دنیا کی سیاست اس وقت ایک ایسے عنصر کی وجہ سے تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے جسے عام انسانی آنکھ دیکھ نہیں سکتی مگر اس کی تباہی کا دائرہ صدیوں پر محیط ہے۔
اس عنصر کا نام یورینیم ہے۔ یہ وہی خاموش چٹان ہے جس کی افزودگی کی شرح کی بنیاد پر امریکہ ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ لیکن یہ افزودگی ہے کیا اور ایک عام پتھر ایٹم بم میں کیسے بدل جاتا ہے۔
یورینیم کی سائنس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس کی قدرتی حالت جاننا ضروری ہے۔ جب یہ دھات زمین سے کانوں کی شکل میں نکالی جاتی ہے تو اس میں دو بڑی اقسام پائی جاتی ہیں جنہیں سائنسی زبان میں یورینیم 238 اور یورینیم 235 کہا جاتا ہے۔
ایک کم معلوم حقیقت یہ ہے کہ ایک کلو گرام قدرتی یورینیم میں ننانوے اعشاریہ تین فیصد حصہ یورینیم 238 کا ہوتا ہے جو نیوکلیئر توانائی کے لیے تقریباً بے کار ہے۔ اس کے مقابلے میں یورینیم 235 کی مقدار صرف صفر اعشاریہ سات فیصد ہوتی ہے اور یہی وہ نایاب جزو ہے جو توانائی یا تباہی کا مرکز بنتا ہے۔
سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ اگر ایک کلو خام یورینیم کو پرکھا جائے تو اس میں سے محض سات گرام ایسا مواد نکلتا ہے جو کام کا ہے۔ باقی ننانوے فیصد سے زائد مواد محض بھرتی کا کچرا ہے۔
اس سات گرام مفید مواد کو الگ کرنے اور اس کی طاقت کو بڑھانے کے عمل کو افزودگی یا اینرچمنٹ کہا جاتا ہے۔
یورینیم کو افزودہ کرنے کا طریقہ انتہائی پیچیدہ ہے اور اسے سنٹری فیوج کہلانے والی مشینوں میں انجام دیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے زمین سے نکلے ٹھوس یورینیم کو کیمیائی عمل سے گیس میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد اس گیس کو ایسی مشینوں میں ڈالا جاتا ہے جو آواز کی رفتار سے بھی کئی گنا تیز گھومتی ہیں۔ اس خوفناک گردش کے دوران بھاری اور بے کار ایٹم یعنی یورینیم 238 الگ ہو جاتے ہیں جبکہ ہلکے اور مفید ایٹم یعنی یورینیم 235 مرکز میں جمع ہوتے چلے جاتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سے اس دھات کا استعمال تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
جب یورینیم کو صفر اعشاریہ سات فیصد سے بڑھا کر تین سے پانچ فیصد تک افزودہ کر لیا جاتا ہے تو یہ ایٹمی بجلی گھروں کے ری ایکٹرز میں استعمال کے قابل ہو جاتا ہے۔ یہ وہی ایندھن ہے جو پاکستان کے کراچی اور چاشمہ کے مقام پر واقع نیوکلیئر پاور پلانٹس میں استعمال ہو رہا ہے۔
جب افزودگی کا درجہ بڑھ کر بیس فیصد تک پہنچ جاتا ہے تو یہ مواد طبی آئسوٹوپس کی تیاری اور تحقیقی ری ایکٹرز میں کام آتا ہے۔ ساٹھ فیصد افزودگی کو تکنیکی طور پر ہائی لیول اینرچمنٹ یعنی اعلیٰ درجے کی افزودگی تصور کیا جاتا ہے۔ یہ وہ سرحد ہے جہاں سے نیوکلیئر دھماکے کی صلاحیت رکھنے والے آلات کی تیاری کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔
اور جب یہ تناسب نوے فیصد تک جا پہنچے تو اسے ویپن گریڈ یورینیم یعنی ہتھیاروں کے قابل مواد کہا جاتا ہے۔ نوے فیصد افزودہ یورینیم کسی بھی بڑی معیشت کے لیے ایٹم بم تیار کرنے کے لیے درکار آخری اور سب سے مشکل مرحلے کی تکمیل کا اعلان ہوتا ہے۔
موجودہ عالمی بحران کی جڑ یہیں ہے۔ بین الاقوامی اداروں کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران اس وقت اپنے یورینیم ذخائر کو ساٹھ فیصد تک افزودہ کر چکا ہے۔
یہ مقدار بجلی گھر یا تحقیقی ری ایکٹر کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے اور تکنیکی طور پر جوہری ہتھیاروں کی دہلیز کے بالکل قریب سمجھی جاتی ہے۔ صرف تکنیکی لحاظ سے یہ مواد ایک چھوٹی سی چھلانگ لگا کر نوے فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
مزید یہ کہ ایران کے پاس اس وقت چار سو چالیس کلو گرام تک افزودہ یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ وہ مقدار ہے جسے مزید افزودہ کر لیا جائے تو یہ ایک سے زائد ایٹمی اسلحے کی تیاری کے لیے کافی مواد مہیا کر سکتی ہے۔
یہی وہ سنگ میل ہے جس نے مشرق وسطیٰ کے نقشے پر ایک نئی سرد جنگ مسلط کر دی ہے اور جس کی بازگشت وائٹ ہاؤس سے لے کر تہران کی گلیوں تک سنائی دے رہی ہے۔
