Tag: پیٹرولیم مصنوعات

  • شرح سود میں ایک فیصد کا اضافہ، پیٹرولیم اور غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

    شرح سود میں ایک فیصد کا اضافہ، پیٹرولیم اور غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 27 اپریل 2026 کو اپنے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں ایک فیصد (100 بیسس پوائنٹس) کا اضافہ کر کے اسے 11.50 فیصد کر دیا ہے، جو 28 اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔ اس سے قبل یہ شرح 10.5 فیصد تھی۔

    اس فیصلے نے جہاں ایک طرف تاجروں اور صنعتکاروں میں تشویش پیدا کی ہے، وہیں بینک ڈپازٹ رکھنے والوں کے لیے اس میں فائدے کے پہلو بھی موجود ہیں۔

    ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث پالیسی ریٹ میں اضافہ ناگزیر تھا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسکس (PBS) کے اعداد و شمار کے مطابق قلیل مدتی مہنگائی، جسے سینسیٹو پرائس انڈیکس (SPI) سے ناپا جاتا ہے، 23 اپریل 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں سالانہ بنیاد پر 13.98 فیصد بڑھ گئی۔ یہ اضافہ SPI میں مسلسل 37ویں ہفتے ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ ہفتہ وار بنیادوں پر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں معمولی کمی (0.33 فیصد) ہوئی، لیکن مجموعی صورت حال تشویشناک ہے۔

    یہ اضافہ خاص طور پر توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے ہوا۔ پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے: بجلی 54 فیصد، ایل پی جی 51 فیصد، پیٹرول 44 فیصد اور ڈیزل 37 فیصد مہنگا ہوا۔ توانائی کی مہنگائی کے باعث اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بھی خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔ گندم کا آٹا 36 فیصد، پیاز 32 فیصد، ٹماٹر 23 فیصد، چکن 0.44 فیصد، گوشت اور دودھ بھی زیادہ مہنگے ہو گئے۔

    یہاں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ پچھلے کچھ عرصے کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 43 سے 55 فیصد تک اضافہ ہوا، جس کے بعد وزیراعظم کی مداخلت سے پیٹرولیم لیوی میں کمی کرکے عوام کو ریلیف دیا گیا۔ تاہم مالی حالات اور آئی ایم ایف کے معاہدوں کے تحت ٹیکسز میں اضافے کا خدشہ برقرار ہے۔

    تاجر اور صنعتکار پالیسی ریٹ میں کسی بھی اضافے کی مخالفت کرتے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق پالیسی ریٹ بڑھنے سے بینکوں سے قرض لینا مزید مہنگا ہو جاتا ہے، جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اشیاء کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جو عام صارفین کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار خاص طور پر اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس محدود وسائل ہوتے ہیں۔

    دوسری جانب بینکوں میں جمع رقم رکھنے والوں کے لیے یہ فیصلہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ پالیسی ریٹ بڑھنے سے سیونگ اکاؤنٹس اور ٹرم ڈپازٹس پر منافع کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافے کا مقصد مہنگائی پر قابو پانا ہوتا ہے، لیکن اس پالیسی کے اثرات فوری طور پر نظر نہیں آتے اور انہیں ظاہر ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے۔

  • اسرائیل، ایران جنگ: 85 ممالک میں پیٹرول مہنگا، تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ کس ملک میں؟

    اسرائیل، ایران جنگ: 85 ممالک میں پیٹرول مہنگا، تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ کس ملک میں؟

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر 28 فروری کو شروع ہونے والے حملوں کے بعد دنیا بھر میں توانائی کی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

    اس جنگ کے اثرات اب عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں اور دنیا کے کم از کم 85 ممالک میں ایندھن مہنگا ہو چکا ہے۔

    الجزیرہ نے عالمی ادارے گلوبل پیٹرول پرائسز کے تجزیاتی اعداد و شمار کی روشنی میں اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد درجنوں ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ کئی ممالک میں قیمتوں کا اعلان مہینے کے اختتام پر کیا جاتا ہے، اس لیے اپریل میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق امریکہ میں پیٹرول 20 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ فروری کے دوران پیٹرول کی فی گیلن اوسط قیمت 2.94 ڈالر تھی جو اب بڑھ کر 3.58 ڈالر ہو گئی ہے۔ یعنی تقریباً 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے فیول پرائس ٹریکر کے مطابق مختلف ریاستوں میں قیمتیں مختلف ہیں۔

    تاہم کئی ریاستوں میں فی گیلن قیمت 4 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ کیلیفورنیا میں یہ 5 ڈالر فی گیلن سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، جو گزشتہ دو برس کی بلند ترین سطح ہے۔

    تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ویتنام میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا، جہاں 23 فروری کو 95 آکٹین پیٹرول کی قیمت 0.75 ڈالر فی لیٹر تھی جو 9 مارچ تک بڑھ کر 1.13 ڈالر ہو گئی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقی ایشیا کے مقابلے میں جنوبی ایشیا کے ممالک اس بحران سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے پاس محدود مالی وسائل اور کم اسٹریٹیجک ذخائر موجود ہیں۔

    بنگلہ دیش کی حکومت نے توانائی بچانے کے لیے تمام سرکاری و نجی جامعات فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

    پاکستان میں بھی ایندھن کی بچت کے لیے سرکاری دفاتر میں چار روزہ ورک ویک متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ تعلیمی اداروں کو بند کرنے اور 50 فیصد ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    لاؤس میں قیمتوں میں 33 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کمبوڈیا میں 19 فیصد اور آسٹریلیا میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے

    توانائی کے ماہرین کے مطابق ایشیائی ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کی بڑی توانائی سپلائی خلیج فارس کی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آتی ہے، جو جنگ کے بعد عملی طور پر بند ہو چکی ہے۔

    یہ آبی راستہ خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملاتا ہے اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کے لیے عالمی منڈی تک پہنچنے کا بنیادی راستہ ہے۔

    جنگی صورتحال کو دیکھتے ہوئے جاپان نے 8 مارچ کو اپنے اسٹریٹیجک آئل ریزرو کے ذخائر کو ممکنہ استعمال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی، جبکہ جنوبی کوریا نے اگلے ہی روز پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر 30 برس میں پہلی مرتبہ زیادہ سے زیادہ حد مقرر کر دی۔

    امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے اثرات سے یورپ بھی محفوظ نہیں رہا۔

    یورپ میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث گروپ آف سیون (جی سیون) کے وزرائے خزانہ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے صارفین پر دباؤ کم کرنے کے لیے اسٹریٹیجک ذخائر کا 20 سے 30 فیصد تک جاری کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل مہنگا ہو تو خوراک بھی مہنگی ہوتی ہے اور دیگر اشیائے ضرورت کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

    کیونکہ زرعی کھاد، فصلوں کی نقل و حمل اور سپلائی چین کے ہر مرحلے میں توانائی استعمال ہوتی ہے۔

    ماہر معاشیات ڈیوڈ مک ولیمز کے مطابق عالمی معیشت کی اصل بنیاد نقل و حمل ہے۔ اشیا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا دراصل لاجسٹکس اور سپلائی چین کا مسئلہ ہے اور نقل و حمل بنیادی طور پر توانائی پر منحصر ہے۔

    جنگ نے عالمی معیشت کو براہ راست متاثر کیا ہے اور غیر یقینی کی کیفیت نے عالمی کساد بازاری کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔

    معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی اور بے روزگاری کے امتزاج یعنی اسٹگفلیشن کو جنم دے سکتا ہے۔

    ماضی میں 1973، 1978 اور 2008 کے بڑے تیل بحرانوں کے بعد عالمی معاشی سست روی یا کساد بازاری دیکھنے میں آئی تھی۔

    کم آمدنی والے ممالک میں جہاں لوگ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں اور جہاں اناج اور کھاد کی بڑی مقدار درآمد کی جاتی ہے، وہاں تیل مہنگا ہونے سے خوراک کی قلت کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

    خام تیل اور گیس صرف ایندھن کے طور پر ہی استعمال نہیں ہوتے بلکہ ہزاروں روزمرہ مصنوعات کی تیاری میں بھی بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

    معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پلاسٹک کی بوتلیں، خوراک کی پیکنگ، موبائل فون کے کور اور طبی سرنجیں سب خام تیل سے بننے والے پلاسٹک سے تیار ہوتی ہیں۔

    اسی طرح پالئیسٹر، نائلون اور ایکریلک جیسے مصنوعی کپڑے بھی خام تیل سے تیار کیے جاتے ہیں، جو اسپورٹس ویئر سے لے کر قالین تک مختلف مصنوعات میں استعمال ہوتے ہیں۔

    کاسمیٹکس کی صنعت بھی بڑی حد تک پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کرتی ہے، جن سے ویسلین، لپ اسٹک اور دیگر بیوٹی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

  • پیٹرول مہنگا، کفایت شعاری سستی: حکومتی اعلانات اور عوامی بوجھ کی حقیقت

    پیٹرول مہنگا، کفایت شعاری سستی: حکومتی اعلانات اور عوامی بوجھ کی حقیقت

    امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان کی حکومت نے بھی مہنگائی کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے کفایت شعاری پالیسی کا اعلان کیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت تمام سرکاری گاڑیوں کو آئندہ دو ماہ کے لیے فراہم کیے جانے والے ایندھن میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔ تاہم یہ کمی سرکاری بسوں، ایمبولینسز اور دیگر آپریشنل گاڑیوں پر لاگو نہیں ہوگی۔

    حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے وفاقی سطح پر تقریباً ساڑھے چار ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی 60 فیصد سرکاری گاڑیاں بھی دو ماہ کے لیے گراؤنڈ کر دی جائیں گی۔

    اسی طرح قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں دو ماہ کے لیے 20 فیصد رضاکارانہ کٹوتی کا اعلان کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ وفاقی اور صوبائی محکموں میں گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے ایسے سرکاری افسران، جن کی تنخواہ تین لاکھ روپے سے زیادہ ہے، ان کی دو دن کی تنخواہ بھی بطور کٹوتی لی جائے گی۔

    کفایت شعاری مہم کے تحت وفاقی اور صوبائی کابینہ کے تمام وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی نے بھی رضاکارانہ طور پر دو ماہ کی تنخواہیں اور الاؤنسز نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ بظاہر یہ اقدام قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

    تاہم یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ وفاقی کابینہ کے ارکان کی دو ماہ کی تنخواہیں اور مراعات چھوڑ دینے سے قومی خزانے یا عوام کو عملی طور پر کتنا فائدہ پہنچے گا۔

    اعداد و شمار کے مطابق وزیراعظم کی کابینہ میں 31 وفاقی وزرا، 11 وزرائے مملکت، چار مشیر اور نو معاونین خصوصی شامل ہیں۔ اس طرح وفاقی کابینہ کے ارکان کی مجموعی تعداد 55 بنتی ہے۔

    وفاقی کابینہ کے ایک رکن کی تنخواہ اور مراعات ملا کر اوسطاً تقریباً 5 لاکھ 19 ہزار روپے بنتے ہیں۔ اس حساب سے اگر کابینہ کے تمام ارکان کی ایک ماہ کی تنخواہیں روکی جائیں تو تقریباً 2 کروڑ 85 لاکھ 45 ہزار روپے کی بچت ہوگی۔ وزیراعظم کے اعلان کے مطابق دو ماہ کی تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کی صورت میں قومی خزانے کو تقریباً پانچ کروڑ 70 لاکھ 90 ہزار روپے کی بچت ہوگی۔

    دوسری طرف حکومت پاکستان نے چھ مارچ کو پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ بھی کر دیا۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا جب حکومت پہلے ہی یہ بتا چکی تھی کہ ملک میں تقریباً 28 روز کے لیے تیل کا ذخیرہ موجود ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی یومیہ کھپت 20 سے 22 ملین لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی یومیہ کھپت تقریباً 28 سے 30 ملین لیٹر ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر ملک میں روزانہ تقریباً 50 سے 52 ملین لیٹر پیٹرول اور ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔

    اگر روزانہ تقریباً پانچ کروڑ لیٹر پیٹرول اور ڈیزل استعمال کیا جاتا ہے تو 55 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد پاکستانی عوام سے یومیہ تقریباً پونے تین ارب روپے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔

    اس حساب سے تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد صرف ایک ہفتے میں عوام سے تقریباً 19 ارب روپے اضافی وصول کیے جائیں گے۔

    یوں ایک طرف عوام سے روزانہ اربوں روپے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف حکومت کی کفایت شعاری مہم کے تحت کابینہ کے ارکان کی دو ماہ کی تنخواہیں روک کر قومی خزانے کو تقریباً پونے چھ کروڑ روپے کی بچت دکھائی جا رہی ہے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متوقع اضافے کا خدشہ: آخر حکومت بار بار پیٹرول کیوں مہنگا کرتی ہے؟

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متوقع اضافے کا خدشہ: آخر حکومت بار بار پیٹرول کیوں مہنگا کرتی ہے؟

    پاکستان میں ایک پھر مصنوعات کی قیمتوں میں اضفے کی افواہیں گردش کررہی ہیں۔ خبر ابھی پوری طرح آئی بھی نہ تھی کہ لوگوں کے چہروں پر تشویش اتر آئی۔ جیسے یہ صرف ایک قیمت نہ ہو، بلکہ آنے والے دنوں کی پیشگی اطلاع ہو۔ کیونکہ اس ملک میں پیٹرول کا مہنگا ہونا محض پمپ تک محدود نہیں رہتا، یہ گھروں کے بجٹ، دکانوں کے ریٹ کارڈ اور روزمرہ زندگی کے ہر گوشے تک پہنچ جاتا ہے۔

    لیکن سوال ہمیشہ وہی رہتا ہے ، آخر پیٹرول بار بار کیوں مہنگا ہوتا ہے؟

    اس کہانی کا آغاز پاکستان سے نہیں، دنیا کی منڈیوں سے ہوتا ہے۔ خام تیل کی قیمتیں عالمی سیاست، جنگوں، سپلائی اور طلب کے توازن سے طے ہوتی ہیں۔ جہاں کہیں کشیدگی بڑھے، سپلائی کم ہو یا پیداوار گھٹے، تیل کی قیمت اوپر چلی جاتی ہے۔ چونکہ پاکستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں معمولی سی ہلچل بھی یہاں اثر ڈالتی ہے۔

    مگر یہ صرف پہلا باب ہے۔

    تیل ڈالر میں خریدا جاتا ہے۔ جب روپے کی قدر کمزور ہوتی ہے تو وہی تیل زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔ یوں کبھی عالمی قیمتیں زیادہ نہیں بڑھتیں، لیکن کرنسی کی کمزوری قیمت کو اوپر لے جاتی ہے۔ اس طرح عالمی منڈی اور ملکی کرنسی مل کر قیمت کا رخ متعین کرتی ہیں۔

    پھر آتا ہے حکومتی محصولات کا مرحلہ۔ پیٹرول کی قیمت میں پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکس شامل ہوتے ہیں، جو قومی خزانے کے لیے اہم ذریعۂ آمدن ہیں۔ ریاست کو اپنے اخراجات پورے کرنے ہوتے ہیں، قرضوں کی ادائیگیاں کرنی ہوتی ہیں اور مالیاتی اہداف حاصل کرنے ہوتے ہیں۔ ایسے میں قیمت کم کرنا صرف عوامی ریلیف کا معاملہ نہیں رہتا، بلکہ مالی توازن کا سوال بن جاتا ہے۔

    اس کے ساتھ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن، ترسیل کے اخراجات اور ڈیلرز کا کمیشن بھی قیمت کا حصہ ہوتے ہیں۔ یوں ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت کئی پرتوں سے گزر کر پمپ تک پہنچتی ہے۔

    جب قیمت بڑھتی ہے تو اثر بھی پھیلتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، اشیائے خورونوش کی لاگت بڑھتی ہے، صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور روزمرہ کی اشیا کے نرخ اوپر چلے جاتے ہیں۔ بالآخر بوجھ عام شہری پر آتا ہے، جو ہر اضافے کو اپنی محدود آمدنی میں سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے۔

    کیا ریلیف ممکن ہے؟ ماہرین کے مطابق ہاں — اگر عالمی منڈی میں تیل سستا ہو، روپیہ مستحکم رہے اور مالی دباؤ کم ہو تو قیمتیں نیچے آ سکتی ہیں۔ لیکن اگر یہ عوامل منفی سمت میں رہیں تو اضافہ جاری رہ سکتا ہے۔

    یوں پیٹرول کی قیمت ایک عدد نہیں رہتی، بلکہ معیشت، سیاست، عالمی حالات اور قومی مالی پالیسیوں کی مشترکہ کہانی بن جاتی ہے۔ اور ہر بار جب خبر آتی ہے کہ پیٹرول مہنگا ہو گیا ہے، تو دراصل ایک پورا معاشی دائرہ حرکت میں آ جاتا ہے — جس کا مرکز عام آدمی کی زندگی ہوتی ہے۔