Tag: اسرائیل

  • انڈیا : مہنگے داموں گیس سلنڈرز فروخت کرنے کے لئے بڑا ذخیرہ قبرستان میں چھُپائے جانے کا انکشاف

    انڈیا : مہنگے داموں گیس سلنڈرز فروخت کرنے کے لئے بڑا ذخیرہ قبرستان میں چھُپائے جانے کا انکشاف

    امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے خطے کے سب سے بڑے ملک بھارت کو گیس کی قلت کے سنگین بحران میں دھکیل دیا ہے۔

    جس سے بڑھتی ہوئی چوری اوربلیک مارکیٹنگ پولیس کے لئے چیلنج بن گئی ہے۔

    پولیس کارروائیوں کے دوران قبرستان میں گیس سلنڈرز چھپانے کا انوکھا اور بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید متحرک کردیا ہے۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ سے جنوبی ایشیا میں بھی توانائی کا بحران مسلسل بڑھ رہا ہے،
    بھارت میں گھریلو استمعال کے لئے ایل پی جی کا حصول شہریوں کے لئے چیلنج بن گیا ہے۔

    بھارت کے شہر حیدرآباد میں پولیس نے قبرستان میں چھپائے گئے414 گیس سلنڈرز برآمد کر لیے ہیں۔
    بلیک مارکیٹنگ اور چوری کو روکنے کے لئے صرف ایک روز میں تقریباً 2,600 چھاپے مارے گئے اور 700 گیس سلنڈرز ضبط کیے گئے ہیں۔

    پولیس نے گیس سلنڈر چھپانے میں ملوث 10 افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے، جبکہ اس واقعہ میں شامل ایک ڈسٹری بیوٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ سلنڈرز بلیک مارکیٹ میں فروخت کیے جا رہے تھے۔ کمرشل گیس سلنڈرز تقریباً 2100 بھارتی روپے میں ملتا ہے، اسے غیر قانونی طور پر 6000 روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔

    خلیج فارس میں جاری جنگ کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر سپلائی چین میں خلل پڑا ہے۔ بھارت چونکہ اپنی تقریباً 60 فیصد ایل پی جی ضروریات درآمد کرتا ہے، اس لیے اس بحران کا اثر بھارت میں زیادہ شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔

  • جنگ، سینسر شپ اور عالمی معیشت کا زلزلہ

    جنگ، سینسر شپ اور عالمی معیشت کا زلزلہ

    حالیہ جنگ کے دوران امریکہ، اسرائیل، ایران اور کئی عرب ممالک میں میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ اسرائیل میں حساس مقامات کی تصویر کشی پر سخت نگرانی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی کئی طرح کی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ اسی وجہ سے میدان جنگ کی مکمل اور آزادانہ معلومات دنیا تک پہنچنا مشکل ہو گئی ہیں۔

    کچھ سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر محدود معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ اس جنگ پر روزانہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں دنیا سے جنگوں کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا، مگر موجودہ حالات ایک ایسے تنازع کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس کے اثرات خطے سے نکل کر عالمی سیاست اور معیشت تک پہنچ رہے ہیں۔

    امریکہ اور یورپ کے کئی شہروں میں اس جنگ کے خلاف احتجاج بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

    ایران کے مختلف علاقوں پر بڑے پیمانے پر حملوں کی اطلاعات ہیں۔ رہائشی علاقوں، بینکوں، توانائی کے مراکز، پانی کے منصوبوں اور دیگر شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچنے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اس کے باوجود ایران کے کئی شہروں میں معمولات زندگی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہیں۔ بعض علاقوں میں بجلی اور تیل کی فراہمی متاثر ہونے اور پینے کے پانی کی قلت کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔

    سابق امریکی وزیر خارجہ اینتھنی بلنکن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیلی قیادت ماضی میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتی رہی ہے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق ایران کے میزائل پروگرام اور یورینیم افزودگی کے حوالے سے عالمی سطح پر مسلسل بحث جاری ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ مغربی ممالک اسے سکیورٹی خدشات سے جوڑتے ہیں۔

    اس جنگ کے ایک اہم پہلو میں عوامی ردعمل بھی شامل ہے۔ امریکہ میں یہ تنازع خاصا غیر مقبول قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران میں بھی داخلی مسائل، معاشی مشکلات اور سیاسی اختلافات موجود ہیں، لیکن بیرونی دباؤ کے باعث عوام کی ایک بڑی تعداد اپنی ریاست کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق ایسے حالات میں اکثر قوموں کے اندرونی اختلافات پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور بیرونی خطرہ مرکزی مسئلہ بن جاتا ہے۔

    خطے کی سیاست میں اسرائیل اور ایران کا تنازع کئی دہائیوں سے موجود ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل ایران کو اپنے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک چیلنج سمجھتا ہے، جبکہ ایران اسرائیل کی پالیسیوں کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ اسی کشمکش نے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو مسلسل متاثر کیا ہے۔

    اس تنازع کے اثرات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں رہے۔ توانائی کی عالمی منڈی، بحری تجارت اور فضائی سفر بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی ایئر لائنز کو پروازیں منسوخ کرنی پڑی ہیں جبکہ خلیج کے اہم بندرگاہی راستوں پر سرگرمی کم ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عالمی مارکیٹوں میں تیل، سونے اور ایل این جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور مالیاتی نظام پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس وقت دنیا پہلے ہی معاشی دباؤ، توانائی کے بحران اور سیاسی کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے۔

    یہ جنگ صرف زمین پر نہیں لڑی جا رہی بلکہ سائبر دنیا اور خلا تک پھیل چکی ہے۔ سائبر حملوں، سیٹلائٹ نگرانی اور جدید دفاعی نظاموں نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عالمی طاقتیں اپنی تکنیکی برتری کے ذریعے جنگی میدان میں برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    اگر یہ کشیدگی بڑھتی رہی تو اس کے اثرات آنے والے برسوں تک عالمی سیاست، توانائی کی منڈیوں اور معاشی نظام پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی جنگیں صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ وہ دنیا کے سیاسی اور معاشی نقشے کو بھی بدل دیتی ہیں۔

     

  • اسرائیل، ایران جنگ، ایندھن کا ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے پاکستان حکومت کا حکومت کی قومی شاہراہوں پر نئی حدِ رفتار نافذ، کم رفتار سے ایندھن کی بچت کیسے ممکن؟

    اسرائیل، ایران جنگ، ایندھن کا ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے پاکستان حکومت کا حکومت کی قومی شاہراہوں پر نئی حدِ رفتار نافذ، کم رفتار سے ایندھن کی بچت کیسے ممکن؟

    حکومت پاکستان کی ہدایات پر ایندھن کی بچت اور توانائی کے مؤثر استعمال کے پیش نظر موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر گاڑیوں کے لیے حدِ رفتار کم کر دی گئی ہے۔ موٹروے پولیس کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ایندھن کی کھپت کم کرنا اور کفایت شعاری پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

    ترجمان سینٹرل ریجن موٹروے پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ موٹرویز پر کار اور لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل کی حدِ رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح مسافر بردار گاڑیوں اور ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکل کے لیے رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔

    قومی شاہراہوں پر بھی رفتار میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ کار اور لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل کے لیے حدِ رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کر دی گئی ہے جبکہ مسافر بردار اور مال بردار گاڑیوں کے لیے رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 65 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔

    نئی رفتار پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی

    موٹروے پولیس کے مطابق نئی حدِ رفتار پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانے بھی کیے جا رہے ہیں۔ موٹروے ایم ٹو پر ایک شہری کو 115 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلانے پر 2500 روپے جرمانہ کیا گیا جبکہ ایک مسافر بس کو 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلانے پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صرف جرمانے عائد کرنا نہیں بلکہ ڈرائیورز کو نئی رفتار کی حدود سے آگاہ کرنا اور توانائی کے استعمال میں کمی لانا ہے۔

    قومی کفایت شعاری پالیسی کا حصہ

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ روز قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے قومی کفایت شعاری پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ اس پالیسی کے تحت سرکاری اخراجات کم کرنے اور توانائی کے استعمال میں کمی لانے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

    اعلان کے مطابق تمام سرکاری گاڑیوں کو اگلے دو ماہ کے لیے ایندھن کی فراہمی میں پچاس فیصد تک کمی کی جائے گی جبکہ سرکاری اداروں میں ہفتے میں چار دن کام کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

    قوم سے ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پورا خطہ جنگی صورتحال کی لپیٹ میں ہے اور امن کو لاحق خطرات ہم سب کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہیں۔

    وزیراعظم کے مطابق پاکستان کی معیشت بڑی حد تک خلیجی ممالک سے آنے والے تیل اور گیس پر انحصار کرتی ہے، اسی لیے عالمی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر ملک پر پڑتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ انہیں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس سے کہیں زیادہ اضافے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم حکومت نے درمیانی راستہ اختیار کیا تاکہ عوام پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔

    رفتار کم کرنے سے ایندھن کیسے بچتا ہے؟

    ماہرین کے مطابق گاڑی کی رفتار اور ایندھن کے استعمال کے درمیان واضح تعلق موجود ہے۔ جیسے جیسے رفتار بڑھتی ہے، گاڑی کو ہوا کی مزاحمت زیادہ برداشت کرنا پڑتی ہے۔ اس مزاحمت پر قابو پانے کے لیے انجن کو زیادہ طاقت استعمال کرنا پڑتی ہے جس سے ایندھن زیادہ خرچ ہوتا ہے۔

    تحقیقی مطالعات کے مطابق زیادہ تر گاڑیوں میں بہترین فیول اکانومی تقریباً 60 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان رفتار پر حاصل ہوتی ہے۔ اس رفتار سے زیادہ تیز چلنے پر فیول کھپت تیزی سے بڑھنے لگتی ہے۔

    ماہرین کا اندازہ ہے کہ رفتار میں ہر 10 کلومیٹر فی گھنٹہ اضافے کے ساتھ فیول کھپت میں تقریباً 7 سے 10 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر گاڑی 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہو تو وہ 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ایندھن استعمال کرتی ہے۔

    بھاری گاڑیوں میں یہ فرق اور بھی زیادہ ہو جاتا ہے کیونکہ زیادہ وزن کی وجہ سے زیادہ رفتار برقرار رکھنے کے لیے زیادہ طاقت درکار ہوتی ہے۔

    حادثات میں کمی کا امکان

    ماہرین کے مطابق رفتار میں کمی کا ایک اور فائدہ سڑکوں پر حادثات میں کمی بھی ہے۔ معتدل رفتار نہ صرف ڈرائیور کو بہتر کنٹرول فراہم کرتی ہے بلکہ اچانک بریک یا ٹکراؤ کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

    اسی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک میں توانائی کی بچت اور ٹریفک سیفٹی دونوں مقاصد کے لیے ہائی ویز پر رفتار کی حد کو ایک اہم پالیسی ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

    کیا اس فیصلے سے واقعی فرق پڑے گا؟

    توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈرائیور نئی رفتار کی حدود پر واقعی عمل کریں تو اس سے ملک میں ایندھن کی مجموعی کھپت میں قابلِ ذکر کمی آ سکتی ہے۔ تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئی پالیسی پر عملدرآمد کس حد تک مؤثر بنایا جاتا ہے۔

    اگر رفتار کم رکھنے کی عادت عام ہو جائے تو نہ صرف ایندھن کی بچت ممکن ہے بلکہ سڑکوں پر سفر بھی زیادہ محفوظ ہو سکتا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسے پالیسی فیصلوں کے پس منظر اور ان کے سائنسی پہلوؤں کو سادہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ عوام کو سمجھ آ سکے کہ روزمرہ زندگی میں ہونے والی یہ تبدیلیاں کیوں اہم ہوتی ہیں۔

  • اسرائیل، ایران جنگ: 85 ممالک میں پیٹرول مہنگا، تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ کس ملک میں؟

    اسرائیل، ایران جنگ: 85 ممالک میں پیٹرول مہنگا، تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ کس ملک میں؟

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر 28 فروری کو شروع ہونے والے حملوں کے بعد دنیا بھر میں توانائی کی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

    اس جنگ کے اثرات اب عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں اور دنیا کے کم از کم 85 ممالک میں ایندھن مہنگا ہو چکا ہے۔

    الجزیرہ نے عالمی ادارے گلوبل پیٹرول پرائسز کے تجزیاتی اعداد و شمار کی روشنی میں اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد درجنوں ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ کئی ممالک میں قیمتوں کا اعلان مہینے کے اختتام پر کیا جاتا ہے، اس لیے اپریل میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق امریکہ میں پیٹرول 20 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ فروری کے دوران پیٹرول کی فی گیلن اوسط قیمت 2.94 ڈالر تھی جو اب بڑھ کر 3.58 ڈالر ہو گئی ہے۔ یعنی تقریباً 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے فیول پرائس ٹریکر کے مطابق مختلف ریاستوں میں قیمتیں مختلف ہیں۔

    تاہم کئی ریاستوں میں فی گیلن قیمت 4 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ کیلیفورنیا میں یہ 5 ڈالر فی گیلن سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، جو گزشتہ دو برس کی بلند ترین سطح ہے۔

    تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ویتنام میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا، جہاں 23 فروری کو 95 آکٹین پیٹرول کی قیمت 0.75 ڈالر فی لیٹر تھی جو 9 مارچ تک بڑھ کر 1.13 ڈالر ہو گئی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقی ایشیا کے مقابلے میں جنوبی ایشیا کے ممالک اس بحران سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے پاس محدود مالی وسائل اور کم اسٹریٹیجک ذخائر موجود ہیں۔

    بنگلہ دیش کی حکومت نے توانائی بچانے کے لیے تمام سرکاری و نجی جامعات فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

    پاکستان میں بھی ایندھن کی بچت کے لیے سرکاری دفاتر میں چار روزہ ورک ویک متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ تعلیمی اداروں کو بند کرنے اور 50 فیصد ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    لاؤس میں قیمتوں میں 33 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کمبوڈیا میں 19 فیصد اور آسٹریلیا میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے

    توانائی کے ماہرین کے مطابق ایشیائی ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کی بڑی توانائی سپلائی خلیج فارس کی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آتی ہے، جو جنگ کے بعد عملی طور پر بند ہو چکی ہے۔

    یہ آبی راستہ خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملاتا ہے اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کے لیے عالمی منڈی تک پہنچنے کا بنیادی راستہ ہے۔

    جنگی صورتحال کو دیکھتے ہوئے جاپان نے 8 مارچ کو اپنے اسٹریٹیجک آئل ریزرو کے ذخائر کو ممکنہ استعمال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی، جبکہ جنوبی کوریا نے اگلے ہی روز پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر 30 برس میں پہلی مرتبہ زیادہ سے زیادہ حد مقرر کر دی۔

    امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے اثرات سے یورپ بھی محفوظ نہیں رہا۔

    یورپ میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث گروپ آف سیون (جی سیون) کے وزرائے خزانہ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے صارفین پر دباؤ کم کرنے کے لیے اسٹریٹیجک ذخائر کا 20 سے 30 فیصد تک جاری کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل مہنگا ہو تو خوراک بھی مہنگی ہوتی ہے اور دیگر اشیائے ضرورت کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

    کیونکہ زرعی کھاد، فصلوں کی نقل و حمل اور سپلائی چین کے ہر مرحلے میں توانائی استعمال ہوتی ہے۔

    ماہر معاشیات ڈیوڈ مک ولیمز کے مطابق عالمی معیشت کی اصل بنیاد نقل و حمل ہے۔ اشیا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا دراصل لاجسٹکس اور سپلائی چین کا مسئلہ ہے اور نقل و حمل بنیادی طور پر توانائی پر منحصر ہے۔

    جنگ نے عالمی معیشت کو براہ راست متاثر کیا ہے اور غیر یقینی کی کیفیت نے عالمی کساد بازاری کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔

    معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی اور بے روزگاری کے امتزاج یعنی اسٹگفلیشن کو جنم دے سکتا ہے۔

    ماضی میں 1973، 1978 اور 2008 کے بڑے تیل بحرانوں کے بعد عالمی معاشی سست روی یا کساد بازاری دیکھنے میں آئی تھی۔

    کم آمدنی والے ممالک میں جہاں لوگ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں اور جہاں اناج اور کھاد کی بڑی مقدار درآمد کی جاتی ہے، وہاں تیل مہنگا ہونے سے خوراک کی قلت کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

    خام تیل اور گیس صرف ایندھن کے طور پر ہی استعمال نہیں ہوتے بلکہ ہزاروں روزمرہ مصنوعات کی تیاری میں بھی بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

    معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پلاسٹک کی بوتلیں، خوراک کی پیکنگ، موبائل فون کے کور اور طبی سرنجیں سب خام تیل سے بننے والے پلاسٹک سے تیار ہوتی ہیں۔

    اسی طرح پالئیسٹر، نائلون اور ایکریلک جیسے مصنوعی کپڑے بھی خام تیل سے تیار کیے جاتے ہیں، جو اسپورٹس ویئر سے لے کر قالین تک مختلف مصنوعات میں استعمال ہوتے ہیں۔

    کاسمیٹکس کی صنعت بھی بڑی حد تک پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کرتی ہے، جن سے ویسلین، لپ اسٹک اور دیگر بیوٹی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

  • اسرائیل، ایران جنگ: عالمی آبی گزرگاہوں کی بندش سے پاکستان میں ایندھن کی قلت، معاشی دباؤ کا خدشہ کیوں؟

    اسرائیل، ایران جنگ: عالمی آبی گزرگاہوں کی بندش سے پاکستان میں ایندھن کی قلت، معاشی دباؤ کا خدشہ کیوں؟

    ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد لڑائی جوں جوں طویل ہوتی جارہی ہے، پاکستان سمیت کئی ممالک پر معاشی دبائو اور ممکنہ مہنگائی کے خطرات منڈ لارہے ہیں۔

    پاکستان کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں آئندہ 28 روز کا تیل کا زخیرہ موجود ہے اور سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی فراہمی کا یقین دلایا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوانِ بالا (سینیٹ) کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بدھ 4 مارچ کو بریفنگ میں بتایا تھا کہ ملک میں اس وقت 28 روز کا ڈیزل اور پیٹرول دستیاب ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی کسی قسم کی قلت نہیں ہے۔

    ماہرین کے مطابق پاکستان تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، خطے میں جاری جنگ کی وجہ سے خلیج فارس یعنی آبنائے ہرمزکے راستے تیل کی فراہمی تقریبا معطل ہے۔

    ماہرین کہتے ہیں اگر کشیدگی بحیرہ احمر تک پھیل گئی اور ترسیل رک گئی تو پاکستان کے لیے متبادل راستے محدود ہو جائیں گے۔

    ایسی صورت حال میں تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہوگا، اگرتیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوسکتا ہے، ٹرانسپورٹ اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اور مختصر عرصہ میں مہنگائی کی شرح دگنی ہوسکتی ہے ۔

    معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی بڑھتی قیمتوں کا براہ راست اثرروپے کی قیمت پر بھی پڑے گا،

    درآمدی تیل کی ادائیگی ڈالر میں کی جاتی ہے اس لئے ڈالر کی طلب بڑھے گی،روپے کی قدر کمزور ہو سکتی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر براہ راست متاثر ہوں گے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری جنگ کے معاشی اثرات تیزی سے پھیل رہے ہیں ، تیل اور کارگو کی سپلائی مشکل ہوتی جائے گی۔

    بگڑتی صورت حال سے خلیجی ممالک پہلے متاثر ہورہے ہیں اور منفی اثرات محض خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔

    رائٹر کے مطابق ایران کے حملوں کے بعد دنیا کی بڑی شپنگ لاجسٹک کمپنی نے خلیجی ممالک کے لیے کارگو بکنگ بندکردی۔

    کارگوبکنگ بند ہونے سے یو اے ای ، عمان، عراق، کویت، قطر اور بحرین شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

    شپنگ لاجسٹک کمپنی کے مطابق سعودی عرب کے بعض شہروں کے لیے بھی بکنگ معطل ہوگئی ہے۔

    شپنگ لاجسٹک کمپنی کا کہنا ہےکہ یہ فیصلہ تاحکم ثانی نافذ العمل رہےگا جبکہ جدہ اورکنگ عبداللہ بندرگاہوں پرکام جاری رہےگا۔

     عمان کی سلالہ بندرگاہ پر سروس معمول کے مطابق رہےگی، اردن اور لبنان کے لیے بھی سامان کی بکنگ جاری رہےگی۔

    دوسری جانب پاکستان سے خلیجی ممالک تجارتی مال بھیجنے کے لیے بھاری وار رِسک سرچارج کا نفاذ کیا گیا ہے۔ شپنگ کمپنی ہیپگ لوائیڈ لائن نے فی کنٹینر 1500 سے 3500 ڈالر وار رِسک سرچارج لگادیا ہے۔

    شپنگ کمپنی کے مطابق نئی بکنگ پر وار رِسک سرچرج دینا ہوگا۔ اس کے علاوہ سی ایم ای شپنگ لائن نے 4 ہزار ڈالر تک ایمرجنسی سرچارج نافذ کیا ہے۔

    کمپنی کے مطابق خلیج فارس کے علاوہ بحیرہ احمر کنٹینر جانے پر بھی رقم دینا ہوگی۔

    عالمی سرمایہ کاری بینک جے پی مورگن نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہا تو عراق اور کویت سے خام تیل کی برآمدات چند ہی دنوں میں معطل ہونا شروع ہو سکتی ہیں۔

    جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے آٹھویں دن تک یومیہ 33 لاکھ بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

    بینک کی جانب سے جاری کردہ نوٹ کے مطابق عراق کے پاس تقریباً تین دن جبکہ کویت کے پاس تقریباً 14 دن کا وقت ہے، جس کے بعد انہیں آبنائے ہرمز کے راستے گزرنے والی اپنی خام تیل کی برآمدات روکنا پڑیں گی۔

    جے پی مورگن کے مطابق اگر بندش طویل ہو گئی تو نقصانات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    اندازے کے مطابق 15ویں دن تک یومیہ 38 لاکھ بیرل جبکہ 18ویں دن تک یومیہ 47 لاکھ بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بے چینی، قیمتوں میں نمایاں اضافے اور عالمی معیشت پر منفی اثرات کا سبب بن سکتی ہے۔

  • ایران، امریکہ، اسرائیل تنازع: آبنائے ہرمز سے خام تیل لے جانے والے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں تعطل، عالمی معاشی دباؤ کا خدشہ

    ایران، امریکہ، اسرائیل تنازع: آبنائے ہرمز سے خام تیل لے جانے والے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں تعطل، عالمی معاشی دباؤ کا خدشہ

    ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ اب چوتھے روز میں داخل ہو چکی ہے۔

    ایران نے جوابی حملوں میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے علاوہ تیل کے ذخائر کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

    خلیج فارس، جو دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر اور برآمدی مراکز کا حامل خطہ ہے، اس جنگ کے باعث عالمی معیشت اور توانائی کے مستقبل کے حوالے سے مرکزِ نگاہ بن چکا ہے۔

    پیر کو ایران کی جانب سے سعودی عرب کی راس تنورا میں بڑی آئل ریفائنری ‘آرامکو’ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ریفائنری کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور تیل کی تنصیبات یا اہم سمندری راستے نشانہ بنتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

    خلیج فارس اور اس کے اطراف میں دنیا کے تیل کے ذخائر کا تقریباً نصف حصہ موجود ہے، جہاں سے یومیہ 20 سے 25 ملین بیرل تیل عالمی مارکیٹ کو فراہم کیا جاتا ہے۔

    ان ممالک میں سب سے زیادہ ذخائر سعودی عرب کے پاس ہیں، جن کا حجم تقریباً 267 ارب بیرل ہے۔

    سعودی عرب نہ صرف دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہے بلکہ اس کے پاس جدید ریفائنری نظام بھی موجود ہے جو خام تیل کو مختلف مصنوعات میں تبدیل کرتا ہے۔

    سعودی عرب میں تقریباً 10 بڑی ریفائنریز کام کر رہی ہیں، جن میں راس تنورا، یسریف اور ساتورپ ریفائنری شامل ہیں۔ یہ ریفائنریز مجموعی طور پر روزانہ تقریباً 30 لاکھ بیرل تیل کو پروسیس کرتی ہیں۔

    آبنائے ہرمز: دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ

    خلیج فارس سے نکلنے والا زیادہ تر تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔ یہ سمندری راستہ دنیا کی سب سے اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔

    اگر اس راستے کو جنگ، حملوں یا فوجی کارروائیوں کی وجہ سے بند یا غیر محفوظ کر دیا جائے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں شدید کمی واقع ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہوگا اور عالمی معیشت پر بھی براہ راست دباؤ بڑھے گا۔

    الجزیرہ کی خبر کے مطابق قطر کی جانب سے ایل این جی کی فراہمی روکنے پر عالمی مارکیٹ میں گیس کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    برطانیہ اور کچھ ممالک میں گیس کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایشیائی ممالک میں 39 فیصد تک اضافہ سامنے آیا ہے۔

    اگر بڑے پیمانے پر حملے ہوتے ہیں تو تیل کی قیمتیں 100 سے 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اگر خلیجی ممالک سے تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو دنیا کے دیگر بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک، جیسے امریکہ اور روس، اپنی پیداوار بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ کئی ممالک اپنے اسٹریٹجک تیل ذخائر استعمال کر سکتے ہیں تاکہ سپلائی میں کمی کو عارضی طور پر پورا کیا جا سکے۔

    تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج فارس کی اہمیت کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ممکن نہیں، کیونکہ یہ خطہ اب بھی عالمی توانائی سپلائی کا بنیادی ستون ہے۔

    ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

    خلیج فارس کی تیل تنصیبات، ریفائنریز اور اہم سمندری راستے عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر یہ تنازع مزید بڑھتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔

    موجودہ صورتحال میں عالمی منڈی، حکومتیں اور توانائی کمپنیاں حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس تنازع کا مستقبل عالمی توانائی کے استحکام کا تعین کرے گا۔

  • اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے، کون سے ممالک کی فضائی حدود بند، پروازیں منسوخ؟

    اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے، کون سے ممالک کی فضائی حدود بند، پروازیں منسوخ؟

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کا آسمان معمول کے مطابق نہیں رہا۔ زمین پر ہونے والی عسکری کارروائیوں کا اثر سب سے پہلے فضا میں نظر آتا ہے۔ کچھ ممالک نے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دیں، جبکہ کچھ نے انہیں جزوی طور پر محدود کر دیا۔

    ایران ان ممالک میں شامل ہے جہاں عسکری کشیدگی، میزائل حملوں اور ایئر ڈیفنس سسٹمز کی سرگرمیوں کے باعث سویلین پروازوں کے لیے خطرات بڑھ گئے۔ ایسے حالات میں کمرشل طیاروں کی پرواز جاری رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ اسی لیے حفاظتی بنیادوں پر فضائی حدود بند کی جاتی ہیں۔

    اسرائیل نے بھی قومی سلامتی کی صورتحال کے پیش نظر اپنی فضائی سرگرمیوں کو محدود کیا۔ جب میزائل دفاعی نظام فعال ہوں اور فضائی خطرات موجود ہوں تو سویلین اور عسکری سرگرمیوں کو الگ رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    عراق جغرافیائی طور پر تنازع کے بیچ میں واقع ہے۔ اگر خطے میں میزائل یا ڈرون حملے ہو رہے ہوں تو ان کے راستے اکثر عراقی فضا سے گزرتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہاں بھی فضائی حدود متاثر ہوتی ہیں۔

    قطر، بحرین اور کویت جیسے خلیجی ممالک نے علاقائی سکیورٹی خدشات کے تحت احتیاطی اقدامات کیے۔ یہ ممالک عالمی فضائی روٹس کا اہم حصہ ہیں، اس لیے کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری فیصلے ناگزیر ہو جاتے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات اور شام میں مکمل بندش کے بجائے مخصوص علاقوں اور بلندیوں پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ کچھ روٹس تبدیل کیے گئے تاکہ خطرناک فضائی گزرگاہوں سے بچا جا سکے۔

    جب مشرقِ وسطیٰ کے یہ اہم فضائی کوریڈور بند ہوتے ہیں تو اس کا اثر عالمی سطح پر محسوس ہوتا ہے۔ یورپ سے ایشیا جانے والی پروازیں متبادل راستے اختیار کرتی ہیں، اکثر ترکی، وسطی ایشیا یا شمالی فضائی راستوں سے گزرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں پرواز کا دورانیہ بڑھتا ہے، ایندھن کا خرچ زیادہ ہوتا ہے، اور ٹکٹ مہنگے ہو جاتے ہیں۔

    ایسے مواقع پر ایک اہم اصطلاح سامنے آتی ہے: NOTAM، یعنی Notice to Air Missions۔ یہ ایک باضابطہ اطلاع ہوتی ہے جس کے ذریعے دنیا بھر کی ایئرلائنز کو بتایا جاتا ہے کہ مخصوص فضائی حدود غیر محفوظ ہیں۔ جب NOTAM جاری ہوتا ہے تو عالمی ہوا بازی کا نظام فوراً متحرک ہو جاتا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان نے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند نہیں کیں، لیکن انڈیا کے رجسٹرڈ طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی حدود بند ہیں۔ یہ فیصلہ براہ راست موجودہ عسکری صورتحال کا نتیجہ نہیں بلکہ سفارتی اور سکیورٹی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس کے باعث انڈیا سے یورپ اور خلیجی ممالک جانے والی پروازوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں، جس سے لاگت اور وقت دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

    یہ تمام صورتحال ایک اہم حقیقت کو واضح کرتی ہے۔ آسمان صرف جغرافیہ نہیں، سیاست بھی ہے۔ جب زمین پر کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا پہلا عکس فضا میں نظر آتا ہے۔ ہر بند فضائی حدود ایک حفاظتی اقدام بھی ہوتی ہے اور ایک سیاسی پیغام بھی۔

    جہاز براعظموں کو جوڑتے ہیں، فاصلے کم کرتے ہیں، تجارت اور سفر کو ممکن بناتے ہیں۔ مگر جب تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو سب سے پہلے یہی راستے خاموش ہو جاتے ہیں۔ اور اسی خاموشی میں عالمی سیاست کی گونج سنائی دیتی ہے۔

  • امریکی سفیر نے اسرائیل کے مشرقِ وسطیٰ پر قبضے سے متعلق بیان کیوں دیا؟

    امریکی سفیر نے اسرائیل کے مشرقِ وسطیٰ پر قبضے سے متعلق بیان کیوں دیا؟

    اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی کے اس بیان پر مسلم دنیا میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے وسیع علاقے پر کنٹرول کرے تو یہ ‘ٹھیک ہوگا’۔

    کئی اسلامی ممالک نے اس بیان کو خطرناک، اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    برطانوی اخبار ‘دی گارجین’ کی ایک رپورٹ کے مطابق مائیک ہکابی، جو ایک عیسائی پادری اور امریکی ریاست آرکنساس کے سابق گورنر بھی رہ چکے ہیں، طویل عرصے سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کے کھلے حامی رہے ہیں۔

    جمعے کو امریکی قدامت پسند مبصر ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہکابی نے بائبل کی ان آیات کا حوالہ دیا جنہیں بعض یہودی اور انجیلی عیسائی اس بات کی علامت سمجھتے ہیں کہ دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کا علاقہ یہودیوں کا خدائی حق ہے۔

    انٹرویو میں ہکابی نے کہا:’اگر وہ پورا علاقہ لے لیتے تو بھی ٹھیک ہوتا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ آج ہم اس بارے میں بات نہیں کر رہے’۔

    انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم اس زمین کی بات کر رہے ہیں جہاں اسرائیل اس وقت موجود ہے اور امن چاہتا ہے’۔

    وہ اردن، شام، عراق یا کسی اور ملک پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے۔ وہ صرف اپنے عوام کا تحفظ چاہتے ہیں۔

    بعد ازاں ہکابی نے کہا کہ ان کا بیان “کسی حد تک مبالغہ آمیز” تھا، تاہم ان کے اس بیان کہ یہودیوں کو مشرقِ وسطیٰ کے وسیع علاقے پر خدائی حق حاصل ہے، نے مسلم ممالک میں شدید ردعمل پیدا کیا۔

    دی گارجین کے مطابق اردن، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، مصر، ترکی، انڈونیشیا اور پاکستان سمیت متعدد اسلامی ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ

    ‘یہ خطرناک اور اشتعال انگیز بیانات ہیں جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔’

    اس کے جواب میں اسرائیل میں امریکی سفارت خانے نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہکابی کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔

    سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا: ‘امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ بیان کو ایک ادھورے اور ترمیم شدہ حصے کی بنیاد پر پیش کیا گیا’۔

    مکمل انٹرویو میں سفیر ہکابی واضح طور پر کہتے ہیں کہ اسرائیل اپنی موجودہ سرحدوں کو تبدیل کرنے کا خواہاں نہیں ہے۔ اس کے برعکس کوئی بھی تشریح غلط ہوگی۔

    اسی انٹرویو میں ہکابی نے مقبوضہ مغربی کنارے کے تقریباً 60 فیصد حصے، جسے ایریا سی کہا جاتا ہے اور جو اسرائیل کے براہ راست کنٹرول میں ہے، کو اسرائیل کا ‘لازمی حصہ’ قرار دیا۔

    جو بظاہر واشنگٹن کی اس سرکاری پالیسی سے متصادم ہے جس میں مقبوضہ علاقوں کے الحاق کی مخالفت کی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا ‘ایریا سی اسرائیل ہے’۔

    ہکابی نے قدیم جغرافیائی اصطلاحات “یہودیہ اور سامریہ” کی بھی وسیع تشریح پیش کی، جو اسرائیل مغربی کنارے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا آپ بنیادی طور پر دریائے اردن سے لے کر بحیرہ روم اور لبنان کی سرحد تک کے علاقے کی بات کر رہے ہیں۔

    اسرائیل نے بہت سی زمین واپس کی ہے۔ انہوں نے سینائی مصر کو دے دیا، انہوں نے غزہ چھوڑ دیا، اور بہت سی قربانیاں دی ہیں۔

    برطانوی اخبار کے مطابق یہ انٹرویو امریکی قدامت پسند حلقوں کے اندر اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے پائے جانے والے اختلافات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

    ٹکر کارلسن نے ہکابی سے بار بار سوال کیا کہ آیا یہ مبینہ بائبلی حق نسلی بنیاد پر ہے یا مذہبی بنیاد پر؟۔

    اس پر ہکابی نے اشارہ دیا کہ یہ حق دونوں بنیادوں پر ہو سکتا ہے، یعنی وہ افراد جو نسلی طور پر یہودی ہیں یا وہ جو بعد میں یہودیت قبول کریں، دونوں اس حق کے حامل ہو سکتے ہیں۔

    مبصرین کے مطابق، اس بیان نے پہلے سے کشیدہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں مزید سفارتی تناؤ پیدا کر دیا ہے اور اس پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔

    اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی کے اس بیان پر متعدد عرب ممالک نے شدید مذمت کی ہے

    جس میں انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے تقریباً پورے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لے تو یہ ‘ٹھیک ہوگا’۔

    اسکائی نیوز کے مطابق امریکی سفیرکے بیان کے فوراً بعد مصر، اردن، سعودی عرب، کویت اور عمان سمیت متعدد عرب ممالک نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عرب لیگ نے بھی ان ریمارکس کی مذمت کی۔

    مصر کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہکابی کے ریمارکس بین الاقوامی قانون کی ‘کھلی خلاف ورزی’ ہیں،

    اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی دیگر عرب سرزمین پرخودمختاری حاصل نہیں ہے۔

    دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ان بیانات کو “انتہا پسندانہ اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ سے اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔

    22 رکنی اتحاد عرب لیگ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نوعیت کے بیانات، جو ‘انتہا پسندانہ اور کسی مضبوط بنیاد سے محروم ہیں، صرف جذبات کو بھڑکانے اور مذہبی و قومی احساسات کو مشتعل کرنے کا باعث بنتے ہیں’۔

    اسکائی نیوز کے مطابق اسرائیل اور امریکا کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ 1948 میں قیام کے بعد سے اسرائیل کی سرحدوں کو مکمل طور پر بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا،

    اور عرب ہمسایہ ممالک کے ساتھ اس کی سرحدیں مختلف جنگوں، الحاق، جنگ بندی اور امن معاہدوں کے بعد تبدیل ہوتی رہی ہیں۔

    تاہم سات اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے کے بعد شروع ہونے والی غزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی اور تنازع مزید بڑھ گیا ہے۔

  • صومالیہ، صومالی لینڈ اور اسرائیل: ایک نیا عالمی تنازع، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب

    صومالیہ، صومالی لینڈ اور اسرائیل: ایک نیا عالمی تنازع، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب

    صومالیہ مشرقی افریقہ کا ایک اہم ملک ہے۔ یہ ملک کئی برسوں سے مشکلات کا شکار رہا ہے۔ خانہ جنگی، غربت اور سیاسی عدم استحکام نے اسے کمزور کیا۔ سن 1991 میں صومالیہ کے شمالی حصے نے خود کو ایک الگ ریاست قرار دیا۔ اس علاقے کو صومالی لینڈ کہا جاتا ہے۔

    صومالی لینڈ نے اپنی حکومت بنائی۔ اپنی پارلیمان قائم کی۔ اپنی پولیس اور سکیورٹی فورس بنائی۔ مگر اس کے باوجود دنیا کے کسی بڑے ملک نے اسے آزاد ریاست تسلیم نہیں کیا۔ اقوام متحدہ اور افریقی ممالک کے نزدیک صومالی لینڈ اب بھی صومالیہ کا حصہ ہے۔

    حالیہ دنوں میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ اسرائیل صومالی لینڈ کو ایک الگ ملک کے طور پر تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ فیصلہ ابھی مکمل طور پر نافذ نہیں ہوا، مگر محض اس امکان نے شدید ردِعمل پیدا کر دیا۔

    صومالیہ کی حکومت نے اسے اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دیا۔

    صومالی لینڈ کا مسئلہ ایک پیچیدہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ اسرائیل کے ممکنہ فیصلے نے اسے مزید حساس بنا دیا ہے۔ مسلم دنیا کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ صومالیہ کی وحدت کو نقصان پہنچانے والا کوئی بھی قدم ناقابل قبول ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ عالمی سیاست میں مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔

    صومالی لینڈ کیا ہے اور تنازع کیوں پیدا ہوا؟

    صومالیہ کا کہنا ہے کہ اس کی سرزمین کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ اس کی اجازت کے بغیر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایک خطہ الگ ہونے لگے تو ملک ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی خوف صومالیہ کو پریشان کر رہا ہے۔

    سیاسی ماہرین کے مطابق اسرائیل کی دلچسپی کی وجہ مذہب نہیں بلکہ سیاست اور سکیورٹی ہے۔ صومالی لینڈ کا محلِ وقوع بہت اہم ہے۔ یہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے قریب ہے۔ یہ راستہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے بڑی طاقتیں اس علاقے پر نظر رکھتی ہیں۔

    مسلم ممالک کا ردِعمل اور صومالیہ کی حمایت

    اسرائیل کے اس ممکنہ فیصلے پر مسلم دنیا میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ پاکستان سب سے پہلے ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے کھل کر صومالیہ کی حمایت کی۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے ساتھ کھڑا ہے۔

    پاکستان کے ساتھ ترکیہ، سعودی عرب، ایران، قطر، مصر اور الجزائر نے بھی کھل کر صومالیہ کی حمایت کی۔ ان ممالک نے کہا کہ کسی علیحدگی پسند خطے کو تسلیم کرنا ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں۔

    ترکیہ نے کہا کہ صومالیہ ایک خودمختار ملک ہے۔ اس کی سرحدوں کا احترام ضروری ہے۔ سعودی عرب نے اسلامی یکجہتی پر زور دیا۔ ایران نے اسرائیل کے اقدام کو اشتعال انگیز قرار دیا۔ قطر، مصر اور الجزائر نے بھی صومالیہ کے مؤقف کی تائید کی۔

    کئی دیگر مسلم ممالک نے سفارتی زبان میں اسرائیل کے اقدام کی مخالفت کی۔ ان ممالک نے نرم الفاظ استعمال کیے۔ مگر مؤقف واضح رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری ضروری ہے۔ افریقہ میں سرحدوں کو زبردستی بدلنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

    ملائشیا، انڈونیشیا اور اردن جیسے ممالک نے کہا کہ صومالیہ کے مسئلے کو بات چیت سے حل کیا جانا چاہیے۔ ان ممالک کے نزدیک صومالی لینڈ کو الگ ریاست تسلیم کرنا ایک غلط مثال قائم کرے گا۔

    صومالیہ کے صدر نے پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حمایت صومالیہ کے لیے بہت اہم ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک سفارتی تنازع نہیں بلکہ گہری سیاسی اہمیت رکھتا ہے۔

    صومالیہ کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس پیر کو طلب کرلیا ہے۔

    بین الاقوامی قانون، افریقی اصول اور اصل مسئلہ

    مسلم دنیا کی اکثریت کا مؤقف ہے کہ صومالی لینڈ، صومالیہ ہی کا حصہ ہے۔ یہی مؤقف افریقی ممالک کا بھی ہے۔ افریقہ میں ایک اہم اصول پایا جاتا ہے۔ اس اصول کے مطابق نو آبادیاتی دور میں بنائی گئی سرحدوں کو برقرار رکھا جائے۔

    اگر اس اصول کو توڑا جائے تو کئی ممالک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ افریقہ میں پہلے ہی علیحدگی پسند تحریکیں موجود ہیں۔ اگر ایک خطے کو آسانی سے تسلیم کر لیا جائے تو دوسرے خطے بھی یہی مطالبہ کریں گے۔

    بین الاقوامی قانون بھی ریاستوں کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے پر زور دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں واضح ہے کہ کسی ملک کی سرحدوں کو زبردستی تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا قانونی طور پر بھی متنازع سمجھا جاتا ہے۔

    مسلم ممالک کی اسرائیل پر تنقید کی ایک اور وجہ فلسطین کا مسئلہ بھی ہے۔ فلسطین کئی دہائیوں سے مسلم دنیا کے لیے ایک حساس معاملہ ہے۔ اسی پس منظر میں اسرائیل کے ہر اقدام کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

    تاہم اس تنازع میں اصل بات ریاستی وحدت کی ہے۔ صومالیہ ایک کمزور مگر خودمختار ملک ہے۔ اسے مزید تقسیم کرنا اس کے مسائل میں اضافہ کرے گا۔ اسی لیے مسلم دنیا اور افریقی ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔