ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد لڑائی جوں جوں طویل ہوتی جارہی ہے، پاکستان سمیت کئی ممالک پر معاشی دبائو اور ممکنہ مہنگائی کے خطرات منڈ لارہے ہیں۔
پاکستان کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں آئندہ 28 روز کا تیل کا زخیرہ موجود ہے اور سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی فراہمی کا یقین دلایا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوانِ بالا (سینیٹ) کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بدھ 4 مارچ کو بریفنگ میں بتایا تھا کہ ملک میں اس وقت 28 روز کا ڈیزل اور پیٹرول دستیاب ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی کسی قسم کی قلت نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، خطے میں جاری جنگ کی وجہ سے خلیج فارس یعنی آبنائے ہرمزکے راستے تیل کی فراہمی تقریبا معطل ہے۔
ماہرین کہتے ہیں اگر کشیدگی بحیرہ احمر تک پھیل گئی اور ترسیل رک گئی تو پاکستان کے لیے متبادل راستے محدود ہو جائیں گے۔
ایسی صورت حال میں تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہوگا، اگرتیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوسکتا ہے، ٹرانسپورٹ اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اور مختصر عرصہ میں مہنگائی کی شرح دگنی ہوسکتی ہے ۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی بڑھتی قیمتوں کا براہ راست اثرروپے کی قیمت پر بھی پڑے گا،
درآمدی تیل کی ادائیگی ڈالر میں کی جاتی ہے اس لئے ڈالر کی طلب بڑھے گی،روپے کی قدر کمزور ہو سکتی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر براہ راست متاثر ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری جنگ کے معاشی اثرات تیزی سے پھیل رہے ہیں ، تیل اور کارگو کی سپلائی مشکل ہوتی جائے گی۔
بگڑتی صورت حال سے خلیجی ممالک پہلے متاثر ہورہے ہیں اور منفی اثرات محض خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔
رائٹر کے مطابق ایران کے حملوں کے بعد دنیا کی بڑی شپنگ لاجسٹک کمپنی نے خلیجی ممالک کے لیے کارگو بکنگ بندکردی۔
کارگوبکنگ بند ہونے سے یو اے ای ، عمان، عراق، کویت، قطر اور بحرین شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
شپنگ لاجسٹک کمپنی کے مطابق سعودی عرب کے بعض شہروں کے لیے بھی بکنگ معطل ہوگئی ہے۔
شپنگ لاجسٹک کمپنی کا کہنا ہےکہ یہ فیصلہ تاحکم ثانی نافذ العمل رہےگا جبکہ جدہ اورکنگ عبداللہ بندرگاہوں پرکام جاری رہےگا۔
عمان کی سلالہ بندرگاہ پر سروس معمول کے مطابق رہےگی، اردن اور لبنان کے لیے بھی سامان کی بکنگ جاری رہےگی۔
دوسری جانب پاکستان سے خلیجی ممالک تجارتی مال بھیجنے کے لیے بھاری وار رِسک سرچارج کا نفاذ کیا گیا ہے۔ شپنگ کمپنی ہیپگ لوائیڈ لائن نے فی کنٹینر 1500 سے 3500 ڈالر وار رِسک سرچارج لگادیا ہے۔
شپنگ کمپنی کے مطابق نئی بکنگ پر وار رِسک سرچرج دینا ہوگا۔ اس کے علاوہ سی ایم ای شپنگ لائن نے 4 ہزار ڈالر تک ایمرجنسی سرچارج نافذ کیا ہے۔
کمپنی کے مطابق خلیج فارس کے علاوہ بحیرہ احمر کنٹینر جانے پر بھی رقم دینا ہوگی۔
عالمی سرمایہ کاری بینک جے پی مورگن نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہا تو عراق اور کویت سے خام تیل کی برآمدات چند ہی دنوں میں معطل ہونا شروع ہو سکتی ہیں۔
جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے آٹھویں دن تک یومیہ 33 لاکھ بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
بینک کی جانب سے جاری کردہ نوٹ کے مطابق عراق کے پاس تقریباً تین دن جبکہ کویت کے پاس تقریباً 14 دن کا وقت ہے، جس کے بعد انہیں آبنائے ہرمز کے راستے گزرنے والی اپنی خام تیل کی برآمدات روکنا پڑیں گی۔
جے پی مورگن کے مطابق اگر بندش طویل ہو گئی تو نقصانات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اندازے کے مطابق 15ویں دن تک یومیہ 38 لاکھ بیرل جبکہ 18ویں دن تک یومیہ 47 لاکھ بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بے چینی، قیمتوں میں نمایاں اضافے اور عالمی معیشت پر منفی اثرات کا سبب بن سکتی ہے۔
