Tag: ایران

  • کراچی: خوشبودار چاولوں پر کباب، مکھن کے تڑکے اور مخصوص مصالحوں والی ایرانی ڈش’چُلو کباب’

    کراچی: خوشبودار چاولوں پر کباب، مکھن کے تڑکے اور مخصوص مصالحوں والی ایرانی ڈش’چُلو کباب’

    کراچی میں واقع کیفے چُلو کباب سیستانی آج بھی شہریوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں دن کے مختلف اوقات میں لوگوں کا خاصا رش دیکھنے کو ملتا ہے۔

    اس ایرانی کیفے میں شہری نہ صرف روایتی ایرانی کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ ایک تاریخی ذائقے کا تجربہ بھی حاصل کرتے ہیں۔ایرانی زبان میں چاول کو ‘چُلو’ کہا جاتا ہے اور چُلو کباب کا مطلب چاول اور کباب ہے۔

    ایرانی کھانوں میں چاول بنیادی جزو کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ چُلو کباب میں خوشبودار چاولوں کے ساتھ سیخ کباب، مکھن کا تڑکا اور مخصوص مصالحے شامل کیے جاتے ہیں جو اس ڈش کو ایک منفرد ذائقہ ہوتا ہے۔

    ماضی میں کراچی کے مختلف علاقوں اور چوراہوں پر ایرانی کیفے عام نظر آتے تھے، جو اکثر گلی کے کونوں پر قائم ہوتے تھے، تاہم وقت کے ساتھ ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

    آج جو چند قدیم ایرانی کیفے باقی ہیں، ان میں سے بیشتر اصل مالکان کی تیسری یا چوتھی نسل کے زیرِ انتظام ہیں، جو اس روایت کو اب تک زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
    چُلو کباب سیستانی کو ایرانی کھانوں کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں چلو کباب کے ساتھ ساتھ ملائی بوٹی، تکہ، اور دیگر مختلف کھانے بھی دستیاب ہیں۔

    یہاں نہ صرف شہر بھر سے بلکہ دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے افراد بھی ایرانی کھانوں کا ذائقہ چکھنے پہنچتے ہیں۔ یہ کیفے ایک قدیم عمارت میں قائم ہے، جہاں آج بھی پرانا فرنیچر اور روایتی ماحول ماضی کی یاد دلاتا ہے، جو اسے جدید کیفیز سے منفرد بناتا ہے۔

    شہریوں کے مطابق کراچی میں پرانے ایرانی کیفے اب بہت کم رہ گئے ہیں، اسی لیے وہ چلو کباب سیستانی آکر مستند ایرانی کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہاں مختلف اقسام کے کھانے دستیاب ہیں، تاہم چلو کباب کا ذائقہ آج بھی سب سے منفرد اور یادگار سمجھا جاتا ہے۔

  • خونی سمندر یا قدرتی نظارہ؟ ایران میں سرخ سمندر دیکھ کر لوگ حیران اور خوف زدہ

    خونی سمندر یا قدرتی نظارہ؟ ایران میں سرخ سمندر دیکھ کر لوگ حیران اور خوف زدہ

    ایران کے جزیرۂ ہرمز پر حالیہ دنوں میں ایک غیر معمولی قدرتی منظر دیکھنے میں آیا ہے، جس نے دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

    دسمبر 2025 میں ہونے والی شدید بارشوں کے بعد جزیرے کی سرخ مٹی بہہ کر سمندر میں شامل ہو گئی، جس کے نتیجے میں ساحل اور سمندری لہریں عارضی طور پر گہرے سرخ رنگ میں رنگی نظر آئیں۔ ویڈیوز میں دھند میں لپٹی چٹانیں اور سرخ رنگ کا پانی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

    جزیرہ ہرمز خلیج فارس میں واقع ہے اور اپنی منفرد ارضیاتی ساخت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہاں کی مٹی قدیم نمکیاتی اور آتش فشانی تہوں پر مشتمل ہے، جس میں آئرن آکسائیڈ، خاص طور پر ہیمیٹائٹ، بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے، جو مٹی کو اس کا مخصوص سرخ رنگ دیتا ہے۔

    بارش کے پانی سے مٹی کے کٹاؤ کے باعث یہ تلچھٹ سمندر میں شامل ہو جاتی ہے، جس سے بعض اوقات ’’خونی سمندر‘‘ جیسا منظر بنتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے اور اس سے ماحول یا سمندری حیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، کیونکہ مٹی کے ذرات جلد ہی بیٹھ جاتے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر ان مناظر کو بڑے پیمانے پر دیکھا اور شیئر کیا گیا، جہاں بعض افراد نے اسے مذہبی پیش گوئیوں سے جوڑنے کی کوشش کی، جبکہ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ محض ایک قدرتی مظہر ہے۔

    جزیرہ ہرمز کو اس کی رنگا رنگ مٹی کی وجہ سے ’’رینبو آئی لینڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، جہاں ستر سے زائد قدرتی رنگوں کی مٹی پائی جاتی ہے، اور حالیہ منظر نے ایک بار پھر اس جزیرے کو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

    ایڈیٹر فارن افئیرز