دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی آبادی پہلے ہی کئی ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، جہاں وسائل محدود اور خاندانی منصوبہ بندی کے ذرائع ناکافی ہیں۔ ایسے میں مانع حمل طریقوں میں سب سے مؤثر اور قابلِ رسائی ذریعہ سمجھے جانے والے کنڈوم کی ممکنہ مہنگائی نے ایک نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ایران اور امریکہ، اسرائیل کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے پیدا ہونے والا سپلائی بحران بتایا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں ملائیشیا کی معروف کنڈوم ساز کمپنی Karex نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی برقرار رہی تو اس کی مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کنڈوم بنانے والی اس کمپنی کے مطابق کنڈوم بنانے میں استعمال ہونے والے خام مال کی قلت اور ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔
Karex ہر سال 5 ارب سے زائد کنڈوم تیار کرتی ہے اور معروف برانڈز Durex اور Trojan سمیت برطانیہ کے قومی صحت کے نظام نیشنل ہیلتھ سروس کو بھی سپلائی فراہم کرتی ہے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو گوہ میاہ کیات نے بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران سے جڑی حالیہ جنگی صورتحال نے عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر تیل اور اس سے وابستہ مصنوعات کی ترسیل میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں، جو کنڈوم کی تیاری کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
کنڈوم بنانے کے عمل میں لیٹیکس کو محفوظ رکھنے کے لیے امونیا اور چکناہٹ کے لیے سلیکون پر مبنی مواد استعمال ہوتا ہے، جو براہِ راست پیٹرولیم مصنوعات سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ جب تیل کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو ان بائی پراڈکٹ اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔
گوہ میاہ کیات کے مطابق اس سال کنڈوم کی طلب میں بھی تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک وجہ عالمی غیر یقینی صورتحال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں لوگ خاندانی منصوبہ بندی کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ معاشی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہوتا ہے۔
ایک اور عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں گوہ میاہ کیات کا کہنا تھا کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد سے کمپنی کو مصنوعی ربڑ اور نائٹرائل سمیت کنڈوم کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد، پیکجنگ اشیا اور چکناہٹ کے لیے استعمال ہونے والے ایلومینیم فوائل اور سلیکون آئل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ Karex کے پاس آئندہ چند ماہ کے لیے کنڈوم کا وافر ذخیرہ موجود ہے، مگر بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداوار میں اضافے کی کوششوں میں یہ جنگی صورتحال سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس غیر ملکی امداد میں بڑی کٹوتیوں، خصوصاً امریکی امدادی ادارے USAID کی جانب سے اخراجات میں کمی کے باعث عالمی سطح پر کنڈوم کے ذخائر میں نمایاں کمی آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یورپ اور امریکا جیسے مقامات تک Karex کی ترسیل اب تقریباً دو ماہ میں مکمل ہو رہی ہے، جو پہلے ایک ماہ میں ہو جاتی تھی۔
گوہ میاہ کیات نے کہا کہ اس وقت بڑی تعداد میں کنڈوم ایسے بحری جہازوں میں موجود ہیں جو اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے، حالانکہ ان کی شدید ضرورت ہے۔ ان کے بقول کئی ترقی پذیر ممالک میں اسٹاک کی کمی ہے کیونکہ مصنوعات کی ترسیل میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔

