حالیہ جنگ کے دوران امریکہ، اسرائیل، ایران اور کئی عرب ممالک میں میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ اسرائیل میں حساس مقامات کی تصویر کشی پر سخت نگرانی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی کئی طرح کی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ اسی وجہ سے میدان جنگ کی مکمل اور آزادانہ معلومات دنیا تک پہنچنا مشکل ہو گئی ہیں۔
کچھ سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر محدود معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ اس جنگ پر روزانہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں دنیا سے جنگوں کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا، مگر موجودہ حالات ایک ایسے تنازع کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس کے اثرات خطے سے نکل کر عالمی سیاست اور معیشت تک پہنچ رہے ہیں۔
امریکہ اور یورپ کے کئی شہروں میں اس جنگ کے خلاف احتجاج بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
ایران کے مختلف علاقوں پر بڑے پیمانے پر حملوں کی اطلاعات ہیں۔ رہائشی علاقوں، بینکوں، توانائی کے مراکز، پانی کے منصوبوں اور دیگر شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچنے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اس کے باوجود ایران کے کئی شہروں میں معمولات زندگی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہیں۔ بعض علاقوں میں بجلی اور تیل کی فراہمی متاثر ہونے اور پینے کے پانی کی قلت کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔
سابق امریکی وزیر خارجہ اینتھنی بلنکن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیلی قیادت ماضی میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتی رہی ہے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق ایران کے میزائل پروگرام اور یورینیم افزودگی کے حوالے سے عالمی سطح پر مسلسل بحث جاری ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ مغربی ممالک اسے سکیورٹی خدشات سے جوڑتے ہیں۔
اس جنگ کے ایک اہم پہلو میں عوامی ردعمل بھی شامل ہے۔ امریکہ میں یہ تنازع خاصا غیر مقبول قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران میں بھی داخلی مسائل، معاشی مشکلات اور سیاسی اختلافات موجود ہیں، لیکن بیرونی دباؤ کے باعث عوام کی ایک بڑی تعداد اپنی ریاست کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایسے حالات میں اکثر قوموں کے اندرونی اختلافات پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور بیرونی خطرہ مرکزی مسئلہ بن جاتا ہے۔
خطے کی سیاست میں اسرائیل اور ایران کا تنازع کئی دہائیوں سے موجود ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل ایران کو اپنے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک چیلنج سمجھتا ہے، جبکہ ایران اسرائیل کی پالیسیوں کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ اسی کشمکش نے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو مسلسل متاثر کیا ہے۔
اس تنازع کے اثرات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں رہے۔ توانائی کی عالمی منڈی، بحری تجارت اور فضائی سفر بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی ایئر لائنز کو پروازیں منسوخ کرنی پڑی ہیں جبکہ خلیج کے اہم بندرگاہی راستوں پر سرگرمی کم ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عالمی مارکیٹوں میں تیل، سونے اور ایل این جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور مالیاتی نظام پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس وقت دنیا پہلے ہی معاشی دباؤ، توانائی کے بحران اور سیاسی کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے۔
یہ جنگ صرف زمین پر نہیں لڑی جا رہی بلکہ سائبر دنیا اور خلا تک پھیل چکی ہے۔ سائبر حملوں، سیٹلائٹ نگرانی اور جدید دفاعی نظاموں نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عالمی طاقتیں اپنی تکنیکی برتری کے ذریعے جنگی میدان میں برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اگر یہ کشیدگی بڑھتی رہی تو اس کے اثرات آنے والے برسوں تک عالمی سیاست، توانائی کی منڈیوں اور معاشی نظام پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی جنگیں صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ وہ دنیا کے سیاسی اور معاشی نقشے کو بھی بدل دیتی ہیں۔

