عالمی سیاست کا سب سے خطرناک مرحلہ اب مشرق وسطیٰ بن چکا ہے، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست اور بالواسطہ حملے صرف علاقائی کشیدگی نہیں بلکہ ایک بڑے عالمی طاقت کے کھیل کا حصہ ہیں۔ دنیا ایک طرف ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے نغمے گا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف یہی دنیا جنگ کے دھماکوں سے زمین کی سانسیں گھونٹ رہی ہے۔
میزائل، ڈرون اور کیمیائی ہتھیار بظاہر عسکری کامیابی سمجھے جاتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ انسانیت، ماحول اور مستقبل کے لیے خاموش تباہی کا پیغام ہیں۔
جدید ہتھیاروں کے استعمال سے فضا میں زہریلی گیسیں شامل ہو رہی ہیں، جو نہ صرف مقامی ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ عالمی موسمیاتی تبدیلی کو بھی تیز کر رہی ہیں۔ پانی کے ذخائر آلودہ ہو رہے ہیں، زمین کی زرخیزی ختم ہو رہی ہے اور جنگلی حیات معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ بعض ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے مادے جیسے ‘ڈی پلیٹڈ یورینیم’ طویل عرصے تک انسانی صحت کے لیے زہر بن جاتے ہیں، جس کے اثرات نسلوں تک جاری رہتے ہیں، جن میں کینسر، پیدائشی نقائص اور ذہنی صدمات شامل ہیں۔
جب دنیا کی بڑی طاقتیں میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کو ‘سیکیورٹی’ کا نام دیتی ہیں تو درحقیقت یہ زمین، انسانی صحت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل پر ایک منظم حملہ ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنگیں نہ صرف انسانوں کو ہلاک کرتی ہیں بلکہ ماحولیاتی نظام کو تباہ کر کے ایسے نقصانات چھوڑ جاتی ہیں جو دہائیوں تک برقرار رہتے ہیں۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق جدید جنگ کے صرف چودہ دنوں میں تقریباً پانچ ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں خارج ہوئی، جو درجنوں ممالک کے سالانہ اخراج کے برابر ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق ایک جنگ کے مجموعی اخراج اکتیس ملین ٹن تک پہنچ سکتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ہر میزائل زمین کو مزید گرم کر رہا ہے۔ پانی، زمین اور خوراک کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے، جبکہ زرعی نظام تباہ ہو رہے ہیں۔
جنگوں میں ہزاروں شہری ہلاک اور زخمی ہوتے ہیں، اور کروڑوں افراد بے گھر ہو جاتے ہیں۔ سماجی ڈھانچے ٹوٹ جاتے ہیں، جبکہ ماحولیاتی نقصان بیس سے تیس سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔ بعض علاقوں میں زمین اور پانی کبھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو پاتے۔ موسمیاتی تبدیلی نئی بیماریوں کو جنم دے رہی ہے، جبکہ زہریلی گیسیں بارش کے ساتھ مل کر صحت کے لیے مزید خطرات پیدا کر رہی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اب صرف سیاسی یا عسکری مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک سنگین ماحولیاتی اور انسانی بحران بن چکی ہے۔ جب میزائل آسمان کو چیرتے ہیں تو وہ صرف اہداف کو تباہ نہیں کرتے بلکہ ہوا کو زہریلا، پانی کو آلودہ اور مستقبل کو جلا دیتے ہیں۔
جدید جنگیں اب سرحدوں تک محدود نہیں رہیں، بلکہ ان کے اثرات ہوا، پانی، زمین اور انسانی جسم تک پہنچ چکے ہیں۔ ہر دھماکہ صرف عمارتوں کو نہیں بلکہ ماحولیاتی توازن، انسانی صحت اور آنے والی نسلوں کے مقدر کو بھی تباہ کر رہا ہے۔
آخرکار سوال یہی ہے کہ کیا یہ ترقی ہے یا تباہی کی طرف ایک تیز رفتار سفر؟ اگر دنیا نے اس تباہی کو نہ روکا تو آنے والی جنگیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ بیماریوں، بھوک اور ماحولیاتی تباہی سے لڑی جائیں گی۔
آخر میں سوال یہ ہے، کیا انسان جنگ جیت رہا ہے یا آہستہ آہستہ خود کو ہار رہا ہے؟

