٹرز، سافٹ ویئر، روبوٹکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ اس شعبے میں بیرونی انحصار کم کیا جا سکے۔

    کانفرنس میں چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی اپنی نئی مصنوعات پیش کیں۔ ہواوے نے اپنا جدید اٹلس 950 سپر پوڈ اے آئی کمپیوٹنگ نظام متعارف کرایا، جسے امریکہ کی جدید ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کی کوشش کا اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کئی چینی کمپنیوں نے نئے اوپن سورس اے آئی ماڈلز بھی پیش کیے، جن کا مقصد عالمی منڈی میں امریکی کمپنیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔

    دوسری جانب امریکہ اور یورپی ممالک نے حالیہ برسوں میں قومی سلامتی کے خدشات کے باعث چین کو جدید سیمی کنڈکٹر چپس اور بعض حساس ٹیکنالوجیز کی برآمد پر مختلف پابندیاں عائد کی ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کا استعمال فوجی مقاصد کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے، جبکہ بیجنگ ان پابندیوں کو اپنی تکنیکی ترقی روکنے کی کوشش قرار دیتا ہے۔

    اسی پس منظر میں چین نے ایک نئی بین الاقوامی تنظیم ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس تنظیم کے بانی ارکان میں پاکستان سمیت 29 ممالک شامل ہیں۔ تنظیم کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون، مشترکہ اصولوں کی تشکیل اور محفوظ استعمال کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔ اس کا مرکزی دفتر شنگھائی میں قائم کیا جائے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی قیادت کے لیے امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے مقابلے کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق بیجنگ صرف جدید ٹیکنالوجی تیار کرنے پر ہی توجہ نہیں دے رہا بلکہ وہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے عالمی قوانین اور معیار طے کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

    مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے استعمال نے دنیا بھر میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مناسب قوانین اور نگرانی کا نظام نہ بنایا گیا تو یہ ٹیکنالوجی سائبر حملوں، غلط معلومات، جرائم اور فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ اسی لیے مختلف ممالک اس شعبے کے لیے عالمی ضابطے بنانے پر زور دے رہے ہیں، تاہم اس بارے میں اب تک عالمی اتفاق رائے سامنے نہیں آ سکا۔

    مختلف عالمی نظریات

    17 سے 20 جولائی تک ہونے والی اس کانفرنس کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور چین، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے دوران مصنوعی ذہانت پر اپنی پہلی سرکاری سطح کی بات چیت کی تیاری کر رہے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ہونے والے ایک اجلاس میں دونوں ممالک نے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اگر اس شعبے پر بہت زیادہ قوانین اور پابندیاں لگائی گئیں تو نئی ایجادات اور ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب چین نے اپنے کم لاگت والے اوپن سورس اے آئی ماڈلز کو فروغ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ترقی پذیر ممالک کو جدید ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی ملے گی اور عالمی سطح پر موجود فرق کم ہوگا۔

    امریکہ کی تجویز کردہ ’اے آئی اپرچیونٹی اسٹیٹمنٹ‘ کی حمایت اب تک 35 ممالک کر چکے ہیں، جبکہ چین کی قیادت میں قائم ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) میں 29 ممالک شامل ہوئے ہیں۔

    امریکی مؤقف سے واقف ایک ذریعے کے مطابق قازقستان واحد ایسا ملک ہے جو دونوں اقدامات کا حصہ بنا ہے۔ اس ذریعے کا کہنا تھا کہ دونوں فہرستوں میں کم مشترکہ ممالک ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے فریم ورک کی حمایت کرنے والے زیادہ تر ممالک نے چین کے متبادل منصوبے کی تائید نہیں کی۔

    ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس میں چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندوں کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف اور تھائی لینڈ کے وزیر اعظم انوتن چرن ویراکول بھی شریک ہیں۔

  • ایک جنگ، دو محاذ، امریکہ کے میزائل ختم، چین کے لیے کھلا موقع

    ایک جنگ، دو محاذ، امریکہ کے میزائل ختم، چین کے لیے کھلا موقع

    ایران کے ساتھ تیسری بار جنگ شروع ہونے کے باعث امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے کم ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ دفاعی ماہرین نے سی این این کو بتایا ہے کہ ہتھیاروں کی یہ کمی مستقبل میں چین یا شمالی کوریا کے ساتھ ممکنہ جنگ کی صورت میں امریکی فوج کی لڑنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

    واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف گزشتہ سات ہفتوں کی جنگ کے دوران امریکہ اپنے جدید ترین میزائلوں کا ایک بڑا حصہ استعمال کر چکا ہے۔ اس میں تقریباً 45 فیصد پریسیژن اسٹرائیک میزائل، نصف سے زیادہ تھاڈ میزائل، اور تقریباً 50 فیصد پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل شامل ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ پیسہ نہیں بلکہ وقت ہے۔ ان پیچیدہ ہتھیاروں کو دوبارہ تیار کرنے اور ذخائر کو مکمل کرنے میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔

    امریکی دفاعی ماہرین کو تشویش ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ایران کے ساتھ جنگ مزید طویل ہوئی تو امریکہ کے پاس چین کو بحرالکاہل خصوصاً تائیوان کے معاملے میں روکنے کے لیے ہتھیار کم پڑ سکتے ہیں۔

    واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے اپنی تازہ جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ واشنگٹن کے ہتھیاروں کی سپلائی کم ہو رہی ہے، لیکن ابھی وہ نازک سطح تک نہیں پہنچی۔

    فروری سے اب تک جاری جنگ میں امریکہ نے ایران کے 13,000 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے ہیں، جن میں بنیادی طور پر اپنے سات طاقتور میزائلوں اور دفاعی نظاموں کا استعمال کیا گیا۔ ان میں ٹوماہاک، جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائل، اسٹینڈرڈ میزائل تھری، اسٹینڈرڈ میزائل سکس، تھاڈ اور پیٹریاٹ شامل ہیں، جن میں سے امریکہ اپنے دستیاب ذخائر کا نصف سے زیادہ استعمال کر چکا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ان سے کم فاصلے تک مار کرنے والے ہزاروں ہتھیار ابھی بھی ذخیرے میں موجود ہیں، لیکن اب ان کے استعمال کا وقت بھی آتا دکھائی دے رہا ہے، اور اگر جنگ مزید ایک مہینہ جاری رہی تو وہ بھی ختم ہو سکتے ہیں۔

    امریکہ کے پاس سمندر سے زمین پر مار کرنے والے تقریباً 3,000 ٹوماہاک میزائل موجود تھے، جن میں سے ایران کے ساتھ جنگ میں تقریباً 1,000 استعمال ہو چکے ہیں۔

    جاسم کے تقریباً 4,000 میزائلوں میں سے 1,100 استعمال کیے جا چکے ہیں۔

    پی آر ایس ایم نئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہیں، جن کی سپلائی پہلے ہی محدود تھی۔ 2023 سے اب تک ان میں سے صرف 90 میزائل امریکی دفاعی ادارے کو فراہم کیے گئے، جبکہ جنگ میں ان میں سے 40 سے 70 استعمال ہو چکے ہیں۔ ایک امریکی فوجی رہنما کے مطابق اس جنگ میں ان کی تقریباً پوری دستیاب انوینٹری خرچ کر دی گئی ہے۔

    اسٹینڈرڈ میزائل تھری اس جنگ میں استعمال ہونے والا سب سے مہنگا ہتھیار ہے، جس کی فی یونٹ قیمت تقریباً 28 ملین ڈالر ہے۔ یہ بحری جہاز سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل انٹرسیپٹر ہے۔ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس اس کے تقریباً 410 میزائل تھے، جن میں سے اندازاً 130 سے 250 استعمال کیے جا چکے ہیں۔

    اسٹینڈرڈ میزائل سکس بھی بحری جہازوں سے داغے گئے۔ یہ میزائل بنیادی طور پر دشمن کے طیاروں، کروز میزائلوں اور بعض دیگر فضائی خطرات کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس اس کے تقریباً 1,160 میزائل موجود تھے، لیکن اندازوں کے مطابق ایران کی جنگ میں ان میں سے 190 سے 370 تک استعمال ہو چکے ہیں۔

    انتہائی مہنگے تھاڈ اینٹی بیلسٹک میزائل نظام کے اپریل تک امریکہ کے پاس تقریباً 360 انٹرسیپٹر موجود تھے، جن میں سے 190 سے 290 تک استعمال کیے جا چکے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھاڈ کی آٹھ بیٹریاں جن میں لانچر، انٹرسیپٹر اور ریڈار نظام شامل ہوتے ہیں، کے ذخائر بھی نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں۔

    پیٹریاٹ میزائلوں کے بارے میں اندازہ ہے کہ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس تقریباً 2,330 موجود تھے، جن میں سے 1,060 سے 1,430 کے درمیان استعمال کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ اس وقت پینٹاگون کے پاس تقریباً 400 پرانے پیٹریاٹ میزائل موجود ہیں، لیکن بتایا جاتا ہے کہ وہ اس جنگ میں استعمال کے قابل نہیں ہیں۔

    عالمی دفاعی مبصرین نے ٹرمپ انتظامیہ کی تیز اور جارحانہ حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطی میں ایران کے خلاف جنگ کو تیز کر کے خود کو ایسے خطرے میں ڈال رہا ہے جیسے کوئی ویڈیو گیم کھیل رہا ہو، جس سے ایشیا میں چین کو کھلا میدان مل سکتا ہے۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پینٹاگون کا یہ بیان کہ ہمارے پاس ہر چیز موجود ہے محض ایک سیاسی بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی دفاعی پیداواری صنعت اس وقت بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے سے قاصر ہے۔

    اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو جنگ کو طول دینے کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر جنگ جاری رہی تو امریکی اسلحہ ساز کارخانے دن رات کام کرنے کے باوجود بھی اتنے بڑے ذخائر جلد دوبارہ تیار نہیں کر سکیں گے۔

    واشنگٹن کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کے لیے زیادہ اہم محاذ کون سا ہے، مشرق وسطی میں ایران کے ساتھ مقابلہ یا بحرالکاہل کے خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنا۔ ماہرین کے مطابق امریکہ کے لیے بیک وقت دونوں محاذوں پر پوری طاقت کے ساتھ جنگ لڑنا اس کی استطاعت سے باہر ہو سکتا ہے۔

    الجزیرہ کے ایک پروگرام میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے رہنماؤں نے یہ تاثر دینا شروع کر دیا ہے کہ ان کے پاس لامحدود ہتھیار موجود ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر انتظامیہ نے امریکی دفاعی صنعت کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور انہیں میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کی پیداوار ہنگامی بنیادوں پر دن رات جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ ان کمپنیوں نے بھی اس کام کا آغاز تیز رفتار بنیادوں پر کر دیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے جون میں ہی ڈیفنس پروڈکشن ایکٹ پر دستخط کر دیے تھے۔ اگرچہ اسے کانگریس کی منظوری حاصل نہیں ہوئی، تاہم اسے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق دفاعی پیداوار بڑھانے کا یہ حکم اس بات کی علامت ہے کہ پینٹاگون کے اندر مستقبل کی سپلائی اور وقت کے حوالے سے سنجیدہ خدشات موجود ہیں۔

    ایک طرف امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف اس کے عرب اتحادی بھی واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے بھی امریکی دفاعی صنعت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، اس لیے انہیں بھی ان کے خریدے ہوئے تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل فراہم کیے جائیں۔

    تاہم واشنگٹن نے انہیں واضح طور پر بتایا ہے کہ یہ ذخائر خود امریکہ کے پاس بھی تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد روس کے خلاف جنگ کے دوران یوکرین کو فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ موجودہ جنگ کے باعث مزید میزائل فوری طور پر دستیاب نہیں۔

    پہلے سے موجود سپلائی آرڈرز بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ جاپان کے لیے 400 ٹوماہاک میزائلوں کی فراہمی، جو 2025 سے 2027 کے درمیان مکمل ہونی تھی، مقررہ وقت پر پوری نہ ہو سکی۔ اس پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مئی میں کہا تھا کہ اس آرڈر کی تکمیل میں مزید دو سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔

    اسی دوران سوئٹزرلینڈ نے جون میں فرانس، اسرائیل اور جنوبی کوریا سے میزائل دفاعی نظام خریدنے کے لیے بیک وقت مذاکرات شروع کیے، جبکہ جاپان کے لیے ریتھیون کا 2022 کا آرڈر بھی تاخیر کا شکار ہے۔

    وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے حال ہی میں کہا کہ اب نئے میزائل حاصل کرنے میں مہینے نہیں بلکہ سال لگ سکتے ہیں۔ اسی لیے امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں ایسی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جس میں میزائلوں پر کم انحصار ہو۔ ان کا اشارہ زمینی جنگ کی طرف تھا، جہاں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور عام فوجی نسبتاً کم قیمت ہتھیاروں کے ساتھ جنگ لڑ سکتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ اب بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ امریکی اسلحہ ساز کارخانے دن رات کام کر کے فوری طور پر نئے ذخائر فراہم کر دیں گے، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ کو طویل کر کے دراصل امریکہ کے جدید ہتھیاروں کے ذخائر کو ختم کرنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ اپنی مجوزہ 2027 کی 1.5 ٹریلین ڈالر کی دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ جدید ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ رقم 2026 کے دفاعی بجٹ سے تقریباً 44 فیصد زیادہ ہے۔

    سی ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے آئندہ سال کے لیے 785 ٹوماہاک میزائل طلب کیے تھے، لیکن ان میں سے صرف چند ہی فراہم ہو سکے۔ اسی طرح اس سال 821 جاسم میزائل درکار تھے، مگر وہ بھی تاحال مکمل طور پر فراہم نہیں کیے جا سکے۔

    پی آر ایس ایم کے 1,134 میزائل درکار تھے، لیکن اس سال صرف 70 فراہم کیے گئے۔

    اسٹینڈرڈ میزائل تھری کی ایک بڑی تعداد، جس کی درخواست کئی برس پہلے دی گئی تھی، اب تک فراہم نہیں ہو سکی۔ اسٹینڈرڈ میزائل سکس کے 540 میزائل طلب کیے گئے تھے، مگر صرف 125 موصول ہوئے۔ تھاڈ کے 857 انٹرسیپٹر میزائلوں کی درخواست کی گئی، لیکن اس سال صرف 92 فراہم کیے گئے۔

    اسی طرح پیٹریاٹ میزائلوں کے لیے 2027 تک 3,202 میزائلوں کی درخواست دی گئی، جبکہ اب تک صرف 172 فراہم کیے جا سکے ہیں۔

    دوسری جانب، اگرچہ اسرائیل کی دفاعی صنعت بہت ترقی یافتہ ہے، لیکن بیک وقت لبنان، یمن، غزہ اور ایران کے خلاف کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کی وجہ سے اس کے ہتھیاروں کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    اسرائیل کے مشہور دفاعی نظام آئرن ڈوم اور ایرو گزشتہ دو برس سے مسلسل استعمال ہو رہے ہیں۔ حزب اللہ اور حوثی طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرون مسلسل داغ رہے ہیں، جس کے باعث اسرائیل کو انہیں فضا میں تباہ کرنے کے لیے بڑی تعداد میں مہنگے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔

    غزہ اور لبنان میں وسیع پیمانے پر بمباری کی وجہ سے اسرائیل کو آرٹلری گولوں اور گائیڈڈ بموں کی بھی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا، جسے پورا کرنے کے لیے امریکہ نے ہنگامی بنیادوں پر اسرائیل کو فضائی راستے سے اسلحہ فراہم کیا۔

    دریں اثنا، امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک اراکین نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایران جنگ، اسرائیل کے لیے جنگی فنڈنگ اور دفاعی تعاون سے متعلق سالانہ بل کو 50 کے مقابلے میں 46 ووٹوں سے روک دیا۔

    سینیٹ کی نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کمیٹی میں چک شومر، کرس وان ہولن، برنی سینڈرز، الزبتھ وارن، ایڈ مارکی، جیف مرکلے اور پیٹر ویلچ سمیت کئی سینیٹرز نے مؤقف اختیار کیا کہ نیتن یاہو کی حکومت کو امریکی ٹیکس دہندگان کا مزید پیسہ دینا بند کیا جانا چاہیے۔

    اس کے علاوہ 14 شہری اور جنگ مخالف تنظیموں، جن میں امریکن سول لبرٹیز یونین، جے اسٹریٹ، کوڈ پنک اور دیگر خارجہ پالیسی سے متعلق تنظیمیں شامل ہیں، نے بھی سینیٹ سے اپیل کی کہ اس بل کی منظوری نہ دی جائے۔

    اب سوال یہ نہیں رہا کہ امریکہ جنگ جیت سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ بیک وقت دو محاذوں پر جنگ لڑنے کی اپنی صلاحیت کو کب تک برقرار رکھ سکتا ہے۔

    جب تک امریکہ کا دفاعی پیداواری نظام برسوں کے بجائے مہینوں کی رفتار سے جدید ہتھیار تیار کرنے کے قابل نہیں ہوتا، ایران کے ساتھ جاری جنگ صرف مشرق وسطی کا مسئلہ نہیں رہے گی، بلکہ بحرالکاہل میں امریکہ کی مستقبل کی عسکری طاقت اور چین کے مقابلے میں اس کی حکمت عملی کا بھی ایک بڑا امتحان بن سکتی ہے۔

  • امریکہ میں سیاسی پناہ کے ذریعے رہائش اور روزگار کیسے ملتا ہے؟

    امریکہ میں سیاسی پناہ کے ذریعے رہائش اور روزگار کیسے ملتا ہے؟

    سندھ میں رہنے والے بہت سے نوجوان سوشل میڈیا پر اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ فلاں کارکن، صحافی یا عام آدمی کے پاس نہ کوئی بڑی ڈگری تھی، نہ خاص ہنر اور نہ ہی زیادہ دولت تھی۔ وہ یہاں عام زندگی گزارتا تھا، لیکن آج امریکہ میں اچھی گاڑی، گھر اور خوشحال زندگی کیسے گزار رہا ہے؟

    کچھ لوگ انہیں غدار کہتے ہیں، کچھ انہیں ایجنسیوں کا آدمی قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے سندھ کا سودا کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی باتیں زیادہ تر لاعلمی، معلومات کی کمی اور اپنی ناکامیوں کو دوسروں پر ڈالنے کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

    امریکہ اور کینیڈا میں مستقل رہنے والے سندھی مختلف پس منظر رکھتے ہیں۔ کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر، انجینئر، بینکر، ماہرِ معیشت اور دوسرے پیشہ ور افراد ہیں۔ کچھ خوشحال کاروباری یا بڑے زمیندار خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

    کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس وقت امریکہ گئے جب ویزا حاصل کرنا نسبتاً آسان تھا اور وہاں محنت کرکے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوگئے۔ بعض افراد امریکہ کی ویزا لاٹری کے ذریعے بھی گئے تھے، لیکن کئی برسوں سے پاکستان اس پروگرام میں شامل نہیں ہے۔

    اب بات ان کارکنوں، صحافیوں اور عام لوگوں کی کرتے ہیں جو یہاں عام زندگی گزارتے تھے لیکن آج امریکہ میں بہتر حالات میں رہ رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پہلے وزٹ ویزا پر امریکہ گئے۔ امریکہ کا وزٹ ویزا حاصل کرنا خود ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔

    جب کوئی شخص امریکہ پہنچتا ہے تو ایئرپورٹ پر امیگریشن افسر اس سے آنے کی وجہ، قیام کی جگہ اور دیگر سوالات کرتے ہیں۔ اگرچہ اس کے پاس درست ویزا اور ٹکٹ ہو، پھر بھی امیگریشن افسر اسے واپس بھیج سکتے ہیں یا چند دنوں سے لے کر چھ ماہ تک قیام کی اجازت دے سکتے ہیں۔

    زیادہ تر لوگ مقررہ مدت کے اندر واپس اپنے ملک آ جاتے ہیں، لیکن کچھ افراد امریکہ پہنچنے کے بعد سیاسی پناہ (Asylum) کی درخواست دے دیتے ہیں۔ اس کے بعد کئی برس تک ان کے لیے اپنے ملک واپس جانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اگر وہ درخواست کے دوران اپنے ملک واپس جائیں تو ان کی درخواست متاثر ہو سکتی ہے۔ اس عرصے میں وہ عموماً کسی دوسرے ملک کا سفر بھی نہیں کر سکتے۔

    سیاسی پناہ کا قانون بہت پیچیدہ ہے اور یہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور امریکی قوانین پر مبنی ہے۔

    امریکہ میں سیاسی پناہ کا قانونی نظام

    امریکہ میں سیاسی پناہ کے قوانین 1951ء کے اقوام متحدہ کے مہاجر کنونشن، 1967ء کے پروٹوکول اور امریکی Refugee Act 1980 پر مبنی ہیں۔

    اس قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی جان یا آزادی کو اپنے ملک میں خطرہ ہو تو اسے زبردستی واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔

    سیاسی پناہ کن بنیادوں پر مل سکتی ہے؟

    امریکی قانون کے مطابق درخواست گزار کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اسے درج ذیل میں سے کسی ایک یا زیادہ وجوہات کی بنا پر ظلم یا خطرے کا سامنا ہے۔

    سیاسی نظریات یا سیاسی سرگرمی

    نسل

    مذہب

    قومیت

    کسی مخصوص سماجی گروہ سے تعلق، جیسے جنسی شناخت (LGBTQ+)، گھریلو تشدد کا شکار خواتین یا کسی خاص خاندان کے افراد

    صرف غربت، بے روزگاری یا خراب امن و امان سیاسی پناہ کے لیے کافی وجہ نہیں سمجھے جاتے۔

    کن دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے؟

    سیاسی پناہ کی درخواست کے ساتھ عام طور پر درج ذیل دستاویزات جمع کرائی جاتی ہیں۔

    فارم I-589

    پاسپورٹ یا شناختی دستاویزات

    تفصیلی ذاتی بیان

    ایف آئی آر یا عدالتی ریکارڈ (اگر موجود ہو)

    میڈیکل رپورٹس

    اخباری تراشے یا خبروں کے لنک

    دھمکی آمیز خطوط، پیغامات یا سوشل میڈیا کے اسکرین شاٹس

    سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں یا معتبر افراد کے تصدیقی خطوط

    اقوام متحدہ، امریکی محکمہ خارجہ یا ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹس، جو متعلقہ ملک کی صورتحال بیان کرتی ہوں۔

    درخواست کا طریقہ

    اگر کسی شخص پر ملک بدری کا مقدمہ نہ ہو تو وہ امریکہ پہنچنے کے ایک سال کے اندر USCIS میں درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے بعد بائیومیٹرک مرحلہ ہوتا ہے اور پھر اسائلم افسر انٹرویو لیتا ہے۔

    اگر کسی شخص کو ملک بدر کیا جا رہا ہو یا وہ غیر قانونی طور پر داخل ہوا ہو تو اس کا مقدمہ امیگریشن عدالت میں چلتا ہے، جہاں امیگریشن جج فیصلہ کرتا ہے۔

    درخواست کے بعد کیا حیثیت ہوتی ہے؟

    درخواست جمع ہونے کے بعد درخواست گزار کو Asylum Seeker یعنی سیاسی پناہ کا امیدوار سمجھا جاتا ہے۔ جب تک مقدمہ زیر سماعت ہو، وہ امریکہ میں قانونی طور پر رہ سکتا ہے، بشرطیکہ وہ کسی سنگین جرم میں ملوث نہ ہو۔

    اس دوران وہ اپنے ملک واپس نہیں جا سکتا، کیونکہ ایسا کرنے سے اس کی درخواست مسترد سمجھی جا سکتی ہے۔

    کیا سیاسی پناہ کا درخواست گزار کام کر سکتا ہے؟

    جی ہاں، لیکن فوراً نہیں۔

    درخواست جمع ہونے کے 150 دن بعد وہ Employment Authorization Document (EAD) کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ عام طور پر تقریباً 180 دن بعد اسے ورک پرمٹ مل سکتا ہے۔

    ورک پرمٹ ملنے کے بعد اسے سوشل سکیورٹی نمبر جاری کیا جاتا ہے، جس کے بعد وہ امریکہ میں قانونی طور پر ملازمت یا کاروبار کر سکتا ہے۔

    فیصلہ آنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

    قانون کے مطابق کوشش کی جاتی ہے کہ نئے مقدمات کا انٹرویو 45 دن اور فیصلہ 180 دن میں ہو جائے، لیکن مقدمات کی بڑی تعداد کی وجہ سے عملی طور پر 2 سے 5 سال یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

    اگر درخواست منظور ہو جائے

    اگر سیاسی پناہ مل جائے تو درخواست گزار کو Asylee کا درجہ ملتا ہے۔

    اس کے بعد وہ:

    امریکہ میں مستقل طور پر رہ اور کام کر سکتا ہے۔

    اپنی بیوی یا شوہر اور 21 سال سے کم عمر غیر شادی شدہ بچوں کو امریکہ بلانے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

    ایک سال بعد گرین کارڈ کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

    سفری دستاویز حاصل کر سکتا ہے۔

    گرین کارڈ ملنے کے پانچ سال بعد امریکی شہریت کے لیے اہل ہو جاتا ہے۔

    اگر درخواست مسترد ہو جائے

    اگر درخواست مسترد ہو جائے تو کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔

    اگر مقدمہ ابتدائی مرحلے میں مسترد ہو تو اسے امیگریشن عدالت بھیجا جا سکتا ہے، جہاں درخواست گزار کو دوبارہ اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملتا ہے۔

    اگر امیگریشن جج بھی درخواست مسترد کر دے تو پہلے Board of Immigration Appeals (BIA) اور پھر وفاقی عدالت میں اپیل کی جا سکتی ہے۔

    اگر تمام اپیلیں بھی مسترد ہو جائیں تو عدالت ملک بدری کا حکم جاری کر سکتی ہے۔ اس صورت میں متعلقہ شخص کو واپس بھیجا جا سکتا ہے اور کئی سال تک امریکہ میں داخلے پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔

    اگر ثابت ہو جائے کہ درخواست میں جھوٹے یا جعلی ثبوت پیش کیے گئے تھے تو متعلقہ شخص کو مستقبل میں امریکی امیگریشن کے تقریباً تمام فوائد سے مستقل طور پر محروم کیا جا سکتا ہے۔

    نتیجہ

    امریکہ میں سیاسی پناہ کا نظام ان افراد کے لیے بنایا گیا ہے جو واقعی ظلم، جبر یا جان کے خطرے کا سامنا کر رہے ہوں۔ تاہم اس کے لیے مضبوط قانونی بنیاد اور قابلِ اعتماد ثبوت ضروری ہوتے ہیں۔

    جن لوگوں کو امریکہ میں سیاسی پناہ ملی، ان میں سے اکثر نے وہاں سخت محنت کی۔ کسی نے ٹیکسی چلائی، کسی نے ریسٹورنٹ، سپر مارکیٹ، پیٹرول پمپ، ہوٹل یا دوسرے اداروں میں کام کیا۔

    مسلسل محنت کے بعد ان میں سے بہت سے لوگ آج اپنے خاندانوں کے ساتھ بہتر زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو گرین کارڈ یا شہریت حاصل کرنے کے باوجود معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

  • ایران جنگ میں امن کردار، کیا پاکستان کو معاشی فائدہ بھی ملے گا؟

    ایران جنگ میں امن کردار، کیا پاکستان کو معاشی فائدہ بھی ملے گا؟

    ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور امن معاہدے میں کردار کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سفارتی کامیابی پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے بھی کسی بڑے معاشی فائدے میں تبدیل ہو سکے گی یا نہیں۔

    بین الاقوامی خبررساں ادارے رائٹرز کے صحافی عریبہ شاہد اور سعد سعید کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی اہم بات چیت میں بھی حصہ لیا۔ عالمی رہنماؤں نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کردار نے نہ صرف جنگ بندی میں مدد دی بلکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی عالمی ترسیل میں ممکنہ بڑے بحران کو بھی ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس سفارتی کامیابی کے نتیجے میں عالمی سطح پر بہتر ساکھ حاصل ہوئی ہے۔ اگر حکومت اس موقع سے درست انداز میں فائدہ اٹھائے تو غیر ملکی سرمایہ کاری، تجارت، برآمدات اور علاقائی اقتصادی تعاون میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کے وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو ملک اپنے اندر استحکام پیدا کرتا ہے اور دنیا میں امن کے قیام میں کردار ادا کرتا ہے، وہ سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت آئندہ مالی سال کے لیے چار فیصد معاشی ترقی کا ہدف رکھے ہوئے ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں استحکام آنے سے تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان ایران، خلیجی ممالک اور ترکی کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ بلوچستان کی سرحدی تجارت کو وسعت دینے، توانائی، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ اگر ان شعبوں میں پیش رفت ہوتی ہے تو اس سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

    تاہم متعدد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف کامیاب سفارت کاری پاکستان کے معاشی مسائل حل نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق ملک کو اب بھی کمزور برآمدات، محدود ٹیکس نیٹ، بیرونی قرضوں، مالی خسارے اور بار بار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے امداد لینے جیسے بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ جب تک ان مسائل پر سنجیدگی سے قابو نہیں پایا جاتا، اس وقت تک سفارتی کامیابیوں کے معاشی فوائد محدود رہ سکتے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق بعض مغربی سفارت کاروں نے بھی اشارہ دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون بڑھانے میں دلچسپی موجود ہے۔ تاہم ابھی تک کسی بڑے مالی پیکیج یا غیر معمولی سرمایہ کاری کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنی بہتر ہوتی ہوئی عالمی ساکھ کو معاشی اصلاحات کے ساتھ جوڑ دے تو وہ طویل مدت میں نمایاں فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے لیے کاروباری ماحول کو بہتر بنانا، سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنا، برآمدات میں اضافہ کرنا اور پائیدار معاشی پالیسی اختیار کرنا ضروری ہوگا۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران پاکستان کو توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا سامنا رہا۔ جنگ بندی کے بعد ان خطرات میں کمی آئی ہے، جس سے پاکستان سمیت پورے خطے میں معاشی سرگرمیوں کے بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ وہ اپنی سفارتی کامیابی کو معاشی پالیسی میں تبدیل کرے۔ اگر حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنے، برآمدات بڑھانے، ٹیکس اصلاحات نافذ کرنے اور کاروباری ماحول بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو حالیہ سفارتی کردار مستقبل میں معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

    رائٹرز کے صحافی عریبہ شاہد اور سعد سعید اپنی رپورٹ کے اختتام پر لکھتے ہیں کہ پاکستان کے پاس اس وقت ایک نادر موقع موجود ہے۔ دنیا میں امن کے لیے ادا کیا گیا کردار ملک کی عالمی ساکھ بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوا ہے، لیکن اس کامیابی کو دیرپا معاشی فائدے میں تبدیل کرنے کے لیے مضبوط معاشی اصلاحات، پالیسیوں کا تسلسل اور مؤثر حکومتی اقدامات ناگزیر ہوں گے۔

  • گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی فورڈ کو مصنوعی ذہانت کے بجائے انجینئر دوبارہ بھرتی کیوں کرنا پڑے؟

    گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی فورڈ کو مصنوعی ذہانت کے بجائے انجینئر دوبارہ بھرتی کیوں کرنا پڑے؟

    امریکہ کی معروف گاڑیاں بنانے والی کمپنی فورڈ نے اعتراف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے کا فیصلہ کمپنی کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔ خودکار نظاموں سے مطلوبہ معیار حاصل نہ ہونے اور اربوں ڈالر کے نقصانات کے بعد کمپنی کو سینکڑوں تجربہ کار انجینئر دوبارہ ملازمت پر رکھنا پڑے، جس کے بعد گاڑیوں کے معیار میں نمایاں بہتری آئی۔

    فورڈ کے اعلیٰ حکام کے مطابق کمپنی نے گزشتہ تین برسوں کے دوران 350 سے زائد سینئر اور تجربہ کار انجینئرز کو دوبارہ بھرتی کیا۔ کمپنی کے اندر انہیں غیر رسمی طور پر ‘گرے بیئرڈز’ یعنی سفید داڑھی والے ماہرین کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کے پاس کئی دہائیوں کا عملی تجربہ موجود ہے۔ ان انجینئرز کو دوبارہ اس لیے لایا گیا تاکہ وہ ان خامیوں کی نشاندہی کر سکیں جو مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار نظام بروقت پکڑنے میں ناکام رہے تھے۔

    فورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر کمار گلہوترا نے برطانوی نشریاتی ادارے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ کمپنی معیار کی جانچ کے لیے مسلسل خودکار نظاموں پر انحصار بڑھا رہی تھی، لیکن اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ ان کے مطابق کمپنی نے دوبارہ تکنیکی ماہرین کو شامل کیا جو پیداواری عمل شروع ہونے سے پہلے ہی پرزوں اور ڈیزائن میں موجود ممکنہ خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    کمپنی نے گزشتہ چند برسوں میں فیکٹریوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی معائنہ اور جانچ کے نظام متعارف کرائے تھے تاکہ پیداوار تیز ہو اور معیار بھی بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ پیچیدہ انجینئرنگ مسائل میں مصنوعی ذہانت انسانی تجربے اور فیصلے کا مکمل متبادل ثابت نہیں ہو سکی۔ کئی ایسے نقائص سامنے آئے جنہیں صرف برسوں کے تجربے کے حامل انجینئر ہی سمجھ سکتے تھے۔

    فورڈ کے نائب صدر برائے وہیکل ہارڈویئر انجینئرنگ چارلس پون نے اعتراف کیا کہ کمپنی نے یہ سمجھ لیا تھا کہ صرف مصنوعی ذہانت متعارف کرا دینے اور اس میں ڈیزائن سے متعلق معلومات شامل کرنے سے خود بخود اعلیٰ معیار کی گاڑیاں تیار ہونے لگیں گی۔ لیکن بعد میں احساس ہوا کہ مصنوعی ذہانت کی کامیابی کا انحصار بھی اسی معلومات پر ہوتا ہے جو اسے تربیت کے دوران فراہم کی جاتی ہے۔ اگر تجربہ کار انجینئرز کی مہارت اور برسوں کا عملی علم نظام میں منتقل نہ کیا جائے تو مصنوعی ذہانت بہترین نتائج نہیں دے سکتی۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں کمپنی نے اپنے ان انجینئرز کے تجربے کو وہ اہمیت نہیں دی جو کئی مختلف ماڈلز اور منصوبوں پر کام کر چکے تھے۔ ان کے جانے کے بعد ان کا ادارہ جاتی علم بھی ضائع ہو گیا، جس کے باعث مصنوعی ذہانت کو تربیت دینے والے نظام کمزور معلومات پر انحصار کرتے رہے اور ڈیزائن کی خامیوں کو بروقت پکڑنے میں ناکام رہے۔

    کمپنی کے مطابق دوبارہ بھرتی کیے گئے انجینئرز کو صرف معیار بہتر بنانے کی ذمہ داری نہیں دی گئی بلکہ انہیں نوجوان انجینئرز کی تربیت، مصنوعی ذہانت کے لیے بہتر ڈیٹا تیار کرنے اور خودکار نظاموں کو مزید مؤثر بنانے کا کام بھی سونپا گیا۔

    اس کے ساتھ ساتھ فورڈ نے 40 ماہرین پر مشتمل ایک الگ سافٹ ویئر کوالٹی ایشورنس ٹیم بھی قائم کی ہے، جبکہ ایک لاکھ سے زائد نئے خودکار اے آئی ٹیسٹ بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ سافٹ ویئر اور ڈیزائن میں موجود باریک خامیوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

    ان اقدامات کے بعد کمپنی کے معیار میں نمایاں بہتری آئی۔ جے ڈی پاور کی 2026 کی ابتدائی معیار کی سالانہ رپورٹ میں فورڈ کو عام صارفین کے لیے گاڑیاں بنانے والے برانڈز میں پہلی پوزیشن حاصل ہوئی۔ یہ گزشتہ 16 برسوں میں پہلی مرتبہ ہے کہ فورڈ اس درجہ بندی میں سرفہرست آیا ہے۔ اس سروے میں نئی گاڑی خریدنے والے صارفین سے پہلے 90 دن کے دوران پیش آنے والے مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق فورڈ نے ہر 100 گاڑیوں پر 152 مسائل کا ریکارڈ بنایا، جو دیگر بڑے برانڈز کے مقابلے میں بہتر رہا۔ کمپنی کے مقبول ماڈلز ایف 150، مسٹینگ اور سپر ڈیوٹی مسلسل دوسرے سال بھی اپنے اپنے شعبوں میں بہترین قرار پائے۔

    تاہم کمپنی کے لیے تمام مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ فورڈ اب بھی امریکہ میں سب سے زیادہ گاڑیاں واپس بلانے والی کمپنی ہے۔ صرف 2026 کے دوران کمپنی نے 51 مرتبہ مختلف ماڈلز واپس منگوائے، جن کی تعداد ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ بنتی ہے۔ کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مسائل پرانے پیداواری فیصلوں اور سابقہ خودکار نظاموں سے متعلق تھے، نہ کہ حالیہ اصلاحات سے۔

    گزشتہ چند برسوں میں فورڈ نے اپنے ملازمین کی تعداد میں بھی نمایاں کمی کی تھی۔ 2020 کے بعد کمپنی تقریباً پانچ ہزار 300 تنخواہ دار ملازمتیں ختم کر چکی ہے، جبکہ امریکی آٹو صنعت میں مجموعی طور پر 20 ہزار سے زیادہ دفتری ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔

    فورڈ کے چیف ایگزیکٹو جم فارلے نے یہ بھی کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں امریکہ میں دفتری ملازمتوں کے تقریباً نصف حصے کو متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم اب کمپنی کا حالیہ تجربہ اس خیال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے کیونکہ صرف مصنوعی ذہانت پر انحصار مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ فورڈ کا تجربہ ان کمپنیوں کے لیے اہم سبق ہے جو انسانی مہارت کو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگرچہ اے آئی رفتار، تجزیے اور خودکار عمل میں نمایاں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن انسانی تجربہ، عملی مشاہدہ اور پیچیدہ حالات میں فیصلہ سازی اب بھی ایسی صلاحیتیں ہیں جنہیں مکمل طور پر مشینوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

    ادھر امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ملازمین کی تربیت کا مسئلہ بھی اہم بنتا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں اوپن اے آئی، اینتھروپک، ایمیزون اور مائیکروسافٹ سمیت کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے امریکی کارکنوں کو اے آئی کے دور کے مطابق نئی مہارتیں سکھانے کے لیے 50 کروڑ ڈالر کے ایک غیر منافع بخش منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    تاہم فورڈ کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف نئی تربیت ہی کافی نہیں، بلکہ اداروں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کن تجربہ کار ملازمین کی مہارت کسی بھی قیمت پر ضائع نہیں ہونی چاہیے۔

    فورڈ نے واضح کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کا استعمال بند نہیں کرے گی، بلکہ آئندہ اسے انسانی نگرانی اور تجربے کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے گا۔ کمپنی کے مطابق جدید ٹیکنالوجی ایک مؤثر ذریعہ ضرور ہے، لیکن بہترین نتائج اسی وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب مشینوں کی رفتار اور انسانوں کے تجربے کو ایک ساتھ استعمال کیا جائے۔

  • تامل نژاد نتھیا رامن لاس اینجلس کی میئر بننے کی دوڑ میں، امریکی سیاست میں نئی تبدیلی کی علامت؟

    تامل نژاد نتھیا رامن لاس اینجلس کی میئر بننے کی دوڑ میں، امریکی سیاست میں نئی تبدیلی کی علامت؟

    امریکہ کے دوسرے بڑے شہر لاس اینجلس میں رواں سال ہونے والے میئر کے انتخابات نے غیر معمولی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ انڈین تامل نژاد امریکی سیاست دان اور شہری منصوبہ ساز نتھیا رامن نے ابتدائی انتخابی مرحلہ عبور کرتے ہوئے موجودہ میئر کیرن باس کے مقابلے میں جگہ بنا لی ہے۔ اب نومبر میں ہونے والے حتمی مقابلے میں دونوں امیدوار آمنے سامنے ہوں گے۔

    45 سالہ نتھیا رامن کو امریکی سیاست میں ترقی پسند یا سوشلسٹ خیالات کی نمائندہ شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ وہ اس وقت لاس اینجلس سٹی کونسل کی رکن ہیں اور 2020 میں پہلی بار منتخب ہو کر شہر کی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کیا تھا۔ انہیں لاس اینجلس سٹی کونسل کے لیے منتخب ہونے والی پہلی جنوبی ایشیائی خاتون بھی قرار دیا جاتا ہے۔

    نتھیا رامن انڈین ریاست کیرالہ کے ایک تامل خاندان میں پیدا ہوئیں۔ جب وہ چھ برس کی تھیں تو ان کا خاندان امریکہ منتقل ہو گیا۔ انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے سیاسیات میں تعلیم حاصل کی جبکہ بعد ازاں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) سے اربن پلاننگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

    تعلیم مکمل کرنے کے بعد نتھیا رامن کچھ عرصہ انڈیا واپس گئیں جہاں انہوں نے "ٹرانسپیرنٹ چنئی” کے نام سے ایک تحقیقی ادارہ قائم کیا۔ یہ ادارہ شہری مسائل اور مقامی حکومتوں کی کارکردگی پر تحقیق کرتا تھا۔ بعد میں وہ دوبارہ امریکہ واپس آئیں اور لاس اینجلس میں سماجی سرگرمیوں سے وابستہ ہو گئیں۔

    لاس اینجلس میں انہوں نے بے گھر افراد کے مسائل پر کام کرنے والی تنظیم "سیلاہ نیبرہڈ ہوم لیس کولیشن” کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی کام نے انہیں عملی سیاست کی طرف راغب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں بے گھر افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی لیکن سرکاری ادارے اس مسئلے کو مؤثر طریقے سے حل نہیں کر پا رہے تھے۔

    لاس اینجلس امریکہ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اس کی آبادی تقریباً 40 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جبکہ شہر کا سالانہ بجٹ 14 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ شہر ہالی ووڈ فلمی صنعت کا مرکز بھی ہے۔ تاہم گزشتہ کئی برسوں سے بے گھر افراد، جرائم، مہنگی رہائش اور عوامی خدمات کی خراب صورتِ حال یہاں کی سیاست کے اہم ترین موضوعات بنے ہوئے ہیں۔

    نتھیا رامن کی انتخابی مہم کا مرکز بھی یہی مسائل ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ شہر میں سستی رہائش کی فراہمی، مقامی حکومت کی کارکردگی میں بہتری اور فلمی صنعت کے فروغ کے لیے نئی پالیسیاں ضروری ہیں۔ انہوں نے موجودہ میئر کیرن باس کی بعض پالیسیوں خصوصاً بے گھر افراد سے متعلق پروگراموں پر تنقید بھی کی ہے اور کہا ہے کہ ان پروگراموں پر بہت زیادہ اخراجات آ رہے ہیں لیکن نتائج توقعات کے مطابق نہیں ہیں۔

    امریکی سیاست میں نتھیا رامن کو سینیٹر برنی سینڈرز اور ترقی پسند سیاسی حلقوں کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ ان کی کامیابی کو امریکہ کے بڑے شہروں میں بائیں بازو اور سوشل ڈیموکریٹ نظریات کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نیویارک، سیئٹل اور بوسٹن جیسے شہروں میں بھی ترقی پسند امیدوار حالیہ برسوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں۔

    رواں ماہ ہونے والے ابتدائی انتخابات میں نتھیا رامن نے اپنے اہم حریف اور ٹی وی شخصیت اسپینسر پراٹ کو پیچھے چھوڑ کر دوسرے نمبر پر جگہ بنائی۔ اس طرح وہ موجودہ میئر کیرن باس کے ساتھ حتمی مقابلے کے لیے منتخب ہو گئیں۔ انتخابی نتائج نے واضح کر دیا کہ لاس اینجلس کی سیاست اس وقت دو مختلف نظریاتی دھڑوں کے درمیان تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک طرف روایتی ڈیموکریٹ قیادت ہے جبکہ دوسری طرف ترقی پسند اور سوشلسٹ خیالات کے حامی سیاسی کارکن ہیں۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نومبر میں ہونے والا میئر کا انتخاب صرف ایک شہری عہدے کی دوڑ نہیں ہوگا بلکہ یہ امریکہ کے بڑے شہروں میں مستقبل کی سیاست کا رخ بھی متعین کر سکتا ہے۔ اگر نتھیا رامن کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ لاس اینجلس کی پہلی انڈین نژاد اور جنوبی ایشیائی خاتون میئر بن جائیں گی۔ ان کی کامیابی کو امریکی سیاست میں تارکینِ وطن، خواتین اور ترقی پسند سیاسی تحریکوں کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جائے گا۔ دوسری جانب اگر موجودہ میئر کیرن باس اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہیں تو یہ روایتی ڈیموکریٹ قیادت کے لیے ایک اہم فتح ہوگی۔

    اب تمام نظریں نومبر میں ہونے والے اس اہم انتخاب پر مرکوز ہیں، جہاں فیصلہ ہوگا کہ لاس اینجلس کے ووٹر شہر کے مستقبل کے لیے روایتی سیاسی قیادت کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر ایک نئی ترقی پسند آواز کو اقتدار سونپتے ہیں۔

    نتھیا رامن لاس اینجلس کے علاقے سلور لیک میں رہتی ہیں۔ ان کے شوہر ولی چندر شیکرن ٹیلی ویژن کے اسکرین رائٹر ہیں اور ہارورڈ یونیورسٹی میں ان کے ہم جماعت بھی رہ چکے ہیں۔ اس جوڑے کے جڑواں بچے ہیں، جن میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

    نتھیا رامن ہندو مذہب پر عمل کرتی ہیں اور مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور مکالمے کے فروغ کے لیے منعقد ہونے والی تقریبات میں باقاعدگی سے شرکت کرتی ہیں۔

  • امریکہ کا یومِ آزادی: امریکی سفارتخانے اسلام آباد میں آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش

    امریکہ کا یومِ آزادی: امریکی سفارتخانے اسلام آباد میں آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش

    اسلام آباد: پاکستان میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی کے سلسلے میں آج یو ایس ایجوکیشن فاؤنڈیشن اِن پاکستان (یو ایس اِی ایف پی) کی عمارت میں آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس میں فنکاروں، ڈیزائنرز، کاروباری شخصیات اور ثقافتی شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

    اس تقریب میں معاشی ترقی، دوطرفہ تعلقات اور بین الثقافتی روابط کو فروغ دینے کے لیے تخلیقی شعبوں سے منسلک صنعتوں کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ پروگرام کے مہمانِ خصوصی امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر اور پاکستان کے معروف فیشن ڈیزائنر ایچ ایس وائی تھے، جبکہ معروف براڈکاسٹر اور فلم ساز توثیق حیدر نے تقریب کی نظامت کی۔

    امریکہ کی آزادی کے ڈھائی سو سال مکمل ہونے کی مناسبت سے جاری فریڈم 250 مہم کے تحت منعقد ہونے والی اس تقریب میں تین نمایاں سرگرمیاں شامل تھیں۔ فریڈم 250 انٹرپرینیورشپ لیکچر، جس کا مقصد امریکی کاروباری مہارت اور بہترین طریقۂ کار سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔

    اس کے علاوہ ایک آرٹس مارکیٹ پلیس، جس میں پاکستان۔امریکہ ایلومنائی نیٹ ورک کے بیس سابق شرکاء کے فن پاروں اور تخلیقی کام کو پیش کیا گیا، اور ایک فیشن رن وے شو، جس میں امریکی ڈیزائن، ثقافت اور ٹیکسٹائل جدت کے ڈھائی سو سالہ سفر کو اجاگر کیا گیا۔ ان تمام سرگرمیوں میں کاروبار، ثقافت اور فنونِ لطیفہ کے شعبوں میں امریکہ اور پاکستان کے مضبوط دوطرفہ تعلقات کی گہرائی اور مضبوطی کی عکاسی کی گئی۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا کہ فنونِ لطیفہ اقوام اور عوام کے درمیان پائیدار روابط قائم کرنے کی منفرد صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ترین روابط میں سے ایک ہے۔

    گزشتہ پانچ برسوں کے دوران امریکہ کو پاکستانی ملبوسات اور تیار شدہ گارمنٹس کی برآمدات کی اوسط مالیت چار ارب ڈالر سالانہ سے زائد رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے بہت سے ملبوسات امریکی کپاس سے بنائے گئے تھے، جبکہ پاکستان ہر سال تقریباً آٹھ سو ملین ڈالر مالیت کی امریکی کپاس اور دیگر خام ٹیکسٹائل مواد درآمد کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں ڈینم کپڑے اور ڈینم ملبوسات تیار کرنے والے نمایاں ممالک میں شامل ہے اور امریکہ میں فروخت ہونے والی جینز کی ایک بڑی تعداد کا سفر پاکستان ہی سے شروع ہوتا ہے، جو اس حقیقت کی زبردست یاد دہانی ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات دونوں ملکوں کے عوام کی روزمرہ زندگیوں کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ذرا لیوائیز کی ایک جینز کو دیکھیں، یہ اس بات کی ایک طاقتور یاد دہانی ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات دونوں ممالک کے لوگوں کی روزمرہ زندگیوں میں بُنے ہوئے ہیں۔‘‘

    ناظم الامور نیٹلی بیکر نے تخلیقی کاروباری سرگرمیوں کو معاشی مواقع اور دوطرفہ شراکت داری کے فروغ کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ طویل عرصے سے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ تخلیقی صنعتیں ترقی اور معاشی نمو کو مہمیز دیتی ہیں۔ یہ 1776 سے ہماری قومی شناخت کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنون اور ڈیزائن کے شعبے میں امریکی کامیابی صرف صلاحیت ہی کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسی ثقافت کا ثمر ہے جو تجربات، کاروباری سوچ اور نئے خیالات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف شعبوں میں امریکی تخلیقی صنعتیں آج بھی عالمی مباحث پر اثرانداز ہو رہی ہیں اور دنیا بھر کے لوگوں کو متاثر کر رہی ہیں۔

    تقریب کی نمایاں سرگرمیوں میں فیشن رن وے شو بھی شامل تھا، جس نے ٹیکسٹائل، ڈیزائن اور ثقافتی کہانیوں کے ذریعے امریکی فیشن کے ڈھائی سو سالہ سفر میں نئی جان ڈال دی۔ یہ شو امریکہ کے تخلیقی ورثے اور خود کو مسلسل نئے انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت کی بھرپور بصری عکاسی کرتا تھا۔

    فریڈم 250 مہم امریکہ کی آزادی کے ڈھائی سو سال مکمل ہونے کی یاد میں سال بھر جاری رہنے والی تقریبات، شراکت داریوں اور پروگراموں کا سلسلہ ہے، جس کا مقصد امریکی کامیابیوں کو اجاگر کرنا، امریکی اقدار کو فروغ دینا اور دنیا بھر میں امریکہ کے شراکت دار ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانا ہے۔

  • پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ، آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان

    پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ، آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت امریکہ اور ایران کے صدور نے دستخط کر کے منظور کی ہے جبکہ انہوں نے ثالث کی حیثیت سے اس کی توثیق کی ہے۔ ان کے مطابق دونوں حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر اس معاہدے پر دستخط اس بات کا ثبوت ہیں کہ فریقین تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر متفق ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انہوں نے فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قریب واقع ورسائی محل میں ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب میں انہوں نے مختصر طور پر کہا، ‘یہ معاہدہ ہو چکا ہے، میں نے ابھی ورسائی میں اس پر دستخط کیے ہیں۔’

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی سے گفتگو میں تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں نے باقاعدہ طور پر معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔

    مبصرین کے مطابق اگر معاہدے پر کامیابی سے عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ حالیہ برسوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

    شہباز شریف نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔ معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکہاپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور معمولات زندگی بحال کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    وزیراعظم کے مطابق پاکستان، شریک ثالث ریاست قطر کے تعاون سے، 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس معاہدے کی باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا۔ اس موقع پر فریقین کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا بھی آغاز کیا جائے گا تاکہ معاہدے پر عمل درآمد کے مختلف پہلوؤں کو حتمی شکل دی جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت خطے میں بہتر تعلقات، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد ثابت ہوگی۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی مثبت نتائج پیدا کرے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم نے ایک ایسے بحران کے خاتمے میں مدد دی جو پورے خطے اور دنیا کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا تھا۔ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم کے ارکان جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی کوششوں کو بھی سراہا۔

    انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی دانشمندانہ قیادت اور امن کے لیے عزم نے اس معاہدے کو ممکن بنایا۔ وزیراعظم نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی خدمات کا بھی اعتراف کیا۔

    شہباز شریف نے قطر کی قیادت کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت میں قطر کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کو بھی اس عمل میں تعاون اور مثبت کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔

    وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل کوششوں، غیر معمولی لگن اور امن کے فروغ کے لیے کردار نے اس اہم پیش رفت کو ممکن بنانے میں نمایاں حصہ ڈالا۔

  • امریکہ ایران تنازع: درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کی قیمت بے نقاب، شمسی توانائی بچاؤ کا ذریعہ، توانائی کے ماہرین کا چارٹر آف ڈیمانڈز

    امریکہ ایران تنازع: درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کی قیمت بے نقاب، شمسی توانائی بچاؤ کا ذریعہ، توانائی کے ماہرین کا چارٹر آف ڈیمانڈز

    پاکستان کے توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں نے ایک جامع چارٹر آف ڈیمانڈز پیش کیا ہے جس میں ملک کی انرجی سیکیورٹی کے لیے فوری اور بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ چارٹر الائنس فار کلائمیٹ جسٹس اینڈ کلین انرجی (ACJCE) اور پاکستان رینیوایبل انرجی کولیشن (PREC) کی نمائندگی میں تیار کیا گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ درآمد شدہ فوسل فیولز پر پاکستان کا انحصار کتنا خطرناک ہے۔ یہ وہ قیمت ہے جو ملک دہائیوں سے برداشت کر رہا ہے، لیکن اب اس چکر کو توڑنا ہوگا۔ اس بار صورتحال اتنی سنگین نہیں بنی کیونکہ شہریوں کی جانب سے بچھائی گئی شمسی توانائی نے گھروں، کاروباروں اور کھیتوں کو روشن رکھا۔ 2018 سے اب تک اس سستے اور صاف ذریعے نے تقریباً 12 بلین ڈالر کی ایندھن درآمدات سے بچنے میں مدد کی ہے۔

    چارٹر میں کہا گیا ہے کہ اب حکومت کو فیصلہ کن اقدامات اٹھانے ہوں گے، جن میں درج ذیل مطالبات شامل ہیں:

    ہنگامی اقدامات

    ماہرین نے نیشنل بیٹری اور انرجی سٹوریج ایمرجنسی کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم (BESS) پر تمام ٹیکس اور ڈیوٹیز فوری ختم کی جائیں۔ 100 میگاواٹ سے بڑے تمام سولر اور ونڈ پلانٹس کے لیے اسٹوریج کی مشترکہ تنصیب لازمی قرار دی جائے۔

    دوسرا بڑا مطالبہ سولر پر 10 فیصد جی ایس ٹی ختم کرنا اور سابقہ نیٹ میٹرنگ کا نظام بحال کرنا ہے۔ موجودہ نیٹ بلنگ نظام کے تحت برآمدات پر 11 سے 13 روپے فی یونٹ ملتے ہیں جبکہ درآمدات پر 35 سے 47 روپے وصول کیے جاتے ہیں، جو چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی لاگت میں 20 سے 40 فیصد اضافہ کرتا ہے۔

    مزید برآں، فوسل فیول اور خطرناک بڑی ہائیڈرو پاور کی توسیع کو فوری منجمد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ڈرافٹ میں شامل 5.7 گیگا واٹ فوسل صلاحیت کم از کم لاگٹ کے اصول پر پورا نہیں اترتی اور اسے منسوخ کرنے سے 11 بلین ڈالر سے زائد وسائل دوبارہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    پرانے فوسل فیول معاہدوں کو منسوخ کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ مالی سال 2024-25 میں تقریباً 1.8 ٹریلین روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس کا 60 فیصد فوسل پلانٹس کو جاتا ہے، جبکہ ان کا مجموعی استعمال محض 42.5 فیصد رہا ہے۔

    صنعتی اور مالیاتی ڈھانچہ

    چارٹر میں مقامی الیکٹرک گاڑیوں (EV) کی مینوفیکچرنگ اور چارجنگ انفراسٹرکچر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ پنجاب کی طرف سے تھری وہیلرز پر 3 کلو واٹ موٹر کی حد جیسی صوابدیدی پابندیوں کو ختم کر کے ٹیکنالوجی نیوٹرل قوانین بنائے جائیں۔

    ایک سنگل کلین انرجی فنانسنگ ونڈو قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، جو چھت کے سولر کٹس، EVs، اور یوٹیلیٹی سکیل بیٹریوں کے لیے سبسڈی اور رعایتی قرضے فراہم کرے۔ خاص طور پر الیکٹرک ٹو وہیلرز کے لیے الگ سکیم بنائی جائے، کیونکہ یہ ٹرانسپورٹ کے 54 فیصد ایندھن استعمال کرتے ہیں۔

    پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) کی آمدنی کا کم از کم 50 فیصد حصہ EV چارجنگ انفراسٹرکچر اور پبلک ٹرانسپورٹ کی الیکٹریفکیشن پر خرچ کیا جائے۔

    بین الاقوامی سطح پر از سر نو ترتیب

    ماہرین نے آئی ایم ایف پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آر ایس ایف (RSF) قرضے کو پاکستان کے طویل مدتی توانائی اہداف کے مطابق ڈھالا جائے اور 1.4 بلین ڈالر کے اس قرضے کو غیر قرض موسمیاتی فنانس میں تبدیل کیا جائے۔ ورلڈ بینک اور اے ڈی بی کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کو قابل تجدید توانائی اور گرڈ لچک میں تیز سرمایہ کاری کے لیے اپ ڈیٹ کیا جائے۔

    سیکٹرل اور کمیونٹی کی منتقلی

    چارٹر میں مائیکرو گرڈز اور کمیونٹی کی ملکیت والی توانائی کو فعال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ نیپرا کے موجودہ مائیکرو گرڈ قواعد و ضوابط میں اصلاح کی جائے جو ڈسکوز کی اجارہ داریوں کو مضبوط کرتے ہیں۔

    زرعی ٹیوب ویلوں اور ماہی گیروں کی کشتیوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے قومی پروگرام شروع کیا جائے۔ محروم علاقوں میں خواتین اور کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے سرکاری فنڈز سے سولر کٹس اور بیٹریاں فراہم کی جائیں۔

    آخر میں، ایک منصفانہ منتقلی کا فریم ورک قائم کیا جائے جو توانائی کے تمام فیصلوں کو سماجی اور ماحولیاتی معیارات سے ہم آہنگ کرے۔ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ میں ترمیم کر کے آزادانہ پیشگی اور باخبر رضامندی کو شامل کیا جائے۔