سندھ میں رہنے والے بہت سے نوجوان سوشل میڈیا پر اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ فلاں کارکن، صحافی یا عام آدمی کے پاس نہ کوئی بڑی ڈگری تھی، نہ خاص ہنر اور نہ ہی زیادہ دولت تھی۔ وہ یہاں عام زندگی گزارتا تھا، لیکن آج امریکہ میں اچھی گاڑی، گھر اور خوشحال زندگی کیسے گزار رہا ہے؟
کچھ لوگ انہیں غدار کہتے ہیں، کچھ انہیں ایجنسیوں کا آدمی قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے سندھ کا سودا کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی باتیں زیادہ تر لاعلمی، معلومات کی کمی اور اپنی ناکامیوں کو دوسروں پر ڈالنے کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
امریکہ اور کینیڈا میں مستقل رہنے والے سندھی مختلف پس منظر رکھتے ہیں۔ کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر، انجینئر، بینکر، ماہرِ معیشت اور دوسرے پیشہ ور افراد ہیں۔ کچھ خوشحال کاروباری یا بڑے زمیندار خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس وقت امریکہ گئے جب ویزا حاصل کرنا نسبتاً آسان تھا اور وہاں محنت کرکے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوگئے۔ بعض افراد امریکہ کی ویزا لاٹری کے ذریعے بھی گئے تھے، لیکن کئی برسوں سے پاکستان اس پروگرام میں شامل نہیں ہے۔
اب بات ان کارکنوں، صحافیوں اور عام لوگوں کی کرتے ہیں جو یہاں عام زندگی گزارتے تھے لیکن آج امریکہ میں بہتر حالات میں رہ رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پہلے وزٹ ویزا پر امریکہ گئے۔ امریکہ کا وزٹ ویزا حاصل کرنا خود ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔
جب کوئی شخص امریکہ پہنچتا ہے تو ایئرپورٹ پر امیگریشن افسر اس سے آنے کی وجہ، قیام کی جگہ اور دیگر سوالات کرتے ہیں۔ اگرچہ اس کے پاس درست ویزا اور ٹکٹ ہو، پھر بھی امیگریشن افسر اسے واپس بھیج سکتے ہیں یا چند دنوں سے لے کر چھ ماہ تک قیام کی اجازت دے سکتے ہیں۔
زیادہ تر لوگ مقررہ مدت کے اندر واپس اپنے ملک آ جاتے ہیں، لیکن کچھ افراد امریکہ پہنچنے کے بعد سیاسی پناہ (Asylum) کی درخواست دے دیتے ہیں۔ اس کے بعد کئی برس تک ان کے لیے اپنے ملک واپس جانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اگر وہ درخواست کے دوران اپنے ملک واپس جائیں تو ان کی درخواست متاثر ہو سکتی ہے۔ اس عرصے میں وہ عموماً کسی دوسرے ملک کا سفر بھی نہیں کر سکتے۔
سیاسی پناہ کا قانون بہت پیچیدہ ہے اور یہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور امریکی قوانین پر مبنی ہے۔
امریکہ میں سیاسی پناہ کا قانونی نظام
امریکہ میں سیاسی پناہ کے قوانین 1951ء کے اقوام متحدہ کے مہاجر کنونشن، 1967ء کے پروٹوکول اور امریکی Refugee Act 1980 پر مبنی ہیں۔
اس قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی جان یا آزادی کو اپنے ملک میں خطرہ ہو تو اسے زبردستی واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔
سیاسی پناہ کن بنیادوں پر مل سکتی ہے؟
امریکی قانون کے مطابق درخواست گزار کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اسے درج ذیل میں سے کسی ایک یا زیادہ وجوہات کی بنا پر ظلم یا خطرے کا سامنا ہے۔
سیاسی نظریات یا سیاسی سرگرمی
نسل
مذہب
قومیت
کسی مخصوص سماجی گروہ سے تعلق، جیسے جنسی شناخت (LGBTQ+)، گھریلو تشدد کا شکار خواتین یا کسی خاص خاندان کے افراد
صرف غربت، بے روزگاری یا خراب امن و امان سیاسی پناہ کے لیے کافی وجہ نہیں سمجھے جاتے۔
کن دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے؟
سیاسی پناہ کی درخواست کے ساتھ عام طور پر درج ذیل دستاویزات جمع کرائی جاتی ہیں۔
فارم I-589
پاسپورٹ یا شناختی دستاویزات
تفصیلی ذاتی بیان
ایف آئی آر یا عدالتی ریکارڈ (اگر موجود ہو)
میڈیکل رپورٹس
اخباری تراشے یا خبروں کے لنک
دھمکی آمیز خطوط، پیغامات یا سوشل میڈیا کے اسکرین شاٹس
سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں یا معتبر افراد کے تصدیقی خطوط
اقوام متحدہ، امریکی محکمہ خارجہ یا ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹس، جو متعلقہ ملک کی صورتحال بیان کرتی ہوں۔
درخواست کا طریقہ
اگر کسی شخص پر ملک بدری کا مقدمہ نہ ہو تو وہ امریکہ پہنچنے کے ایک سال کے اندر USCIS میں درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے بعد بائیومیٹرک مرحلہ ہوتا ہے اور پھر اسائلم افسر انٹرویو لیتا ہے۔
اگر کسی شخص کو ملک بدر کیا جا رہا ہو یا وہ غیر قانونی طور پر داخل ہوا ہو تو اس کا مقدمہ امیگریشن عدالت میں چلتا ہے، جہاں امیگریشن جج فیصلہ کرتا ہے۔
درخواست کے بعد کیا حیثیت ہوتی ہے؟
درخواست جمع ہونے کے بعد درخواست گزار کو Asylum Seeker یعنی سیاسی پناہ کا امیدوار سمجھا جاتا ہے۔ جب تک مقدمہ زیر سماعت ہو، وہ امریکہ میں قانونی طور پر رہ سکتا ہے، بشرطیکہ وہ کسی سنگین جرم میں ملوث نہ ہو۔
اس دوران وہ اپنے ملک واپس نہیں جا سکتا، کیونکہ ایسا کرنے سے اس کی درخواست مسترد سمجھی جا سکتی ہے۔
کیا سیاسی پناہ کا درخواست گزار کام کر سکتا ہے؟
جی ہاں، لیکن فوراً نہیں۔
درخواست جمع ہونے کے 150 دن بعد وہ Employment Authorization Document (EAD) کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ عام طور پر تقریباً 180 دن بعد اسے ورک پرمٹ مل سکتا ہے۔
ورک پرمٹ ملنے کے بعد اسے سوشل سکیورٹی نمبر جاری کیا جاتا ہے، جس کے بعد وہ امریکہ میں قانونی طور پر ملازمت یا کاروبار کر سکتا ہے۔
فیصلہ آنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟
قانون کے مطابق کوشش کی جاتی ہے کہ نئے مقدمات کا انٹرویو 45 دن اور فیصلہ 180 دن میں ہو جائے، لیکن مقدمات کی بڑی تعداد کی وجہ سے عملی طور پر 2 سے 5 سال یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
اگر درخواست منظور ہو جائے
اگر سیاسی پناہ مل جائے تو درخواست گزار کو Asylee کا درجہ ملتا ہے۔
اس کے بعد وہ:
امریکہ میں مستقل طور پر رہ اور کام کر سکتا ہے۔
اپنی بیوی یا شوہر اور 21 سال سے کم عمر غیر شادی شدہ بچوں کو امریکہ بلانے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔
ایک سال بعد گرین کارڈ کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔
سفری دستاویز حاصل کر سکتا ہے۔
گرین کارڈ ملنے کے پانچ سال بعد امریکی شہریت کے لیے اہل ہو جاتا ہے۔
اگر درخواست مسترد ہو جائے
اگر درخواست مسترد ہو جائے تو کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔
اگر مقدمہ ابتدائی مرحلے میں مسترد ہو تو اسے امیگریشن عدالت بھیجا جا سکتا ہے، جہاں درخواست گزار کو دوبارہ اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملتا ہے۔
اگر امیگریشن جج بھی درخواست مسترد کر دے تو پہلے Board of Immigration Appeals (BIA) اور پھر وفاقی عدالت میں اپیل کی جا سکتی ہے۔
اگر تمام اپیلیں بھی مسترد ہو جائیں تو عدالت ملک بدری کا حکم جاری کر سکتی ہے۔ اس صورت میں متعلقہ شخص کو واپس بھیجا جا سکتا ہے اور کئی سال تک امریکہ میں داخلے پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔
اگر ثابت ہو جائے کہ درخواست میں جھوٹے یا جعلی ثبوت پیش کیے گئے تھے تو متعلقہ شخص کو مستقبل میں امریکی امیگریشن کے تقریباً تمام فوائد سے مستقل طور پر محروم کیا جا سکتا ہے۔
نتیجہ
امریکہ میں سیاسی پناہ کا نظام ان افراد کے لیے بنایا گیا ہے جو واقعی ظلم، جبر یا جان کے خطرے کا سامنا کر رہے ہوں۔ تاہم اس کے لیے مضبوط قانونی بنیاد اور قابلِ اعتماد ثبوت ضروری ہوتے ہیں۔
جن لوگوں کو امریکہ میں سیاسی پناہ ملی، ان میں سے اکثر نے وہاں سخت محنت کی۔ کسی نے ٹیکسی چلائی، کسی نے ریسٹورنٹ، سپر مارکیٹ، پیٹرول پمپ، ہوٹل یا دوسرے اداروں میں کام کیا۔
مسلسل محنت کے بعد ان میں سے بہت سے لوگ آج اپنے خاندانوں کے ساتھ بہتر زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو گرین کارڈ یا شہریت حاصل کرنے کے باوجود معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

