ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کا نیا منصوبہ

بین الاقوامی نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران اور امریکا کو ایک ایسا منصوبہ پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد فوری جنگ بندی اور تنازع کا مستقل حل تلاش کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کی جانب سے تیار کیا گیا ہے اور دونوں ممالک کو بھیجا گیا ہے۔

یہ منصوبہ ایک دو مرحلوں پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی (سیز فائر) کا معاہدہ کیا جائے گا، جبکہ دوسرے مرحلے میں ایک مکمل اور حتمی امن معاہدہ طے کیا جائے گا۔

پاکستان کا اہم کردار


ذرائع کے مطابق پاکستان اس معاملے میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی فوجی قیادت اور دیگر حکام امریکا اور ایران کے درمیان رابطے میں ہیں تاکہ اس منصوبے کو کامیاب بنایا جا سکے۔

اس تجویز کے تحت جنگ بندی فوری طور پر نافذ ہو جائے گی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، جبکہ 15 سے 20 دن کے اندر ایک وسیع معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اس معاہدے کو عارضی طور پر "اسلام آباد معاہدہ” کا نام دیا گیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے لیے علاقائی سطح کا ایک نظام شامل ہوگا، اور آخری بالمشافہ مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے۔

تمام نکات پر آج ہی اتفاق ہونا ضروری ہے، ذرائع نے کہا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی معاہدہ ایک "یادداشتِ مفاہمت” (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) کی صورت میں ہوگا، جسے پاکستان کے ذریعے الیکٹرانک طریقے سے حتمی شکل دی جائے گی، کیونکہ مذاکرات میں پاکستان ہی واحد رابطے کا ذریعہ ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس (Axios ) نے اتوار کو سب سے پہلے خبر دی کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالث ایک ممکنہ 45 دن کی جنگ بندی پر بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ جنگ بندی ایک دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کا حصہ ہو سکتی ہے، جو بالآخر جنگ کے مستقل خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ بات امریکی، اسرائیلی اور علاقائی ذرائع کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔اس منصوبے میں کئی اہم نکات شامل ہیں، جن میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی واپسی، اور ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی شامل ہے۔

بدلے میں ایران کو سلامتی کی ضمانتیں دی جا سکتی ہیں اور خطے میں مستقل امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

تاحال حتمی منظوری نہیں


امریکا اور ایران کے حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

ایرانی حکام اس سے پہلے رائٹرز کو بتا چکے ہیں کہ تہران ایک مستقل جنگ بندی چاہتا ہے، جس کے ساتھ یہ ضمانت بھی ہو کہ امریکا اور اسرائیل دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو پاکستان، ترکی اور مصر سمیت ثالث ممالک کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی شامل ہوگی، جبکہ اس کے بدلے میں پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی واپسی کی توقع ہے۔

اگرچہ سفارتی کوششیں تیز ہو چکی ہیں، تاہم ایران نے ابھی تک اس منصوبے کو باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا ہے۔ مختلف ممالک، جن میں چین اور دیگر علاقائی طاقتیں شامل ہیں، بھی اس عمل میں کردار ادا کر رہی ہیں۔

دو پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ شہری اور فوجی سطح پر رابطوں میں تیزی کے باوجود ایران نے تاحال کسی حتمی اتفاق کا اظہار نہیں کیا۔
ایک ذریعے نے کہا، ‘ایران نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا’، اور مزید بتایا کہ پاکستان، چین اور امریکا کی حمایت سے پیش کی گئی عارضی جنگ بندی کی تجاویز پر اب تک کوئی رضامندی سامنے نہیں آئی۔

چینی حکام کی جانب سے بھی تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔

یہ تازہ سفارتی کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ یہ راستہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے۔
دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد کوئی حل نہ نکلا تو سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اس جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور مختلف ممالک میں حالات کشیدہ ہیں۔

موجودہ صورتحال میں یہ امن منصوبہ ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ اگر ایران اور امریکا اس پر متفق ہو جاتے ہیں تو نہ صرف جنگ بندی ممکن ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں طویل مدتی امن کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے دونوں ممالک کی رضامندی اور سنجیدہ مذاکرات نہایت ضروری ہیں۔

اسی بارے میں: