صدیوں کے صلیبی ٹکراؤ، آٹھ سالہ ایران عراق جنگ اور دو دہائیوں سے جاری پراکسی تنازعات کے تجربے کے ساتھ ایران نے ایک بار پھر اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ مذہبی رہنما علی خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد تہران دفاعی پوزیشن سے نکل کر براہِ راست جارحانہ ملٹی ڈومین حکمتِ عملی اختیار کر چکا ہے۔
مذہبی مقامات سے سبز جھنڈا اتار کر سرخ جھنڈا لہرانا محض ایک علامتی عمل نہیں تھا بلکہ ایک واضح پیغام تھا کہ اب جنگ محدود نہیں رہے گی۔
واشنگٹن اور تل ابیب کی مشترکہ حکمتِ عملی کو سیاسی ماہرین نے `بڑا سیاسی اور فوجی جوا` قرار دیا ہے، جس نے خطے کو ایسے مرحلے پر پہنچا دیا ہے جہاں روایتی فوجی ٹکراؤ سے آگے بڑھ کر سائبر، توانائی، معیشت، نفسیاتی دباؤ اور عالمی سپلائی چین سب ایک ہی میدانِ جنگ بن چکے ہیں۔
ٹرمپ کا فیصلہ، جو کانگریس کی واضح منظوری کے بغیر کیا گیا، اب نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی نظام کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیل رہا ہے۔ امریکہ جتنی زیادہ دیر تک جنگ جاری رکھے گا، اس کے اثرات عرب ممالک کے ساتھ ساتھ یورپ پر بھی پڑیں گے۔
سی این این کے تجزیہ نگار کولنسن لکھتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونا ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بہت بڑا سیاسی اور فوجی جوا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف علاقائی صورتحال بدل گئی ہے بلکہ امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا گیا ہے جس کے نتائج ابھی تک غیر یقینی ہیں۔
خامنہ ای کے مارے جانے کے بعد ایران کی 47 سالہ اسلامی انقلابی حکومت کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ صورتحال ایران کے اندر ایک بڑی خانہ جنگی یا انتہائی سخت جوابی کارروائی کو جنم دے سکتی ہے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے میزائل اور ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ اسرائیل کے وجود کو درپیش خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔ یہ صرف ایک فوجی مہم نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے پورے نقشے کو بدلنے کی کوشش ہے۔
کولنسن خبردار کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ میں امریکی فوجیوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ شاید عراق اور لیبیا جیسی ایک نئی دلدل میں پھنس رہے ہیں، جہاں شروع میں فتح تو نظر آتی ہے مگر اس کے طویل مدتی اثرات تباہ کن ہوتے ہیں۔
ٹرمپ کے فیصلے نے مشرقِ وسطیٰ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ وہاں اب ایک ایسی الجھی ہوئی علاقائی جنگ شروع ہو چکی ہے جو کئی دہائیوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ خامنہ ای کے خاتمے کی حکمتِ عملی ایک ایسا "خطرہ” ہے جس کی کامیابی جتنا بڑا نتیجہ دے گی، اس کی ناکامی اتنی ہی بڑی تباہی لا سکتی ہے۔
یہ جنگ صرف فوجی آپریشن نہیں بلکہ ایک سیاسی اور اسٹریٹیجک فیصلہ ہے جس کا اثر صرف ایران پر نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ، امریکہ اور عالمی امن پر پڑے گا۔
ٹرمپ نے یہ فیصلہ کانگریس کی منظوری کے بغیر کیا ہے۔ یہ جنگ ابھی سے ہی بدترین صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس میں شام، عراق اور سعودی عرب جیسے ممالک بھی شامل ہو چکے ہیں۔
عالمی منڈی گر رہی ہے اور تیل، گیس اور توانائی کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ ریپبلکنز کا کہنا ہے کہ یہ جنگ خطے میں ایران کی طاقت ختم کرنے اور امریکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے، جبکہ اپوزیشن ڈیموکریٹس نے اسے ’اختیاری جنگ‘ (War of Choice) قرار دیا ہے۔ روسی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ ایران کو تبدیل کرنے کی کوشش جاری رکھیں تو اس کا نتیجہ تیسری عالمی جنگ تک پہنچ سکتا ہے۔
ٹرمپ کی جنگی حکمتِ عملی کافی غیر واضح ہے۔ سی این این کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 59 فیصد امریکی عوام اس جنگ کی حمایت نہیں کرتے اور طویل جنگ کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
عالمی میڈیا اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم غیر متوقع اور خطرات سے بھرپور ہے۔ فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران نے اپنے اس دفاعی منصوبے پر تیزی سے عمل شروع کر دیا ہے جس کا مقصد جنگ کو صرف ایران تک محدود رکھنے کے بجائے پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیلانا ہے۔
خامنہ ای کے جانے کے بعد ایرانی نظام میں کوئی افراتفری پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کے برعکس ایران کی فوجی کمانڈ اور کنٹرول زیادہ سخت جوابی کارروائی کر رہے ہیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب تیل بردار جہازوں پر حملے کیے ہیں۔ فنانشل ٹائمز لکھتا ہے کہ یہ خامنہ ای کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت عالمی تیل کی فراہمی روک کر مغربی ممالک اور امریکہ پر معاشی دباؤ بڑھایا جائے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے پہلی بار اپنے جدید ہائپر سونک میزائل (Fattah-2) استعمال کیے ہیں جو اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ایران کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وہ ممالک جیسے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب، جو امریکی فوج کو اڈے فراہم کرتے ہیں، انہیں یہ پیغام دے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ ممالک بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ دبئی میں ہونے والے حالیہ حملے اسی سلسلے کی کڑی قرار دیے گئے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کا بدلہ لینا صرف فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک ’مقدس قومی اور مذہبی فرض‘ ہے، جس کے لیے ایران نے اپنی تمام پراکسیز یعنی حزب اللہ، حوثی اور عراقی گروہوں کو متحرک کر دیا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے تجزیے کے مطابق ایران اس وقت ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس میں وہ امریکہ اور اسرائیل کے دفاعی وسائل کو ختم کرنا اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھا کر مغرب کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔
چینی پروفیسر جیانگ جی کا کہنا ہے کہ یہ ایک قسم کی صلیبی جنگ ہے۔ ’ایران پچھلے بیس سال سے اس جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ جنگ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے جو امریکہ کو تھکا دے گی۔ ایرانی اپنی مذہبی سوچ اور آخرت کے نظریے کے تناظر میں لڑ رہے ہیں۔‘
’ایران امریکی ذہنیت کو اچھی طرح سمجھ چکا ہے اور اب ان کے پاس امریکی طاقت کو کمزور کرنے اور بالآخر امریکی سلطنت کو ختم کرنے کی حکمتِ عملی موجود ہے۔ ایران دراصل صرف امریکہ سے نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔
‘وہ خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو نشانہ بنا کر امریکی فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کر رہا ہے۔
’آگے چل کر وہ پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جو ان ممالک کی زندگی کی ڈور ہیں کیونکہ وہاں قدرتی میٹھا پانی موجود نہیں۔ خلیجی ممالک کی 60 فیصد پانی کی فراہمی انہی پلانٹس سے ہوتی ہے۔
اگر 50 ہزار ڈالر کا ایک ڈرون ریاض جیسے شہر کے کسی بڑے پلانٹ کو تباہ کر دے جہاں ایک کروڑ آبادی ہے تو وہ شہر دو ہفتوں کے اندر پانی سے محروم ہو سکتا ہے۔‘
خلیجی ریاستیں امریکی معیشت کی بنیاد ہیں۔ وہ پیٹرو ڈالر بیچتی ہیں اور پھر وہی ڈالر امریکی اسٹاک مارکیٹ میں دوبارہ سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ امریکی فوج اکیسویں صدی کی جنگ کے لیے نہیں بنی۔ امریکی فوجی صنعتی نظام دوسری جنگِ عظیم کے بعد سرد جنگ لڑنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
ملین ڈالر کے میزائل پچاس ہزار ڈالر کے ڈرون کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ امریکہ کے ناقابلِ شکست ہونے کے تاثر کے خاتمے کی شروعات ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران میں زمینی فوج اتاری تو یہ اس کے لیے بڑی تباہی ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ایرانیوں کے پاس ایک صدی کی جنگ کا تجربہ ہے۔
ایران کی تبدیل ہوتی حکمتِ عملی کا مرکز اب براہِ راست فوجی مقابلے کے بجائے War of Attrition اور معاشی تھکاوٹ ہے۔ آبنائے ہرمز کو بند رکھنا اور کم قیمت ڈرونز کے ذریعے مہنگے دفاعی نظام کو مصروف رکھنا اس بات کی علامت ہے کہ تہران جنگ کو طول دینا اور مخالف کو معاشی اور نفسیاتی طور پر تھکانا چاہتا ہے۔
امریکہ کے لیے خطرہ دوہرا ہے۔ ایک طرف زمینی جنگ میں داخل ہونا سیاسی طور پر انتہائی حساس فیصلہ ہوگا کیونکہ زیادہ تر امریکی عوام طویل جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں، دوسری طرف اگر زمینی فوج نہ اتاری گئی تو اتحادی عرب ممالک کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
یہ بحران اب صرف ایران، اسرائیل یا ایران-امریکہ کا ٹکراؤ نہیں رہا بلکہ عالمی معاشی ڈھانچے کے خلاف ایک غیر روایتی جنگ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اگر توانائی کی سپلائی، پیٹرو ڈالر نظام اور خلیجی استحکام کو مسلسل خطرہ رہا تو دنیا کی معیشت ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتی ہے۔
آخرکار یہ جنگ دو متضاد حکمتِ عملیوں کا امتحان ہے: ایک تیز اور فیصلہ کن وار پر مبنی امریکی-اسرائیلی ماڈل، اور دوسری طویل، تھکا دینے والی اور کثیر الجہتی (ملٹی ڈومین) ایرانی حکمتِ عملی۔ جو بھی فریق فوجی میدان کے ساتھ ساتھ معیشت، سائبر، نفسیات اور سفارت کاری کے محاذوں پر بہتر کارکردگی دکھائے گا وہی تاریخ کے اس موڑ پر برتری حاصل کرے گا۔
لیکن اگر غلط اندازے جاری رہے تو یہ بحران دہائیوں تک جاری رہنے والی علاقائی افراتفری اور شاید عالمی طاقت کی نئی تقسیم کا سبب بن سکتا ہے۔










