Tag: ایران

  • ایرانی جنگی حکمتِ عملی میں اچانک موڑ: شہادت کے بعد سرخ جھنڈے تلے

    ایرانی جنگی حکمتِ عملی میں اچانک موڑ: شہادت کے بعد سرخ جھنڈے تلے

    صدیوں کے صلیبی ٹکراؤ، آٹھ سالہ ایران عراق جنگ اور دو دہائیوں سے جاری پراکسی تنازعات کے تجربے کے ساتھ ایران نے ایک بار پھر اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ مذہبی رہنما علی خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد تہران دفاعی پوزیشن سے نکل کر براہِ راست جارحانہ ملٹی ڈومین حکمتِ عملی اختیار کر چکا ہے۔

    مذہبی مقامات سے سبز جھنڈا اتار کر سرخ جھنڈا لہرانا محض ایک علامتی عمل نہیں تھا بلکہ ایک واضح پیغام تھا کہ اب جنگ محدود نہیں رہے گی۔

    واشنگٹن اور تل ابیب کی مشترکہ حکمتِ عملی کو سیاسی ماہرین نے `بڑا سیاسی اور فوجی جوا` قرار دیا ہے، جس نے خطے کو ایسے مرحلے پر پہنچا دیا ہے جہاں روایتی فوجی ٹکراؤ سے آگے بڑھ کر سائبر، توانائی، معیشت، نفسیاتی دباؤ اور عالمی سپلائی چین سب ایک ہی میدانِ جنگ بن چکے ہیں۔

    ٹرمپ کا فیصلہ، جو کانگریس کی واضح منظوری کے بغیر کیا گیا، اب نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی نظام کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیل رہا ہے۔ امریکہ جتنی زیادہ دیر تک جنگ جاری رکھے گا، اس کے اثرات عرب ممالک کے ساتھ ساتھ یورپ پر بھی پڑیں گے۔

    سی این این کے تجزیہ نگار کولنسن لکھتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونا ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بہت بڑا سیاسی اور فوجی جوا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف علاقائی صورتحال بدل گئی ہے بلکہ امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا گیا ہے جس کے نتائج ابھی تک غیر یقینی ہیں۔

    خامنہ ای کے مارے جانے کے بعد ایران کی 47 سالہ اسلامی انقلابی حکومت کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ صورتحال ایران کے اندر ایک بڑی خانہ جنگی یا انتہائی سخت جوابی کارروائی کو جنم دے سکتی ہے۔

    تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے میزائل اور ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ اسرائیل کے وجود کو درپیش خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔ یہ صرف ایک فوجی مہم نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے پورے نقشے کو بدلنے کی کوشش ہے۔

    کولنسن خبردار کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ میں امریکی فوجیوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ شاید عراق اور لیبیا جیسی ایک نئی دلدل میں پھنس رہے ہیں، جہاں شروع میں فتح تو نظر آتی ہے مگر اس کے طویل مدتی اثرات تباہ کن ہوتے ہیں۔

    ٹرمپ کے فیصلے نے مشرقِ وسطیٰ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ وہاں اب ایک ایسی الجھی ہوئی علاقائی جنگ شروع ہو چکی ہے جو کئی دہائیوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ خامنہ ای کے خاتمے کی حکمتِ عملی ایک ایسا "خطرہ” ہے جس کی کامیابی جتنا بڑا نتیجہ دے گی، اس کی ناکامی اتنی ہی بڑی تباہی لا سکتی ہے۔

    یہ جنگ صرف فوجی آپریشن نہیں بلکہ ایک سیاسی اور اسٹریٹیجک فیصلہ ہے جس کا اثر صرف ایران پر نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ، امریکہ اور عالمی امن پر پڑے گا۔

    ٹرمپ نے یہ فیصلہ کانگریس کی منظوری کے بغیر کیا ہے۔ یہ جنگ ابھی سے ہی بدترین صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس میں شام، عراق اور سعودی عرب جیسے ممالک بھی شامل ہو چکے ہیں۔

    عالمی منڈی گر رہی ہے اور تیل، گیس اور توانائی کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ ریپبلکنز کا کہنا ہے کہ یہ جنگ خطے میں ایران کی طاقت ختم کرنے اور امریکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے، جبکہ اپوزیشن ڈیموکریٹس نے اسے ’اختیاری جنگ‘ (War of Choice) قرار دیا ہے۔ روسی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ ایران کو تبدیل کرنے کی کوشش جاری رکھیں تو اس کا نتیجہ تیسری عالمی جنگ تک پہنچ سکتا ہے۔

    ٹرمپ کی جنگی حکمتِ عملی کافی غیر واضح ہے۔ سی این این کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 59 فیصد امریکی عوام اس جنگ کی حمایت نہیں کرتے اور طویل جنگ کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

    عالمی میڈیا اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم غیر متوقع اور خطرات سے بھرپور ہے۔ فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران نے اپنے اس دفاعی منصوبے پر تیزی سے عمل شروع کر دیا ہے جس کا مقصد جنگ کو صرف ایران تک محدود رکھنے کے بجائے پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیلانا ہے۔

    خامنہ ای کے جانے کے بعد ایرانی نظام میں کوئی افراتفری پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کے برعکس ایران کی فوجی کمانڈ اور کنٹرول زیادہ سخت جوابی کارروائی کر رہے ہیں۔

    ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب تیل بردار جہازوں پر حملے کیے ہیں۔ فنانشل ٹائمز لکھتا ہے کہ یہ خامنہ ای کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت عالمی تیل کی فراہمی روک کر مغربی ممالک اور امریکہ پر معاشی دباؤ بڑھایا جائے۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے پہلی بار اپنے جدید ہائپر سونک میزائل (Fattah-2) استعمال کیے ہیں جو اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    ایران کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وہ ممالک جیسے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب، جو امریکی فوج کو اڈے فراہم کرتے ہیں، انہیں یہ پیغام دے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ ممالک بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ دبئی میں ہونے والے حالیہ حملے اسی سلسلے کی کڑی قرار دیے گئے ہیں۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کا بدلہ لینا صرف فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک ’مقدس قومی اور مذہبی فرض‘ ہے، جس کے لیے ایران نے اپنی تمام پراکسیز یعنی حزب اللہ، حوثی اور عراقی گروہوں کو متحرک کر دیا ہے۔

    فنانشل ٹائمز کے تجزیے کے مطابق ایران اس وقت ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس میں وہ امریکہ اور اسرائیل کے دفاعی وسائل کو ختم کرنا اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھا کر مغرب کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔

    چینی پروفیسر جیانگ جی کا کہنا ہے کہ یہ ایک قسم کی صلیبی جنگ ہے۔ ’ایران پچھلے بیس سال سے اس جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ جنگ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے جو امریکہ کو تھکا دے گی۔ ایرانی اپنی مذہبی سوچ اور آخرت کے نظریے کے تناظر میں لڑ رہے ہیں۔‘

    ’ایران امریکی ذہنیت کو اچھی طرح سمجھ چکا ہے اور اب ان کے پاس امریکی طاقت کو کمزور کرنے اور بالآخر امریکی سلطنت کو ختم کرنے کی حکمتِ عملی موجود ہے۔ ایران دراصل صرف امریکہ سے نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔

    ‘وہ خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو نشانہ بنا کر امریکی فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کر رہا ہے۔

    ’آگے چل کر وہ پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جو ان ممالک کی زندگی کی ڈور ہیں کیونکہ وہاں قدرتی میٹھا پانی موجود نہیں۔ خلیجی ممالک کی 60 فیصد پانی کی فراہمی انہی پلانٹس سے ہوتی ہے۔

    اگر 50 ہزار ڈالر کا ایک ڈرون ریاض جیسے شہر کے کسی بڑے پلانٹ کو تباہ کر دے جہاں ایک کروڑ آبادی ہے تو وہ شہر دو ہفتوں کے اندر پانی سے محروم ہو سکتا ہے۔‘

    خلیجی ریاستیں امریکی معیشت کی بنیاد ہیں۔ وہ پیٹرو ڈالر بیچتی ہیں اور پھر وہی ڈالر امریکی اسٹاک مارکیٹ میں دوبارہ سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ امریکی فوج اکیسویں صدی کی جنگ کے لیے نہیں بنی۔ امریکی فوجی صنعتی نظام دوسری جنگِ عظیم کے بعد سرد جنگ لڑنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

    ملین ڈالر کے میزائل پچاس ہزار ڈالر کے ڈرون کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ امریکہ کے ناقابلِ شکست ہونے کے تاثر کے خاتمے کی شروعات ہے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران میں زمینی فوج اتاری تو یہ اس کے لیے بڑی تباہی ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ایرانیوں کے پاس ایک صدی کی جنگ کا تجربہ ہے۔

    ایران کی تبدیل ہوتی حکمتِ عملی کا مرکز اب براہِ راست فوجی مقابلے کے بجائے War of Attrition اور معاشی تھکاوٹ ہے۔ آبنائے ہرمز کو بند رکھنا اور کم قیمت ڈرونز کے ذریعے مہنگے دفاعی نظام کو مصروف رکھنا اس بات کی علامت ہے کہ تہران جنگ کو طول دینا اور مخالف کو معاشی اور نفسیاتی طور پر تھکانا چاہتا ہے۔

    امریکہ کے لیے خطرہ دوہرا ہے۔ ایک طرف زمینی جنگ میں داخل ہونا سیاسی طور پر انتہائی حساس فیصلہ ہوگا کیونکہ زیادہ تر امریکی عوام طویل جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں، دوسری طرف اگر زمینی فوج نہ اتاری گئی تو اتحادی عرب ممالک کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

    یہ بحران اب صرف ایران، اسرائیل یا ایران-امریکہ کا ٹکراؤ نہیں رہا بلکہ عالمی معاشی ڈھانچے کے خلاف ایک غیر روایتی جنگ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اگر توانائی کی سپلائی، پیٹرو ڈالر نظام اور خلیجی استحکام کو مسلسل خطرہ رہا تو دنیا کی معیشت ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتی ہے۔

    آخرکار یہ جنگ دو متضاد حکمتِ عملیوں کا امتحان ہے: ایک تیز اور فیصلہ کن وار پر مبنی امریکی-اسرائیلی ماڈل، اور دوسری طویل، تھکا دینے والی اور کثیر الجہتی (ملٹی ڈومین) ایرانی حکمتِ عملی۔ جو بھی فریق فوجی میدان کے ساتھ ساتھ معیشت، سائبر، نفسیات اور سفارت کاری کے محاذوں پر بہتر کارکردگی دکھائے گا وہی تاریخ کے اس موڑ پر برتری حاصل کرے گا۔

    لیکن اگر غلط اندازے جاری رہے تو یہ بحران دہائیوں تک جاری رہنے والی علاقائی افراتفری اور شاید عالمی طاقت کی نئی تقسیم کا سبب بن سکتا ہے۔

  • ایران کی ممکنہ کمزوری: خطے کی سیاست، معیشت اور سلامتی کے لیے ایک بڑا امتحان

    ایران کی ممکنہ کمزوری: خطے کی سیاست، معیشت اور سلامتی کے لیے ایک بڑا امتحان

    پاکستان کا پڑوسی، مگر مشرقِ وسطیٰ کے قلب میں واقع ایران صدیوں پر محیط تہذیب، قدرتی وسائل اور جغرافیائی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی ایسے ملک میں سیاسی یا معاشی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے جو جغرافیائی اور توانائی کے اعتبار سے اہم ہو، تو اس کے اثرات صرف اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے اور عالمی سیاست کو متاثر کرتے ہیں۔

    اگر ایران کسی اندرونی بحران، عالمی دباؤ یا بڑی طاقتوں کی سیاسی چالوں کے باعث کمزور پڑ جائے تو اس کے اثرات پاکستان، روس، چین اور افغانستان جیسے ممالک تک گہرائی سے پہنچ سکتے ہیں۔ ایران نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں ایک طاقتور ریاست سمجھا جاتا ہے بلکہ وہ خلیج فارس کے کنارے واقع ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس لیے ایران کی کمزوری دراصل ایک ملک کا بحران نہیں بلکہ عالمی سیاسی و معاشی توازن میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔

    ایران کو ہمیشہ ایک جغرافیائی پل کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک ایسا مقام رکھتا ہے جہاں سے تجارت، توانائی اور سفارتی روابط کے اہم راستے گزرتے ہیں۔

    خلیج فارس کے اہم سمندری راستوں پر اس کا اثر و رسوخ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایران کمزور ہوتا ہے تو یہ صرف ایک ریاست کے سیاسی نظام میں تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ پورے خطے کے طاقت کے توازن کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں توانائی کی منڈی، علاقائی اتحاد اور عالمی سفارتی حکمت عملیاں نئے رخ اختیار کر سکتی ہیں۔

     پاکستان پر ممکنہ اثرات

    پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً نو سو کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات جغرافیائی، ثقافتی اور مذہبی بنیادوں پر مضبوط رہے ہیں۔ ایران کی کمزوری پاکستان کے لیے کئی نئے چیلنج پیدا کر سکتی ہے۔

    سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کے مسائل بڑھنے کا امکان ہے۔ جب کسی ملک میں سیاسی کمزوری پیدا ہوتی ہے تو سرحدی نظم و نسق متاثر ہو جاتا ہے اور انتہا پسند یا غیر ریاستی عناصر کو سرگرم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ بلوچستان کے حساس علاقے میں پہلے ہی مختلف نوعیت کے مسائل موجود ہیں، لہٰذا ایران کی کمزوری وہاں مزید عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے۔

    پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں بھی ایک نیا توازن قائم کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک طرف اس کے تعلقات ایران کے ساتھ ہیں اور دوسری جانب سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے روابط موجود ہیں۔ اگر ایران کمزور ہوتا ہے تو پاکستان پر یہ دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ کسی ایک بلاک کے زیادہ قریب ہو جائے۔

    توانائی کے شعبے میں بھی اس کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ کئی برسوں سے تعطل کا شکار ہے۔ ایران کی کمزوری اس منصوبے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے یا پھر اسے نئی شرائط کے ساتھ دوبارہ زیر غور لایا جا سکتا ہے۔ سرحدی تجارت میں کمی اور غیر رسمی تجارت یا اسمگلنگ میں اضافہ بھی ممکن ہے، جو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے۔

     روس اور چین کے لیے اسٹریٹجک جھٹکا

    روس اور ایران گزشتہ برسوں میں شام سمیت کئی علاقائی معاملات میں ایک دوسرے کے قریبی اتحادی رہے ہیں۔ اگر ایران کمزور ہوتا ہے تو روس کے لیے یہ ایک اسٹریٹجک دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔

    مشرقِ وسطیٰ میں روس کی سفارتی اور عسکری موجودگی کا ایک اہم ستون ایران بھی رہا ہے۔ اس کی کمزوری سے روس کو اپنی علاقائی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنا پڑ سکتا ہے۔ مغربی طاقتیں، خصوصاً امریکہ اور یورپی ممالک، اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    توانائی کی منڈی کے حوالے سے بھی اس کے اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ مختصر مدت میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ روس کے لیے معاشی فائدہ بن سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں اگر خطے میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو توانائی کے عالمی راستے غیر محفوظ ہو سکتے ہیں، جس سے روس سمیت کئی ممالک متاثر ہوں گے۔

    چین کے لیے ایران صرف ایک تیل فراہم کرنے والا ملک نہیں بلکہ اس کی عالمی معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ چین کے ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ منصوبے میں ایران کو ایک مرکزی مقام حاصل ہے۔

    اگر ایران کمزور ہوتا ہے تو چین کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ تجارتی راستے متاثر ہو سکتے ہیں اور چین کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑ سکتے ہیں۔

    چین روایتی طور پر عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کرتا ہے، لیکن ایران پر عالمی دباؤ بڑھنے کی صورت میں اسے عالمی فورمز پر ایران کی حمایت یا سفارتی توازن برقرار رکھنے جیسے مشکل فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔ کچھ مبصرین کے مطابق چین اس صورتحال کو ایک سفارتی موقع کے طور پر بھی استعمال کر سکتا ہے اور ایران میں اپنا اثر و رسوخ مزید بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔۔

     افغانستان کی نازک صورتحال

    افغانستان پہلے ہی کئی دہائیوں سے سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے۔ ایران کی کمزوری افغانستان پر بھی براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

    ایران اور افغانستان کے درمیان تجارت اور روزگار کے مواقع ہزاروں افغان شہریوں کے لیے اہم ہیں۔ اگر ایران معاشی طور پر کمزور ہوتا ہے تو یہ مواقع کم ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں افغان معیشت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ منشیات اور اسلحے کی غیر قانونی تجارت میں اضافہ بھی ممکن ہے۔ ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کے وسائل کا مسئلہ پہلے ہی حساس ہے۔ ایک کمزور ایران ان معاملات میں یا تو سخت مؤقف اختیار کر سکتا ہے یا اندرونی مسائل کے باعث انہیں نظر انداز کر سکتا ہے، جس سے خطے میں نئے تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں۔

     علاقائی طاقت کا بدلتا توازن

    مشرقِ وسطیٰ میں ایران کو ایک بڑی شیعہ طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اگر یہ طاقت کمزور ہوتی ہے تو خطے کے سیاسی توازن میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔

    سعودی عرب اور دیگر سنی اکثریتی ممالک کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ جیسے ممالک کے لیے بھی اس صورتحال میں اسٹریٹجک مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خطے میں نئے اتحاد تشکیل پا سکتے ہیں جن کے اثرات جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

     عالمی توانائی کی منڈی

    ایران دنیا کے بڑے تیل اور گیس کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اگر اس کی معیشت یا سیاسی نظام کمزور ہوتا ہے تو عالمی توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

    تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عالمی مہنگائی کو بڑھا سکتا ہے اور کئی ممالک کی معیشتیں اس سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی دوڑ بھی تیز ہو سکتی ہے۔

    سیاسی کمزوری یا بحران کا سب سے زیادہ اثر عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ اگر ایران میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے جو پڑوسی ممالک کا رخ کریں گے۔

    اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے مسائل، سماجی خدمات پر دباؤ اور ممکنہ طور پر فرقہ وارانہ کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے۔ ایسے حالات پورے خطے کے لیے ایک انسانی بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

    عالمی سیاست کا ایک اصول یہ ہے کہ کوئی خلا زیادہ دیر تک خالی نہیں رہتا۔ اگر ایران کمزور ہوتا ہے تو امریکہ اور یورپی یونین خطے میں اپنا اثر بڑھانے کی کوشش کریں گے، جبکہ روس اور چین ایران کو سہارا دینے کے لیے مزید سرگرم ہو سکتے ہیں۔

    مستقبل کے کئی ممکنہ منظرنامے سامنے آ سکتے ہیں۔ ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ایران معاشی بحران کا شکار رہے مگر اس کا سیاسی نظام برقرار رہے۔ دوسری صورت میں حکومت میں بڑی سیاسی تبدیلی آ سکتی ہے۔ تیسری صورت کسی علاقائی فوجی تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جبکہ ایک امکان یہ بھی ہے کہ عالمی پابندیاں مزید سخت ہو جائیں۔

    خطے کے لیے ایک آزمائش

    اگر ایران کمزور ہوتا ہے تو یہ صرف ایک ملک کی داخلی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ پورے خطے کے لیے ایک سیاسی زلزلہ ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی سیاست میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل سکتا ہے اور نئے اتحاد جنم لے سکتے ہیں۔

    تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی بڑے تنازعات جنم لیتے ہیں تو ان کا سب سے زیادہ نقصان عام انسانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس لیے خطے کے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ تصادم کے بجائے تعاون کا راستہ اختیار کریں۔

    بالآخر قوموں کی تقدیر صرف طاقت سے نہیں بلکہ حکمت، توازن اور دانشمندی سے بنتی ہے۔ جنگ کے شعلے کبھی کسی ایک سرحد تک محدود نہیں رہتے اور تاریخ کے اوراق یہی یاد دلاتے ہیں کہ دنیا کے بڑے تنازعات ہمیشہ انسانی قربانیوں کی قیمت پر ہی ختم ہوئے ہیں۔

  • ایران کا نیا سپریم لیڈر: مجتبی خامنہ ای، ایران کی سیاست کی ایک پس پردہ مگر بااثر شخصیت

    ایران کا نیا سپریم لیڈر: مجتبی خامنہ ای، ایران کی سیاست کی ایک پس پردہ مگر بااثر شخصیت

    مجتبی خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر سلیکٹ کردیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران میں رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کرنے والے ادارے مجلسِ خبرگان رہبری کے رکن احمد عالم الہدیٰ کا کہنا ہے کہ ملک کے نئے رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔

    نیم سرکاری خبررساں ایجنسی مہر کے مطابق، عالم الہدیٰ کا کہنا اب سب کچھ مجلسِ خبرگان رہبری کے سیکرٹریٹ کے سربراہ حسینی بوشہری پر ہے، جو فی الحال اس فیصلے کا عوامی طور پر اعلان کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

    ایران کی سیاست میں کچھ شخصیات ایسی بھی ہیں جو عوامی منظر پر بہت کم نظر آتی ہیں، مگر طاقت کے ایوانوں میں ان کا اثر محسوس کیا جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک شخصیت مجتبی خامنہ ای کی ہے۔ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں اور گزشتہ برسوں میں ان کا نام ایران کے سیاسی اور مذہبی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کرتا رہا ہے۔

    مجتبی خامنہ ای کا پورا نام سید مجتبی حسینی خامنہ ای ہے۔ ان کی پیدائش سنہ 1969 کے لگ بھگ ایران کے دارالحکومت تہران میں ہوئی۔ وہ ایک ایسے مذہبی اور سیاسی خاندان میں پیدا ہوئے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران کی ریاستی اور نظریاتی سیاست میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

    مذہبی تعلیم کے لحاظ سے مجتبی خامنہ ای نے ایران کے اہم شیعہ تعلیمی مراکز میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے قم کے حوزہ علمیہ میں فقہ اور اصول فقہ کی تعلیم حاصل کی، جہاں ایران اور شیعہ دنیا کے معروف علما سے استفادہ کیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق وہ درس خارج کی سطح تک تعلیم حاصل کر چکے ہیں، جو شیعہ مذہبی تعلیم کا ایک اعلی مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔

    خاندانی طور پر بھی ان کا تعلق ایران کے قدامت پسند سیاسی حلقوں سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ ان کی اہلیہ غلام علی حداد عادل کی بیٹی ہیں، جو ایران کے ایک معروف قدامت پسند سیاست دان اور سابق پارلیمانی رہنما رہ چکے ہیں۔ اس رشتے نے بھی انہیں ایران کے بااثر سیاسی خاندانوں کے قریب رکھا ہے۔

    اگرچہ مجتبی خامنہ ای کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے، لیکن بہت سے مبصرین انہیں ایران کی طاقت کے مراکز میں اثر رکھنے والی شخصیت سمجھتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے ایران کی انقلابی گارڈ کے کچھ حلقوں کے ساتھ قریبی روابط ہیں اور قدامت پسند سیاسی دھڑوں میں بھی ان کا مضبوط نیٹ ورک موجود ہے۔ اسی وجہ سے بعض مبصرین انہیں ریاستی نظام میں غیر رسمی اثر رکھنے والی شخصیت قرار دیتے ہیں۔

    سنہ 2009 کے متنازع صدارتی انتخابات کے دوران بھی مجتبی خامنہ ای کا نام خبروں اور تجزیوں میں سامنے آیا۔ ان انتخابات کے بعد ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک اٹھی جسے گرین موومنٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اپوزیشن کے بعض رہنماوں نے اس دوران یہ الزام لگایا کہ مجتبی خامنہ ای نے انتخابی عمل اور سیکیورٹی اداروں پر اثر ڈالنے میں کردار ادا کیا۔ تاہم ایرانی حکومت نے ان الزامات کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی۔

    ایران میں جب بھی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد قیادت کے سوال پر بحث ہوتی ہے تو مجتبی خامنہ ای کا نام بھی زیر بحث آ جاتا ہے۔ تاہم ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کا انتخاب مجلس خبرگان کرتی ہے اور اب تک مجتبی خامنہ ای کو باضابطہ طور پر کسی ممکنہ جانشین کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا۔

    بعض حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر مستقبل میں ان کا نام قیادت کے لئے سامنے آتا ہے تو اس پر خاندانی جانشینی کے حوالے سے بحث اور تنقید بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران کے انقلابی نظام میں باضابطہ طور پر موروثی قیادت کا تصور موجود نہیں ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ مجتبی خامنہ ای میڈیا سے تقریباً دور رہتے ہیں اور عوامی سیاست میں بھی بہت کم نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے والد کی طرح بڑے عوامی جلسوں یا سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں نہیں ہوتے۔ اسی وجہ سے ایران کی سیاست پر نظر رکھنے والے بعض مبصرین انہیں اکثر پس پردہ طاقت قرار دیتے ہیں۔

    ایران کی پیچیدہ سیاست میں جہاں بہت سی طاقتیں کھلے عام نظر آتی ہیں، وہیں کچھ کردار ایسے بھی ہوتے ہیں جو خاموشی سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ مجتبی خامنہ ای کو اکثر اسی قسم کی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، ایک ایسی شخصیت جو منظر کے پیچھے رہتے ہوئے بھی ایران کے سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنی رہتی ہے۔

  • اسرائیل، ایران جنگ: عالمی آبی گزرگاہوں کی بندش سے پاکستان میں ایندھن کی قلت، معاشی دباؤ کا خدشہ کیوں؟

    اسرائیل، ایران جنگ: عالمی آبی گزرگاہوں کی بندش سے پاکستان میں ایندھن کی قلت، معاشی دباؤ کا خدشہ کیوں؟

    ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد لڑائی جوں جوں طویل ہوتی جارہی ہے، پاکستان سمیت کئی ممالک پر معاشی دبائو اور ممکنہ مہنگائی کے خطرات منڈ لارہے ہیں۔

    پاکستان کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں آئندہ 28 روز کا تیل کا زخیرہ موجود ہے اور سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی فراہمی کا یقین دلایا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوانِ بالا (سینیٹ) کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بدھ 4 مارچ کو بریفنگ میں بتایا تھا کہ ملک میں اس وقت 28 روز کا ڈیزل اور پیٹرول دستیاب ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی کسی قسم کی قلت نہیں ہے۔

    ماہرین کے مطابق پاکستان تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، خطے میں جاری جنگ کی وجہ سے خلیج فارس یعنی آبنائے ہرمزکے راستے تیل کی فراہمی تقریبا معطل ہے۔

    ماہرین کہتے ہیں اگر کشیدگی بحیرہ احمر تک پھیل گئی اور ترسیل رک گئی تو پاکستان کے لیے متبادل راستے محدود ہو جائیں گے۔

    ایسی صورت حال میں تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہوگا، اگرتیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوسکتا ہے، ٹرانسپورٹ اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اور مختصر عرصہ میں مہنگائی کی شرح دگنی ہوسکتی ہے ۔

    معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی بڑھتی قیمتوں کا براہ راست اثرروپے کی قیمت پر بھی پڑے گا،

    درآمدی تیل کی ادائیگی ڈالر میں کی جاتی ہے اس لئے ڈالر کی طلب بڑھے گی،روپے کی قدر کمزور ہو سکتی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر براہ راست متاثر ہوں گے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری جنگ کے معاشی اثرات تیزی سے پھیل رہے ہیں ، تیل اور کارگو کی سپلائی مشکل ہوتی جائے گی۔

    بگڑتی صورت حال سے خلیجی ممالک پہلے متاثر ہورہے ہیں اور منفی اثرات محض خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔

    رائٹر کے مطابق ایران کے حملوں کے بعد دنیا کی بڑی شپنگ لاجسٹک کمپنی نے خلیجی ممالک کے لیے کارگو بکنگ بندکردی۔

    کارگوبکنگ بند ہونے سے یو اے ای ، عمان، عراق، کویت، قطر اور بحرین شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

    شپنگ لاجسٹک کمپنی کے مطابق سعودی عرب کے بعض شہروں کے لیے بھی بکنگ معطل ہوگئی ہے۔

    شپنگ لاجسٹک کمپنی کا کہنا ہےکہ یہ فیصلہ تاحکم ثانی نافذ العمل رہےگا جبکہ جدہ اورکنگ عبداللہ بندرگاہوں پرکام جاری رہےگا۔

     عمان کی سلالہ بندرگاہ پر سروس معمول کے مطابق رہےگی، اردن اور لبنان کے لیے بھی سامان کی بکنگ جاری رہےگی۔

    دوسری جانب پاکستان سے خلیجی ممالک تجارتی مال بھیجنے کے لیے بھاری وار رِسک سرچارج کا نفاذ کیا گیا ہے۔ شپنگ کمپنی ہیپگ لوائیڈ لائن نے فی کنٹینر 1500 سے 3500 ڈالر وار رِسک سرچارج لگادیا ہے۔

    شپنگ کمپنی کے مطابق نئی بکنگ پر وار رِسک سرچرج دینا ہوگا۔ اس کے علاوہ سی ایم ای شپنگ لائن نے 4 ہزار ڈالر تک ایمرجنسی سرچارج نافذ کیا ہے۔

    کمپنی کے مطابق خلیج فارس کے علاوہ بحیرہ احمر کنٹینر جانے پر بھی رقم دینا ہوگی۔

    عالمی سرمایہ کاری بینک جے پی مورگن نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہا تو عراق اور کویت سے خام تیل کی برآمدات چند ہی دنوں میں معطل ہونا شروع ہو سکتی ہیں۔

    جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے آٹھویں دن تک یومیہ 33 لاکھ بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

    بینک کی جانب سے جاری کردہ نوٹ کے مطابق عراق کے پاس تقریباً تین دن جبکہ کویت کے پاس تقریباً 14 دن کا وقت ہے، جس کے بعد انہیں آبنائے ہرمز کے راستے گزرنے والی اپنی خام تیل کی برآمدات روکنا پڑیں گی۔

    جے پی مورگن کے مطابق اگر بندش طویل ہو گئی تو نقصانات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    اندازے کے مطابق 15ویں دن تک یومیہ 38 لاکھ بیرل جبکہ 18ویں دن تک یومیہ 47 لاکھ بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بے چینی، قیمتوں میں نمایاں اضافے اور عالمی معیشت پر منفی اثرات کا سبب بن سکتی ہے۔

  • ایران، امریکہ، اسرائیل تنازع: آبنائے ہرمز سے خام تیل لے جانے والے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں تعطل، عالمی معاشی دباؤ کا خدشہ

    ایران، امریکہ، اسرائیل تنازع: آبنائے ہرمز سے خام تیل لے جانے والے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں تعطل، عالمی معاشی دباؤ کا خدشہ

    ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ اب چوتھے روز میں داخل ہو چکی ہے۔

    ایران نے جوابی حملوں میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے علاوہ تیل کے ذخائر کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

    خلیج فارس، جو دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر اور برآمدی مراکز کا حامل خطہ ہے، اس جنگ کے باعث عالمی معیشت اور توانائی کے مستقبل کے حوالے سے مرکزِ نگاہ بن چکا ہے۔

    پیر کو ایران کی جانب سے سعودی عرب کی راس تنورا میں بڑی آئل ریفائنری ‘آرامکو’ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ریفائنری کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور تیل کی تنصیبات یا اہم سمندری راستے نشانہ بنتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

    خلیج فارس اور اس کے اطراف میں دنیا کے تیل کے ذخائر کا تقریباً نصف حصہ موجود ہے، جہاں سے یومیہ 20 سے 25 ملین بیرل تیل عالمی مارکیٹ کو فراہم کیا جاتا ہے۔

    ان ممالک میں سب سے زیادہ ذخائر سعودی عرب کے پاس ہیں، جن کا حجم تقریباً 267 ارب بیرل ہے۔

    سعودی عرب نہ صرف دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہے بلکہ اس کے پاس جدید ریفائنری نظام بھی موجود ہے جو خام تیل کو مختلف مصنوعات میں تبدیل کرتا ہے۔

    سعودی عرب میں تقریباً 10 بڑی ریفائنریز کام کر رہی ہیں، جن میں راس تنورا، یسریف اور ساتورپ ریفائنری شامل ہیں۔ یہ ریفائنریز مجموعی طور پر روزانہ تقریباً 30 لاکھ بیرل تیل کو پروسیس کرتی ہیں۔

    آبنائے ہرمز: دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ

    خلیج فارس سے نکلنے والا زیادہ تر تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔ یہ سمندری راستہ دنیا کی سب سے اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔

    اگر اس راستے کو جنگ، حملوں یا فوجی کارروائیوں کی وجہ سے بند یا غیر محفوظ کر دیا جائے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں شدید کمی واقع ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہوگا اور عالمی معیشت پر بھی براہ راست دباؤ بڑھے گا۔

    الجزیرہ کی خبر کے مطابق قطر کی جانب سے ایل این جی کی فراہمی روکنے پر عالمی مارکیٹ میں گیس کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    برطانیہ اور کچھ ممالک میں گیس کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایشیائی ممالک میں 39 فیصد تک اضافہ سامنے آیا ہے۔

    اگر بڑے پیمانے پر حملے ہوتے ہیں تو تیل کی قیمتیں 100 سے 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اگر خلیجی ممالک سے تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو دنیا کے دیگر بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک، جیسے امریکہ اور روس، اپنی پیداوار بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ کئی ممالک اپنے اسٹریٹجک تیل ذخائر استعمال کر سکتے ہیں تاکہ سپلائی میں کمی کو عارضی طور پر پورا کیا جا سکے۔

    تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج فارس کی اہمیت کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ممکن نہیں، کیونکہ یہ خطہ اب بھی عالمی توانائی سپلائی کا بنیادی ستون ہے۔

    ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

    خلیج فارس کی تیل تنصیبات، ریفائنریز اور اہم سمندری راستے عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر یہ تنازع مزید بڑھتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔

    موجودہ صورتحال میں عالمی منڈی، حکومتیں اور توانائی کمپنیاں حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس تنازع کا مستقبل عالمی توانائی کے استحکام کا تعین کرے گا۔

  • آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لئے تہران کے خفیہ کیمرے بھی ہیک کئے گئے، برسوں تک خفیہ ویڈیوز تل ابیب  پہنچتی رہیں۔

    آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لئے تہران کے خفیہ کیمرے بھی ہیک کئے گئے، برسوں تک خفیہ ویڈیوز تل ابیب پہنچتی رہیں۔

    ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لیے برسوں پر محیط ایک خفیہ انٹیلی جنس مہم چلائی گئی۔

    جس میں تہران کے ٹریفک کیمروں کو ہیک کرنے سے لے کر موبائل نیٹ ورکس میں مداخلت تک جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں ایران کے رہبراعلیٰ آیت اللہ خامنہ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی سے متعلق ایک تفصیلی مضمون شائع کیا گیا ہے، جس میں تہران کی نگرانی اور سائبر آپریشن کی معلومات موجود ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق جب تہران کی پاستور اسٹریٹ کے قریب سینئر ایرانی عہدیداروں کے محافظ اور ڈرائیور معمول کے مطابق اپنی ڈیوٹی پر پہنچے تو اسرائیلی انٹیلی جنس پہلے ہی ان پر نظر رکھے ہوئے تھی۔

    رپورٹ کے مطابق تہران کے بیشتر ٹریفک کیمروں کو برسوں قبل ہیک کر لیا گیا تھا اور ان کی ویڈیوز خفیہ طور پر اسرائیل میں سرورز تک منتقل کی جاتی تھیں۔

    ان کیمروں میں سے ایک مخصوص زاویہ رکھنے والا کیمرہ خاص طور پر اہم ثابت ہوا، جس کی مدد سے محافظوں کی گاڑیوں کی پارکنگ اور نقل و حرکت کا جائزہ لیا گیا۔
    جدید الگورتھمز اور سوشل نیٹ ورک تجزیے کے ذریعے سیکیورٹی اہلکاروں کے معمولات، رہائش، ڈیوٹی اوقات اور ان شخصیات کی تفصیلات مرتب کی گئیں جنہیں وہ تحفظ فراہم کرتے تھے۔

    انٹیلی جنس زبان میں اسے "پیٹرن آف لائف” کہا جاتا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی محض تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ ایک سیاسی فیصلہ بھی تھا۔
    اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس اداروں، بشمول سی آئی اے، نے تصدیق کی کہ خامنہ ای ہفتہ کی صبح اپنے دفتر میں اہم اجلاس کی صدارت کریں گے۔

    امریکی ذرائع کے مطابق ایک انسانی ذریعے نے بھی اس اطلاع کی توثیق کی، جس کے بعد اسرائیلی طیاروں نے بروقت کارروائی کی۔

    فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کہتی ہے کہ پاستور اسٹریٹ کے قریب موبائل فون ٹاورز کے بعض حصوں کو عارضی طور پر غیر فعال کیا گیا، جس سے سیکیورٹی اہلکاروں کو بروقت وارننگ موصول نہ ہو سکی۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی سگنلز انٹیلی جنس یونٹ 8200 اور خفیہ اداے موساد نے اربوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کر کے ممکنہ اہداف کی نشاندہی کی۔

    ایک سابق اسرائیلی افسر کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس کلچر میں ‘ٹارگٹنگ انٹیلی جنس’ بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران "اسپیرو” میزائل استعمال کیے گئے، جو ایک ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    ایک اہلکار کے بقول، ‘ہم نے پہلے ان کی آنکھیں نکالیں’، اشارہ ایرانی فضائی دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے کی جانب تھا۔
    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے متعدد جوہری سائنسدان اور فوجی افسران ہلاک کیے گئے تھے۔

    اس دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام کو سائبر حملوں اور ڈرونز کے ذریعے مفلوج کیا گیا۔
    ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات جاری تھے اور عمان ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا، تاہم امریکی صدرایرانی ردعمل سے مطمئن نہیں تھے، جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

    فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران کو ہدف بنانے کی حکمت عملی کی بنیاد 2001 میں اس وقت رکھی گئی جب اسرائیلی وزیر اعظم ایرل شیرون نے موساد کے سربراہ کو ایران کو اولین ترجیح دینے کی ہدایت کی تھی۔

    بعد ازاں اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کو سبوتاژ کرنے اور اس کے سائنسدانوں کو نشانہ بنانے کی متعدد کارروائیاں کیں۔

    سابق موساد عہدیدار سیما شائن کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیلی پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی، جب حماس کے حملے نے سیکیورٹی حکمت عملی کو یکسر بدل دیا۔
    برطانوی اخبارکی رپورٹ کہتی ہے کہ اگرچہ اسرائیل نے ماضی میں بیرون ملک سیکڑوں افراد کو نشانہ بنایا ہے، تاہم کسی بڑے مذہبی و سیاسی رہنما کو قتل کرنا ایک غیر معمولی قدم تھا۔

    ماہرین کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں وقتی عسکری برتری تو دے سکتی ہیں، مگر ان کے طویل مدتی سیاسی نتائج غیر یقینی ہوتے ہیں۔

    اسرائیلی انٹیلی جنس حلقوں میں اس کامیابی کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔

  • ایران کی طاقت کا زوال یا نیا عروج؟: خامنہ ای کے جانے کے بعد اندرونی غداری، جاسوسی، جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کا ممکنہ نیا نقشہ

    ایران کی طاقت کا زوال یا نیا عروج؟: خامنہ ای کے جانے کے بعد اندرونی غداری، جاسوسی، جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کا ممکنہ نیا نقشہ

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 86 سال کی عمر میں فالج سے لڑتے ہوئے، تین دہائیوں تک ایران میں سخت گیر مذہبی قیادت کرنے اور گزشتہ دس سال سے فلسطین کی آزادی کی جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کرنے کے بعد اسرائیل، امریکہ اور اس کے عرب اتحادیوں کی الیکٹرانک وار، عالمی پابندیوں اور جدید جنگی حکمتِ عملی کا مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کے رتبے پر فائز ہو گئے ہیں۔

    علی خامنہ ای کی وفات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اندرونی طور پر سیاسی دباؤ اور عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے پہلے بھی صدام حسین اور کرنل قذافی پر جراثیمی اور ایٹمی ہتھیار بنانے کے الزامات لگا کر انہیں شہید کروایا، مگر بعد میں تاریخ میں یہ الزامات جھوٹے ثابت ہوئے اور یہ حقیقت سامنے آئی کہ امریکہ اور نیٹو کو ان ممالک کے قدرتی وسائل درکار تھے، جن پر قبضے کے بعد ان ممالک کو تنہا چھوڑ دیا گیا اور وہ آج تک خانہ جنگی کا شکار ہیں۔

    یہی پالیسی ایران پر بھی اختیار کی گئی اور اب اس کی مرکزی قیادت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای واقعی ایک بے خوف انسان تھے۔ اگر ان کی جگہ میں ہوتا تو کسی بنکر میں چھپ کر جان بچاتا، لیکن انہیں علم تھا کہ ہم انہیں ٹریس کر رہے ہیں، اس کے باوجود انہوں نے اپنے گھر میں رہنا پسند کیا اور بشار الاسد کی طرح روس جا کر نہیں چھپے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اعتراف کیا ہے کہ جو قوم شہادت کو عظیم رتبہ سمجھے، اس سے بات چیت یا کسی بھی طریقے سے اپنی بات نہیں منوائی جا سکتی، اس لیے اب معلوم نہیں کہ کیسی قیادت سامنے آئے گی۔

    امریکی سرکاری ذرائع نے اپنے میڈیا کو بتایا ہے کہ امریکہ کے پاس کتنا ہی بڑا الیکٹرانک جاسوسی نظام کیوں نہ ہو، اتنی بڑی قیادت کو نشانہ بنانا اس کے بس میں نہیں تھا۔ اصل میں جب اپنے ہی غدار ہو جائیں تو کام آسان ہو جاتا ہے۔

    نیویارک ٹائمز اور دیگر عالمی اداروں نے اپنی رپورٹوں میں بتایا ہے کہ سی آئی اے اور اسرائیلی جاسوسی ادارے موساد نے گزشتہ دہائیوں میں ہزاروں ایرانیوں کو بطور مخبر بھرتی کیا۔

    نیویارک ٹائمز اور دیگر عالمی ذرائع کے مطابق ایران کا پورا حفاظتی حصار اندرونی غداری کے باعث ٹوٹ چکا ہے۔ موساد نے ایران کے اعلیٰ ترین اداروں کے سربراہوں کو اپنا ایجنٹ بنا لیا ہے۔ سابق صدر محمود احمدی نژاد نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ ایران میں موساد کے جاسوسوں کو پکڑنے کے لیے جو خصوصی انٹیلی جنس یونٹ بنایا گیا تھا، اس کا سربراہ خود موساد کا ایجنٹ نکلا، جس نے برسوں تک اسرائیل کو اہم معلومات فراہم کیں۔

    اگرچہ علی خامنہ ای اور دیگر بڑے رہنما خود فون استعمال نہیں کرتے تھے، لیکن ان کے محافظوں، ڈرائیوروں اور عملے کے افراد نے مسلسل سوشل میڈیا پر تصاویر اور لوکیشن شیئر کیں، جس سے اسرائیل کو ان کی درست موجودگی کا علم ہوا۔

    ایرانی حکام نے خود اعتراف کیا ہے کہ ملک میں ہزاروں لوگ اسرائیل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ایرانی دفاعی حکام کے مطابق جون 2025 کی جنگ کے بعد تقریباً 2000 ایسے افراد گرفتار کیے گئے جو مبینہ طور پر موساد کے ساتھ رابطے میں تھے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی بدحالی کی وجہ سے کئی ایرانی حکام، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں، بھاری رقم کے عوض اسرائیل کو ملکی راز فروخت کرتے ہیں۔

    نیویارک ٹائمز اور دیگر عالمی مبصرین کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس کی اس ناکامی کے بعد اسرائیل اب بلا خوف و خطر ایران کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنا سکتا ہے کیونکہ اسے اندرونی معلومات حاصل ہیں۔ ایرانی قیادت میں ایک دوسرے پر بے اعتمادی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ وہ اب اپنے گھروں میں بھی محفوظ محسوس نہیں کرتے۔

    حزب اللہ اور حماس اب ایران پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں گے کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ ایران سے ملنے والی معلومات ان کی موت کا سبب بن سکتی ہیں۔ ایران اب صرف بیرونی دشمن سے نہیں لڑ رہا بلکہ اپنی ہی صفوں میں موجود ان خفیہ دشمنوں سے لڑ رہا ہے جنہوں نے ایران کے پورے قلعے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔

    ایرانی انٹیلی جنس کے ایک اہم رہنما، جس کا نام دونوں فریق چھپا رہے ہیں، نے 2018 میں ایران کے ایٹمی پروگرام کی ہزاروں حساس دستاویزات، نیوکلیئر آرکائیو، چوری کروا کر اسرائیل کو پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

    قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قاآنی اپنے چیف آف اسٹاف کے ساتھ مل کر اسرائیل کو لبنان، شام اور یمن کی خفیہ رپورٹیں دے رہے تھے۔ انہی غداروں کی معلومات پر اسرائیل بیروت میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ تک پہنچا۔

    علی رضا اکبری، سابق نائب وزیر دفاع، جو ایران کے ایک انتہائی بااثر عہدیدار تھے اور جنہیں جنوری 2023 میں پھانسی دی گئی، انہوں نے برطانوی انٹیلی جنس اور موساد کو ایران کے ایٹمی سائنسدان محسن فخری زادہ کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔

    انصار المہدی سیکیورٹی یونٹ کا سربراہ، جو ایران کے اعلیٰ رہنماؤں کی حفاظت کرتا ہے، اس یونٹ کے کچھ ارکان کو ڈالر دے کر اسرائیل ایران کی حساس ترین عمارتوں کے اندر روبوٹک گنز اور دھماکہ خیز مواد نصب کرانے میں کامیاب ہو گیا۔

    ایرانی انٹیلی جنس کی مبینہ ناکامی اور علی خامنہ ای کے جانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ سیاسی ماہرین اسے ایک نئے مشرقِ وسطیٰ کی شروعات کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

    عالمی دفاعی ماہرین، جن میں موساد اور جینز ڈیفنس کے سابق افسران شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں ایران کے انٹیلی جنس نیٹ ورک میں بڑی دراڑیں پڑی ہیں۔ موساد نے ایران کے حساس ترین حلقوں میں اپنے لوگ بٹھا دیے ہیں۔

    اسماعیل ہنیہ اور موجودہ صورتِ حال کا نشانہ بننا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کے سیکیورٹی اداروں میں اندرونی جاسوسی ہو رہی ہے۔ سپریم لیڈر جیسی شخصیت کا غیر محفوظ ہونا ایرانی انٹیلی جنس اداروں، وزارتِ اطلاعات اور پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس، کے درمیان عدم تعاون اور ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

    مغربی ماہرین کا خیال ہے کہ ایران روایتی سیکیورٹی میں تو بہتر ہے لیکن جدید سائبر جنگ اور ڈیجیٹل جاسوسی میں وہ اسرائیل اور امریکہ سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

    ایران کے دو بڑے جاسوسی اداروں، وزارتِ اطلاعات اور پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس، کے درمیان برسوں سے جاری خفیہ جنگ ہی ایران کی موجودہ سیکیورٹی ناکامی کی بڑی وجہ بن کر سامنے آئی ہے۔ وزارتِ اطلاعات ایرانی حکومت اور صدر کو جواب دہ ہے جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس براہِ راست سپریم لیڈر کے ماتحت ہے۔

    ملک کی سول انٹیلی جنس کسی حد تک پیشہ ورانہ ہے جبکہ فوجی اور نظریاتی ونگ سخت گیر مذہبی ہے۔ وزارتِ اطلاعات سفارت کاری اور مذاکرات کی حامی ہے جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس جارحیت پسند اور پراکسی جنگ کی حامی رہی ہے۔ اسی وجہ سے دونوں اداروں میں گزشتہ دو دہائیوں سے اندرونی کشمکش جاری ہے۔

    فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ناکامی کی وجہ ایک کشتی میں دو ملاح والی صورتِ حال ہے۔ جب دو ادارے ایک ہی مقصد کے لیے کام کریں لیکن ان کی کمان الگ ہو تو وہاں معلومات کا تبادلہ ختم ہو جاتا ہے۔ گزشتہ چند سال میں پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس نے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے جس کی وجہ سے وزارتِ اطلاعات کے پرانے اور تجربہ کار افسران کو سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ اسی اندرونی کشمکش کا فائدہ اٹھا کر موساد ایرانی نظام میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئی۔ جب ایران کے ایٹمی سائنسدانوں یا ہنیہ جیسے مہمانوں پر حملے ہوئے تو دونوں اداروں نے ایک دوسرے پر غداری کے الزامات لگائے۔ یہ بے اعتمادی اس قدر بڑھ گئی کہ ایک ادارہ دوسرے کے آپریشن کو ناکام بنانے لگا۔

    خامنہ ای ان دونوں اداروں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے تھے۔ ان کے جانے کے بعد اندرونی بغاوت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب شاید وزارتِ اطلاعات کو مکمل طور پر ختم کرنے یا اپنے ماتحت کرنے کی کوشش کرے گی جس سے سول بیوروکریسی میں شدید غم و غصہ پیدا ہوگا۔ یہ ادارے ایک دوسرے کے سیاسی رہنماؤں کی فائلیں کھول سکتے ہیں تاکہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب پر اثر انداز ہو سکیں۔

    پاسدارانِ انقلاب اس وقت زیادہ طاقتور ہے لیکن وزارتِ اطلاعات کے پاس ملک کے سیاسی خاندانوں اور افراد کی خفیہ معلومات زیادہ ہیں۔ یہ کشمکش ایران کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔

    عالمی ماہرین کے مطابق ایران اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں یا تو ریاست میں بڑی تبدیلی آئے گی یا پھر فوجی طاقت کے ذریعے نظام کو مزید سخت کر دیا جائے گا۔

    خامنہ ای گزشتہ 37 سال سے ریاست کا مرکزی ستون تھے۔ ان کے جانے سے ایران کے طاقتور حلقوں، فوج، عدلیہ اور مذہبی رہنماؤں، میں اقتدار کی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ ایرانی آئین کے تحت نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کا سربراہ اور ایک اور اعلیٰ عہدیدار ملک کا نظام چلائیں گے۔ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں سب سے بڑا کردار پاسدارانِ انقلاب کا ہوگا۔ یہ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ ایران اب مزید ایک فوجی ریاست کی طرح کام کرے گا جہاں مذہبی رہنماؤں کا کردار محض علامتی رہ جائے گا۔

    ممکنہ جانشینوں میں مجتبیٰ خامنہ ای، حسن خمینی اور علی لاریجانی کے نام زیرِ گردش ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ شاید ایک شخص کے بجائے تین سے پانچ ارکان پر مشتمل رہبری کونسل قائم کر دی جائے۔

    علی خامنہ ای کی شہادت یا وفات کے بعد مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بھی مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔ خامنہ ای کے حکم پر چلنے والے پراکسی نیٹ ورک، حزب اللہ اور حوثیوں، کا مستقبل بھی داؤ پر لگ گیا ہے۔ عرب ممالک اس تمام صورتِ حال پر پریشان ہیں۔ ایران میں کچھ اعلیٰ حکام نظریاتی طور پر موجودہ مذہبی نظام سے بیزار ہو چکے ہیں اور وہ اسے گرانے کے لیے بیرونی قوتوں کی مدد کر رہے ہیں۔ اگر ایران کی نئی قیادت، خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب، اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل پر بڑا حملہ کرتی ہے تو یہ صورتِ حال تیسری عالمی جنگ یا کم از کم ایک بڑی علاقائی جنگ کی طرف جا سکتی ہے۔

    ایران اب صرف بیرونی دشمن سے نہیں بلکہ اپنی اندرونی سچائی سے بھی لڑ رہا ہے۔ آنے والے چند مہینے فیصلہ کریں گے کہ آیا یہ واقعات ایران کے زوال کا آغاز ہیں یا ایک نئی، زیادہ سخت اور مرکزی طاقت کے جنم کا اعلان۔

     

  • اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے، کون سے ممالک کی فضائی حدود بند، پروازیں منسوخ؟

    اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے، کون سے ممالک کی فضائی حدود بند، پروازیں منسوخ؟

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کا آسمان معمول کے مطابق نہیں رہا۔ زمین پر ہونے والی عسکری کارروائیوں کا اثر سب سے پہلے فضا میں نظر آتا ہے۔ کچھ ممالک نے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دیں، جبکہ کچھ نے انہیں جزوی طور پر محدود کر دیا۔

    ایران ان ممالک میں شامل ہے جہاں عسکری کشیدگی، میزائل حملوں اور ایئر ڈیفنس سسٹمز کی سرگرمیوں کے باعث سویلین پروازوں کے لیے خطرات بڑھ گئے۔ ایسے حالات میں کمرشل طیاروں کی پرواز جاری رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ اسی لیے حفاظتی بنیادوں پر فضائی حدود بند کی جاتی ہیں۔

    اسرائیل نے بھی قومی سلامتی کی صورتحال کے پیش نظر اپنی فضائی سرگرمیوں کو محدود کیا۔ جب میزائل دفاعی نظام فعال ہوں اور فضائی خطرات موجود ہوں تو سویلین اور عسکری سرگرمیوں کو الگ رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    عراق جغرافیائی طور پر تنازع کے بیچ میں واقع ہے۔ اگر خطے میں میزائل یا ڈرون حملے ہو رہے ہوں تو ان کے راستے اکثر عراقی فضا سے گزرتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہاں بھی فضائی حدود متاثر ہوتی ہیں۔

    قطر، بحرین اور کویت جیسے خلیجی ممالک نے علاقائی سکیورٹی خدشات کے تحت احتیاطی اقدامات کیے۔ یہ ممالک عالمی فضائی روٹس کا اہم حصہ ہیں، اس لیے کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری فیصلے ناگزیر ہو جاتے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات اور شام میں مکمل بندش کے بجائے مخصوص علاقوں اور بلندیوں پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ کچھ روٹس تبدیل کیے گئے تاکہ خطرناک فضائی گزرگاہوں سے بچا جا سکے۔

    جب مشرقِ وسطیٰ کے یہ اہم فضائی کوریڈور بند ہوتے ہیں تو اس کا اثر عالمی سطح پر محسوس ہوتا ہے۔ یورپ سے ایشیا جانے والی پروازیں متبادل راستے اختیار کرتی ہیں، اکثر ترکی، وسطی ایشیا یا شمالی فضائی راستوں سے گزرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں پرواز کا دورانیہ بڑھتا ہے، ایندھن کا خرچ زیادہ ہوتا ہے، اور ٹکٹ مہنگے ہو جاتے ہیں۔

    ایسے مواقع پر ایک اہم اصطلاح سامنے آتی ہے: NOTAM، یعنی Notice to Air Missions۔ یہ ایک باضابطہ اطلاع ہوتی ہے جس کے ذریعے دنیا بھر کی ایئرلائنز کو بتایا جاتا ہے کہ مخصوص فضائی حدود غیر محفوظ ہیں۔ جب NOTAM جاری ہوتا ہے تو عالمی ہوا بازی کا نظام فوراً متحرک ہو جاتا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان نے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند نہیں کیں، لیکن انڈیا کے رجسٹرڈ طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی حدود بند ہیں۔ یہ فیصلہ براہ راست موجودہ عسکری صورتحال کا نتیجہ نہیں بلکہ سفارتی اور سکیورٹی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس کے باعث انڈیا سے یورپ اور خلیجی ممالک جانے والی پروازوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں، جس سے لاگت اور وقت دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

    یہ تمام صورتحال ایک اہم حقیقت کو واضح کرتی ہے۔ آسمان صرف جغرافیہ نہیں، سیاست بھی ہے۔ جب زمین پر کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا پہلا عکس فضا میں نظر آتا ہے۔ ہر بند فضائی حدود ایک حفاظتی اقدام بھی ہوتی ہے اور ایک سیاسی پیغام بھی۔

    جہاز براعظموں کو جوڑتے ہیں، فاصلے کم کرتے ہیں، تجارت اور سفر کو ممکن بناتے ہیں۔ مگر جب تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو سب سے پہلے یہی راستے خاموش ہو جاتے ہیں۔ اور اسی خاموشی میں عالمی سیاست کی گونج سنائی دیتی ہے۔

  • ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کون تھے؟  اور وہ امریکہ اور اسرائیل کے ہدف پر کیوں تھے؟

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کون تھے؟ اور وہ امریکہ اور اسرائیل کے ہدف پر کیوں تھے؟

    ایران کے سرکاری میڈیا نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای شہید ہوگئے ہیں۔

    امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کی صبح کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے وابسطہ مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

    امریکہ نے ایرانی فوجی اہداف پر حملوں کو آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا ہے۔

    ایران کی پاسداران انقلاب نے بھی جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

    ایران نے اسرائیل اور مختلف خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی طرف میزائل داغے ہیں۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق سات میزائل صدارتی محل کے قریب علاقے میں گرے، جو شمالی تہران کے علاقے شمران میں واقع ہے

    جبکہ میزائل حملے خامنہ ای کے رہائشی اور دفتری کمپاؤنڈ کے قریب بھی کیے گئے۔

    خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ حملوں کا ہدف تہران میں واقع آیت اللہ خامنہ ای کے دفاتر کے قریب کے علاقے تھے۔

    86سالہ مذہبی رہنما اور اسلامی اسکالر علی خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر ہیں۔ انہوں نے یہ عہدہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی، رہنما روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد سنبھالا تھا۔

    آیت اللہ خمینی 1979 کے ایرانی انقلاب کے دوران جلاوطنی سے واپس آئے تھے اور انہوں نے امریکہ کے اتحادی بادشاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

    سپریم لیڈر کی حیثیت سے علی خامنہ ای کو ایران میں ریاست کے تمام اداروں پر حتمی اختیار حاصل ہے۔

    جن میں حکومت کی تمام برانچز اور ادارے، مسلح افواج اور عدلیہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ملک کے روحانی پیشوا کے طور پر بھی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور ایران کے سیاسی و مذہبی نظام میں سب سے بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔

    سپریم لیڈر کی حیثیت سے علی خامنہ ای ایران کی مسلح افواج، خارجہ پالیسی اور ریاستی اداروں پر حتمی اختیار رکھتے ہیں ۔

    جس کی وجہ سے وہ ملک کی طاقتور ترین شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم اور حساس ہدف تصور کیے جا رہے ہیں۔

    آیت اللہ علی خامنہ ای کہاں تھے؟

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے موجودہ مقام کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ خامنہ ای اس وقت دارالحکومت تہران میں موجود نہیں اور انہیں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    خبررساں ادارے رائٹر کی رپورٹ کہتی ہے امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران پر حملے کر کے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے تنازع میں دھکیل دیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد امریکہ کو درپیش سیکیورٹی خطرے کا خاتمہ کرنا اور ایرانی عوام کو اپنی قیادت کے خلاف کھڑے ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

    خبر کے مطابق ان حملوں کے بعد خلیجی عرب ممالک، جو تیل پیدا کرنے والے اہم ممالک ہیں، شدید تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں کیونکہ خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان دونوں کو نشانہ بنایا گیا

    تاہم ان حملوں کے نتائج فوری طور پر واضح نہیں ہو سکے۔

    رائٹر نے ایک زریعے کے حوالے سے اپنی خبرمیں کہا ہے کہ خامنہ ای اس وقت دارالحکومت تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

    ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے قریب ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے کئی سینئر کمانڈرز اور سیاسی عہدیدار حملوں میں شہید ہو گئے ہیں

  • نو مئی کے واقعات سے ایران تک، بدامنی، ریاست اور استحکام کا سوال

    نو مئی کے واقعات سے ایران تک، بدامنی، ریاست اور استحکام کا سوال

    ایران کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایسی ویڈیوز جاری کیے جانے، جن میں شہری بدامنی کے پردے میں مبینہ طور پر غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی تخریبی سرگرمیوں کو دکھایا گیا ہے، نے پاکستان میں 9 مئی کے واقعات کی یاد تازہ کر دی ہے۔ وہ دن محض سیاسی احتجاج نہیں تھا بلکہ بعض مقامات پر ریاستی اور عسکری تنصیبات پر حملوں کی صورت اختیار کر گیا، ایک ایسی حد جسے کوئی بھی فعال ریاست عبور کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

    اگرچہ مختلف ممالک کے حالات کا موازنہ احتیاط سے کیا جانا چاہیے، تاہم 9 مئی کے بعد پاکستان کے ردعمل نے یہ واضح کیا کہ کس طرح ریاست، سول اور عسکری اداروں کے باہمی اشتراک سے، بغیر طویل عدم استحکام کے، نظم و ضبط بحال کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستان کے ردعمل کا سب سے نمایاں پہلو صورتحال کا محدود اور مؤثر کنٹرول تھا۔ حملوں کی سنگینی اور علامتی اہمیت کے باوجود بدامنی کو پورے ملک میں پھیلنے سے روکا گیا۔ اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچہ فعال رہا، ریاستی نظامِ رابطہ محفوظ رہا، اور تشدد وقتی اور مخصوص علاقوں تک محدود رہا۔ یہ سب محض اتفاق نہیں تھا بلکہ ریاستی اداروں، بالخصوص فوج، کی اس صلاحیت کا اظہار تھا کہ وہ سول انتظامیہ کی معاونت کرتے ہوئے بروقت کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ فوج کا کردار کسی سیاسی اختیار کو سنبھالنے تک محدود نہیں رہا بلکہ استحکام کی بحالی تک رہا۔ عدالتی نظام بدستور کام کرتا رہا، میڈیا فعال رہا، اور آئینی ڈھانچے کو معطل نہیں کیا گیا۔ ایسے خطے میں جہاں سیاسی بحران اکثر طویل آمرانہ اقدامات یا ادارہ جاتی زوال پر منتج ہوتے رہے ہیں، یہ فرق نہایت اہم ہے۔

    بعد ازاں ہونے والی تحقیقات سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ 9 مئی کا تشدد نہ تو اچانک تھا اور نہ ہی محض جذباتی ردعمل۔ اہداف کے انتخاب اور کارروائی کی نوعیت ایک منظم کوشش کی جانب اشارہ کرتی تھی جو روایتی احتجاج سے کہیں آگے تھی۔ ریاست کی جانب سے اندھا دھند کریک ڈاؤن کے بجائے قانونی اور تفتیشی عمل کو ترجیح دینا اس فرق کو واضح کرنے میں مددگار ثابت ہوا کہ کہاں جائز اختلافِ رائے ختم ہوتا ہے اور کہاں ریاستی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

    اس حکمتِ عملی نے ایک بنیادی اصول کو بھی تقویت دی کہ سیاسی اختلاف ریاستی اداروں پر حملوں کا جواز نہیں بن سکتا۔ جمہوریت احتجاج کے حق پر قائم ہوتی ہے، مگر اسی کے ساتھ آئینی اور سلامتی کے اداروں کے تحفظ پر بھی۔ پاکستان کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس نازک توازن کو برقرار رکھنا مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔

    ایران میں اب جو عمل سامنے آ رہا ہے، بظاہر اسی منطق کے تحت ہے، یعنی داخلی عوامی شکایات اور مبینہ طور پر بیرونی اثر و رسوخ یا منظم تخریب کاری کے درمیان فرق کو واضح کرنا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ تہران اس توازن کو کس حد تک برقرار رکھ پاتا ہے۔ پاکستان کے تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ شفافیت، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قانونی عمل کی پاسداری ہی ایسے اقدامات کو ساکھ فراہم کر سکتی ہے۔

    یہ اعتراض بجا طور پر اٹھایا جاتا ہے کہ حد سے زیادہ سکیورٹی نقطۂ نظر جمہوری گنجائش کو محدود کر سکتا ہے۔ اس خدشے کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ تاہم 9 مئی کے واقعات نے یہ بھی واضح کیا کہ اس سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ سیاسی سرگرمی کو ریاستی اداروں کے خلاف منظم تشدد میں تبدیل ہونے دیا جائے۔ ایک بار یہ حد عبور ہو جائے تو اس کے اثرات کسی ایک جماعت یا ادارے تک محدود نہیں رہتے۔

    اس تناظر میں پاکستان کی فوج نے ریاستی تسلسل کی محافظ کے طور پر کردار ادا کیا تاکہ سیاسی کشمکش نظام کے انہدام پر منتج نہ ہو۔ نظم و ضبط کی بحالی نے سیاسی عمل، خواہ وہ جتنا بھی نامکمل کیوں نہ ہو، کو آئینی دائرے میں جاری رہنے کا موقع دیا۔ طویل المدت جمہوری مفاد اسی میں ہے، نہ کہ بے لگام انتشار میں۔

    9 مئی سے حاصل ہونے والا سبق یہ نہیں کہ سول معاملات میں عسکری کردار مطلوب ہے، بلکہ یہ کہ ایک منضبط اور آئین کے تابع سلامتی کا نظام اس وقت ناگزیر ہو جاتا ہے جب خود ریاست کو نشانہ بنایا جائے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ یہ کردار غیر معمولی، متناسب اور قانون کی بالادستی سے جڑا رہے۔

    ایک ایسے وقت میں جب علاقائی اور عالمی سیاست تیزی سے غیر یقینی ہو رہی ہے، پاکستان کا تجربہ ایک بنیادی حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ استحکام جمہوریت کا مخالف نہیں بلکہ اکثر اس کی شرطِ اول ہوتا ہے۔

    لکھاری صوبائی ویجیلنس کمیٹی، محکمہ انسانی حقوق، حکومتِ سندھ کے سابق رکن ہیں۔