Tag: ایران

  • ایران، امریکہ جنگ بندی میں پسِ پردہ اہم کردار ادا کرنے والی ایک سندھی خاتون

    ایران، امریکہ جنگ بندی میں پسِ پردہ اہم کردار ادا کرنے والی ایک سندھی خاتون

    ایران امریکہ جنگ کے دوران یا جنگ بندی کے معاملے پر تمام پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کر رہے ہیں، لیکن ملک کے خارجی معاملات اور اسٹریٹجک پالیسیوں میں ملک کی وزارتِ خارجہ کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ایران امریکہ جنگ شروع ہونے کے بعد پاکستان کی جیو پولیٹیکل پوزیشن، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے اور متحدہ عرب امارات، چین اور روس سمیت دنیا کے اہم ممالک کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ مسلسل رابطوں میں رہتے ہوئے ان کے نقطۂ نظر کو سمجھنا، دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر پھر وہ بریفنگ، منٹس اور ڈوزیئر تیار کر کے نہ صرف پاکستان کی سیاسی بلکہ عسکری قیادت، وزیرِ اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کو سمجھانا اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ پاکستانی تجاویز شیئر کرنے میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی سیکرٹری محترمہ آمنہ بلوچ کا مرکزی کردار رہا۔

    آمنہ بلوچ سندھ کی دانا، دانشور نامور ادبی شخصیت ڈاکٹر نبی بخش بلوچ مرحوم کی بیٹی ہیں۔ آمنہ بلوچ ایک نامور سفارتکار ہیں جو اس وقت پاکستان کی 33ویں خارجہ سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ستمبر 2024 میں اپنی تقرری کے ساتھ انہوں نے تاریخ رقم کی، کیونکہ وہ تہمینہ جنجوعہ کے بعد اس معزز اور ذمہ دار عہدے تک پہنچنے والی دوسری خاتون ہیں۔ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط اپنے کیریئر کے دوران آمنہ بلوچ نے پیچیدہ جیو پولیٹیکل حالات میں ایشیا، یورپ اور وفاقی حکومت کے اعلیٰ اداروں میں پاکستان کے مفادات کی نمائندگی کی ہے۔

    آمنہ بلوچ 1966 میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنے سفارتی کیریئر کے لیے تعلیمی بنیاد خطے کے بہترین اداروں سے حاصل کی۔ انہوں نے اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی سے تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جس نے انہیں علاقائی حرکیات اور عالمی تعلقات کے بارے میں گہری بصیرت فراہم کی۔ بعد ازاں انہوں نے سنگاپور کی نان یانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی سے ایم بی اے (MBA) کیا، جس کے ذریعے انہوں نے تاریخی تناظر کو جدید انتظامی مہارتوں کے ساتھ یکجا کیا۔

    آمنہ بلوچ 1991 میں پاکستان کی فارن سروس (FSP) میں شامل ہوئیں۔ ان کے ابتدائی سال وزارتِ خارجہ (MoFA) میں مختلف عہدوں اور پہلی عالمی اسائنمنٹس کے ساتھ بھرپور رہے:

    آمنہ بلوچ نے 1992 سے 1994 اور دوبارہ 1998 سے 2002 تک سلیکشن آفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بعد میں وہ 2004 سے 2010 تک ڈپٹی ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر کے عہدوں پر رہیں۔ انہوں نے وزارت کی سیاسی، انتظامی اور پروٹوکول ڈویژنز میں کام کیا، جس سے انہیں خارجہ پالیسی کی تشکیل کا مکمل تجربہ حاصل ہوا۔

    2001 سے 2003 تک کوپن ہیگن میں پاکستانی سفارتخانے میں سیکنڈ سیکرٹری کے طور پر کام کیا، جو یورپی سفارتکاری میں ان کا پہلا قدم تھا۔

    آمنہ بلوچ نے 2011 سے 2024 تک دنیا کے مختلف ممالک میں اہم عالمی ذمہ داریاں نبھائیں۔ جیسے جیسے وہ سینئر قیادت کے کرداروں میں آئیں، انہیں اہم دوست ممالک میں بڑی ذمہ داریاں دی گئیں:

    آمنہ بلوچ نے 2011 سے 2014 تک سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں پاکستانی سفارتخانے میں منسٹر کے طور پر کام کیا اور سارک (SAARC) خطے میں دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنایا۔

    آمنہ بلوچ نے 2014 سے 2017 تک چین میں خدمات انجام دیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تناظر میں یہ عہدہ انتہائی اہم تھا۔

    آمنہ بلوچ 2019 سے 2023 تک ملائیشیا میں پاکستان کی ہائی کمشنر مقرر ہوئیں، جہاں انہوں نے تجارت، مزدوروں کی نقل و حرکت اور دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کام کیا۔

    آمنہ بلوچ نے 2023 اور 2024 میں بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں خارجہ سیکرٹری بننے سے پہلے یورپی یونین، بیلجیم اور لکسمبرگ میں سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے یورپی یونین کے ساتھ GSP+ اسٹیٹس، موسمیاتی تبدیلی اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے مذاکرات میں پاکستان کی قیادت کی۔

    بیرونِ ملک تقرریوں کے درمیان، آمنہ بلوچ نے ملکی انتظامی ڈھانچے میں بھی اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ 2018 میں وہ وزیرِ اعظم آفس میں جوائنٹ سیکرٹری مقرر ہوئیں۔ اس کے بعد 2018 سے 2019 تک وہ وزارتِ خارجہ میں ایڈیشنل سیکرٹری رہیں، جہاں انہوں نے ملک کی اعلیٰ پالیسی سازی میں مدد کی۔

    آمنہ بلوچ نے 11 ستمبر 2024 کو سجاد قاضی کی جگہ باضابطہ طور پر خارجہ سیکرٹری کا عہدہ سنبھالا۔ ان کی تقرری کو ان کے وسیع تجربے کا اعتراف اور پاکستان کی سول سروس میں صنفی نمائندگی کے لیے ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا گیا۔

    وزارتِ خارجہ کی انتظامی سربراہ کے طور پر، ان کے موجودہ دور کے اہم پہلو یہ ہیں:

    1- عالمی طاقتوں اور پاکستان کے تعلقات میں توازن
    2- امریکہ، چین اور روس کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنا
    3- سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک کے ساتھ اقتصادی و معاشی سفارتکاری کے ذریعے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو "جیو اکنامکس” کی طرف موڑنا تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی جا سکے
    4- جنوبی ایشیا میں سرحدی اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا

    آمنہ بلوچ کی شادی ذوالفقار علی خان سے ہوئی ہے اور ان کے دو بچے ہیں۔

    1991 میں ایک خاتون افسر کے طور پر شروع ہونے والا ان کا سفر آج فارن سروس کے اعلیٰ ترین عہدے تک پہنچنا ان کی محنت، حکمت عملی اور عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کے لیے کی گئی

  • ایران-امریکہ تنازعہ: عالمی طاقتوں کی کشمکش اور معاشی و فوجی بحران

    ایران-امریکہ تنازعہ: عالمی طاقتوں کی کشمکش اور معاشی و فوجی بحران

    ایران کی جنگ صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ دنیا کے سیاسی، معاشی اور فوجی ڈھانچے کو طویل عرصے تک بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایسی جنگیں صرف بارود تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

    ایران کو دہائیوں کی پابندیوں، عالمی تنہائی اور بڑی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود شکست دینا اتنا مشکل کیوں رہا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ وسیع اور دشوار گزار جغرافیائی ساخت ہے، جبکہ دفاعی حکمتِ عملی نہایت سوچ سمجھ کر ترتیب دی گئی ہے، جو غیر روایتی جنگ، علاقائی اتحادیوں اور اسٹریٹجک قوتوں پر مبنی ہے۔

    ایران نے ایسا نظام تیار کیا ہے جو شدید حملے برداشت کر سکتا ہے اور دشمن کو سخت مقابلہ دے سکتا ہے۔ یہ صرف فوجی طاقت کی بات نہیں بلکہ لچک، حکمتِ عملی اور دنیا کے سب سے غیر مستحکم خطے میں بقا کی جدوجہد کی کہانی ہے۔ اب یہ فضائی حملوں کے بعد طویل زمینی جنگ کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔

    فریقین مورچہ بند ہو رہے ہیں، علاقائی اتحاد بن رہے ہیں، گوریلا جنگ کے لیے صف بندیاں شروع ہو چکی ہیں۔ سیاسی جوڑ توڑ کے ساتھ امریکی ایوانوں میں بھی ہلچل مچ چکی ہے، دنیا ایک نئے معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے، سیاسی سرگرمیاں بڑھ چکی ہیں اور خفیہ سفارتکاری دم توڑ رہی ہے۔ یورپ خفیہ طور پر اسرائیل کو معاشی، اقتصادی اور فوجی مدد فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہو چکا ہے۔

    نیویارک ٹائمز، سی این این، الجزیرہ، سعودی گزٹ اور دیگر عرب اخبارات کے مطابق امریکہ ایران کو مذاکرات میں مصروف رکھ کر زمینی فوجی کارروائی کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر رہا ہے۔ پینٹاگون نے 6 عرب ممالک کے ساتھ مل کر "ہفتوں تک جاری رہنے والی زمینی کارروائی” کے آپریشن کا منصوبہ تیار کر لیا ہے اور اہداف پر غور کیا جا رہا ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، افریقہ سمیت دیگر ممالک سے ہزاروں فوجی عرب ممالک میں منتقل کیے جا چکے ہیں۔

    مشرق وسطیٰ میں ڈیڑھ لاکھ امریکی فوجی اور 35 ہزار ایکسپیڈیشنری یونٹ عرب ممالک کے خفیہ مقامات پر تعینات ہیں۔ امریکہ کے دو سمندری جنگی بیڑے خلیج فارس اور ایران کے قریب ہائی الرٹ پر ہیں۔ قطر، کویت اور بحرین میں فوجی اڈے ہائی الرٹ کیے گئے ہیں، متحدہ عرب امارات میں F-22 اسٹیلتھ طیارے تیار حالت میں ہیں۔ برطانیہ سمیت یورپی ممالک نے جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز عرب ممالک میں پہنچا دیے ہیں۔

    ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ زمینی کارروائی امریکہ کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران کا آپریشنل پہاڑی علاقہ، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب 200 کلومیٹر طویل پہاڑی سلسلہ، متعدد غاروں پر مشتمل ہے، جہاں ایرانی گوریلا جنگ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ ایران نے طویل زمینی جنگ کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

    عراق، لیبیا، شام اور یمن میں موجود ایران کے حامی شیعہ ملیشیا گروپس سمندری جزیروں میں اپنی پوزیشنیں سنبھال رہے ہیں۔ غاروں میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کیا گیا ہے، جہاں مقامی کمانڈروں کو فوری فیصلے کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق امریکہ نے آبنائے ہرمز، خارگ جزیرہ، قشم، لارک اور جزیرہ ابو موسیٰ پر زمینی حملے کے منصوبے حتمی شکل دے دی ہے، جس میں تمام عرب ممالک امریکی ساتھ دیں گے۔ ایران دھمکی دے چکا ہے کہ اگر کسی جزیرے پر حملہ ہوا تو پورے خطے کے تیل کے کارخانوں کو تباہ کر دے گا۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ابتدائی تین ہفتوں میں امریکی فوجی سازوسامان کے نقصان کا تخمینہ 1.4 سے 2.9 ارب ڈالر لگایا گیا۔ پینٹاگون نے جنگی اخراجات کے لیے وائٹ ہاؤس سے 200 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز طلب کیے ہیں۔

    اسرائیل کو روزانہ دفاعی میزائلوں پر 50 سے 100 ملین ڈالر نقصان ہو رہا ہے۔ حیفہ بندرگاہ تباہ ہو گئی، ہائی ٹیک کمپنیاں بند ہو گئی ہیں، ہزاروں ریزرو فوجی فرار ہو کر چھپ گئے ہیں، بجلی کے بڑے منصوبے تباہ ہو چکے ہیں، اور لیویاتھان گیس فیلڈ عارضی طور پر بند ہے۔ اسرائیل امریکی امداد اور عالمی قرضوں پر انحصار کر رہا ہے۔

    امریکہ کے اندر جنگ مخالف احتجاج شدت اختیار کر رہے ہیں اور کانگریس میں بجٹ کے معاملے پر ہنگامہ جاری ہے۔ صدر ٹرمپ کی کابینہ میں اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں اور کئی سینئر وزراء جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان اختلافات کے باعث اعلیٰ عہدیداروں کی تبدیلیاں جاری ہیں، جو امریکہ کے لیے سنگین داخلی بحران کا خطرہ بن سکتی ہیں۔

  • انڈیا : مہنگے داموں گیس سلنڈرز فروخت کرنے کے لئے بڑا ذخیرہ قبرستان میں چھُپائے جانے کا انکشاف

    انڈیا : مہنگے داموں گیس سلنڈرز فروخت کرنے کے لئے بڑا ذخیرہ قبرستان میں چھُپائے جانے کا انکشاف

    امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے خطے کے سب سے بڑے ملک بھارت کو گیس کی قلت کے سنگین بحران میں دھکیل دیا ہے۔

    جس سے بڑھتی ہوئی چوری اوربلیک مارکیٹنگ پولیس کے لئے چیلنج بن گئی ہے۔

    پولیس کارروائیوں کے دوران قبرستان میں گیس سلنڈرز چھپانے کا انوکھا اور بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید متحرک کردیا ہے۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ سے جنوبی ایشیا میں بھی توانائی کا بحران مسلسل بڑھ رہا ہے،
    بھارت میں گھریلو استمعال کے لئے ایل پی جی کا حصول شہریوں کے لئے چیلنج بن گیا ہے۔

    بھارت کے شہر حیدرآباد میں پولیس نے قبرستان میں چھپائے گئے414 گیس سلنڈرز برآمد کر لیے ہیں۔
    بلیک مارکیٹنگ اور چوری کو روکنے کے لئے صرف ایک روز میں تقریباً 2,600 چھاپے مارے گئے اور 700 گیس سلنڈرز ضبط کیے گئے ہیں۔

    پولیس نے گیس سلنڈر چھپانے میں ملوث 10 افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے، جبکہ اس واقعہ میں شامل ایک ڈسٹری بیوٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ سلنڈرز بلیک مارکیٹ میں فروخت کیے جا رہے تھے۔ کمرشل گیس سلنڈرز تقریباً 2100 بھارتی روپے میں ملتا ہے، اسے غیر قانونی طور پر 6000 روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔

    خلیج فارس میں جاری جنگ کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر سپلائی چین میں خلل پڑا ہے۔ بھارت چونکہ اپنی تقریباً 60 فیصد ایل پی جی ضروریات درآمد کرتا ہے، اس لیے اس بحران کا اثر بھارت میں زیادہ شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔

  • ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کا نیا منصوبہ

    ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کا نیا منصوبہ

    بین الاقوامی نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران اور امریکا کو ایک ایسا منصوبہ پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد فوری جنگ بندی اور تنازع کا مستقل حل تلاش کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کی جانب سے تیار کیا گیا ہے اور دونوں ممالک کو بھیجا گیا ہے۔

    یہ منصوبہ ایک دو مرحلوں پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی (سیز فائر) کا معاہدہ کیا جائے گا، جبکہ دوسرے مرحلے میں ایک مکمل اور حتمی امن معاہدہ طے کیا جائے گا۔

    پاکستان کا اہم کردار


    ذرائع کے مطابق پاکستان اس معاملے میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی فوجی قیادت اور دیگر حکام امریکا اور ایران کے درمیان رابطے میں ہیں تاکہ اس منصوبے کو کامیاب بنایا جا سکے۔

    اس تجویز کے تحت جنگ بندی فوری طور پر نافذ ہو جائے گی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، جبکہ 15 سے 20 دن کے اندر ایک وسیع معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اس معاہدے کو عارضی طور پر "اسلام آباد معاہدہ” کا نام دیا گیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے لیے علاقائی سطح کا ایک نظام شامل ہوگا، اور آخری بالمشافہ مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے۔

    تمام نکات پر آج ہی اتفاق ہونا ضروری ہے، ذرائع نے کہا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی معاہدہ ایک "یادداشتِ مفاہمت” (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) کی صورت میں ہوگا، جسے پاکستان کے ذریعے الیکٹرانک طریقے سے حتمی شکل دی جائے گی، کیونکہ مذاکرات میں پاکستان ہی واحد رابطے کا ذریعہ ہے۔

    امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس (Axios ) نے اتوار کو سب سے پہلے خبر دی کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالث ایک ممکنہ 45 دن کی جنگ بندی پر بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ جنگ بندی ایک دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کا حصہ ہو سکتی ہے، جو بالآخر جنگ کے مستقل خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ بات امریکی، اسرائیلی اور علاقائی ذرائع کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔اس منصوبے میں کئی اہم نکات شامل ہیں، جن میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی واپسی، اور ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی شامل ہے۔

    بدلے میں ایران کو سلامتی کی ضمانتیں دی جا سکتی ہیں اور خطے میں مستقل امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    تاحال حتمی منظوری نہیں


    امریکا اور ایران کے حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

    ایرانی حکام اس سے پہلے رائٹرز کو بتا چکے ہیں کہ تہران ایک مستقل جنگ بندی چاہتا ہے، جس کے ساتھ یہ ضمانت بھی ہو کہ امریکا اور اسرائیل دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو پاکستان، ترکی اور مصر سمیت ثالث ممالک کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔
    ذرائع کے مطابق حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی شامل ہوگی، جبکہ اس کے بدلے میں پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی واپسی کی توقع ہے۔

    اگرچہ سفارتی کوششیں تیز ہو چکی ہیں، تاہم ایران نے ابھی تک اس منصوبے کو باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا ہے۔ مختلف ممالک، جن میں چین اور دیگر علاقائی طاقتیں شامل ہیں، بھی اس عمل میں کردار ادا کر رہی ہیں۔

    دو پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ شہری اور فوجی سطح پر رابطوں میں تیزی کے باوجود ایران نے تاحال کسی حتمی اتفاق کا اظہار نہیں کیا۔
    ایک ذریعے نے کہا، ‘ایران نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا’، اور مزید بتایا کہ پاکستان، چین اور امریکا کی حمایت سے پیش کی گئی عارضی جنگ بندی کی تجاویز پر اب تک کوئی رضامندی سامنے نہیں آئی۔

    چینی حکام کی جانب سے بھی تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔

    یہ تازہ سفارتی کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ یہ راستہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے۔
    دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد کوئی حل نہ نکلا تو سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

    ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    اس جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور مختلف ممالک میں حالات کشیدہ ہیں۔

    موجودہ صورتحال میں یہ امن منصوبہ ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ اگر ایران اور امریکا اس پر متفق ہو جاتے ہیں تو نہ صرف جنگ بندی ممکن ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں طویل مدتی امن کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے دونوں ممالک کی رضامندی اور سنجیدہ مذاکرات نہایت ضروری ہیں۔

  • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت اور غیر شائستہ زبان میں دھمکی دیدی

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت اور غیر شائستہ زبان میں دھمکی دیدی

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت اور غیر شائستہ زبان میں دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا گیا تو ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر یہ راستہ بحال نہ ہوا تو ‘منگل کا دن ایران میں پاور پلانٹس اور پلوں پر حملوں کا دن ہوگا۔’

    ٹرمپ نے 6 اپریل کی ڈیڈ لائن کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر ایران نے مطالبات نہ مانے تو سخت کارروائی کی جائے گی، اگرچہ اس سے پہلے بھی دی گئی ڈیڈ لائنز میں تبدیلی ہوتی رہی ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے اوپر ایک لڑاکا طیارہ گرائے جانے کے بعد لاپتہ ہونے والا ایک امریکی عملے کا رکن بحفاظت بازیاب ہو گیا ہے اور اب ‘محفوظ اور سلامت’ ہے۔

    تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس اہلکار کو ایران کے پہاڑی علاقے کے اندر سے نکالتے وقت شدید زخمی حالت میں پایا گیا۔ اس کامیاب ریسکیو آپریشن کے بعد امریکا کو اس خدشے سے بھی وقتی نجات مل گئی ہے کہ کہیں یہ اہلکار ایران کے لیے جنگی قیدی کے طور پر پروپیگنڈا کا ذریعہ نہ بن جائے۔

  • ایران امریکہ جنگ: جغرافیائی دفاع سے عالمی معاشی بحران تک

    ایران امریکہ جنگ: جغرافیائی دفاع سے عالمی معاشی بحران تک

    ایران کی جنگ صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا کے سیاسی، معاشی اور فوجی ڈھانچے کو طویل عرصے کے لیے تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایسی جنگیں صرف بارود تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ ان کے اثرات نسلوں تک جاری رہتے ہیں۔

    ایران کو دہائیوں کی پابندیوں، عالمی تنہائی اور بڑی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود شکست دینا اتنا مشکل کیوں رہا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ اس کا وسیع اور دشوار گزار جغرافیائی ڈھانچہ ہے، جبکہ اس کی دفاعی حکمتِ عملی بھی نہایت سوچ سمجھ کر ترتیب دی گئی ہے، جو غیر روایتی جنگ، علاقائی اتحادیوں اور اسٹریٹجک قوتوں پر مبنی ہے۔

    ایران نے ایسا نظام تیار کیا ہے جو شدید حملے برداشت کر سکتا ہے اور اپنے دشمن کو سخت مقابلہ دے سکتا ہے۔ یہ صرف فوجی طاقت کی بات نہیں بلکہ یہ لچک، حکمتِ عملی اور دنیا کے سب سے غیر مستحکم خطے میں بقا کی جدوجہد کی کہانی ہے، جو فضائی حملوں کے بعد اب ایک طویل زمینی جنگ کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔

    فریقین مورچہ بند ہو رہے ہیں۔ علاقائی اتحاد بن رہے ہیں۔ گوریلا جنگ کے لیے صف بندیاں شروع ہو چکی ہیں۔ سیاسی جوڑ توڑ کے ساتھ امریکی ایوانوں میں بھی ہلچل مچ چکی ہے۔ دنیا ایک نئے معاشی بحران کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔ پوری دنیا میں سیاسی سرگرمیاں بڑھ چکی ہیں۔ خفیہ سفارتکاری دم توڑ رہی ہے اور یورپ خفیہ طور پر اسرائیل کو معاشی، اقتصادی اور فوجی مدد فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہو چکا ہے۔

    نیویارک ٹائمز، سی این این، الجزیرہ، سعودی گزٹ اور دیگر عرب اخبارات سے واضح خبریں موصول ہوئی ہیں کہ امریکہ ایران کو مذاکرات میں مصروف رکھ کر دراصل زمینی فوجی کارروائی کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے پینٹاگون نے چھ عرب ممالک کے ساتھ مل کر ‘ہفتوں تک جاری رہنے والی زمینی کارروائی’ کے آپریشن کا منصوبہ تیار کر لیا ہے اور اہداف پر غور کیا جا رہا ہے۔

    جاپان، جنوبی کوریا، افریقہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک سے ہزاروں فوجی عرب ممالک میں منتقل کیے جا چکے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ڈیڑھ لاکھ امریکی فوجی اور پینتیس ہزار ایکسپیڈیشنری یونٹ، جو خاص طور پر گوریلا جنگ اور ایرانی ایٹمی مواد حاصل کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، عرب ممالک کے خفیہ مقامات پر تعینات کیے گئے ہیں۔

    اس کے علاوہ امریکہ کے دو سمندری جنگی بیڑے، جن پر ہزاروں امریکی فوجی موجود ہیں، انہیں خلیج فارس اور ایران کے قریب سمندری علاقوں میں ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ قطر میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ موجود ہے، جہاں روزانہ کی بنیاد پر فوجیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ کویت کے کیمپ عارف جان میں نو ہزار سے چودہ ہزار فوجیوں کو سازوسامان سمیت ہائی الرٹ کیا گیا ہے۔ بحرین کے علی السلام ایئر بیس میں سات ہزار فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق سعودی عرب میں میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کیا گیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں ایف بائیس اسٹیلتھ جنگی طیاروں کو تیار حالت میں رکھا گیا ہے۔ برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک نے اپنے جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز اور دیگر جنگی سازوسامان اسرائیل کے دفاع کے لیے عرب ممالک میں پہنچا دیے ہیں۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زمینی کارروائی امریکہ کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران کا آپریشنل پہاڑی علاقہ، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب دو سو کلومیٹر طویل پہاڑی سلسلہ، متعدد غاروں پر مشتمل ہے، جہاں ایرانی گوریلا جنگ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

    امریکی تیاریوں کے ساتھ ساتھ ایران نے بھی برسوں سے جاری ممکنہ طویل زمینی جنگ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ عراق، لیبیا، شام اور یمن سمیت مختلف ممالک میں موجود ایران کے حامی ملیشیا گروپس ایران کے سمندری جزیروں والے علاقوں میں پہنچ کر اپنی پوزیشنیں سنبھال رہے ہیں۔ ان کے لیے غاروں میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کیا گیا ہے، جہاں مقامی کمانڈروں کو مرکزی احکامات سے آزاد کر کے اپنے علاقے کی صورتحال کے مطابق فوری فیصلے کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق امریکہ نے پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز، خارگ جزیرہ، قشم، لارک اور متنازع جزیرہ ابو موسیٰ پر زمینی حملے کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس میں تمام عرب ممالک امریکہ کا مکمل ساتھ دیں گے۔ ان خبروں پر ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے کسی ایک جزیرے پر بھی حملہ کیا گیا تو وہ پورے خطے کے تیل کے تمام کارخانوں کو میزائل حملوں سے تباہ کر دے گا۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق جنگ کے ابتدائی تین ہفتوں میں امریکی فوجی سازوسامان کے نقصان اور مرمت کا تخمینہ ایک اعشاریہ چار سے دو اعشاریہ نو ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ پینٹاگون نے جنگی اخراجات کے لیے وائٹ ہاؤس سے دو سو ارب ڈالر کے اضافی فنڈز طلب کیے ہیں۔

    قطر میں قائم العديد ایئر بیس پر ایک ارب ڈالر مالیت کا جدید اے این ایف پی ایس ایک سو بتیس ارلی وارننگ ریڈار تباہ ہو گیا۔ سو ملین ڈالر کے تین ایف پندرہ ای اسٹرائیک ایگل طیارے تباہ ہوئے۔ بحری بیڑا یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ تباہ ہو گیا جبکہ ابراہم لنکن جہاز کی مرمت جاری ہے۔

    امریکہ کا مجموعی قومی قرض انتالیس ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ جنگی اخراجات کی وجہ سے وفاقی بجٹ کا خسارہ بڑھ رہا ہے، جس کے باعث قرض میں روزانہ اربوں ڈالر کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس جنگ پر روزانہ تقریباً دو ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں، اس لیے تکنیکی طور پر امریکہ کے ڈیفالٹ ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں۔

    دی گارڈین کے مطابق امریکہ نے پہلے ہفتے میں گیارہ اعشاریہ تین ارب ڈالر خرچ کیے، جو کینسر کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہیں۔ ٹائم میگزین کے مطابق ان پیسوں سے تیرہ لاکھ امریکی شہری ایک سال تک مفت طبی سہولیات حاصل کر سکتے تھے، مگر یہ رقم جنگ پر خرچ کر دی گئی۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق امریکہ اس جنگ میں انتہائی مہنگا اور جدید اسلحہ استعمال کر رہا ہے، جس سے یوکرین اور تائیوان جیسے دیگر محاذوں پر اس کی فوجی صلاحیتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے یورپی اتحادی امریکہ کی حکمتِ عملی سے پریشان ہیں اور اس سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔

    اسرائیل کا جدید دفاعی نظام دنیا میں معروف ہے، مگر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے اسے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیل کو روزانہ دفاعی میزائلوں پر پچاس سے سو ملین ڈالر تک کا نقصان ہو رہا ہے۔ اسرائیلی معیشت کو بیس ارب ڈالر سے زائد کا براہ راست نقصان پہنچ چکا ہے۔ حیفہ بندرگاہ تباہ ہو گئی ہے۔

    ہائی ٹیک کمپنیاں بند ہو چکی ہیں۔ ہزاروں ریزرو فوجی فرار ہو کر چھپ گئے ہیں۔ بجلی کے کئی بڑے منصوبے تباہ ہو چکے ہیں۔ بحیرہ روم میں واقع لیویاتھان گیس فیلڈ عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے۔ شمالی اور مرکزی اسرائیل سے تقریباً پانچ لاکھ سے زائد شہری محفوظ مقامات یا بنکروں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ کم ہو چکی ہے جس کے باعث عالمی مارکیٹ سے قرض لینا مہنگا ہو گیا ہے۔ تعلیم یافتہ افراد اسرائیل چھوڑ رہے ہیں۔

    مارچ دو ہزار چھبیس کی اس جنگی صورتحال میں اسرائیل اپنی معیشت اور فوجی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے مکمل طور پر اپنے عالمی اتحادیوں اور قرض دہندگان پر انحصار کر رہا ہے۔ امریکی کانگریس نے چودہ اعشاریہ تین ارب ڈالر سے زائد کی ہنگامی فوجی امداد منظور کی ہے۔ امریکی بینکوں جیسے جے پی مورگن چیس اور گولڈمین سیکس سے بڑے پیمانے پر قرض حاصل کیے جا رہے ہیں۔

    اسرائیل عالمی مارکیٹ میں ‘ڈائاسپورا بانڈز’ کے ذریعے اربوں ڈالر اکٹھے کر رہا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں مقیم یہودی برادری اور بعض ریاستی حکومتیں ان بانڈز کو خرید کر اسرائیل کو مالی مدد فراہم کر رہی ہیں۔ جرمنی اور برطانیہ آسان شرائط پر کریڈٹ لائنز فراہم کر رہے ہیں تاکہ اسرائیل دفاعی سامان خرید سکے۔ اسرائیل اپنے فارن کرنسی ذخائر کو بچانے کے لیے عالمی مارکیٹ سے مہنگا قرض لینے پر مجبور ہو چکا ہے۔

    آئرن ڈوم، ڈیوڈز سلنگ اور ایرو سسٹم کے انٹرسیپٹر میزائل امریکہ سے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ دو ہزار پاؤنڈ کے بم اور توپ خانے کا اسلحہ روزانہ امریکہ سے اسرائیل پہنچایا جا رہا ہے۔ ایف پینتیس اور ایف پندرہ طیاروں کے اسپیئر پارٹس کی فراہمی جاری ہے۔ جرمنی اسرائیل کا دوسرا بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے، جو آبدوزیں اور اینٹی ٹینک میزائل فراہم کر رہا ہے۔

    برطانیہ بھی جنگی طیاروں کے پرزے اور دفاعی نظام فراہم کر رہا ہے، جبکہ اس کی کمپنیاں ایف پینتیس پروگرام میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق بھارت بھی اسرائیل کو ڈرونز کے پرزے اور گولہ بارود فراہم کر رہا ہے۔

    یورپی ممالک جیسے ہالینڈ اور اسپین میں عوامی احتجاج کے باعث اسلحہ کی فراہمی پر کچھ پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں، تاہم برطانیہ، فرانس اور جرمنی اسرائیل کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔ خطے میں موجود برطانوی اور فرانسیسی بحری بیڑے بھی میزائلوں کو روکنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

    اٹلی بھی اسرائیل کی مدد کے لیے سامنے آ چکا ہے، جبکہ نیٹو پس پردہ اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے۔ ایران نے غزہ کی طرح اسرائیلی شہریوں پر براہ راست بمباری نہیں کی، مگر اس کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ غزہ کی تباہی ایک انسانی المیہ تھا، جبکہ اسرائیل میں ہونے والی تباہی ایک ریاستی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

    اسرائیل اس وقت امریکی امداد اور عالمی قرضوں کی ‘لائف سپورٹ’ پر ہے۔ اگر امریکہ نے اپنی مالی یا فوجی مدد روک دی تو اسرائیل کے لیے اس جنگ کو جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔

    ایک طرف ٹرمپ عرب ممالک اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی زمین پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے، تو دوسری طرف امریکہ کے اندر جنگ مخالف احتجاج شدت اختیار کر رہے ہیں اور کانگریس میں بجٹ کے معاملے پر شدید ہنگامہ جاری ہے۔ ٹرمپ کی کابینہ میں بھی اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں اور کئی سینئر وزراء اس جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ویتنام اور افغانستان سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

    ان اختلافات کے باعث صدر نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کو عارضی چارج دے دیا گیا ہے۔ دیگر اعلیٰ عہدیداروں کی تبدیلی پر بھی غور جاری ہے۔ سی این این کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی کئی سینئر فوجی افسران کو برطرف کیا ہے، جبکہ مزید تبدیلیوں کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق کابینہ کے کئی اہم اراکین صدر سے اختلاف رکھتے ہیں، مگر وہ کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہیں۔

    اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ امریکہ کے لیے ایک سنگین داخلی بحران ثابت ہو سکتی ہے، جو اس کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

  • ایران، اسرائیل جنگ: ایندھن بحران کے بعد پاکستان حکومت کا سمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان۔ لاک ڈاؤن کا کیا اثر ہوگا؟

    ایران، اسرائیل جنگ: ایندھن بحران کے بعد پاکستان حکومت کا سمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان۔ لاک ڈاؤن کا کیا اثر ہوگا؟

    پاکستان ایک بار پھر ایک غیر معمولی صورتحال سے گزر رہا ہے، مگر اس بار وجہ وبا نہیں بلکہ ایندھن کا بحران ہے۔ وفاقی حکومت نے ملک بھر میں ایک ماہ کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مرکز خاص طور پر کراچی جیسے بڑے شہری مراکز بن رہے ہیں، جہاں پیٹرول کی کھپت سب سے زیادہ ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق ایران میں جاری کشیدگی اور خطے میں جنگی صورتحال نے عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل کو متاثر کیا ہے، جس کے اثرات براہ راست پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک پر پڑے ہیں۔ ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اپنی مجموعی پیٹرولیم ضروریات کا تقریباً 85 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر معمولی اتار چڑھاؤ بھی مقامی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

    اسی پس منظر میں حکومت نے غیر ضروری نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ بلا ضرورت گھروں سے نکلنے والوں کو حراست میں لیا جا سکتا ہے، جبکہ ان کی گاڑیاں بھی ضبط کی جا سکتی ہیں۔ کراچی میں مختلف علاقوں میں دکانوں کے اوقات کار محدود کیے جا رہے ہیں اور بعض مارکیٹوں کو مکمل طور پر بند رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    تعلیمی اداروں کی عارضی بندش بھی اس پالیسی کا حصہ ہے، تاہم آن لائن تعلیم کو جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں آن لائن تعلیم کا انفراسٹرکچر کووڈ 19 کے دوران تیزی سے ترقی پایا، جسے اب ایک بار پھر ہنگامی صورتحال میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

    سندھ حکومت نے بھی ایندھن کی بچت کے لیے سرکاری دفاتر بند رکھنے اور جمعہ کے دن تعطیل کا اعلان کیا ہے، جو ماضی میں توانائی بحران کے دوران بھی ایک آزمودہ حکمت عملی رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں بھی محدود سروسز چلانے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ پیٹرول کی کھپت کو کم سے کم کیا جا سکے۔

    ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ اقدامات بروقت اور مؤثر انداز میں نافذ کیے گئے تو نہ صرف ایندھن کی بچت ممکن ہوگی بلکہ سپلائی چین پر دباؤ بھی کم کیا جا سکے گا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے فیصلے معاشی سرگرمیوں کو سست کر دیتے ہیں، جس کا اثر روزمرہ اجرت پر کام کرنے والے افراد پر سب سے زیادہ پڑتا ہے۔

    شہریوں کا ردعمل ملا جلا ہے۔ کچھ اسے ناگزیر قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر تعلیمی اداروں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں کمی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں ایک سوال ابھرتا ہے: کیا یہ عارضی پابندیاں طویل المدتی توانائی پالیسی کی ضرورت کو اجاگر کر رہی ہیں، یا یہ محض ایک اور ہنگامی حل ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گا؟

  • جنگ، سینسر شپ اور عالمی معیشت کا زلزلہ

    جنگ، سینسر شپ اور عالمی معیشت کا زلزلہ

    حالیہ جنگ کے دوران امریکہ، اسرائیل، ایران اور کئی عرب ممالک میں میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ اسرائیل میں حساس مقامات کی تصویر کشی پر سخت نگرانی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی کئی طرح کی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ اسی وجہ سے میدان جنگ کی مکمل اور آزادانہ معلومات دنیا تک پہنچنا مشکل ہو گئی ہیں۔

    کچھ سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر محدود معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ اس جنگ پر روزانہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں دنیا سے جنگوں کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا، مگر موجودہ حالات ایک ایسے تنازع کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس کے اثرات خطے سے نکل کر عالمی سیاست اور معیشت تک پہنچ رہے ہیں۔

    امریکہ اور یورپ کے کئی شہروں میں اس جنگ کے خلاف احتجاج بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

    ایران کے مختلف علاقوں پر بڑے پیمانے پر حملوں کی اطلاعات ہیں۔ رہائشی علاقوں، بینکوں، توانائی کے مراکز، پانی کے منصوبوں اور دیگر شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچنے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اس کے باوجود ایران کے کئی شہروں میں معمولات زندگی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہیں۔ بعض علاقوں میں بجلی اور تیل کی فراہمی متاثر ہونے اور پینے کے پانی کی قلت کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔

    سابق امریکی وزیر خارجہ اینتھنی بلنکن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیلی قیادت ماضی میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتی رہی ہے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق ایران کے میزائل پروگرام اور یورینیم افزودگی کے حوالے سے عالمی سطح پر مسلسل بحث جاری ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ مغربی ممالک اسے سکیورٹی خدشات سے جوڑتے ہیں۔

    اس جنگ کے ایک اہم پہلو میں عوامی ردعمل بھی شامل ہے۔ امریکہ میں یہ تنازع خاصا غیر مقبول قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران میں بھی داخلی مسائل، معاشی مشکلات اور سیاسی اختلافات موجود ہیں، لیکن بیرونی دباؤ کے باعث عوام کی ایک بڑی تعداد اپنی ریاست کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق ایسے حالات میں اکثر قوموں کے اندرونی اختلافات پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور بیرونی خطرہ مرکزی مسئلہ بن جاتا ہے۔

    خطے کی سیاست میں اسرائیل اور ایران کا تنازع کئی دہائیوں سے موجود ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل ایران کو اپنے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک چیلنج سمجھتا ہے، جبکہ ایران اسرائیل کی پالیسیوں کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ اسی کشمکش نے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو مسلسل متاثر کیا ہے۔

    اس تنازع کے اثرات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں رہے۔ توانائی کی عالمی منڈی، بحری تجارت اور فضائی سفر بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی ایئر لائنز کو پروازیں منسوخ کرنی پڑی ہیں جبکہ خلیج کے اہم بندرگاہی راستوں پر سرگرمی کم ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عالمی مارکیٹوں میں تیل، سونے اور ایل این جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور مالیاتی نظام پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس وقت دنیا پہلے ہی معاشی دباؤ، توانائی کے بحران اور سیاسی کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے۔

    یہ جنگ صرف زمین پر نہیں لڑی جا رہی بلکہ سائبر دنیا اور خلا تک پھیل چکی ہے۔ سائبر حملوں، سیٹلائٹ نگرانی اور جدید دفاعی نظاموں نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عالمی طاقتیں اپنی تکنیکی برتری کے ذریعے جنگی میدان میں برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    اگر یہ کشیدگی بڑھتی رہی تو اس کے اثرات آنے والے برسوں تک عالمی سیاست، توانائی کی منڈیوں اور معاشی نظام پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی جنگیں صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ وہ دنیا کے سیاسی اور معاشی نقشے کو بھی بدل دیتی ہیں۔

     

  • اسرائیل، ایران جنگ، ایندھن کا ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے پاکستان حکومت کا حکومت کی قومی شاہراہوں پر نئی حدِ رفتار نافذ، کم رفتار سے ایندھن کی بچت کیسے ممکن؟

    اسرائیل، ایران جنگ، ایندھن کا ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے پاکستان حکومت کا حکومت کی قومی شاہراہوں پر نئی حدِ رفتار نافذ، کم رفتار سے ایندھن کی بچت کیسے ممکن؟

    حکومت پاکستان کی ہدایات پر ایندھن کی بچت اور توانائی کے مؤثر استعمال کے پیش نظر موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر گاڑیوں کے لیے حدِ رفتار کم کر دی گئی ہے۔ موٹروے پولیس کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ایندھن کی کھپت کم کرنا اور کفایت شعاری پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

    ترجمان سینٹرل ریجن موٹروے پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ موٹرویز پر کار اور لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل کی حدِ رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح مسافر بردار گاڑیوں اور ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکل کے لیے رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔

    قومی شاہراہوں پر بھی رفتار میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ کار اور لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل کے لیے حدِ رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کر دی گئی ہے جبکہ مسافر بردار اور مال بردار گاڑیوں کے لیے رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 65 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔

    نئی رفتار پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی

    موٹروے پولیس کے مطابق نئی حدِ رفتار پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانے بھی کیے جا رہے ہیں۔ موٹروے ایم ٹو پر ایک شہری کو 115 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلانے پر 2500 روپے جرمانہ کیا گیا جبکہ ایک مسافر بس کو 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلانے پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صرف جرمانے عائد کرنا نہیں بلکہ ڈرائیورز کو نئی رفتار کی حدود سے آگاہ کرنا اور توانائی کے استعمال میں کمی لانا ہے۔

    قومی کفایت شعاری پالیسی کا حصہ

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ روز قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے قومی کفایت شعاری پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ اس پالیسی کے تحت سرکاری اخراجات کم کرنے اور توانائی کے استعمال میں کمی لانے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

    اعلان کے مطابق تمام سرکاری گاڑیوں کو اگلے دو ماہ کے لیے ایندھن کی فراہمی میں پچاس فیصد تک کمی کی جائے گی جبکہ سرکاری اداروں میں ہفتے میں چار دن کام کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

    قوم سے ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پورا خطہ جنگی صورتحال کی لپیٹ میں ہے اور امن کو لاحق خطرات ہم سب کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہیں۔

    وزیراعظم کے مطابق پاکستان کی معیشت بڑی حد تک خلیجی ممالک سے آنے والے تیل اور گیس پر انحصار کرتی ہے، اسی لیے عالمی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر ملک پر پڑتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ انہیں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس سے کہیں زیادہ اضافے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم حکومت نے درمیانی راستہ اختیار کیا تاکہ عوام پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔

    رفتار کم کرنے سے ایندھن کیسے بچتا ہے؟

    ماہرین کے مطابق گاڑی کی رفتار اور ایندھن کے استعمال کے درمیان واضح تعلق موجود ہے۔ جیسے جیسے رفتار بڑھتی ہے، گاڑی کو ہوا کی مزاحمت زیادہ برداشت کرنا پڑتی ہے۔ اس مزاحمت پر قابو پانے کے لیے انجن کو زیادہ طاقت استعمال کرنا پڑتی ہے جس سے ایندھن زیادہ خرچ ہوتا ہے۔

    تحقیقی مطالعات کے مطابق زیادہ تر گاڑیوں میں بہترین فیول اکانومی تقریباً 60 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان رفتار پر حاصل ہوتی ہے۔ اس رفتار سے زیادہ تیز چلنے پر فیول کھپت تیزی سے بڑھنے لگتی ہے۔

    ماہرین کا اندازہ ہے کہ رفتار میں ہر 10 کلومیٹر فی گھنٹہ اضافے کے ساتھ فیول کھپت میں تقریباً 7 سے 10 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر گاڑی 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہو تو وہ 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ایندھن استعمال کرتی ہے۔

    بھاری گاڑیوں میں یہ فرق اور بھی زیادہ ہو جاتا ہے کیونکہ زیادہ وزن کی وجہ سے زیادہ رفتار برقرار رکھنے کے لیے زیادہ طاقت درکار ہوتی ہے۔

    حادثات میں کمی کا امکان

    ماہرین کے مطابق رفتار میں کمی کا ایک اور فائدہ سڑکوں پر حادثات میں کمی بھی ہے۔ معتدل رفتار نہ صرف ڈرائیور کو بہتر کنٹرول فراہم کرتی ہے بلکہ اچانک بریک یا ٹکراؤ کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

    اسی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک میں توانائی کی بچت اور ٹریفک سیفٹی دونوں مقاصد کے لیے ہائی ویز پر رفتار کی حد کو ایک اہم پالیسی ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

    کیا اس فیصلے سے واقعی فرق پڑے گا؟

    توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈرائیور نئی رفتار کی حدود پر واقعی عمل کریں تو اس سے ملک میں ایندھن کی مجموعی کھپت میں قابلِ ذکر کمی آ سکتی ہے۔ تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئی پالیسی پر عملدرآمد کس حد تک مؤثر بنایا جاتا ہے۔

    اگر رفتار کم رکھنے کی عادت عام ہو جائے تو نہ صرف ایندھن کی بچت ممکن ہے بلکہ سڑکوں پر سفر بھی زیادہ محفوظ ہو سکتا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسے پالیسی فیصلوں کے پس منظر اور ان کے سائنسی پہلوؤں کو سادہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ عوام کو سمجھ آ سکے کہ روزمرہ زندگی میں ہونے والی یہ تبدیلیاں کیوں اہم ہوتی ہیں۔

  • اسرائیل، ایران جنگ: 85 ممالک میں پیٹرول مہنگا، تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ کس ملک میں؟

    اسرائیل، ایران جنگ: 85 ممالک میں پیٹرول مہنگا، تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ کس ملک میں؟

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر 28 فروری کو شروع ہونے والے حملوں کے بعد دنیا بھر میں توانائی کی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

    اس جنگ کے اثرات اب عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں اور دنیا کے کم از کم 85 ممالک میں ایندھن مہنگا ہو چکا ہے۔

    الجزیرہ نے عالمی ادارے گلوبل پیٹرول پرائسز کے تجزیاتی اعداد و شمار کی روشنی میں اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد درجنوں ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ کئی ممالک میں قیمتوں کا اعلان مہینے کے اختتام پر کیا جاتا ہے، اس لیے اپریل میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق امریکہ میں پیٹرول 20 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ فروری کے دوران پیٹرول کی فی گیلن اوسط قیمت 2.94 ڈالر تھی جو اب بڑھ کر 3.58 ڈالر ہو گئی ہے۔ یعنی تقریباً 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے فیول پرائس ٹریکر کے مطابق مختلف ریاستوں میں قیمتیں مختلف ہیں۔

    تاہم کئی ریاستوں میں فی گیلن قیمت 4 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ کیلیفورنیا میں یہ 5 ڈالر فی گیلن سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، جو گزشتہ دو برس کی بلند ترین سطح ہے۔

    تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ویتنام میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا، جہاں 23 فروری کو 95 آکٹین پیٹرول کی قیمت 0.75 ڈالر فی لیٹر تھی جو 9 مارچ تک بڑھ کر 1.13 ڈالر ہو گئی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقی ایشیا کے مقابلے میں جنوبی ایشیا کے ممالک اس بحران سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے پاس محدود مالی وسائل اور کم اسٹریٹیجک ذخائر موجود ہیں۔

    بنگلہ دیش کی حکومت نے توانائی بچانے کے لیے تمام سرکاری و نجی جامعات فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

    پاکستان میں بھی ایندھن کی بچت کے لیے سرکاری دفاتر میں چار روزہ ورک ویک متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ تعلیمی اداروں کو بند کرنے اور 50 فیصد ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    لاؤس میں قیمتوں میں 33 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کمبوڈیا میں 19 فیصد اور آسٹریلیا میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے

    توانائی کے ماہرین کے مطابق ایشیائی ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کی بڑی توانائی سپلائی خلیج فارس کی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آتی ہے، جو جنگ کے بعد عملی طور پر بند ہو چکی ہے۔

    یہ آبی راستہ خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملاتا ہے اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کے لیے عالمی منڈی تک پہنچنے کا بنیادی راستہ ہے۔

    جنگی صورتحال کو دیکھتے ہوئے جاپان نے 8 مارچ کو اپنے اسٹریٹیجک آئل ریزرو کے ذخائر کو ممکنہ استعمال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی، جبکہ جنوبی کوریا نے اگلے ہی روز پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر 30 برس میں پہلی مرتبہ زیادہ سے زیادہ حد مقرر کر دی۔

    امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے اثرات سے یورپ بھی محفوظ نہیں رہا۔

    یورپ میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث گروپ آف سیون (جی سیون) کے وزرائے خزانہ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے صارفین پر دباؤ کم کرنے کے لیے اسٹریٹیجک ذخائر کا 20 سے 30 فیصد تک جاری کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل مہنگا ہو تو خوراک بھی مہنگی ہوتی ہے اور دیگر اشیائے ضرورت کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

    کیونکہ زرعی کھاد، فصلوں کی نقل و حمل اور سپلائی چین کے ہر مرحلے میں توانائی استعمال ہوتی ہے۔

    ماہر معاشیات ڈیوڈ مک ولیمز کے مطابق عالمی معیشت کی اصل بنیاد نقل و حمل ہے۔ اشیا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا دراصل لاجسٹکس اور سپلائی چین کا مسئلہ ہے اور نقل و حمل بنیادی طور پر توانائی پر منحصر ہے۔

    جنگ نے عالمی معیشت کو براہ راست متاثر کیا ہے اور غیر یقینی کی کیفیت نے عالمی کساد بازاری کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔

    معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی اور بے روزگاری کے امتزاج یعنی اسٹگفلیشن کو جنم دے سکتا ہے۔

    ماضی میں 1973، 1978 اور 2008 کے بڑے تیل بحرانوں کے بعد عالمی معاشی سست روی یا کساد بازاری دیکھنے میں آئی تھی۔

    کم آمدنی والے ممالک میں جہاں لوگ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں اور جہاں اناج اور کھاد کی بڑی مقدار درآمد کی جاتی ہے، وہاں تیل مہنگا ہونے سے خوراک کی قلت کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

    خام تیل اور گیس صرف ایندھن کے طور پر ہی استعمال نہیں ہوتے بلکہ ہزاروں روزمرہ مصنوعات کی تیاری میں بھی بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

    معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پلاسٹک کی بوتلیں، خوراک کی پیکنگ، موبائل فون کے کور اور طبی سرنجیں سب خام تیل سے بننے والے پلاسٹک سے تیار ہوتی ہیں۔

    اسی طرح پالئیسٹر، نائلون اور ایکریلک جیسے مصنوعی کپڑے بھی خام تیل سے تیار کیے جاتے ہیں، جو اسپورٹس ویئر سے لے کر قالین تک مختلف مصنوعات میں استعمال ہوتے ہیں۔

    کاسمیٹکس کی صنعت بھی بڑی حد تک پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کرتی ہے، جن سے ویسلین، لپ اسٹک اور دیگر بیوٹی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔