ایران امریکہ جنگ کے دوران یا جنگ بندی کے معاملے پر تمام پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کر رہے ہیں، لیکن ملک کے خارجی معاملات اور اسٹریٹجک پالیسیوں میں ملک کی وزارتِ خارجہ کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ایران امریکہ جنگ شروع ہونے کے بعد پاکستان کی جیو پولیٹیکل پوزیشن، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے اور متحدہ عرب امارات، چین اور روس سمیت دنیا کے اہم ممالک کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ مسلسل رابطوں میں رہتے ہوئے ان کے نقطۂ نظر کو سمجھنا، دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر پھر وہ بریفنگ، منٹس اور ڈوزیئر تیار کر کے نہ صرف پاکستان کی سیاسی بلکہ عسکری قیادت، وزیرِ اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کو سمجھانا اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ پاکستانی تجاویز شیئر کرنے میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی سیکرٹری محترمہ آمنہ بلوچ کا مرکزی کردار رہا۔
آمنہ بلوچ سندھ کی دانا، دانشور نامور ادبی شخصیت ڈاکٹر نبی بخش بلوچ مرحوم کی بیٹی ہیں۔ آمنہ بلوچ ایک نامور سفارتکار ہیں جو اس وقت پاکستان کی 33ویں خارجہ سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ستمبر 2024 میں اپنی تقرری کے ساتھ انہوں نے تاریخ رقم کی، کیونکہ وہ تہمینہ جنجوعہ کے بعد اس معزز اور ذمہ دار عہدے تک پہنچنے والی دوسری خاتون ہیں۔ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط اپنے کیریئر کے دوران آمنہ بلوچ نے پیچیدہ جیو پولیٹیکل حالات میں ایشیا، یورپ اور وفاقی حکومت کے اعلیٰ اداروں میں پاکستان کے مفادات کی نمائندگی کی ہے۔
آمنہ بلوچ 1966 میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنے سفارتی کیریئر کے لیے تعلیمی بنیاد خطے کے بہترین اداروں سے حاصل کی۔ انہوں نے اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی سے تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جس نے انہیں علاقائی حرکیات اور عالمی تعلقات کے بارے میں گہری بصیرت فراہم کی۔ بعد ازاں انہوں نے سنگاپور کی نان یانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی سے ایم بی اے (MBA) کیا، جس کے ذریعے انہوں نے تاریخی تناظر کو جدید انتظامی مہارتوں کے ساتھ یکجا کیا۔
آمنہ بلوچ 1991 میں پاکستان کی فارن سروس (FSP) میں شامل ہوئیں۔ ان کے ابتدائی سال وزارتِ خارجہ (MoFA) میں مختلف عہدوں اور پہلی عالمی اسائنمنٹس کے ساتھ بھرپور رہے:
آمنہ بلوچ نے 1992 سے 1994 اور دوبارہ 1998 سے 2002 تک سلیکشن آفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بعد میں وہ 2004 سے 2010 تک ڈپٹی ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر کے عہدوں پر رہیں۔ انہوں نے وزارت کی سیاسی، انتظامی اور پروٹوکول ڈویژنز میں کام کیا، جس سے انہیں خارجہ پالیسی کی تشکیل کا مکمل تجربہ حاصل ہوا۔
2001 سے 2003 تک کوپن ہیگن میں پاکستانی سفارتخانے میں سیکنڈ سیکرٹری کے طور پر کام کیا، جو یورپی سفارتکاری میں ان کا پہلا قدم تھا۔
آمنہ بلوچ نے 2011 سے 2024 تک دنیا کے مختلف ممالک میں اہم عالمی ذمہ داریاں نبھائیں۔ جیسے جیسے وہ سینئر قیادت کے کرداروں میں آئیں، انہیں اہم دوست ممالک میں بڑی ذمہ داریاں دی گئیں:
آمنہ بلوچ نے 2011 سے 2014 تک سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں پاکستانی سفارتخانے میں منسٹر کے طور پر کام کیا اور سارک (SAARC) خطے میں دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنایا۔
آمنہ بلوچ نے 2014 سے 2017 تک چین میں خدمات انجام دیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تناظر میں یہ عہدہ انتہائی اہم تھا۔
آمنہ بلوچ 2019 سے 2023 تک ملائیشیا میں پاکستان کی ہائی کمشنر مقرر ہوئیں، جہاں انہوں نے تجارت، مزدوروں کی نقل و حرکت اور دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کام کیا۔
آمنہ بلوچ نے 2023 اور 2024 میں بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں خارجہ سیکرٹری بننے سے پہلے یورپی یونین، بیلجیم اور لکسمبرگ میں سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے یورپی یونین کے ساتھ GSP+ اسٹیٹس، موسمیاتی تبدیلی اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے مذاکرات میں پاکستان کی قیادت کی۔
بیرونِ ملک تقرریوں کے درمیان، آمنہ بلوچ نے ملکی انتظامی ڈھانچے میں بھی اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ 2018 میں وہ وزیرِ اعظم آفس میں جوائنٹ سیکرٹری مقرر ہوئیں۔ اس کے بعد 2018 سے 2019 تک وہ وزارتِ خارجہ میں ایڈیشنل سیکرٹری رہیں، جہاں انہوں نے ملک کی اعلیٰ پالیسی سازی میں مدد کی۔
آمنہ بلوچ نے 11 ستمبر 2024 کو سجاد قاضی کی جگہ باضابطہ طور پر خارجہ سیکرٹری کا عہدہ سنبھالا۔ ان کی تقرری کو ان کے وسیع تجربے کا اعتراف اور پاکستان کی سول سروس میں صنفی نمائندگی کے لیے ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا گیا۔
وزارتِ خارجہ کی انتظامی سربراہ کے طور پر، ان کے موجودہ دور کے اہم پہلو یہ ہیں:
1- عالمی طاقتوں اور پاکستان کے تعلقات میں توازن
2- امریکہ، چین اور روس کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنا
3- سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک کے ساتھ اقتصادی و معاشی سفارتکاری کے ذریعے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو "جیو اکنامکس” کی طرف موڑنا تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی جا سکے
4- جنوبی ایشیا میں سرحدی اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا
آمنہ بلوچ کی شادی ذوالفقار علی خان سے ہوئی ہے اور ان کے دو بچے ہیں۔
1991 میں ایک خاتون افسر کے طور پر شروع ہونے والا ان کا سفر آج فارن سروس کے اعلیٰ ترین عہدے تک پہنچنا ان کی محنت، حکمت عملی اور عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کے لیے کی گئی











