اسرائیل، ایران جنگ: 85 ممالک میں پیٹرول مہنگا، تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ کس ملک میں؟

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر 28 فروری کو شروع ہونے والے حملوں کے بعد دنیا بھر میں توانائی کی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

اس جنگ کے اثرات اب عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں اور دنیا کے کم از کم 85 ممالک میں ایندھن مہنگا ہو چکا ہے۔

الجزیرہ نے عالمی ادارے گلوبل پیٹرول پرائسز کے تجزیاتی اعداد و شمار کی روشنی میں اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد درجنوں ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ کئی ممالک میں قیمتوں کا اعلان مہینے کے اختتام پر کیا جاتا ہے، اس لیے اپریل میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ میں پیٹرول 20 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ فروری کے دوران پیٹرول کی فی گیلن اوسط قیمت 2.94 ڈالر تھی جو اب بڑھ کر 3.58 ڈالر ہو گئی ہے۔ یعنی تقریباً 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے فیول پرائس ٹریکر کے مطابق مختلف ریاستوں میں قیمتیں مختلف ہیں۔

تاہم کئی ریاستوں میں فی گیلن قیمت 4 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ کیلیفورنیا میں یہ 5 ڈالر فی گیلن سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، جو گزشتہ دو برس کی بلند ترین سطح ہے۔

تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ویتنام میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا، جہاں 23 فروری کو 95 آکٹین پیٹرول کی قیمت 0.75 ڈالر فی لیٹر تھی جو 9 مارچ تک بڑھ کر 1.13 ڈالر ہو گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقی ایشیا کے مقابلے میں جنوبی ایشیا کے ممالک اس بحران سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے پاس محدود مالی وسائل اور کم اسٹریٹیجک ذخائر موجود ہیں۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے توانائی بچانے کے لیے تمام سرکاری و نجی جامعات فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

پاکستان میں بھی ایندھن کی بچت کے لیے سرکاری دفاتر میں چار روزہ ورک ویک متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ تعلیمی اداروں کو بند کرنے اور 50 فیصد ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

لاؤس میں قیمتوں میں 33 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کمبوڈیا میں 19 فیصد اور آسٹریلیا میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے

توانائی کے ماہرین کے مطابق ایشیائی ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کی بڑی توانائی سپلائی خلیج فارس کی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آتی ہے، جو جنگ کے بعد عملی طور پر بند ہو چکی ہے۔

یہ آبی راستہ خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملاتا ہے اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کے لیے عالمی منڈی تک پہنچنے کا بنیادی راستہ ہے۔

جنگی صورتحال کو دیکھتے ہوئے جاپان نے 8 مارچ کو اپنے اسٹریٹیجک آئل ریزرو کے ذخائر کو ممکنہ استعمال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی، جبکہ جنوبی کوریا نے اگلے ہی روز پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر 30 برس میں پہلی مرتبہ زیادہ سے زیادہ حد مقرر کر دی۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے اثرات سے یورپ بھی محفوظ نہیں رہا۔

یورپ میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث گروپ آف سیون (جی سیون) کے وزرائے خزانہ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے صارفین پر دباؤ کم کرنے کے لیے اسٹریٹیجک ذخائر کا 20 سے 30 فیصد تک جاری کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل مہنگا ہو تو خوراک بھی مہنگی ہوتی ہے اور دیگر اشیائے ضرورت کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

کیونکہ زرعی کھاد، فصلوں کی نقل و حمل اور سپلائی چین کے ہر مرحلے میں توانائی استعمال ہوتی ہے۔

ماہر معاشیات ڈیوڈ مک ولیمز کے مطابق عالمی معیشت کی اصل بنیاد نقل و حمل ہے۔ اشیا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا دراصل لاجسٹکس اور سپلائی چین کا مسئلہ ہے اور نقل و حمل بنیادی طور پر توانائی پر منحصر ہے۔

جنگ نے عالمی معیشت کو براہ راست متاثر کیا ہے اور غیر یقینی کی کیفیت نے عالمی کساد بازاری کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔

معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی اور بے روزگاری کے امتزاج یعنی اسٹگفلیشن کو جنم دے سکتا ہے۔

ماضی میں 1973، 1978 اور 2008 کے بڑے تیل بحرانوں کے بعد عالمی معاشی سست روی یا کساد بازاری دیکھنے میں آئی تھی۔

کم آمدنی والے ممالک میں جہاں لوگ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں اور جہاں اناج اور کھاد کی بڑی مقدار درآمد کی جاتی ہے، وہاں تیل مہنگا ہونے سے خوراک کی قلت کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

خام تیل اور گیس صرف ایندھن کے طور پر ہی استعمال نہیں ہوتے بلکہ ہزاروں روزمرہ مصنوعات کی تیاری میں بھی بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پلاسٹک کی بوتلیں، خوراک کی پیکنگ، موبائل فون کے کور اور طبی سرنجیں سب خام تیل سے بننے والے پلاسٹک سے تیار ہوتی ہیں۔

اسی طرح پالئیسٹر، نائلون اور ایکریلک جیسے مصنوعی کپڑے بھی خام تیل سے تیار کیے جاتے ہیں، جو اسپورٹس ویئر سے لے کر قالین تک مختلف مصنوعات میں استعمال ہوتے ہیں۔

کاسمیٹکس کی صنعت بھی بڑی حد تک پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کرتی ہے، جن سے ویسلین، لپ اسٹک اور دیگر بیوٹی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔