Tag: امریکہ

  • ایران امریکہ جنگ: جغرافیائی دفاع سے عالمی معاشی بحران تک

    ایران امریکہ جنگ: جغرافیائی دفاع سے عالمی معاشی بحران تک

    ایران کی جنگ صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا کے سیاسی، معاشی اور فوجی ڈھانچے کو طویل عرصے کے لیے تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایسی جنگیں صرف بارود تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ ان کے اثرات نسلوں تک جاری رہتے ہیں۔

    ایران کو دہائیوں کی پابندیوں، عالمی تنہائی اور بڑی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود شکست دینا اتنا مشکل کیوں رہا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ اس کا وسیع اور دشوار گزار جغرافیائی ڈھانچہ ہے، جبکہ اس کی دفاعی حکمتِ عملی بھی نہایت سوچ سمجھ کر ترتیب دی گئی ہے، جو غیر روایتی جنگ، علاقائی اتحادیوں اور اسٹریٹجک قوتوں پر مبنی ہے۔

    ایران نے ایسا نظام تیار کیا ہے جو شدید حملے برداشت کر سکتا ہے اور اپنے دشمن کو سخت مقابلہ دے سکتا ہے۔ یہ صرف فوجی طاقت کی بات نہیں بلکہ یہ لچک، حکمتِ عملی اور دنیا کے سب سے غیر مستحکم خطے میں بقا کی جدوجہد کی کہانی ہے، جو فضائی حملوں کے بعد اب ایک طویل زمینی جنگ کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔

    فریقین مورچہ بند ہو رہے ہیں۔ علاقائی اتحاد بن رہے ہیں۔ گوریلا جنگ کے لیے صف بندیاں شروع ہو چکی ہیں۔ سیاسی جوڑ توڑ کے ساتھ امریکی ایوانوں میں بھی ہلچل مچ چکی ہے۔ دنیا ایک نئے معاشی بحران کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔ پوری دنیا میں سیاسی سرگرمیاں بڑھ چکی ہیں۔ خفیہ سفارتکاری دم توڑ رہی ہے اور یورپ خفیہ طور پر اسرائیل کو معاشی، اقتصادی اور فوجی مدد فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہو چکا ہے۔

    نیویارک ٹائمز، سی این این، الجزیرہ، سعودی گزٹ اور دیگر عرب اخبارات سے واضح خبریں موصول ہوئی ہیں کہ امریکہ ایران کو مذاکرات میں مصروف رکھ کر دراصل زمینی فوجی کارروائی کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے پینٹاگون نے چھ عرب ممالک کے ساتھ مل کر ‘ہفتوں تک جاری رہنے والی زمینی کارروائی’ کے آپریشن کا منصوبہ تیار کر لیا ہے اور اہداف پر غور کیا جا رہا ہے۔

    جاپان، جنوبی کوریا، افریقہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک سے ہزاروں فوجی عرب ممالک میں منتقل کیے جا چکے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ڈیڑھ لاکھ امریکی فوجی اور پینتیس ہزار ایکسپیڈیشنری یونٹ، جو خاص طور پر گوریلا جنگ اور ایرانی ایٹمی مواد حاصل کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، عرب ممالک کے خفیہ مقامات پر تعینات کیے گئے ہیں۔

    اس کے علاوہ امریکہ کے دو سمندری جنگی بیڑے، جن پر ہزاروں امریکی فوجی موجود ہیں، انہیں خلیج فارس اور ایران کے قریب سمندری علاقوں میں ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ قطر میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ موجود ہے، جہاں روزانہ کی بنیاد پر فوجیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ کویت کے کیمپ عارف جان میں نو ہزار سے چودہ ہزار فوجیوں کو سازوسامان سمیت ہائی الرٹ کیا گیا ہے۔ بحرین کے علی السلام ایئر بیس میں سات ہزار فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق سعودی عرب میں میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کیا گیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں ایف بائیس اسٹیلتھ جنگی طیاروں کو تیار حالت میں رکھا گیا ہے۔ برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک نے اپنے جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز اور دیگر جنگی سازوسامان اسرائیل کے دفاع کے لیے عرب ممالک میں پہنچا دیے ہیں۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زمینی کارروائی امریکہ کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران کا آپریشنل پہاڑی علاقہ، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب دو سو کلومیٹر طویل پہاڑی سلسلہ، متعدد غاروں پر مشتمل ہے، جہاں ایرانی گوریلا جنگ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

    امریکی تیاریوں کے ساتھ ساتھ ایران نے بھی برسوں سے جاری ممکنہ طویل زمینی جنگ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ عراق، لیبیا، شام اور یمن سمیت مختلف ممالک میں موجود ایران کے حامی ملیشیا گروپس ایران کے سمندری جزیروں والے علاقوں میں پہنچ کر اپنی پوزیشنیں سنبھال رہے ہیں۔ ان کے لیے غاروں میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کیا گیا ہے، جہاں مقامی کمانڈروں کو مرکزی احکامات سے آزاد کر کے اپنے علاقے کی صورتحال کے مطابق فوری فیصلے کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق امریکہ نے پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز، خارگ جزیرہ، قشم، لارک اور متنازع جزیرہ ابو موسیٰ پر زمینی حملے کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس میں تمام عرب ممالک امریکہ کا مکمل ساتھ دیں گے۔ ان خبروں پر ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے کسی ایک جزیرے پر بھی حملہ کیا گیا تو وہ پورے خطے کے تیل کے تمام کارخانوں کو میزائل حملوں سے تباہ کر دے گا۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق جنگ کے ابتدائی تین ہفتوں میں امریکی فوجی سازوسامان کے نقصان اور مرمت کا تخمینہ ایک اعشاریہ چار سے دو اعشاریہ نو ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ پینٹاگون نے جنگی اخراجات کے لیے وائٹ ہاؤس سے دو سو ارب ڈالر کے اضافی فنڈز طلب کیے ہیں۔

    قطر میں قائم العديد ایئر بیس پر ایک ارب ڈالر مالیت کا جدید اے این ایف پی ایس ایک سو بتیس ارلی وارننگ ریڈار تباہ ہو گیا۔ سو ملین ڈالر کے تین ایف پندرہ ای اسٹرائیک ایگل طیارے تباہ ہوئے۔ بحری بیڑا یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ تباہ ہو گیا جبکہ ابراہم لنکن جہاز کی مرمت جاری ہے۔

    امریکہ کا مجموعی قومی قرض انتالیس ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ جنگی اخراجات کی وجہ سے وفاقی بجٹ کا خسارہ بڑھ رہا ہے، جس کے باعث قرض میں روزانہ اربوں ڈالر کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس جنگ پر روزانہ تقریباً دو ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں، اس لیے تکنیکی طور پر امریکہ کے ڈیفالٹ ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں۔

    دی گارڈین کے مطابق امریکہ نے پہلے ہفتے میں گیارہ اعشاریہ تین ارب ڈالر خرچ کیے، جو کینسر کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہیں۔ ٹائم میگزین کے مطابق ان پیسوں سے تیرہ لاکھ امریکی شہری ایک سال تک مفت طبی سہولیات حاصل کر سکتے تھے، مگر یہ رقم جنگ پر خرچ کر دی گئی۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق امریکہ اس جنگ میں انتہائی مہنگا اور جدید اسلحہ استعمال کر رہا ہے، جس سے یوکرین اور تائیوان جیسے دیگر محاذوں پر اس کی فوجی صلاحیتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے یورپی اتحادی امریکہ کی حکمتِ عملی سے پریشان ہیں اور اس سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔

    اسرائیل کا جدید دفاعی نظام دنیا میں معروف ہے، مگر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے اسے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیل کو روزانہ دفاعی میزائلوں پر پچاس سے سو ملین ڈالر تک کا نقصان ہو رہا ہے۔ اسرائیلی معیشت کو بیس ارب ڈالر سے زائد کا براہ راست نقصان پہنچ چکا ہے۔ حیفہ بندرگاہ تباہ ہو گئی ہے۔

    ہائی ٹیک کمپنیاں بند ہو چکی ہیں۔ ہزاروں ریزرو فوجی فرار ہو کر چھپ گئے ہیں۔ بجلی کے کئی بڑے منصوبے تباہ ہو چکے ہیں۔ بحیرہ روم میں واقع لیویاتھان گیس فیلڈ عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے۔ شمالی اور مرکزی اسرائیل سے تقریباً پانچ لاکھ سے زائد شہری محفوظ مقامات یا بنکروں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ کم ہو چکی ہے جس کے باعث عالمی مارکیٹ سے قرض لینا مہنگا ہو گیا ہے۔ تعلیم یافتہ افراد اسرائیل چھوڑ رہے ہیں۔

    مارچ دو ہزار چھبیس کی اس جنگی صورتحال میں اسرائیل اپنی معیشت اور فوجی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے مکمل طور پر اپنے عالمی اتحادیوں اور قرض دہندگان پر انحصار کر رہا ہے۔ امریکی کانگریس نے چودہ اعشاریہ تین ارب ڈالر سے زائد کی ہنگامی فوجی امداد منظور کی ہے۔ امریکی بینکوں جیسے جے پی مورگن چیس اور گولڈمین سیکس سے بڑے پیمانے پر قرض حاصل کیے جا رہے ہیں۔

    اسرائیل عالمی مارکیٹ میں ‘ڈائاسپورا بانڈز’ کے ذریعے اربوں ڈالر اکٹھے کر رہا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں مقیم یہودی برادری اور بعض ریاستی حکومتیں ان بانڈز کو خرید کر اسرائیل کو مالی مدد فراہم کر رہی ہیں۔ جرمنی اور برطانیہ آسان شرائط پر کریڈٹ لائنز فراہم کر رہے ہیں تاکہ اسرائیل دفاعی سامان خرید سکے۔ اسرائیل اپنے فارن کرنسی ذخائر کو بچانے کے لیے عالمی مارکیٹ سے مہنگا قرض لینے پر مجبور ہو چکا ہے۔

    آئرن ڈوم، ڈیوڈز سلنگ اور ایرو سسٹم کے انٹرسیپٹر میزائل امریکہ سے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ دو ہزار پاؤنڈ کے بم اور توپ خانے کا اسلحہ روزانہ امریکہ سے اسرائیل پہنچایا جا رہا ہے۔ ایف پینتیس اور ایف پندرہ طیاروں کے اسپیئر پارٹس کی فراہمی جاری ہے۔ جرمنی اسرائیل کا دوسرا بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے، جو آبدوزیں اور اینٹی ٹینک میزائل فراہم کر رہا ہے۔

    برطانیہ بھی جنگی طیاروں کے پرزے اور دفاعی نظام فراہم کر رہا ہے، جبکہ اس کی کمپنیاں ایف پینتیس پروگرام میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق بھارت بھی اسرائیل کو ڈرونز کے پرزے اور گولہ بارود فراہم کر رہا ہے۔

    یورپی ممالک جیسے ہالینڈ اور اسپین میں عوامی احتجاج کے باعث اسلحہ کی فراہمی پر کچھ پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں، تاہم برطانیہ، فرانس اور جرمنی اسرائیل کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔ خطے میں موجود برطانوی اور فرانسیسی بحری بیڑے بھی میزائلوں کو روکنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

    اٹلی بھی اسرائیل کی مدد کے لیے سامنے آ چکا ہے، جبکہ نیٹو پس پردہ اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے۔ ایران نے غزہ کی طرح اسرائیلی شہریوں پر براہ راست بمباری نہیں کی، مگر اس کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ غزہ کی تباہی ایک انسانی المیہ تھا، جبکہ اسرائیل میں ہونے والی تباہی ایک ریاستی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

    اسرائیل اس وقت امریکی امداد اور عالمی قرضوں کی ‘لائف سپورٹ’ پر ہے۔ اگر امریکہ نے اپنی مالی یا فوجی مدد روک دی تو اسرائیل کے لیے اس جنگ کو جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔

    ایک طرف ٹرمپ عرب ممالک اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی زمین پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے، تو دوسری طرف امریکہ کے اندر جنگ مخالف احتجاج شدت اختیار کر رہے ہیں اور کانگریس میں بجٹ کے معاملے پر شدید ہنگامہ جاری ہے۔ ٹرمپ کی کابینہ میں بھی اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں اور کئی سینئر وزراء اس جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ویتنام اور افغانستان سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

    ان اختلافات کے باعث صدر نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کو عارضی چارج دے دیا گیا ہے۔ دیگر اعلیٰ عہدیداروں کی تبدیلی پر بھی غور جاری ہے۔ سی این این کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی کئی سینئر فوجی افسران کو برطرف کیا ہے، جبکہ مزید تبدیلیوں کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق کابینہ کے کئی اہم اراکین صدر سے اختلاف رکھتے ہیں، مگر وہ کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہیں۔

    اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ امریکہ کے لیے ایک سنگین داخلی بحران ثابت ہو سکتی ہے، جو اس کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

  • ایران، امریکہ، اسرائیل تنازع: آبنائے ہرمز سے خام تیل لے جانے والے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں تعطل، عالمی معاشی دباؤ کا خدشہ

    ایران، امریکہ، اسرائیل تنازع: آبنائے ہرمز سے خام تیل لے جانے والے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں تعطل، عالمی معاشی دباؤ کا خدشہ

    ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ اب چوتھے روز میں داخل ہو چکی ہے۔

    ایران نے جوابی حملوں میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے علاوہ تیل کے ذخائر کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

    خلیج فارس، جو دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر اور برآمدی مراکز کا حامل خطہ ہے، اس جنگ کے باعث عالمی معیشت اور توانائی کے مستقبل کے حوالے سے مرکزِ نگاہ بن چکا ہے۔

    پیر کو ایران کی جانب سے سعودی عرب کی راس تنورا میں بڑی آئل ریفائنری ‘آرامکو’ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ریفائنری کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور تیل کی تنصیبات یا اہم سمندری راستے نشانہ بنتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

    خلیج فارس اور اس کے اطراف میں دنیا کے تیل کے ذخائر کا تقریباً نصف حصہ موجود ہے، جہاں سے یومیہ 20 سے 25 ملین بیرل تیل عالمی مارکیٹ کو فراہم کیا جاتا ہے۔

    ان ممالک میں سب سے زیادہ ذخائر سعودی عرب کے پاس ہیں، جن کا حجم تقریباً 267 ارب بیرل ہے۔

    سعودی عرب نہ صرف دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہے بلکہ اس کے پاس جدید ریفائنری نظام بھی موجود ہے جو خام تیل کو مختلف مصنوعات میں تبدیل کرتا ہے۔

    سعودی عرب میں تقریباً 10 بڑی ریفائنریز کام کر رہی ہیں، جن میں راس تنورا، یسریف اور ساتورپ ریفائنری شامل ہیں۔ یہ ریفائنریز مجموعی طور پر روزانہ تقریباً 30 لاکھ بیرل تیل کو پروسیس کرتی ہیں۔

    آبنائے ہرمز: دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ

    خلیج فارس سے نکلنے والا زیادہ تر تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔ یہ سمندری راستہ دنیا کی سب سے اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔

    اگر اس راستے کو جنگ، حملوں یا فوجی کارروائیوں کی وجہ سے بند یا غیر محفوظ کر دیا جائے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں شدید کمی واقع ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہوگا اور عالمی معیشت پر بھی براہ راست دباؤ بڑھے گا۔

    الجزیرہ کی خبر کے مطابق قطر کی جانب سے ایل این جی کی فراہمی روکنے پر عالمی مارکیٹ میں گیس کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    برطانیہ اور کچھ ممالک میں گیس کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایشیائی ممالک میں 39 فیصد تک اضافہ سامنے آیا ہے۔

    اگر بڑے پیمانے پر حملے ہوتے ہیں تو تیل کی قیمتیں 100 سے 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اگر خلیجی ممالک سے تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو دنیا کے دیگر بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک، جیسے امریکہ اور روس، اپنی پیداوار بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ کئی ممالک اپنے اسٹریٹجک تیل ذخائر استعمال کر سکتے ہیں تاکہ سپلائی میں کمی کو عارضی طور پر پورا کیا جا سکے۔

    تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج فارس کی اہمیت کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ممکن نہیں، کیونکہ یہ خطہ اب بھی عالمی توانائی سپلائی کا بنیادی ستون ہے۔

    ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

    خلیج فارس کی تیل تنصیبات، ریفائنریز اور اہم سمندری راستے عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر یہ تنازع مزید بڑھتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔

    موجودہ صورتحال میں عالمی منڈی، حکومتیں اور توانائی کمپنیاں حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس تنازع کا مستقبل عالمی توانائی کے استحکام کا تعین کرے گا۔

  • 1936 میں لی گئی ‘پناہ گزین ماں’ تصویر، جس نے امریکہ کے ریاست کی پالیسوں یکسر تبدیل کرنے کے ساتھ صحافتی اخلاقیاتی ضابطے کی بنیاد رکھی

    1936 میں لی گئی ‘پناہ گزین ماں’ تصویر، جس نے امریکہ کے ریاست کی پالیسوں یکسر تبدیل کرنے کے ساتھ صحافتی اخلاقیاتی ضابطے کی بنیاد رکھی

    آج کا سپر پاور امریکہ، ماضی میں کئی بحرانوں سے گزر چکا ہے۔ سنہ 1929 سے 1939 تک جاری رہنے والا معاشی بحران، جس نے امریکی معیشت، سیاست اور عام زندگی کی سمت ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ اس بحران کو ‘گریٹ ڈپریشن’ یا ‘شدید کساد بازاری’ سے نام سے جانا جاتا ہے۔

    اس بحران کے دوران چند برسوں میں امریکہ میں بے روزگاری کی شرح 25 فیصد تک پہنچ گئی۔ فیکٹریاں بند ہوئیں، کھیت اجڑ گئے اور تعمیراتی کام رک گیا۔ لاکھوں خاندانوں کے پاس نہ آمدن رہی نہ بچت۔ شہروں میں روٹی کی قطاریں لگنے لگیں اور دیہی علاقوں میں لوگ اپنے کھیت چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔

    اس بحران کے دوران 1936 میں امریکی ریاست کیلیفورنیا میں پناہ گزینوں کی کیمپ میں بیٹھی ایک بے گھر سات بچوں کی بیواہ ماں کی کی لی گئی تصویر نے خاموش بھوک کو زبان دی اور اس تصویر نے نہ صرف ریاست کو شہریوں مشکل وقت میں مدد کرنے کے رجحان یو یکسر تبدیل کیا مگر صحافتی بنیادی اخلاقیات کے نئے اصولوں کی بنیاد رکھی۔

    یہ انسانی تاریخ میں لی گئیں انتہائی طاقتور تصاویر میں ایک ہے۔ جس نے ماں، غربت اور ریاستی بے حسی کی پوری تاریخ ایک فریم میں سمیٹ لی۔

    یہ تصویر ڈورتھیا لینگ نے لی، جو اس وقت امریکی حکومت کے ایک پروگرام کے تحت کام کر رہی تھیں۔ اس پروگرام کا مقصد ان بے گھر اور دربدر کسان خاندانوں کی زندگی کو دستاویزی شکل دینا تھا جو معاشی بحران کے باعث ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے پر مجبور تھے۔ اس دور میں لاکھوں لوگ روزگار، گھر اور تحفظ کھو چکے تھے۔

    ڈورتھیا لینگ کئی ہفتوں سے کیلیفورنیا میں ان عارضی کیمپوں کی تصویریں بنا رہی تھیں جہاں نقل مکانی کرنے والے خاندان رہتے تھے۔ جب وہ نیپومو کے قریب سے گزریں تو پناہ گزینوں کی ایک کیمپ پر ‘مٹر چننے والوں کی کیمپ’ لکھا ہواتھا۔ اس تحریر نے ڈورتھیا لینگ کو گاڑی موڑنے پر مجبور کیا۔ بعد میں انہوں نے لکھا: ‘ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی آواز انہیں واپس بلا رہی ہو۔’

    اس عارضی کیمپ میں، کپڑے اور ٹین کی چادروں سے بنے خیمے کے اندر، ایک عورت بیٹھی تھی۔ اس کے بچے اس سے لپٹے ہوئے تھے اور اس کی نظریں کیمرے سے ہٹی ہوئی تھیں۔ اس کا ایک ہاتھ چہرے پر تھا، جیسے وہ کسی آنے والے کل کے بارے میں سوچ رہی ہو۔

    ڈورتھیا لینگ نے تیزی سے چھ تصویریں لیں۔ انہوں نے زیادہ سوال نہیں کیے کیونکہ ان کے بقول وہ اس عورت کی خودداری کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتی تھیں۔ یہ لمحہ مختصر تھا مگر اس کا اثر دیرپا ثابت ہوا۔

    آخری تصویر وہی بنی جسے دنیا آج جانتی ہے۔ دو بچے ماں کے کندھوں میں منہ چھپائے ہوئے، ایک بچہ اس کی گود میں اور ماں کہیں دور دیکھتی ہوئی۔ یہ ترتیب بنائی نہیں گئی تھی مگر احساس کے عین مطابق تھی۔ اس تصویر کا ‘پناہ گزین ماں’ نام دیا گیا۔

    سنہ 1936 میں لی گئی بے گھر ماں کی تصویر دنیا کی طاقتور ترین تصویروں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ کسی واقعے کی نہیں بلکہ ایک لمحے کی گواہ ہے۔ ایسا لمحہ جب انسان کے پاس رونے کا وقت نہیں ہوتا اور صرف سوچنے کی گنجائش رہ جاتی ہے۔

    کئی دہائیوں تک اس عورت کا نام کسی کو معلوم نہیں تھا۔ بعد میں اس کی شناخت فلورنس اوونز تھامسن کے طور پر ہوئی، جو اس تصویر کے وقت 32 سال کی تھیں۔ وہ سات بچوں کی ماں تھیں، چروکی نسل سے تعلق رکھتی تھیں اور ان کے شوہر کا انتقال ہو چکا تھا۔

    فلورنس کا خاندان کھیتوں میں مزدوری کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا تھا۔ مٹر، کپاس اور سبزیاں چننا ہی ان کا ذریعہ معاش تھا۔ جس دن یہ تصویر لی گئی، ان کی گاڑی خراب ہو چکی تھی، کام ختم ہو گیا تھا اور کھانے کو بہت کم تھا۔

    فلورنس مکمل بھوک سے مر نہیں رہی تھیں مگر بقا کی حد پر ضرور کھڑی تھیں، جہاں ایک دن کا تعطل سب کچھ بدل سکتا تھا۔

    جب یہ تصویر اخبارات میں شائع ہوئی تو عوامی ردعمل فوری تھا۔ غصہ، شرمندگی اور دباؤ نے ریاستی اداروں کو حرکت میں آنے پر مجبور کیا۔ حکومت نے نیپومو کے کیمپ کے لیے 20000 پاؤنڈ خوراک بھیجنے کا حکم دیا۔

    مگر تصویر کی سب سے تلخ حقیقت یہی ہے کہ جب امداد پہنچی تو فلورنس اور اس کا خاندان وہاں سے جا چکا تھا۔ وہ اس مدد سے کبھی فائدہ نہ اٹھا سکے جو انہی کے چہرے نے ممکن بنائی تھی۔

    ابتدا میں امریکی حکومت نے بحران کو عارضی سمجھا۔ مگر جب حالات بہتر نہ ہوئے تو ریاست کو مداخلت کرنا پڑی۔ سنہ 1933 میں صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ اقتدار میں آئے اور نیو ڈیل پروگرام کا آغاز کیا۔ جس میں اس تصویر کا بڑا کردار تھا۔

    رضامندی کے بغیر شہرت

    یہ تصویر راتوں رات مشہور ہو گئی مگر فلورنس کو اس کا علم تک نہ تھا۔ انہوں نے کسی اجازت نامے پر دستخط نہیں کیے اور انہیں ایک ڈالر بھی نہیں ملا۔ ان کی زندگی ویسی ہی سخت رہی جیسی تصویر سے پہلے تھی۔

    کئی برس بعد انہوں نے کہا کہ وہ تصویر لیے جانے پر خوش نہیں تھیں۔ ان کا احساس تھا کہ ان کی مجبوری کو علامت بنا دیا گیا مگر ان کی حقیقت نہیں بدلی گئی۔

    اخلاقی سوالات

    بے گھر ماں کی تصویر نے صحافتی دنیا میں ایسے سوالات اٹھائے جو آج بھی زندہ ہیں۔ کیا دکھ کی تصویر لینا درست ہے، کیا آگاہی کافی ہے، اور کیا دستاویز بنانا مدد ہے یا استحصال۔ خود ڈورتھیا لینگ نے بعد میں اعتراف کیا کہ یہ تصویر انہیں عمر بھر یاد رہی اور انہیں پریشان کرتی رہی۔

    یہ تصویر آج کیوں اہم؟

    بے گھر ماں صرف شدید معاشی کساد بازاری کی کہانی نہیں۔ یہ تصویر ہر اس دور میں دوبارہ سامنے آئی جب دنیا معاشی بحران، پناہ گزینی یا بھوک جیسے مسائل سے دوچار ہوئی۔ فلورنس کے چہرے کے تاثرات کسی ایک ملک یا وقت تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک عالمی زبان بن گئے۔

    فلورنس سنہ 1983 تک زندہ رہیں۔ زندگی کے آخری دنوں میں جب انہیں طبی علاج کی ضرورت پڑی تو لوگوں نے چندہ جمع کیا۔ یہ واحد موقع تھا جب تصویر نے انہیں کچھ واپس لوٹایا۔

  • امریکہ کا وینزویلا میں فوجی آپریشن، صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کا دعویٰ

    امریکہ کا وینزویلا میں فوجی آپریشن، صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کا دعویٰ

    تین جنوری 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے بعد صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ ایک کامیاب آپریشن تھا، جس میں امریکی سیکیورٹی اداروں نے حصہ لیا۔

    یہ اعلان سامنے آتے ہی عالمی سطح پر شدید ہلچل پیدا ہو گئی۔ وینزویلا کی حکومت نے اس دعوے کو امریکی فوجی جارحیت قرار دیتے ہوئے مسترد کیا، جبکہ دارالحکومت کاراکاس اور دیگر شہروں میں دھماکوں، فضائی نقل و حرکت اور بجلی کی بندش کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

    مادورو کا دور اقتدار اور پس منظر

    نکولس مادورو 2013 سے وینزویلا کے صدر رہے ہیں اور نومبر 2025 میں تیسری بار منتخب ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ان انتخابات پر اندرون اور بیرون ملک شدید سوالات اٹھے تھے، جن میں شفافیت اور مبینہ دھاندلی کے الزامات شامل تھے۔ انہی تنازعات نے وینزویلا کے سیاسی منظرنامے کو مزید تقسیم کا شکار کیا۔

    امریکہ طویل عرصے سے مادورو حکومت پر منشیات اسمگلنگ، نارکو ٹیررازم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتا آیا ہے، جس کے نتیجے میں سخت معاشی پابندیاں بھی نافذ کی گئیں۔

    امریکی اعلان اور محدود تفصیلات

    صدر ٹرمپ نے مادورو کی گرفتاری کا دعویٰ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کیا اور کہا کہ مزید تفصیلات بعد میں دی جائیں گی۔ تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مادورو کو کہاں منتقل کیا گیا، یا اس کارروائی کی قانونی بنیاد کیا ہے۔ یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا امریکی کانگریس کو اس کارروائی سے قبل اعتماد میں لیا گیا تھا یا نہیں۔

    اطلاعات کے مطابق کارروائی سے قبل وینزویلا کے متعدد فوجی اور شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث شہری زندگی متاثر ہوئی۔

    وینزویلا حکومت کا ردعمل

    کاراکاس میں حکام نے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خودمختار ملک پر براہ راست حملہ ہے۔ حکومت نے ملک بھر میں ہنگامی اقدامات کیے اور عوام و فوج کو چوکنا رہنے کی ہدایت جاری کی۔ سرکاری بیان میں الزام لگایا گیا کہ امریکہ کا اصل ہدف سیاسی تبدیلی کے ساتھ ساتھ وینزویلا کے تیل اور قدرتی وسائل ہیں۔

    علاقائی اور عالمی سطح پر ردعمل

    ایران، کیوبا، روس اور بعض دیگر ممالک نے امریکی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب کچھ ریاستوں نے امریکہ کے مؤقف کو سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے کے اقدامات کے تناظر میں دیکھا ہے۔

    قانونی اور سفارتی سوالات

    بین الاقوامی ماہرین کے مطابق کسی خودمختار ریاست کے صدر کی فوجی کارروائی کے ذریعے گرفتاری عالمی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں سے متصادم ہو سکتی ہے۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں منشیات، دہشت گردی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف ہیں۔

    یہ پیش رفت محض ایک دعوے یا فوجی کارروائی تک محدود نہیں بلکہ اس نے لاطینی امریکہ میں کشیدگی، عالمی سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔

     

  • روزانہ بلیک کافی پینے والوں میں موت کے خطرات کم، نئی امریکی تحقیق

    روزانہ بلیک کافی پینے والوں میں موت کے خطرات کم، نئی امریکی تحقیق

    حال ہی میں سامنے آنے والی ایک بڑی سائنسی تحقیق میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ جو لوگ روزانہ بلیک کافی پیتے ہیں، ان میں مجموعی طور پر موت کے خطرات کم دیکھے گئے ہیں۔ یہ تحقیق امریکی ماہرین غذائیت اور صحت نے کی، جسے نیوٹریشن اور عوامی صحت کے شعبے سے وابستہ محققین نے مشترکہ طور پر مکمل کیا۔

    یہ مطالعہ امریکا میں کیے جانے والے ایک طویل المدتی قومی صحت اور غذائی سروے کے ڈیٹا پر مبنی تھا۔ اس تحقیق میں 46 ہزار سے زائد بالغ افراد کو شامل کیا گیا، جن کی عمریں مختلف تھیں اور جن کا تعلق امریکا کے مختلف سماجی اور معاشی طبقات سے تھا۔ ان افراد کی صحت، خوراک اور روزمرہ عادات کا ریکارڈ سنہ 1999 سے سنہ 2018 تک یعنی تقریباً 19  برس تک جمع کیا گیا۔

    تحقیق کے دوران شرکا سے یہ تفصیل لی گئی کہ وہ روزانہ کتنی مقدار میں کافی پیتے ہیں اور آیا وہ کافی میں چینی، کریم یا دودھ شامل کرتے ہیں یا نہیں۔ بعد ازاں ان افراد کے صحت سے متعلق نتائج کو قومی ڈیٹا کے ساتھ جوڑا گیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وقت کے ساتھ ان کی صحت اور اموات کی شرح میں کیا فرق آیا۔

    تحقیق کے نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ ایک کپ بلیک کافی پیتے تھے، ان میں مجموعی طور پر موت کے خطرے میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ یہ کمی تقریباً سولہ فیصد ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ جو لوگ روزانہ دو سے تین کپ بلیک کافی پیتے تھے، ان میں یہ فائدہ مزید بڑھ کر سترہ فیصد تک پہنچ گیا۔ تاہم چار یا اس سے زیادہ کپ پینے والوں میں اضافی فائدہ نمایاں نہیں رہا۔

    دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ یہ مثبت اثرات صرف ان افراد میں دیکھے گئے جو بلیک کافی بغیر چینی اور بغیر کریم کے پیتے تھے۔ جیسے ہی کافی میں چینی یا زیادہ چکنائی شامل کی گئی، اس کے صحت پر پڑنے والے فوائد ختم ہو گئے۔ محققین کے مطابق اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اضافی شوگر اور سیر شدہ چکنائی جسم میں سوزش اور دل کی بیماریوں کے خطرات بڑھا دیتی ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ بلیک کافی پینے والوں میں دل کی بیماریوں سے ہونے والی اموات نسبتاً کم تھیں۔ ماہرین کے مطابق بلیک کافی میں موجود قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس اور کیفین جسم کے میٹابولزم اور دل کے افعال پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بلیک کافی کو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے کم خطرے، دماغی چستی اور توجہ میں اضافے سے بھی جوڑا گیا ہے۔

    تاہم محققین نے یہ وضاحت بھی کی کہ یہ تحقیق مشاہداتی نوعیت کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں کافی پینے اور بہتر صحت کے درمیان تعلق تو دکھایا گیا ہے، لیکن یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ صرف بلیک کافی ہی صحت بہتر ہونے کی واحد وجہ ہے۔ ممکن ہے کہ بلیک کافی پینے والے افراد مجموعی طور پر صحت مند طرزِ زندگی اپناتے ہوں، جیسے بہتر غذا، جسمانی سرگرمی اور تمباکو نوشی سے پرہیز۔

    ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بلیک کافی اعتدال میں پینا زیادہ تر صحت مند افراد کے لیے محفوظ ہے، لیکن بہت زیادہ کیفین بے خوابی، گھبراہٹ، تیز دل کی دھڑکن اور معدے کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو دل، معدے یا نیند کے مسائل کا شکار ہوں، انہیں کافی کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔

    اس تحقیق کا مجموعی پیغام یہی ہے کہ اگر بلیک کافی کو چینی اور کریم کے بغیر اور اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ صحت پر منفی اثر ڈالنے کے بجائے بعض صورتوں میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم ہر فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی جسمانی حالت اور صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی اپنی روزمرہ عادات کا فیصلہ کرے۔