Tag: جنگ

  • جنگ، سینسر شپ اور عالمی معیشت کا زلزلہ

    جنگ، سینسر شپ اور عالمی معیشت کا زلزلہ

    حالیہ جنگ کے دوران امریکہ، اسرائیل، ایران اور کئی عرب ممالک میں میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ اسرائیل میں حساس مقامات کی تصویر کشی پر سخت نگرانی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی کئی طرح کی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ اسی وجہ سے میدان جنگ کی مکمل اور آزادانہ معلومات دنیا تک پہنچنا مشکل ہو گئی ہیں۔

    کچھ سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر محدود معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ اس جنگ پر روزانہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں دنیا سے جنگوں کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا، مگر موجودہ حالات ایک ایسے تنازع کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس کے اثرات خطے سے نکل کر عالمی سیاست اور معیشت تک پہنچ رہے ہیں۔

    امریکہ اور یورپ کے کئی شہروں میں اس جنگ کے خلاف احتجاج بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

    ایران کے مختلف علاقوں پر بڑے پیمانے پر حملوں کی اطلاعات ہیں۔ رہائشی علاقوں، بینکوں، توانائی کے مراکز، پانی کے منصوبوں اور دیگر شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچنے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اس کے باوجود ایران کے کئی شہروں میں معمولات زندگی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہیں۔ بعض علاقوں میں بجلی اور تیل کی فراہمی متاثر ہونے اور پینے کے پانی کی قلت کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔

    سابق امریکی وزیر خارجہ اینتھنی بلنکن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیلی قیادت ماضی میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتی رہی ہے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق ایران کے میزائل پروگرام اور یورینیم افزودگی کے حوالے سے عالمی سطح پر مسلسل بحث جاری ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ مغربی ممالک اسے سکیورٹی خدشات سے جوڑتے ہیں۔

    اس جنگ کے ایک اہم پہلو میں عوامی ردعمل بھی شامل ہے۔ امریکہ میں یہ تنازع خاصا غیر مقبول قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران میں بھی داخلی مسائل، معاشی مشکلات اور سیاسی اختلافات موجود ہیں، لیکن بیرونی دباؤ کے باعث عوام کی ایک بڑی تعداد اپنی ریاست کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق ایسے حالات میں اکثر قوموں کے اندرونی اختلافات پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور بیرونی خطرہ مرکزی مسئلہ بن جاتا ہے۔

    خطے کی سیاست میں اسرائیل اور ایران کا تنازع کئی دہائیوں سے موجود ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل ایران کو اپنے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک چیلنج سمجھتا ہے، جبکہ ایران اسرائیل کی پالیسیوں کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ اسی کشمکش نے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو مسلسل متاثر کیا ہے۔

    اس تنازع کے اثرات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں رہے۔ توانائی کی عالمی منڈی، بحری تجارت اور فضائی سفر بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی ایئر لائنز کو پروازیں منسوخ کرنی پڑی ہیں جبکہ خلیج کے اہم بندرگاہی راستوں پر سرگرمی کم ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عالمی مارکیٹوں میں تیل، سونے اور ایل این جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور مالیاتی نظام پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس وقت دنیا پہلے ہی معاشی دباؤ، توانائی کے بحران اور سیاسی کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے۔

    یہ جنگ صرف زمین پر نہیں لڑی جا رہی بلکہ سائبر دنیا اور خلا تک پھیل چکی ہے۔ سائبر حملوں، سیٹلائٹ نگرانی اور جدید دفاعی نظاموں نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عالمی طاقتیں اپنی تکنیکی برتری کے ذریعے جنگی میدان میں برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    اگر یہ کشیدگی بڑھتی رہی تو اس کے اثرات آنے والے برسوں تک عالمی سیاست، توانائی کی منڈیوں اور معاشی نظام پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی جنگیں صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ وہ دنیا کے سیاسی اور معاشی نقشے کو بھی بدل دیتی ہیں۔

     

  • اسرائیل، ایران جنگ، ایندھن کا ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے پاکستان حکومت کا حکومت کی قومی شاہراہوں پر نئی حدِ رفتار نافذ، کم رفتار سے ایندھن کی بچت کیسے ممکن؟

    اسرائیل، ایران جنگ، ایندھن کا ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے پاکستان حکومت کا حکومت کی قومی شاہراہوں پر نئی حدِ رفتار نافذ، کم رفتار سے ایندھن کی بچت کیسے ممکن؟

    حکومت پاکستان کی ہدایات پر ایندھن کی بچت اور توانائی کے مؤثر استعمال کے پیش نظر موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر گاڑیوں کے لیے حدِ رفتار کم کر دی گئی ہے۔ موٹروے پولیس کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ایندھن کی کھپت کم کرنا اور کفایت شعاری پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

    ترجمان سینٹرل ریجن موٹروے پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ موٹرویز پر کار اور لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل کی حدِ رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح مسافر بردار گاڑیوں اور ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکل کے لیے رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔

    قومی شاہراہوں پر بھی رفتار میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ کار اور لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل کے لیے حدِ رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کر دی گئی ہے جبکہ مسافر بردار اور مال بردار گاڑیوں کے لیے رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 65 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔

    نئی رفتار پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی

    موٹروے پولیس کے مطابق نئی حدِ رفتار پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانے بھی کیے جا رہے ہیں۔ موٹروے ایم ٹو پر ایک شہری کو 115 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلانے پر 2500 روپے جرمانہ کیا گیا جبکہ ایک مسافر بس کو 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلانے پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صرف جرمانے عائد کرنا نہیں بلکہ ڈرائیورز کو نئی رفتار کی حدود سے آگاہ کرنا اور توانائی کے استعمال میں کمی لانا ہے۔

    قومی کفایت شعاری پالیسی کا حصہ

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ روز قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے قومی کفایت شعاری پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ اس پالیسی کے تحت سرکاری اخراجات کم کرنے اور توانائی کے استعمال میں کمی لانے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

    اعلان کے مطابق تمام سرکاری گاڑیوں کو اگلے دو ماہ کے لیے ایندھن کی فراہمی میں پچاس فیصد تک کمی کی جائے گی جبکہ سرکاری اداروں میں ہفتے میں چار دن کام کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

    قوم سے ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پورا خطہ جنگی صورتحال کی لپیٹ میں ہے اور امن کو لاحق خطرات ہم سب کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہیں۔

    وزیراعظم کے مطابق پاکستان کی معیشت بڑی حد تک خلیجی ممالک سے آنے والے تیل اور گیس پر انحصار کرتی ہے، اسی لیے عالمی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر ملک پر پڑتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ انہیں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس سے کہیں زیادہ اضافے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم حکومت نے درمیانی راستہ اختیار کیا تاکہ عوام پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔

    رفتار کم کرنے سے ایندھن کیسے بچتا ہے؟

    ماہرین کے مطابق گاڑی کی رفتار اور ایندھن کے استعمال کے درمیان واضح تعلق موجود ہے۔ جیسے جیسے رفتار بڑھتی ہے، گاڑی کو ہوا کی مزاحمت زیادہ برداشت کرنا پڑتی ہے۔ اس مزاحمت پر قابو پانے کے لیے انجن کو زیادہ طاقت استعمال کرنا پڑتی ہے جس سے ایندھن زیادہ خرچ ہوتا ہے۔

    تحقیقی مطالعات کے مطابق زیادہ تر گاڑیوں میں بہترین فیول اکانومی تقریباً 60 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان رفتار پر حاصل ہوتی ہے۔ اس رفتار سے زیادہ تیز چلنے پر فیول کھپت تیزی سے بڑھنے لگتی ہے۔

    ماہرین کا اندازہ ہے کہ رفتار میں ہر 10 کلومیٹر فی گھنٹہ اضافے کے ساتھ فیول کھپت میں تقریباً 7 سے 10 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر گاڑی 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہو تو وہ 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ایندھن استعمال کرتی ہے۔

    بھاری گاڑیوں میں یہ فرق اور بھی زیادہ ہو جاتا ہے کیونکہ زیادہ وزن کی وجہ سے زیادہ رفتار برقرار رکھنے کے لیے زیادہ طاقت درکار ہوتی ہے۔

    حادثات میں کمی کا امکان

    ماہرین کے مطابق رفتار میں کمی کا ایک اور فائدہ سڑکوں پر حادثات میں کمی بھی ہے۔ معتدل رفتار نہ صرف ڈرائیور کو بہتر کنٹرول فراہم کرتی ہے بلکہ اچانک بریک یا ٹکراؤ کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

    اسی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک میں توانائی کی بچت اور ٹریفک سیفٹی دونوں مقاصد کے لیے ہائی ویز پر رفتار کی حد کو ایک اہم پالیسی ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

    کیا اس فیصلے سے واقعی فرق پڑے گا؟

    توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈرائیور نئی رفتار کی حدود پر واقعی عمل کریں تو اس سے ملک میں ایندھن کی مجموعی کھپت میں قابلِ ذکر کمی آ سکتی ہے۔ تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئی پالیسی پر عملدرآمد کس حد تک مؤثر بنایا جاتا ہے۔

    اگر رفتار کم رکھنے کی عادت عام ہو جائے تو نہ صرف ایندھن کی بچت ممکن ہے بلکہ سڑکوں پر سفر بھی زیادہ محفوظ ہو سکتا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسے پالیسی فیصلوں کے پس منظر اور ان کے سائنسی پہلوؤں کو سادہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ عوام کو سمجھ آ سکے کہ روزمرہ زندگی میں ہونے والی یہ تبدیلیاں کیوں اہم ہوتی ہیں۔

  • اسرائیل، ایران جنگ: 85 ممالک میں پیٹرول مہنگا، تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ کس ملک میں؟

    اسرائیل، ایران جنگ: 85 ممالک میں پیٹرول مہنگا، تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ کس ملک میں؟

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر 28 فروری کو شروع ہونے والے حملوں کے بعد دنیا بھر میں توانائی کی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

    اس جنگ کے اثرات اب عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں اور دنیا کے کم از کم 85 ممالک میں ایندھن مہنگا ہو چکا ہے۔

    الجزیرہ نے عالمی ادارے گلوبل پیٹرول پرائسز کے تجزیاتی اعداد و شمار کی روشنی میں اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد درجنوں ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ کئی ممالک میں قیمتوں کا اعلان مہینے کے اختتام پر کیا جاتا ہے، اس لیے اپریل میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق امریکہ میں پیٹرول 20 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ فروری کے دوران پیٹرول کی فی گیلن اوسط قیمت 2.94 ڈالر تھی جو اب بڑھ کر 3.58 ڈالر ہو گئی ہے۔ یعنی تقریباً 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے فیول پرائس ٹریکر کے مطابق مختلف ریاستوں میں قیمتیں مختلف ہیں۔

    تاہم کئی ریاستوں میں فی گیلن قیمت 4 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ کیلیفورنیا میں یہ 5 ڈالر فی گیلن سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، جو گزشتہ دو برس کی بلند ترین سطح ہے۔

    تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ویتنام میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا، جہاں 23 فروری کو 95 آکٹین پیٹرول کی قیمت 0.75 ڈالر فی لیٹر تھی جو 9 مارچ تک بڑھ کر 1.13 ڈالر ہو گئی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقی ایشیا کے مقابلے میں جنوبی ایشیا کے ممالک اس بحران سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے پاس محدود مالی وسائل اور کم اسٹریٹیجک ذخائر موجود ہیں۔

    بنگلہ دیش کی حکومت نے توانائی بچانے کے لیے تمام سرکاری و نجی جامعات فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

    پاکستان میں بھی ایندھن کی بچت کے لیے سرکاری دفاتر میں چار روزہ ورک ویک متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ تعلیمی اداروں کو بند کرنے اور 50 فیصد ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    لاؤس میں قیمتوں میں 33 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کمبوڈیا میں 19 فیصد اور آسٹریلیا میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے

    توانائی کے ماہرین کے مطابق ایشیائی ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کی بڑی توانائی سپلائی خلیج فارس کی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آتی ہے، جو جنگ کے بعد عملی طور پر بند ہو چکی ہے۔

    یہ آبی راستہ خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملاتا ہے اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کے لیے عالمی منڈی تک پہنچنے کا بنیادی راستہ ہے۔

    جنگی صورتحال کو دیکھتے ہوئے جاپان نے 8 مارچ کو اپنے اسٹریٹیجک آئل ریزرو کے ذخائر کو ممکنہ استعمال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی، جبکہ جنوبی کوریا نے اگلے ہی روز پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر 30 برس میں پہلی مرتبہ زیادہ سے زیادہ حد مقرر کر دی۔

    امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے اثرات سے یورپ بھی محفوظ نہیں رہا۔

    یورپ میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث گروپ آف سیون (جی سیون) کے وزرائے خزانہ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے صارفین پر دباؤ کم کرنے کے لیے اسٹریٹیجک ذخائر کا 20 سے 30 فیصد تک جاری کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل مہنگا ہو تو خوراک بھی مہنگی ہوتی ہے اور دیگر اشیائے ضرورت کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

    کیونکہ زرعی کھاد، فصلوں کی نقل و حمل اور سپلائی چین کے ہر مرحلے میں توانائی استعمال ہوتی ہے۔

    ماہر معاشیات ڈیوڈ مک ولیمز کے مطابق عالمی معیشت کی اصل بنیاد نقل و حمل ہے۔ اشیا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا دراصل لاجسٹکس اور سپلائی چین کا مسئلہ ہے اور نقل و حمل بنیادی طور پر توانائی پر منحصر ہے۔

    جنگ نے عالمی معیشت کو براہ راست متاثر کیا ہے اور غیر یقینی کی کیفیت نے عالمی کساد بازاری کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔

    معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی اور بے روزگاری کے امتزاج یعنی اسٹگفلیشن کو جنم دے سکتا ہے۔

    ماضی میں 1973، 1978 اور 2008 کے بڑے تیل بحرانوں کے بعد عالمی معاشی سست روی یا کساد بازاری دیکھنے میں آئی تھی۔

    کم آمدنی والے ممالک میں جہاں لوگ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں اور جہاں اناج اور کھاد کی بڑی مقدار درآمد کی جاتی ہے، وہاں تیل مہنگا ہونے سے خوراک کی قلت کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

    خام تیل اور گیس صرف ایندھن کے طور پر ہی استعمال نہیں ہوتے بلکہ ہزاروں روزمرہ مصنوعات کی تیاری میں بھی بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

    معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پلاسٹک کی بوتلیں، خوراک کی پیکنگ، موبائل فون کے کور اور طبی سرنجیں سب خام تیل سے بننے والے پلاسٹک سے تیار ہوتی ہیں۔

    اسی طرح پالئیسٹر، نائلون اور ایکریلک جیسے مصنوعی کپڑے بھی خام تیل سے تیار کیے جاتے ہیں، جو اسپورٹس ویئر سے لے کر قالین تک مختلف مصنوعات میں استعمال ہوتے ہیں۔

    کاسمیٹکس کی صنعت بھی بڑی حد تک پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کرتی ہے، جن سے ویسلین، لپ اسٹک اور دیگر بیوٹی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

  • ایرانی جنگی حکمتِ عملی میں اچانک موڑ: شہادت کے بعد سرخ جھنڈے تلے

    ایرانی جنگی حکمتِ عملی میں اچانک موڑ: شہادت کے بعد سرخ جھنڈے تلے

    صدیوں کے صلیبی ٹکراؤ، آٹھ سالہ ایران عراق جنگ اور دو دہائیوں سے جاری پراکسی تنازعات کے تجربے کے ساتھ ایران نے ایک بار پھر اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ مذہبی رہنما علی خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد تہران دفاعی پوزیشن سے نکل کر براہِ راست جارحانہ ملٹی ڈومین حکمتِ عملی اختیار کر چکا ہے۔

    مذہبی مقامات سے سبز جھنڈا اتار کر سرخ جھنڈا لہرانا محض ایک علامتی عمل نہیں تھا بلکہ ایک واضح پیغام تھا کہ اب جنگ محدود نہیں رہے گی۔

    واشنگٹن اور تل ابیب کی مشترکہ حکمتِ عملی کو سیاسی ماہرین نے `بڑا سیاسی اور فوجی جوا` قرار دیا ہے، جس نے خطے کو ایسے مرحلے پر پہنچا دیا ہے جہاں روایتی فوجی ٹکراؤ سے آگے بڑھ کر سائبر، توانائی، معیشت، نفسیاتی دباؤ اور عالمی سپلائی چین سب ایک ہی میدانِ جنگ بن چکے ہیں۔

    ٹرمپ کا فیصلہ، جو کانگریس کی واضح منظوری کے بغیر کیا گیا، اب نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی نظام کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیل رہا ہے۔ امریکہ جتنی زیادہ دیر تک جنگ جاری رکھے گا، اس کے اثرات عرب ممالک کے ساتھ ساتھ یورپ پر بھی پڑیں گے۔

    سی این این کے تجزیہ نگار کولنسن لکھتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونا ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بہت بڑا سیاسی اور فوجی جوا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف علاقائی صورتحال بدل گئی ہے بلکہ امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا گیا ہے جس کے نتائج ابھی تک غیر یقینی ہیں۔

    خامنہ ای کے مارے جانے کے بعد ایران کی 47 سالہ اسلامی انقلابی حکومت کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ صورتحال ایران کے اندر ایک بڑی خانہ جنگی یا انتہائی سخت جوابی کارروائی کو جنم دے سکتی ہے۔

    تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے میزائل اور ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ اسرائیل کے وجود کو درپیش خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔ یہ صرف ایک فوجی مہم نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے پورے نقشے کو بدلنے کی کوشش ہے۔

    کولنسن خبردار کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ میں امریکی فوجیوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ شاید عراق اور لیبیا جیسی ایک نئی دلدل میں پھنس رہے ہیں، جہاں شروع میں فتح تو نظر آتی ہے مگر اس کے طویل مدتی اثرات تباہ کن ہوتے ہیں۔

    ٹرمپ کے فیصلے نے مشرقِ وسطیٰ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ وہاں اب ایک ایسی الجھی ہوئی علاقائی جنگ شروع ہو چکی ہے جو کئی دہائیوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ خامنہ ای کے خاتمے کی حکمتِ عملی ایک ایسا "خطرہ” ہے جس کی کامیابی جتنا بڑا نتیجہ دے گی، اس کی ناکامی اتنی ہی بڑی تباہی لا سکتی ہے۔

    یہ جنگ صرف فوجی آپریشن نہیں بلکہ ایک سیاسی اور اسٹریٹیجک فیصلہ ہے جس کا اثر صرف ایران پر نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ، امریکہ اور عالمی امن پر پڑے گا۔

    ٹرمپ نے یہ فیصلہ کانگریس کی منظوری کے بغیر کیا ہے۔ یہ جنگ ابھی سے ہی بدترین صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس میں شام، عراق اور سعودی عرب جیسے ممالک بھی شامل ہو چکے ہیں۔

    عالمی منڈی گر رہی ہے اور تیل، گیس اور توانائی کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ ریپبلکنز کا کہنا ہے کہ یہ جنگ خطے میں ایران کی طاقت ختم کرنے اور امریکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے، جبکہ اپوزیشن ڈیموکریٹس نے اسے ’اختیاری جنگ‘ (War of Choice) قرار دیا ہے۔ روسی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ ایران کو تبدیل کرنے کی کوشش جاری رکھیں تو اس کا نتیجہ تیسری عالمی جنگ تک پہنچ سکتا ہے۔

    ٹرمپ کی جنگی حکمتِ عملی کافی غیر واضح ہے۔ سی این این کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 59 فیصد امریکی عوام اس جنگ کی حمایت نہیں کرتے اور طویل جنگ کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

    عالمی میڈیا اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم غیر متوقع اور خطرات سے بھرپور ہے۔ فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران نے اپنے اس دفاعی منصوبے پر تیزی سے عمل شروع کر دیا ہے جس کا مقصد جنگ کو صرف ایران تک محدود رکھنے کے بجائے پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیلانا ہے۔

    خامنہ ای کے جانے کے بعد ایرانی نظام میں کوئی افراتفری پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کے برعکس ایران کی فوجی کمانڈ اور کنٹرول زیادہ سخت جوابی کارروائی کر رہے ہیں۔

    ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب تیل بردار جہازوں پر حملے کیے ہیں۔ فنانشل ٹائمز لکھتا ہے کہ یہ خامنہ ای کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت عالمی تیل کی فراہمی روک کر مغربی ممالک اور امریکہ پر معاشی دباؤ بڑھایا جائے۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے پہلی بار اپنے جدید ہائپر سونک میزائل (Fattah-2) استعمال کیے ہیں جو اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    ایران کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وہ ممالک جیسے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب، جو امریکی فوج کو اڈے فراہم کرتے ہیں، انہیں یہ پیغام دے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ ممالک بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ دبئی میں ہونے والے حالیہ حملے اسی سلسلے کی کڑی قرار دیے گئے ہیں۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کا بدلہ لینا صرف فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک ’مقدس قومی اور مذہبی فرض‘ ہے، جس کے لیے ایران نے اپنی تمام پراکسیز یعنی حزب اللہ، حوثی اور عراقی گروہوں کو متحرک کر دیا ہے۔

    فنانشل ٹائمز کے تجزیے کے مطابق ایران اس وقت ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس میں وہ امریکہ اور اسرائیل کے دفاعی وسائل کو ختم کرنا اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھا کر مغرب کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔

    چینی پروفیسر جیانگ جی کا کہنا ہے کہ یہ ایک قسم کی صلیبی جنگ ہے۔ ’ایران پچھلے بیس سال سے اس جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ جنگ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے جو امریکہ کو تھکا دے گی۔ ایرانی اپنی مذہبی سوچ اور آخرت کے نظریے کے تناظر میں لڑ رہے ہیں۔‘

    ’ایران امریکی ذہنیت کو اچھی طرح سمجھ چکا ہے اور اب ان کے پاس امریکی طاقت کو کمزور کرنے اور بالآخر امریکی سلطنت کو ختم کرنے کی حکمتِ عملی موجود ہے۔ ایران دراصل صرف امریکہ سے نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔

    ‘وہ خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو نشانہ بنا کر امریکی فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کر رہا ہے۔

    ’آگے چل کر وہ پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جو ان ممالک کی زندگی کی ڈور ہیں کیونکہ وہاں قدرتی میٹھا پانی موجود نہیں۔ خلیجی ممالک کی 60 فیصد پانی کی فراہمی انہی پلانٹس سے ہوتی ہے۔

    اگر 50 ہزار ڈالر کا ایک ڈرون ریاض جیسے شہر کے کسی بڑے پلانٹ کو تباہ کر دے جہاں ایک کروڑ آبادی ہے تو وہ شہر دو ہفتوں کے اندر پانی سے محروم ہو سکتا ہے۔‘

    خلیجی ریاستیں امریکی معیشت کی بنیاد ہیں۔ وہ پیٹرو ڈالر بیچتی ہیں اور پھر وہی ڈالر امریکی اسٹاک مارکیٹ میں دوبارہ سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ امریکی فوج اکیسویں صدی کی جنگ کے لیے نہیں بنی۔ امریکی فوجی صنعتی نظام دوسری جنگِ عظیم کے بعد سرد جنگ لڑنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

    ملین ڈالر کے میزائل پچاس ہزار ڈالر کے ڈرون کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ امریکہ کے ناقابلِ شکست ہونے کے تاثر کے خاتمے کی شروعات ہے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران میں زمینی فوج اتاری تو یہ اس کے لیے بڑی تباہی ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ایرانیوں کے پاس ایک صدی کی جنگ کا تجربہ ہے۔

    ایران کی تبدیل ہوتی حکمتِ عملی کا مرکز اب براہِ راست فوجی مقابلے کے بجائے War of Attrition اور معاشی تھکاوٹ ہے۔ آبنائے ہرمز کو بند رکھنا اور کم قیمت ڈرونز کے ذریعے مہنگے دفاعی نظام کو مصروف رکھنا اس بات کی علامت ہے کہ تہران جنگ کو طول دینا اور مخالف کو معاشی اور نفسیاتی طور پر تھکانا چاہتا ہے۔

    امریکہ کے لیے خطرہ دوہرا ہے۔ ایک طرف زمینی جنگ میں داخل ہونا سیاسی طور پر انتہائی حساس فیصلہ ہوگا کیونکہ زیادہ تر امریکی عوام طویل جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں، دوسری طرف اگر زمینی فوج نہ اتاری گئی تو اتحادی عرب ممالک کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

    یہ بحران اب صرف ایران، اسرائیل یا ایران-امریکہ کا ٹکراؤ نہیں رہا بلکہ عالمی معاشی ڈھانچے کے خلاف ایک غیر روایتی جنگ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اگر توانائی کی سپلائی، پیٹرو ڈالر نظام اور خلیجی استحکام کو مسلسل خطرہ رہا تو دنیا کی معیشت ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتی ہے۔

    آخرکار یہ جنگ دو متضاد حکمتِ عملیوں کا امتحان ہے: ایک تیز اور فیصلہ کن وار پر مبنی امریکی-اسرائیلی ماڈل، اور دوسری طویل، تھکا دینے والی اور کثیر الجہتی (ملٹی ڈومین) ایرانی حکمتِ عملی۔ جو بھی فریق فوجی میدان کے ساتھ ساتھ معیشت، سائبر، نفسیات اور سفارت کاری کے محاذوں پر بہتر کارکردگی دکھائے گا وہی تاریخ کے اس موڑ پر برتری حاصل کرے گا۔

    لیکن اگر غلط اندازے جاری رہے تو یہ بحران دہائیوں تک جاری رہنے والی علاقائی افراتفری اور شاید عالمی طاقت کی نئی تقسیم کا سبب بن سکتا ہے۔

  • کیا 2026 میں تیسری عالمی جنگ کی پیشگوئی واقعی کی گئی تھی؟

    کیا 2026 میں تیسری عالمی جنگ کی پیشگوئی واقعی کی گئی تھی؟

    گزشتہ چند ہفتوں سے سوشل میڈیا پر ایک خبر تیزی سے گردش کر رہی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سنہ 2026 میں دنیا ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گی، اور یہ پیشگوئی مشہور ناموں بابا وانگا اور نوسترادامس نے کی تھی۔ ویڈیوز، پوسٹس اور سنسنی خیز سرخیاں اس دعوے کو مزید تقویت دے رہی ہیں۔

    مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا کوئی مستند ثبوت موجود ہے؟

    سب سے پہلے بات کرتے ہیں بابا وانگا کی۔ وہ بلغاریہ کی ایک خاتون تھیں جن کا انتقال 1996 میں ہو چکا تھا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کئی عالمی واقعات کی پیشگوئیاں کیں۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ان کی زیادہ تر پیشگوئیاں تحریری شکل میں محفوظ نہیں ہیں۔ جو باتیں آج ان سے منسوب کی جاتی ہیں، وہ زیادہ تر زبانی روایات یا بعد میں بیان کیے گئے دعوؤں پر مبنی ہیں۔

    سنہ 2026 میں عالمی جنگ کی پیشگوئی کے حوالے سے بھی کوئی مستند تحریری ریکارڈ موجود نہیں۔ یہ دعویٰ زیادہ تر سوشل میڈیا پوسٹس اور ویب سائٹس کے ذریعے پھیلایا گیا ہے، نہ کہ کسی اصل دستاویز کے ذریعے۔

    اب بات کرتے ہیں نوسترادامس کی۔ وہ سولہویں صدی کے فرانسیسی نجومی تھے جنہوں نے اپنی پیشگوئیاں شاعری کی صورت میں لکھی تھیں۔ ان کی تحریریں مبہم اور عمومی انداز کی تھیں، جن کی تشریح مختلف لوگ مختلف طریقوں سے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہیں بھی واضح الفاظ میں یہ نہیں لکھا کہ 2026 میں تیسری عالمی جنگ ہوگی۔

    پھر یہ خبر اتنی تیزی سے کیوں پھیل رہی ہے؟

    حقیقت یہ ہے کہ جب دنیا میں کشیدگی بڑھتی ہے، جیسے مشرق وسطیٰ میں تنازعات یا بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ، تو لوگ ماضی کی پیشگوئیوں کو موجودہ حالات سے جوڑنے لگتے ہیں۔ مبہم جملوں کو حالیہ واقعات کے مطابق ڈھال دیا جاتا ہے اور یوں سنسنی خیز بیانیہ تیار ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا اس عمل کو مزید تیز کر دیتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق ان دعوؤں کی کوئی تاریخی یا دستاویزی بنیاد موجود نہیں۔ سنہ 2026 میں تیسری عالمی جنگ کی پیشگوئی کا کوئی مستند ثبوت دستیاب نہیں ہے۔ جو کچھ سامنے آ رہا ہے وہ زیادہ تر تشریحات، قیاس آرائیاں اور وائرل مواد ہے۔

    مختصر یہ کہ حقیقت اور افواہ کے درمیان فرق کرنا آج پہلے سے زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تحقیق کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

    آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا آپ کو یقین ہے کہ 2026 میں تیسری عالمی جنگ ہوگی، یا یہ صرف سوشل میڈیا کی ایک اور سنسنی ہے؟

  • یوکرین جنگ پانچویں سال میں داخل، 15 ہزار سے زائد شہری ہلاک، لاکھوں بے گھر

    یوکرین جنگ پانچویں سال میں داخل، 15 ہزار سے زائد شہری ہلاک، لاکھوں بے گھر

    روس کی جانب سے یوکرین پر 24 فروری 2022 کو شروع کی گئی جنگ کو چار برس مکمل ہوگئے ہیں اور یہ جنگ اب یورپ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑا اور تباہ کن تنازع بن چکی ہے۔

    اس جنگ میں اب تک ہزاروں شہری ہلاک، لاکھوں بے گھر اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ روس اب بھی یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے۔

    انسانی نقصان اور مہاجرت کا بحران

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مانیٹرنگ مشن کے مطابق، جنگ کے آغاز سے اب تک 15 ہزار شہری ہلاک اور 40 ہزار سے ذائد زخمی ہوئے ہیں۔

    ینی سفک کی ایک رپورٹ کے مطابق اس تنازع نے 1940 کی دہائی کے بعد یورپ کی سب سے بڑی مہاجرت کا بحران پیدا کیا۔

    رپورٹ کے مطابق 59 لاکھ یوکرینی شہری بیرون ملک نقل مکانی کرچکے ہیں لاکھوں افراد اپنے ی ملک میں بے گھر ہوچکے ہیں اور تقریبا 50 لاکھ یوکرینی روس کے زیر تسلط علاقوں میں رہ رہے ہیں۔

    فوجی ہلاکتیں اور علاقائی قبضہ

    دونوں طرف سے غیر معمولی فوجی نقصانات ہوئے ہیں۔ بعض ریسرچرز کے مطابق روسی افواج کو 12 لاکھ  سے ساڑھے 12 لاکھ فوجی متاثر ہوئے  جن میں کم از کم سوا 3  ہلاک فوجی اہلکار ہوئے ہیں۔

    یوکرین نے تقریباً 6 لاکھ فوجی نقصانات کا اعتراف کیا ہے، جس میں ایک اندازے کے مطابق 140,000 ہلاک ہوئے ہیں-

    دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے 55 ہزار فوجیوں کی ہلاکت کی تعداد بتائی ہے۔ 2022 میں جنگ کے آغاز پر، روس نے یوکرین کے تقریباً 26 فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔

    یوکرین کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں روسی پیش قدمی کے بعد، روس کے پاس  اس وقت ملک کا تقریباً 19.3% حصہ موجود ہے جو تقریباً 116,000 مربع کلومیٹربنتا ہے

    ان علاقوں میں کریمیا، زاپوریزہیا، اور ڈونباس کے بیشتر علاقے شامل ہیں۔

    دفاعی اخراجات اور عالمی مالی امداد

    جنگ کے باعث دونوں ممالک کے دفاعی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے:

    روس کا فوجی بجٹ 2022 میں 102 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں تقریباً 149 ارب ڈالر ہو گیا

    یوکرین کا دفاعی بجٹ 2025 میں بڑھ کر 71 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جس کا بڑا حصہ مغربی امداد سے حاصل ہوا

    دسمبر 2025 تک یوکرین کو عالمی اتحادیوں، بشمول امریکہ اور یورپی یونین، سے مجموعی طور پر 297 ارب ڈالر کی مالی اور فوجی امداد مل چکی ہے۔

    مغربی پابندیوں کے نتیجے میں روس کے سونے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا نصف سے زیادہ حصہ منجمد کر دیا گیا ہے،

    جن میں سے کچھ فنڈز یوکرین کی فوجی اور تعمیرِ نو کی ضروریات کے لیے مختص کیے جا رہے ہیں۔

    جنگ کے طویل اثرات

    ماہرین کے مطابق یہ جنگ نہ صرف انسانی جانوں کے بڑے نقصان کا سبب بنی ہے بلکہ اس نے یورپ کی سلامتی، معیشت اور جغرافیائی سیاست کو بھی بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

    جنگ کے پانچویں سال میں داخل ہونے کے باوجود کسی فوری امن معاہدے کے آثار نظر نہیں آ رہے، اور یہ تنازع آنے والے برسوں تک عالمی سیاست پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

     

  • برلن وال: تقسیم، خوف اور آزادی کا نشان

    برلن وال: تقسیم، خوف اور آزادی کا نشان

    دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمنی کی شکست نے صرف ایک ملک کو نہیں بدلا، بلکہ پوری دنیا کے نقشے اور سیاست کی سمت تبدیل کردی۔ جنگ کے بعد دو طاقتیں سامنے آئیں۔ ایک طرف امریکہ کی سربراہی میں مغربی ممالک تھے، دوسری طرف سوویت یونین۔ دونوں کے نظریے الگ تھے، دونوں کی سوچ مختلف تھی۔ یہی نظریاتی لڑائی سرد جنگ کہلائی۔ اس سرد جنگ نے یورپ کے دل یعنی جرمنی کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔

    اسی تقسیم کی سب سے بڑی، سب سے سخت اور سب سے تکلیف دہ علامت تھی برلن وال۔

    جنگ کے بعد جرمنی کے دو حصے ہوگئے۔ مغربی جرمنی کو امریکا اور یورپ کا تعاون حاصل تھا۔ یہاں جمہوریت تھی، کھلی معیشت تھی، روزگار کے مواقع بڑھ رہے تھے اور لوگوں کو بہتر زندگی مل رہی تھی۔

    دوسری طرف مشرقی جرمنی تھا جو کمیونسٹ سوویت یونین کے زیر اثر تھا۔ یہاں ریاست سخت تھی، نگرانی زیادہ تھی، اظہارِ رائے محدود۔ اور شہری اپنی مرضی سے زندگی نہیں گزار سکتے تھے۔

    برلن شہر سوویت حصے میں تھا، مگر اس کی اہمیت سب سے زیادہ تھی۔ ایک طرف آزادی کی تلاش تھی، دوسری طرف ریاستی گرفت۔ نقشے پر ایک ہی شہر، لیکن حقیقت میں دو دنیائیں۔ دونوں کے درمیان سوچ بھی الگ تھی، طرزِ زندگی بھی الگ اور خواب بھی الگ۔

    1949 سے 1961 تک تقریباً 30 لاکھ سے زائد شہری مشرقی جرمنی سے بھاگ کر مغربی علاقے میں پہنچے۔ وہ صرف بہتر روزگار یا اچھی زندگی نہیں چاہتے تھے۔ وہ آزاد بھی ہونا چاہتے تھے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے کھلی ہوا، کھلی سوچ اور محفوظ مستقبل چاہتے تھے۔ یہی فرار مشرقی جرمنی کے حکمرانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گیا۔

    پھر وہ رات آئی جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ تیرہ اگست 1961 کی صبح برلن کے لوگ جاگے تو شہر کے درمیان خاردار تاریں تھیں، کنکریٹ کے بلاکس تھے، سڑکوں پر مسلح سپاہی کھڑے تھے۔ ایک رات میں راستے بند ہوگئے۔ ایک رات میں خاندان بچھڑ گئے۔ ایک رات میں شہر دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ لوگ اپنے ہی گھروں، رشتوں اور گلیوں سے قید ہوگئے۔ یہ دیوار صرف اینٹوں کا ڈھیر نہیں تھی۔ یہ خوف کی علامت تھی۔ یہ جبر کی علامت تھی۔ یہ انسانی خواہش کے خلاف ایک دیوار تھی۔

    اگلے اٹھائیس سال تک دنیا نے دو مختلف منظر دیکھے۔ ایک طرف مشرقی حصے میں سخت نگرانی تھی، خفیہ پولیس تھی، ہر شخص پر شک تھا، بولنے کی آزادی نہیں تھی اور ریاستی جبر ہر جگہ تھا۔ دوسری طرف مغربی جرمنی میں خوشحالی تھی، سوچنے اور بولنے کی آزادی تھی، کاروبار اور روزگار بڑھ رہا تھا۔ دونوں دنیائیں ایک دیوار کے آرپار دکھتی تھیں، لیکن ان کی زندگیوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔

    ہزاروں لوگوں نے دیوار عبور کرنے کی کوشش کی۔ کئی نے سرنگیں بنائیں، کئی نے دیوار پر چڑھ کر چھلانگ لگائی، کچھ نے گاڑیوں میں چھپ کر نکلنے کی کوشش کی۔ درجنوں لوگ مارے گئے۔ لیکن دیوار آزادی کی خواہش کو نہ روک سکی۔ یہ خواہش ہر دن مضبوط ہوتی گئی۔

    1980 کی دہائی کے آخر میں حالات پھر بدلنے لگے۔ سرد جنگ کمزور پڑ رہی تھی۔ سوویت طاقت کمزور ہو رہی تھی۔ مشرقی یورپ میں تبدیلی کی لہر اٹھ چکی تھی۔ مشرقی جرمنی کے شہروں میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے نعرہ لگایا: ’ہم ہیں عوام‘۔ یہ نعرہ برسوں کے خوف کو توڑ گیا۔ لوگ کھلے عام آزادی مانگنے لگے۔ ریاست انہیں روک نہ سکی۔

    پھر آیا نو نومبر 1989۔ وہ رات جسے دنیا کبھی نہیں بھولے گی۔ برلن وال کے دروازے کھل گئے۔ دونوں طرف کے لوگ دوڑ کر دیوار تک پہنچے۔ نعرے لگے، تالیاں بجیں، لوگ دیوار پر چڑھ گئے۔ کسی نے خوشی سے قہقہہ لگایا، کوئی شدت جذبات سے رو پڑا۔ کچھ لوگوں نے ہتھوڑوں سے اینٹیں توڑیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پوری قوم نے آزادی کی سانس لی۔ یہ وہ رات تھی جب دنیا کی سب سے سخت دیوار لوگوں کے قدموں میں گِر گئی۔

    ایک سال بعد تین اکتوبر 1990 کو جرمنی سرکاری طور پر دوبارہ ایک ملک بن گیا۔ اسے آج ’جرمن اتحاد کا دن‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک ملک کے ملنے کی کہانی نہیں، یہ انسانی ہمت، اتحاد اور آزادی کی جیت کی علامت ہے۔ یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی سب سے مضبوط دیوار بھی اس وقت گِر جاتی ہے جب عوام اپنی آزادی کے لیے کھڑے ہوجائیں۔

  • طیارے زمین پر: انڈین ایئرفورس کے جنگی جہازوں، ہیلی کاپٹر اور تربیتی طیاروں کے حادثات کی ستر سال کے دوران مسلسل تباہی کی کہانی

    طیارے زمین پر: انڈین ایئرفورس کے جنگی جہازوں، ہیلی کاپٹر اور تربیتی طیاروں کے حادثات کی ستر سال کے دوران مسلسل تباہی کی کہانی

    حال ہی میں دُبئی ایئر شو کے دوران انڈین  تیجس طیارہ حادثے کا شکار ہوا جسے بین الاقوامی میڈیا نے نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔

    یہ ویڈیو انڈین  فضائیہ کے سات دہائیوں کے دوران دو ہزار تین سو چوہتر طیارے تباہ ہونے کی کہانی ہے۔ ان حادثات میں ایک ہزار تین سو پانچ پائلٹ اور دو سو سے زیادہ فضائی عملے کے لوگ ہلاک ہوئے۔

    انڈین  فضائیہ نے گذشتہ سات دِہائیوں میں جتنے طیارے کھوئے ہیں، وہ دنیا کی کسی بھی بڑی ایئرفورس سے کہیں زیادہ ہیں۔ سرکاری بیانات بہت محدود ہیں، آزاد ذرائع، تحقیقی رپورٹس، پارلیمانی دستاویزات اور دفاعی ماخذ ایک ایسی تصویر دکھاتے ہیں جس میں حادثات معمول نہیں بلکہ ایک مستقل سانحہ بن چکے ہیں۔

    سب سے مُستَنَد اور قابلِ قبول تحقیق ریڈف کے دفاعی ماہر اَجے شُکلہ اور مُحقق دیوش کَپور نے کی۔ ان کے مطابق 1952 سے 2021 تک کل انڈین  فضائیہ کے 2304 طیارے تباہ ہوئے۔

    ان میں1126  جنگی طیارے، 1248 ٹرانسپورٹ اور دوسرے طیارے، 196ہیلی کاپٹر اور 229 تربیتی طیارے شامل تھے۔ ان حادثات میں 1305 پائلٹ ہلاک ہوئے۔ یہ واحد ڈیٹا ہے جس میں ستر سال کا مکمل ریکارڈ محفوظ ہے۔

    1950 سے 1990 تک کا عرصہ انڈین  فضائیہ کے لیے سب سے تباہ کن دور ثابت ہوا۔ انڈیا کے اپنے دفاعی ماخذ ‘بھارت رکھشک’ کے مطابق اس زمانے میں زیادہ تر حادثات کی وجوہات پائلٹ کی غلطی، فنی خرابی، ناقص دیکھ بھال اور پرانے جہاز تھے۔ انڈیا ٹوڈے کے دفاعی رپورٹر شِوَ اَروڑَ نے لکھا کہ اس دور میں انڈین  فضائیہ کا حفاظتی رکارڈ دنیا کی خطرناک ترین فضائی قوتوں میں شمار ہوتا تھا۔

    انڈین  فضائیہ کے سب سے زیادہ حادثات مگ-21 سے جڑے ہیں، جسے دنیا بھر میں دی فلائنگ کافن یعنی ‘اُڑتا تابوت’ بھی کہا جاتا ہے۔ بین الاقوامی اداروں اے پی نیوز، انڈیا ٹوڈے اور ٹائمز آف انڈیا کے مطابق مگ-21 نے سب سے زیادہ پائلٹ مارے۔

    انڈیا نے اسے ساٹھ برس بعد بھی ریٹائر نہیں کیا۔ 2000 کی دہائی میں ہر سال پانچ میں مگ-21 گرنے کی رپورٹس سامنے آتی رہیں۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق سن 2015 سے 2024 کے درمیان 104 مگ-21 کے حادثات میں 73 پائلٹ ہلاک ہوئے۔

    بڑے اور نمایاں حادثات کی فہرست بھی طویل ہے۔ پاکستان کے ساتھ 1965 کی جنگ میں انڈیا کے 59 طیارے گرے۔ 1971 کی جنگ میں 45 طیارے تباہ ہوئے۔ 1982 سے 1990 تک مگ-21 کے حادثات نے ہولَناک سلسلہ قائم رکھا، اور اس دوران تقریباً 250 مگ-21 تباہ ہوئے۔ 2016 میں این-32 ٹرانسپورٹ طیارہ سمندر میں لاپتہ ہوا۔ اس میں 29 اہلکار سوار تھے۔ یہ انڈیا کی تاریخ کا سب سے بڑا غیر جنگی حادثہ تھا جس کا ملبہ آج تک نہیں ملا۔

    2019 میں بالاکوٹ کشیدگی کے دوران انڈین مگ مار گرایا گیا اور پائلٹ ابھی نندن کو پاکستان نے گرفتار کیا۔ یہ واقعہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا۔

    جدید دور میں بھی انڈیا فضائی حادثات نہیں روک سکا۔ 2024 میں میراج-2000 گر کر تباہ ہوا۔2025 میں میں جیگوار تربیتی طیارہ گرنے سے دونوں پائلٹ ہلاک ہوئے۔ 2025 ہی میں دبئی ایئر شو کے دوران انڈین  تیجس طیارہ حادثے کا شکار ہوا جسے بین الاقوامی میڈیا نے نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔

    انڈین پارلیمانی کمیٹی برائے دفاع نے سن 2019 سے 2023 کی رپورٹس میں لکھا کہ حادثات کی بڑی وجوہات پرانے طیارے، ناقص تربیت، انسانی غلطیاں اور دیکھ بھال کے کمزور نظام ہیں۔

    عالمی میڈیا بھی یہی تصویر پیش کرتا ہے۔ بی بی سی لکھتا ہے کہ انڈیا کے پاس دنیا کے سب سے زیادہ حادثہ خیز پرانے طیارے ہیں۔ الجزیرہ کہتا ہے کہ انڈیا کے جدید کاری کے دعووں کے باوجود طیارے مسلسل گر رہے ہیں۔ اے پی نیوز نے لکھا کہ Mug  مگ-21 کے حادثات معمول بن چکے ہیں اور انڈیا پرانے جہازوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکا۔

    اگر تمام ماخذ یکجا کریں تو سن 1952 سے 2021 تک انڈیا کے 2374 طیارے تباہ ہوئے۔ 2021 سے 2025 تک تک مزید 21 سے 25 حادثات ریکارڈ ہوئے۔ یوں 2025 تک تک مجموعی تباہی تقریباً 2400 سے 2420 طیاروں تک پہنچتی ہے۔

    یہ صرف مشینوں کا نقصان نہیں۔ ان حادثات میں ایک ہزار تین سو پانچ پائلٹ اور دو سو سے زیادہ فضائی عملہ ہلاک ہوا۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا غیر جنگی فوجی فضائی نقصان ہے۔

    یہ ریکارڈ صرف حادثات کی فہرست نہیں۔ یہ ایک مسلسل نظامی ناکامی کی کہانی ہے۔ غلط طیاروں کی خریداری، ناقص تربیت، بوسیدہ نظام، پرانے جہازوں پر انحصار اور حفاظتی اصولوں کی کمزوری نے انڈین  فضائیہ کو ایسی تباہی تک پہنچایا ہے جس کی مثال دنیا میں کم ملتی ہے۔

    ستر برس میں انڈیا نے جتنے فوجی طیارے گرائے اور کھوئے ہیں، دنیا کے کئی ملکوں نے اپنی پوری عسکری تاریخ میں اتنے جہاز بنائے بھی نہیں۔ یہ نقصان صرف تعداد کا نہیں، بلکہ ایک ایسی ناکامی کا ثبوت ہے جو سات دہائیوں میں مسلسل دوہرائی جاتی رہی اور آج تک ختم نہیں ہوئی۔