Tag: احتجاج

  • احتجاج کریں مگر مرکزی شاہراہوں پر نہیں، قانون ہاتھ میں لینے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا: وزیر داخلہ سندھ

    احتجاج کریں مگر مرکزی شاہراہوں پر نہیں، قانون ہاتھ میں لینے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا: وزیر داخلہ سندھ

    وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ صوبے میں کسی کو بھی شاہراہیں بند کرنے یا شہری زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ قومی شاہراہیں بند کرنا کسی جماعت یا گروہ کا اختیار نہیں اور اگر کسی نے زبردستی دکانیں بند کرانے یا سڑکیں بلاک کرنے کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئے گا۔

    ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے شاہراہ فیصل بند کر کے ٹریفک معطل کرنا کھلی قانون شکنی ہے اور اس واقعے میں دہشت گردی کی دفعات شامل ہونی چاہئیں تھیں۔ ان کے مطابق اگر ایسے مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی جائیں تو آئندہ کسی کو سڑک بند کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل بند کرنے کے لیے کسی قسم کی اجازت نہیں لی گئی تھی۔

    ضیاء الحسن لنجار نے بتایا کہ حافظ نعیم کو پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ سندھ اسمبلی کی سڑک بند نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے لیکن اس کے لیے مرکزی شاہراہیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ اگر احتجاج کرنا ہے تو سروس روڈ، پریس کلب یا مخصوص مقامات پر کیا جائے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ شہر بند کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

    وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ میں رواداری کے ساتھ معاملات چلائے جا رہے ہیں تاہم شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی ناگزیر ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے ہڑتال یا سڑکیں بند کرنے کی کوشش کی تو قانون فوراً حرکت میں آئے گا اور کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔

     

  • نو مئی کے واقعات سے ایران تک، بدامنی، ریاست اور استحکام کا سوال

    نو مئی کے واقعات سے ایران تک، بدامنی، ریاست اور استحکام کا سوال

    ایران کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایسی ویڈیوز جاری کیے جانے، جن میں شہری بدامنی کے پردے میں مبینہ طور پر غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی تخریبی سرگرمیوں کو دکھایا گیا ہے، نے پاکستان میں 9 مئی کے واقعات کی یاد تازہ کر دی ہے۔ وہ دن محض سیاسی احتجاج نہیں تھا بلکہ بعض مقامات پر ریاستی اور عسکری تنصیبات پر حملوں کی صورت اختیار کر گیا، ایک ایسی حد جسے کوئی بھی فعال ریاست عبور کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

    اگرچہ مختلف ممالک کے حالات کا موازنہ احتیاط سے کیا جانا چاہیے، تاہم 9 مئی کے بعد پاکستان کے ردعمل نے یہ واضح کیا کہ کس طرح ریاست، سول اور عسکری اداروں کے باہمی اشتراک سے، بغیر طویل عدم استحکام کے، نظم و ضبط بحال کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستان کے ردعمل کا سب سے نمایاں پہلو صورتحال کا محدود اور مؤثر کنٹرول تھا۔ حملوں کی سنگینی اور علامتی اہمیت کے باوجود بدامنی کو پورے ملک میں پھیلنے سے روکا گیا۔ اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچہ فعال رہا، ریاستی نظامِ رابطہ محفوظ رہا، اور تشدد وقتی اور مخصوص علاقوں تک محدود رہا۔ یہ سب محض اتفاق نہیں تھا بلکہ ریاستی اداروں، بالخصوص فوج، کی اس صلاحیت کا اظہار تھا کہ وہ سول انتظامیہ کی معاونت کرتے ہوئے بروقت کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ فوج کا کردار کسی سیاسی اختیار کو سنبھالنے تک محدود نہیں رہا بلکہ استحکام کی بحالی تک رہا۔ عدالتی نظام بدستور کام کرتا رہا، میڈیا فعال رہا، اور آئینی ڈھانچے کو معطل نہیں کیا گیا۔ ایسے خطے میں جہاں سیاسی بحران اکثر طویل آمرانہ اقدامات یا ادارہ جاتی زوال پر منتج ہوتے رہے ہیں، یہ فرق نہایت اہم ہے۔

    بعد ازاں ہونے والی تحقیقات سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ 9 مئی کا تشدد نہ تو اچانک تھا اور نہ ہی محض جذباتی ردعمل۔ اہداف کے انتخاب اور کارروائی کی نوعیت ایک منظم کوشش کی جانب اشارہ کرتی تھی جو روایتی احتجاج سے کہیں آگے تھی۔ ریاست کی جانب سے اندھا دھند کریک ڈاؤن کے بجائے قانونی اور تفتیشی عمل کو ترجیح دینا اس فرق کو واضح کرنے میں مددگار ثابت ہوا کہ کہاں جائز اختلافِ رائے ختم ہوتا ہے اور کہاں ریاستی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

    اس حکمتِ عملی نے ایک بنیادی اصول کو بھی تقویت دی کہ سیاسی اختلاف ریاستی اداروں پر حملوں کا جواز نہیں بن سکتا۔ جمہوریت احتجاج کے حق پر قائم ہوتی ہے، مگر اسی کے ساتھ آئینی اور سلامتی کے اداروں کے تحفظ پر بھی۔ پاکستان کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس نازک توازن کو برقرار رکھنا مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔

    ایران میں اب جو عمل سامنے آ رہا ہے، بظاہر اسی منطق کے تحت ہے، یعنی داخلی عوامی شکایات اور مبینہ طور پر بیرونی اثر و رسوخ یا منظم تخریب کاری کے درمیان فرق کو واضح کرنا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ تہران اس توازن کو کس حد تک برقرار رکھ پاتا ہے۔ پاکستان کے تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ شفافیت، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قانونی عمل کی پاسداری ہی ایسے اقدامات کو ساکھ فراہم کر سکتی ہے۔

    یہ اعتراض بجا طور پر اٹھایا جاتا ہے کہ حد سے زیادہ سکیورٹی نقطۂ نظر جمہوری گنجائش کو محدود کر سکتا ہے۔ اس خدشے کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ تاہم 9 مئی کے واقعات نے یہ بھی واضح کیا کہ اس سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ سیاسی سرگرمی کو ریاستی اداروں کے خلاف منظم تشدد میں تبدیل ہونے دیا جائے۔ ایک بار یہ حد عبور ہو جائے تو اس کے اثرات کسی ایک جماعت یا ادارے تک محدود نہیں رہتے۔

    اس تناظر میں پاکستان کی فوج نے ریاستی تسلسل کی محافظ کے طور پر کردار ادا کیا تاکہ سیاسی کشمکش نظام کے انہدام پر منتج نہ ہو۔ نظم و ضبط کی بحالی نے سیاسی عمل، خواہ وہ جتنا بھی نامکمل کیوں نہ ہو، کو آئینی دائرے میں جاری رہنے کا موقع دیا۔ طویل المدت جمہوری مفاد اسی میں ہے، نہ کہ بے لگام انتشار میں۔

    9 مئی سے حاصل ہونے والا سبق یہ نہیں کہ سول معاملات میں عسکری کردار مطلوب ہے، بلکہ یہ کہ ایک منضبط اور آئین کے تابع سلامتی کا نظام اس وقت ناگزیر ہو جاتا ہے جب خود ریاست کو نشانہ بنایا جائے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ یہ کردار غیر معمولی، متناسب اور قانون کی بالادستی سے جڑا رہے۔

    ایک ایسے وقت میں جب علاقائی اور عالمی سیاست تیزی سے غیر یقینی ہو رہی ہے، پاکستان کا تجربہ ایک بنیادی حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ استحکام جمہوریت کا مخالف نہیں بلکہ اکثر اس کی شرطِ اول ہوتا ہے۔

    لکھاری صوبائی ویجیلنس کمیٹی، محکمہ انسانی حقوق، حکومتِ سندھ کے سابق رکن ہیں۔

     

  • ایران میں سلگتی چنگاری کا انجام کیا ہوگا؟

    ایران میں سلگتی چنگاری کا انجام کیا ہوگا؟

    عمر خیام، فردوسی اور حافظ شیرازی کا دیس ایران آج کل ایک بار پھر عالمی میڈیا کی سرخیوں میں ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور حکومتی نظام سے بیزاری نے خاص طور پر نوجوانوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔
    اطلاعات کے مطابق درجنوں شہری جان سے جا چکے ہیں، ہزاروں گرفتار ہوئے ہیں، اور حالات کے بگڑتے ہی فیس بک، ایکس، انسٹاگرام اور ٹیلیگرام جیسی معروف سوشل میڈیا سروسز بھی ملک میں بلاک کر دی گئیں۔

    کوئی اسے عرب بہار کا ایرانی ایڈیشن قرار دے رہا ہے، تو کوئی بنگلہ دیش اور شام کی طرز پر انتشار پھیلانے کی امریکی سازش۔ ویسے بھی ایران کی تاریخ میں یہ باب نیا نہیں۔ 1953 میں ڈاکٹر مصدق کی حکومت کے خلاف سی آئی اے کی کارروائیوں کا حوالہ آج بھی بحث میں زندہ ہے۔
    جب ڈاکٹر مصدق نے ایرانی تیل کمپنیوں کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا تو سی آئی اے نے ڈالروں کا استعمال کر کے ڈاکٹر مصدق کے خلاف مظاہرے کروائے اور حکومت چھوڑنے پر مجبور کیا۔

    احتجاج کیوں بھڑکے؟

    احتجاج کی تازہ لہر 28 دسمبر 2025 کو اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ایران میں پھیل گئی۔ ابتدا میں کہا گیا کہ انڈوں، گوشت اور روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے عوام کو سڑکوں پر نکالا۔
    بنیادی سبب یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایرانی کرنسی کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک گر گئی۔

    تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جس ملک میں ایک دور میں شاہِ ایران کی شان و شوکت کے تذکرے ہوتے تھے، یہاں تک کہ 1970 میں 2500 سالہ جشنِ شاہنشاہی میں فرانس کے ہوٹلوں سے کھانے منگوائے گئے اور جنگل میں منگل کا سماں تھا، جس میں پاکستان کے سابق فوجی آمر یحییٰ خان بھی شریک ہونے پہنچے تھے، آج اسی ملک کے شہری انڈوں کی قیمتوں پر احتجاج کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    داخلی و خارجی دباؤ، چیلنجز کی بھرمار

    یہ حقیقت ہے کہ ایران اس وقت اندرونی اور بیرونی، دونوں سطحوں پر شدید دباؤ کی زد میں ہے۔ 2024 کے بعد سے مہنگائی، کرنسی کی گرتی قدر اور توانائی کی قلت نے صورتحال کو مسلسل دباتے رکھا، جس کے نتیجے میں بار بار بجلی اور گیس کی بندشیں سامنے آئیں، اور صدر مسعود پزشکیاں کو عوام سے معذرت بھی کرنا پڑی۔

    دوسری طرف علاقائی منظرنامے میں بھی ایران کو جھٹکے لگے۔ شام میں اسد حکومت کا خاتمہ، غزہ میں حماس کے بعض اہم ٹھکانوں اور شخصیات کے خلاف کارروائیاں، اور لبنان میں حزب اللہ کی قیادت کو نشانہ بنانے جیسے واقعات نے ایرانی اثرورسوخ پر سوالات اٹھا دیے۔

    اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

    2025 کے آخری مہینوں میں زرِ مبادلہ کی منڈی میں بے مثال ہلچل دیکھی گئی۔
    ایرانی ریال یا تومان تیزی سے گرا اور ڈالر کے مقابلے میں شرح تبادلہ تقریباً ایک لاکھ پینتالیس ہزار تومان تک پہنچنے کا تذکرہ ہوا۔

    سرکاری ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر 2025 میں مہنگائی 42.2 فیصد رہی، جو نومبر کے مقابلے میں 1.8 فیصد اضافہ تھا۔ خوراک کی قیمتیں سال بہ سال 72 فیصد بڑھیں، جبکہ صحت اور طبی سامان 50 فیصد تک مہنگا ہوا۔

    پانی کے بحران کی بدانتظامی بھی عوامی بے چینی میں اضافہ کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ ایرانی میڈیا کے مطابق حکومت نے 21 مارچ، ایرانی نئے سال، سے ٹیکس بڑھانے کا عندیہ دیا، جس سے شہریوں میں تشویش مزید بڑھی۔ اسی پس منظر میں احتجاج کے دوران یہ نعرہ بھی سنائی دیا، نہ غزہ، نہ لبنان، میری جان ایران پر قربان۔

    احتجاج کا رخ کہاں گیا؟

    وقت کے ساتھ احتجاج محض مہنگائی تک محدود نہ رہا۔ بدعنوانی، سخت گیر طرزِ حکمرانی، اور داخلی ضرورتوں کے مقابلے میں پراکسیز، مثلاً حزب اللہ اور حماس، کو ترجیح دینے کے الزامات بھی نمایاں ہوئے۔

    ساتھ ہی ایران کو کرد، آذربائجانی، خوزستانی عرب اور بلوچ علاقوں میں علیحدگی پسند تحریکوں کے چیلنجز، اور امریکا اور اسرائیل جیسے طاقتور ممالک کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

    زرِ مبادلہ کی صورتحال نے بحران کو مزید گہرا کیا۔ بتایا گیا کہ 29 دسمبر کو ریال تاریخی کم ترین سطح پر گیا۔ حکومت نے 3 جنوری کو شرح میں مصنوعی بہتری لانے کی کوشش کی، مگر 6 جنوری تک کرنسی پھر نئی کم ترین حد توڑ گئی، اور اس کے ساتھ ہی خوراک سمیت ضروری اشیا کی قیمتیں مزید اوپر چلی گئیں۔

    ماہرین کی نظر میں وجوہات

    معاشی ماہرین کے مطابق حکومتی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیاں، مسلسل بدانتظامی، دائمی بجٹ خسارہ اور بین الاقوامی پابندیوں کا تسلسل بنیادی اسباب ہیں۔ درآمدات پر انحصار کرنے والے کاروبار خاص طور پر متاثر ہوئے۔ شرحِ تبادلہ کے شدید اتار چڑھاؤ نے تاجروں کے لیے قیمتیں مقرر کرنا، سپلائی حاصل کرنا اور کاروبار چلانا مشکل بنا دیا۔

    سیاسی مفہوم، نعرے، گرفتاریاں اور طاقت کا استعمال

    رپورٹس کے مطابق احتجاج کی سیاسی جہت اس وقت نمایاں ہوئی جب مرگ بر خامنہ ای جیسے نعرے لگے، جن کا رخ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جانب سمجھا گیا۔
    صدر پزشکیاں سے بھی عوامی توقعات کمزور پڑتی دکھائی دیں۔ کہا گیا کہ وہ 2024 میں گڈ گورننس کے وعدوں کے ساتھ آئے تھے، مگر پانی اور بجلی کی بندشیں جاری رہیں اور انٹرنیٹ سنسرشپ میں خاطر خواہ نرمی نہ آ سکی۔

    اگرچہ پرامن احتجاج کے آئینی حق کی بات کی گئی اور نمائندوں سے ملاقات کے وعدے بھی سامنے آئے، مگر سیکورٹی اداروں پر صدارتی اختیار محدود بتایا جاتا ہے۔
    یکم جنوری 2026 تک متعدد گرفتاریاں، اور بعض مقامات پر براہِ راست گولی چلانے کے واقعات کا ذکر بھی سامنے آیا، جن میں طلبہ، پنشنرز اور نوجوان شامل بتائے گئے۔

    پس منظر میں جوہری معاہدہ، ٹرمپ اور نئی کشیدگیاں

    اس تناظر میں 2013 میں حسن روحانی کے تبدیلی کے نعروں، 2015 کے جوہری معاہدے اور پابندیوں میں جزوی نرمی کا حوالہ بھی اہم ہے۔
    پھر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد معاہدے سے دستبرداری، سفری پابندیوں میں سختی اور یروشلم سے متعلق امریکی فیصلوں نے خطے میں کشیدگی بڑھائی، اور ایران کی بے چینی میں اضافہ ہوا۔

    تازہ مظاہروں کے دوران بھی امریکی بیانات، ٹویٹس اور سابق شاہِ ایران کے صاحبزادے رضا پہلوی کی سرگرمیوں کو بعض حلقے بیرونی پشت پناہی کے اشارے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
    کل لندن میں ایران کے سفارتخانے پر شاہِ ایران کے دور کا پرچم دوبارہ لہرایا گیا، اور یہ منظر بی بی سی سمیت دنیا بھر کے نیوز چینلز نے ایکسکلیوزلی نشر کیا۔

    اندرونِ ملک، ثقافتی اور سیاسی غصہ

    1979 سے پہلے ایران کو نسبتاً جدید اور کھلا معاشرہ سمجھا جاتا تھا۔ انقلاب کے بعد ولایتِ فقیہ کے نظام کے نفاذ کے ساتھ سماجی اور ثقافتی پابندیاں بڑھیں۔ فنونِ لطیفہ، گائیکی اور عوامی طرزِ زندگی پر قدغنیں لگیں۔ اسی تبدیلی نے ایک بڑے طبقے، خصوصاً نوجوانوں میں، ریاستی اور مذہبی قیادت کے خلاف ناراضی کو جنم دیا۔

    ایران کے سیاسی ڈھانچے میں اگرچہ صدارتی اور پارلیمانی ادارے موجود ہیں، مگر اصل مرکزِ اختیار سپریم لیڈر ہے۔ مجلسِ خبرگان کو سپریم لیڈر کے انتخاب اور برطرفی کا اختیار حاصل ہے۔ پارلیمان کے 290 اراکین حکومت کی نگرانی کرتے ہیں، مگر آبادی کا بڑا حصہ، تیس سال سے کم عمر، ایسا ہے جو انقلاب کے بعد پیدا ہوا اور اپنی سماجی اور معاشی حقیقتوں میں جینے پر مجبور ہے۔

    ایران کے لیے اس وقت سعودی عرب کی پالیسیاں بھی ایک چیلنج ہیں، جہاں ایم بی ایس نے مذہبی ماحول کے باوجود کنسرٹس اور عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت دی، جس سے ایران پر یہ دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ بھی لبرل اوپن نیس کی پالیسی کو آگے بڑھائے۔

    یہی وہ دبی ہوئی چنگاری ہے جو اب بار بار بھڑکتی نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ چنگاری وقتی دباؤ میں بجھ جائے گی، یا ایران کے اندر کوئی بڑا سیاسی اور سماجی موڑ پیدا کرے گی؟ کیا یہ ابھار وقتی ثابت ہوگا، یا تاریخ ایک بار پھر دہرائی جائے گی، جیسے خمینی ایئر فرانس کی فلائٹ سے پیرس سے تہران پہنچے تھے؟ کیا پرنس رضا شاہ بھی واشنگٹن سے اسی انداز میں لنگرانداز ہوں گے؟

    خمینی کی آمد کے وقت 1979 میں ایک افواہ اڑی کہ ایران کی نامور ترین گلوکارہ خانم گگوش کو مذہبی پولیس نے گھر میں گھس کر مار دیا ہے، اگرچہ یہ بعد میں افواہ ہی ثابت ہوئی۔ اس موقع پر سندھی کے نامور رومانوی شاعر حسن درس نے خانم گگوش لکھی تھی، جس کا منظوم ترجمہ درج ذیل ہے۔

    خانم گگوش کی تصویر کے فریم میں
    ایک ملک قید ہے،
    جس کی سرحدوں کے اندر جوانی ممنوع ہے۔

    تاریخ کے سگریٹ کو
    جب تیلی نے چھوا
    تو وقت سلگ اٹھا،

    اور ایک لمبی کش میں
    درد کا سرمئی دھواں
    ہوا میں بکھرنے لگا۔

    خمینی
    تم ایک راکھ کی طرح
    اپنی قبر کی ایش ٹرے میں
    بے معنی ہو کر جھڑ جاؤ گے۔

    گگوش کی آنکھوں میں
    ایک کربلا چونک کر جاگ اٹھتی ہے،

    اور خوابوں کے حسین
    اپنے قتل کی ناانصافی پر
    ہر یزید، ہر خمینی کے
    ابدی زوال اور موت کو روندتے ہوئے

    دل کے نئے موسموں کے
    نئے عنوان بن جاتے ہیں۔

    درد کی اس پرانی جھیل پر
    جب دیس اور پردیس کے پرندے
    اکٹھے اڑان بھریں گے

    تو نیلگوں آسمان میں بھی
    پرندوں کا ایک بادل
    جھیل پر سایہ کر دے گا۔

    تب کروڑوں لڑکے اور لڑکیاں
    جوانی کی شاخ پر
    زندگی کی کمر میں بانہیں ڈالے
    مسلسل ہنستے رہیں گے،

    اور اُن قہقہوں میں
    گگوش ہمیشہ جوان رہے گی۔

    حسن درس

     

  • ایران: معاشی دباؤ کے خلاف کئی روز سے احتجاج جاری، ہلاکتوں میں اضافہ، انٹرنیٹ سروس معطل

    ایران: معاشی دباؤ کے خلاف کئی روز سے احتجاج جاری، ہلاکتوں میں اضافہ، انٹرنیٹ سروس معطل

    ایران میں معاشی حالات کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے کئی دنوں سے جاری ہیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سنہ 28 دسمبر کے بعد سے مختلف شہروں میں ہونے والے ان احتجاجوں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 45 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

    رپورٹس کے مطابق یہ احتجاج متعدد صوبوں تک پھیل چکے ہیں۔ مختلف شہروں میں دکانداروں اور شہریوں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ بعض مقامات پر سڑکیں بند کی گئیں، جس کے باعث شہری آمد و رفت اور ٹریفک نظام متاثر ہوا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق کچھ شہروں میں احتجاج کے دوران پولیس پر پتھراؤ اور فائرنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو قابو میں رکھنے اور احتجاج کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے پولیس اور سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ سرکاری بیانات میں کہا گیا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔

    انٹرنیٹ سروس کی بندش

    احتجاج کے دوران ایران کے مختلف حصوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔ انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں کنیکٹیویٹی میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ بندش کی باضابطہ وجہ حکام کی جانب سے واضح نہیں کی گئی، تاہم ماضی میں بھی احتجاجی مواقع پر ایسی پابندیاں لگائی جاتی رہی ہیں۔

    پس منظر میں ایرانی عوام مہنگائی، بیروزگاری اور ملکی کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ معاشی دباؤ اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کو حالیہ مظاہروں کی بڑی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب امریکا کے صدر نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس بیان کو ایران کی اندرونی صورتحال پر بین الاقوامی تشویش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔