ایران-امریکہ تنازعہ: عالمی طاقتوں کی کشمکش اور معاشی و فوجی بحران

ایران کی جنگ صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ دنیا کے سیاسی، معاشی اور فوجی ڈھانچے کو طویل عرصے تک بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایسی جنگیں صرف بارود تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

ایران کو دہائیوں کی پابندیوں، عالمی تنہائی اور بڑی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود شکست دینا اتنا مشکل کیوں رہا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ وسیع اور دشوار گزار جغرافیائی ساخت ہے، جبکہ دفاعی حکمتِ عملی نہایت سوچ سمجھ کر ترتیب دی گئی ہے، جو غیر روایتی جنگ، علاقائی اتحادیوں اور اسٹریٹجک قوتوں پر مبنی ہے۔

ایران نے ایسا نظام تیار کیا ہے جو شدید حملے برداشت کر سکتا ہے اور دشمن کو سخت مقابلہ دے سکتا ہے۔ یہ صرف فوجی طاقت کی بات نہیں بلکہ لچک، حکمتِ عملی اور دنیا کے سب سے غیر مستحکم خطے میں بقا کی جدوجہد کی کہانی ہے۔ اب یہ فضائی حملوں کے بعد طویل زمینی جنگ کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔

فریقین مورچہ بند ہو رہے ہیں، علاقائی اتحاد بن رہے ہیں، گوریلا جنگ کے لیے صف بندیاں شروع ہو چکی ہیں۔ سیاسی جوڑ توڑ کے ساتھ امریکی ایوانوں میں بھی ہلچل مچ چکی ہے، دنیا ایک نئے معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے، سیاسی سرگرمیاں بڑھ چکی ہیں اور خفیہ سفارتکاری دم توڑ رہی ہے۔ یورپ خفیہ طور پر اسرائیل کو معاشی، اقتصادی اور فوجی مدد فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہو چکا ہے۔

نیویارک ٹائمز، سی این این، الجزیرہ، سعودی گزٹ اور دیگر عرب اخبارات کے مطابق امریکہ ایران کو مذاکرات میں مصروف رکھ کر زمینی فوجی کارروائی کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر رہا ہے۔ پینٹاگون نے 6 عرب ممالک کے ساتھ مل کر "ہفتوں تک جاری رہنے والی زمینی کارروائی” کے آپریشن کا منصوبہ تیار کر لیا ہے اور اہداف پر غور کیا جا رہا ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، افریقہ سمیت دیگر ممالک سے ہزاروں فوجی عرب ممالک میں منتقل کیے جا چکے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں ڈیڑھ لاکھ امریکی فوجی اور 35 ہزار ایکسپیڈیشنری یونٹ عرب ممالک کے خفیہ مقامات پر تعینات ہیں۔ امریکہ کے دو سمندری جنگی بیڑے خلیج فارس اور ایران کے قریب ہائی الرٹ پر ہیں۔ قطر، کویت اور بحرین میں فوجی اڈے ہائی الرٹ کیے گئے ہیں، متحدہ عرب امارات میں F-22 اسٹیلتھ طیارے تیار حالت میں ہیں۔ برطانیہ سمیت یورپی ممالک نے جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز عرب ممالک میں پہنچا دیے ہیں۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ زمینی کارروائی امریکہ کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران کا آپریشنل پہاڑی علاقہ، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب 200 کلومیٹر طویل پہاڑی سلسلہ، متعدد غاروں پر مشتمل ہے، جہاں ایرانی گوریلا جنگ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ ایران نے طویل زمینی جنگ کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

عراق، لیبیا، شام اور یمن میں موجود ایران کے حامی شیعہ ملیشیا گروپس سمندری جزیروں میں اپنی پوزیشنیں سنبھال رہے ہیں۔ غاروں میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کیا گیا ہے، جہاں مقامی کمانڈروں کو فوری فیصلے کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق امریکہ نے آبنائے ہرمز، خارگ جزیرہ، قشم، لارک اور جزیرہ ابو موسیٰ پر زمینی حملے کے منصوبے حتمی شکل دے دی ہے، جس میں تمام عرب ممالک امریکی ساتھ دیں گے۔ ایران دھمکی دے چکا ہے کہ اگر کسی جزیرے پر حملہ ہوا تو پورے خطے کے تیل کے کارخانوں کو تباہ کر دے گا۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ابتدائی تین ہفتوں میں امریکی فوجی سازوسامان کے نقصان کا تخمینہ 1.4 سے 2.9 ارب ڈالر لگایا گیا۔ پینٹاگون نے جنگی اخراجات کے لیے وائٹ ہاؤس سے 200 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز طلب کیے ہیں۔

اسرائیل کو روزانہ دفاعی میزائلوں پر 50 سے 100 ملین ڈالر نقصان ہو رہا ہے۔ حیفہ بندرگاہ تباہ ہو گئی، ہائی ٹیک کمپنیاں بند ہو گئی ہیں، ہزاروں ریزرو فوجی فرار ہو کر چھپ گئے ہیں، بجلی کے بڑے منصوبے تباہ ہو چکے ہیں، اور لیویاتھان گیس فیلڈ عارضی طور پر بند ہے۔ اسرائیل امریکی امداد اور عالمی قرضوں پر انحصار کر رہا ہے۔

امریکہ کے اندر جنگ مخالف احتجاج شدت اختیار کر رہے ہیں اور کانگریس میں بجٹ کے معاملے پر ہنگامہ جاری ہے۔ صدر ٹرمپ کی کابینہ میں اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں اور کئی سینئر وزراء جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان اختلافات کے باعث اعلیٰ عہدیداروں کی تبدیلیاں جاری ہیں، جو امریکہ کے لیے سنگین داخلی بحران کا خطرہ بن سکتی ہیں۔