Tag: امریکہ

  • تامل نژاد نتھیا رامن لاس اینجلس کی میئر بننے کی دوڑ میں، امریکی سیاست میں نئی تبدیلی کی علامت؟

    تامل نژاد نتھیا رامن لاس اینجلس کی میئر بننے کی دوڑ میں، امریکی سیاست میں نئی تبدیلی کی علامت؟

    امریکہ کے دوسرے بڑے شہر لاس اینجلس میں رواں سال ہونے والے میئر کے انتخابات نے غیر معمولی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ انڈین تامل نژاد امریکی سیاست دان اور شہری منصوبہ ساز نتھیا رامن نے ابتدائی انتخابی مرحلہ عبور کرتے ہوئے موجودہ میئر کیرن باس کے مقابلے میں جگہ بنا لی ہے۔ اب نومبر میں ہونے والے حتمی مقابلے میں دونوں امیدوار آمنے سامنے ہوں گے۔

    45 سالہ نتھیا رامن کو امریکی سیاست میں ترقی پسند یا سوشلسٹ خیالات کی نمائندہ شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ وہ اس وقت لاس اینجلس سٹی کونسل کی رکن ہیں اور 2020 میں پہلی بار منتخب ہو کر شہر کی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کیا تھا۔ انہیں لاس اینجلس سٹی کونسل کے لیے منتخب ہونے والی پہلی جنوبی ایشیائی خاتون بھی قرار دیا جاتا ہے۔

    نتھیا رامن انڈین ریاست کیرالہ کے ایک تامل خاندان میں پیدا ہوئیں۔ جب وہ چھ برس کی تھیں تو ان کا خاندان امریکہ منتقل ہو گیا۔ انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے سیاسیات میں تعلیم حاصل کی جبکہ بعد ازاں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) سے اربن پلاننگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

    تعلیم مکمل کرنے کے بعد نتھیا رامن کچھ عرصہ انڈیا واپس گئیں جہاں انہوں نے "ٹرانسپیرنٹ چنئی” کے نام سے ایک تحقیقی ادارہ قائم کیا۔ یہ ادارہ شہری مسائل اور مقامی حکومتوں کی کارکردگی پر تحقیق کرتا تھا۔ بعد میں وہ دوبارہ امریکہ واپس آئیں اور لاس اینجلس میں سماجی سرگرمیوں سے وابستہ ہو گئیں۔

    لاس اینجلس میں انہوں نے بے گھر افراد کے مسائل پر کام کرنے والی تنظیم "سیلاہ نیبرہڈ ہوم لیس کولیشن” کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی کام نے انہیں عملی سیاست کی طرف راغب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں بے گھر افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی لیکن سرکاری ادارے اس مسئلے کو مؤثر طریقے سے حل نہیں کر پا رہے تھے۔

    لاس اینجلس امریکہ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اس کی آبادی تقریباً 40 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جبکہ شہر کا سالانہ بجٹ 14 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ شہر ہالی ووڈ فلمی صنعت کا مرکز بھی ہے۔ تاہم گزشتہ کئی برسوں سے بے گھر افراد، جرائم، مہنگی رہائش اور عوامی خدمات کی خراب صورتِ حال یہاں کی سیاست کے اہم ترین موضوعات بنے ہوئے ہیں۔

    نتھیا رامن کی انتخابی مہم کا مرکز بھی یہی مسائل ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ شہر میں سستی رہائش کی فراہمی، مقامی حکومت کی کارکردگی میں بہتری اور فلمی صنعت کے فروغ کے لیے نئی پالیسیاں ضروری ہیں۔ انہوں نے موجودہ میئر کیرن باس کی بعض پالیسیوں خصوصاً بے گھر افراد سے متعلق پروگراموں پر تنقید بھی کی ہے اور کہا ہے کہ ان پروگراموں پر بہت زیادہ اخراجات آ رہے ہیں لیکن نتائج توقعات کے مطابق نہیں ہیں۔

    امریکی سیاست میں نتھیا رامن کو سینیٹر برنی سینڈرز اور ترقی پسند سیاسی حلقوں کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ ان کی کامیابی کو امریکہ کے بڑے شہروں میں بائیں بازو اور سوشل ڈیموکریٹ نظریات کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نیویارک، سیئٹل اور بوسٹن جیسے شہروں میں بھی ترقی پسند امیدوار حالیہ برسوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں۔

    رواں ماہ ہونے والے ابتدائی انتخابات میں نتھیا رامن نے اپنے اہم حریف اور ٹی وی شخصیت اسپینسر پراٹ کو پیچھے چھوڑ کر دوسرے نمبر پر جگہ بنائی۔ اس طرح وہ موجودہ میئر کیرن باس کے ساتھ حتمی مقابلے کے لیے منتخب ہو گئیں۔ انتخابی نتائج نے واضح کر دیا کہ لاس اینجلس کی سیاست اس وقت دو مختلف نظریاتی دھڑوں کے درمیان تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک طرف روایتی ڈیموکریٹ قیادت ہے جبکہ دوسری طرف ترقی پسند اور سوشلسٹ خیالات کے حامی سیاسی کارکن ہیں۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نومبر میں ہونے والا میئر کا انتخاب صرف ایک شہری عہدے کی دوڑ نہیں ہوگا بلکہ یہ امریکہ کے بڑے شہروں میں مستقبل کی سیاست کا رخ بھی متعین کر سکتا ہے۔ اگر نتھیا رامن کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ لاس اینجلس کی پہلی انڈین نژاد اور جنوبی ایشیائی خاتون میئر بن جائیں گی۔ ان کی کامیابی کو امریکی سیاست میں تارکینِ وطن، خواتین اور ترقی پسند سیاسی تحریکوں کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جائے گا۔ دوسری جانب اگر موجودہ میئر کیرن باس اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہیں تو یہ روایتی ڈیموکریٹ قیادت کے لیے ایک اہم فتح ہوگی۔

    اب تمام نظریں نومبر میں ہونے والے اس اہم انتخاب پر مرکوز ہیں، جہاں فیصلہ ہوگا کہ لاس اینجلس کے ووٹر شہر کے مستقبل کے لیے روایتی سیاسی قیادت کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر ایک نئی ترقی پسند آواز کو اقتدار سونپتے ہیں۔

    نتھیا رامن لاس اینجلس کے علاقے سلور لیک میں رہتی ہیں۔ ان کے شوہر ولی چندر شیکرن ٹیلی ویژن کے اسکرین رائٹر ہیں اور ہارورڈ یونیورسٹی میں ان کے ہم جماعت بھی رہ چکے ہیں۔ اس جوڑے کے جڑواں بچے ہیں، جن میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

    نتھیا رامن ہندو مذہب پر عمل کرتی ہیں اور مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور مکالمے کے فروغ کے لیے منعقد ہونے والی تقریبات میں باقاعدگی سے شرکت کرتی ہیں۔

  • امریکہ کا یومِ آزادی: امریکی سفارتخانے اسلام آباد میں آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش

    امریکہ کا یومِ آزادی: امریکی سفارتخانے اسلام آباد میں آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش

    اسلام آباد: پاکستان میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی کے سلسلے میں آج یو ایس ایجوکیشن فاؤنڈیشن اِن پاکستان (یو ایس اِی ایف پی) کی عمارت میں آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس میں فنکاروں، ڈیزائنرز، کاروباری شخصیات اور ثقافتی شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

    اس تقریب میں معاشی ترقی، دوطرفہ تعلقات اور بین الثقافتی روابط کو فروغ دینے کے لیے تخلیقی شعبوں سے منسلک صنعتوں کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ پروگرام کے مہمانِ خصوصی امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر اور پاکستان کے معروف فیشن ڈیزائنر ایچ ایس وائی تھے، جبکہ معروف براڈکاسٹر اور فلم ساز توثیق حیدر نے تقریب کی نظامت کی۔

    امریکہ کی آزادی کے ڈھائی سو سال مکمل ہونے کی مناسبت سے جاری فریڈم 250 مہم کے تحت منعقد ہونے والی اس تقریب میں تین نمایاں سرگرمیاں شامل تھیں۔ فریڈم 250 انٹرپرینیورشپ لیکچر، جس کا مقصد امریکی کاروباری مہارت اور بہترین طریقۂ کار سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔

    اس کے علاوہ ایک آرٹس مارکیٹ پلیس، جس میں پاکستان۔امریکہ ایلومنائی نیٹ ورک کے بیس سابق شرکاء کے فن پاروں اور تخلیقی کام کو پیش کیا گیا، اور ایک فیشن رن وے شو، جس میں امریکی ڈیزائن، ثقافت اور ٹیکسٹائل جدت کے ڈھائی سو سالہ سفر کو اجاگر کیا گیا۔ ان تمام سرگرمیوں میں کاروبار، ثقافت اور فنونِ لطیفہ کے شعبوں میں امریکہ اور پاکستان کے مضبوط دوطرفہ تعلقات کی گہرائی اور مضبوطی کی عکاسی کی گئی۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا کہ فنونِ لطیفہ اقوام اور عوام کے درمیان پائیدار روابط قائم کرنے کی منفرد صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ترین روابط میں سے ایک ہے۔

    گزشتہ پانچ برسوں کے دوران امریکہ کو پاکستانی ملبوسات اور تیار شدہ گارمنٹس کی برآمدات کی اوسط مالیت چار ارب ڈالر سالانہ سے زائد رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے بہت سے ملبوسات امریکی کپاس سے بنائے گئے تھے، جبکہ پاکستان ہر سال تقریباً آٹھ سو ملین ڈالر مالیت کی امریکی کپاس اور دیگر خام ٹیکسٹائل مواد درآمد کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں ڈینم کپڑے اور ڈینم ملبوسات تیار کرنے والے نمایاں ممالک میں شامل ہے اور امریکہ میں فروخت ہونے والی جینز کی ایک بڑی تعداد کا سفر پاکستان ہی سے شروع ہوتا ہے، جو اس حقیقت کی زبردست یاد دہانی ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات دونوں ملکوں کے عوام کی روزمرہ زندگیوں کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ذرا لیوائیز کی ایک جینز کو دیکھیں، یہ اس بات کی ایک طاقتور یاد دہانی ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات دونوں ممالک کے لوگوں کی روزمرہ زندگیوں میں بُنے ہوئے ہیں۔‘‘

    ناظم الامور نیٹلی بیکر نے تخلیقی کاروباری سرگرمیوں کو معاشی مواقع اور دوطرفہ شراکت داری کے فروغ کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ طویل عرصے سے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ تخلیقی صنعتیں ترقی اور معاشی نمو کو مہمیز دیتی ہیں۔ یہ 1776 سے ہماری قومی شناخت کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنون اور ڈیزائن کے شعبے میں امریکی کامیابی صرف صلاحیت ہی کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسی ثقافت کا ثمر ہے جو تجربات، کاروباری سوچ اور نئے خیالات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف شعبوں میں امریکی تخلیقی صنعتیں آج بھی عالمی مباحث پر اثرانداز ہو رہی ہیں اور دنیا بھر کے لوگوں کو متاثر کر رہی ہیں۔

    تقریب کی نمایاں سرگرمیوں میں فیشن رن وے شو بھی شامل تھا، جس نے ٹیکسٹائل، ڈیزائن اور ثقافتی کہانیوں کے ذریعے امریکی فیشن کے ڈھائی سو سالہ سفر میں نئی جان ڈال دی۔ یہ شو امریکہ کے تخلیقی ورثے اور خود کو مسلسل نئے انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت کی بھرپور بصری عکاسی کرتا تھا۔

    فریڈم 250 مہم امریکہ کی آزادی کے ڈھائی سو سال مکمل ہونے کی یاد میں سال بھر جاری رہنے والی تقریبات، شراکت داریوں اور پروگراموں کا سلسلہ ہے، جس کا مقصد امریکی کامیابیوں کو اجاگر کرنا، امریکی اقدار کو فروغ دینا اور دنیا بھر میں امریکہ کے شراکت دار ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانا ہے۔

  • پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ، آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان

    پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ، آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت امریکہ اور ایران کے صدور نے دستخط کر کے منظور کی ہے جبکہ انہوں نے ثالث کی حیثیت سے اس کی توثیق کی ہے۔ ان کے مطابق دونوں حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر اس معاہدے پر دستخط اس بات کا ثبوت ہیں کہ فریقین تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر متفق ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انہوں نے فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قریب واقع ورسائی محل میں ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب میں انہوں نے مختصر طور پر کہا، ‘یہ معاہدہ ہو چکا ہے، میں نے ابھی ورسائی میں اس پر دستخط کیے ہیں۔’

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی سے گفتگو میں تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں نے باقاعدہ طور پر معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔

    مبصرین کے مطابق اگر معاہدے پر کامیابی سے عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ حالیہ برسوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

    شہباز شریف نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔ معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکہاپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور معمولات زندگی بحال کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    وزیراعظم کے مطابق پاکستان، شریک ثالث ریاست قطر کے تعاون سے، 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس معاہدے کی باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا۔ اس موقع پر فریقین کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا بھی آغاز کیا جائے گا تاکہ معاہدے پر عمل درآمد کے مختلف پہلوؤں کو حتمی شکل دی جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت خطے میں بہتر تعلقات، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد ثابت ہوگی۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی مثبت نتائج پیدا کرے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم نے ایک ایسے بحران کے خاتمے میں مدد دی جو پورے خطے اور دنیا کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا تھا۔ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم کے ارکان جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی کوششوں کو بھی سراہا۔

    انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی دانشمندانہ قیادت اور امن کے لیے عزم نے اس معاہدے کو ممکن بنایا۔ وزیراعظم نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی خدمات کا بھی اعتراف کیا۔

    شہباز شریف نے قطر کی قیادت کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت میں قطر کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کو بھی اس عمل میں تعاون اور مثبت کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔

    وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل کوششوں، غیر معمولی لگن اور امن کے فروغ کے لیے کردار نے اس اہم پیش رفت کو ممکن بنانے میں نمایاں حصہ ڈالا۔

  • امریکہ ایران تنازع: درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کی قیمت بے نقاب، شمسی توانائی بچاؤ کا ذریعہ، توانائی کے ماہرین کا چارٹر آف ڈیمانڈز

    امریکہ ایران تنازع: درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کی قیمت بے نقاب، شمسی توانائی بچاؤ کا ذریعہ، توانائی کے ماہرین کا چارٹر آف ڈیمانڈز

    پاکستان کے توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں نے ایک جامع چارٹر آف ڈیمانڈز پیش کیا ہے جس میں ملک کی انرجی سیکیورٹی کے لیے فوری اور بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ چارٹر الائنس فار کلائمیٹ جسٹس اینڈ کلین انرجی (ACJCE) اور پاکستان رینیوایبل انرجی کولیشن (PREC) کی نمائندگی میں تیار کیا گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ درآمد شدہ فوسل فیولز پر پاکستان کا انحصار کتنا خطرناک ہے۔ یہ وہ قیمت ہے جو ملک دہائیوں سے برداشت کر رہا ہے، لیکن اب اس چکر کو توڑنا ہوگا۔ اس بار صورتحال اتنی سنگین نہیں بنی کیونکہ شہریوں کی جانب سے بچھائی گئی شمسی توانائی نے گھروں، کاروباروں اور کھیتوں کو روشن رکھا۔ 2018 سے اب تک اس سستے اور صاف ذریعے نے تقریباً 12 بلین ڈالر کی ایندھن درآمدات سے بچنے میں مدد کی ہے۔

    چارٹر میں کہا گیا ہے کہ اب حکومت کو فیصلہ کن اقدامات اٹھانے ہوں گے، جن میں درج ذیل مطالبات شامل ہیں:

    ہنگامی اقدامات

    ماہرین نے نیشنل بیٹری اور انرجی سٹوریج ایمرجنسی کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم (BESS) پر تمام ٹیکس اور ڈیوٹیز فوری ختم کی جائیں۔ 100 میگاواٹ سے بڑے تمام سولر اور ونڈ پلانٹس کے لیے اسٹوریج کی مشترکہ تنصیب لازمی قرار دی جائے۔

    دوسرا بڑا مطالبہ سولر پر 10 فیصد جی ایس ٹی ختم کرنا اور سابقہ نیٹ میٹرنگ کا نظام بحال کرنا ہے۔ موجودہ نیٹ بلنگ نظام کے تحت برآمدات پر 11 سے 13 روپے فی یونٹ ملتے ہیں جبکہ درآمدات پر 35 سے 47 روپے وصول کیے جاتے ہیں، جو چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی لاگت میں 20 سے 40 فیصد اضافہ کرتا ہے۔

    مزید برآں، فوسل فیول اور خطرناک بڑی ہائیڈرو پاور کی توسیع کو فوری منجمد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ڈرافٹ میں شامل 5.7 گیگا واٹ فوسل صلاحیت کم از کم لاگٹ کے اصول پر پورا نہیں اترتی اور اسے منسوخ کرنے سے 11 بلین ڈالر سے زائد وسائل دوبارہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    پرانے فوسل فیول معاہدوں کو منسوخ کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ مالی سال 2024-25 میں تقریباً 1.8 ٹریلین روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس کا 60 فیصد فوسل پلانٹس کو جاتا ہے، جبکہ ان کا مجموعی استعمال محض 42.5 فیصد رہا ہے۔

    صنعتی اور مالیاتی ڈھانچہ

    چارٹر میں مقامی الیکٹرک گاڑیوں (EV) کی مینوفیکچرنگ اور چارجنگ انفراسٹرکچر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ پنجاب کی طرف سے تھری وہیلرز پر 3 کلو واٹ موٹر کی حد جیسی صوابدیدی پابندیوں کو ختم کر کے ٹیکنالوجی نیوٹرل قوانین بنائے جائیں۔

    ایک سنگل کلین انرجی فنانسنگ ونڈو قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، جو چھت کے سولر کٹس، EVs، اور یوٹیلیٹی سکیل بیٹریوں کے لیے سبسڈی اور رعایتی قرضے فراہم کرے۔ خاص طور پر الیکٹرک ٹو وہیلرز کے لیے الگ سکیم بنائی جائے، کیونکہ یہ ٹرانسپورٹ کے 54 فیصد ایندھن استعمال کرتے ہیں۔

    پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) کی آمدنی کا کم از کم 50 فیصد حصہ EV چارجنگ انفراسٹرکچر اور پبلک ٹرانسپورٹ کی الیکٹریفکیشن پر خرچ کیا جائے۔

    بین الاقوامی سطح پر از سر نو ترتیب

    ماہرین نے آئی ایم ایف پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آر ایس ایف (RSF) قرضے کو پاکستان کے طویل مدتی توانائی اہداف کے مطابق ڈھالا جائے اور 1.4 بلین ڈالر کے اس قرضے کو غیر قرض موسمیاتی فنانس میں تبدیل کیا جائے۔ ورلڈ بینک اور اے ڈی بی کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کو قابل تجدید توانائی اور گرڈ لچک میں تیز سرمایہ کاری کے لیے اپ ڈیٹ کیا جائے۔

    سیکٹرل اور کمیونٹی کی منتقلی

    چارٹر میں مائیکرو گرڈز اور کمیونٹی کی ملکیت والی توانائی کو فعال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ نیپرا کے موجودہ مائیکرو گرڈ قواعد و ضوابط میں اصلاح کی جائے جو ڈسکوز کی اجارہ داریوں کو مضبوط کرتے ہیں۔

    زرعی ٹیوب ویلوں اور ماہی گیروں کی کشتیوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے قومی پروگرام شروع کیا جائے۔ محروم علاقوں میں خواتین اور کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے سرکاری فنڈز سے سولر کٹس اور بیٹریاں فراہم کی جائیں۔

    آخر میں، ایک منصفانہ منتقلی کا فریم ورک قائم کیا جائے جو توانائی کے تمام فیصلوں کو سماجی اور ماحولیاتی معیارات سے ہم آہنگ کرے۔ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ میں ترمیم کر کے آزادانہ پیشگی اور باخبر رضامندی کو شامل کیا جائے۔

  • یومِ مئی: پاکستانی محنت کشوں کے حالات اور چیلنجز

    یومِ مئی: پاکستانی محنت کشوں کے حالات اور چیلنجز

    ہر سال یکم مئی کو دنیا بھر میں یومِ مزدور منایا جاتا ہے۔ یہ دن مئی 1886میں امریکہ کے شہر شکاگو کے محنت کشوں کی اُس تاریخی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے جب انہوں نے آٹھ گھنٹے کے اوقاتِ کار اور بہتر حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کو تسلیم کیا گیا، مگر آج بھی بہت سے ممالک، خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں، محنت کشوں کو وہ سہولیات اور تحفظ حاصل نہیں جو ان کا بنیادی حق ہیں۔

    پاکستان میں یومِ مزدور سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے۔ ٹریڈ یونیز اور مزدور تحریکیں جلسے، سیمینارز اور ریلیاں نکالتی ہیں اور شکاگو کے مزدوروں کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ، ملک کے اندر مزدوروں کی حالت زار پر بھی بات چیت کی جاتی ہے۔ صنعتی اور زرعی دونوں شعبوں میں کام کرنے والے محنت کش آج بھی کم اجرت، غیر محفوظ ماحول اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔

    پاکستان کے تازہ ترین لیبر فورس سروے (2024-25) کے مطابق ملک میں مزدوروں یا لیبر فورس کی مجموعی تعداد تقریباً 83 ملین (8 کروڑ 31 لاکھ) تک پہنچ چکی ہے۔ اس میں وہ تمام افراد شامل ہیں جو کام کر رہے ہیں یا کام کی تلاش میں ہیں۔ سروے کے مطابق روزگار حاصل کرنے والے افراد کی تعداد بھی بڑھ کر تقریباً 79.7 ملین ہو گئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں لیبر فورس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔

    پاکستان میں مزدور اور ٹریڈ یونینز کی صورتحال

    پاکستان میں ٹریڈ یونینز کی صورتحال خاصی کمزور ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے مطابق ایک فیصد سے بھی کم مزدور کسی بھی ٹریڈ یونین سے منسلک ہے، کیوں کہ اداروں میں تھرڈ پارٹی کانٹریکٹ کے ذریعے ملازمت دی جاتی ہے، جس میں مزدوروں کو روزانہ، ہفتہ وار یا ماہانہ اجرت پر رکھا جاتا ہے، اور لیبر قوانین کے تحت کوئی بھی مراعت نہیں دی جاتی۔

    صنعتی مزدوروں کی حالت پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فیکٹریوں، کارخانوں اور ورکشاپس میں کام کرنے والے لاکھوں مزدور طویل اوقات تک کام کرتے ہیں، مگر انہیں مناسب معاوضہ نہیں ملتا۔ بہت سے مزدور غیر رسمی معاہدوں پر کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں نوکری کا تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ صوبوں میں کم از کم اجرت کا قانون نافذ ہے اور اجرت کے تعین کے لیے سہ فریقی بورڈز بھی بنے ہوئے ہیں، مگر اس پر عمل نہیں ہوتا۔ رواں مالی سال کے دوران تمام صوبوں نے کم از کم اجرت 40 ہزار روپے ماہانہ یا کچھ صوبوں نے تھوڑی زیادہ مقرر کی ہوئی ہے، مگر ٹریڈ یونین نمائندوں کے مطابق اس پر کہیں بھی عمل درآمد نہیں ہوتا۔

    کام کی جگہ پر حادثات کی صورت میں نہ تو انشورنس ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی مناسب معاوضہ دیا جاتا ہے۔ حفاظتی اقدامات کی کمی کے باعث آئے روز حادثات پیش آتے رہتے ہیں، جن میں قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔

    اجتماعی سودا کاری یعنی کولیکٹو بارگیننگ کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ماضی میں ٹریڈ یونینز مزدوروں کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی تھیں، مگر وقت کے ساتھ ان کی تعداد اور اثر و رسوخ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ آج بہت سے اداروں میں یونین بنانے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے مزدور اپنی آواز مؤثر انداز میں بلند نہیں کر پاتے۔

    ٹریڈ یونینز کے زوال کی ایک وجہ قانونی اور انتظامی رکاوٹیں بھی ہیں۔ یونین رجسٹر کروانے کا عمل پیچیدہ ہے اور کئی بار مزدوروں کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ نجی شعبے میں ملازمین کو یونین بنانے پر ملازمت سے نکالے جانے کا خوف بھی رہتا ہے، جس کی وجہ سے وہ منظم نہیں ہو پاتے۔  

    زرعی مزدوروں کی بدحالی

    زراعت پاکستان کی معیشت کا اہم ستون ہے، مگر اس اہم شعبے میں کام کرنے والے مزدور شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق پاکستان میں زرعی شعبہ اب بھی سب سے بڑا روزگار فراہم کرنے والا شعبہ ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کل روزگار کا تقریباً 33.1 فیصد حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔

    اگر اسے مجموعی روزگار (تقریباً 83 ملین افراد) پر لاگو کیا جائے تو اندازاً 26 سے 27 ملین (تقریباً 2 کروڑ 70 لاکھ) افراد زرعی شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ اس میں کھیتی باڑی، مویشی پالنا، ماہی گیری اور اس سے متعلق دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔ اگرچہ زراعت اب بھی سب سے بڑا شعبہ ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس کا حصہ کم ہو رہا ہے کیونکہ مزدور بڑی تعداد میں خدمات (سروسز) اور دیگر شعبوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

    دیہی علاقوں میں کام کرنے والے یہ مزدور زمین کے مالک نہیں ہوتے بلکہ بڑے زمینداروں کے لیے کام کرتے ہیں۔ سندھ میں ٹیننسی ایکٹ 1950 لاگو ہے، جس کے تحت زرعی مزدور یا ہاری فصل کی پیداوار کے آدھے حصے کا حقدار ہوتا ہے۔ مگر سندھ میں کہیں بھی ہاری کو آدھا حصہ نہیں ملتا۔ کچھ علاقوں میں حصہ چوتھائی اور کہیں تو آٹھواں حصہ دیا جاتا ہے۔ اکثر علاقوں میں ہاریوں کو روزانہ اجرت کی بنیاد پر بھی کام پر رکھا جاتا ہے۔ایسے مزدوروں کو کم اجرت دی جاتی ہے اور اکثر اوقات اجرت وقت پر بھی ادا نہیں کی جاتی۔ خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی کھیتوں میں کام کرتی ہے، مگر انہیں نہ تو مناسب اجرت دی جاتی نہ ہی قانونی تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی تعلیم یا صحت کی مناسب سہولیات میسر ہیں۔

    زرعی مزدوروں کی ایک بہت بڑی تعداد جبری مشقت کا شکار ہے، جہاں زمیندار ان سے بغیر اجرت ادا کیے جبری طور پر مزدوری کرواتے ہیں۔ سندھ میں کئی مقامات پر پرائیویٹ جیل ہیں، جہاں ہاریوں یا زرعی مزدوروں کو ان کے خاندانوں سمیت باندی بنا کر رکھا جاتا ہے۔ ایسے کئی خاندان ہر سال سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر آزاد کیے جاتے ہیں۔ ایسے مزدور خاندانوں کی اکثریت شیڈول کاسٹ ہندو برادری سے ہوتا ہے، جو بغیر کسی لیگل سپورٹ اور سوشل سیکیورٹی کے دن رات کھیتی باڑی کا کام کرتے رہتے ہیں اور ان کو جینے کے لیے صرف دو وقت کا کھانا اور عارضی گھر بنانے کے لیے چھوٹا زمین کا ٹکڑہ دیا جاتا ہے، جہاں کوئی بھی بنیادی سہولت مہیا نہیں ہوتی۔

    سندھ میں بانڈیڈ لیبر (جبری مشقت) کی تعداد کے بارے میں مختلف رپورٹس میں اندازے دیے گئے ہیں، تاہم سندھ ہاری ویلفیئر ایسو سی ایشن  کی تازہ رپورٹ کے مطابق سندھ میں 2025 تک تقریباً 17 لاکھ (1.7 ملین) افراد بانڈیڈ لیبر کا شکار ہیں، جن میں بڑی تعداد زرعی شعبے سے وابستہ ہے۔ پکی اینٹیں بنانےکے بٹھوں میں بھی بانڈیڈ لیبر پایا جاتا ہے۔ سندھ ہاری ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر اکرم خاصیلی کے مطابق قانون سازی کے باوجود جاگیردارانہ نظام اور کمزور نگرانی کمیٹیاں اس  انسانی استحصال کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 2013 سے 2024 کے درمیان 12 ہزار سے زیادہ مزدور عدالتوں کے ذریعے آزاد کرائے گئے، لیکن اس کے باوجود لاکھوں لوگ اب بھی غلامی جیسی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

    بچوں سے مشقت

    سرکاری طور پر کیے گئے سندھ چائلڈ لیبر سروے 2022–2024 کے مطابق صوبے میں بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد مشقت میں ملوث ہے۔

    اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف اور حکومت سندھ کے لیبر ڈیپارٹمینٹ کی جانے سے کیے گئے تازہ سروے رپورٹ کے مطابق سندھ میں تقریباً 16 لاکھ (1.6 ملین) بچے، جن کی عمر 5 سے 17 سال کے درمیان ہے، چائلڈ لیبر میں شامل ہیں۔ سروے یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ تعداد صوبے کے کل بچوں کا لگ بھگ 10 فیصد بنتی ہے، جبکہ ان میں سے بڑی تعداد زرعی شعبے میں کام کرتی ہے اور کئی بچے خطرناک حالات میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے تقریباً 7 لاکھ بچے ایسے بھی شامل ہیں، جو کھیتوں اور دیگر کاموں میں سخت اور غیر انسانی حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ میں بچوں سے مزدوری لینے کے خلاف قانون  Sindh Prohibition of Employment of Children Act, 2017 موجود ہے، جس کے تحت 14 سال سے کم عمر بچوں کو کسی بھی قسم کی ملازمت یا مزدوری پر رکھنا مکمل طور پر ممنوع ہے۔ البتہ قانون میں 14 سے 18 سال کے بچوں (جنہیں ’نو عمر‘ کہا جاتا ہے)  سے کام لینے کی مشروط اجازت ہے۔ ایسے بچوں کو خطرناک یا مضرِ صحت کاموں میں لگانا غیر قانونی ہے، جیسا کہ بھٹوں ، کان کنی، کیمیکل فیکٹریاں وغیرہ میں کام کرنا۔

    سوشل سیکیورٹی کی صورتحال

    پاکستان میں سماجی تحفظ کا نظام انتہائی کمزور ہے۔ بے روزگاری الاؤنس، بنیادی صحت اور بچوں تعلیم جیسی سہولیات اور پنشن جیسے بنیادی حقوق بہت کم مزدوروں کو دستیاب ہیں۔ زیادہ تر محنت کش غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہیں، جہاں کسی قسم کا ریکارڈ نہیں رکھا جاتا، جس کی وجہ سے وہ حکومتی اسکیموں سے بھی فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ نتیجتاً، بیماری، حادثہ یا معاشی بحران کی صورت میں یہ مزدور شدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    پاکستان میں 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد لیبر کا شعبہ صوبوں کے دائرہ اختیار میں چلاگیا ہے۔ صوبوں میں غیرسرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے کئی ادارے قائم ہیں، جیسا کہ سندھ ایمپلائیز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) جو کہ مزدوروں اور ان خاندانوں کو صحت و تعلیم کی سہولیات مہیا کرنے اور سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ جو کہ مزدوروں کو رہائشی سہولیات، اسپیشل ایمرجنسی مالی سہولیات جیسا کہ جہیز فنڈ اور فوتی فنڈ مہیا کرتا ہے۔ جبکہ وفاقی حکومت کے تحت کام کرنے والا ادارہ ایمپلائیز اولڈ ایج بیینفٹ انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) ریٹائرڈ مزدوروں کو ماہانہ پینشن مہیا کرتا ہے۔

    ان سرکاری اداروں کی سہولیات سے صرف رجسٹرڈ مزدور ہی استفادہ حاصل کرسکتے ہیں، کیوں کہ ان کے آجر ماہانہ بنیادوں پر فی ملازم فیس ادا کرتے ہیں۔

    یومِ مزدور ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ محنت کش کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ اگر انہیں مناسب اجرت، محفوظ ماحول اور بنیادی حقوق فراہم نہ کیے جائیں تو معاشی ترقی پائیدار نہیں ہو سکتی۔ حکومت، نجی شعبہ اور سول سوسائٹی کو مل کر ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن سے مزدوروں کی حالت بہتر ہو سکے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ لیبر قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے، کم از کم اجرت کو یقینی بنایا جائے اور کام کے اوقات کو قانون کے مطابق محدود رکھا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مزدوروں کے لیے صحت، تعلیم اور رہائش کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ زرعی مزدوروں کو بھی وہی حقوق دیے جائیں جو صنعتی مزدوروں کو حاصل ہیں۔

    آخر میں، ٹریڈ یونینز کو مضبوط بنانا اور اجتماعی سوداکاری کے عمل کو فروغ دینا نہایت ضروری ہے۔ جب تک مزدور متحد ہو کر اپنی آواز بلند نہیں کریں گے، ان کے مسائل حل ہونا مشکل ہے۔ یومِ مزدور صرف ایک دن منانے کا نام نہیں، بلکہ یہ عہد کرنے کا دن ہے کہ ہم اپنے محنت کشوں کو وہ مقام دیں گے جس کے وہ حقیقی طور پر مستحق ہیں۔

  • وہ پتھر جس نے ایران کو طاقت کا مرکز اور امریکہ کو خوف کا شکار بنا دیا

    وہ پتھر جس نے ایران کو طاقت کا مرکز اور امریکہ کو خوف کا شکار بنا دیا

    دنیا کی سیاست اس وقت ایک ایسے عنصر کی وجہ سے تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے جسے عام انسانی آنکھ دیکھ نہیں سکتی مگر اس کی تباہی کا دائرہ صدیوں پر محیط ہے۔

    اس عنصر کا نام یورینیم ہے۔ یہ وہی خاموش چٹان ہے جس کی افزودگی کی شرح کی بنیاد پر امریکہ ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ لیکن یہ افزودگی ہے کیا اور ایک عام پتھر ایٹم بم میں کیسے بدل جاتا ہے۔

    یورینیم کی سائنس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس کی قدرتی حالت جاننا ضروری ہے۔ جب یہ دھات زمین سے کانوں کی شکل میں نکالی جاتی ہے تو اس میں دو بڑی اقسام پائی جاتی ہیں جنہیں سائنسی زبان میں یورینیم 238 اور یورینیم 235 کہا جاتا ہے۔

    ایک کم معلوم حقیقت یہ ہے کہ ایک کلو گرام قدرتی یورینیم میں ننانوے اعشاریہ تین فیصد حصہ یورینیم 238 کا ہوتا ہے جو نیوکلیئر توانائی کے لیے تقریباً بے کار ہے۔ اس کے مقابلے میں یورینیم 235 کی مقدار صرف صفر اعشاریہ سات فیصد ہوتی ہے اور یہی وہ نایاب جزو ہے جو توانائی یا تباہی کا مرکز بنتا ہے۔

    سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ اگر ایک کلو خام یورینیم کو پرکھا جائے تو اس میں سے محض سات گرام ایسا مواد نکلتا ہے جو کام کا ہے۔ باقی ننانوے فیصد سے زائد مواد محض بھرتی کا کچرا ہے۔

    اس سات گرام مفید مواد کو الگ کرنے اور اس کی طاقت کو بڑھانے کے عمل کو افزودگی یا اینرچمنٹ کہا جاتا ہے۔

    یورینیم کو افزودہ کرنے کا طریقہ انتہائی پیچیدہ ہے اور اسے سنٹری فیوج کہلانے والی مشینوں میں انجام دیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے زمین سے نکلے ٹھوس یورینیم کو کیمیائی عمل سے گیس میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

    اس کے بعد اس گیس کو ایسی مشینوں میں ڈالا جاتا ہے جو آواز کی رفتار سے بھی کئی گنا تیز گھومتی ہیں۔ اس خوفناک گردش کے دوران بھاری اور بے کار ایٹم یعنی یورینیم 238 الگ ہو جاتے ہیں جبکہ ہلکے اور مفید ایٹم یعنی یورینیم 235 مرکز میں جمع ہوتے چلے جاتے ہیں۔

    یہی وہ مقام ہے جہاں سے اس دھات کا استعمال تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

    جب یورینیم کو صفر اعشاریہ سات فیصد سے بڑھا کر تین سے پانچ فیصد تک افزودہ کر لیا جاتا ہے تو یہ ایٹمی بجلی گھروں کے ری ایکٹرز میں استعمال کے قابل ہو جاتا ہے۔ یہ وہی ایندھن ہے جو پاکستان کے کراچی اور چاشمہ کے مقام پر واقع نیوکلیئر پاور پلانٹس میں استعمال ہو رہا ہے۔

    جب افزودگی کا درجہ بڑھ کر بیس فیصد تک پہنچ جاتا ہے تو یہ مواد طبی آئسوٹوپس کی تیاری اور تحقیقی ری ایکٹرز میں کام آتا ہے۔ ساٹھ فیصد افزودگی کو تکنیکی طور پر ہائی لیول اینرچمنٹ یعنی اعلیٰ درجے کی افزودگی تصور کیا جاتا ہے۔ یہ وہ سرحد ہے جہاں سے نیوکلیئر دھماکے کی صلاحیت رکھنے والے آلات کی تیاری کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔

    اور جب یہ تناسب نوے فیصد تک جا پہنچے تو اسے ویپن گریڈ یورینیم یعنی ہتھیاروں کے قابل مواد کہا جاتا ہے۔ نوے فیصد افزودہ یورینیم کسی بھی بڑی معیشت کے لیے ایٹم بم تیار کرنے کے لیے درکار آخری اور سب سے مشکل مرحلے کی تکمیل کا اعلان ہوتا ہے۔

    موجودہ عالمی بحران کی جڑ یہیں ہے۔ بین الاقوامی اداروں کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران اس وقت اپنے یورینیم ذخائر کو ساٹھ فیصد تک افزودہ کر چکا ہے۔

    یہ مقدار بجلی گھر یا تحقیقی ری ایکٹر کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے اور تکنیکی طور پر جوہری ہتھیاروں کی دہلیز کے بالکل قریب سمجھی جاتی ہے۔ صرف تکنیکی لحاظ سے یہ مواد ایک چھوٹی سی چھلانگ لگا کر نوے فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

    مزید یہ کہ ایران کے پاس اس وقت چار سو چالیس کلو گرام تک افزودہ یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ وہ مقدار ہے جسے مزید افزودہ کر لیا جائے تو یہ ایک سے زائد ایٹمی اسلحے کی تیاری کے لیے کافی مواد مہیا کر سکتی ہے۔

    یہی وہ سنگ میل ہے جس نے مشرق وسطیٰ کے نقشے پر ایک نئی سرد جنگ مسلط کر دی ہے اور جس کی بازگشت وائٹ ہاؤس سے لے کر تہران کی گلیوں تک سنائی دے رہی ہے۔

  • ایران امریکہ تناؤ: پاکستانی صرافہ بازار میں سونے کی قیمتوں میں زبردست کمی

    ایران امریکہ تناؤ: پاکستانی صرافہ بازار میں سونے کی قیمتوں میں زبردست کمی

    ہفتے کے پہلے روز پاکستانی صرافہ بازار میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ آل پاکستان صرافہ جم اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونا چار ہزار 900 روپے فی تولہ سستا ہو کر پانچ لاکھ ایک ہزار 162 روپے فی تولہ پر آ گیا، جبکہ دس گرام سونے کی قیمت میں چار ہزار دو سو ایک روپے کی کمی ہوئی اور یہ چار لاکھ 29 ہزار 665 روپے پر بند ہوا۔

    اسی طرح چاندی کی قیمت میں بھی 145 روپے فی تولہ کی گراوٹ آئی اور یہ آٹھ ہزار 417 روپے فی تولہ پر آ کر ٹھہر گئی۔

    صرافہ بازار میں یہ مندی اچانک نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے ایک پورے ہفتے کی کشیدگی اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کارفرما رہی۔ گزشتہ ہفتے کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے اور امن مذاکرات کے حوالے سے طرح طرح کی خبریں آتی رہیں، جن کی وجہ سے بازار میں بے یقینی کی فضا چھائی رہی۔ سرمایہ کاروں اور صرافہ تاجروں نے پوری صورتحال کو انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھا اور بازار میں احتیاطی رویہ اختیار کیا۔

    ہفتے کے آغاز پر اس وقت صورتحال نے یکسر نیا رخ اختیار کر لیا جب صبح سویرے ایران کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ تہران کا وفد اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کے لیے نہیں آئے گا۔ ایران نے اس فیصلے کی وجہ یہ بتائی کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، جو کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے ایک بنیادی شرط تھی۔

    اس اعلان نے بازاروں میں پہلے سے موجود تشویش کو یکدم بڑھا دیا اور سرمایہ کاروں میں گھبراہٹ کی لہر دوڑ گئی۔

    واضح رہے کہ اس سے پہلے امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ نائب صدر وینس کی قیادت میں اپنا وفد اسلام آباد بھیج رہا ہے تاکہ ایک ممکنہ امن معاہدے پر دستخط کیے جا سکیں۔ اس خبر نے عالمی سطح پر ایک مثبت ماحول پیدا کیا تھا اور مختلف بازاروں میں اس کے اثرات بھی نظر آ رہے تھے۔

    تاہم ایران کے اعلان نے اس ساری مثبت فضا کو یکسر تبدیل کر دیا اور عالمی منڈیوں میں اضطراب پھیل گیا۔

    تہران سے آنے والی اس خبر کا اثر صرف پاکستانی صرافہ بازار تک محدود نہیں رہا بلکہ تمام بین الاقوامی مالیاتی اور تجارتی منڈیوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ عالمی بازاروں میں بھی سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور مجموعی طور پر کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب بھی خطے میں جیو پولیٹیکل کشیدگی بڑھتی ہے تو عموماً سونے کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں، تاہم اس بار مذاکراتی عمل کی ناکامی کی خبر نے مجموعی بازار پر منفی اثر ڈالا۔

    پاکستانی صرافہ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بتایا کہ مقامی بازار میں خریداری کا رجحان کمزور رہا اور تاجروں نے نئی پوزیشنیں لینے سے گریز کیا۔ آنے والے دنوں میں قیمتوں کا رخ زیادہ تر اس بات پر منحصر ہوگا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا عمل کس سمت جاتا ہے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کیا رنگ اختیار کرتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک خطے میں سیاسی استحکام نہیں آتا، بازار میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے۔

  • امریکہ، ایران جنگ: سمندر مر رہا ہے: جنگ نے آبی زندگی کو کیا نقصان پہنچایا؟

    امریکہ، ایران جنگ: سمندر مر رہا ہے: جنگ نے آبی زندگی کو کیا نقصان پہنچایا؟

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ شروع کی گئی جنگ نے جہاں انسانی تباہی مچائی ہے، وہاں دنیا کی آبی زندگی کو بھی تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور آبنائے المندب کی چوکسی کے بعد، امریکہ نے ایرانی سمندری حدود کا گھیراؤ کر کے پوری دنیا کے لیے صورتحال خراب کر دی ہے۔

    اس کے نتیجے میں ہزاروں تیل کے ٹینکرز بندرگاہوں پر کھڑے ہیں، جہاں ان کا لاکھوں افراد پر مشتمل عملہ مسلسل سمندری ماحول میں رہتے ہوئے کئی ذہنی اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو چکا ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ میں ادویات کی قلت بھی پیدا ہونے لگی ہے۔ اس سمندری جنگ میں کئی ممالک کے آئل ٹینکرز کو ڈرونز اور میزائلوں سے تباہ کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف سمندری پانی آلودہ ہوا ہے بلکہ آبی حیات بھی موت کا شکار ہو گئی ہے اور خلیجی ممالک سمیت کئی خطوں میں نئی بیماریوں نے جنم لیا ہے، جس پر طبی ماہرین شدید پریشان ہیں۔

    تیل کا رساؤ: آبی اور انسانی صحت کے لیے خطرہ

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور آبنائے المندب جیسے حساس سمندری راستوں میں تیل کے جہازوں کو نشانہ بنانا نہ صرف عالمی معیشت بلکہ ماحولیات اور انسانی صحت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ تیل کا سمندر میں بہنا آبی جانوروں کے لیے موت کا پیغام ہوتا ہے۔ تیل پانی کی سطح پر ایک تہہ جما دیتا ہے، جس کی وجہ سے آکسیجن پانی میں داخل نہیں ہو پاتی اور مچھلیاں و دیگر جاندار دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں۔

     اس کے علاوہ سمندری پرندوں اور جانوروں جیسے اود بلاؤ کے بالوں پر تیل لگنے سے ان کے جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور وہ ‘ہائپو تھرمیا’ کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔

     انسانی صحت پر زہریلے اثرات

    تیل کی یہ آلودگی بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر انسانوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ جب مچھلیاں آلودہ پانی پیتی ہیں تو زہریلے کیمیائی مادے (جیسے ہائیڈرو کاربن) ان کے گوشت میں شامل ہو جاتے ہیں۔

    ایسی مچھلی کھانے سے انسانوں میں کینسر، جگر کی بیماریوں اور پیٹ کی تکلیف کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مزید برآں، تیل سے نکلنے والی گیسیں (VOCs) ہوا میں شامل ہو کر ساحلی علاقوں کے مکینوں کے لیے سانس کی تکلیف، سر درد اور آنکھوں میں جلن کا باعث بنتی ہیں۔

     ماحولیاتی نظام کی تباہی اور طبی چیلنجز

    سائنسدانوں کے مطابق سمندر سے حاصل ہونے والی جڑی بوٹیاں طبی تحقیق اور ادویات سازی میں استعمال ہوتی ہیں، جو اس آلودگی کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہیں۔ سمندری ماحول میں کیمیائی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسے بیکٹیریا پیدا ہو سکتے ہیں جو ادویات کے خلاف مزاحمت (Antimicrobial Resistance) رکھتے ہوں، جو طبی دنیا کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

    بحیرہ احمر کی نایاب مرجان کی چٹانیں (Coral Reefs) اور ساحلی جنگلات (Mangroves) بھی اس کی زد میں ہیں۔ جہازوں کی یہ تباہی ‘ماحولیاتی دہشت گردی’ کا روپ اختیار کر رہی ہے جس کے اثرات دہائیوں تک ختم نہیں ہوں گے۔

     اعداد و شمار اور حالیہ نقصانات

    حالیہ جنگی صورتحال میں ‘ایم وی روبیمار’ اور ‘سونیون’ جیسے جہازوں پر حملے سب سے بڑا ماحولیاتی دھچکا ثابت ہوئے ہیں۔ ‘روبیمار’ میں موجود 21,000 میٹرک ٹن امونیم فاسفیٹ نے سمندر کا کیمیائی توازن بگاڑ دیا ہے، جس سے ‘الجی’ کی مقدار بڑھنے اور آکسیجن ختم ہونے سے مچھلیوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ سپلائی چین متاثر ہونے سے عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو غریب ممالک کے لیے ایک الگ انسانی بحران ہے۔

     عالمی انتباہ: ایک ٹائمنگ بم

    عالمی اداروں (UN اور IMO) نے اس صورتحال کو ‘ٹائمنگ بم’ سے تشبیہ دی ہے۔ ‘نیچر’ اور ‘دی گارڈین’ جیسے جرنلز کے مطابق یہ سمندر کی ‘جینیاتی لائبریری’ کا جل کر راکھ ہونا ہے۔ ڈبلیو ایچ او (WHO) کے مطابق بیٹریاں، رنگ اور دیگر کیمیائی مادے پانی کو زہریلا بنا رہے ہیں، جس سے آنے والی نسلوں میں پیدائشی نقائص اور ہارمونز کا عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔

     حل اور مستقبل کی حکمت عملی

    ماہرین کا مطالبہ ہے کہ سمندر کو ‘جنگ سے پاک’ علاقہ قرار دیا جائے، ورنہ یہ ‘مردار سمندر’ بن جائے گا۔ مشورہ دیا گیا ہے کہ:

     ماحولیاتی فورس قائم کر کے سمندر کی صفائی کی جائے۔ تجارت کے لیے خشک راستے اور ریلوے کا استعمال کیا جائے۔ شمسی اور ہوائی توانائی کی طرف توجہ دی جائے۔

    اگر جنگ ختم بھی ہو جائے تو سمندر کی صفائی ایک انتہائی مہنگا اور طویل عمل ہوگا۔ اس مسئلے کا اصل حل سیاست میں ہے۔ اگر عالمی طاقتیں ‘ماحولیاتی سلامتی’ کو اپنی ‘سیاسی انا’ پر فوقیت دیں گی تو ہی سمندر بچ سکے گا، ورنہ انسان جنگ تو جیت سکتا ہے لیکن فطرت ہار جائے گی، جس کا نتیجہ ایسی عالمی بھوک اور بیماری ہوگی جس کا کوئی علاج نہیں ہوگا۔ یہ محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی بائیولوجیکل ایمرجنسی ہے۔

  • ‘کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے’: معاہدہ کیوں نہیں ہوسکا؟، اسلام آباد ٹاکس کی ناکامی کے اسباب

    ‘کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے’: معاہدہ کیوں نہیں ہوسکا؟، اسلام آباد ٹاکس کی ناکامی کے اسباب

    جب دو دشمن ملک (امریکہ اور ایران) براہ راست مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں اور نتیجہ نہیں نکلتا، تو اس سے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ایک فریق نے دوسرے فریق کی ‘خاموشی’ یا ‘سختی’ کو غلط سمجھ لیا، تو یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں کسی نئی جنگ یا کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔

    سب کو معلوم ہے کہ سفارتی مذاکرات وقت طلب ہوتے ہیں۔ کچھ پیش رفت ہوئی ہے، اس لیے اگرچہ کوئی بڑی کامیابی نہیں ملی، لیکن یہ مکمل ناکامی بھی نہیں ہے۔

    امریکہ نے اپنا نائب صدر اور ایک انتہائی اعلیٰ سطح کا وفد بھیجا۔ جو تھوڑا بہت بے اعتمادی کا ماحول تھا، وہ بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے بارے میں تھا، جن کے لیے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ سفارتی کوششوں سے واقف نہیں ہیں۔

    اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا مذاکرات میں شامل ہونا اصل میں ایک ‘بڑا جُوا’ تھا۔

    ان کا انداز روایتی سفارت کاری کے بجائے کاروباری تھا۔ ایرانی وفد نے ان کی موجودگی کو شک کی نگاہ سے دیکھا، کیونکہ وہ اسرائیلی قیادت کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتے ہیں۔ یہی بے اعتمادی تھی جس نے مذاکرات کو کسی نتیجے پر پہنچنے نہیں دیا۔

    کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی موجودگی نے ‘اعتماد کی کمی’ پیدا کی، کیونکہ ان کا انداز روایتی سفارت کاری کے بجائے کاروباری یا سیاسی زیادہ ہوتا ہے۔

    یہ دونوں بنیادی طور پر کاروباری پس منظر رکھتے ہیں۔ سفارت کاری میں الفاظ کا چناؤ اور صبر اہم ہوتا ہے۔ ایران والوں کو لگا کہ وہ امریکہ کے بجائے کسی دوسرے فریق کا ایجنڈا آگے رکھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے ماحول میں کشیدگی پیدا ہوئی۔ عالمی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے اپنے داماد اور قریبی دوست کو بھیجنے کا مقصد ایران کو یہ بتانا تھا کہ یہ مذاکرات محض ‘رسمی’ نہیں ہیں، بلکہ انہیں وائٹ ہاؤس کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

    ان کا کردار شاید ایران پر ‘میکسمم پریشر’ (زیادہ سے زیادہ دباؤ) برقرار رکھنا تھا تاکہ کسی بھی معاہدے سے قبل انہیں زیادہ سے زیادہ جھکایا جا سکے۔ عالمی ذرائع اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات خاص طور پر درج ذیل نکات پر اٹک گئے:

    امریکی وفد کی سب سے بڑی شرط یہ تھی کہ ایران اپنی یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روک دے، پر ایران نے کہا کہ انہیں پرامن مقاصد کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کا حق حاصل ہے اور وہ ایسی کسی بھی شرط کو نہیں مانیں گے جو ان کی ملکی خود مختاری کے خلاف ہو۔ ایران کا مطالبہ تھا کہ کسی بھی معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے امریکہ اس پر لگی معاشی پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔

    جس پر جے ڈی وینس کا خیال تھا کہ پابندیاں تب ختم ہوں گی جب ایران عملی طور پر اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائے گا۔ یہ ‘پہلے کون کرے گا’ والی صورتحال مذاکرات میں بڑی رکاوٹ بن گئی۔ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف نے مطالبہ کیا کہ ایران خطے میں (جیسے یمن، لبنان اور شام میں) اپنے حمایتی گروہوں کی مدد بند کرے۔ ایران نے اس معاملے کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہوئے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

    کچھ رپورٹوں کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور منجمد اثاثوں کی واپسی کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی، لیکن ان کے طریقہ کار پر اتفاق نہ ہو سکا۔ تہران یونیورسٹی کے پروفیسر فواد ایزدی نے ان مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ اصل میں امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے نام پر کچھ دوسرے مفادات حاصل کرنا چاہتا تھا۔

    وائٹ ہاؤس یہ پیغام دے رہا تھا کہ ایران کا تیل ہمارے حوالے کرو، امریکی کمپنیوں کو شراکت دار بناؤ، ایرانی سرحدوں تک ہمیں مکمل رسائی دو، آبنائے ہرمز پر صرف ہمارا ہی کنٹرول ہو۔ اب یہ وہ باتیں ہیں جو ایران کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ ایران نے واشنگٹن کو یہ بھی کہا ہے کہ ہم نے یورینیم 2015 والی حالت میں ہی رکھا ہے، بھلے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی دوبارہ آکر چیک کر لے اور ہم یہ پروگرام کسی صورت بند نہیں کریں گے۔

    اس معاملے پر نائب صدر نے اتفاق بھی کیا لیکن ان کے دو ساتھیوں نے اس میں ٹانگ اڑا کر معاملات خراب کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ کو دنیا میں کوئی بھی ایسا ایٹمی ماہر نہیں ملے گا جو کہے کہ 3.65 فیصد افزودہ یورینیم سے ایٹم بم یا دوسرے ایٹمی ہتھیار بن سکتے ہیں۔ یہ بات نائب صدر کو بھی معلوم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے 2015 میں بھی (جے سی پی او اے) اور پھر 2018 میں ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات میں ادارے کو باہر نکال دیا تھا۔ تہران اب بھی اس ادارے کے ماہرین سے انسپکشن کرانے کے لیے راضی تھا پر یہ بات ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، اصل میں انہیں ایرانی تیل، سرحدیں اور آبنائے ہرمز چاہیے جو ایران انہیں کسی صورت نہیں دے گا۔

    پاکستان ایک بہت مشکل راستے پر چل رہا ہے۔ میزبان ہونے کے ناطے، پاکستان پر دباؤ ہے کہ وہ دونوں فریقین کو ناراض ہونے سے بچائے۔ اگر یہ مذاکرات آگے بھی مکمل طور پر ناکام ہوتے ہیں، تو اس کا اثر پاکستان کی اپنی معاشی اور سرحدی سلامتی پر بھی پڑے گا۔ پاکستان نے کہا ہے کہ رابطے کے ذرائع کھلے رہیں گے۔

    ممکن ہے کہ کسی مرحلے پر کوئی ‘بریک تھرو’ ہو جائے، جب نائب صدر جے ڈی وینس واپس واشنگٹن جائیں، وہاں انتظامیہ سے صلاح مشورہ کریں اور کوئی جواب لے کر واپس آئیں۔ اس لیے ہم مزید مذاکرات کے امکان کو رد نہیں کرتے۔

    اکثر عالمی اخبارات نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، بی بی سی، الجزیرہ، سی این این نے لکھا ہے کہ 20 سے 21 گھنٹوں کے طویل اور تھکا دینے والے مذاکرات کے باوجود کوئی بڑا معاہدہ یا ‘بریک تھرو’ نہیں ہو سکا ہے۔

    بنیادی رکاوٹ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں امریکی شرطوں کو تسلیم نہ کرنا بتائی جا رہی ہے۔ پاکستان نے اس میں بہترین کردار ادا کیا، پر یہ مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم سے ایک گھنٹہ فون پر بات کی، ظاہر ہے کہ کہیں معاملہ رکاوٹ بنا ہے، اب نائب صدر وائٹ ہاؤس جا کر صدر اور ان کی ٹیم کے سامنے باتیں رکھیں گے تب پتہ چلے گا کہ کیا ہو رہا ہے۔

    تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کی وجہ سے پہلی بار فریقین آمنے سامنے ہوئے ہیں، انہوں نے ایک دوسرے کو سمجھا ہے، جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ آگے چل کر کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ اخبارات کے مطابق ایران اور امریکہ کے مذاکرات میں ناکامی کئی سیاسی، فوجی اور سفارتی تضادات کا نتیجہ بھی ہے۔

    امریکہ کو اصل پریشانی اسرائیل کی ہے، جو ایران کے حمایتی مسلح گروہوں کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے، حوثی، حزب اللہ، عراقی شیعہ ملیشیا اور حماس اسرائیل کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ وال اسٹریٹ جنرل اور دی اکانومسٹ نے لکھا ہے کہ نیوکلیئر پروگرام پر اختلاف، پابندیوں کا مسئلہ، علاقائی سیاست، اندرونی سیاسی دباؤ اور سفارتی غلط فہمیاں اور اعتماد کی کمی بنیادی مسئلے رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہوگا، کیونکہ ایران سمیت یورپ کے بھی کئی ممالک صدر ٹرمپ پر اعتماد کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق فی الحال بڑی نہیں بلکہ محدود جنگ کا امکان زیادہ ہے۔ امریکہ براہ راست جنگ کے بجائے اسرائیل کے ہاتھوں دباؤ بڑھائے گا۔ بی بی سی کے مطابق ‘سخت حالات کے باوجود، مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے ہیں۔ یورپی ممالک ثالثی کا کردار ادا کریں گے۔ دونوں فریقین کو مکمل ڈیل نہیں، بلکہ مرحلہ وار رعایتیں مل سکتی ہیں۔’

    الجزیرہ کے مطابق ایران جلدی میں نہیں ہے، وہ وقت کو اپنے حق میں استعمال کر رہا ہے۔ ایران پابندیوں کے باوجود زندہ رہنا سیکھ گیا ہے اور امریکہ کی اندرونی سیاست کا انتظار کرے گا۔

    فاؤنڈیشن فار ڈیفنس ڈیموکریسی کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا غیر ملکی مداخلت کے بارے میں سخت موقف ایرانیوں کے لیے ایک منفرد پہلو تھا، لیکن انہیں ایسے پیچیدہ مذاکرات کا تجربہ کم تھا۔

    گیند اب وائٹ ہاؤس کے گراؤنڈ میں ہے۔ دیکھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ اس پر کیا فیصلہ صادر کرتے ہیں۔ اگر واشنگٹن نے کچھ لچک پیدا کی تو مالی اور اقتصادی طور پر اسے فائدہ ہوگا۔ اگر نہیں تو حالات پوری دنیا کے لیے بھیانک ہو جائیں گے۔ سب سے بڑا مسئلہ اعتماد کی کمی تھا۔

    امریکی وفد کا انداز کاروباری ‘لو اور دو’ والا تھا، جبکہ ایرانی وفد اپنے سیاسی اور نظریاتی موقف پر اٹل رہا۔ انہوں نے اپنا دفاع کیا ہے۔

    اگر امریکہ محسوس کرتا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھنے سے مشرق وسطیٰ میں اس کے مفادات یا عالمی تیل کی قیمتوں پر اثر پڑے گا، تو پھر وہ کچھ لچک دکھا سکتا ہے۔ امریکی سیاست کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ مہینوں بعد امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشن بھی ہیں۔ ڈیموکریٹس تنقید کر رہے ہیں۔ پر ریپبلکن والے ٹرمپ کے ہر حال میں حامی ہو کر کھڑے ہیں۔ اس لیے ٹرمپ شاید کوئی نرمی بھی نہ دکھائیں۔ تب بھی بڑے بریک تھرو کا امکان کم ہے۔

    دفاعی عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے اس جنگ کی وجہ سے دنیا کے کئی محاذ خالی چھوڑ دیے ہیں۔ ان مذاکرات کی مکمل ناکامی سے روس یوکرین، جنوبی کوریا، جاپان اور تائیوان والے محاذ دوبارہ کھل سکتے ہیں، اور وہ ملک اس جنگ کے نام کو اپنی جارحیت کے لیے بھی جائز قرار دے کر دنیا کو نئی مصیبت میں مبتلا کریں گے۔

     ایران-امریکہ مذاکرات کی ناکامی محض سفارتی ناکامی نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی طاقت کے توازن، مشرق وسطیٰ کی سیاست اور عالمی سلامتی سے جڑا ہوا ایک پیچیدہ بحران ہے۔

    موجودہ حالات میں مذاکرات کی بحالی تب ہی ممکن ہے، جب دونوں فریقین کی طرف سے ‘مرحلہ وار اعتماد سازی’ پر سنجیدگی سے کام کیا جائے۔ جے ڈی وینس کی واپسی تک پوری دنیا کو انتظار کرنا ہوگا۔ اگر وائٹ ہاؤس میں بیٹھی انتظامیہ لچک نہ دکھائے، تو اسلام آباد میں کی گئی یہ محنت ضائع ہو سکتی ہے۔

  • امریکہ اور ایران کو چار دہائیوں بعد مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں بلاول بھٹو کا بھی اہم کردار

    امریکہ اور ایران کو چار دہائیوں بعد مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں بلاول بھٹو کا بھی اہم کردار

    دنیا ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں طاقت، مفادات اور سفارت کاری کے درمیان توازن قائم کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ حالیہ ایران-امریکہ جنگ نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں پر محیط کشیدگی، پابندیاں، پراکسی تنازعات اور براہِ راست محاذ آرائی کے خطرات نے عالمی امن کو مسلسل خطرے میں رکھا ہے۔

    ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی خرابی کی جڑیں 1979 کے انقلابِ ایران کے بعد سے مضبوط ہوتی گئیں، اور گزشتہ چالیس برسوں میں کئی بار یہ کشیدگی جنگ کے دہانے تک جا پہنچی۔ بالآخر 28 مئی 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کر دی، جس کے اثرات پورے خطے میں پھیل گئے۔

    یہ جنگ صرف ایران تک محدود نہ رہی بلکہ پورے خلیجی خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ خلیجی ممالک، جو پاکستان کے برادر اسلامی ممالک ہیں، اس کشیدگی سے براہِ راست متاثر ہوئے۔ تیل کی ترسیل، سمندری راستوں کی بندش، معاشی عدم استحکام اور سیکیورٹی خدشات نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔

    صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی کہ اس کے اثرات پاکستان کی دہلیز تک محسوس کیے جانے لگے۔ ایک جانب پڑوسی ملک ایران، جس کے ساتھ پاکستان کی تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ملتی ہے، اور دوسری جانب خلیج میں موجود برادر ممالک؛ یہ سب اس بحران کی زد میں تھے۔

    اس تمام تناظر میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کردار نہایت اہم اور نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ اگرچہ وہ اس وقت کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں، مگر اس کے باوجود عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ جس جرات، تسلسل اور دانشمندی کے ساتھ پیش کر رہے ہیں، وہ ایک مضبوط اور متحرک قیادت کی عکاسی کرتا ہے۔

    ایسے پیچیدہ اور طویل تنازع میں کسی بھی تیسرے ملک کا مؤثر کردار ادا کرنا آسان نہیں ہوتا، مگر پاکستان نے اس بار ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی حاصل کرتے ہوئے تقریباً چالیس سال بعد ایران اور امریکہ کو ایک میز پر بٹھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ دنیا کے لیے ایک نئی امید بھی ہے۔ اگر دشمن ممالک بات چیت کے لیے آمادہ ہو سکتے ہیں تو یہ عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ مکالمہ ہی واحد راستہ ہے۔

    اس تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے عالمی معیشت کے لیے شدید خدشات پیدا کر دیے، کیونکہ دنیا کی بڑی تیل ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے؛ تاہم ایسے نازک موقع پر پاکستان کی بروقت اور مؤثر ثالثی نے نہ صرف کشیدگی کو کم کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ عالمی معاشی بحران کے خدشات کو بھی وقتی طور پر ٹالنے میں مدد دی۔

    یہ لمحہ صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک موقع ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی طاقتیں، علاقائی ممالک اور بین الاقوامی ادارے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور باہمی تنازعات کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ دنیا پہلے ہی دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی، معاشی عدم استحکام اور انسانی بحرانوں جیسے مسائل کا شکار ہے، ایسے میں مزید جنگیں انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گی۔

    عالمی میڈیا، سفارتی حلقوں اور بین الاقوامی فورمز پر بلاول بھٹو زرداری کی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ نہ صرف پاکستان کا مؤقف پیش کر رہے ہیں بلکہ عالمی رائے عامہ کو ہموار بھی کر رہے ہیں۔ ان کی سیاست محض وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک تاریخی تسلسل کا حصہ ہے، وہ تسلسل جو انہیں اپنے نانا قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور اپنی والدہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے ورثے میں ملا ہے۔ یہ وہ قیادت ہے جس نے عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ جرات کے ساتھ لڑا، قومی خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور ملک کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

    آج چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اسی روایت کے امین کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے نانا اور والدہ کے نظریات کو آگے بڑھا رہے ہیں بلکہ جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق سفارت کاری کو بھی نئی جہت دے رہے ہیں۔ جس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے عالمی طاقتوں کے سامنے پاکستان کا مؤقف بے باکی سے رکھا اور بے نظیر بھٹو نے جمہوریت اور امن کا پرچم بلند رکھا، اسی طرح آج بلاول بھٹو زرداری عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

    انہوں نے عالمی ذرائع ابلاغ کو انٹرویوز دیتے ہوئے پاکستان کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا، جن میں بی بی سی، الجزیرہ، ٹی آر ٹی ورلڈ، العربیہ، سی جی ٹی این اور اسکائی نیوز سمیت متعدد عالمی ادارے شامل ہیں۔ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے انہوں نے نہ صرف پاکستان کا مؤقف واضح کیا بلکہ عالمی رائے عامہ کو مؤثر انداز میں ہموار کیا۔

    یہ وقت صرف ایک ملک یا ایک خطے کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہے۔ اگر ایران اور امریکہ جیسے دیرینہ حریف بات چیت کی میز پر آ سکتے ہیں تو دنیا کے دیگر تنازعات بھی حل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی یہ کاوش اس بات کی واضح مثال ہے کہ اگر نیت، حکمت اور قیادت موجود ہو تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر اس عمل کو مزید تقویت ملی اور عالمی برادری نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا، تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک نئے، پُرامن اور مستحکم دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

    نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ساگا ڈیجیٹل کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔