Tag: ایران

  • اسرائیل، ایران جنگ: عالمی آبی گزرگاہوں کی بندش سے پاکستان میں ایندھن کی قلت، معاشی دباؤ کا خدشہ کیوں؟

    اسرائیل، ایران جنگ: عالمی آبی گزرگاہوں کی بندش سے پاکستان میں ایندھن کی قلت، معاشی دباؤ کا خدشہ کیوں؟

    ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد لڑائی جوں جوں طویل ہوتی جارہی ہے، پاکستان سمیت کئی ممالک پر معاشی دبائو اور ممکنہ مہنگائی کے خطرات منڈ لارہے ہیں۔

    پاکستان کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں آئندہ 28 روز کا تیل کا زخیرہ موجود ہے اور سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی فراہمی کا یقین دلایا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوانِ بالا (سینیٹ) کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بدھ 4 مارچ کو بریفنگ میں بتایا تھا کہ ملک میں اس وقت 28 روز کا ڈیزل اور پیٹرول دستیاب ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی کسی قسم کی قلت نہیں ہے۔

    ماہرین کے مطابق پاکستان تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، خطے میں جاری جنگ کی وجہ سے خلیج فارس یعنی آبنائے ہرمزکے راستے تیل کی فراہمی تقریبا معطل ہے۔

    ماہرین کہتے ہیں اگر کشیدگی بحیرہ احمر تک پھیل گئی اور ترسیل رک گئی تو پاکستان کے لیے متبادل راستے محدود ہو جائیں گے۔

    ایسی صورت حال میں تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہوگا، اگرتیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوسکتا ہے، ٹرانسپورٹ اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اور مختصر عرصہ میں مہنگائی کی شرح دگنی ہوسکتی ہے ۔

    معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی بڑھتی قیمتوں کا براہ راست اثرروپے کی قیمت پر بھی پڑے گا،

    درآمدی تیل کی ادائیگی ڈالر میں کی جاتی ہے اس لئے ڈالر کی طلب بڑھے گی،روپے کی قدر کمزور ہو سکتی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر براہ راست متاثر ہوں گے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری جنگ کے معاشی اثرات تیزی سے پھیل رہے ہیں ، تیل اور کارگو کی سپلائی مشکل ہوتی جائے گی۔

    بگڑتی صورت حال سے خلیجی ممالک پہلے متاثر ہورہے ہیں اور منفی اثرات محض خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔

    رائٹر کے مطابق ایران کے حملوں کے بعد دنیا کی بڑی شپنگ لاجسٹک کمپنی نے خلیجی ممالک کے لیے کارگو بکنگ بندکردی۔

    کارگوبکنگ بند ہونے سے یو اے ای ، عمان، عراق، کویت، قطر اور بحرین شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

    شپنگ لاجسٹک کمپنی کے مطابق سعودی عرب کے بعض شہروں کے لیے بھی بکنگ معطل ہوگئی ہے۔

    شپنگ لاجسٹک کمپنی کا کہنا ہےکہ یہ فیصلہ تاحکم ثانی نافذ العمل رہےگا جبکہ جدہ اورکنگ عبداللہ بندرگاہوں پرکام جاری رہےگا۔

     عمان کی سلالہ بندرگاہ پر سروس معمول کے مطابق رہےگی، اردن اور لبنان کے لیے بھی سامان کی بکنگ جاری رہےگی۔

    دوسری جانب پاکستان سے خلیجی ممالک تجارتی مال بھیجنے کے لیے بھاری وار رِسک سرچارج کا نفاذ کیا گیا ہے۔ شپنگ کمپنی ہیپگ لوائیڈ لائن نے فی کنٹینر 1500 سے 3500 ڈالر وار رِسک سرچارج لگادیا ہے۔

    شپنگ کمپنی کے مطابق نئی بکنگ پر وار رِسک سرچرج دینا ہوگا۔ اس کے علاوہ سی ایم ای شپنگ لائن نے 4 ہزار ڈالر تک ایمرجنسی سرچارج نافذ کیا ہے۔

    کمپنی کے مطابق خلیج فارس کے علاوہ بحیرہ احمر کنٹینر جانے پر بھی رقم دینا ہوگی۔

    عالمی سرمایہ کاری بینک جے پی مورگن نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہا تو عراق اور کویت سے خام تیل کی برآمدات چند ہی دنوں میں معطل ہونا شروع ہو سکتی ہیں۔

    جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے آٹھویں دن تک یومیہ 33 لاکھ بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

    بینک کی جانب سے جاری کردہ نوٹ کے مطابق عراق کے پاس تقریباً تین دن جبکہ کویت کے پاس تقریباً 14 دن کا وقت ہے، جس کے بعد انہیں آبنائے ہرمز کے راستے گزرنے والی اپنی خام تیل کی برآمدات روکنا پڑیں گی۔

    جے پی مورگن کے مطابق اگر بندش طویل ہو گئی تو نقصانات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    اندازے کے مطابق 15ویں دن تک یومیہ 38 لاکھ بیرل جبکہ 18ویں دن تک یومیہ 47 لاکھ بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بے چینی، قیمتوں میں نمایاں اضافے اور عالمی معیشت پر منفی اثرات کا سبب بن سکتی ہے۔

  • ایران، امریکہ، اسرائیل تنازع: آبنائے ہرمز سے خام تیل لے جانے والے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں تعطل، عالمی معاشی دباؤ کا خدشہ

    ایران، امریکہ، اسرائیل تنازع: آبنائے ہرمز سے خام تیل لے جانے والے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں تعطل، عالمی معاشی دباؤ کا خدشہ

    ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ اب چوتھے روز میں داخل ہو چکی ہے۔

    ایران نے جوابی حملوں میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے علاوہ تیل کے ذخائر کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

    خلیج فارس، جو دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر اور برآمدی مراکز کا حامل خطہ ہے، اس جنگ کے باعث عالمی معیشت اور توانائی کے مستقبل کے حوالے سے مرکزِ نگاہ بن چکا ہے۔

    پیر کو ایران کی جانب سے سعودی عرب کی راس تنورا میں بڑی آئل ریفائنری ‘آرامکو’ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ریفائنری کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور تیل کی تنصیبات یا اہم سمندری راستے نشانہ بنتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

    خلیج فارس اور اس کے اطراف میں دنیا کے تیل کے ذخائر کا تقریباً نصف حصہ موجود ہے، جہاں سے یومیہ 20 سے 25 ملین بیرل تیل عالمی مارکیٹ کو فراہم کیا جاتا ہے۔

    ان ممالک میں سب سے زیادہ ذخائر سعودی عرب کے پاس ہیں، جن کا حجم تقریباً 267 ارب بیرل ہے۔

    سعودی عرب نہ صرف دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہے بلکہ اس کے پاس جدید ریفائنری نظام بھی موجود ہے جو خام تیل کو مختلف مصنوعات میں تبدیل کرتا ہے۔

    سعودی عرب میں تقریباً 10 بڑی ریفائنریز کام کر رہی ہیں، جن میں راس تنورا، یسریف اور ساتورپ ریفائنری شامل ہیں۔ یہ ریفائنریز مجموعی طور پر روزانہ تقریباً 30 لاکھ بیرل تیل کو پروسیس کرتی ہیں۔

    آبنائے ہرمز: دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ

    خلیج فارس سے نکلنے والا زیادہ تر تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔ یہ سمندری راستہ دنیا کی سب سے اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔

    اگر اس راستے کو جنگ، حملوں یا فوجی کارروائیوں کی وجہ سے بند یا غیر محفوظ کر دیا جائے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں شدید کمی واقع ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہوگا اور عالمی معیشت پر بھی براہ راست دباؤ بڑھے گا۔

    الجزیرہ کی خبر کے مطابق قطر کی جانب سے ایل این جی کی فراہمی روکنے پر عالمی مارکیٹ میں گیس کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    برطانیہ اور کچھ ممالک میں گیس کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایشیائی ممالک میں 39 فیصد تک اضافہ سامنے آیا ہے۔

    اگر بڑے پیمانے پر حملے ہوتے ہیں تو تیل کی قیمتیں 100 سے 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اگر خلیجی ممالک سے تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو دنیا کے دیگر بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک، جیسے امریکہ اور روس، اپنی پیداوار بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ کئی ممالک اپنے اسٹریٹجک تیل ذخائر استعمال کر سکتے ہیں تاکہ سپلائی میں کمی کو عارضی طور پر پورا کیا جا سکے۔

    تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج فارس کی اہمیت کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ممکن نہیں، کیونکہ یہ خطہ اب بھی عالمی توانائی سپلائی کا بنیادی ستون ہے۔

    ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

    خلیج فارس کی تیل تنصیبات، ریفائنریز اور اہم سمندری راستے عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر یہ تنازع مزید بڑھتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔

    موجودہ صورتحال میں عالمی منڈی، حکومتیں اور توانائی کمپنیاں حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس تنازع کا مستقبل عالمی توانائی کے استحکام کا تعین کرے گا۔

  • آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لئے تہران کے خفیہ کیمرے بھی ہیک کئے گئے، برسوں تک خفیہ ویڈیوز تل ابیب  پہنچتی رہیں۔

    آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لئے تہران کے خفیہ کیمرے بھی ہیک کئے گئے، برسوں تک خفیہ ویڈیوز تل ابیب پہنچتی رہیں۔

    ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لیے برسوں پر محیط ایک خفیہ انٹیلی جنس مہم چلائی گئی۔

    جس میں تہران کے ٹریفک کیمروں کو ہیک کرنے سے لے کر موبائل نیٹ ورکس میں مداخلت تک جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں ایران کے رہبراعلیٰ آیت اللہ خامنہ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی سے متعلق ایک تفصیلی مضمون شائع کیا گیا ہے، جس میں تہران کی نگرانی اور سائبر آپریشن کی معلومات موجود ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق جب تہران کی پاستور اسٹریٹ کے قریب سینئر ایرانی عہدیداروں کے محافظ اور ڈرائیور معمول کے مطابق اپنی ڈیوٹی پر پہنچے تو اسرائیلی انٹیلی جنس پہلے ہی ان پر نظر رکھے ہوئے تھی۔

    رپورٹ کے مطابق تہران کے بیشتر ٹریفک کیمروں کو برسوں قبل ہیک کر لیا گیا تھا اور ان کی ویڈیوز خفیہ طور پر اسرائیل میں سرورز تک منتقل کی جاتی تھیں۔

    ان کیمروں میں سے ایک مخصوص زاویہ رکھنے والا کیمرہ خاص طور پر اہم ثابت ہوا، جس کی مدد سے محافظوں کی گاڑیوں کی پارکنگ اور نقل و حرکت کا جائزہ لیا گیا۔
    جدید الگورتھمز اور سوشل نیٹ ورک تجزیے کے ذریعے سیکیورٹی اہلکاروں کے معمولات، رہائش، ڈیوٹی اوقات اور ان شخصیات کی تفصیلات مرتب کی گئیں جنہیں وہ تحفظ فراہم کرتے تھے۔

    انٹیلی جنس زبان میں اسے "پیٹرن آف لائف” کہا جاتا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی محض تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ ایک سیاسی فیصلہ بھی تھا۔
    اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس اداروں، بشمول سی آئی اے، نے تصدیق کی کہ خامنہ ای ہفتہ کی صبح اپنے دفتر میں اہم اجلاس کی صدارت کریں گے۔

    امریکی ذرائع کے مطابق ایک انسانی ذریعے نے بھی اس اطلاع کی توثیق کی، جس کے بعد اسرائیلی طیاروں نے بروقت کارروائی کی۔

    فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کہتی ہے کہ پاستور اسٹریٹ کے قریب موبائل فون ٹاورز کے بعض حصوں کو عارضی طور پر غیر فعال کیا گیا، جس سے سیکیورٹی اہلکاروں کو بروقت وارننگ موصول نہ ہو سکی۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی سگنلز انٹیلی جنس یونٹ 8200 اور خفیہ اداے موساد نے اربوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کر کے ممکنہ اہداف کی نشاندہی کی۔

    ایک سابق اسرائیلی افسر کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس کلچر میں ‘ٹارگٹنگ انٹیلی جنس’ بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران "اسپیرو” میزائل استعمال کیے گئے، جو ایک ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    ایک اہلکار کے بقول، ‘ہم نے پہلے ان کی آنکھیں نکالیں’، اشارہ ایرانی فضائی دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے کی جانب تھا۔
    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے متعدد جوہری سائنسدان اور فوجی افسران ہلاک کیے گئے تھے۔

    اس دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام کو سائبر حملوں اور ڈرونز کے ذریعے مفلوج کیا گیا۔
    ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات جاری تھے اور عمان ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا، تاہم امریکی صدرایرانی ردعمل سے مطمئن نہیں تھے، جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

    فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران کو ہدف بنانے کی حکمت عملی کی بنیاد 2001 میں اس وقت رکھی گئی جب اسرائیلی وزیر اعظم ایرل شیرون نے موساد کے سربراہ کو ایران کو اولین ترجیح دینے کی ہدایت کی تھی۔

    بعد ازاں اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کو سبوتاژ کرنے اور اس کے سائنسدانوں کو نشانہ بنانے کی متعدد کارروائیاں کیں۔

    سابق موساد عہدیدار سیما شائن کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیلی پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی، جب حماس کے حملے نے سیکیورٹی حکمت عملی کو یکسر بدل دیا۔
    برطانوی اخبارکی رپورٹ کہتی ہے کہ اگرچہ اسرائیل نے ماضی میں بیرون ملک سیکڑوں افراد کو نشانہ بنایا ہے، تاہم کسی بڑے مذہبی و سیاسی رہنما کو قتل کرنا ایک غیر معمولی قدم تھا۔

    ماہرین کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں وقتی عسکری برتری تو دے سکتی ہیں، مگر ان کے طویل مدتی سیاسی نتائج غیر یقینی ہوتے ہیں۔

    اسرائیلی انٹیلی جنس حلقوں میں اس کامیابی کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔

  • ایران کی طاقت کا زوال یا نیا عروج؟: خامنہ ای کے جانے کے بعد اندرونی غداری، جاسوسی، جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کا ممکنہ نیا نقشہ

    ایران کی طاقت کا زوال یا نیا عروج؟: خامنہ ای کے جانے کے بعد اندرونی غداری، جاسوسی، جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کا ممکنہ نیا نقشہ

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 86 سال کی عمر میں فالج سے لڑتے ہوئے، تین دہائیوں تک ایران میں سخت گیر مذہبی قیادت کرنے اور گزشتہ دس سال سے فلسطین کی آزادی کی جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کرنے کے بعد اسرائیل، امریکہ اور اس کے عرب اتحادیوں کی الیکٹرانک وار، عالمی پابندیوں اور جدید جنگی حکمتِ عملی کا مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کے رتبے پر فائز ہو گئے ہیں۔

    علی خامنہ ای کی وفات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اندرونی طور پر سیاسی دباؤ اور عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے پہلے بھی صدام حسین اور کرنل قذافی پر جراثیمی اور ایٹمی ہتھیار بنانے کے الزامات لگا کر انہیں شہید کروایا، مگر بعد میں تاریخ میں یہ الزامات جھوٹے ثابت ہوئے اور یہ حقیقت سامنے آئی کہ امریکہ اور نیٹو کو ان ممالک کے قدرتی وسائل درکار تھے، جن پر قبضے کے بعد ان ممالک کو تنہا چھوڑ دیا گیا اور وہ آج تک خانہ جنگی کا شکار ہیں۔

    یہی پالیسی ایران پر بھی اختیار کی گئی اور اب اس کی مرکزی قیادت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای واقعی ایک بے خوف انسان تھے۔ اگر ان کی جگہ میں ہوتا تو کسی بنکر میں چھپ کر جان بچاتا، لیکن انہیں علم تھا کہ ہم انہیں ٹریس کر رہے ہیں، اس کے باوجود انہوں نے اپنے گھر میں رہنا پسند کیا اور بشار الاسد کی طرح روس جا کر نہیں چھپے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اعتراف کیا ہے کہ جو قوم شہادت کو عظیم رتبہ سمجھے، اس سے بات چیت یا کسی بھی طریقے سے اپنی بات نہیں منوائی جا سکتی، اس لیے اب معلوم نہیں کہ کیسی قیادت سامنے آئے گی۔

    امریکی سرکاری ذرائع نے اپنے میڈیا کو بتایا ہے کہ امریکہ کے پاس کتنا ہی بڑا الیکٹرانک جاسوسی نظام کیوں نہ ہو، اتنی بڑی قیادت کو نشانہ بنانا اس کے بس میں نہیں تھا۔ اصل میں جب اپنے ہی غدار ہو جائیں تو کام آسان ہو جاتا ہے۔

    نیویارک ٹائمز اور دیگر عالمی اداروں نے اپنی رپورٹوں میں بتایا ہے کہ سی آئی اے اور اسرائیلی جاسوسی ادارے موساد نے گزشتہ دہائیوں میں ہزاروں ایرانیوں کو بطور مخبر بھرتی کیا۔

    نیویارک ٹائمز اور دیگر عالمی ذرائع کے مطابق ایران کا پورا حفاظتی حصار اندرونی غداری کے باعث ٹوٹ چکا ہے۔ موساد نے ایران کے اعلیٰ ترین اداروں کے سربراہوں کو اپنا ایجنٹ بنا لیا ہے۔ سابق صدر محمود احمدی نژاد نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ ایران میں موساد کے جاسوسوں کو پکڑنے کے لیے جو خصوصی انٹیلی جنس یونٹ بنایا گیا تھا، اس کا سربراہ خود موساد کا ایجنٹ نکلا، جس نے برسوں تک اسرائیل کو اہم معلومات فراہم کیں۔

    اگرچہ علی خامنہ ای اور دیگر بڑے رہنما خود فون استعمال نہیں کرتے تھے، لیکن ان کے محافظوں، ڈرائیوروں اور عملے کے افراد نے مسلسل سوشل میڈیا پر تصاویر اور لوکیشن شیئر کیں، جس سے اسرائیل کو ان کی درست موجودگی کا علم ہوا۔

    ایرانی حکام نے خود اعتراف کیا ہے کہ ملک میں ہزاروں لوگ اسرائیل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ایرانی دفاعی حکام کے مطابق جون 2025 کی جنگ کے بعد تقریباً 2000 ایسے افراد گرفتار کیے گئے جو مبینہ طور پر موساد کے ساتھ رابطے میں تھے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی بدحالی کی وجہ سے کئی ایرانی حکام، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں، بھاری رقم کے عوض اسرائیل کو ملکی راز فروخت کرتے ہیں۔

    نیویارک ٹائمز اور دیگر عالمی مبصرین کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس کی اس ناکامی کے بعد اسرائیل اب بلا خوف و خطر ایران کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنا سکتا ہے کیونکہ اسے اندرونی معلومات حاصل ہیں۔ ایرانی قیادت میں ایک دوسرے پر بے اعتمادی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ وہ اب اپنے گھروں میں بھی محفوظ محسوس نہیں کرتے۔

    حزب اللہ اور حماس اب ایران پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں گے کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ ایران سے ملنے والی معلومات ان کی موت کا سبب بن سکتی ہیں۔ ایران اب صرف بیرونی دشمن سے نہیں لڑ رہا بلکہ اپنی ہی صفوں میں موجود ان خفیہ دشمنوں سے لڑ رہا ہے جنہوں نے ایران کے پورے قلعے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔

    ایرانی انٹیلی جنس کے ایک اہم رہنما، جس کا نام دونوں فریق چھپا رہے ہیں، نے 2018 میں ایران کے ایٹمی پروگرام کی ہزاروں حساس دستاویزات، نیوکلیئر آرکائیو، چوری کروا کر اسرائیل کو پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

    قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قاآنی اپنے چیف آف اسٹاف کے ساتھ مل کر اسرائیل کو لبنان، شام اور یمن کی خفیہ رپورٹیں دے رہے تھے۔ انہی غداروں کی معلومات پر اسرائیل بیروت میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ تک پہنچا۔

    علی رضا اکبری، سابق نائب وزیر دفاع، جو ایران کے ایک انتہائی بااثر عہدیدار تھے اور جنہیں جنوری 2023 میں پھانسی دی گئی، انہوں نے برطانوی انٹیلی جنس اور موساد کو ایران کے ایٹمی سائنسدان محسن فخری زادہ کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔

    انصار المہدی سیکیورٹی یونٹ کا سربراہ، جو ایران کے اعلیٰ رہنماؤں کی حفاظت کرتا ہے، اس یونٹ کے کچھ ارکان کو ڈالر دے کر اسرائیل ایران کی حساس ترین عمارتوں کے اندر روبوٹک گنز اور دھماکہ خیز مواد نصب کرانے میں کامیاب ہو گیا۔

    ایرانی انٹیلی جنس کی مبینہ ناکامی اور علی خامنہ ای کے جانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ سیاسی ماہرین اسے ایک نئے مشرقِ وسطیٰ کی شروعات کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

    عالمی دفاعی ماہرین، جن میں موساد اور جینز ڈیفنس کے سابق افسران شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں ایران کے انٹیلی جنس نیٹ ورک میں بڑی دراڑیں پڑی ہیں۔ موساد نے ایران کے حساس ترین حلقوں میں اپنے لوگ بٹھا دیے ہیں۔

    اسماعیل ہنیہ اور موجودہ صورتِ حال کا نشانہ بننا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کے سیکیورٹی اداروں میں اندرونی جاسوسی ہو رہی ہے۔ سپریم لیڈر جیسی شخصیت کا غیر محفوظ ہونا ایرانی انٹیلی جنس اداروں، وزارتِ اطلاعات اور پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس، کے درمیان عدم تعاون اور ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

    مغربی ماہرین کا خیال ہے کہ ایران روایتی سیکیورٹی میں تو بہتر ہے لیکن جدید سائبر جنگ اور ڈیجیٹل جاسوسی میں وہ اسرائیل اور امریکہ سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

    ایران کے دو بڑے جاسوسی اداروں، وزارتِ اطلاعات اور پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس، کے درمیان برسوں سے جاری خفیہ جنگ ہی ایران کی موجودہ سیکیورٹی ناکامی کی بڑی وجہ بن کر سامنے آئی ہے۔ وزارتِ اطلاعات ایرانی حکومت اور صدر کو جواب دہ ہے جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس براہِ راست سپریم لیڈر کے ماتحت ہے۔

    ملک کی سول انٹیلی جنس کسی حد تک پیشہ ورانہ ہے جبکہ فوجی اور نظریاتی ونگ سخت گیر مذہبی ہے۔ وزارتِ اطلاعات سفارت کاری اور مذاکرات کی حامی ہے جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس جارحیت پسند اور پراکسی جنگ کی حامی رہی ہے۔ اسی وجہ سے دونوں اداروں میں گزشتہ دو دہائیوں سے اندرونی کشمکش جاری ہے۔

    فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ناکامی کی وجہ ایک کشتی میں دو ملاح والی صورتِ حال ہے۔ جب دو ادارے ایک ہی مقصد کے لیے کام کریں لیکن ان کی کمان الگ ہو تو وہاں معلومات کا تبادلہ ختم ہو جاتا ہے۔ گزشتہ چند سال میں پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس نے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے جس کی وجہ سے وزارتِ اطلاعات کے پرانے اور تجربہ کار افسران کو سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ اسی اندرونی کشمکش کا فائدہ اٹھا کر موساد ایرانی نظام میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئی۔ جب ایران کے ایٹمی سائنسدانوں یا ہنیہ جیسے مہمانوں پر حملے ہوئے تو دونوں اداروں نے ایک دوسرے پر غداری کے الزامات لگائے۔ یہ بے اعتمادی اس قدر بڑھ گئی کہ ایک ادارہ دوسرے کے آپریشن کو ناکام بنانے لگا۔

    خامنہ ای ان دونوں اداروں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے تھے۔ ان کے جانے کے بعد اندرونی بغاوت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب شاید وزارتِ اطلاعات کو مکمل طور پر ختم کرنے یا اپنے ماتحت کرنے کی کوشش کرے گی جس سے سول بیوروکریسی میں شدید غم و غصہ پیدا ہوگا۔ یہ ادارے ایک دوسرے کے سیاسی رہنماؤں کی فائلیں کھول سکتے ہیں تاکہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب پر اثر انداز ہو سکیں۔

    پاسدارانِ انقلاب اس وقت زیادہ طاقتور ہے لیکن وزارتِ اطلاعات کے پاس ملک کے سیاسی خاندانوں اور افراد کی خفیہ معلومات زیادہ ہیں۔ یہ کشمکش ایران کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔

    عالمی ماہرین کے مطابق ایران اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں یا تو ریاست میں بڑی تبدیلی آئے گی یا پھر فوجی طاقت کے ذریعے نظام کو مزید سخت کر دیا جائے گا۔

    خامنہ ای گزشتہ 37 سال سے ریاست کا مرکزی ستون تھے۔ ان کے جانے سے ایران کے طاقتور حلقوں، فوج، عدلیہ اور مذہبی رہنماؤں، میں اقتدار کی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ ایرانی آئین کے تحت نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کا سربراہ اور ایک اور اعلیٰ عہدیدار ملک کا نظام چلائیں گے۔ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں سب سے بڑا کردار پاسدارانِ انقلاب کا ہوگا۔ یہ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ ایران اب مزید ایک فوجی ریاست کی طرح کام کرے گا جہاں مذہبی رہنماؤں کا کردار محض علامتی رہ جائے گا۔

    ممکنہ جانشینوں میں مجتبیٰ خامنہ ای، حسن خمینی اور علی لاریجانی کے نام زیرِ گردش ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ شاید ایک شخص کے بجائے تین سے پانچ ارکان پر مشتمل رہبری کونسل قائم کر دی جائے۔

    علی خامنہ ای کی شہادت یا وفات کے بعد مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بھی مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔ خامنہ ای کے حکم پر چلنے والے پراکسی نیٹ ورک، حزب اللہ اور حوثیوں، کا مستقبل بھی داؤ پر لگ گیا ہے۔ عرب ممالک اس تمام صورتِ حال پر پریشان ہیں۔ ایران میں کچھ اعلیٰ حکام نظریاتی طور پر موجودہ مذہبی نظام سے بیزار ہو چکے ہیں اور وہ اسے گرانے کے لیے بیرونی قوتوں کی مدد کر رہے ہیں۔ اگر ایران کی نئی قیادت، خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب، اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل پر بڑا حملہ کرتی ہے تو یہ صورتِ حال تیسری عالمی جنگ یا کم از کم ایک بڑی علاقائی جنگ کی طرف جا سکتی ہے۔

    ایران اب صرف بیرونی دشمن سے نہیں بلکہ اپنی اندرونی سچائی سے بھی لڑ رہا ہے۔ آنے والے چند مہینے فیصلہ کریں گے کہ آیا یہ واقعات ایران کے زوال کا آغاز ہیں یا ایک نئی، زیادہ سخت اور مرکزی طاقت کے جنم کا اعلان۔

     

  • اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے، کون سے ممالک کی فضائی حدود بند، پروازیں منسوخ؟

    اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے، کون سے ممالک کی فضائی حدود بند، پروازیں منسوخ؟

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کا آسمان معمول کے مطابق نہیں رہا۔ زمین پر ہونے والی عسکری کارروائیوں کا اثر سب سے پہلے فضا میں نظر آتا ہے۔ کچھ ممالک نے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دیں، جبکہ کچھ نے انہیں جزوی طور پر محدود کر دیا۔

    ایران ان ممالک میں شامل ہے جہاں عسکری کشیدگی، میزائل حملوں اور ایئر ڈیفنس سسٹمز کی سرگرمیوں کے باعث سویلین پروازوں کے لیے خطرات بڑھ گئے۔ ایسے حالات میں کمرشل طیاروں کی پرواز جاری رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ اسی لیے حفاظتی بنیادوں پر فضائی حدود بند کی جاتی ہیں۔

    اسرائیل نے بھی قومی سلامتی کی صورتحال کے پیش نظر اپنی فضائی سرگرمیوں کو محدود کیا۔ جب میزائل دفاعی نظام فعال ہوں اور فضائی خطرات موجود ہوں تو سویلین اور عسکری سرگرمیوں کو الگ رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    عراق جغرافیائی طور پر تنازع کے بیچ میں واقع ہے۔ اگر خطے میں میزائل یا ڈرون حملے ہو رہے ہوں تو ان کے راستے اکثر عراقی فضا سے گزرتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہاں بھی فضائی حدود متاثر ہوتی ہیں۔

    قطر، بحرین اور کویت جیسے خلیجی ممالک نے علاقائی سکیورٹی خدشات کے تحت احتیاطی اقدامات کیے۔ یہ ممالک عالمی فضائی روٹس کا اہم حصہ ہیں، اس لیے کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری فیصلے ناگزیر ہو جاتے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات اور شام میں مکمل بندش کے بجائے مخصوص علاقوں اور بلندیوں پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ کچھ روٹس تبدیل کیے گئے تاکہ خطرناک فضائی گزرگاہوں سے بچا جا سکے۔

    جب مشرقِ وسطیٰ کے یہ اہم فضائی کوریڈور بند ہوتے ہیں تو اس کا اثر عالمی سطح پر محسوس ہوتا ہے۔ یورپ سے ایشیا جانے والی پروازیں متبادل راستے اختیار کرتی ہیں، اکثر ترکی، وسطی ایشیا یا شمالی فضائی راستوں سے گزرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں پرواز کا دورانیہ بڑھتا ہے، ایندھن کا خرچ زیادہ ہوتا ہے، اور ٹکٹ مہنگے ہو جاتے ہیں۔

    ایسے مواقع پر ایک اہم اصطلاح سامنے آتی ہے: NOTAM، یعنی Notice to Air Missions۔ یہ ایک باضابطہ اطلاع ہوتی ہے جس کے ذریعے دنیا بھر کی ایئرلائنز کو بتایا جاتا ہے کہ مخصوص فضائی حدود غیر محفوظ ہیں۔ جب NOTAM جاری ہوتا ہے تو عالمی ہوا بازی کا نظام فوراً متحرک ہو جاتا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان نے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند نہیں کیں، لیکن انڈیا کے رجسٹرڈ طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی حدود بند ہیں۔ یہ فیصلہ براہ راست موجودہ عسکری صورتحال کا نتیجہ نہیں بلکہ سفارتی اور سکیورٹی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس کے باعث انڈیا سے یورپ اور خلیجی ممالک جانے والی پروازوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں، جس سے لاگت اور وقت دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

    یہ تمام صورتحال ایک اہم حقیقت کو واضح کرتی ہے۔ آسمان صرف جغرافیہ نہیں، سیاست بھی ہے۔ جب زمین پر کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا پہلا عکس فضا میں نظر آتا ہے۔ ہر بند فضائی حدود ایک حفاظتی اقدام بھی ہوتی ہے اور ایک سیاسی پیغام بھی۔

    جہاز براعظموں کو جوڑتے ہیں، فاصلے کم کرتے ہیں، تجارت اور سفر کو ممکن بناتے ہیں۔ مگر جب تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو سب سے پہلے یہی راستے خاموش ہو جاتے ہیں۔ اور اسی خاموشی میں عالمی سیاست کی گونج سنائی دیتی ہے۔

  • ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کون تھے؟  اور وہ امریکہ اور اسرائیل کے ہدف پر کیوں تھے؟

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کون تھے؟ اور وہ امریکہ اور اسرائیل کے ہدف پر کیوں تھے؟

    ایران کے سرکاری میڈیا نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای شہید ہوگئے ہیں۔

    امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کی صبح کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے وابسطہ مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

    امریکہ نے ایرانی فوجی اہداف پر حملوں کو آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا ہے۔

    ایران کی پاسداران انقلاب نے بھی جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

    ایران نے اسرائیل اور مختلف خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی طرف میزائل داغے ہیں۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق سات میزائل صدارتی محل کے قریب علاقے میں گرے، جو شمالی تہران کے علاقے شمران میں واقع ہے

    جبکہ میزائل حملے خامنہ ای کے رہائشی اور دفتری کمپاؤنڈ کے قریب بھی کیے گئے۔

    خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ حملوں کا ہدف تہران میں واقع آیت اللہ خامنہ ای کے دفاتر کے قریب کے علاقے تھے۔

    86سالہ مذہبی رہنما اور اسلامی اسکالر علی خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر ہیں۔ انہوں نے یہ عہدہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی، رہنما روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد سنبھالا تھا۔

    آیت اللہ خمینی 1979 کے ایرانی انقلاب کے دوران جلاوطنی سے واپس آئے تھے اور انہوں نے امریکہ کے اتحادی بادشاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

    سپریم لیڈر کی حیثیت سے علی خامنہ ای کو ایران میں ریاست کے تمام اداروں پر حتمی اختیار حاصل ہے۔

    جن میں حکومت کی تمام برانچز اور ادارے، مسلح افواج اور عدلیہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ملک کے روحانی پیشوا کے طور پر بھی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور ایران کے سیاسی و مذہبی نظام میں سب سے بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔

    سپریم لیڈر کی حیثیت سے علی خامنہ ای ایران کی مسلح افواج، خارجہ پالیسی اور ریاستی اداروں پر حتمی اختیار رکھتے ہیں ۔

    جس کی وجہ سے وہ ملک کی طاقتور ترین شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم اور حساس ہدف تصور کیے جا رہے ہیں۔

    آیت اللہ علی خامنہ ای کہاں تھے؟

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے موجودہ مقام کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ خامنہ ای اس وقت دارالحکومت تہران میں موجود نہیں اور انہیں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    خبررساں ادارے رائٹر کی رپورٹ کہتی ہے امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران پر حملے کر کے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے تنازع میں دھکیل دیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد امریکہ کو درپیش سیکیورٹی خطرے کا خاتمہ کرنا اور ایرانی عوام کو اپنی قیادت کے خلاف کھڑے ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

    خبر کے مطابق ان حملوں کے بعد خلیجی عرب ممالک، جو تیل پیدا کرنے والے اہم ممالک ہیں، شدید تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں کیونکہ خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان دونوں کو نشانہ بنایا گیا

    تاہم ان حملوں کے نتائج فوری طور پر واضح نہیں ہو سکے۔

    رائٹر نے ایک زریعے کے حوالے سے اپنی خبرمیں کہا ہے کہ خامنہ ای اس وقت دارالحکومت تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

    ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے قریب ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے کئی سینئر کمانڈرز اور سیاسی عہدیدار حملوں میں شہید ہو گئے ہیں

  • نو مئی کے واقعات سے ایران تک، بدامنی، ریاست اور استحکام کا سوال

    نو مئی کے واقعات سے ایران تک، بدامنی، ریاست اور استحکام کا سوال

    ایران کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایسی ویڈیوز جاری کیے جانے، جن میں شہری بدامنی کے پردے میں مبینہ طور پر غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی تخریبی سرگرمیوں کو دکھایا گیا ہے، نے پاکستان میں 9 مئی کے واقعات کی یاد تازہ کر دی ہے۔ وہ دن محض سیاسی احتجاج نہیں تھا بلکہ بعض مقامات پر ریاستی اور عسکری تنصیبات پر حملوں کی صورت اختیار کر گیا، ایک ایسی حد جسے کوئی بھی فعال ریاست عبور کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

    اگرچہ مختلف ممالک کے حالات کا موازنہ احتیاط سے کیا جانا چاہیے، تاہم 9 مئی کے بعد پاکستان کے ردعمل نے یہ واضح کیا کہ کس طرح ریاست، سول اور عسکری اداروں کے باہمی اشتراک سے، بغیر طویل عدم استحکام کے، نظم و ضبط بحال کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستان کے ردعمل کا سب سے نمایاں پہلو صورتحال کا محدود اور مؤثر کنٹرول تھا۔ حملوں کی سنگینی اور علامتی اہمیت کے باوجود بدامنی کو پورے ملک میں پھیلنے سے روکا گیا۔ اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچہ فعال رہا، ریاستی نظامِ رابطہ محفوظ رہا، اور تشدد وقتی اور مخصوص علاقوں تک محدود رہا۔ یہ سب محض اتفاق نہیں تھا بلکہ ریاستی اداروں، بالخصوص فوج، کی اس صلاحیت کا اظہار تھا کہ وہ سول انتظامیہ کی معاونت کرتے ہوئے بروقت کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ فوج کا کردار کسی سیاسی اختیار کو سنبھالنے تک محدود نہیں رہا بلکہ استحکام کی بحالی تک رہا۔ عدالتی نظام بدستور کام کرتا رہا، میڈیا فعال رہا، اور آئینی ڈھانچے کو معطل نہیں کیا گیا۔ ایسے خطے میں جہاں سیاسی بحران اکثر طویل آمرانہ اقدامات یا ادارہ جاتی زوال پر منتج ہوتے رہے ہیں، یہ فرق نہایت اہم ہے۔

    بعد ازاں ہونے والی تحقیقات سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ 9 مئی کا تشدد نہ تو اچانک تھا اور نہ ہی محض جذباتی ردعمل۔ اہداف کے انتخاب اور کارروائی کی نوعیت ایک منظم کوشش کی جانب اشارہ کرتی تھی جو روایتی احتجاج سے کہیں آگے تھی۔ ریاست کی جانب سے اندھا دھند کریک ڈاؤن کے بجائے قانونی اور تفتیشی عمل کو ترجیح دینا اس فرق کو واضح کرنے میں مددگار ثابت ہوا کہ کہاں جائز اختلافِ رائے ختم ہوتا ہے اور کہاں ریاستی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

    اس حکمتِ عملی نے ایک بنیادی اصول کو بھی تقویت دی کہ سیاسی اختلاف ریاستی اداروں پر حملوں کا جواز نہیں بن سکتا۔ جمہوریت احتجاج کے حق پر قائم ہوتی ہے، مگر اسی کے ساتھ آئینی اور سلامتی کے اداروں کے تحفظ پر بھی۔ پاکستان کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس نازک توازن کو برقرار رکھنا مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔

    ایران میں اب جو عمل سامنے آ رہا ہے، بظاہر اسی منطق کے تحت ہے، یعنی داخلی عوامی شکایات اور مبینہ طور پر بیرونی اثر و رسوخ یا منظم تخریب کاری کے درمیان فرق کو واضح کرنا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ تہران اس توازن کو کس حد تک برقرار رکھ پاتا ہے۔ پاکستان کے تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ شفافیت، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قانونی عمل کی پاسداری ہی ایسے اقدامات کو ساکھ فراہم کر سکتی ہے۔

    یہ اعتراض بجا طور پر اٹھایا جاتا ہے کہ حد سے زیادہ سکیورٹی نقطۂ نظر جمہوری گنجائش کو محدود کر سکتا ہے۔ اس خدشے کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ تاہم 9 مئی کے واقعات نے یہ بھی واضح کیا کہ اس سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ سیاسی سرگرمی کو ریاستی اداروں کے خلاف منظم تشدد میں تبدیل ہونے دیا جائے۔ ایک بار یہ حد عبور ہو جائے تو اس کے اثرات کسی ایک جماعت یا ادارے تک محدود نہیں رہتے۔

    اس تناظر میں پاکستان کی فوج نے ریاستی تسلسل کی محافظ کے طور پر کردار ادا کیا تاکہ سیاسی کشمکش نظام کے انہدام پر منتج نہ ہو۔ نظم و ضبط کی بحالی نے سیاسی عمل، خواہ وہ جتنا بھی نامکمل کیوں نہ ہو، کو آئینی دائرے میں جاری رہنے کا موقع دیا۔ طویل المدت جمہوری مفاد اسی میں ہے، نہ کہ بے لگام انتشار میں۔

    9 مئی سے حاصل ہونے والا سبق یہ نہیں کہ سول معاملات میں عسکری کردار مطلوب ہے، بلکہ یہ کہ ایک منضبط اور آئین کے تابع سلامتی کا نظام اس وقت ناگزیر ہو جاتا ہے جب خود ریاست کو نشانہ بنایا جائے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ یہ کردار غیر معمولی، متناسب اور قانون کی بالادستی سے جڑا رہے۔

    ایک ایسے وقت میں جب علاقائی اور عالمی سیاست تیزی سے غیر یقینی ہو رہی ہے، پاکستان کا تجربہ ایک بنیادی حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ استحکام جمہوریت کا مخالف نہیں بلکہ اکثر اس کی شرطِ اول ہوتا ہے۔

    لکھاری صوبائی ویجیلنس کمیٹی، محکمہ انسانی حقوق، حکومتِ سندھ کے سابق رکن ہیں۔

     

  • کراچی اور ایران کے شہر چاہ بہار کے درمیاں بحری سفر کے لیے پہلی بین الاقوامی فیری سروس کا آغاز جنوری کے تیسرے ہفتے میں شروع ہوگا

    کراچی اور ایران کے شہر چاہ بہار کے درمیاں بحری سفر کے لیے پہلی بین الاقوامی فیری سروس کا آغاز جنوری کے تیسرے ہفتے میں شروع ہوگا

    کراچی سے ایران کے شہر چاہ بہار کے لیے پہلی فیری سروس جنوری کے تیسرے ہفتے میں شروع کی جا رہی ہے۔
    یہ فیری ایک سفر میں دو سو چالیس مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ سفر کا دورانیہ 12 سے 14 گھنٹے ہوگا۔

    فیری سروس کا دو طرفہ ٹکٹ پچاس ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔
    حکام کے مطابق یہ سروس جدید، محفوظ اور پائیدار بحری سفر کی سہولت فراہم کرے گی۔

    کراچی پورٹ ٹرسٹ میں نئے فیری ٹرمینل کا افتتاح بھی کر دیا گیا ہے۔
    وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اس منصوبے کو سیاحت اور پاکستان کی بلیو اکانومی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
    فیری سروس ہفتے میں تین راؤنڈ ٹرپ کرے گی۔

    اس منصوبے کا مقصد پاکستان اور خطے کے ممالک کے درمیان بحری رابطوں کو مضبوط بنانا ہے۔
    حکام کے مطابق اس سروس سے سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ تجارت اور عوامی روابط میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
    نیا فیری ٹرمینل اور بین الاقوامی فیری سروس کراچی کی بحری شناخت کو ایک نئی سمت دے رہی ہے۔

  • ایران میں سلگتی چنگاری کا انجام کیا ہوگا؟

    ایران میں سلگتی چنگاری کا انجام کیا ہوگا؟

    عمر خیام، فردوسی اور حافظ شیرازی کا دیس ایران آج کل ایک بار پھر عالمی میڈیا کی سرخیوں میں ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور حکومتی نظام سے بیزاری نے خاص طور پر نوجوانوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔
    اطلاعات کے مطابق درجنوں شہری جان سے جا چکے ہیں، ہزاروں گرفتار ہوئے ہیں، اور حالات کے بگڑتے ہی فیس بک، ایکس، انسٹاگرام اور ٹیلیگرام جیسی معروف سوشل میڈیا سروسز بھی ملک میں بلاک کر دی گئیں۔

    کوئی اسے عرب بہار کا ایرانی ایڈیشن قرار دے رہا ہے، تو کوئی بنگلہ دیش اور شام کی طرز پر انتشار پھیلانے کی امریکی سازش۔ ویسے بھی ایران کی تاریخ میں یہ باب نیا نہیں۔ 1953 میں ڈاکٹر مصدق کی حکومت کے خلاف سی آئی اے کی کارروائیوں کا حوالہ آج بھی بحث میں زندہ ہے۔
    جب ڈاکٹر مصدق نے ایرانی تیل کمپنیوں کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا تو سی آئی اے نے ڈالروں کا استعمال کر کے ڈاکٹر مصدق کے خلاف مظاہرے کروائے اور حکومت چھوڑنے پر مجبور کیا۔

    احتجاج کیوں بھڑکے؟

    احتجاج کی تازہ لہر 28 دسمبر 2025 کو اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ایران میں پھیل گئی۔ ابتدا میں کہا گیا کہ انڈوں، گوشت اور روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے عوام کو سڑکوں پر نکالا۔
    بنیادی سبب یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایرانی کرنسی کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک گر گئی۔

    تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جس ملک میں ایک دور میں شاہِ ایران کی شان و شوکت کے تذکرے ہوتے تھے، یہاں تک کہ 1970 میں 2500 سالہ جشنِ شاہنشاہی میں فرانس کے ہوٹلوں سے کھانے منگوائے گئے اور جنگل میں منگل کا سماں تھا، جس میں پاکستان کے سابق فوجی آمر یحییٰ خان بھی شریک ہونے پہنچے تھے، آج اسی ملک کے شہری انڈوں کی قیمتوں پر احتجاج کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    داخلی و خارجی دباؤ، چیلنجز کی بھرمار

    یہ حقیقت ہے کہ ایران اس وقت اندرونی اور بیرونی، دونوں سطحوں پر شدید دباؤ کی زد میں ہے۔ 2024 کے بعد سے مہنگائی، کرنسی کی گرتی قدر اور توانائی کی قلت نے صورتحال کو مسلسل دباتے رکھا، جس کے نتیجے میں بار بار بجلی اور گیس کی بندشیں سامنے آئیں، اور صدر مسعود پزشکیاں کو عوام سے معذرت بھی کرنا پڑی۔

    دوسری طرف علاقائی منظرنامے میں بھی ایران کو جھٹکے لگے۔ شام میں اسد حکومت کا خاتمہ، غزہ میں حماس کے بعض اہم ٹھکانوں اور شخصیات کے خلاف کارروائیاں، اور لبنان میں حزب اللہ کی قیادت کو نشانہ بنانے جیسے واقعات نے ایرانی اثرورسوخ پر سوالات اٹھا دیے۔

    اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

    2025 کے آخری مہینوں میں زرِ مبادلہ کی منڈی میں بے مثال ہلچل دیکھی گئی۔
    ایرانی ریال یا تومان تیزی سے گرا اور ڈالر کے مقابلے میں شرح تبادلہ تقریباً ایک لاکھ پینتالیس ہزار تومان تک پہنچنے کا تذکرہ ہوا۔

    سرکاری ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر 2025 میں مہنگائی 42.2 فیصد رہی، جو نومبر کے مقابلے میں 1.8 فیصد اضافہ تھا۔ خوراک کی قیمتیں سال بہ سال 72 فیصد بڑھیں، جبکہ صحت اور طبی سامان 50 فیصد تک مہنگا ہوا۔

    پانی کے بحران کی بدانتظامی بھی عوامی بے چینی میں اضافہ کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ ایرانی میڈیا کے مطابق حکومت نے 21 مارچ، ایرانی نئے سال، سے ٹیکس بڑھانے کا عندیہ دیا، جس سے شہریوں میں تشویش مزید بڑھی۔ اسی پس منظر میں احتجاج کے دوران یہ نعرہ بھی سنائی دیا، نہ غزہ، نہ لبنان، میری جان ایران پر قربان۔

    احتجاج کا رخ کہاں گیا؟

    وقت کے ساتھ احتجاج محض مہنگائی تک محدود نہ رہا۔ بدعنوانی، سخت گیر طرزِ حکمرانی، اور داخلی ضرورتوں کے مقابلے میں پراکسیز، مثلاً حزب اللہ اور حماس، کو ترجیح دینے کے الزامات بھی نمایاں ہوئے۔

    ساتھ ہی ایران کو کرد، آذربائجانی، خوزستانی عرب اور بلوچ علاقوں میں علیحدگی پسند تحریکوں کے چیلنجز، اور امریکا اور اسرائیل جیسے طاقتور ممالک کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

    زرِ مبادلہ کی صورتحال نے بحران کو مزید گہرا کیا۔ بتایا گیا کہ 29 دسمبر کو ریال تاریخی کم ترین سطح پر گیا۔ حکومت نے 3 جنوری کو شرح میں مصنوعی بہتری لانے کی کوشش کی، مگر 6 جنوری تک کرنسی پھر نئی کم ترین حد توڑ گئی، اور اس کے ساتھ ہی خوراک سمیت ضروری اشیا کی قیمتیں مزید اوپر چلی گئیں۔

    ماہرین کی نظر میں وجوہات

    معاشی ماہرین کے مطابق حکومتی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیاں، مسلسل بدانتظامی، دائمی بجٹ خسارہ اور بین الاقوامی پابندیوں کا تسلسل بنیادی اسباب ہیں۔ درآمدات پر انحصار کرنے والے کاروبار خاص طور پر متاثر ہوئے۔ شرحِ تبادلہ کے شدید اتار چڑھاؤ نے تاجروں کے لیے قیمتیں مقرر کرنا، سپلائی حاصل کرنا اور کاروبار چلانا مشکل بنا دیا۔

    سیاسی مفہوم، نعرے، گرفتاریاں اور طاقت کا استعمال

    رپورٹس کے مطابق احتجاج کی سیاسی جہت اس وقت نمایاں ہوئی جب مرگ بر خامنہ ای جیسے نعرے لگے، جن کا رخ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جانب سمجھا گیا۔
    صدر پزشکیاں سے بھی عوامی توقعات کمزور پڑتی دکھائی دیں۔ کہا گیا کہ وہ 2024 میں گڈ گورننس کے وعدوں کے ساتھ آئے تھے، مگر پانی اور بجلی کی بندشیں جاری رہیں اور انٹرنیٹ سنسرشپ میں خاطر خواہ نرمی نہ آ سکی۔

    اگرچہ پرامن احتجاج کے آئینی حق کی بات کی گئی اور نمائندوں سے ملاقات کے وعدے بھی سامنے آئے، مگر سیکورٹی اداروں پر صدارتی اختیار محدود بتایا جاتا ہے۔
    یکم جنوری 2026 تک متعدد گرفتاریاں، اور بعض مقامات پر براہِ راست گولی چلانے کے واقعات کا ذکر بھی سامنے آیا، جن میں طلبہ، پنشنرز اور نوجوان شامل بتائے گئے۔

    پس منظر میں جوہری معاہدہ، ٹرمپ اور نئی کشیدگیاں

    اس تناظر میں 2013 میں حسن روحانی کے تبدیلی کے نعروں، 2015 کے جوہری معاہدے اور پابندیوں میں جزوی نرمی کا حوالہ بھی اہم ہے۔
    پھر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد معاہدے سے دستبرداری، سفری پابندیوں میں سختی اور یروشلم سے متعلق امریکی فیصلوں نے خطے میں کشیدگی بڑھائی، اور ایران کی بے چینی میں اضافہ ہوا۔

    تازہ مظاہروں کے دوران بھی امریکی بیانات، ٹویٹس اور سابق شاہِ ایران کے صاحبزادے رضا پہلوی کی سرگرمیوں کو بعض حلقے بیرونی پشت پناہی کے اشارے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
    کل لندن میں ایران کے سفارتخانے پر شاہِ ایران کے دور کا پرچم دوبارہ لہرایا گیا، اور یہ منظر بی بی سی سمیت دنیا بھر کے نیوز چینلز نے ایکسکلیوزلی نشر کیا۔

    اندرونِ ملک، ثقافتی اور سیاسی غصہ

    1979 سے پہلے ایران کو نسبتاً جدید اور کھلا معاشرہ سمجھا جاتا تھا۔ انقلاب کے بعد ولایتِ فقیہ کے نظام کے نفاذ کے ساتھ سماجی اور ثقافتی پابندیاں بڑھیں۔ فنونِ لطیفہ، گائیکی اور عوامی طرزِ زندگی پر قدغنیں لگیں۔ اسی تبدیلی نے ایک بڑے طبقے، خصوصاً نوجوانوں میں، ریاستی اور مذہبی قیادت کے خلاف ناراضی کو جنم دیا۔

    ایران کے سیاسی ڈھانچے میں اگرچہ صدارتی اور پارلیمانی ادارے موجود ہیں، مگر اصل مرکزِ اختیار سپریم لیڈر ہے۔ مجلسِ خبرگان کو سپریم لیڈر کے انتخاب اور برطرفی کا اختیار حاصل ہے۔ پارلیمان کے 290 اراکین حکومت کی نگرانی کرتے ہیں، مگر آبادی کا بڑا حصہ، تیس سال سے کم عمر، ایسا ہے جو انقلاب کے بعد پیدا ہوا اور اپنی سماجی اور معاشی حقیقتوں میں جینے پر مجبور ہے۔

    ایران کے لیے اس وقت سعودی عرب کی پالیسیاں بھی ایک چیلنج ہیں، جہاں ایم بی ایس نے مذہبی ماحول کے باوجود کنسرٹس اور عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت دی، جس سے ایران پر یہ دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ بھی لبرل اوپن نیس کی پالیسی کو آگے بڑھائے۔

    یہی وہ دبی ہوئی چنگاری ہے جو اب بار بار بھڑکتی نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ چنگاری وقتی دباؤ میں بجھ جائے گی، یا ایران کے اندر کوئی بڑا سیاسی اور سماجی موڑ پیدا کرے گی؟ کیا یہ ابھار وقتی ثابت ہوگا، یا تاریخ ایک بار پھر دہرائی جائے گی، جیسے خمینی ایئر فرانس کی فلائٹ سے پیرس سے تہران پہنچے تھے؟ کیا پرنس رضا شاہ بھی واشنگٹن سے اسی انداز میں لنگرانداز ہوں گے؟

    خمینی کی آمد کے وقت 1979 میں ایک افواہ اڑی کہ ایران کی نامور ترین گلوکارہ خانم گگوش کو مذہبی پولیس نے گھر میں گھس کر مار دیا ہے، اگرچہ یہ بعد میں افواہ ہی ثابت ہوئی۔ اس موقع پر سندھی کے نامور رومانوی شاعر حسن درس نے خانم گگوش لکھی تھی، جس کا منظوم ترجمہ درج ذیل ہے۔

    خانم گگوش کی تصویر کے فریم میں
    ایک ملک قید ہے،
    جس کی سرحدوں کے اندر جوانی ممنوع ہے۔

    تاریخ کے سگریٹ کو
    جب تیلی نے چھوا
    تو وقت سلگ اٹھا،

    اور ایک لمبی کش میں
    درد کا سرمئی دھواں
    ہوا میں بکھرنے لگا۔

    خمینی
    تم ایک راکھ کی طرح
    اپنی قبر کی ایش ٹرے میں
    بے معنی ہو کر جھڑ جاؤ گے۔

    گگوش کی آنکھوں میں
    ایک کربلا چونک کر جاگ اٹھتی ہے،

    اور خوابوں کے حسین
    اپنے قتل کی ناانصافی پر
    ہر یزید، ہر خمینی کے
    ابدی زوال اور موت کو روندتے ہوئے

    دل کے نئے موسموں کے
    نئے عنوان بن جاتے ہیں۔

    درد کی اس پرانی جھیل پر
    جب دیس اور پردیس کے پرندے
    اکٹھے اڑان بھریں گے

    تو نیلگوں آسمان میں بھی
    پرندوں کا ایک بادل
    جھیل پر سایہ کر دے گا۔

    تب کروڑوں لڑکے اور لڑکیاں
    جوانی کی شاخ پر
    زندگی کی کمر میں بانہیں ڈالے
    مسلسل ہنستے رہیں گے،

    اور اُن قہقہوں میں
    گگوش ہمیشہ جوان رہے گی۔

    حسن درس

     

  • ایران: معاشی دباؤ کے خلاف کئی روز سے احتجاج جاری، ہلاکتوں میں اضافہ، انٹرنیٹ سروس معطل

    ایران: معاشی دباؤ کے خلاف کئی روز سے احتجاج جاری، ہلاکتوں میں اضافہ، انٹرنیٹ سروس معطل

    ایران میں معاشی حالات کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے کئی دنوں سے جاری ہیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سنہ 28 دسمبر کے بعد سے مختلف شہروں میں ہونے والے ان احتجاجوں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 45 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

    رپورٹس کے مطابق یہ احتجاج متعدد صوبوں تک پھیل چکے ہیں۔ مختلف شہروں میں دکانداروں اور شہریوں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ بعض مقامات پر سڑکیں بند کی گئیں، جس کے باعث شہری آمد و رفت اور ٹریفک نظام متاثر ہوا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق کچھ شہروں میں احتجاج کے دوران پولیس پر پتھراؤ اور فائرنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو قابو میں رکھنے اور احتجاج کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے پولیس اور سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ سرکاری بیانات میں کہا گیا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔

    انٹرنیٹ سروس کی بندش

    احتجاج کے دوران ایران کے مختلف حصوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔ انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں کنیکٹیویٹی میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ بندش کی باضابطہ وجہ حکام کی جانب سے واضح نہیں کی گئی، تاہم ماضی میں بھی احتجاجی مواقع پر ایسی پابندیاں لگائی جاتی رہی ہیں۔

    پس منظر میں ایرانی عوام مہنگائی، بیروزگاری اور ملکی کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ معاشی دباؤ اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کو حالیہ مظاہروں کی بڑی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب امریکا کے صدر نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس بیان کو ایران کی اندرونی صورتحال پر بین الاقوامی تشویش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔