کیا تیسری عالمی جنگ کا خاموشی سے آغاز ہوگیا ہے؟ مشرقِ وسطیٰ سے ایشیا تک طاقت کی خطرناک شطرنج

جنگ

دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں کسی بھی ملک کا مستقبل غیر یقینی ہو چکا ہے۔ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کو آگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب جنگ کا مقصد صرف فتح حاصل کرنا نہیں رہا بلکہ دشمن کو معاشی، سیاسی اور نفسیاتی طور پر کمزور کرنا بن چکا ہے، جہاں ہر طاقت دوسرے کو طویل عرصے تک تھکانے کی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔

اس وقت دنیا دو بڑے جنگی محاذوں اور کئی علاقائی تنازعات کے گھیرے میں ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال ایک خطرناک موڑ اختیار کر چکی ہے، جہاں امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم جاری ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کے بیلسٹک میزائل نظام اور فضائی صلاحیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ وہ آبنائے ہرمز میں سمندری آمد و رفت کو روک نہ سکے۔

ایران نے ‘کشیدگی میں اضافہ’ کی پالیسی اپناتے ہوئے اپنے اتحادی گروہوں کو متحرک کر کے جنگ کو 14 مختلف ممالک تک پھیلا دیا ہے تاکہ پورے خطے کو ‘نو گو زون’ بنایا جا سکے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کی کوشش ہے کہ ایران کی طاقت کو اس حد تک کمزور کر دیا جائے کہ وہ مستقبل میں عالمی تجارتی راستوں کو یرغمال نہ بنا سکے، جبکہ ماہرین ‘حکومت کی تبدیلی’ کو ایک مشکل مگر ممکن ہدف قرار دے رہے ہیں۔

یہ جنگ اب ‘طویل تھکا دینے والی جنگ’ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ روس کی افواج نے کچھ علاقوں میں معمولی پیش رفت کی مگر یوکرین کی جوابی کارروائی نے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔ اس معاملے پر نیٹو کے ممالک نے صدر ٹرمپ کی اپیل پر کہا ہے کہ وہ یوکرین کے معاملے پر توجہ دیں گے اور دوسری جنگوں میں شامل ہو کر اپنا نقصان نہیں کریں گے۔

روس اب ‘مستقل محاذی جنگ’ پر توجہ دے رہا ہے اور ڈرونز اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے میدانِ جنگ کو زیادہ شفاف بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ دشمن کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔

دوسری جانب چین نے تائیوان پر قبضے کے لیے حکمت عملی تیار کر لی ہے، جس پر حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ کے چینی دورے کے بعد متوقع ہے۔ امریکہ کے لیے اصل جیوپولیٹیکل چیلنج چین ہی ہے، اسی لیے وہ اس کے اتحادیوں پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔

امریکہ کی نیشنل انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر تلسی گیبارڈ نے سینیٹ کمیٹی کے سامنے بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کا میزائل پروگرام تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اب یہ صرف علاقائی نہیں رہا بلکہ ممکنہ طور پر عالمی حد تک بڑھ رہا ہے۔ میزائل کی رینج میں اضافہ امریکہ کے لیے براہِ راست خطرہ بن سکتا ہے۔

پاکستان کے پاس پہلے ہی ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، اس لیے میزائل اور جوہری صلاحیت کا امتزاج ایک بڑا اسٹریٹجک خدشہ ہے۔ واشنگٹن دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان ایک ‘جوہری تشویش’ ہے۔

امریکہ اور اس کے عرب اتحادیوں کی ایران کے ساتھ جنگ دراصل ‘طاقت کے توازن’ کی جنگ ہے۔ ان ممالک نے اسرائیل کی مالی مدد سے جنوبی ایشیا پر اثر و رسوخ بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی ہے، جس میں پاکستان ایک اہم مہرہ ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان پر نئی پابندیاں، فوجی پروگرام پر دباؤ اور آئی ایم ایف کے ذریعے سخت معاشی پالیسیاں مسلط کی جا سکتی ہیں۔ سی این این کے مطابق یہ خدشات حقیقی ہیں، تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سب جیوپولیٹیکل دباؤ اور طاقت کی سیاست کا حصہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو اس وقت تقریباً 3000 میزائلوں کا خطرہ ہے جو 2035 تک بڑھ کر 16000 ہو سکتا ہے۔

یہ جنگ عالمی معیشت کو مفلوج کر رہی ہے۔ پہلے تیل، پھر پانی اور اب گیس کے ذخائر کو نشانہ بنانے سے بجلی اور کھاد کا بحران پیدا ہو چکا ہے۔ ایران اب توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے اور تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ یہ جنگ اب ‘معاشی جنگ اور فوجی جنگ’ بن چکی ہے۔ ایران کا مقصد جنگ جیتنا نہیں بلکہ اسے مہنگا اور طویل بنا کر عالمی معیشت کو دباؤ میں لانا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل ایران کی قیادت کو ختم کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے تناؤ کے باعث امریکہ اپنے دفاعی نظام ایشیا سے نکال کر وہاں منتقل کر رہا ہے، جس سے مشرقی ایشیا میں سیکیورٹی خلا پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی اقتصادی فورمز کے مطابق ‘جیو اکنامک تصادم’ اس سال کا سب سے بڑا خطرہ ہے، جبکہ خوراک کی قلت کو بھی جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے رجحانات بڑھ رہے ہیں۔

سی این این کی ایک لیک رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک خفیہ میٹنگ میں امریکی جنرلز نے اعتراف کیا کہ ایران کی زیرِ زمین تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ ایران اکیلا نہیں بلکہ لبنان، شام، عراق اور یمن میں اس کے اتحادی موجود ہیں، جو کسی بھی براہِ راست حملے کی صورت میں بیک وقت کارروائی کر سکتے ہیں۔

اس کے جواب میں اسرائیل نے اپنے دفاعی نظام جیسے ایرو-3 کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے اور نئی لیزر ٹیکنالوجی ‘آئرن بیم’ کو میدان میں لا رہا ہے۔ اسرائیلی قیادت کا واضح مؤقف ہے کہ اگر امریکہ پیچھے ہٹتا ہے تو اسرائیل خود ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا حق رکھتا ہے۔

یہ جنگ اب کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک عالمی طاقت کی بازی بن چکی ہے، جہاں ہر قدم ایک بڑے تصادم کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اگر توانائی، سائبر اور فوجی محاذ ایک ساتھ پوری شدت سے ٹکرا گئے تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہے گی۔

 

اسی بارے میں: