یورپ اور انڈیا کے درمیان ہونے والی مدر آف آل ڈیلز کو اگر محض ایک تجارتی معاہدہ سمجھا جائے تو یہ اس کی اصل معنویت کو کم کر دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاہدہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک خاموش مگر گہری ازسرنو صف بندی کی علامت ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔
یہ ڈیل خاص طور پر انڈیا، چین، امریکہ اور یورپ کے باہمی تعلقات میں ایک نئے توازن کی نشاندہی کرتی ہے۔ بظاہر تجارت کے نام پر ہونے والا یہ معاہدہ دراصل عالمی سپلائی چین، سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک ترجیحات کی سمت بدلنے کی کوشش ہے۔
سب سے پہلے پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ معاہدہ ایک تنبیہ بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ یورپی یونین پہلے ہی پاکستان کی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل، کے لیے ایک بڑی منڈی ہے اور جی ایس پی پلس کے تحت رعایت فراہم کرتی ہے۔ مگر انڈیا کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ یورپی منڈی میں مسابقت کو کہیں زیادہ سخت بنا دے گا۔
اگر انڈین ٹیکسٹائل، انجینئرنگ مصنوعات اور آئی ٹی خدمات کم ٹیرف کے ساتھ یورپ پہنچتی ہیں تو پاکستانی برآمدی صنعت کو شدید دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں محض رعایتی اسکیموں پر انحصار پاکستان کے لیے کافی نہیں رہے گا۔
یہ معاہدہ پاکستان کو یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ جغرافیہ اب اکیلا ہتھیار نہیں رہا۔ معاشی سفارت کاری، صنعتی اپ گریڈیشن، ویلیو ایڈیشن اور منڈیوں کا تنوع ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر پاکستان ٹیکسٹائل سے آگے بڑھ کر آئی ٹی، زرعی پراسیسنگ اور گرین صنعتوں میں سنجیدہ اصلاحات کرے تو یورپ کے ساتھ زیادہ مضبوط اور پائیدار تعلق قائم کر سکتا ہے۔
انڈیا اور چین کے تعلقات کے تناظر میں یہ ڈیل مزید اہم ہو جاتی ہے۔ سرحدی تنازعات اور باہمی عدم اعتماد کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ یورپ کے ساتھ یہ معاہدہ انڈیا کی اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنی معاشی ترقی کے لیے چین پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے۔
یورپ بھی اسی سمت بڑھ رہا ہے۔ یہ معاہدہ چین کے خلاف کسی کھلے اتحاد کا اعلان نہیں، مگر متبادل سپلائی چین کی بنیاد ضرور رکھتا ہے۔ چین کے لیے یہ ایک اسٹریٹجک دباؤ ہے، کیونکہ یورپ جو طویل عرصے تک چینی مینوفیکچرنگ کا بڑا خریدار رہا، اب انڈیا کو ایک قابل اعتماد متبادل کے طور پر دیکھنے لگا ہے۔
اسی لیے بیجنگ میں اس معاہدے کو برسلز اور نئی دہلی کے درمیان خاموش قربت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ قربت مستقبل میں چین کے یورپی منڈی تک اثر و رسوخ کو محدود کر سکتی ہے۔
اگر انڈیا اور امریکہ کے تعلقات کو دیکھا جائے تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے انڈیا کو چین کے توازن کے طور پر دیکھتا آیا ہے۔ یورپ اور انڈیا کا یہ معاہدہ امریکی حکمت عملی سے متصادم نہیں بلکہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔
امریکہ کے لیے یہ پیش رفت خوش آئند ہے کہ اس کا یورپی اتحادی بھی اب انڈیا کے ساتھ معاشی طور پر جڑ رہا ہے۔ اس سے چین پر عالمی انحصار کم ہو سکتا ہے۔ تاہم ایک باریک نکتہ یہ بھی ہے کہ انڈیا اب صرف امریکہ کا ثانوی شراکت دار نہیں رہے گا بلکہ یورپ کے ساتھ براہ راست بڑے معاہدے کر کے اپنی خودمختار حیثیت مضبوط کرے گا۔
یہی پہلو یورپ اور امریکہ کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ دونوں اتحادی ہونے کے باوجود تجارت، سبسڈیز، ٹیکنالوجی ضوابط اور کاربن ٹیکس جیسے معاملات پر اختلافات رکھتے ہیں۔ انڈیا کے ساتھ یہ ڈیل یورپ کی اس خواہش کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ عالمی تجارت میں ایک خودمختار معاشی طاقت کے طور پر فیصلے کرے۔
دوسرے الفاظ میں یورپ یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ صرف واشنگٹن کی ترجیحات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اپنی الگ معاشی سمت بھی متعین کرے گا۔
یوں یہ معاہدہ بیک وقت کئی سطحوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ پاکستان کے لیے ایک چیلنج اور تنبیہ۔ چین کے لیے خاموش مقابلہ۔ امریکہ کے لیے اسٹریٹجک سہولت۔ اور یورپ کے لیے ایک خودمختار عالمی کردار کی علامت۔
آخر میں اصل سوال یہ نہیں کہ مدر آف ڈیل انڈیا اور یورپ کو کیا دے گی، یہ تو وقت کے ساتھ واضح ہو جائے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اس بدلتی ہوئی عالمی بساط میں خود کو کہاں کھڑا دیکھنا چاہتا ہے، ایک تماشائی کے طور پر یا ایک سنجیدہ معاشی کھلاڑی کے طور پر۔

