Tag: ایران

  • امریکہ ایران تنازع: درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کی قیمت بے نقاب، شمسی توانائی بچاؤ کا ذریعہ، توانائی کے ماہرین کا چارٹر آف ڈیمانڈز

    امریکہ ایران تنازع: درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کی قیمت بے نقاب، شمسی توانائی بچاؤ کا ذریعہ، توانائی کے ماہرین کا چارٹر آف ڈیمانڈز

    پاکستان کے توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں نے ایک جامع چارٹر آف ڈیمانڈز پیش کیا ہے جس میں ملک کی انرجی سیکیورٹی کے لیے فوری اور بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ چارٹر الائنس فار کلائمیٹ جسٹس اینڈ کلین انرجی (ACJCE) اور پاکستان رینیوایبل انرجی کولیشن (PREC) کی نمائندگی میں تیار کیا گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ درآمد شدہ فوسل فیولز پر پاکستان کا انحصار کتنا خطرناک ہے۔ یہ وہ قیمت ہے جو ملک دہائیوں سے برداشت کر رہا ہے، لیکن اب اس چکر کو توڑنا ہوگا۔ اس بار صورتحال اتنی سنگین نہیں بنی کیونکہ شہریوں کی جانب سے بچھائی گئی شمسی توانائی نے گھروں، کاروباروں اور کھیتوں کو روشن رکھا۔ 2018 سے اب تک اس سستے اور صاف ذریعے نے تقریباً 12 بلین ڈالر کی ایندھن درآمدات سے بچنے میں مدد کی ہے۔

    چارٹر میں کہا گیا ہے کہ اب حکومت کو فیصلہ کن اقدامات اٹھانے ہوں گے، جن میں درج ذیل مطالبات شامل ہیں:

    ہنگامی اقدامات

    ماہرین نے نیشنل بیٹری اور انرجی سٹوریج ایمرجنسی کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم (BESS) پر تمام ٹیکس اور ڈیوٹیز فوری ختم کی جائیں۔ 100 میگاواٹ سے بڑے تمام سولر اور ونڈ پلانٹس کے لیے اسٹوریج کی مشترکہ تنصیب لازمی قرار دی جائے۔

    دوسرا بڑا مطالبہ سولر پر 10 فیصد جی ایس ٹی ختم کرنا اور سابقہ نیٹ میٹرنگ کا نظام بحال کرنا ہے۔ موجودہ نیٹ بلنگ نظام کے تحت برآمدات پر 11 سے 13 روپے فی یونٹ ملتے ہیں جبکہ درآمدات پر 35 سے 47 روپے وصول کیے جاتے ہیں، جو چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی لاگت میں 20 سے 40 فیصد اضافہ کرتا ہے۔

    مزید برآں، فوسل فیول اور خطرناک بڑی ہائیڈرو پاور کی توسیع کو فوری منجمد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ڈرافٹ میں شامل 5.7 گیگا واٹ فوسل صلاحیت کم از کم لاگٹ کے اصول پر پورا نہیں اترتی اور اسے منسوخ کرنے سے 11 بلین ڈالر سے زائد وسائل دوبارہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    پرانے فوسل فیول معاہدوں کو منسوخ کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ مالی سال 2024-25 میں تقریباً 1.8 ٹریلین روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس کا 60 فیصد فوسل پلانٹس کو جاتا ہے، جبکہ ان کا مجموعی استعمال محض 42.5 فیصد رہا ہے۔

    صنعتی اور مالیاتی ڈھانچہ

    چارٹر میں مقامی الیکٹرک گاڑیوں (EV) کی مینوفیکچرنگ اور چارجنگ انفراسٹرکچر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ پنجاب کی طرف سے تھری وہیلرز پر 3 کلو واٹ موٹر کی حد جیسی صوابدیدی پابندیوں کو ختم کر کے ٹیکنالوجی نیوٹرل قوانین بنائے جائیں۔

    ایک سنگل کلین انرجی فنانسنگ ونڈو قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، جو چھت کے سولر کٹس، EVs، اور یوٹیلیٹی سکیل بیٹریوں کے لیے سبسڈی اور رعایتی قرضے فراہم کرے۔ خاص طور پر الیکٹرک ٹو وہیلرز کے لیے الگ سکیم بنائی جائے، کیونکہ یہ ٹرانسپورٹ کے 54 فیصد ایندھن استعمال کرتے ہیں۔

    پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) کی آمدنی کا کم از کم 50 فیصد حصہ EV چارجنگ انفراسٹرکچر اور پبلک ٹرانسپورٹ کی الیکٹریفکیشن پر خرچ کیا جائے۔

    بین الاقوامی سطح پر از سر نو ترتیب

    ماہرین نے آئی ایم ایف پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آر ایس ایف (RSF) قرضے کو پاکستان کے طویل مدتی توانائی اہداف کے مطابق ڈھالا جائے اور 1.4 بلین ڈالر کے اس قرضے کو غیر قرض موسمیاتی فنانس میں تبدیل کیا جائے۔ ورلڈ بینک اور اے ڈی بی کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کو قابل تجدید توانائی اور گرڈ لچک میں تیز سرمایہ کاری کے لیے اپ ڈیٹ کیا جائے۔

    سیکٹرل اور کمیونٹی کی منتقلی

    چارٹر میں مائیکرو گرڈز اور کمیونٹی کی ملکیت والی توانائی کو فعال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ نیپرا کے موجودہ مائیکرو گرڈ قواعد و ضوابط میں اصلاح کی جائے جو ڈسکوز کی اجارہ داریوں کو مضبوط کرتے ہیں۔

    زرعی ٹیوب ویلوں اور ماہی گیروں کی کشتیوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے قومی پروگرام شروع کیا جائے۔ محروم علاقوں میں خواتین اور کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے سرکاری فنڈز سے سولر کٹس اور بیٹریاں فراہم کی جائیں۔

    آخر میں، ایک منصفانہ منتقلی کا فریم ورک قائم کیا جائے جو توانائی کے تمام فیصلوں کو سماجی اور ماحولیاتی معیارات سے ہم آہنگ کرے۔ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ میں ترمیم کر کے آزادانہ پیشگی اور باخبر رضامندی کو شامل کیا جائے۔

  • ایران جنگ کے اثرات، کنڈوم کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافے کا خدشہ

    ایران جنگ کے اثرات، کنڈوم کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافے کا خدشہ

    دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی آبادی پہلے ہی کئی ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، جہاں وسائل محدود اور خاندانی منصوبہ بندی کے ذرائع ناکافی ہیں۔ ایسے میں مانع حمل طریقوں میں سب سے مؤثر اور قابلِ رسائی ذریعہ سمجھے جانے والے کنڈوم کی ممکنہ مہنگائی نے ایک نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ایران اور امریکہ، اسرائیل کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے پیدا ہونے والا سپلائی بحران بتایا جا رہا ہے۔

    اس سلسلے میں ملائیشیا کی معروف کنڈوم ساز کمپنی Karex نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی برقرار رہی تو اس کی مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کنڈوم بنانے والی اس کمپنی کے مطابق کنڈوم بنانے میں استعمال ہونے والے خام مال کی قلت اور ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔

    Karex ہر سال 5 ارب سے زائد کنڈوم تیار کرتی ہے اور معروف برانڈز Durex اور Trojan سمیت برطانیہ کے قومی صحت کے نظام نیشنل ہیلتھ سروس کو بھی سپلائی فراہم کرتی ہے۔

    کمپنی کے چیف ایگزیکٹو گوہ میاہ کیات نے بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران سے جڑی حالیہ جنگی صورتحال نے عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر تیل اور اس سے وابستہ مصنوعات کی ترسیل میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں، جو کنڈوم کی تیاری کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

    کنڈوم بنانے کے عمل میں لیٹیکس کو محفوظ رکھنے کے لیے امونیا اور چکناہٹ کے لیے سلیکون پر مبنی مواد استعمال ہوتا ہے، جو براہِ راست پیٹرولیم مصنوعات سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ جب تیل کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو ان بائی پراڈکٹ اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔

    گوہ میاہ کیات کے مطابق اس سال کنڈوم کی طلب میں بھی تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک وجہ عالمی غیر یقینی صورتحال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں لوگ خاندانی منصوبہ بندی کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ معاشی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہوتا ہے۔

    ایک اور عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں گوہ میاہ کیات کا کہنا تھا کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد سے کمپنی کو مصنوعی ربڑ اور نائٹرائل سمیت کنڈوم کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد، پیکجنگ اشیا اور چکناہٹ کے لیے استعمال ہونے والے ایلومینیم فوائل اور سلیکون آئل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ Karex کے پاس آئندہ چند ماہ کے لیے کنڈوم کا وافر ذخیرہ موجود ہے، مگر بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداوار میں اضافے کی کوششوں میں یہ جنگی صورتحال سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس غیر ملکی امداد میں بڑی کٹوتیوں، خصوصاً امریکی امدادی ادارے USAID کی جانب سے اخراجات میں کمی کے باعث عالمی سطح پر کنڈوم کے ذخائر میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ یورپ اور امریکا جیسے مقامات تک Karex کی ترسیل اب تقریباً دو ماہ میں مکمل ہو رہی ہے، جو پہلے ایک ماہ میں ہو جاتی تھی۔

    گوہ میاہ کیات نے کہا کہ اس وقت بڑی تعداد میں کنڈوم ایسے بحری جہازوں میں موجود ہیں جو اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے، حالانکہ ان کی شدید ضرورت ہے۔ ان کے بقول کئی ترقی پذیر ممالک میں اسٹاک کی کمی ہے کیونکہ مصنوعات کی ترسیل میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔

  • وہ پتھر جس نے ایران کو طاقت کا مرکز اور امریکہ کو خوف کا شکار بنا دیا

    وہ پتھر جس نے ایران کو طاقت کا مرکز اور امریکہ کو خوف کا شکار بنا دیا

    دنیا کی سیاست اس وقت ایک ایسے عنصر کی وجہ سے تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے جسے عام انسانی آنکھ دیکھ نہیں سکتی مگر اس کی تباہی کا دائرہ صدیوں پر محیط ہے۔

    اس عنصر کا نام یورینیم ہے۔ یہ وہی خاموش چٹان ہے جس کی افزودگی کی شرح کی بنیاد پر امریکہ ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ لیکن یہ افزودگی ہے کیا اور ایک عام پتھر ایٹم بم میں کیسے بدل جاتا ہے۔

    یورینیم کی سائنس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس کی قدرتی حالت جاننا ضروری ہے۔ جب یہ دھات زمین سے کانوں کی شکل میں نکالی جاتی ہے تو اس میں دو بڑی اقسام پائی جاتی ہیں جنہیں سائنسی زبان میں یورینیم 238 اور یورینیم 235 کہا جاتا ہے۔

    ایک کم معلوم حقیقت یہ ہے کہ ایک کلو گرام قدرتی یورینیم میں ننانوے اعشاریہ تین فیصد حصہ یورینیم 238 کا ہوتا ہے جو نیوکلیئر توانائی کے لیے تقریباً بے کار ہے۔ اس کے مقابلے میں یورینیم 235 کی مقدار صرف صفر اعشاریہ سات فیصد ہوتی ہے اور یہی وہ نایاب جزو ہے جو توانائی یا تباہی کا مرکز بنتا ہے۔

    سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ اگر ایک کلو خام یورینیم کو پرکھا جائے تو اس میں سے محض سات گرام ایسا مواد نکلتا ہے جو کام کا ہے۔ باقی ننانوے فیصد سے زائد مواد محض بھرتی کا کچرا ہے۔

    اس سات گرام مفید مواد کو الگ کرنے اور اس کی طاقت کو بڑھانے کے عمل کو افزودگی یا اینرچمنٹ کہا جاتا ہے۔

    یورینیم کو افزودہ کرنے کا طریقہ انتہائی پیچیدہ ہے اور اسے سنٹری فیوج کہلانے والی مشینوں میں انجام دیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے زمین سے نکلے ٹھوس یورینیم کو کیمیائی عمل سے گیس میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

    اس کے بعد اس گیس کو ایسی مشینوں میں ڈالا جاتا ہے جو آواز کی رفتار سے بھی کئی گنا تیز گھومتی ہیں۔ اس خوفناک گردش کے دوران بھاری اور بے کار ایٹم یعنی یورینیم 238 الگ ہو جاتے ہیں جبکہ ہلکے اور مفید ایٹم یعنی یورینیم 235 مرکز میں جمع ہوتے چلے جاتے ہیں۔

    یہی وہ مقام ہے جہاں سے اس دھات کا استعمال تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

    جب یورینیم کو صفر اعشاریہ سات فیصد سے بڑھا کر تین سے پانچ فیصد تک افزودہ کر لیا جاتا ہے تو یہ ایٹمی بجلی گھروں کے ری ایکٹرز میں استعمال کے قابل ہو جاتا ہے۔ یہ وہی ایندھن ہے جو پاکستان کے کراچی اور چاشمہ کے مقام پر واقع نیوکلیئر پاور پلانٹس میں استعمال ہو رہا ہے۔

    جب افزودگی کا درجہ بڑھ کر بیس فیصد تک پہنچ جاتا ہے تو یہ مواد طبی آئسوٹوپس کی تیاری اور تحقیقی ری ایکٹرز میں کام آتا ہے۔ ساٹھ فیصد افزودگی کو تکنیکی طور پر ہائی لیول اینرچمنٹ یعنی اعلیٰ درجے کی افزودگی تصور کیا جاتا ہے۔ یہ وہ سرحد ہے جہاں سے نیوکلیئر دھماکے کی صلاحیت رکھنے والے آلات کی تیاری کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔

    اور جب یہ تناسب نوے فیصد تک جا پہنچے تو اسے ویپن گریڈ یورینیم یعنی ہتھیاروں کے قابل مواد کہا جاتا ہے۔ نوے فیصد افزودہ یورینیم کسی بھی بڑی معیشت کے لیے ایٹم بم تیار کرنے کے لیے درکار آخری اور سب سے مشکل مرحلے کی تکمیل کا اعلان ہوتا ہے۔

    موجودہ عالمی بحران کی جڑ یہیں ہے۔ بین الاقوامی اداروں کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران اس وقت اپنے یورینیم ذخائر کو ساٹھ فیصد تک افزودہ کر چکا ہے۔

    یہ مقدار بجلی گھر یا تحقیقی ری ایکٹر کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے اور تکنیکی طور پر جوہری ہتھیاروں کی دہلیز کے بالکل قریب سمجھی جاتی ہے۔ صرف تکنیکی لحاظ سے یہ مواد ایک چھوٹی سی چھلانگ لگا کر نوے فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

    مزید یہ کہ ایران کے پاس اس وقت چار سو چالیس کلو گرام تک افزودہ یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ وہ مقدار ہے جسے مزید افزودہ کر لیا جائے تو یہ ایک سے زائد ایٹمی اسلحے کی تیاری کے لیے کافی مواد مہیا کر سکتی ہے۔

    یہی وہ سنگ میل ہے جس نے مشرق وسطیٰ کے نقشے پر ایک نئی سرد جنگ مسلط کر دی ہے اور جس کی بازگشت وائٹ ہاؤس سے لے کر تہران کی گلیوں تک سنائی دے رہی ہے۔

  • ایران امریکہ تناؤ: پاکستانی صرافہ بازار میں سونے کی قیمتوں میں زبردست کمی

    ایران امریکہ تناؤ: پاکستانی صرافہ بازار میں سونے کی قیمتوں میں زبردست کمی

    ہفتے کے پہلے روز پاکستانی صرافہ بازار میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ آل پاکستان صرافہ جم اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونا چار ہزار 900 روپے فی تولہ سستا ہو کر پانچ لاکھ ایک ہزار 162 روپے فی تولہ پر آ گیا، جبکہ دس گرام سونے کی قیمت میں چار ہزار دو سو ایک روپے کی کمی ہوئی اور یہ چار لاکھ 29 ہزار 665 روپے پر بند ہوا۔

    اسی طرح چاندی کی قیمت میں بھی 145 روپے فی تولہ کی گراوٹ آئی اور یہ آٹھ ہزار 417 روپے فی تولہ پر آ کر ٹھہر گئی۔

    صرافہ بازار میں یہ مندی اچانک نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے ایک پورے ہفتے کی کشیدگی اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کارفرما رہی۔ گزشتہ ہفتے کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے اور امن مذاکرات کے حوالے سے طرح طرح کی خبریں آتی رہیں، جن کی وجہ سے بازار میں بے یقینی کی فضا چھائی رہی۔ سرمایہ کاروں اور صرافہ تاجروں نے پوری صورتحال کو انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھا اور بازار میں احتیاطی رویہ اختیار کیا۔

    ہفتے کے آغاز پر اس وقت صورتحال نے یکسر نیا رخ اختیار کر لیا جب صبح سویرے ایران کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ تہران کا وفد اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کے لیے نہیں آئے گا۔ ایران نے اس فیصلے کی وجہ یہ بتائی کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، جو کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے ایک بنیادی شرط تھی۔

    اس اعلان نے بازاروں میں پہلے سے موجود تشویش کو یکدم بڑھا دیا اور سرمایہ کاروں میں گھبراہٹ کی لہر دوڑ گئی۔

    واضح رہے کہ اس سے پہلے امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ نائب صدر وینس کی قیادت میں اپنا وفد اسلام آباد بھیج رہا ہے تاکہ ایک ممکنہ امن معاہدے پر دستخط کیے جا سکیں۔ اس خبر نے عالمی سطح پر ایک مثبت ماحول پیدا کیا تھا اور مختلف بازاروں میں اس کے اثرات بھی نظر آ رہے تھے۔

    تاہم ایران کے اعلان نے اس ساری مثبت فضا کو یکسر تبدیل کر دیا اور عالمی منڈیوں میں اضطراب پھیل گیا۔

    تہران سے آنے والی اس خبر کا اثر صرف پاکستانی صرافہ بازار تک محدود نہیں رہا بلکہ تمام بین الاقوامی مالیاتی اور تجارتی منڈیوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ عالمی بازاروں میں بھی سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور مجموعی طور پر کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب بھی خطے میں جیو پولیٹیکل کشیدگی بڑھتی ہے تو عموماً سونے کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں، تاہم اس بار مذاکراتی عمل کی ناکامی کی خبر نے مجموعی بازار پر منفی اثر ڈالا۔

    پاکستانی صرافہ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بتایا کہ مقامی بازار میں خریداری کا رجحان کمزور رہا اور تاجروں نے نئی پوزیشنیں لینے سے گریز کیا۔ آنے والے دنوں میں قیمتوں کا رخ زیادہ تر اس بات پر منحصر ہوگا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا عمل کس سمت جاتا ہے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کیا رنگ اختیار کرتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک خطے میں سیاسی استحکام نہیں آتا، بازار میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے۔

  • جنرل عاصم منیر کا ایرانی اور امریکی وفود کا فوجی وردی اور سول فل سوٹ میں استقبال

    جنرل عاصم منیر کا ایرانی اور امریکی وفود کا فوجی وردی اور سول فل سوٹ میں استقبال

    پاکستان اس وقت سفارتی لحاظ سے عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ دنیا کے سفارتی اور میڈیا حلقے پاکستان پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ پاکستان خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور رابطے کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    ایران اور امریکہ کے اعلی سطحی وفود مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، اور دونوں کے درمیان ایک مشترکہ ملاقات بھی ہو چکی ہے۔ ان مذاکرات کے حتمی نتائج کیا ہوں گے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، مگر یہاں ہم ایک اہم پہلو پر غور کرتے ہیں۔

    جب ایرانی وفد، جس کی قیادت محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی کر رہے تھے، نور خان ایئر بیس پہنچا تو پاکستانی اعلی حکام نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر عاصم منیر نے فوجی وردی میں استقبال کیا۔

    جبکہ دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں آنے والے وفد کا استقبال عاصم منیر نے سول ڈریس یعنی تھری پیس فل سوٹ میں کیا۔

    لباس کی اس تبدیلی کو ‘ڈریس کوڈ’ کہا جاتا ہے۔

    ڈریس کوڈ کی اہمیت

    کسی آرمی چیف کا مختلف مواقع پر مختلف لباس پہننا محض ذاتی پسند نہیں ہوتا، بلکہ یہ بین الاقوامی پروٹوکول، سفارتی آداب اور تقریب کی نوعیت کے مطابق ہوتا ہے۔

    تقریب کی نوعیت

    لباس کا انتخاب اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ وفد کس مقصد سے آیا ہے: اگر وفد دفاعی تعاون، مشترکہ مشقوں یا سیکیورٹی مذاکرات کے لیے ہو تو فوجی وردی پہنی جاتی ہے۔اگر وفد مکمل طور پر سویلین یا سفارتی نوعیت کا ہو (جیسے صدر یا وزیر اعظم)، تو سول سوٹ پہنا جاتا ہے۔

    مقام اور پروٹوکول

    اگر تقریب جی ایچ کیو، گیریژن یا پریڈ گراؤنڈ میں ہو تو فوجی وردی لازمی ہوتی ہے۔اگر تقریب ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس یا کسی ہوٹل میں ہو تو سول سوٹ یا بلیک ٹائی ڈریس کوڈ ہوتا ہے۔

    علامتی پیغام

    فوجی وردی: طاقت، نظم و ضبط اور ریاستی دفاع کی نمائندگی کرتی ہے۔

    سول سوٹ: نرم طاقت (Soft Power) اور سفارتکاری کی علامت ہے، جو لچک اور مذاکرات کی فضا کو ظاہر کرتا ہے۔

    عالمی رواج

    دنیا کے کئی ممالک جیسے امریکہ، برطانیہ اور ترکی میں یہ عام روایت ہے کہ فوجی حکام سویلین تقریبات میں سول لباس پہنتے ہیں تاکہ یہ ظاہر ہو کہ فوج سویلین بالادستی اور سفارتی عمل کا حصہ ہے۔

    اگر آرمی چیف ایک وفد کا استقبال وردی میں اور دوسرے کا سوٹ میں کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ: پہلا وفد عسکری نوعیت کا تھا، اس لیے فوجی روایت کے مطابق وردی پہنی گئی۔ دوسرا وفد سفارتی یا سویلین نوعیت کا تھا، اس لیے سول سوٹ کا انتخاب کیا گیا۔

    یہ ڈریس کوڈ ایک فوجی سربراہ کی ہمہ جہتی شخصیت (Versatility) کو ظاہر کرتا ہے وہ نہ صرف میدان جنگ کا کمانڈر ہوتا ہے بلکہ ایک اہم سفارتکار بھی ہوتا ہے۔

    ایسی ملاقاتوں میں لباس، رنگ، کوٹ، ٹائی، جوتے حتیٰ کہ موزوں تک کا انتخاب بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔

  • امریکہ، ایران جنگ: سمندر مر رہا ہے: جنگ نے آبی زندگی کو کیا نقصان پہنچایا؟

    امریکہ، ایران جنگ: سمندر مر رہا ہے: جنگ نے آبی زندگی کو کیا نقصان پہنچایا؟

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ شروع کی گئی جنگ نے جہاں انسانی تباہی مچائی ہے، وہاں دنیا کی آبی زندگی کو بھی تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور آبنائے المندب کی چوکسی کے بعد، امریکہ نے ایرانی سمندری حدود کا گھیراؤ کر کے پوری دنیا کے لیے صورتحال خراب کر دی ہے۔

    اس کے نتیجے میں ہزاروں تیل کے ٹینکرز بندرگاہوں پر کھڑے ہیں، جہاں ان کا لاکھوں افراد پر مشتمل عملہ مسلسل سمندری ماحول میں رہتے ہوئے کئی ذہنی اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو چکا ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ میں ادویات کی قلت بھی پیدا ہونے لگی ہے۔ اس سمندری جنگ میں کئی ممالک کے آئل ٹینکرز کو ڈرونز اور میزائلوں سے تباہ کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف سمندری پانی آلودہ ہوا ہے بلکہ آبی حیات بھی موت کا شکار ہو گئی ہے اور خلیجی ممالک سمیت کئی خطوں میں نئی بیماریوں نے جنم لیا ہے، جس پر طبی ماہرین شدید پریشان ہیں۔

    تیل کا رساؤ: آبی اور انسانی صحت کے لیے خطرہ

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور آبنائے المندب جیسے حساس سمندری راستوں میں تیل کے جہازوں کو نشانہ بنانا نہ صرف عالمی معیشت بلکہ ماحولیات اور انسانی صحت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ تیل کا سمندر میں بہنا آبی جانوروں کے لیے موت کا پیغام ہوتا ہے۔ تیل پانی کی سطح پر ایک تہہ جما دیتا ہے، جس کی وجہ سے آکسیجن پانی میں داخل نہیں ہو پاتی اور مچھلیاں و دیگر جاندار دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں۔

     اس کے علاوہ سمندری پرندوں اور جانوروں جیسے اود بلاؤ کے بالوں پر تیل لگنے سے ان کے جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور وہ ‘ہائپو تھرمیا’ کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔

     انسانی صحت پر زہریلے اثرات

    تیل کی یہ آلودگی بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر انسانوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ جب مچھلیاں آلودہ پانی پیتی ہیں تو زہریلے کیمیائی مادے (جیسے ہائیڈرو کاربن) ان کے گوشت میں شامل ہو جاتے ہیں۔

    ایسی مچھلی کھانے سے انسانوں میں کینسر، جگر کی بیماریوں اور پیٹ کی تکلیف کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مزید برآں، تیل سے نکلنے والی گیسیں (VOCs) ہوا میں شامل ہو کر ساحلی علاقوں کے مکینوں کے لیے سانس کی تکلیف، سر درد اور آنکھوں میں جلن کا باعث بنتی ہیں۔

     ماحولیاتی نظام کی تباہی اور طبی چیلنجز

    سائنسدانوں کے مطابق سمندر سے حاصل ہونے والی جڑی بوٹیاں طبی تحقیق اور ادویات سازی میں استعمال ہوتی ہیں، جو اس آلودگی کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہیں۔ سمندری ماحول میں کیمیائی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسے بیکٹیریا پیدا ہو سکتے ہیں جو ادویات کے خلاف مزاحمت (Antimicrobial Resistance) رکھتے ہوں، جو طبی دنیا کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

    بحیرہ احمر کی نایاب مرجان کی چٹانیں (Coral Reefs) اور ساحلی جنگلات (Mangroves) بھی اس کی زد میں ہیں۔ جہازوں کی یہ تباہی ‘ماحولیاتی دہشت گردی’ کا روپ اختیار کر رہی ہے جس کے اثرات دہائیوں تک ختم نہیں ہوں گے۔

     اعداد و شمار اور حالیہ نقصانات

    حالیہ جنگی صورتحال میں ‘ایم وی روبیمار’ اور ‘سونیون’ جیسے جہازوں پر حملے سب سے بڑا ماحولیاتی دھچکا ثابت ہوئے ہیں۔ ‘روبیمار’ میں موجود 21,000 میٹرک ٹن امونیم فاسفیٹ نے سمندر کا کیمیائی توازن بگاڑ دیا ہے، جس سے ‘الجی’ کی مقدار بڑھنے اور آکسیجن ختم ہونے سے مچھلیوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ سپلائی چین متاثر ہونے سے عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو غریب ممالک کے لیے ایک الگ انسانی بحران ہے۔

     عالمی انتباہ: ایک ٹائمنگ بم

    عالمی اداروں (UN اور IMO) نے اس صورتحال کو ‘ٹائمنگ بم’ سے تشبیہ دی ہے۔ ‘نیچر’ اور ‘دی گارڈین’ جیسے جرنلز کے مطابق یہ سمندر کی ‘جینیاتی لائبریری’ کا جل کر راکھ ہونا ہے۔ ڈبلیو ایچ او (WHO) کے مطابق بیٹریاں، رنگ اور دیگر کیمیائی مادے پانی کو زہریلا بنا رہے ہیں، جس سے آنے والی نسلوں میں پیدائشی نقائص اور ہارمونز کا عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔

     حل اور مستقبل کی حکمت عملی

    ماہرین کا مطالبہ ہے کہ سمندر کو ‘جنگ سے پاک’ علاقہ قرار دیا جائے، ورنہ یہ ‘مردار سمندر’ بن جائے گا۔ مشورہ دیا گیا ہے کہ:

     ماحولیاتی فورس قائم کر کے سمندر کی صفائی کی جائے۔ تجارت کے لیے خشک راستے اور ریلوے کا استعمال کیا جائے۔ شمسی اور ہوائی توانائی کی طرف توجہ دی جائے۔

    اگر جنگ ختم بھی ہو جائے تو سمندر کی صفائی ایک انتہائی مہنگا اور طویل عمل ہوگا۔ اس مسئلے کا اصل حل سیاست میں ہے۔ اگر عالمی طاقتیں ‘ماحولیاتی سلامتی’ کو اپنی ‘سیاسی انا’ پر فوقیت دیں گی تو ہی سمندر بچ سکے گا، ورنہ انسان جنگ تو جیت سکتا ہے لیکن فطرت ہار جائے گی، جس کا نتیجہ ایسی عالمی بھوک اور بیماری ہوگی جس کا کوئی علاج نہیں ہوگا۔ یہ محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی بائیولوجیکل ایمرجنسی ہے۔

  • ایران جنگ نے جہاں دبئی کی رونق اور رنگینیوں کو متاثر کیا ہے وہیں پراپرٹی کی قیمتوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا : کیا دبئی کی عشروں سے قائم شان و شوکت ختم ہورہی ہے؟

    ایران جنگ نے جہاں دبئی کی رونق اور رنگینیوں کو متاثر کیا ہے وہیں پراپرٹی کی قیمتوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا : کیا دبئی کی عشروں سے قائم شان و شوکت ختم ہورہی ہے؟

    دبئی جو سرمایہ کاری کے لیے محفوظ سمجھا جاتا تھا اور دنیا بھر کے امیر ترین افراد کے لیے سرمایہ کاری کی پسندیدہ جگہ تھی، مگر اب اس کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ زوال پذیر ہے۔
    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس (28 February 2026) کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ اور یو اے ای میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد دبئی کے اس تاثر کو نقصان پہنچا ہے کہ یہ دنیا کے امیر افراد کے لیے ایک محفوظ سرمایہ کاری کی جگہ ہے۔
    رپورٹ کے مطابق مارچ کے آغاز میں متحدہ عرب امارات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں رئیل اسٹیٹ کے لین دین کی مقدار 37 فیصد گری جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 49 فیصد کم رہی۔ اہم ترین علاقوں میں بھی جائیدادوں کی قیمتوں میں واضح گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے، جہاں قیمتوں میں بارہ سے پندرہ فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔
    ہوٹل انڈسٹری: ہمیشہ بھرے رہنے والے دبئی کے ہوٹل بھی کچھ ہی دنوں میں خالی ہوگئے۔ لائٹ ہاؤس انٹیلیجنس کے مطابق ہوٹل بکنگ 90 فیصد سے گر کر سولہ فیصد رہ گئی ہے۔
    تجارت اور ڈیجیٹل سروسز: سپلائی چین متاثر ہونے سے اہم اشیا کی فروخت پر براہ راست اثر پڑا ہے اور مالز خالی ہیں، جس سے چھوٹے تاجروں کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ایرانی حملوں سے بعض ڈیجیٹل سروس کے اداروں کو بھی جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
    مجموعی طور پر یو اے ای کی معیشت اس وقت دباؤ میں ہے۔
    سوال یہ ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد دبئی کو اپنا وقار اور شان و شوکت بحال کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟

  • ‘کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے’: معاہدہ کیوں نہیں ہوسکا؟، اسلام آباد ٹاکس کی ناکامی کے اسباب

    ‘کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے’: معاہدہ کیوں نہیں ہوسکا؟، اسلام آباد ٹاکس کی ناکامی کے اسباب

    جب دو دشمن ملک (امریکہ اور ایران) براہ راست مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں اور نتیجہ نہیں نکلتا، تو اس سے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ایک فریق نے دوسرے فریق کی ‘خاموشی’ یا ‘سختی’ کو غلط سمجھ لیا، تو یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں کسی نئی جنگ یا کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔

    سب کو معلوم ہے کہ سفارتی مذاکرات وقت طلب ہوتے ہیں۔ کچھ پیش رفت ہوئی ہے، اس لیے اگرچہ کوئی بڑی کامیابی نہیں ملی، لیکن یہ مکمل ناکامی بھی نہیں ہے۔

    امریکہ نے اپنا نائب صدر اور ایک انتہائی اعلیٰ سطح کا وفد بھیجا۔ جو تھوڑا بہت بے اعتمادی کا ماحول تھا، وہ بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے بارے میں تھا، جن کے لیے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ سفارتی کوششوں سے واقف نہیں ہیں۔

    اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا مذاکرات میں شامل ہونا اصل میں ایک ‘بڑا جُوا’ تھا۔

    ان کا انداز روایتی سفارت کاری کے بجائے کاروباری تھا۔ ایرانی وفد نے ان کی موجودگی کو شک کی نگاہ سے دیکھا، کیونکہ وہ اسرائیلی قیادت کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتے ہیں۔ یہی بے اعتمادی تھی جس نے مذاکرات کو کسی نتیجے پر پہنچنے نہیں دیا۔

    کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی موجودگی نے ‘اعتماد کی کمی’ پیدا کی، کیونکہ ان کا انداز روایتی سفارت کاری کے بجائے کاروباری یا سیاسی زیادہ ہوتا ہے۔

    یہ دونوں بنیادی طور پر کاروباری پس منظر رکھتے ہیں۔ سفارت کاری میں الفاظ کا چناؤ اور صبر اہم ہوتا ہے۔ ایران والوں کو لگا کہ وہ امریکہ کے بجائے کسی دوسرے فریق کا ایجنڈا آگے رکھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے ماحول میں کشیدگی پیدا ہوئی۔ عالمی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے اپنے داماد اور قریبی دوست کو بھیجنے کا مقصد ایران کو یہ بتانا تھا کہ یہ مذاکرات محض ‘رسمی’ نہیں ہیں، بلکہ انہیں وائٹ ہاؤس کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

    ان کا کردار شاید ایران پر ‘میکسمم پریشر’ (زیادہ سے زیادہ دباؤ) برقرار رکھنا تھا تاکہ کسی بھی معاہدے سے قبل انہیں زیادہ سے زیادہ جھکایا جا سکے۔ عالمی ذرائع اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات خاص طور پر درج ذیل نکات پر اٹک گئے:

    امریکی وفد کی سب سے بڑی شرط یہ تھی کہ ایران اپنی یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روک دے، پر ایران نے کہا کہ انہیں پرامن مقاصد کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کا حق حاصل ہے اور وہ ایسی کسی بھی شرط کو نہیں مانیں گے جو ان کی ملکی خود مختاری کے خلاف ہو۔ ایران کا مطالبہ تھا کہ کسی بھی معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے امریکہ اس پر لگی معاشی پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔

    جس پر جے ڈی وینس کا خیال تھا کہ پابندیاں تب ختم ہوں گی جب ایران عملی طور پر اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائے گا۔ یہ ‘پہلے کون کرے گا’ والی صورتحال مذاکرات میں بڑی رکاوٹ بن گئی۔ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف نے مطالبہ کیا کہ ایران خطے میں (جیسے یمن، لبنان اور شام میں) اپنے حمایتی گروہوں کی مدد بند کرے۔ ایران نے اس معاملے کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہوئے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

    کچھ رپورٹوں کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور منجمد اثاثوں کی واپسی کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی، لیکن ان کے طریقہ کار پر اتفاق نہ ہو سکا۔ تہران یونیورسٹی کے پروفیسر فواد ایزدی نے ان مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ اصل میں امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے نام پر کچھ دوسرے مفادات حاصل کرنا چاہتا تھا۔

    وائٹ ہاؤس یہ پیغام دے رہا تھا کہ ایران کا تیل ہمارے حوالے کرو، امریکی کمپنیوں کو شراکت دار بناؤ، ایرانی سرحدوں تک ہمیں مکمل رسائی دو، آبنائے ہرمز پر صرف ہمارا ہی کنٹرول ہو۔ اب یہ وہ باتیں ہیں جو ایران کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ ایران نے واشنگٹن کو یہ بھی کہا ہے کہ ہم نے یورینیم 2015 والی حالت میں ہی رکھا ہے، بھلے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی دوبارہ آکر چیک کر لے اور ہم یہ پروگرام کسی صورت بند نہیں کریں گے۔

    اس معاملے پر نائب صدر نے اتفاق بھی کیا لیکن ان کے دو ساتھیوں نے اس میں ٹانگ اڑا کر معاملات خراب کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ کو دنیا میں کوئی بھی ایسا ایٹمی ماہر نہیں ملے گا جو کہے کہ 3.65 فیصد افزودہ یورینیم سے ایٹم بم یا دوسرے ایٹمی ہتھیار بن سکتے ہیں۔ یہ بات نائب صدر کو بھی معلوم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے 2015 میں بھی (جے سی پی او اے) اور پھر 2018 میں ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات میں ادارے کو باہر نکال دیا تھا۔ تہران اب بھی اس ادارے کے ماہرین سے انسپکشن کرانے کے لیے راضی تھا پر یہ بات ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، اصل میں انہیں ایرانی تیل، سرحدیں اور آبنائے ہرمز چاہیے جو ایران انہیں کسی صورت نہیں دے گا۔

    پاکستان ایک بہت مشکل راستے پر چل رہا ہے۔ میزبان ہونے کے ناطے، پاکستان پر دباؤ ہے کہ وہ دونوں فریقین کو ناراض ہونے سے بچائے۔ اگر یہ مذاکرات آگے بھی مکمل طور پر ناکام ہوتے ہیں، تو اس کا اثر پاکستان کی اپنی معاشی اور سرحدی سلامتی پر بھی پڑے گا۔ پاکستان نے کہا ہے کہ رابطے کے ذرائع کھلے رہیں گے۔

    ممکن ہے کہ کسی مرحلے پر کوئی ‘بریک تھرو’ ہو جائے، جب نائب صدر جے ڈی وینس واپس واشنگٹن جائیں، وہاں انتظامیہ سے صلاح مشورہ کریں اور کوئی جواب لے کر واپس آئیں۔ اس لیے ہم مزید مذاکرات کے امکان کو رد نہیں کرتے۔

    اکثر عالمی اخبارات نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، بی بی سی، الجزیرہ، سی این این نے لکھا ہے کہ 20 سے 21 گھنٹوں کے طویل اور تھکا دینے والے مذاکرات کے باوجود کوئی بڑا معاہدہ یا ‘بریک تھرو’ نہیں ہو سکا ہے۔

    بنیادی رکاوٹ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں امریکی شرطوں کو تسلیم نہ کرنا بتائی جا رہی ہے۔ پاکستان نے اس میں بہترین کردار ادا کیا، پر یہ مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم سے ایک گھنٹہ فون پر بات کی، ظاہر ہے کہ کہیں معاملہ رکاوٹ بنا ہے، اب نائب صدر وائٹ ہاؤس جا کر صدر اور ان کی ٹیم کے سامنے باتیں رکھیں گے تب پتہ چلے گا کہ کیا ہو رہا ہے۔

    تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کی وجہ سے پہلی بار فریقین آمنے سامنے ہوئے ہیں، انہوں نے ایک دوسرے کو سمجھا ہے، جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ آگے چل کر کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ اخبارات کے مطابق ایران اور امریکہ کے مذاکرات میں ناکامی کئی سیاسی، فوجی اور سفارتی تضادات کا نتیجہ بھی ہے۔

    امریکہ کو اصل پریشانی اسرائیل کی ہے، جو ایران کے حمایتی مسلح گروہوں کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے، حوثی، حزب اللہ، عراقی شیعہ ملیشیا اور حماس اسرائیل کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ وال اسٹریٹ جنرل اور دی اکانومسٹ نے لکھا ہے کہ نیوکلیئر پروگرام پر اختلاف، پابندیوں کا مسئلہ، علاقائی سیاست، اندرونی سیاسی دباؤ اور سفارتی غلط فہمیاں اور اعتماد کی کمی بنیادی مسئلے رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہوگا، کیونکہ ایران سمیت یورپ کے بھی کئی ممالک صدر ٹرمپ پر اعتماد کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق فی الحال بڑی نہیں بلکہ محدود جنگ کا امکان زیادہ ہے۔ امریکہ براہ راست جنگ کے بجائے اسرائیل کے ہاتھوں دباؤ بڑھائے گا۔ بی بی سی کے مطابق ‘سخت حالات کے باوجود، مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے ہیں۔ یورپی ممالک ثالثی کا کردار ادا کریں گے۔ دونوں فریقین کو مکمل ڈیل نہیں، بلکہ مرحلہ وار رعایتیں مل سکتی ہیں۔’

    الجزیرہ کے مطابق ایران جلدی میں نہیں ہے، وہ وقت کو اپنے حق میں استعمال کر رہا ہے۔ ایران پابندیوں کے باوجود زندہ رہنا سیکھ گیا ہے اور امریکہ کی اندرونی سیاست کا انتظار کرے گا۔

    فاؤنڈیشن فار ڈیفنس ڈیموکریسی کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا غیر ملکی مداخلت کے بارے میں سخت موقف ایرانیوں کے لیے ایک منفرد پہلو تھا، لیکن انہیں ایسے پیچیدہ مذاکرات کا تجربہ کم تھا۔

    گیند اب وائٹ ہاؤس کے گراؤنڈ میں ہے۔ دیکھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ اس پر کیا فیصلہ صادر کرتے ہیں۔ اگر واشنگٹن نے کچھ لچک پیدا کی تو مالی اور اقتصادی طور پر اسے فائدہ ہوگا۔ اگر نہیں تو حالات پوری دنیا کے لیے بھیانک ہو جائیں گے۔ سب سے بڑا مسئلہ اعتماد کی کمی تھا۔

    امریکی وفد کا انداز کاروباری ‘لو اور دو’ والا تھا، جبکہ ایرانی وفد اپنے سیاسی اور نظریاتی موقف پر اٹل رہا۔ انہوں نے اپنا دفاع کیا ہے۔

    اگر امریکہ محسوس کرتا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھنے سے مشرق وسطیٰ میں اس کے مفادات یا عالمی تیل کی قیمتوں پر اثر پڑے گا، تو پھر وہ کچھ لچک دکھا سکتا ہے۔ امریکی سیاست کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ مہینوں بعد امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشن بھی ہیں۔ ڈیموکریٹس تنقید کر رہے ہیں۔ پر ریپبلکن والے ٹرمپ کے ہر حال میں حامی ہو کر کھڑے ہیں۔ اس لیے ٹرمپ شاید کوئی نرمی بھی نہ دکھائیں۔ تب بھی بڑے بریک تھرو کا امکان کم ہے۔

    دفاعی عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے اس جنگ کی وجہ سے دنیا کے کئی محاذ خالی چھوڑ دیے ہیں۔ ان مذاکرات کی مکمل ناکامی سے روس یوکرین، جنوبی کوریا، جاپان اور تائیوان والے محاذ دوبارہ کھل سکتے ہیں، اور وہ ملک اس جنگ کے نام کو اپنی جارحیت کے لیے بھی جائز قرار دے کر دنیا کو نئی مصیبت میں مبتلا کریں گے۔

     ایران-امریکہ مذاکرات کی ناکامی محض سفارتی ناکامی نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی طاقت کے توازن، مشرق وسطیٰ کی سیاست اور عالمی سلامتی سے جڑا ہوا ایک پیچیدہ بحران ہے۔

    موجودہ حالات میں مذاکرات کی بحالی تب ہی ممکن ہے، جب دونوں فریقین کی طرف سے ‘مرحلہ وار اعتماد سازی’ پر سنجیدگی سے کام کیا جائے۔ جے ڈی وینس کی واپسی تک پوری دنیا کو انتظار کرنا ہوگا۔ اگر وائٹ ہاؤس میں بیٹھی انتظامیہ لچک نہ دکھائے، تو اسلام آباد میں کی گئی یہ محنت ضائع ہو سکتی ہے۔

  • امریکہ اور ایران کو چار دہائیوں بعد مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں بلاول بھٹو کا بھی اہم کردار

    امریکہ اور ایران کو چار دہائیوں بعد مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں بلاول بھٹو کا بھی اہم کردار

    دنیا ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں طاقت، مفادات اور سفارت کاری کے درمیان توازن قائم کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ حالیہ ایران-امریکہ جنگ نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں پر محیط کشیدگی، پابندیاں، پراکسی تنازعات اور براہِ راست محاذ آرائی کے خطرات نے عالمی امن کو مسلسل خطرے میں رکھا ہے۔

    ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی خرابی کی جڑیں 1979 کے انقلابِ ایران کے بعد سے مضبوط ہوتی گئیں، اور گزشتہ چالیس برسوں میں کئی بار یہ کشیدگی جنگ کے دہانے تک جا پہنچی۔ بالآخر 28 مئی 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کر دی، جس کے اثرات پورے خطے میں پھیل گئے۔

    یہ جنگ صرف ایران تک محدود نہ رہی بلکہ پورے خلیجی خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ خلیجی ممالک، جو پاکستان کے برادر اسلامی ممالک ہیں، اس کشیدگی سے براہِ راست متاثر ہوئے۔ تیل کی ترسیل، سمندری راستوں کی بندش، معاشی عدم استحکام اور سیکیورٹی خدشات نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔

    صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی کہ اس کے اثرات پاکستان کی دہلیز تک محسوس کیے جانے لگے۔ ایک جانب پڑوسی ملک ایران، جس کے ساتھ پاکستان کی تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ملتی ہے، اور دوسری جانب خلیج میں موجود برادر ممالک؛ یہ سب اس بحران کی زد میں تھے۔

    اس تمام تناظر میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کردار نہایت اہم اور نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ اگرچہ وہ اس وقت کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں، مگر اس کے باوجود عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ جس جرات، تسلسل اور دانشمندی کے ساتھ پیش کر رہے ہیں، وہ ایک مضبوط اور متحرک قیادت کی عکاسی کرتا ہے۔

    ایسے پیچیدہ اور طویل تنازع میں کسی بھی تیسرے ملک کا مؤثر کردار ادا کرنا آسان نہیں ہوتا، مگر پاکستان نے اس بار ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی حاصل کرتے ہوئے تقریباً چالیس سال بعد ایران اور امریکہ کو ایک میز پر بٹھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ دنیا کے لیے ایک نئی امید بھی ہے۔ اگر دشمن ممالک بات چیت کے لیے آمادہ ہو سکتے ہیں تو یہ عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ مکالمہ ہی واحد راستہ ہے۔

    اس تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے عالمی معیشت کے لیے شدید خدشات پیدا کر دیے، کیونکہ دنیا کی بڑی تیل ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے؛ تاہم ایسے نازک موقع پر پاکستان کی بروقت اور مؤثر ثالثی نے نہ صرف کشیدگی کو کم کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ عالمی معاشی بحران کے خدشات کو بھی وقتی طور پر ٹالنے میں مدد دی۔

    یہ لمحہ صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک موقع ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی طاقتیں، علاقائی ممالک اور بین الاقوامی ادارے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور باہمی تنازعات کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ دنیا پہلے ہی دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی، معاشی عدم استحکام اور انسانی بحرانوں جیسے مسائل کا شکار ہے، ایسے میں مزید جنگیں انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گی۔

    عالمی میڈیا، سفارتی حلقوں اور بین الاقوامی فورمز پر بلاول بھٹو زرداری کی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ نہ صرف پاکستان کا مؤقف پیش کر رہے ہیں بلکہ عالمی رائے عامہ کو ہموار بھی کر رہے ہیں۔ ان کی سیاست محض وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک تاریخی تسلسل کا حصہ ہے، وہ تسلسل جو انہیں اپنے نانا قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور اپنی والدہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے ورثے میں ملا ہے۔ یہ وہ قیادت ہے جس نے عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ جرات کے ساتھ لڑا، قومی خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور ملک کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

    آج چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اسی روایت کے امین کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے نانا اور والدہ کے نظریات کو آگے بڑھا رہے ہیں بلکہ جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق سفارت کاری کو بھی نئی جہت دے رہے ہیں۔ جس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے عالمی طاقتوں کے سامنے پاکستان کا مؤقف بے باکی سے رکھا اور بے نظیر بھٹو نے جمہوریت اور امن کا پرچم بلند رکھا، اسی طرح آج بلاول بھٹو زرداری عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

    انہوں نے عالمی ذرائع ابلاغ کو انٹرویوز دیتے ہوئے پاکستان کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا، جن میں بی بی سی، الجزیرہ، ٹی آر ٹی ورلڈ، العربیہ، سی جی ٹی این اور اسکائی نیوز سمیت متعدد عالمی ادارے شامل ہیں۔ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے انہوں نے نہ صرف پاکستان کا مؤقف واضح کیا بلکہ عالمی رائے عامہ کو مؤثر انداز میں ہموار کیا۔

    یہ وقت صرف ایک ملک یا ایک خطے کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہے۔ اگر ایران اور امریکہ جیسے دیرینہ حریف بات چیت کی میز پر آ سکتے ہیں تو دنیا کے دیگر تنازعات بھی حل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی یہ کاوش اس بات کی واضح مثال ہے کہ اگر نیت، حکمت اور قیادت موجود ہو تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر اس عمل کو مزید تقویت ملی اور عالمی برادری نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا، تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک نئے، پُرامن اور مستحکم دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

    نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ساگا ڈیجیٹل کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

  • اسلام آباد ٹاکس: ایران کا دیگر شرائط کے ساتھ اپنے منجمد اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ شامل، مگر یہ اثاثے کتنے ہیں اور ان پر کیوں اور کب پابندی لگی؟

    اسلام آباد ٹاکس: ایران کا دیگر شرائط کے ساتھ اپنے منجمد اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ شامل، مگر یہ اثاثے کتنے ہیں اور ان پر کیوں اور کب پابندی لگی؟

    تقریباً 40 دن کی جنگ کے بعد بالآخر امریکی اور ایرانی وفود مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں اور مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی بات چیت کے ذریعے کسی دیرپا امن معاہدے تک پہنچ جائے گی۔

    ان امن مذاکرات، جسے پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر اسلام آباد ٹاکس کا نام دیا گیا ہے، میں ایران نے چند بنیادی شرائط رکھی ہیں، جن میں جنگ بندی اور علاقائی تنازعات کا خاتمہ، لبنان میں فوری جنگ بندی، وسیع تر خطے میں کشیدگی کم کرنا، جنگی نقصانات کا ازالہ (ایران نے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے بدلے مالی معاوضہ بھی ایک اہم شرط کے طور پر پیش کیا ہے)، آبنائے ہرمز سے متعلق مطالبات (ایران چاہتا ہے کہ اس اہم سمندری راستے سے متعلق اس کی پوزیشن کو تسلیم کیا جائے، جبکہ اس کا تعلق عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل سے ہے) شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ایران نے اپنے منجمد اثاثوں کی واپسی یا انہیں غیر منجمد کرنے کو بھی مذاکرات کی اہم شرط بنایا ہے۔

    ایران پر پابندیوں اور اس کے اثاثے منجمد کرنے کی تاریخ کئی مراحل پر مشتمل ہے۔

    پہلا مرحلہ 1979 کا ہے، جب ایران میں انقلاب آیا اور تہران میں امریکی سفارتخانے کے عملے کو یرغمال بنایا گیا۔ اس واقعے کے ردعمل میں جمی کارٹر کی حکومت نے ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے۔ اس اقدام کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنا تھا تاکہ یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنائی جا سکے۔ یہ وہ پہلا موقع تھا جب ایران کے بڑے مالی وسائل بیرونِ ملک روک دیے گئے۔

    دوسرا مرحلہ 1990 کی دہائی میں سامنے آیا، جب امریکہ نے ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کیں۔ بل کلنٹن کے دور میں ایران کے تیل اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری پر پابندی لگا دی گئی۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ایران خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کر رہا ہے۔ اس مرحلے پر اگرچہ بڑے پیمانے پر نئے اثاثے منجمد نہیں ہوئے، لیکن ایران کی عالمی مالیاتی رسائی مزید محدود ہو گئی۔

    تیسرا اور اہم مرحلہ 2006 سے شروع ہوا، جب ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی خدشات بڑھنے لگے۔ اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے متعدد قراردادیں منظور کیں، جن کے تحت ایران پر بین الاقوامی پابندیاں عائد کی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین اور امریکہ نے بھی سخت اقتصادی اقدامات کیے۔

    ان پابندیوں کے نتیجے میں ایران کے تیل سے حاصل ہونے والے اربوں ڈالر مختلف ممالک کے بینکوں میں جمع تو ہوتے رہے، لیکن ایران انہیں استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ یوں یہ رقوم عملی طور پر منجمد ہو گئیں۔

    چوتھا مرحلہ 2015 میں آیا، جب ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے پایا۔ اس کے نتیجے میں کچھ پابندیاں نرم کی گئیں اور ایران کو اپنے بعض منجمد اثاثوں تک محدود رسائی حاصل ہوئی۔ یہ ایک اہم پیش رفت تھی، تاہم مکمل آزادی نہیں دی گئی بلکہ نگرانی برقرار رہی۔

    پانچواں مرحلہ 2018 میں شروع ہوا، جب ٹرمپ نے اس معاہدے سے امریکہ کو الگ کر لیا اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے بعد ایران کے مزید اثاثے دنیا بھر میں دوبارہ منجمد یا محدود ہو گئے، خاص طور پر وہ رقوم جو تیل کی فروخت سے حاصل ہوئی تھیں۔

    آخری مرحلہ حالیہ برسوں کا ہے، جہاں کچھ رقوم کو محدود شرائط کے تحت منتقل تو کیا گیا، لیکن ان کے استعمال پر سخت پابندیاں برقرار رہیں۔ ان رقوم کو صرف انسانی ضروریات، جیسے خوراک اور ادویات کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی، اور وہ بھی مکمل نگرانی کے تحت۔

    ایران کے اثاثے منجمد ہونے کی بنیادی وجوہات تین رہی ہیں: 1979 کا یرغمالی بحران، دہشت گردی کی مبینہ حمایت کے الزامات، اور جوہری پروگرام سے متعلق عالمی خدشات۔ ان پابندیوں کا آغاز امریکہ نے کیا، بعد میں دیگر عالمی اداروں اور خطوں نے بھی اس میں کردار ادا کیا، اور آج بھی یہ مسئلہ عالمی سیاست اور سفارت کاری میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔

    ایران کے منجمد اثاثے کتنے ہیں، ان اثاثوں پر کب اور کیوں پابندی لگی؟

    ایران کے منجمد اثاثے گزشتہ چار دہائیوں سے عالمی سیاست، پابندیوں اور سفارتی کشمکش کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ یہ اثاثے دراصل وہ رقوم ہیں جو ایران نے زیادہ تر تیل کی فروخت سے کمائیں، مگر مختلف ممالک میں بینکاری نظام کے اندر پھنس گئیں اور ایران انہیں آزادانہ طور پر استعمال نہیں کر سکا۔

    یہ کہانی 1979 کے ایرانی انقلاب سے شروع ہوتی ہے، جب امریکہ نے تہران میں سفارتخانے کے یرغمالی بحران کے بعد ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے۔ اس کے بعد آنے والی دہائیوں میں، خاص طور پر جوہری پروگرام کے باعث لگنے والی پابندیوں نے ایران کے مزید مالی وسائل کو دنیا بھر میں روک دیا۔

    آج ایران کے منجمد اثاثے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں، جن میں امریکہ، قطر، جنوبی کوریا، عراق اور چین شامل ہیں، اور ان کی مجموعی مالیت دسیوں ارب ڈالر تک پہنچتی ہے۔

    امریکہ میں موجود ایرانی اثاثے سب سے پرانے تنازع کا حصہ ہیں۔ اندازوں کے مطابق تقریباً 2 ارب ڈالر کے اثاثے امریکہ میں منجمد ہیں، جن میں بینک فنڈز کے ساتھ کچھ جائیدادیں بھی شامل ہیں۔ ان اثاثوں کا ایک حصہ امریکی عدالتوں کے فیصلوں کے تحت ضبط بھی کیا جا چکا ہے، خاص طور پر دہشت گردی سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کے لیے۔

    یہ اثاثے 1979 کے بعد سے مسلسل تنازع کا شکار ہیں اور آج بھی ایران اور امریکہ کے درمیان قانونی و سفارتی کشیدگی کا ایک بڑا سبب ہیں۔

    قطر میں موجود ایرانی اثاثے حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ زیر بحث رہے ہیں۔ یہ تقریباً 6 ارب ڈالر کی رقم ہے، جو اصل میں ایران کی جنوبی کوریا کو تیل فروخت کرنے سے حاصل ہوئی تھی۔ 2018 میں جب امریکہ نے دوبارہ سخت پابندیاں عائد کیں تو یہ رقم جنوبی کوریا کے بینکوں میں منجمد ہو گئی۔

    بعد ازاں 2023 میں امریکہ اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے تحت یہ رقم قطر کے بینکوں میں منتقل کی گئی، لیکن اس پر سخت پابندیاں برقرار رہیں۔ امریکہ نے واضح کیا کہ یہ رقم صرف انسانی ضروریات، جیسے خوراک اور ادویات کی خریداری کے لیے استعمال ہو سکتی ہے اور اس پر مکمل نگرانی ہوگی۔

    اکتوبر 2023 کے بعد، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے پر ان فنڈز تک ایران کی رسائی مزید محدود کر دی گئی، اور 2026 تک بھی یہ رقم مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکی۔ حالیہ مذاکرات میں ایران کی ایک بڑی شرط انہی اثاثوں کی بحالی ہے، تاہم امریکہ نے کسی نئے معاہدے کی تصدیق نہیں کی۔

    قطر کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی ایران کے بڑے مالی اثاثے موجود ہیں۔ جنوبی کوریا میں تقریباً 6 سے 7 ارب ڈالر کے اثاثے تھے، جن میں سے بڑی رقم بعد میں قطر منتقل کر دی گئی۔ عراق میں ایران کے تقریباً 6 سے 10 ارب ڈالر موجود ہیں، جو زیادہ تر بجلی اور گیس کی ادائیگیوں سے متعلق ہیں، مگر ایران انہیں مکمل طور پر استعمال نہیں کر سکتا کیونکہ یہ بھی پابندیوں کے دائرے میں ہیں۔

    چین میں ایران کے تقریباً 20 ارب ڈالر کے اثاثے موجود بتائے جاتے ہیں، جبکہ جاپان اور یورپ کے کچھ ممالک میں بھی اربوں ڈالر کی رقوم مختلف شکلوں میں روکی گئی ہیں۔

    خلیجی ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات، میں بھی ایرانی سرمائے کی موجودگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ بعض تجزیوں کے مطابق یہ رقم 50 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے، اگرچہ ان میں سے تمام اثاثے باضابطہ طور پر منجمد نہیں بلکہ نگرانی یا پابندیوں کے دائرے میں ہیں۔

    ان تمام اثاثوں کے منجمد ہونے کی بنیادی وجہ بین الاقوامی پابندیاں ہیں، جو خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے کردار کے باعث عائد کی گئیں۔ اس کے نتیجے میں ایران اپنی کمائی ہوئی رقم تک براہ راست رسائی حاصل نہیں کر پاتا اور اسے عالمی بینکاری نظام کے ذریعے استعمال کرنے کے لیے مخصوص شرائط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    یہ منجمد اثاثے صرف مالی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری کا ایک اہم ہتھیار بھی ہیں۔ امریکہ اور مغربی ممالک اکثر ان اثاثوں کو مذاکرات میں دباؤ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جبکہ ایران انہیں اپنی معیشت کی بحالی کے لیے ناگزیر قرار دیتا ہے۔

    یوں ایران کے منجمد اثاثے ایک ایسی پیچیدہ کہانی ہیں جہاں معیشت، سیاست، پابندیاں اور سفارت کاری سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ہر نیا معاہدہ یا کشیدگی ان اثاثوں کے مستقبل کا تعین کرتی ہے۔