نو مئی کے واقعات سے ایران تک، بدامنی، ریاست اور استحکام کا سوال

ایران

ایران کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایسی ویڈیوز جاری کیے جانے، جن میں شہری بدامنی کے پردے میں مبینہ طور پر غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی تخریبی سرگرمیوں کو دکھایا گیا ہے، نے پاکستان میں 9 مئی کے واقعات کی یاد تازہ کر دی ہے۔ وہ دن محض سیاسی احتجاج نہیں تھا بلکہ بعض مقامات پر ریاستی اور عسکری تنصیبات پر حملوں کی صورت اختیار کر گیا، ایک ایسی حد جسے کوئی بھی فعال ریاست عبور کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

اگرچہ مختلف ممالک کے حالات کا موازنہ احتیاط سے کیا جانا چاہیے، تاہم 9 مئی کے بعد پاکستان کے ردعمل نے یہ واضح کیا کہ کس طرح ریاست، سول اور عسکری اداروں کے باہمی اشتراک سے، بغیر طویل عدم استحکام کے، نظم و ضبط بحال کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے ردعمل کا سب سے نمایاں پہلو صورتحال کا محدود اور مؤثر کنٹرول تھا۔ حملوں کی سنگینی اور علامتی اہمیت کے باوجود بدامنی کو پورے ملک میں پھیلنے سے روکا گیا۔ اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچہ فعال رہا، ریاستی نظامِ رابطہ محفوظ رہا، اور تشدد وقتی اور مخصوص علاقوں تک محدود رہا۔ یہ سب محض اتفاق نہیں تھا بلکہ ریاستی اداروں، بالخصوص فوج، کی اس صلاحیت کا اظہار تھا کہ وہ سول انتظامیہ کی معاونت کرتے ہوئے بروقت کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ فوج کا کردار کسی سیاسی اختیار کو سنبھالنے تک محدود نہیں رہا بلکہ استحکام کی بحالی تک رہا۔ عدالتی نظام بدستور کام کرتا رہا، میڈیا فعال رہا، اور آئینی ڈھانچے کو معطل نہیں کیا گیا۔ ایسے خطے میں جہاں سیاسی بحران اکثر طویل آمرانہ اقدامات یا ادارہ جاتی زوال پر منتج ہوتے رہے ہیں، یہ فرق نہایت اہم ہے۔

بعد ازاں ہونے والی تحقیقات سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ 9 مئی کا تشدد نہ تو اچانک تھا اور نہ ہی محض جذباتی ردعمل۔ اہداف کے انتخاب اور کارروائی کی نوعیت ایک منظم کوشش کی جانب اشارہ کرتی تھی جو روایتی احتجاج سے کہیں آگے تھی۔ ریاست کی جانب سے اندھا دھند کریک ڈاؤن کے بجائے قانونی اور تفتیشی عمل کو ترجیح دینا اس فرق کو واضح کرنے میں مددگار ثابت ہوا کہ کہاں جائز اختلافِ رائے ختم ہوتا ہے اور کہاں ریاستی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

اس حکمتِ عملی نے ایک بنیادی اصول کو بھی تقویت دی کہ سیاسی اختلاف ریاستی اداروں پر حملوں کا جواز نہیں بن سکتا۔ جمہوریت احتجاج کے حق پر قائم ہوتی ہے، مگر اسی کے ساتھ آئینی اور سلامتی کے اداروں کے تحفظ پر بھی۔ پاکستان کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس نازک توازن کو برقرار رکھنا مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔

ایران میں اب جو عمل سامنے آ رہا ہے، بظاہر اسی منطق کے تحت ہے، یعنی داخلی عوامی شکایات اور مبینہ طور پر بیرونی اثر و رسوخ یا منظم تخریب کاری کے درمیان فرق کو واضح کرنا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ تہران اس توازن کو کس حد تک برقرار رکھ پاتا ہے۔ پاکستان کے تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ شفافیت، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قانونی عمل کی پاسداری ہی ایسے اقدامات کو ساکھ فراہم کر سکتی ہے۔

یہ اعتراض بجا طور پر اٹھایا جاتا ہے کہ حد سے زیادہ سکیورٹی نقطۂ نظر جمہوری گنجائش کو محدود کر سکتا ہے۔ اس خدشے کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ تاہم 9 مئی کے واقعات نے یہ بھی واضح کیا کہ اس سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ سیاسی سرگرمی کو ریاستی اداروں کے خلاف منظم تشدد میں تبدیل ہونے دیا جائے۔ ایک بار یہ حد عبور ہو جائے تو اس کے اثرات کسی ایک جماعت یا ادارے تک محدود نہیں رہتے۔

اس تناظر میں پاکستان کی فوج نے ریاستی تسلسل کی محافظ کے طور پر کردار ادا کیا تاکہ سیاسی کشمکش نظام کے انہدام پر منتج نہ ہو۔ نظم و ضبط کی بحالی نے سیاسی عمل، خواہ وہ جتنا بھی نامکمل کیوں نہ ہو، کو آئینی دائرے میں جاری رہنے کا موقع دیا۔ طویل المدت جمہوری مفاد اسی میں ہے، نہ کہ بے لگام انتشار میں۔

9 مئی سے حاصل ہونے والا سبق یہ نہیں کہ سول معاملات میں عسکری کردار مطلوب ہے، بلکہ یہ کہ ایک منضبط اور آئین کے تابع سلامتی کا نظام اس وقت ناگزیر ہو جاتا ہے جب خود ریاست کو نشانہ بنایا جائے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ یہ کردار غیر معمولی، متناسب اور قانون کی بالادستی سے جڑا رہے۔

ایک ایسے وقت میں جب علاقائی اور عالمی سیاست تیزی سے غیر یقینی ہو رہی ہے، پاکستان کا تجربہ ایک بنیادی حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ استحکام جمہوریت کا مخالف نہیں بلکہ اکثر اس کی شرطِ اول ہوتا ہے۔

لکھاری صوبائی ویجیلنس کمیٹی، محکمہ انسانی حقوق، حکومتِ سندھ کے سابق رکن ہیں۔

 

اسی بارے میں: