Tag: ایران

  • ایک جنگ، دو محاذ، امریکہ کے میزائل ختم، چین کے لیے کھلا موقع

    ایک جنگ، دو محاذ، امریکہ کے میزائل ختم، چین کے لیے کھلا موقع

    ایران کے ساتھ تیسری بار جنگ شروع ہونے کے باعث امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے کم ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ دفاعی ماہرین نے سی این این کو بتایا ہے کہ ہتھیاروں کی یہ کمی مستقبل میں چین یا شمالی کوریا کے ساتھ ممکنہ جنگ کی صورت میں امریکی فوج کی لڑنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

    واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف گزشتہ سات ہفتوں کی جنگ کے دوران امریکہ اپنے جدید ترین میزائلوں کا ایک بڑا حصہ استعمال کر چکا ہے۔ اس میں تقریباً 45 فیصد پریسیژن اسٹرائیک میزائل، نصف سے زیادہ تھاڈ میزائل، اور تقریباً 50 فیصد پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل شامل ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ پیسہ نہیں بلکہ وقت ہے۔ ان پیچیدہ ہتھیاروں کو دوبارہ تیار کرنے اور ذخائر کو مکمل کرنے میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔

    امریکی دفاعی ماہرین کو تشویش ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ایران کے ساتھ جنگ مزید طویل ہوئی تو امریکہ کے پاس چین کو بحرالکاہل خصوصاً تائیوان کے معاملے میں روکنے کے لیے ہتھیار کم پڑ سکتے ہیں۔

    واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے اپنی تازہ جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ واشنگٹن کے ہتھیاروں کی سپلائی کم ہو رہی ہے، لیکن ابھی وہ نازک سطح تک نہیں پہنچی۔

    فروری سے اب تک جاری جنگ میں امریکہ نے ایران کے 13,000 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے ہیں، جن میں بنیادی طور پر اپنے سات طاقتور میزائلوں اور دفاعی نظاموں کا استعمال کیا گیا۔ ان میں ٹوماہاک، جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائل، اسٹینڈرڈ میزائل تھری، اسٹینڈرڈ میزائل سکس، تھاڈ اور پیٹریاٹ شامل ہیں، جن میں سے امریکہ اپنے دستیاب ذخائر کا نصف سے زیادہ استعمال کر چکا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ان سے کم فاصلے تک مار کرنے والے ہزاروں ہتھیار ابھی بھی ذخیرے میں موجود ہیں، لیکن اب ان کے استعمال کا وقت بھی آتا دکھائی دے رہا ہے، اور اگر جنگ مزید ایک مہینہ جاری رہی تو وہ بھی ختم ہو سکتے ہیں۔

    امریکہ کے پاس سمندر سے زمین پر مار کرنے والے تقریباً 3,000 ٹوماہاک میزائل موجود تھے، جن میں سے ایران کے ساتھ جنگ میں تقریباً 1,000 استعمال ہو چکے ہیں۔

    جاسم کے تقریباً 4,000 میزائلوں میں سے 1,100 استعمال کیے جا چکے ہیں۔

    پی آر ایس ایم نئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہیں، جن کی سپلائی پہلے ہی محدود تھی۔ 2023 سے اب تک ان میں سے صرف 90 میزائل امریکی دفاعی ادارے کو فراہم کیے گئے، جبکہ جنگ میں ان میں سے 40 سے 70 استعمال ہو چکے ہیں۔ ایک امریکی فوجی رہنما کے مطابق اس جنگ میں ان کی تقریباً پوری دستیاب انوینٹری خرچ کر دی گئی ہے۔

    اسٹینڈرڈ میزائل تھری اس جنگ میں استعمال ہونے والا سب سے مہنگا ہتھیار ہے، جس کی فی یونٹ قیمت تقریباً 28 ملین ڈالر ہے۔ یہ بحری جہاز سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل انٹرسیپٹر ہے۔ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس اس کے تقریباً 410 میزائل تھے، جن میں سے اندازاً 130 سے 250 استعمال کیے جا چکے ہیں۔

    اسٹینڈرڈ میزائل سکس بھی بحری جہازوں سے داغے گئے۔ یہ میزائل بنیادی طور پر دشمن کے طیاروں، کروز میزائلوں اور بعض دیگر فضائی خطرات کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس اس کے تقریباً 1,160 میزائل موجود تھے، لیکن اندازوں کے مطابق ایران کی جنگ میں ان میں سے 190 سے 370 تک استعمال ہو چکے ہیں۔

    انتہائی مہنگے تھاڈ اینٹی بیلسٹک میزائل نظام کے اپریل تک امریکہ کے پاس تقریباً 360 انٹرسیپٹر موجود تھے، جن میں سے 190 سے 290 تک استعمال کیے جا چکے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھاڈ کی آٹھ بیٹریاں جن میں لانچر، انٹرسیپٹر اور ریڈار نظام شامل ہوتے ہیں، کے ذخائر بھی نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں۔

    پیٹریاٹ میزائلوں کے بارے میں اندازہ ہے کہ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس تقریباً 2,330 موجود تھے، جن میں سے 1,060 سے 1,430 کے درمیان استعمال کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ اس وقت پینٹاگون کے پاس تقریباً 400 پرانے پیٹریاٹ میزائل موجود ہیں، لیکن بتایا جاتا ہے کہ وہ اس جنگ میں استعمال کے قابل نہیں ہیں۔

    عالمی دفاعی مبصرین نے ٹرمپ انتظامیہ کی تیز اور جارحانہ حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطی میں ایران کے خلاف جنگ کو تیز کر کے خود کو ایسے خطرے میں ڈال رہا ہے جیسے کوئی ویڈیو گیم کھیل رہا ہو، جس سے ایشیا میں چین کو کھلا میدان مل سکتا ہے۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پینٹاگون کا یہ بیان کہ ہمارے پاس ہر چیز موجود ہے محض ایک سیاسی بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی دفاعی پیداواری صنعت اس وقت بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے سے قاصر ہے۔

    اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو جنگ کو طول دینے کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر جنگ جاری رہی تو امریکی اسلحہ ساز کارخانے دن رات کام کرنے کے باوجود بھی اتنے بڑے ذخائر جلد دوبارہ تیار نہیں کر سکیں گے۔

    واشنگٹن کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کے لیے زیادہ اہم محاذ کون سا ہے، مشرق وسطی میں ایران کے ساتھ مقابلہ یا بحرالکاہل کے خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنا۔ ماہرین کے مطابق امریکہ کے لیے بیک وقت دونوں محاذوں پر پوری طاقت کے ساتھ جنگ لڑنا اس کی استطاعت سے باہر ہو سکتا ہے۔

    الجزیرہ کے ایک پروگرام میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے رہنماؤں نے یہ تاثر دینا شروع کر دیا ہے کہ ان کے پاس لامحدود ہتھیار موجود ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر انتظامیہ نے امریکی دفاعی صنعت کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور انہیں میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کی پیداوار ہنگامی بنیادوں پر دن رات جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ ان کمپنیوں نے بھی اس کام کا آغاز تیز رفتار بنیادوں پر کر دیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے جون میں ہی ڈیفنس پروڈکشن ایکٹ پر دستخط کر دیے تھے۔ اگرچہ اسے کانگریس کی منظوری حاصل نہیں ہوئی، تاہم اسے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق دفاعی پیداوار بڑھانے کا یہ حکم اس بات کی علامت ہے کہ پینٹاگون کے اندر مستقبل کی سپلائی اور وقت کے حوالے سے سنجیدہ خدشات موجود ہیں۔

    ایک طرف امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف اس کے عرب اتحادی بھی واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے بھی امریکی دفاعی صنعت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، اس لیے انہیں بھی ان کے خریدے ہوئے تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل فراہم کیے جائیں۔

    تاہم واشنگٹن نے انہیں واضح طور پر بتایا ہے کہ یہ ذخائر خود امریکہ کے پاس بھی تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد روس کے خلاف جنگ کے دوران یوکرین کو فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ موجودہ جنگ کے باعث مزید میزائل فوری طور پر دستیاب نہیں۔

    پہلے سے موجود سپلائی آرڈرز بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ جاپان کے لیے 400 ٹوماہاک میزائلوں کی فراہمی، جو 2025 سے 2027 کے درمیان مکمل ہونی تھی، مقررہ وقت پر پوری نہ ہو سکی۔ اس پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مئی میں کہا تھا کہ اس آرڈر کی تکمیل میں مزید دو سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔

    اسی دوران سوئٹزرلینڈ نے جون میں فرانس، اسرائیل اور جنوبی کوریا سے میزائل دفاعی نظام خریدنے کے لیے بیک وقت مذاکرات شروع کیے، جبکہ جاپان کے لیے ریتھیون کا 2022 کا آرڈر بھی تاخیر کا شکار ہے۔

    وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے حال ہی میں کہا کہ اب نئے میزائل حاصل کرنے میں مہینے نہیں بلکہ سال لگ سکتے ہیں۔ اسی لیے امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں ایسی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جس میں میزائلوں پر کم انحصار ہو۔ ان کا اشارہ زمینی جنگ کی طرف تھا، جہاں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور عام فوجی نسبتاً کم قیمت ہتھیاروں کے ساتھ جنگ لڑ سکتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ اب بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ امریکی اسلحہ ساز کارخانے دن رات کام کر کے فوری طور پر نئے ذخائر فراہم کر دیں گے، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ کو طویل کر کے دراصل امریکہ کے جدید ہتھیاروں کے ذخائر کو ختم کرنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ اپنی مجوزہ 2027 کی 1.5 ٹریلین ڈالر کی دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ جدید ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ رقم 2026 کے دفاعی بجٹ سے تقریباً 44 فیصد زیادہ ہے۔

    سی ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے آئندہ سال کے لیے 785 ٹوماہاک میزائل طلب کیے تھے، لیکن ان میں سے صرف چند ہی فراہم ہو سکے۔ اسی طرح اس سال 821 جاسم میزائل درکار تھے، مگر وہ بھی تاحال مکمل طور پر فراہم نہیں کیے جا سکے۔

    پی آر ایس ایم کے 1,134 میزائل درکار تھے، لیکن اس سال صرف 70 فراہم کیے گئے۔

    اسٹینڈرڈ میزائل تھری کی ایک بڑی تعداد، جس کی درخواست کئی برس پہلے دی گئی تھی، اب تک فراہم نہیں ہو سکی۔ اسٹینڈرڈ میزائل سکس کے 540 میزائل طلب کیے گئے تھے، مگر صرف 125 موصول ہوئے۔ تھاڈ کے 857 انٹرسیپٹر میزائلوں کی درخواست کی گئی، لیکن اس سال صرف 92 فراہم کیے گئے۔

    اسی طرح پیٹریاٹ میزائلوں کے لیے 2027 تک 3,202 میزائلوں کی درخواست دی گئی، جبکہ اب تک صرف 172 فراہم کیے جا سکے ہیں۔

    دوسری جانب، اگرچہ اسرائیل کی دفاعی صنعت بہت ترقی یافتہ ہے، لیکن بیک وقت لبنان، یمن، غزہ اور ایران کے خلاف کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کی وجہ سے اس کے ہتھیاروں کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    اسرائیل کے مشہور دفاعی نظام آئرن ڈوم اور ایرو گزشتہ دو برس سے مسلسل استعمال ہو رہے ہیں۔ حزب اللہ اور حوثی طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرون مسلسل داغ رہے ہیں، جس کے باعث اسرائیل کو انہیں فضا میں تباہ کرنے کے لیے بڑی تعداد میں مہنگے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔

    غزہ اور لبنان میں وسیع پیمانے پر بمباری کی وجہ سے اسرائیل کو آرٹلری گولوں اور گائیڈڈ بموں کی بھی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا، جسے پورا کرنے کے لیے امریکہ نے ہنگامی بنیادوں پر اسرائیل کو فضائی راستے سے اسلحہ فراہم کیا۔

    دریں اثنا، امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک اراکین نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایران جنگ، اسرائیل کے لیے جنگی فنڈنگ اور دفاعی تعاون سے متعلق سالانہ بل کو 50 کے مقابلے میں 46 ووٹوں سے روک دیا۔

    سینیٹ کی نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کمیٹی میں چک شومر، کرس وان ہولن، برنی سینڈرز، الزبتھ وارن، ایڈ مارکی، جیف مرکلے اور پیٹر ویلچ سمیت کئی سینیٹرز نے مؤقف اختیار کیا کہ نیتن یاہو کی حکومت کو امریکی ٹیکس دہندگان کا مزید پیسہ دینا بند کیا جانا چاہیے۔

    اس کے علاوہ 14 شہری اور جنگ مخالف تنظیموں، جن میں امریکن سول لبرٹیز یونین، جے اسٹریٹ، کوڈ پنک اور دیگر خارجہ پالیسی سے متعلق تنظیمیں شامل ہیں، نے بھی سینیٹ سے اپیل کی کہ اس بل کی منظوری نہ دی جائے۔

    اب سوال یہ نہیں رہا کہ امریکہ جنگ جیت سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ بیک وقت دو محاذوں پر جنگ لڑنے کی اپنی صلاحیت کو کب تک برقرار رکھ سکتا ہے۔

    جب تک امریکہ کا دفاعی پیداواری نظام برسوں کے بجائے مہینوں کی رفتار سے جدید ہتھیار تیار کرنے کے قابل نہیں ہوتا، ایران کے ساتھ جاری جنگ صرف مشرق وسطی کا مسئلہ نہیں رہے گی، بلکہ بحرالکاہل میں امریکہ کی مستقبل کی عسکری طاقت اور چین کے مقابلے میں اس کی حکمت عملی کا بھی ایک بڑا امتحان بن سکتی ہے۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان؛ عالمی تیل منڈی میں ہلچل

    ایران کا آبنائے ہرمز کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان؛ عالمی تیل منڈی میں ہلچل

     ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ایک ایسے تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا جو اس کے بقول مقررہ بحری راستے کے بجائے  ‘غیر مجاز راستے’ سے گزر رہا تھا اور اس نے اپنا ٹریکنگ نظام بھی بند کر رکھا تھا۔

    اس اقدام کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے جبکہ عالمی تیل کی رسد اور توانائی کی منڈیوں پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو آئندہ حکم تک بند رکھا جائے گا۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جس جہاز کو نشانہ بنایا گیا وہ مقررہ ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سفر کر رہا تھا، اس لیے کارروائی بحری سلامتی کے تحفظ کے لیے کی گئی۔

    ایران نے خبردار کیا کہ اگر اس کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا جوابی حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام نے امریکہ پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ بیرونی طاقتوں کی مداخلت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

    دوسری جانب امریکہ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنائے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ عالمی تجارت کی اہم گزرگاہ ہے اور اسے بند کرنا پوری دنیا کی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق عمان، قطر اور پاکستان سمیت کئی ممالک پس پردہ سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی دوبارہ معمول پر آ سکے۔ ان کوششوں کا مقصد فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا اور کسی بڑے فوجی تصادم سے بچنا ہے۔

    آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس سے نکلنے والی خام تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہونے سے تیل کی عالمی قیمتوں میں فوری اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ مختلف ممالک میں مہنگائی بھی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

    تازہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پہلے ہی ختم ہو چکی ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران خلیج میں متعدد بحری جہازوں پر حملے ہوئے جن کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی رہی ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ جنگ بندی اب برقرار نہیں رہی۔

    ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے اہم عوامی بیان میں کہا کہ ایران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کے اس بیان کے بعد خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    عالمی توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو نہ صرف تیل بلکہ مائع قدرتی گیس کی عالمی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

    ایشیا اور یورپ کے کئی ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے اس بحران کے عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    بحری جہاز رانی کی عالمی صنعت بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ کئی شپنگ کمپنیاں پہلے ہی اپنے جہازوں کے راستے تبدیل کر چکی ہیں جبکہ بعض نے حفاظتی خدشات کے باعث خلیجی پانیوں میں سفر محدود کر دیا ہے۔ انشورنس اخراجات میں اضافے اور سیکیورٹی خدشات کے باعث عالمی تجارت کو بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جائیں گے۔

  • زاویہ: بارود کے ڈھیر پر سفارت کاری: کیا ٹرمپ، ایران ڈیل پائیدار ہو سکے گی؟

    زاویہ: بارود کے ڈھیر پر سفارت کاری: کیا ٹرمپ، ایران ڈیل پائیدار ہو سکے گی؟

    صحافت کے کلاس روم میں ہمیں سب سے پہلے یہ بنیادی اصول سکھایا جاتا تھا کہ "خبر” کبھی جمود کا شکار نہیں ہوتی اور بین الاقوامی تعلقات کے پیچیدہ شطرنج پر نہ تو دشمنیاں مستقل ہوتی ہیں اور نہ ہی دوستیاں۔

    عالمی سیاست کا کوئی بھی طالب علم جب تاریخ کے صفحات پلٹتا ہے، تو اسے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں نظر آتی ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے عسکری تنازعات اور ہولناک ترین جنگیں بھی بالآخر کسی نہ کسی سفارتی میز پر، چند کاغذات پر دستخطوں کے ساتھ ہی ختم ہوتی ہیں۔

    لیکن جب بات مشرق وسطی جیسے سلگتے ہوئے آتش فشاں کی ہو، جہاں بارود کی بو اور سیاسی مفادات کے دھارے لمحوں میں رخ بدلتے ہیں، تو وہاں سفارت کاری کا راستہ کسی بارودی سرنگ پر چلنے سے کم نہیں ہوتا۔

    رواں سال فروری 2026 میں جب پاک-امریکہ-اسرائیل اور ایران کے تزویراتی تناؤ نے ایک ہولناک عسکری تصادم کی شکل اختیار کی، تو ہم جیسے بین الاقوامی تعلقات کے طالب علموں کے لیے یہ کتابی نظریات سے نکل کر ایک زندہ مطالعہ بن چکا تھا۔

    واشنگٹن کا بگل بجاتا ہوا ‘آپریشن ایپک فیوری’، خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑوں کی گرج، اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد اٹھنے والے دھوئیں کے بادل چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ دنیا ایک ایسی وسیع تر علاقائی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکی ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔

    عالمی میڈیا پر سرخیاں روزانہ کی بنیاد پر بدلی جا رہی تھیں، اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سفارت کاری کا دور اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔

    تاہم، فروری کے اس بھیانک عسکری ملبے اور سفارتی تعطل کے بعد، آج جب فریقین قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بیٹھے ہیں، تو صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرے ذہن کے بند گوشوں میں یہ سوال مسلسل دستک دے رہا ہے ‘کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی ایران کے ساتھ ایک نیا، جامع اور سب سے اہم بات، ‘پائیدار’ جوہری معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟’

    17 جون 2026 کو قطر اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی 60 روزہ جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت نے فریقین کو اگست 2026 کے وسط تک کی جو مہلت دی ہے، وہ صحافتی اصطلاح میں ایک ‘ٹکنگ ٹائم بم’ ہے۔ یہ 60 دن محض جنگ بندی کے نہیں ہیں، بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کے اس پہاڑ کو پگھلانے کا آخری موقع ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں سے کھڑا ہے۔

    سوئٹزرلینڈ سے قطر تک، پس پردہ راستوں کی تبدیلی

    اس سے قبل کہ ہم قطر میں ہونے والی موجودہ پیش رفت کا احاطہ کریں، ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارت کاری کا محور کس طرح تبدیل ہوا ہے۔ ماضی میں سوئٹزرلینڈ نے ہمیشہ دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر جانبدار، روایتی اور خاموش پیغام رساں کا کردار ادا کیا ہے۔

    سوئس چینل کی خصوصیت یہ تھی کہ وہاں ہونے والی گفتگو کا بنیادی مقصد کسی بڑے تزویراتی معاہدے کا حصول نہیں، بلکہ صرف "بحران کا کنٹرول” اور قیدیوں کے تبادلے جیسے محدود انسانی ہمدردی کے امور تھے۔ جنیوا اور زیورخ کے پرسکون ماحول میں ہونے والے مذاکرات نظریاتی حدود کے اندر رہ کر کیے جاتے تھے، جہاں فریقین اپنے بنیادی موقف سے پیچھے ہٹے بغیر صرف محاذ آرائی کو ایک خاص حد سے آگے بڑھنے سے روکتے تھے۔

    لیکن موجودہ قطر مذاکرات کا کینوس ماضی کے سوئس چینل سے یکسر مختلف اور کہیں زیادہ تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔ دوحہ اب محض ایک ڈاکیا یا پیغام رساں نہیں رہا، بلکہ وہ عمان اور پاکستان کے ساتھ مل کر ایک متحرک، فعال اور اثر و رسوخ رکھنے والے ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔

    سوئٹزرلینڈ کے برعکس، قطر مذاکرات فروری 2026 کے براہ راست عسکری تصادم کے بعد پیدا ہونے والے نئے حقائق کی بنیاد پر ہو رہے ہیں۔

    یہ مذاکرات کسی پرسکون ماحول کی پیداوار نہیں، بلکہ بارود کی تپش اور معاشی ناکہ بندی کے دباؤ کے تحت شروع کیے گئے ہیں۔ یہاں بات صرف بیانات کی حد تک محدود نہیں ہے، بلکہ دونوں ممالک کے عملی مفادات، تیل کی عالمی سپلائی، اور خطے میں عسکری بقا کے سوالات میز پر رکھے ہوئے ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ عالمی مبصرین سوئٹزرلینڈ کے روایتی چینل کے مقابلے میں دوحہ کے اس نئے سفارتی محور کو زیادہ سنجیدہ اور فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں۔

    پاکستان کا کلیدی سفارتی کردار

    فروری 2026 کے شدید ترین بحران کے دوران جب مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کا یہ پورا خطہ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آنے والا تھا، تو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے یہ حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج بن کر ابھرا۔

    ایک نیوکلیئر پاور اور ایران کے برادر پڑوسی ملک ہونے کے ناطے، پاکستان اس تنازع میں خاموش تماشائی بنے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ ایران کے ساتھ طویل سرحد، مشترکہ ثقافتی روابط، اور داخلی سلامتی کے پیچیدہ معاملات کی وجہ سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی بھی طویل مدتی جنگ کا براہ راست شکار پاکستان کی اپنی معیشت اور امن و امان کو ہونا تھا۔

    چنانچہ، پاکستان نے انتہائی مہارت کے ساتھ تزویراتی توازن برقرار رکھتے ہوئے ایک منفرد سفارتی پل کا کردار ادا کیا۔ اسلام آباد نے ایک طرف امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ سیکیورٹی روابط کو استعمال کیا اور دوسری طرف تہران کے ساتھ سفارتی چینلز کو متحرک رکھا۔

    پاکستان کی خارجہ پالیسی کے معماروں نے یہ بھانپ لیا تھا کہ عسکری طاقت کا استعمال کسی بھی فریق کو مکمل فتح نہیں دلا سکتا، بلکہ یہ پورے خطے کو تباہی کی طرف دھکیل دے گا۔

    پاکستان نے قطر کے امیر اور عمان کے سفارتی کارندوں کے ساتھ مل کر ایک مربوط شٹل ڈپلومیسی کا آغاز کیا۔ پاکستانی سفیروں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایسے پیغامات کا تبادلہ کیا جنہوں نے دونوں فریقین کو اپنے سخت عسکری موقف سے پیچھے ہٹنے اور ایک دوسرے کی شرائط کو سنجیدگی سے سننے پر آمادہ کیا۔

    پاکستان اور قطر کی اس مشترکہ سفارتی کامیابی نے ہی 17 جون کے مفاہمتی معاہدے کی راہ ہموار کی، جس نے بارود کے دھوئیں کو عارضی طور پر دبا کر مذاکرات کے روشن امکانات پیدا کیے۔

    ٹرمپ کا ‘ڈیل میکر’ مائینڈ سیٹ اور سازگار عوامل

    ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے، تو یہ کسی روایتی سیاست دان کی نظریاتی خارجہ پالیسی کے بجائے ایک سخت بزنس مین یا کارپوریٹ ڈیلر کی کاروباری حکمت عملی کے زیادہ قریب نظر آتی ہے۔

    بین الاقوامی تعلقات کی اصطلاح میں انہیں ایک ‘نیو آئسولیشنسٹ’ رہنما کہا جاتا ہے، جو بیرون ملک امریکی فوجیوں کی تعیناتی اور لاحاصل، طویل جنگوں پر اربوں ڈالر کے امریکی سرمائے کے ضیاع کے شدید مخالف ہیں۔

    ٹرمپ کا فلسفہ سادہ ہے: طاقت کا مظاہرہ صرف اس وقت کرو جب آپ کو سامنے والی پارٹی کو معاشی یا عسکری طور پر مجبور کر کے اپنی شرائط پر سودے بازی کرنی ہو۔

    فروری 2026 میں ‘آپریشن ایپک فیوری’ کے ذریعے ایران کو اپنی عسکری طاقت کا جوہر دکھانے کے بعد، اب ٹرمپ اپنے اسی روایتی ‘ڈیل میکر’ مائینڈ سیٹ کے تحت میدان میں اتر چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ کا یہ دعوی کہ قطر اور پاکستان کی ثالثی کی بدولت ایران امریکہ کی تقریباً تمام سخت شرائط ماننے پر آمادہ ہو گیا ہے، ان کی اسی کاروباری سفارت کاری کا عکاس ہے۔

    ٹرمپ اس مجوزہ جوہری معاہدے کو دنیا کے سامنے ایک ایسی ٹرافی یا ‘صدی کی سب سے بڑی ڈیل’ کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں، جو ان کے بقول ایران کے جوہری عسکری پروگرام کے سامنے ایک ایسی ‘مضبوط دیوار’ ثابت ہو گی جسے ماضی کی کوئی بھی امریکی انتظامیہ تعمیر کرنے میں ناکام رہی تھی۔

    واشنگٹن کی تزویراتی ترجیحات کا خاکہ

    داخلی سیاسی برتری: امریکی ووٹرز کے سامنے خود کو ایک کامیاب ‘امن پسند لیکن طاقتور لیڈر’ کے طور پر پیش کرنا۔

    توانائی کی مارکیٹ کا استحکام: آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کر کے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا۔

    عسکری اخراجات میں کمی: مشرق وسطی میں امریکی اثاثوں پر حملوں کا تدارک اور جنگی بجٹ پر دباؤ کا خاتمہ۔

    ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اس وقت سب سے بڑا محرک امریکی معیشت اور داخلی سیاست کا استحکام ہے۔ فروری کے تنازع کے بعد سے تیل کی عالمی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ امریکی صارفین کے لیے مشکلات کا باعث بن رہا تھا، اور ٹرمپ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ واشنگٹن میں اقتدار کا راستہ خام تیل کی قیمتوں اور اقتصادی استحکام سے ہو کر گزرتا ہے۔

    اگر دوحہ مذاکرات کے ذریعے ایران اپنے جوہری پروگرام پر دستبرداری کا عملی مظاہرہ کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارت کے لیے مستقل طور پر کھلا رکھنے کی ضمانت دیتا ہے، تو یہ ٹرمپ کے لیے ایک زبردست سیاسی فتح ہو گی۔ یہ سازگار عوامل اس وقت دونوں ممالک کو ایک عارضی معاہدے کی طرف تیزی سے دھکیل رہے ہیں۔

    تہران کا تزویراتی اضطراب اور اندرونی قیادت کا چیلنج

    تہران کی سیاست کو باہر سے دیکھ کر اکثر ایک یک رنگی نظام کا گمان ہوتا ہے، جہاں سپریم لیڈر کا فیصلہ ہی حرف آخر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم بین الاقوامی تعلقات کے نظریات، بالخصوص ‘داخلی سیاست کا نظریہ’ کی عینک لگا کر دیکھیں، تو ایرانی اقتدار کی تہوں میں تضادات اور تزویراتی اضطراب کا ایک پورا سمندر موجزن نظر آتا ہے۔

    قطر میں جاری فنی مذاکرات کے پس منظر میں تہران اس وقت اپنی جدید تاریخ کے حساس ترین موڑ سے گزر رہا ہے۔ حال ہی میں نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کے منصب سنبھالنے کے بعد ایرانی اسٹیبلشمنٹ، پاسداران انقلاب، اور سیکیورٹی بیوروکریسی کے اندر ایک شدید نظریاتی اور تزویراتی کھینچ تان شروع ہو چکی ہے۔

    ایران کے موجودہ صدر مسعود پزشکیان ایک اصلاح پسند سوچ کے حامل رہنما ہیں، جن کا پورا سیاسی ایجنڈا اور بقا ایرانی معیشت کو وینٹی لیٹر سے نکالنے پر منحصر ہے۔ فروری 2026 کے فوجی تصادم اور اس کے نتیجے میں لگنے والی نئی پابندیوں نے ایرانی کرنسی ریال کو تاریخی گراوٹ کا شکار کر دیا ہے، اور ملکی اندرونی سیاست میں عوامی احتجاج کا لاوا کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔

    صدر پزشکیان اور ان کی سفارتی ٹیم کا موقف واضح ہے: وہ امریکی پابندیوں کے خاتمے اور منجمد فنڈز کی بحالی کے لیے کسی بھی حد تک جانے اور دوحہ میں لچک دکھانے پر مجبور ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر اگست 2026 کے وسط تک کوئی معاہدہ طے نہ پایا، تو معاشی ناکہ بندی ایران کے اندرونی سماجی ڈھانچے کو مفلوج کر دے گی۔

    لیکن تصویر کا دوسرا رخ، جو اس پورے سفارتی عمل کی راہ میں ایک آہنی دیوار بن کر کھڑا ہے، وہ نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کا سخت گیر موقف ہے۔ نئی قیادت کا استدلال یہ ہے کہ بین الاقوامی نظام میں ‘طاقت ہی واحد کرنسی ہے’۔ ان کا ماننا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر رتی بھر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

    ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے پاس اس شک کی ایک ٹھوس تاریخی دلیل موجود ہے؛ یہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی تھے جنہوں نے 2018 میں اس وقت کے صدر باراک اوباما کے دستخط شدہ ‘مشترکہ جامع منصوبہ بندی کے عمل’ کو ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے یکطرفہ طور پر منسوخ کر کے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا تھا۔

    تہران کی نئی قیادت کا یہ سوال انتہائی جاندار ہے کہ اگر ایران اپنے خون پسینے سے تیار کردہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تلف کر دیتا ہے یا ملک سے باہر منتقل کر دیتا ہے، تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ٹرمپ دو سال بعد کوئی نیا بہانہ بنا کر دوبارہ پابندیاں عائد نہیں کریں گے؟

    پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کا ماننا ہے کہ یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت ہی ایران کا واحد تزویراتی دفاع ہے، اور اسے میز پر کھو دینا عسکری خودکشی کے مترادف ہو گا۔ تہران کی یہ داخلی کشمکش اور نئی قیادت کے تحفظات دوحہ مذاکرات کے مستقبل پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔

    اسرائیلی فیکٹر، کانگریس کی قانونی گتھیاں اور خلاصہ کلام

    بین الاقوامی مذاکرات کے اصولوں کا ایک بنیادی قانون ہے کہ "کسی بھی میز پر طے پانے والا معاہدہ اس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتا جب تک اس تنازع کے تمام بڑے فریق اس کا حصہ نہ ہوں”۔ دوحہ مذاکرات کا سب سے کمزور، نازک اور خطرناک پہلو یہی ہے کہ مشرق وسطی کی سب سے بڑی عسکری طاقت اور امریکی خارجہ پالیسی کا لاڈلا ‘اسرائیل’ اس پورے سفارتی عمل سے مکمل طور پر باہر ہے۔

    اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور سیکیورٹی وزیر اتمار بن گویر جیسے سخت گیر رہنماؤں کے حالیہ بیانات نے واشنگٹن کے سفارتی حلقوں میں زلزلہ پیدا کر رکھا ہے۔ بن گویر کا یہ واضح اعلان کہ "ٹرمپ کا معاہدہ اسرائیل پر لاگو نہیں ہوتا” کوئی معمولی گیدڑ بھپکی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تزویراتی حقیقت کا اعتراف ہے۔

    اسرائیل کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی یا پابندیوں کا خاتمہ، خواہ وہ کتنی ہی سخت شرائط پر کیوں نہ ہو، تہران کو دوبارہ معاشی آکسیجن فراہم کرے گا۔ اس معاشی بحالی کا براہ راست نتیجہ خطے میں حماس، حزب اللہ اور یمن کے حوثیوں جیسے ایرانی اتحادیوں کی دوبارہ مضبوطی کی صورت میں نکلے گا۔

    اسرائیلی فیکٹر اس لیے خطرناک ہے کیونکہ تل ابیب کے پاس تہران اور واشنگٹن کی اس سفارتی بساط کو الٹنے کی مکمل عسکری صلاحیت موجود ہے۔ اگر قطر میں جاری تکنیکی مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے قریب پہنچتے ہیں اور اسرائیل کو لگتا ہے کہ اس کی سلامتی کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، تو وہ تہران کی نیوکلیئر تنصیبات پر یکطرفہ سرجیکل اسٹرائیک کر سکتا ہے، یا لبنان و شام میں ایرانی اہداف پر حملوں میں تیزی لا سکتا ہے۔

    بین الاقوامی تعلقات کی زبان میں اسے ‘اسپائلر فیکٹر’ کہا جاتا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی کوئی بھی عسکری کارروائی ایران کو دوحہ میز سے اٹھنے پر مجبور کر دے گی اور خطہ سیکنڈوں میں دوبارہ فروری 2026 والی خونی دلدل میں جا گرے گا۔

    اس کے علاوہ، منجمد فنڈز اور معاشی ریلیف پر ٹرمپ کی کڑی شرائط نے ایران کے لیے مذاکرات کا نوالہ انتہائی کڑوا کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے صاف کہہ دیا ہے کہ امریکہ ایران میں نہ تو کوئی سرمایہ کاری کرے گا اور نہ ہی نقد رقم جاری کی جائے گی۔

    جنوبی کوریا، جاپان اور دیگر عالمی بینکوں میں منجمد ایرانی فنڈز اگر جاری کیے بھی گئے، تو وہ قطر کے زیر نگرانی ایک ایسے امانتی اکاؤنٹ میں جائیں گے جہاں سے ایران صرف اور صرف خوراک، ادویات اور انسانی ہمدردی کی اشیا خرید سکے گا۔

    تہران کے لیے یہ شرائط اس کی قومی خودداری پر ایک کاری ضرب ہیں، کیونکہ انہیں اپنی تباہ حال معیشت کو بچانے کے لیے فوری نقد رقوم کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف راشن کی صورت میں امداد کی۔

    امریکی کانگریس کی قانونی گتھیاں

    اب ذرا واشنگٹن کے اندرونی آئینی منظر نامے کا جائزہ لیتے ہیں، جو کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کی عمر کا تعین کرتا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی صرف وائٹ ہاؤس سے نہیں چلتی، بلکہ امریکی کانگریس اس کا دوسرا اہم ترین ستون ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مائینڈ سیٹ ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے ڈیل کرنے کا ہے، لیکن امریکی آئین کے تحت کوئی بھی معاہدہ اس وقت تک مستقل قانون نہیں بن سکتا جب تک امریکی سینیٹ کی دو تہائی اکثریت اس کی توثیق نہ کر دے۔

    موجودہ امریکی کانگریس کی صورتحال یہ ہے کہ وہاں اسرائیل نواز لابی کا اثر و رسوخ انتہائی گہرا ہے، اور ریپبلکن و ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے سخت گیر ارکان ایران کو کسی بھی قسم کا معاشی ریلیف دینے کے شدید مخالف ہیں۔

    اگر ٹرمپ قطر ڈیل کو ایک باقاعدہ ‘معاہدہ’ کے طور پر کانگریس سے پاس کرانے کی کوشش کرتے ہیں، تو انہیں وہاں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور اگر وہ کانگریس کو نظرانداز کر کے صرف ایک صدارتی انتظامی حکم نامے پر دستخط کرتے ہیں، تو یہ معاہدہ ایک بار پھر ریت کی دیوار ثابت ہو گا۔ ایران یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ٹرمپ کے بعد آنے والا کوئی بھی نیا امریکی صدر، خواہ وہ 2028 میں ہو یا بعد میں، اس معاہدے کو دوبارہ ایک دستخط سے منسوخ کر سکتا ہے۔

    یہ قانونی عدم تحفظ ایران کو طویل مدتی اور بڑے تزویراتی فیصلے کرنے سے روکتا ہے۔

    مجموعی طور پر، اگر ہم اس پورے منظر نامے کا خلاصہ کریں، تو ہم ایک انتہائی دلچسپ لیکن خوفناک تضاد پر پہنچتے ہیں۔

    رواں سال فروری 2026 کے ہولناک فوجی تصادم کے بعد فریقین کا سفارتی میز پر آنا، 17 جون کا مفاہمتی معاہدہ اور اگست 2026 کے وسط تک کی سخت ڈیڈ لائن یہ ثابت کرتی ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی داخلی سیاست اور امریکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مشرق وسطی میں ایک بڑی "سیاسی فتح” درکار ہے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو اپنی گرتی ہوئی حکومت اور تباہ حال عوام کو بچانے کے لیے پابندیوں کا خاتمہ چاہیے۔ یہ دونوں مجبوریاں ایک ‘نئے معاہدے’ کی پیدائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہیں۔

    تاہم، اس مجوزہ معاہدے کو ‘پائیدار’ بنانا ایک ایسا تزویراتی گورکھ دھندا ہے جس کا حل فی الحال دنیا کے کسی تھنک ٹینک کے پاس بھی نظر نہیں آتا۔

    ایران میں آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کی نئی قیادت کے شدید تحفظات اور ماضی کے تلخ تجربات، منجمد فنڈز کے استعمال پر واشنگٹن کی توہین آمیز اور سخت شرائط، امریکی کانگریس کی طرف سے اس کی مستقل قانونی توثیق کے نہ ہونے کے برابر امکانات، اور سب سے بڑھ کر اسرائیل کا اس سفارتی عمل سے باہر رہ کر مسلسل عسکری کارروائیوں کی دھمکیاں دینا، یہ وہ بارودی سرنگیں ہیں جو اس معاہدے کے راستے میں بچھی ہوئی ہیں۔

    خلاصہ کلام یہ کہ مشرق وسطی اس وقت ایک ایسے بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے جس کے اوپر سفارت کاری کی ایک عارضی چھتری تان دی گئی ہے۔ دوحہ کے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے سفارت کار اگر اگست 2026 کے وسط تک کسی کاغذ پر دستخط کرانے میں کامیاب ہو بھی جائیں، تو وہ معاہدہ خطے میں مستقل امن کی ضمانت نہیں بن سکے گا۔

    جب تک اسرائیل، ایران کی داخلی اسٹیبلشمنٹ، اور امریکی کانگریس اس ڈیل کے ضامن نہیں بنتے، یہ معاہدہ بھی تاریخ کے ان عارضی کاغذات کا حصہ بن جائے گا جو پہلی ہی عسکری چنگاری سے جل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔ صحافت کا طالب علم ہونے کے ناطے، میری نظریں اب اگست کے اس فیصلہ کن موڑ پر ہیں جو یہ طے کرے گا کہ دنیا امن کی طرف بڑھتی ہے یا دوبارہ بارود کے شعلوں کی نذر ہوتی ہے۔

  • ایران جنگ میں امن کردار، کیا پاکستان کو معاشی فائدہ بھی ملے گا؟

    ایران جنگ میں امن کردار، کیا پاکستان کو معاشی فائدہ بھی ملے گا؟

    ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور امن معاہدے میں کردار کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سفارتی کامیابی پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے بھی کسی بڑے معاشی فائدے میں تبدیل ہو سکے گی یا نہیں۔

    بین الاقوامی خبررساں ادارے رائٹرز کے صحافی عریبہ شاہد اور سعد سعید کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی اہم بات چیت میں بھی حصہ لیا۔ عالمی رہنماؤں نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کردار نے نہ صرف جنگ بندی میں مدد دی بلکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی عالمی ترسیل میں ممکنہ بڑے بحران کو بھی ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس سفارتی کامیابی کے نتیجے میں عالمی سطح پر بہتر ساکھ حاصل ہوئی ہے۔ اگر حکومت اس موقع سے درست انداز میں فائدہ اٹھائے تو غیر ملکی سرمایہ کاری، تجارت، برآمدات اور علاقائی اقتصادی تعاون میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کے وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو ملک اپنے اندر استحکام پیدا کرتا ہے اور دنیا میں امن کے قیام میں کردار ادا کرتا ہے، وہ سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت آئندہ مالی سال کے لیے چار فیصد معاشی ترقی کا ہدف رکھے ہوئے ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں استحکام آنے سے تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان ایران، خلیجی ممالک اور ترکی کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ بلوچستان کی سرحدی تجارت کو وسعت دینے، توانائی، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ اگر ان شعبوں میں پیش رفت ہوتی ہے تو اس سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

    تاہم متعدد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف کامیاب سفارت کاری پاکستان کے معاشی مسائل حل نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق ملک کو اب بھی کمزور برآمدات، محدود ٹیکس نیٹ، بیرونی قرضوں، مالی خسارے اور بار بار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے امداد لینے جیسے بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ جب تک ان مسائل پر سنجیدگی سے قابو نہیں پایا جاتا، اس وقت تک سفارتی کامیابیوں کے معاشی فوائد محدود رہ سکتے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق بعض مغربی سفارت کاروں نے بھی اشارہ دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون بڑھانے میں دلچسپی موجود ہے۔ تاہم ابھی تک کسی بڑے مالی پیکیج یا غیر معمولی سرمایہ کاری کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنی بہتر ہوتی ہوئی عالمی ساکھ کو معاشی اصلاحات کے ساتھ جوڑ دے تو وہ طویل مدت میں نمایاں فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے لیے کاروباری ماحول کو بہتر بنانا، سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنا، برآمدات میں اضافہ کرنا اور پائیدار معاشی پالیسی اختیار کرنا ضروری ہوگا۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران پاکستان کو توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا سامنا رہا۔ جنگ بندی کے بعد ان خطرات میں کمی آئی ہے، جس سے پاکستان سمیت پورے خطے میں معاشی سرگرمیوں کے بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ وہ اپنی سفارتی کامیابی کو معاشی پالیسی میں تبدیل کرے۔ اگر حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنے، برآمدات بڑھانے، ٹیکس اصلاحات نافذ کرنے اور کاروباری ماحول بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو حالیہ سفارتی کردار مستقبل میں معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

    رائٹرز کے صحافی عریبہ شاہد اور سعد سعید اپنی رپورٹ کے اختتام پر لکھتے ہیں کہ پاکستان کے پاس اس وقت ایک نادر موقع موجود ہے۔ دنیا میں امن کے لیے ادا کیا گیا کردار ملک کی عالمی ساکھ بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوا ہے، لیکن اس کامیابی کو دیرپا معاشی فائدے میں تبدیل کرنے کے لیے مضبوط معاشی اصلاحات، پالیسیوں کا تسلسل اور مؤثر حکومتی اقدامات ناگزیر ہوں گے۔

  • ایران پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی: کیا پاکستان، ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہو سکے گا؟

    ایران پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی: کیا پاکستان، ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہو سکے گا؟

    ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ آج پاکستان پہنچ رہے ہیں اور ان کے اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تجارت، توانائی، سرحدی تعاون اور علاقائی روابط سمیت متعدد اہم موضوعات پر بات چیت متوقع ہے، لیکن ان تمام معاملات میں ایک سوال سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے: کیا تقریباً تین دہائیوں سے تعطل کا شکار پاکستان۔ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اب دوبارہ زندگی پا سکے گا؟

    یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان اس وقت شدید توانائی بحران، گیس کی قلت اور مہنگی درآمدی ایل این جی پر انحصار کے دور سے گزر رہا ہے۔ دوسری جانب حالیہ ایران۔امریکہ سفارتی پیش رفت نے بھی خطے میں توانائی کے نئے امکانات کے بارے میں بحث چھیڑ دی ہے۔

    پاکستان میں قدرتی گیس کئی دہائیوں تک توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ رہی۔ گھریلو صارفین، صنعتیں، بجلی گھر، کھاد ساز کارخانے اور سی این جی سیکٹر بڑی حد تک مقامی گیس پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ تاہم سوئی، ماری، قادری اور دیگر بڑے گیس ذخائر سے پیداوار میں مسلسل کمی کے باعث ملک کو گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

    سردیوں میں کئی شہروں خاص طور پر بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں گیس کا دباؤ کم ہو جاتا ہے جبکہ صنعتوں کو بھی گیس کی فراہمی محدود کر دی جاتی ہے۔ اس خلا کو پورا کرنے کے لیے پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے مہنگی ایل این جی درآمد کر رہا ہے، جس پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔

    توانائی ماہرین کے مطابق اگر ایران سے پائپ لائن کے ذریعے گیس پاکستان پہنچتی ہے تو یہ ایل این جی کے مقابلے میں نسبتاً کم لاگت والا اور زیادہ مستحکم ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    تیس برس کا خواب

    ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی کہانی 1990 کی دہائی میں شروع ہوئی۔ اس وقت خیال یہ تھا کہ ایران کے وسیع گیس ذخائر سے گیس پاکستان اور پھر بھارت تک پہنچائی جائے۔

    اسی وجہ سے ابتدائی طور پر اس منصوبے کو ایران۔پاکستان۔بھارت یا آئی پی آئی پائپ لائن کہا جاتا تھا۔ منصوبہ خطے میں اقتصادی تعاون کی ایک بڑی مثال سمجھا جاتا تھا اور اسے بعض مبصرین نے "امن کی پائپ لائن” کا نام بھی دیا تھا۔

    تاہم بھارت نے قیمتوں، سکیورٹی خدشات اور سیاسی عوامل کا حوالہ دیتے ہوئے منصوبے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ یوں یہ منصوبہ صرف ایران اور پاکستان کے درمیان محدود ہو گیا اور بعد میں اسے آئی پی گیس پائپ لائن کہا جانے لگا۔

    پاکستان اور ایران کے درمیان گیس خریداری کا معاہدہ 2010 میں طے پایا۔ اس کے بعد مارچ 2013 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے سرحدی علاقے میں منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔

    اس موقع پر دونوں ممالک نے اسے توانائی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ توقع تھی کہ چند برسوں میں ایرانی گیس پاکستان کے قومی نظام کا حصہ بن جائے گی اور ملک کے توانائی مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔

    لیکن یہ امیدیں جلد ہی مشکلات کی نذر ہو گئیں، کیوں کہ ایران پر امریکہ کی پابندیوں کے باعث پاکستان اپنے علاقے میں پائیپ لائین تعمیر کرنے سے ہچکچاہت کا شکار رہا۔ اس حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ ایران نے اپنے حصے کا پائیپ بچھا دیا تھا۔ پاکستان کو خدشہ تھا کہ اگر اس نے منصوبے پر مکمل عملدرآمد کیا تو اسے امریکی ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    دوسری طرف عالمی بینکوں اور مالیاتی اداروں نے بھی پابندیوں کے ماحول میں اس منصوبے کی مالی معاونت سے گریز کیا۔ اس وجہ سے پاکستان کو سرمایہ کاری اور فنانسنگ کے مسائل کا سامنا رہا۔

    اس دوران پاکستان نے قطر سے ایل این جی درآمد کرنے کا راستہ اختیار کیا جبکہ توانائی کی پالیسیوں میں بھی تبدیلیاں آتی رہیں۔ نتیجتاً پائپ لائن منصوبہ پس منظر میں چلا گیا۔

    اس منصوبے کی بنیاد جنوبی پارس گیس فیلڈ پر ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس ذخائر میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس میں واقع یہ میدان قطر کے ساتھ مشترکہ ذخائر کا حصہ بھی ہے۔

    ایران نے اپنی سرزمین پر تقریباً 1100 کلومیٹر طویل پائپ لائن تعمیر کی جو صوبہ بوشہر کے علاقے عسلویہ سے شروع ہو کر مختلف صوبوں سے گزرتی ہوئی پاکستان کی سرحد تک پہنچتی ہے۔

    پاکستان میں پائپ لائن کو بلوچستان کے سرحدی مقام گبد سے داخل ہونا تھا۔ وہاں سے یہ گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے گزرتی ہوئی سندھ کے شہر نواب شاہ تک پہنچنی تھی، جہاں پاکستان کا مرکزی گیس ٹرانسمیشن نیٹ ورک موجود ہے۔

    منصوبے کے مطابق پاکستان کے حصے کی لمبائی تقریباً 781 کلومیٹر رکھی گئی تھی۔ معاہدے کے تحت ایران روزانہ تقریباً 750 ملین کیوبک فٹ گیس پاکستان کو فراہم کرتا۔

    ماہرین کے مطابق یہ مقدار پاکستان کی مجموعی ضروریات کا قابل ذکر حصہ پوری کر سکتی تھی۔ اس گیس کو گھریلو استعمال، صنعتوں، کھاد سازی، سی این جی اسٹیشنوں اور بجلی گھروں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

    کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر یہ منصوبہ وقت پر مکمل ہو جاتا تو آج پاکستان کو گیس لوڈشیڈنگ اور مہنگی ایل

    ایران کا مؤقف اور جرمانے کا خطرہ

    ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا کہ اس نے اپنے حصے کا کام مکمل کر دیا ہے اور اب پاکستان کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔

    معاہدے کے تحت پاکستان کو مخصوص مدت کے اندر اپنا حصہ تعمیر کرنا تھا، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ بعد ازاں ایران کی جانب سے جرمانے اور قانونی کارروائی کی ممکنہ باتیں بھی سامنے آئیں۔

    دونوں ممالک نے مختلف ادوار میں مذاکرات کیے اور کوئی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جس سے معاہدہ بھی برقرار رہے اور پاکستان بین الاقوامی پابندیوں کے خطرات سے بھی محفوظ رہ سکے۔

    2024 میں نئی پیش رفت

    منصوبے میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب مارچ 2024 میں پاکستان نے ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت اپنی سرزمین پر ابتدائی 80 کلومیٹر حصے کی تعمیر کی منظوری دی تو اس معاملے پر امریکہ نے کھل کر مخالفت کا اظہار کیا۔ اس دوران امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر سے واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ کے دوران سوال کیا گیا کہ اگر پاکستان ایران سے گیس درآمد کرنے کے منصوبے پر آگے بڑھتا ہے تو امریکہ کا ردعمل کیا ہوگا۔

    جواب میں میتھیو ملر نے کہا کہ امریکہ اس منصوبے کی حمایت نہیں کرتا اور ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جو بھی ایران کے ساتھ کاروبار کرتا ہے، اسے ہماری پابندیوں کے خطرات کو بہت سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے۔” یہ وہ بیان تھا جسے بعض بین الاقوامی اور پاکستانی میڈیا اداروں نے عام فہم انداز میں "face the music” یعنی "نتائج بھگتنا پڑیں گے” کے مفہوم سے بیان کیا۔

    اس سے چند روز قبل امریکی معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو بھی کانگریس کی ایک سماعت میں کہہ چکے تھے کہ ایران سے گیس درآمد کرنے کی صورت میں پاکستان امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتا ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب پاکستان ایران کی جانب سے ممکنہ اربوں ڈالر جرمانے سے بچنے کے لیے پائپ لائن کے سرحدی حصے پر تعمیراتی کام شروع کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امریکی مخالفت کے باعث یہ منصوبہ ایک بار پھر بین الاقوامی سیاست، توانائی کی ضرورت اور اقتصادی مفادات کے درمیان توازن کا ایک اہم امتحان بن گیا۔ تاہم منصوبے کا بڑا حصہ اب بھی تعمیر کا منتظر ہے۔

    کیا موجودہ حالات میں منصوبہ ممکن ہے؟

    ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان نے اس سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

    پاکستان کو توانائی کی شدید ضرورت ہے۔ مقامی گیس ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں جبکہ درآمدی ایل این جی ملکی معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔ ایسے میں ایران سے زمینی راستے کے ذریعے گیس کی فراہمی ایک پرکشش آپشن سمجھی جاتی ہے۔

    دوسری جانب ایران بھی اپنی توانائی برآمدات بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر پابندیوں کے ماحول میں نرمی آتی ہے یا دونوں ممالک کوئی ایسا طریقہ کار تلاش کر لیتے ہیں جو بین الاقوامی قوانین سے مطابقت رکھتا ہو، تو منصوبے کے دوبارہ فعال ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

    تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف سیاسی خواہش کافی نہیں ہوگی۔ منصوبے کی تکمیل کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، بین الاقوامی مالیاتی تعاون، تکنیکی انتظامات اور مضبوط سفارتی حکمت عملی درکار ہوگی۔

    ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن محض ایک توانائی منصوبہ نہیں بلکہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان اقتصادی، جغرافیائی اور تزویراتی تعاون کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔

    ایرانی صدر کے موجودہ دورے کے دوران اگرچہ کسی بڑی پیش رفت کی توقعات قبل از وقت ہوں گی، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات اور خطے میں بدلتے ہوئے حالات نے اس منصوبے کو ایک بار پھر قومی بحث کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آنے والے برسوں میں بلوچستان کے سرحدی علاقے گبد سے گزرنے والی یہی پائپ لائن پاکستان کے توانائی نقشے کو بدلنے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا یہ منصوبہ ماضی کی طرح ایک بار پھر سیاسی اور سفارتی رکاوٹوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔

  • ٹرمپ-ایران معاہدہ: اسرائیل کی بغاوت، واشنگٹن میں دراڑ اور ممکنہ ایک نئی جنگ کا خطرہ

    ٹرمپ-ایران معاہدہ: اسرائیل کی بغاوت، واشنگٹن میں دراڑ اور ممکنہ ایک نئی جنگ کا خطرہ

    صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جس عبوری معاہدے پر مہر لگائی ہے، وہ اب امریکہ اور اسرائیل کے درمیان سفارتی بحران کا سبب بن چکا ہے۔ تل ابیب کی حکومت اور میڈیا سرِعام ٹرمپ پر الزامات لگا رہے ہیں کہ انہوں نے انہیں (اسرائیل کو) اپنے سب سے بڑے دشمن کے سامنے اکیلا چھوڑ کر بھاگنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جبکہ واشنگٹن کے اندر اسرائیل نواز لابی اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے سرگرم ہو گئی ہے۔
    لبنان پر حالیہ بمباری اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے ایرانی اعلان سے معاملہ مزید بھڑک اٹھا ہے، اور سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا یہ نازک سفارتی معاہدہ دونوں فریقین کے مفادات کے ٹکراؤ میں زندہ رہ پائے گا یا پھر پورے خطے کو ایک نئی اور وسیع جنگ کی طرف دھکیل دے گا۔
    امریکہ اور اسرائیل کے درمیان پیدا ہونے والی سفارتی دراڑ اب آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ اسرائیلی میڈیا اور سیاست دان ایران کے ساتھ مذاکرات کے باضابطہ معاہدے پر صدر ٹرمپ پر الزام لگا رہے ہیں کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ عبوری معاہدہ کر کے اسرائیل کو اپنے سب سے بڑے دشمن کے سامنے میدانِ جنگ میں اکیلا چھوڑ دیا اور بھاگ گیا۔
    اسرائیلی تجزیہ کاروں نے اسے دھوکے بازی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران کی تمام شرائط منظور کر کے ہمیں رسوا کر کے چلا گیا ہے۔ ایران ان دو مہینوں میں ایٹمی ہتھیار تیار کر کے دھماکے بھی کر سکتا ہے۔
    اسرائیلی اخبار ‘اسرائیل ہیوم’ نے ٹرمپ کے بارے میں لکھا ہے کہ ‘آپ ایک عظیم صدر ہو سکتے تھے لیکن آپ ناکام ہو گئے، آپ نے دہشت گرد حکومت کے سامنے آخری وقت میں ہتھیار ڈال کر ہمیں رسوا کیا ہے۔’ ٹرمپ کی میگا ڈونر مریم ایڈلسن نے لکھا ہے کہ ٹرمپ نے وقت کی سوئی کو ایک نئی جنگ کی طرف موڑ دیا ہے۔
    ٹرمپ اوباما پر الزامات تو لگا رہے ہیں لیکن وہ ان کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھنے کے لائق بھی نہیں رہے ہیں۔ بین گوریون یونیورسٹی کے پروفیسر ہاگائی رام نے لکھا ہے کہ ٹرمپ پہلے اسرائیل کی ‘مقبول شخصیت’ تھے لیکن اب ‘ولن’ بن چکے ہیں۔ اصل میں یہ بھی ایران کا سفارتی جال تھا، جس میں واشنگٹن والے آسانی سے پھنس گئے ہیں۔
    امریکیوں کو یکطرفہ جنگوں کا تجربہ ہے لیکن ایرانیوں کو صدیوں سے چلنے والی جنگوں کا تجربہ ہے۔
    1948 سے امریکہ نے اسرائیل کی ہر قسم کی مدد کی ہے۔ فلسطینیوں کا قتلِ عام، ان کی اقتصادی ناکہ بندی، بین الاقوامی قوانین کی سرِعام خلاف ورزی، پوری دنیا سے اسرائیل کی خاطر دشمنی مول لینا، غزہ کو مکمل طور پر مٹی کا ڈھیر بنانا اور اس جنگ میں کھربوں ڈالر کے ہتھیار دینے سمیت تمام عرب ممالک کو اسرائیل کا دستِ نگر (تابع) بنا دیا۔
    ایران آج بھی اسرائیل کے لیے سب سے بڑا علاقائی دشمن ہے۔ لیکن (اسرائیل) لبنان کے تقریباً پانچویں حصے پر بھی قابض ہے۔ حزب اللہ کی وجہ سے وہ اس کنٹرول کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اسرائیل کے چینل 12 نے اس معاہدے کو ایک ‘وقفہ’ قرار دیا ہے۔ 71 فیصد یہودیوں نے کہا ہے کہ ہمیں پہلے ہی ٹرمپ پر اعتماد نہیں تھا اور اب بھی بالکل نہیں ہے۔
    اس معاہدے سے اسرائیل کو میدانِ جنگ میں اکیلا کر کے کھڑا کر دیا گیا ہے۔ نیتن یاہو نے فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور وزیرِ داخلہ (قومی سلامتی) اتمار بن گویر نے کہا ہے کہ ہمارے بیٹوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، ہم اکیلے ہی پورے لبنان کو آگ میں جلا کر تباہ و برباد کر دیں گے۔
    اسرائیلی ردِعمل پر امریکہ میں بھی حکومت اور اپوزیشن دونوں کی طرف سے سخت ردِعمل آنا شروع ہو گیا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی وزیروں کے زبانی حملوں پر کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی سمیت اس جنگ میں امریکہ کے اربوں ڈالر کے ہتھیار اور اربوں ڈالر کی مالی امداد امریکی شہریوں کے ٹیکسوں سے کٹوتی کر کے اسرائیل والوں کو دی گئی، پھر بھی وہ ناشکرے ایسے صدر پر الزامات لگا رہے ہیں جو اگر نہ ہوتا تو اسرائیل کا الٰہی جانے کیا حشر ہوتا۔ پوری دنیا میں صدر ٹرمپ اکیلے ہیں جو اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں، ورنہ آپ نے تو ہر ملک کو اپنا دشمن بنا لیا ہے۔
    بین الاقوامی مبصر گولڈ برگ نے اس صورتحال کو جھگڑا نہیں بلکہ تعلقات میں ‘دراڑ’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حقائق ناگزیر ہیں۔ اسرائیل اپنے مفادات کے لیے امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹ لایا اور نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ٹریپ (جال میں پھنسانا) کر کے استعمال کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ خود ڈوب رہا ہے، اس لیے اس نے خود کو محفوظ کرنے کے لیے جو کچھ بھی کیا، وہ وقت اور حالات کے مطابق بہتر ہوا ہے۔
    اسرائیل سے یہ معاہدہ ہضم نہیں ہوا۔ ہفتوں سے ہر بین الاقوامی مبصر اور میڈیا کہہ رہا تھا کہ تل ابیب کسی نہ کسی وقت اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرے گا، اور گزشتہ دنوں لبنان پر بمباری کر کے انہوں نے اس کی شروعات کر دی ہے۔ جس پر ایران نے دوبارہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
    جس پر نیویارک میں اسرائیل کے سابق سفیر اور قونصل جنرل ایلون پنکاس نے کہا ہے کہ اب دونوں فریقین ‘ایک دوسرے کو آئینہ’ دکھا رہے ہیں۔ اس وقت تل ابیب والے کسی ایسے بین الاقوامی امریکی لیڈر کی تلاش میں ہیں جو نیتن یاہو کی خواہشات کو دوبارہ پورا کر سکے۔ نیتن یاہو اب لبنان سے اس طرح باہر نہیں نکل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ سے بہتر تو اوباما تھا جس نے خطے کی نئی ابھرتی ہوئی طاقت ایران کے ساتھ بغیر جنگ کے ایٹمی معاہدہ کیا۔ لیکن یہ ایک ‘خراب معاہدہ ہے جو کہ ایک انتہائی خراب جنگ’ تھی۔
    اس وقت اسرائیل میں یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ اور یورپ کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنے ہیں تو پھر نیتن یاہو کی حکومت کو ختم کرنا ہوگا۔ دوسری طرف امریکہ میں واشنگٹن کی خارجہ پالیسی پر تنقید ہو رہی ہے کہ یہ جنگ صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی ناکامی اور غلطی تھی۔ اس سے ثابت ہوا ہے کہ امریکہ اپنے کمزور دشمن کو نہیں روک سکتا بلکہ اس نے دوسروں کو بھی دشمن بنا لیا ہے۔
    عرب بادشاہتوں کے ساتھ تعلقات مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ پُرامن مشرقِ وسطیٰ کا تاثر تباہ ہو گیا، معیشت ختم ہو گئی، سمندری راستے بند ہو گئے۔ چین نے اس پوری صورتحال سے فائدہ اٹھایا۔ امریکہ نے اپنے جدید اور خطرناک ہتھیاروں کے ذخائر ختم کر دیے، ایران آج بھی قائم ہے بلکہ مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔
    پوری دنیا تہران کی محتاج ہو گئی ہے۔ صدر ٹرمپ جنگ تو نہیں جیت سکے لیکن ایک مختصر سمندری راستہ بھی نہیں کھلوا سکے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے کھاد کی عالمی سپلائی میں ایک سال کا وقفہ آ گیا ہے، اس لیے آگے چل کر پوری دنیا میں خوراک کا بحران پیدا ہوگا، خاص طور پر افریقی ممالک سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔
    یہ کوئی امن کا معاہدہ نہیں ہے، ایران کے ساتھ جنگ شروع کر کے ٹرمپ نے پوری دنیا میں اپنی طاقت کی بالادستی قائم رکھنے کی جدوجہد شروع کی تھی، لیکن وہ اس میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کا شروع سے اس جنگ میں مقصد فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل سمیت ان کی عرب بادشاہتوں کو جنگ میں الجھانا، مالی نقصان پہنچانا، ان کے اتحاد میں دراڑ ڈالنا اور اپنے اقتدار کے وجود کو برقرار رکھنا تھا۔ جس میں وہ کامیاب رہا۔
    جبکہ امریکی مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل میں یہ معاہدہ ٹرمپ کو چند لمحے سانس لینے کی مہلت دیتا ہے۔ مڈ ٹرم (وسطی مدت کے) انتخابات سر پر ہیں۔ ریپبلکن پرائمری الیکشن مسلسل ہار رہے ہیں۔ مبصر ٹکر کارلسن نے کہا ہے کہ ‘یہ امریکہ کے لیے ایک ذلت آمیز شکست’ ہے۔
    ایران کے نہ تو میزائل، ڈرون، بحریہ، فضائیہ، زمینی فوج اور نہ ہی اس کے تیل کے ذخائر تباہ ہوئے، اوپر سے 300 ارب ڈالر عرب ممالک سے قرض لے کر ایران کو دیے جائیں گے ورنہ پھر مار کھانی پڑے گی۔
    امریکہ نے حزب اللہ اور آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرہ روم کے ذریعے دنیا میں تیل کی سپلائی جاری رکھنے کے لیے شام کو آگے لانے کا فیصلہ کر لیا ہے، یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے نیتن یاہو کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آپ حزب اللہ کو نہیں سنبھال سکتے تو شام یہ کام آسانی سے کر سکتا ہے۔
    عراق اور دیگر ممالک کو شام کے بحیرہ روم کے ذریعے تیل کی سپلائی شروع ہو گئی ہے۔ اسرائیل نے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے اور وہ ٹرمپ کے حزب اللہ کو کنٹرول کرنے والے معاملے پر شکوک و شبہات (الجھن) کا شکار ہے کہ اگر اسرائیل کے ساتھ ایسا کوئی دفاعی معاہدہ کیا گیا تو وہ شام کے کرد اور دیگر قبائلیوں کو خرید کر کہیں ان کا تختہ الٹ کر دمشق میں اپنی حکومت قائم نہ کر لے۔ اسی لیے شام نے ایران معاہدے پر بھی محتاط ردِعمل دیا ہے۔
    الجزیرہ نے اپنے ذرائع سے خبر دی ہے کہ واشنگٹن میں اسرائیل نواز لابی غیر معمولی طور پر سرگرم ہو گئی ہے، اور بہت جلد اس معاہدے کو ختم کرا دے گی۔ امریکی مبصر میتھیو ڈس نے لکھا ہے کہ شروع میں واشنگٹن نے بہترین کارکردگی دکھائی، جنگ کے دوسرے ہی دن مذاکرات ہوئے، معاہدہ ہونے والا تھا لیکن یہودی لابی نے ہونے نہیں دیا۔
    ریپبلکن پارٹی میں دراڑیں پڑ گئیں۔ نائب صدر نے غصے میں کہا کہ ہم نے اس جنگ کو قریب سے دیکھا ہے، یہ بغیر نفع کی جنگ ہے جس میں صرف ہمارا ہی نقصان ہو رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن میں اسرائیل نواز آوازیں ایران کے ساتھ سفارت کاری کو ناکام بنا سکتی ہیں؟ اس وقت اسرائیل میں حکومت اور اپوزیشن کے رہنما، ہر محکمے کے ماہرین مل کر امریکہ-ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی پالیسی پر غور کر رہے ہیں اور ایسی حکمتِ عملی تیار کر رہے ہیں جس سے ‘سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے’۔
    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ معاہدہ نہ تو کوئی مکمل امن ہے اور نہ ہی مکمل ناکامی، یہ ایک عارضی وقفہ ہے جس سے ہر فریق اپنے حساب سے فائدہ تلاش کر رہا ہے۔ ایران کے لیے یہ معاہدہ اپنے اقتدار اور علاقائی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کا موقع ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کے لیے یہ مڈ ٹرم انتخابات سے پہلے سانس لینے کی مہلت ہے۔ لیکن اسرائیل اس معاہدے کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھ رہا ہے، اسی لیے واشنگٹن کے اندر سرگرم اسرائیل نواز لابی اور نیتن یاہو حکومت مل کر اسے ناکام بنانے کی حکمتِ عملی تیار کر رہے ہیں۔
    لبنان پر حالیہ حملہ اور ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ دونوں فریقین ایک دوسرے کو اپنی طاقت دکھانے اور معاہدے کو اپنی شرائط پر موڑنے کی کوشش میں ہیں۔ ایسی صورتحال میں امکان یہ ہے کہ یہ نازک معاہدہ کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے، اور خطہ دوبارہ اسی کٹھن تنازعے میں لوٹ سکتا ہے جس سے نکلنے کے لیے اصل میں یہ معاہدہ کیا گیا تھا۔
    آخر کار، یہ سوال حل طلب ہی رہ جاتا ہے کہ کیا سفارت کاری عرب خطے میں مستقل استحکام لا سکے گی، یا پھر یہ صرف آنے والے بڑے تنازعے سے پہلے ایک مختصر سا توقف ثابت ہوگا۔

  • پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ، آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان

    پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ، آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت امریکہ اور ایران کے صدور نے دستخط کر کے منظور کی ہے جبکہ انہوں نے ثالث کی حیثیت سے اس کی توثیق کی ہے۔ ان کے مطابق دونوں حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر اس معاہدے پر دستخط اس بات کا ثبوت ہیں کہ فریقین تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر متفق ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انہوں نے فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قریب واقع ورسائی محل میں ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب میں انہوں نے مختصر طور پر کہا، ‘یہ معاہدہ ہو چکا ہے، میں نے ابھی ورسائی میں اس پر دستخط کیے ہیں۔’

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی سے گفتگو میں تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں نے باقاعدہ طور پر معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔

    مبصرین کے مطابق اگر معاہدے پر کامیابی سے عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ حالیہ برسوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

    شہباز شریف نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔ معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکہاپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور معمولات زندگی بحال کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    وزیراعظم کے مطابق پاکستان، شریک ثالث ریاست قطر کے تعاون سے، 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس معاہدے کی باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا۔ اس موقع پر فریقین کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا بھی آغاز کیا جائے گا تاکہ معاہدے پر عمل درآمد کے مختلف پہلوؤں کو حتمی شکل دی جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت خطے میں بہتر تعلقات، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد ثابت ہوگی۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی مثبت نتائج پیدا کرے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم نے ایک ایسے بحران کے خاتمے میں مدد دی جو پورے خطے اور دنیا کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا تھا۔ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم کے ارکان جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی کوششوں کو بھی سراہا۔

    انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی دانشمندانہ قیادت اور امن کے لیے عزم نے اس معاہدے کو ممکن بنایا۔ وزیراعظم نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی خدمات کا بھی اعتراف کیا۔

    شہباز شریف نے قطر کی قیادت کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت میں قطر کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کو بھی اس عمل میں تعاون اور مثبت کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔

    وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل کوششوں، غیر معمولی لگن اور امن کے فروغ کے لیے کردار نے اس اہم پیش رفت کو ممکن بنانے میں نمایاں حصہ ڈالا۔

  • امریکہ ایران تنازع: درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کی قیمت بے نقاب، شمسی توانائی بچاؤ کا ذریعہ، توانائی کے ماہرین کا چارٹر آف ڈیمانڈز

    امریکہ ایران تنازع: درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کی قیمت بے نقاب، شمسی توانائی بچاؤ کا ذریعہ، توانائی کے ماہرین کا چارٹر آف ڈیمانڈز

    پاکستان کے توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں نے ایک جامع چارٹر آف ڈیمانڈز پیش کیا ہے جس میں ملک کی انرجی سیکیورٹی کے لیے فوری اور بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ چارٹر الائنس فار کلائمیٹ جسٹس اینڈ کلین انرجی (ACJCE) اور پاکستان رینیوایبل انرجی کولیشن (PREC) کی نمائندگی میں تیار کیا گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ درآمد شدہ فوسل فیولز پر پاکستان کا انحصار کتنا خطرناک ہے۔ یہ وہ قیمت ہے جو ملک دہائیوں سے برداشت کر رہا ہے، لیکن اب اس چکر کو توڑنا ہوگا۔ اس بار صورتحال اتنی سنگین نہیں بنی کیونکہ شہریوں کی جانب سے بچھائی گئی شمسی توانائی نے گھروں، کاروباروں اور کھیتوں کو روشن رکھا۔ 2018 سے اب تک اس سستے اور صاف ذریعے نے تقریباً 12 بلین ڈالر کی ایندھن درآمدات سے بچنے میں مدد کی ہے۔

    چارٹر میں کہا گیا ہے کہ اب حکومت کو فیصلہ کن اقدامات اٹھانے ہوں گے، جن میں درج ذیل مطالبات شامل ہیں:

    ہنگامی اقدامات

    ماہرین نے نیشنل بیٹری اور انرجی سٹوریج ایمرجنسی کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم (BESS) پر تمام ٹیکس اور ڈیوٹیز فوری ختم کی جائیں۔ 100 میگاواٹ سے بڑے تمام سولر اور ونڈ پلانٹس کے لیے اسٹوریج کی مشترکہ تنصیب لازمی قرار دی جائے۔

    دوسرا بڑا مطالبہ سولر پر 10 فیصد جی ایس ٹی ختم کرنا اور سابقہ نیٹ میٹرنگ کا نظام بحال کرنا ہے۔ موجودہ نیٹ بلنگ نظام کے تحت برآمدات پر 11 سے 13 روپے فی یونٹ ملتے ہیں جبکہ درآمدات پر 35 سے 47 روپے وصول کیے جاتے ہیں، جو چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی لاگت میں 20 سے 40 فیصد اضافہ کرتا ہے۔

    مزید برآں، فوسل فیول اور خطرناک بڑی ہائیڈرو پاور کی توسیع کو فوری منجمد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ڈرافٹ میں شامل 5.7 گیگا واٹ فوسل صلاحیت کم از کم لاگٹ کے اصول پر پورا نہیں اترتی اور اسے منسوخ کرنے سے 11 بلین ڈالر سے زائد وسائل دوبارہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    پرانے فوسل فیول معاہدوں کو منسوخ کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ مالی سال 2024-25 میں تقریباً 1.8 ٹریلین روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس کا 60 فیصد فوسل پلانٹس کو جاتا ہے، جبکہ ان کا مجموعی استعمال محض 42.5 فیصد رہا ہے۔

    صنعتی اور مالیاتی ڈھانچہ

    چارٹر میں مقامی الیکٹرک گاڑیوں (EV) کی مینوفیکچرنگ اور چارجنگ انفراسٹرکچر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ پنجاب کی طرف سے تھری وہیلرز پر 3 کلو واٹ موٹر کی حد جیسی صوابدیدی پابندیوں کو ختم کر کے ٹیکنالوجی نیوٹرل قوانین بنائے جائیں۔

    ایک سنگل کلین انرجی فنانسنگ ونڈو قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، جو چھت کے سولر کٹس، EVs، اور یوٹیلیٹی سکیل بیٹریوں کے لیے سبسڈی اور رعایتی قرضے فراہم کرے۔ خاص طور پر الیکٹرک ٹو وہیلرز کے لیے الگ سکیم بنائی جائے، کیونکہ یہ ٹرانسپورٹ کے 54 فیصد ایندھن استعمال کرتے ہیں۔

    پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) کی آمدنی کا کم از کم 50 فیصد حصہ EV چارجنگ انفراسٹرکچر اور پبلک ٹرانسپورٹ کی الیکٹریفکیشن پر خرچ کیا جائے۔

    بین الاقوامی سطح پر از سر نو ترتیب

    ماہرین نے آئی ایم ایف پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آر ایس ایف (RSF) قرضے کو پاکستان کے طویل مدتی توانائی اہداف کے مطابق ڈھالا جائے اور 1.4 بلین ڈالر کے اس قرضے کو غیر قرض موسمیاتی فنانس میں تبدیل کیا جائے۔ ورلڈ بینک اور اے ڈی بی کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کو قابل تجدید توانائی اور گرڈ لچک میں تیز سرمایہ کاری کے لیے اپ ڈیٹ کیا جائے۔

    سیکٹرل اور کمیونٹی کی منتقلی

    چارٹر میں مائیکرو گرڈز اور کمیونٹی کی ملکیت والی توانائی کو فعال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ نیپرا کے موجودہ مائیکرو گرڈ قواعد و ضوابط میں اصلاح کی جائے جو ڈسکوز کی اجارہ داریوں کو مضبوط کرتے ہیں۔

    زرعی ٹیوب ویلوں اور ماہی گیروں کی کشتیوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے قومی پروگرام شروع کیا جائے۔ محروم علاقوں میں خواتین اور کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے سرکاری فنڈز سے سولر کٹس اور بیٹریاں فراہم کی جائیں۔

    آخر میں، ایک منصفانہ منتقلی کا فریم ورک قائم کیا جائے جو توانائی کے تمام فیصلوں کو سماجی اور ماحولیاتی معیارات سے ہم آہنگ کرے۔ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ میں ترمیم کر کے آزادانہ پیشگی اور باخبر رضامندی کو شامل کیا جائے۔

  • ایران جنگ کے اثرات، کنڈوم کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافے کا خدشہ

    ایران جنگ کے اثرات، کنڈوم کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافے کا خدشہ

    دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی آبادی پہلے ہی کئی ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، جہاں وسائل محدود اور خاندانی منصوبہ بندی کے ذرائع ناکافی ہیں۔ ایسے میں مانع حمل طریقوں میں سب سے مؤثر اور قابلِ رسائی ذریعہ سمجھے جانے والے کنڈوم کی ممکنہ مہنگائی نے ایک نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ایران اور امریکہ، اسرائیل کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے پیدا ہونے والا سپلائی بحران بتایا جا رہا ہے۔

    اس سلسلے میں ملائیشیا کی معروف کنڈوم ساز کمپنی Karex نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی برقرار رہی تو اس کی مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کنڈوم بنانے والی اس کمپنی کے مطابق کنڈوم بنانے میں استعمال ہونے والے خام مال کی قلت اور ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔

    Karex ہر سال 5 ارب سے زائد کنڈوم تیار کرتی ہے اور معروف برانڈز Durex اور Trojan سمیت برطانیہ کے قومی صحت کے نظام نیشنل ہیلتھ سروس کو بھی سپلائی فراہم کرتی ہے۔

    کمپنی کے چیف ایگزیکٹو گوہ میاہ کیات نے بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران سے جڑی حالیہ جنگی صورتحال نے عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر تیل اور اس سے وابستہ مصنوعات کی ترسیل میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں، جو کنڈوم کی تیاری کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

    کنڈوم بنانے کے عمل میں لیٹیکس کو محفوظ رکھنے کے لیے امونیا اور چکناہٹ کے لیے سلیکون پر مبنی مواد استعمال ہوتا ہے، جو براہِ راست پیٹرولیم مصنوعات سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ جب تیل کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو ان بائی پراڈکٹ اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔

    گوہ میاہ کیات کے مطابق اس سال کنڈوم کی طلب میں بھی تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک وجہ عالمی غیر یقینی صورتحال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں لوگ خاندانی منصوبہ بندی کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ معاشی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہوتا ہے۔

    ایک اور عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں گوہ میاہ کیات کا کہنا تھا کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد سے کمپنی کو مصنوعی ربڑ اور نائٹرائل سمیت کنڈوم کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد، پیکجنگ اشیا اور چکناہٹ کے لیے استعمال ہونے والے ایلومینیم فوائل اور سلیکون آئل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ Karex کے پاس آئندہ چند ماہ کے لیے کنڈوم کا وافر ذخیرہ موجود ہے، مگر بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداوار میں اضافے کی کوششوں میں یہ جنگی صورتحال سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس غیر ملکی امداد میں بڑی کٹوتیوں، خصوصاً امریکی امدادی ادارے USAID کی جانب سے اخراجات میں کمی کے باعث عالمی سطح پر کنڈوم کے ذخائر میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ یورپ اور امریکا جیسے مقامات تک Karex کی ترسیل اب تقریباً دو ماہ میں مکمل ہو رہی ہے، جو پہلے ایک ماہ میں ہو جاتی تھی۔

    گوہ میاہ کیات نے کہا کہ اس وقت بڑی تعداد میں کنڈوم ایسے بحری جہازوں میں موجود ہیں جو اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے، حالانکہ ان کی شدید ضرورت ہے۔ ان کے بقول کئی ترقی پذیر ممالک میں اسٹاک کی کمی ہے کیونکہ مصنوعات کی ترسیل میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔

  • وہ پتھر جس نے ایران کو طاقت کا مرکز اور امریکہ کو خوف کا شکار بنا دیا

    وہ پتھر جس نے ایران کو طاقت کا مرکز اور امریکہ کو خوف کا شکار بنا دیا

    دنیا کی سیاست اس وقت ایک ایسے عنصر کی وجہ سے تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے جسے عام انسانی آنکھ دیکھ نہیں سکتی مگر اس کی تباہی کا دائرہ صدیوں پر محیط ہے۔

    اس عنصر کا نام یورینیم ہے۔ یہ وہی خاموش چٹان ہے جس کی افزودگی کی شرح کی بنیاد پر امریکہ ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ لیکن یہ افزودگی ہے کیا اور ایک عام پتھر ایٹم بم میں کیسے بدل جاتا ہے۔

    یورینیم کی سائنس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس کی قدرتی حالت جاننا ضروری ہے۔ جب یہ دھات زمین سے کانوں کی شکل میں نکالی جاتی ہے تو اس میں دو بڑی اقسام پائی جاتی ہیں جنہیں سائنسی زبان میں یورینیم 238 اور یورینیم 235 کہا جاتا ہے۔

    ایک کم معلوم حقیقت یہ ہے کہ ایک کلو گرام قدرتی یورینیم میں ننانوے اعشاریہ تین فیصد حصہ یورینیم 238 کا ہوتا ہے جو نیوکلیئر توانائی کے لیے تقریباً بے کار ہے۔ اس کے مقابلے میں یورینیم 235 کی مقدار صرف صفر اعشاریہ سات فیصد ہوتی ہے اور یہی وہ نایاب جزو ہے جو توانائی یا تباہی کا مرکز بنتا ہے۔

    سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ اگر ایک کلو خام یورینیم کو پرکھا جائے تو اس میں سے محض سات گرام ایسا مواد نکلتا ہے جو کام کا ہے۔ باقی ننانوے فیصد سے زائد مواد محض بھرتی کا کچرا ہے۔

    اس سات گرام مفید مواد کو الگ کرنے اور اس کی طاقت کو بڑھانے کے عمل کو افزودگی یا اینرچمنٹ کہا جاتا ہے۔

    یورینیم کو افزودہ کرنے کا طریقہ انتہائی پیچیدہ ہے اور اسے سنٹری فیوج کہلانے والی مشینوں میں انجام دیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے زمین سے نکلے ٹھوس یورینیم کو کیمیائی عمل سے گیس میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

    اس کے بعد اس گیس کو ایسی مشینوں میں ڈالا جاتا ہے جو آواز کی رفتار سے بھی کئی گنا تیز گھومتی ہیں۔ اس خوفناک گردش کے دوران بھاری اور بے کار ایٹم یعنی یورینیم 238 الگ ہو جاتے ہیں جبکہ ہلکے اور مفید ایٹم یعنی یورینیم 235 مرکز میں جمع ہوتے چلے جاتے ہیں۔

    یہی وہ مقام ہے جہاں سے اس دھات کا استعمال تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

    جب یورینیم کو صفر اعشاریہ سات فیصد سے بڑھا کر تین سے پانچ فیصد تک افزودہ کر لیا جاتا ہے تو یہ ایٹمی بجلی گھروں کے ری ایکٹرز میں استعمال کے قابل ہو جاتا ہے۔ یہ وہی ایندھن ہے جو پاکستان کے کراچی اور چاشمہ کے مقام پر واقع نیوکلیئر پاور پلانٹس میں استعمال ہو رہا ہے۔

    جب افزودگی کا درجہ بڑھ کر بیس فیصد تک پہنچ جاتا ہے تو یہ مواد طبی آئسوٹوپس کی تیاری اور تحقیقی ری ایکٹرز میں کام آتا ہے۔ ساٹھ فیصد افزودگی کو تکنیکی طور پر ہائی لیول اینرچمنٹ یعنی اعلیٰ درجے کی افزودگی تصور کیا جاتا ہے۔ یہ وہ سرحد ہے جہاں سے نیوکلیئر دھماکے کی صلاحیت رکھنے والے آلات کی تیاری کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔

    اور جب یہ تناسب نوے فیصد تک جا پہنچے تو اسے ویپن گریڈ یورینیم یعنی ہتھیاروں کے قابل مواد کہا جاتا ہے۔ نوے فیصد افزودہ یورینیم کسی بھی بڑی معیشت کے لیے ایٹم بم تیار کرنے کے لیے درکار آخری اور سب سے مشکل مرحلے کی تکمیل کا اعلان ہوتا ہے۔

    موجودہ عالمی بحران کی جڑ یہیں ہے۔ بین الاقوامی اداروں کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران اس وقت اپنے یورینیم ذخائر کو ساٹھ فیصد تک افزودہ کر چکا ہے۔

    یہ مقدار بجلی گھر یا تحقیقی ری ایکٹر کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے اور تکنیکی طور پر جوہری ہتھیاروں کی دہلیز کے بالکل قریب سمجھی جاتی ہے۔ صرف تکنیکی لحاظ سے یہ مواد ایک چھوٹی سی چھلانگ لگا کر نوے فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

    مزید یہ کہ ایران کے پاس اس وقت چار سو چالیس کلو گرام تک افزودہ یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ وہ مقدار ہے جسے مزید افزودہ کر لیا جائے تو یہ ایک سے زائد ایٹمی اسلحے کی تیاری کے لیے کافی مواد مہیا کر سکتی ہے۔

    یہی وہ سنگ میل ہے جس نے مشرق وسطیٰ کے نقشے پر ایک نئی سرد جنگ مسلط کر دی ہے اور جس کی بازگشت وائٹ ہاؤس سے لے کر تہران کی گلیوں تک سنائی دے رہی ہے۔