[rank_math_breadcrumb]

ایران: معاشی دباؤ کے خلاف کئی روز سے احتجاج جاری، ہلاکتوں میں اضافہ، انٹرنیٹ سروس معطل

ایران میں معاشی حالات کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے کئی دنوں سے جاری ہیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سنہ 28 دسمبر کے بعد سے مختلف شہروں میں ہونے والے ان احتجاجوں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 45 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

رپورٹس کے مطابق یہ احتجاج متعدد صوبوں تک پھیل چکے ہیں۔ مختلف شہروں میں دکانداروں اور شہریوں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ بعض مقامات پر سڑکیں بند کی گئیں، جس کے باعث شہری آمد و رفت اور ٹریفک نظام متاثر ہوا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق کچھ شہروں میں احتجاج کے دوران پولیس پر پتھراؤ اور فائرنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو قابو میں رکھنے اور احتجاج کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے پولیس اور سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ سرکاری بیانات میں کہا گیا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔

انٹرنیٹ سروس کی بندش

احتجاج کے دوران ایران کے مختلف حصوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔ انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں کنیکٹیویٹی میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ بندش کی باضابطہ وجہ حکام کی جانب سے واضح نہیں کی گئی، تاہم ماضی میں بھی احتجاجی مواقع پر ایسی پابندیاں لگائی جاتی رہی ہیں۔

پس منظر میں ایرانی عوام مہنگائی، بیروزگاری اور ملکی کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ معاشی دباؤ اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کو حالیہ مظاہروں کی بڑی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکا کے صدر نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس بیان کو ایران کی اندرونی صورتحال پر بین الاقوامی تشویش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

 

اسی بارے میں: