Tag: یورپ

  • یورپ شدید گرمی کی لہر: کئی دہائیوں کے درجہ حرارت  کے ریکارڈ ٹوٹ گئے

    یورپ شدید گرمی کی لہر: کئی دہائیوں کے درجہ حرارت  کے ریکارڈ ٹوٹ گئے

    یورپ اس وقت اپنی جدید تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہروں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے، جہاں کئی ممالک میں درجہ حرارت 40 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ بلکہ بعض علاقوں میں اس سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ اس غیر معمولی گرمی نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے، جبکہ ابتدائی سرکاری رپورٹس کے مطابق متعدد ممالک میں اموات، ہزاروں افراد کے اسپتال پہنچنے اور بنیادی ڈھانچے پر دباؤ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

    شدید گرمی کی یہ لہر مغربی یورپ سے وسطی یورپ تک پھیل چکی ہے۔ فرانس، اسپین، جرمنی، اٹلی، برطانیہ، پرتگال، پولینڈ، چیکیا، بیلجیم، نیدرلینڈز اور سوئٹزرلینڈ سمیت متعدد ممالک میں جون کے مہینے کے کئی دہائیوں پرانے درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔

    فرانس میں حکومت نے ہیلتھ الرٹ جاری کر رکھا ہے، جہاں سینکڑوں اسکول عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ شدید گرمی، ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے باعث ہزاروں افراد اسپتالوں سے رجوع کر رہے ہیں، جبکہ بزرگ، بچے اور پہلے سے بیمار افراد کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔

    اسپین میں متعدد مقامات پر درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ گیا، جس کے نتیجے میں جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی اور کئی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔

    جرمنی میں شدید گرمی نے ریلوے نظام کو بھی متاثر کیا، جہاں ٹرینوں کی رفتار حفاظتی اقدامات کے تحت محدود کر دی گئی، جبکہ اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

    اٹلی نے اپنے کئی بڑے شہروں میں ریڈ الرٹ نافذ کر دیا ہے، جبکہ برطانیہ میں صحت کے اداروں نے شدید گرمی سے متعلق خصوصی وارننگ جاری کی ہے۔ دوسری جانب یورپ کے مختلف ممالک میں بجلی کی طلب بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے کیونکہ لاکھوں افراد نے غیر معمولی گرمی سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر ایئر کنڈیشنرز کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

    ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موجودہ ہیٹ ویو محض ایک عارضی موسمی واقعہ نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی واضح مثال ہے۔ ان کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث مستقبل میں ایسی شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ آنے کا امکان ہے۔

    ماہرین 2003 کی یورپی ہیٹ ویو کی بھی یاد دلاتے ہیں، جس میں تقریباً 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2026 کی گرمی نے کئی ممالک میں جون کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یورپ تیزی سے بدلتے موسمی حالات کا سامنا کر رہا ہے۔

    ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں اور کاربن کے اخراج میں مؤثر کمی نہ لائی گئی تو صرف یورپ ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر خطے بھی مستقبل میں مزید شدید گرمی، پانی کی قلت، جنگلات میں آگ اور انسانی جانوں کے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ ہیٹ ویو پوری دنیا کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا بحران بن چکی ہے۔

  • یورپ میں گرمی کی تباہی، دنیا کے لیے نیا بڑھتا ہوا خطرہ

    یورپ میں گرمی کی تباہی، دنیا کے لیے نیا بڑھتا ہوا خطرہ

    اس وقت یورپ میں شدید گرمی نے تباہی مچا رکھی ہے، جس میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس گرمی نے یورپ میں گرمی کے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جس نے انسانی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین اور برطانیہ سمیت یورپ کے تمام ممالک اس تباہی کی زد میں ہیں۔

    جون کے مہینے میں ایسی گرمی، جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی، اس بات کی علامت ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں اب ایک حقیقی خطرہ بن چکی ہیں۔ یورپی ممالک میں درجہ حرارت 41 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ حکومتوں نے الرٹ جاری کر دیے ہیں، اور تعلیمی اداروں سے لے کر سیاحت کی صنعت تک، سبھی شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔

    برطانیہ جیسے ممالک، جو عام طور پر ٹھنڈے موسم کے لیے مشہور ہیں، وہاں 35 ڈگری سے زائد درجہ حرارت نے نظام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

    گرمی کی لہر کا نام اور کیفیت

    میڈیا میں اکثر اس گرمی کی لہر کو ‘ہیٹ ویو’ کا نام دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ صرف ایک ہیٹ ویو نہیں ہے۔ اس کا خاص سبب ‘صحرا کی گرم ہوائیں’ ہیں، جو براہ راست افریقہ کے صحرائی علاقوں سے آ رہی ہیں۔ یہ ہوائیں اپنے ساتھ شدید گرمی اور خشکی لاتی ہیں، جو یورپی فضا کو غیر معمولی حد تک گرم کر دیتی ہیں۔

    گرمی کا بنیادی سبب صحرائے صحارا سے چلنے والی گرم ہواؤں کا دباؤ ہے، جو یورپ کے موسمیاتی نظام کو مکمل طور پر تبدیل کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں درجہ حرارت کا معمول سے 5 سے 10 ڈگری زیادہ رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ ایشیا یا مشرق وسطیٰ کے ممالک کے برعکس، یورپی ممالک کے گھر اور عمارتیں ایسی شدید گرمیوں کو برداشت کرنے کے لیے نہیں بنائی گئیں۔

    وہاں اکثر گھروں میں ایئر کنڈیشننگ کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے گرمی زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ یورپ میں گرمی کی لہر سے نمٹنے والا انتظامی اور حفاظتی نظام تب مفلوج ہو جاتا ہے جب درجہ حرارت حد سے بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔

    کیا یہ اوزون کی تہہ کے کمزور ہونے کی وجہ سے ہے؟

    یورپ میں پہلی بار پڑنے والی اس گرمی کے بعد عالمی اخبارات اور ماحولیاتی ماہرین نے اسے اوزون کی تہہ کے کمزور ہونے سے جوڑنا شروع کر دیا ہے۔ اس پر دنیا کے مستند ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اوزون کی تہہ کا بنیادی کام سورج سے آنے والی نقصان دہ الٹرا وائلٹ شعاعوں کو روکنا ہے۔

    اس کا کمزور ہونا جلد کے کینسر اور آنکھوں کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے، لیکن یہ براہ راست زمین کی فضا میں درجہ حرارت کو اتنا زیادہ نہیں بڑھاتا کہ ہیٹ ویو پیدا ہو۔ یورپ میں اس وقت جو گرمی ہے، اس کا سبب ‘گلوبل وارمنگ’ اور ‘موسمیاتی تبدیلی’ ہے، جو گرین ہاؤس گیسز، جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ، کی بڑھتی ہوئی مقدار سے پیدا ہوتی ہے۔ موسمیاتی سائنس میں اس کا کوئی خاص نام، جیسے طوفانوں کے نام ہوتے ہیں، نہیں رکھا گیا، لیکن سائنسی اصطلاح میں اسے ‘ہیٹ ویو’ ہی کہا جاتا ہے۔

    کچھ میڈیا رپورٹس میں اسے ‘لوسیفر’ جیسے نام دیے جاتے ہیں، مگر یہ سائنسی نام نہیں بلکہ محض عوامی یا میڈیا کے دیے ہوئے نام ہیں۔

    ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں اب اسے ‘سونامی’ کا نام بھی دیا جا رہا ہے، مگر ایسا بالکل نہیں ہے۔ نہ ہی اس کا زلزلوں سے کوئی براہ راست یا بالواسطہ تعلق ہے۔ سونامی تو سمندری لہروں کا ایک طوفانی سلسلہ ہے جو زلزلے، آتش فشاں پھٹنے، یا سمندر کے اندرونی زمینی تبدیلیوں کے سبب پیدا ہوتا ہے، جبکہ یہ ماحولیاتی گرم ہوا کا ایک نظام ہے۔ ان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔

    فرانس کی ایک خاص تاریخی ہیٹ ویو، غالباً 2019 یا 2022 کے حوالے سے، اس کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔ یورپ میں ایسی شدید ہیٹ ویو کے دوران ہزاروں لوگ ہلاک ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 2022 میں یورپ میں گرمی کی لہر کے سبب تقریباً 60 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں فرانس کا حصہ ہزاروں میں تھا۔ فصلوں کے جل جانے اور پیداوار میں 20 سے 40 فیصد تک کمی ہوئی۔

    فرانس، اسپین اور پرتگال کے ہزاروں ایکڑ جنگلات میں آگ لگ گئی۔ درجہ حرارت بڑھنے کے سبب ایئر کنڈیشنرز کا استعمال بہت بڑھ گیا، جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں بجلی کا نظام ٹرپ کر گیا۔ اسپتالوں پر دباؤ حد سے بڑھ گیا، جس میں ڈی ہائیڈریشن، یعنی پانی کی کمی، اور دل کے دورے پڑنے کے کیسز سرفہرست تھے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 سے 2030 تک کا عرصہ تاریخ کے گرم ترین سالوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ عالمی درجہ حرارت کی حد، 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ، کو آگے چل کر بار بار پار کرنے کا امکان ہے، جس کا مطلب ہے کہ شدید گرمی اب کسی خاص وقت کی بات نہیں رہے گی۔

    ماہرین کو سب سے زیادہ تشویش سمندروں کے گرم ہونے پر ہے۔ سمندر 90 فیصد سے زائد انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرمی کو جذب کرتے ہیں، جس کی وجہ سے سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے اور سمندری طوفانوں کی شدت بڑھ رہی ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے سے پانی کا چکر تیز ہو رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کہیں بہت زیادہ بارش اور سیلاب، تو کہیں شدید خشکی اور قحط کی صورتحال پیدا ہوگی۔

     اس سے فصلوں کی تباہی اور پانی کی کمی کے سبب دنیا میں خوراک کا بحران پیدا ہو سکتا ہے، جس سے قیمتیں بڑھیں گی اور غریب ممالک زیادہ متاثر ہوں گے۔ لوگ اب ٹھنڈے علاقوں کی طرف ہجرت شروع کریں گے۔ بیماریاں بڑھیں گی۔ کئی جاندار اور سمندری مخلوق، جیسے کورل ریفس، اپنی رہائش کھو بیٹھیں گے، جس سے حیاتیاتی تنوع کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

    ہیٹ ڈوم’ کیا ہے؟

    ‘ہیٹ ڈوم’ اس وقت دنیا کے میڈیا اور موسمیاتی سائنسدانوں کے لیے بحث کا مرکزی نقطہ ہے۔ یہ کوئی معمولی درجہ حرارت نہیں، بلکہ ایک خطرناک موسمیاتی نظام ہے۔ ہیٹ ڈوم تب پیدا ہوتا ہے جب ماحول کے بالائی حصوں میں ہائی پریشر کا ایک مضبوط نظام کسی خاص علاقے پر ٹھہر جاتا ہے۔

     یہ ہائی پریشر سسٹم ایک ڈھکن کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ نچلی سطح پر موجود گرم ہوا کو اوپر اٹھنے نہیں دیتا۔ جب گرم ہوا اوپر نہیں اٹھ سکتی، تو وہ واپس زمین کی طرف دب جاتی ہے۔ جیسے جیسے ہوا دبتی ہے، اس کا درجہ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہیٹ ڈوم کے اندر گرمی ایک اوون کی طرح جمع ہو جاتی ہے۔

    یہ سسٹم کمزور ہوا کے بہاؤ کی وجہ سے ایک جگہ جم جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ علاقہ دنوں یا ہفتوں تک اس شدید گرمی کے گھیرے میں رہتا ہے۔

    اگر دنیا میں ہیٹ ڈوم کے واقعات بڑھتے رہے، تو اس کے اثرات صرف گرمی تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ یہ معاشی اور سماجی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیں گے۔ اس سے سڑکیں پگھل جائیں گی، ریل کی پٹڑیاں ٹیڑھی ہو جائیں گی، اور بجلی کا نظام مسلسل ٹرپ ہوتا رہے گا۔ ان ممالک میں اب ایئر کنڈیشننگ کا استعمال اتنا بڑھ جائے گا کہ ان ممالک کے پاور سسٹمز جواب دے جائیں گے۔ ہیٹ ڈوم زمین سے نمی کو سکھا دیتا ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ پانی کے ذخائر، ڈیم اور تالاب، تیزی سے بخارات بن کر اڑ جاتے ہیں، جس سے پینے کے پانی کا سنگین بحران پیدا ہوتا ہے۔ زرعی فصلیں جل کر تباہ ہو جاتی ہیں۔ عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا ہے۔ اگر کچھ علاقے رہنے کے قابل نہ رہے، یعنی وہاں درجہ حرارت انسان کی برداشت سے باہر ہو گیا، تو لاکھوں لوگ مجبوری میں اپنے علاقے چھوڑ کر ٹھنڈے علاقوں کی طرف نقل مکانی کریں گے، جو ایک نیا عالمی سیاسی بحران ہوگا۔

    خشک علاقوں میں آگ لگ جائے گی۔ ہزاروں ایکڑ رقبے پر پھیلے جنگلات جل کر خاکستر ہو جائیں گے۔

    موسمیاتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہیٹ ڈوم جیسے واقعات اب اچانک نہیں بلکہ زیادہ شدت کے ساتھ ظاہر ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے زمین کے قدرتی کولنگ سسٹم کو اتنا خراب کر دیا ہے کہ زمین اب اپنے اندر پیدا ہونے والی گرمی کو باہر نکالنے میں مشکلات محسوس کر رہی ہے۔ دنیا کے بڑے ادارے اب ‘ہیٹ ریزیلینس’، یعنی گرمی سے نمٹنے کی صلاحیت، پر زور دے رہے ہیں۔

    اس میں شہروں کے ڈیزائن کو تبدیل کرنا، زیادہ درخت لگانا، اور پائیدار توانائی کی طرف تیزی سے منتقلی شامل ہے۔ ہیٹ ڈوم صرف ایک گرم دن نہیں ہے، بلکہ زمین کی طرف سے دیا گیا ایک الرٹ ہے۔ اگر عالمی کاربن کے اخراج میں فوری کمی نہ آئی، تو آنے والی دہائیوں میں ایسے علاقے، جو آج خوشگوار ہیں، وہ بھی انسانی رہائش کے لیے خطرناک بن جائیں گے۔

    ماحولیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ ہمارے پاس اب وقت کم ہے۔ تنقید اس بات پر ہے کہ دنیا ‘مطابقت پیدا کرنے’ پر بہت زور دے رہی ہے، مگر ‘جڑ کو ختم کرنے، یعنی کاربن کا اخراج روکنے’ پر عمل سست ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ فوسل فیول، یعنی کوئلہ، تیل اور گیس، کے استعمال کو مکمل طور پر ختم کر کے قابل تجدید توانائی، یعنی شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی، کی طرف منتقل ہوا جائے۔

     اس کے ساتھ ساتھ، دنیا کے امیر ممالک کو ترقی پذیر ممالک کی مدد کرنی پڑے گی تاکہ وہ اس ماحولیاتی تباہی سے نمٹنے کے لیے اپنا انفراسٹرکچر مضبوط کر سکیں۔ ہیٹ ڈوم کا بار بار ظاہر ہونا قدرت کی طرف سے دی گئی آخری وارننگ ہے۔ اگر انسانیت نے اپنی صنعتی ترقی کو ماحول دوست نہ بنایا، تو اگلی نسلیں ہمیں ایک ایسی زمین ورثے میں پائیں گی جو انسان کی رہائش کے قابل نہیں ہوگی۔

  • یورپ میں ریکارڈ گرمی، ایشیائی ایئر کنڈیشنر ساز کمپنیوں کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ

    یورپ میں ریکارڈ گرمی، ایشیائی ایئر کنڈیشنر ساز کمپنیوں کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ

    یورپ شدید اور ریکارڈ توڑ گرمی کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث جنوبی کوریا، چین اور جاپان کی ایئر کنڈیشنر بنانے والی بڑی کمپنیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

    یورپ کے کئی ممالک میں درجہ حرارت مسلسل نئی بلندیاں چھو رہا ہے، گرمی کے باعث اموات، بجلی کی فراہمی میں خلل اور اسکولوں کی بندش جیسے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اس صورت حال میں شہری اور کاروباری ادارے شدید گرمی سے بچنے کے لیے پورٹیبل اور مستقل نصب کیے جانے والے ایئر کنڈیشنرز تیزی سے خرید رہے ہیں۔

    ایشیا کے بڑے شہروں میں گھروں، دفاتر اور ٹرانسپورٹ میں ایئر کنڈیشنر عام ہیں، جبکہ یورپ میں اب تک ان کا استعمال نسبتاً محدود رہا ہے۔ تاہم حالیہ ہیٹ ویو نے صورتحال بدل دی ہے اور کئی ممالک نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔

    جنوبی کوریا کی کمپنی سام سنگ الیکٹرانکس نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ جون کے بعد درجہ حرارت میں مزید اضافے کے پیش نظر کولنگ سیزن کے دوران طلب مسلسل برقرار رہنے کی توقع ہے۔ کمپنی کے مطابق اٹلی، اسپین اور فرانس سمیت اہم یورپی منڈیوں میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران فروخت میں دو ہندسوں پر مشتمل شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب ایل جی الیکٹرانکس کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا میں اس کی ایک فیکٹری کی ایئر کنڈیشنر پروڈکشن لائنیں اپریل سے ہی مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہی ہیں تاکہ جنوبی کوریا اور عالمی منڈیوں میں موسم گرما کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔

    چین کی کمپنی میڈیا نے بھی اپنے پورٹا اسپلٹ ایئر کنڈیشنر کی طلب میں غیر معمولی اضافے کی تصدیق کی ہے۔ کمپنی کے مطابق آرڈرز اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ بعض مقامات پر استعمال شدہ یونٹس کی قیمت نئے ایئر کنڈیشنر سے بھی زیادہ وصول کی جا رہی ہے۔

    یورپ اس وقت تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہروں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔ کئی ممالک میں درجہ حرارت نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ شدید گرمی کے باعث اموات، بجلی کی فراہمی میں رکاوٹیں، اسکولوں کی بندش اور اسپتالوں پر بڑھتا ہوا دباؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ا

    س غیر معمولی صورتحال نے ایشیا کی ایئر کنڈیشنر بنانے والی بڑی کمپنیوں کے لیے کاروباری مواقع بھی پیدا کر دیے ہیں، کیونکہ یورپ بھر میں کولنگ آلات کی مانگ اچانک کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق یورپ میں صرف تقریباً 20 فیصد گھروں میں ایئر کنڈیشنر موجود ہیں، جس کے باعث شدید گرمی کے دوران لاکھوں افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔ گرمی کی شدت سے بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے اور قیمتی جانیں بھی ضائع ہو رہی ہیں۔

    جنوبی کوریا کی کمپنی سام سنگ الیکٹرانکس نے رائٹرز کو بتایا کہ جون کے بعد درجہ حرارت میں مزید اضافے کی توقع ہے، اس لیے پورے کولنگ سیزن کے دوران طلب بلند رہنے کا امکان ہے۔ کمپنی کے مطابق اٹلی، اسپین اور فرانس سمیت اہم یورپی منڈیوں میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران ایئر کنڈیشنر کی فروخت میں دو ہندسوں پر مشتمل شرح نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔

    جب کہ صرف جرمنی میں آن لائن خریداری کے ذریعے ایئر کنڈیشنرز کی فروخت مئی میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں تقریباً 37 فیصد بڑھ گئی، جبکہ اٹلی، اسپین اور فرانس سمیت اہم یورپی منڈیوں میں بھی رواں سال فروخت میں دو ہندسوں پر مشتمل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔کمپنی کو امید ہے کہ موسم گرما کے باقی مہینوں میں بھی فروخت میں اضافہ جاری رہے گا۔

    ایل جی الیکٹرانکس نے بھی بتایا ہے کہ جنوبی کوریا میں اس کی ایک بڑی فیکٹری کی ایئر کنڈیشنر پروڈکشن لائنیں اپریل سے مسلسل مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہی ہیں تاکہ جنوبی کوریا سمیت دنیا بھر کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔ کمپنی کے مطابق یورپی آرڈرز میں نمایاں اضافے کی وجہ سے پیداواری سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی گئی ہے۔

    چین کی معروف کمپنی Midea نے بھی اپنے پورٹا اسپلٹ ایئر کنڈیشنر کی مانگ میں غیر معمولی اضافے کی تصدیق کی ہے۔ کمپنی کے مطابق یورپ میں ایک ایئر کنڈیشنر نصب کرنے پر ایک ہزار 137 امریکی ڈالر سے بھی زیادہ خرچ آ سکتا ہے۔

    کمپنی نے شدید گرمی سے اپنے ملازمین کو محفوظ رکھنے کے لیے ڈیلیوری عملے کو خصوصی ’کول باکس‘ فراہم کیے ہیں، جن میں سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بچاؤ کا سامان بھی شامل ہے۔

    بعض مارکیٹوں میں پورٹا ماڈل مکمل طور پر فروخت ہو گیا، جبکہ بعض مقامات پر استعمال شدہ یونٹس کی قیمت نئے ایئر کنڈیشنر سے بھی زیادہ وصول کی جا رہی ہے، جو غیر معمولی طلب کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں آن لائن فروخت کے ذریعے ایئر کنڈیشنر کی خریداری مئی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 37 فیصد بڑھ گئی، جبکہ اسپین اور فرانس کو میڈیا کمپنی کی ترسیلات میں 108 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس تیزی نے ثابت کر دیا ہے کہ یورپی صارفین اب شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے کولنگ سسٹمز پر زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔

    تاہم یورپ میں ایئر کنڈیشنر لگانا آسان نہیں۔ کئی ممالک میں پرانی رہائشی عمارتوں کا ڈھانچہ جدید کولنگ سسٹمز کے لیے موزوں نہیں، جس کی وجہ سے تنصیب مہنگی اور وقت طلب ثابت ہوتی ہے۔

    میڈیا کمپنی کے مطابق یورپ میں ایک ایئر کنڈیشنر کی تنصیب پر ایک ہزار یورو سے زیادہ خرچ آ سکتا ہے، جو بہت سے خاندانوں کی استطاعت سے باہر ہے۔ اس کے باوجود شدید گرمی کے باعث لوگ یہ اضافی خرچ برداشت کرنے پر تیار ہیں۔

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اس وقت یورپ میں گھریلو سطح پر ایئر کنڈیشنر کی ملکیت تقریباً 20 فیصد ہے، جو ایشیائی ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ لیکن موسمیاتی تبدیلی اور بار بار آنے والی شدید گرمی کی لہروں کے باعث آنے والے برسوں میں اس شرح میں نمایاں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    شدید گرمی نے صرف صارفین ہی نہیں بلکہ کاروباری اداروں کو بھی نئے اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔ کئی کمپنیاں اپنے ملازمین کو ٹھنڈے تولیے، خصوصی کولنگ باکس، پانی سے ٹھنڈے ہونے والے کلائی بینڈ اور دھوپ سے بچانے والے حفاظتی سامان فراہم کر رہی ہیں تاکہ وہ شدید گرمی میں بھی محفوظ طریقے سے کام جاری رکھ سکیں۔

    دوسری جانب عالمی موسمیاتی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ یورپ دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ حالیہ ہیٹ ویو کو موسمیاتی تبدیلی کا واضح نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں مؤثر کمی نہ کی گئی تو مستقبل میں یورپ میں ایسی شدید گرمی کی لہریں مزید عام ہو جائیں گی، جس سے نہ صرف صحت عامہ بلکہ توانائی، معیشت اور شہری انفراسٹرکچر پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

  • یورپ میں شدید گرمی، ماحولیاتی تبدیلی نے رکارڈ توڑ دیے

    یورپ میں شدید گرمی، ماحولیاتی تبدیلی نے رکارڈ توڑ دیے

    آج کل یورپ کے کئی ممالک شدید گرمی کا شکار ہیں۔ برطانیہ میں جمعرات کو جون کے مہینے کا اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 36۔7 سیٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ شدید گرمی کے باعث درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی، اسکول بند کرنا پڑے اور متعدد تاریخی و ثقافتی مقامات بھی عارضی طور پر عوام کے لیے بند کر دیے گئے۔

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ بیس برسوں میں رات کے وقت ریکارڈ حد تک زیادہ درجہ حرارت بڑھنے کے امکانات سو گنا بڑھ چکے ہیں۔ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مغربی یورپ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی حالیہ ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی کا واضح نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق اگر عالمی حدت نہ بڑھتی تو اس شدت کی گرمی تقریباً ناممکن تھی۔

    ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن (ڈبلیو ڈبلیو اے) نامی بین الاقوامی تحقیقی ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جس علاقے کا جائزہ لیا گیا، وہاں یہ اب تک کی سب سے شدید گرمی کی لہر ثابت ہوئی ہے۔ اس گرمی نے برطانیہ، فرانس، اسپین، اٹلی اور یورپ کے دیگر کئی ممالک کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی اس رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یورپ میں گرمی کی لہریں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران نہ صرف زیادہ بار آنے لگی ہیں بلکہ ان کی شدت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر جون 1976 جیسی گرمی کی لہر آج کے حالات میں نہ آتی تو اس وقت کے مقابلے میں موجودہ گرمی تقریباً ساڑھے تین ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم ہے۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ عالمی حدت نے موسم کے قدرتی نظام کو کس حد تک تبدیل کر دیا ہے۔

    تحقیق کے دوران یورپ کے 800 سے زائد شہروں کا تجزیہ کیا گیا۔ ان میں سے تقریباً 45 فیصد شہروں میں جون کے آخری ہفتے کے دوران گرمی کے دباؤ کی بلند ترین سطح ریکارڈ کی گئی یا اس کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ گرمی کا دباؤ اس کیفیت کو کہا جاتا ہے جب انسانی جسم پسینہ خارج کرنے کے باوجود خود کو ٹھنڈا رکھنے میں ناکام رہتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، دل اور سانس کی بیماریوں سمیت دیگر طبی مسائل کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کی تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت گرمی کی لہروں کو زیادہ بار اور زیادہ شدید بنا رہی ہے۔ کوئلہ، تیل اور گیس جیسے ایندھن جلانے سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق زمین کا اوسط درجہ حرارت انیسویں صدی کے صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں اب تقریباً ایک اعشاریہ چار ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔

    امپیریل کالج لندن سے وابستہ شدید موسمی حالات کی محقق اور اس رپورٹ کی شریک مصنفہ کلیئر بارنز نے کہا کہ دنیا اس وقت عالمی حدت کی رفتار کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ برسوں میں گرمی کے نئے ریکارڈ پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے ٹوٹتے رہیں گے اور شدید موسمی واقعات معمول بنتے جائیں گے۔

    یورپ پہلے ہی دنیا کا وہ براعظم ہے جہاں درجہ حرارت سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس رجحان کے باعث مستقبل میں نہ صرف گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگا بلکہ جنگلات میں آگ، خشک سالی، پانی کی قلت اور زرعی پیداوار میں کمی جیسے مسائل بھی مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

    ڈبلیو ڈبلیو اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس گرمی کی لہر کے صحت پر مکمل اثرات ابھی سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔ تاہم سائنس دانوں نے یاد دلایا کہ 2022 کے موسم گرما میں یورپ میں آنے والی شدید گرمی کی مختلف لہروں کے نتیجے میں 60 ہزار

    سے زائد افراد گرمی سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو اموات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    رپورٹ میں خاص طور پر رات کے وقت بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو تشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب رات کو بھی درجہ حرارت زیادہ رہے تو انسانی جسم دن بھر کی گرمی سے بحال نہیں ہو پاتا، جس سے بیماریوں اور اموات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ فرانس کے بعض علاقوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے رات کا درجہ حرارت مسلسل 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہا ہے، جسے ماہرین ‘استوائی رات’ قرار دیتے ہیں۔ بعض مقامات پر رات کے وقت کم سے کم درجہ حرارت بھی تقریباً 30 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو غیر معمولی صورتحال ہے۔

    تحقیق میں ایک اور اہم بات یہ سامنے آئی کہ بحرالکاہل میں بننے والے ایل نینو موسمی نظام کا یورپ کی اس شدید گرمی میں کوئی نمایاں کردار نہیں تھا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس بار گرمی کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی ہے، نہ کہ قدرتی موسمی چکر۔

    ماہرین نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری کمی، قابل تجدید توانائی کے فروغ، شہری علاقوں میں سبزہ بڑھانے اور گرمی سے نمٹنے کے مؤثر منصوبے بنانے پر توجہ دیں، کیونکہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں اس سے بھی زیادہ شدید اور جان لیوا گرمی کی لہریں دنیا کے مختلف حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔

  • یورپ کا وہ شہر جہاں ایک پل تاریخ، جنگ اور امید کی علامت بن گیا

    یورپ کا وہ شہر جہاں ایک پل تاریخ، جنگ اور امید کی علامت بن گیا

    بوسنیا ہرزیگووینا کا تاریخی شہر موسٹار دنیا کے اُن چند شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں ایک پل صرف آمد و رفت کا ذریعہ نہیں بلکہ پورے شہر کی شناخت بن چکا ہے۔ دریائے نیروتوا کے کنارے آباد یہ شہر صدیوں سے مشرق اور مغرب کے درمیان ثقافتی رابطے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہاں واقع مشہور ‘اسٹاری موسٹ’ یعنی ‘پرانا پل’ نہ صرف عثمانی فنِ تعمیر کا ایک شاہکار ہے بلکہ بوسنیا جنگ، تباہی اور دوبارہ تعمیر کی ایک زندہ یادگار بھی مانا جاتا ہے۔

    یہ پل سولہویں صدی میں عثمانی سلطنت کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس کی تعمیر سن 1557 میں شروع ہوئی اور 1566 میں مکمل ہوئی۔ اس منصوبے کی نگرانی عثمانی معمار معمار خیرالدین نے کی، جو مشہور عثمانی معمار سنان کے شاگرد سمجھے جاتے تھے۔ اس زمانے میں ایک ہی محراب پر مشتمل اتنا بڑا پتھریلا پل تعمیر کرنا انجینئرنگ کا حیرت انگیز کارنامہ تصور کیا جاتا تھا۔ پل تقریباً 29 میٹر لمبا اور دریائے نیروتوا سے قریب 24 میٹر بلند ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ اس پل کی تعمیر کے دوران عثمانی انجینئروں نے خاص قسم کے مقامی چونے کے پتھر ‘ٹینیلیا’ کا استعمال کیا تھا، جو ہرزیگووینا کے علاقے سے نکالا جاتا تھا۔ روایت ہے کہ پل کو مضبوط بنانے کے لیے پتھروں کو جوڑنے والے مسالے میں انڈوں کی سفیدی بھی شامل کی گئی تھی، اگرچہ بعض مؤرخین اسے ایک مقامی داستان قرار دیتے ہیں۔ اس پل کی خوبصورتی اور منفرد محرابی ساخت نے بعد میں یورپ کے کئی معماروں کو متاثر کیا۔

    شہر ‘موسٹار’ کا نام بھی اسی پل سے جڑا ہوا ہے۔ قرونِ وسطیٰ میں پل کی حفاظت کرنے والے محافظوں کو ‘موستاری’ کہا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہی لفظ پورے شہر کی پہچان بن گیا۔ یہ پل صرف دو کناروں کو نہیں بلکہ مختلف مذاہب اور قومیتوں کو بھی آپس میں جوڑتا رہا۔ عثمانی دور میں یہاں مسلمان، کروشین اور سرب آبادی ایک ہی تجارتی مرکز میں رہتی تھی، جس کی جھلک آج بھی شہر کی گلیوں اور عمارتوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔

    انیس سو ترانوے میں بوسنیا جنگ کے دوران یہ تاریخی پل شدید گولہ باری کے بعد منہدم ہوگیا۔ اس واقعے کی تصاویر دنیا بھر میں نشر ہوئیں اور بہت سے لوگوں نے اسے صرف ایک عمارت کی تباہی نہیں بلکہ مشترکہ تاریخ اور ثقافت کے ٹوٹنے کی علامت قرار دیا۔ پل کے گرنے کے بعد دریائے نیروتوا میں اس کے بڑے بڑے پتھر بکھر گئے تھے۔

    جنگ کے بعد یونیسکو، ورلڈ بینک، ترکی، اٹلی، نیدرلینڈز اور کئی دیگر ممالک نے اس پل کی بحالی میں حصہ لیا۔ تعمیرِ نو کے دوران ماہرین نے اصل عثمانی نقشوں اور پرانی تصاویر کی مدد سے پل کو دوبارہ اسی طرز میں تعمیر کرنے کی کوشش کی۔ کم معروف حقیقت یہ ہے کہ غوطہ خوروں نے دریائے نیروتوا کی تہہ سے اصل پل کے متعدد پتھر نکالے تاکہ جہاں ممکن ہو انہیں نئی تعمیر میں دوبارہ استعمال کیا جا سکے۔ نئی تعمیر میں بھی وہی ٹینیلیا پتھر استعمال کیے گئے جو صدیوں پہلے اصل پل میں لگائے گئے تھے۔

    سن 2004 میں پل دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا گیا اور اگلے ہی سال UNESCO نے موسٹار کے تاریخی علاقے کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے دیا۔ یونیسکو نے اسے مختلف تہذیبوں، مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی کی علامت قرار دیا تھا۔

    آج بھی موسٹار کی سب سے مشہور روایت پل سے دریائے نیروتوا میں چھلانگ لگانا ہے۔ مقامی نوجوان گرمیوں کے موسم میں اس بلند پل سے برف جیسے ٹھنڈے پانی میں غوطہ لگاتے ہیں۔ یہ روایت کئی صدیوں پرانی سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ اس کا باقاعدہ ریکارڈ بیسویں صدی سے ملتا ہے، لیکن مقامی لوگ اسے عثمانی دور سے جوڑتے ہیں۔ ہر سال یہاں بین الاقوامی ڈائیونگ مقابلے منعقد ہوتے ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔ نیروتوا کا پانی گرمیوں میں بھی انتہائی ٹھنڈا رہتا ہے، اسی لیے یہ چھلانگ صرف بہادری نہیں بلکہ جسمانی مہارت کا امتحان بھی سمجھی جاتی ہے۔

    موسٹار کی پرانی مارکیٹ آج بھی عثمانی دور کی فضا کو زندہ رکھتی ہے۔ پتھروں سے بنی تنگ گلیاں، ہاتھ سے تانبے کے برتن بنانے والے کاریگر، روایتی بوسنیائی قہوہ پیش کرنے والے کیفے اور لکڑی و دھات سے بنی یادگاری اشیا سیاحوں کو کئی صدی پیچھے لے جاتی ہیں۔ یہاں کے بازار میں آج بھی ایسی دکانیں موجود ہیں جو نسلوں سے ایک ہی خاندان چلا رہا ہے۔

    اگرچہ شہر نے خود کو دوبارہ تعمیر کرلیا ہے، لیکن جنگ کے آثار اب بھی واضح ہیں۔ کئی عمارتوں کی دیواروں پر گولیوں کے نشانات موجود ہیں، جبکہ بہت سے خاندان آج بھی جنگ میں کھوئے ہوئے اپنے عزیزوں کی یادیں سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہی تضاد موسٹار کو ایک منفرد شہر بناتا ہے، جہاں خوبصورتی اور درد ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

    موسٹار کو اکثر یورپ میں تہذیبوں کے سنگم کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں ایک ہی وقت میں مسجدوں کی اذانیں، چرچ کی گھنٹیاں اور مختلف ثقافتی روایات ایک ساتھ محسوس کی جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مورخین موسٹار کو صرف ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ یورپ میں بقائے باہمی کی ایک علامت بھی قرار دیتے ہیں۔

    آج دنیا بھر سے لاکھوں سیاح موسٹار کا رخ کرتے ہیں، مگر اس شہر کی اصل کشش اس کا خوبصورت پل نہیں بلکہ وہ داستان ہے جو اس کے پتھروں میں چھپی ہوئی ہے۔ ایک ایسا شہر جو جنگ میں ٹوٹ گیا، مگر دوبارہ کھڑا ہوا، اور ایک ایسا پل جو تباہ ہونے کے باوجود آج بھی لوگوں کو جوڑنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

  • پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیٹے کی یورپ میں سیاسی پناہ اور بلیو پاسپورٹ پر اٹھتے سوالات

    پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیٹے کی یورپ میں سیاسی پناہ اور بلیو پاسپورٹ پر اٹھتے سوالات

    پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی سے متعلق حکومت نے انکشاف کیا کہ ان کا بیٹا سفارتی ‘بلیو’ پاسپورٹ پر یورپ گیا، وہاں جا کر پاسپورٹ سرنڈر کیا اور سیاسی پناہ یعنی اسائلم لے لی۔ اقبال آفریدی نے جواب میں کہا کہ ‘یہاں امن نہیں، میرے بیٹے سے پہلے بھی کتنے لوگوں نے اسائلم حاصل کیا ہوا ہے؟’۔ یوں ان کے بیان کو حکومتی دعوے کی ایک طرح سے تصدیق سمجھا گیا۔

    اقبال آفریدی نے یہ تاثر بھی دیا کہ اگر موقع ملا تو شاید وہ خود بھی اسائلم لینے پر مجبور ہو جائیں۔ ان کے مطابق اگر عمران خان رہا نہ ہوئے تو ملک رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔ دوسری جانب ان کی جماعت چند روز پہلے پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ بہتر بنانے کی مہم چلا رہی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان کے پاسپورٹ کی ساکھ کیسے بہتر ہو سکتی ہے جب بااثر شخصیات کے خاندان بیرونِ ملک جا کر بلیو پاسپورٹ سرنڈر کریں اور اس سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھائیں؟

    پاکستان میں عام شہری کے پاس سبز رنگ کا پاسپورٹ ہوتا ہے، جبکہ نیلا پاسپورٹ ‘آفیشل پاسپورٹ’ کہلاتا ہے۔ اس پاسپورٹ کا مقصد سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے بیرونِ ملک سفر کو آسان بنانا ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ نیلا پاسپورٹ صرف سفارت کاروں یا وزیروں کو ملتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

    پاکستان کے پاسپورٹ اینڈ ویزا مینول 2006 اور بعد کے حکومتی فیصلوں کے مطابق اراکینِ پارلیمنٹ، ان کے اہلِ خانہ، اعلیٰ سرکاری افسران، جج صاحبان، فوجی افسران اور کئی دیگر سرکاری عہدے رکھنے والے افراد اس سہولت کے حقدار ہوتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق دورِ حکومت میں اس وقت کے وفاقی وزیرِ داخلہ احسن اقبال کی ہدایت پر یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ صوبائی اسمبلیوں کے ارکان، میئرز اور ضلع کونسلوں کے چیئرمین بھی بلیو پاسپورٹ حاصل کر سکیں گے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف پارلیمنٹیرین ہی نہیں بلکہ ان کے خاندان کے افراد بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ قانون کے مطابق اراکینِ پارلیمنٹ کے شریکِ حیات، والدین اور زیرِ کفالت بچے بھی بلیو پاسپورٹ کے اہل ہوتے ہیں۔ اسی طرح کئی اعلیٰ سرکاری افسران، ججوں، وزیروں اور فوجی حکام کے اہلِ خانہ کو بھی یہ رعایت حاصل ہوتی ہے۔

    یہی وہ نکتہ ہے جس پر عوام کی توجہ مرکوز ہے۔ ایک عام پاکستانی برسوں لائنوں میں لگ کر پاسپورٹ بنواتا ہے، ویزوں کے لیے مشکلات برداشت کرتا ہے اور دنیا بھر میں سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرتا ہے، جبکہ طاقتور طبقے کے افراد اور ان کے خاندان خصوصی پاسپورٹ اور سفری سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جب انہی لوگوں کے بچے بیرونِ ملک جا کر اسائلم لے لیتے ہیں تو دنیا میں پاکستان کا تاثر مزید خراب ہوتا ہے۔

    آفیشل یا بلیو پاسپورٹ دراصل ریاست کی نمائندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص اس پاسپورٹ پر بیرونِ ملک جاتا ہے تو متعلقہ ملک یہ سمجھتا ہے کہ یہ فرد پاکستان کے کسی سرکاری یا اہم عہدے سے وابستہ ہے۔ اگر بعد میں وہی شخص سیاسی پناہ لے لے یا پاسپورٹ سرنڈر کر دے تو اس سے صرف ایک خاندان یا فرد کا معاملہ نہیں رہتا بلکہ پورے ملک کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

    پاکستانی پاسپورٹ کی کمزور عالمی رینکنگ پر اکثر سیاست دان بیانات دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مہم چلائی جاتی ہے کہ پاکستانیوں کو دنیا میں عزت نہیں ملتی، ویزے مشکل سے ملتے ہیں اور امیگریشن حکام سخت رویہ اختیار کرتے ہیں۔ لیکن اس کی ایک بڑی وجہ یہی واقعات بھی بنتے ہیں۔ جب بااثر طبقات کے لوگ خود اپنے ملک پر اعتماد ظاہر نہ کریں اور بیرونِ ملک جا کر پناہ لینے کو ترجیح دیں تو دنیا کے سامنے ایک منفی تصویر بنتی ہے۔

    حکومت کے قواعد کے مطابق بلیو پاسپورٹ حاصل کرنے والوں میں وفاقی سیکریٹریز، بی پی ایس 22 کے افسران، چیف سیکریٹریز، سینئر فوجی افسران، صوبائی وزرا، اسپیکرز، ڈپٹی اسپیکرز، الیکشن کمیشن کے اراکین، سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے ججز، اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین اور کئی دیگر شخصیات شامل ہیں۔ ان کے شریکِ حیات اور غیر شادی شدہ زیرِ کفالت بچوں کو بھی یہ سہولت دی جا سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں 28 سال تک کے بچوں کو بھی اہل تصور کیا جاتا ہے۔

    اس تمام صورتحال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا بلیو پاسپورٹ ایک قومی ذمہ داری ہے یا محض ایک سرکاری مراعاتی علامت؟ اگر یہ ریاستی اعتماد کی علامت ہے تو پھر اس کے استعمال کے لیے سخت نگرانی ہونی چاہیے۔ ایسے واقعات جہاں آفیشل یا سفارتی پاسپورٹ استعمال کر کے بیرونِ ملک جا کر اسائلم لیا جائے، وہ نہ صرف قانون بلکہ قومی وقار کے حوالے سے بھی سنجیدہ معاملہ ہیں۔

    پاکستان کو اگر واقعی اپنے پاسپورٹ کی عزت اور عالمی ساکھ بہتر بنانی ہے تو صرف سوشل میڈیا مہمات کافی نہیں ہوں گی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے بااثر طبقات خود اپنے وطن پر اعتماد کا اظہار کریں، قوانین کا احترام کریں اور ریاستی سہولتوں کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہ کریں۔ کیونکہ جب حکمران طبقہ ہی دنیا کو یہ پیغام دے کہ پاکستان رہنے کے قابل نہیں، تو پھر عام پاکستانی کے پاسپورٹ کی عزت کیسے بڑھے گی؟

  • ‘مدر آف آل ڈیلز’ اور اس کے ممکنہ اثرات: پاکستان، انڈیا، چین، امریکہ اور یورپ کی بدلتی عالمی بساط

    ‘مدر آف آل ڈیلز’ اور اس کے ممکنہ اثرات: پاکستان، انڈیا، چین، امریکہ اور یورپ کی بدلتی عالمی بساط

    یورپ اور انڈیا کے درمیان ہونے والی مدر آف آل ڈیلز کو اگر محض ایک تجارتی معاہدہ سمجھا جائے تو یہ اس کی اصل معنویت کو کم کر دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاہدہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک خاموش مگر گہری ازسرنو صف بندی کی علامت ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔

    یہ ڈیل خاص طور پر انڈیا، چین، امریکہ اور یورپ کے باہمی تعلقات میں ایک نئے توازن کی نشاندہی کرتی ہے۔ بظاہر تجارت کے نام پر ہونے والا یہ معاہدہ دراصل عالمی سپلائی چین، سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک ترجیحات کی سمت بدلنے کی کوشش ہے۔

    سب سے پہلے پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ معاہدہ ایک تنبیہ بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ یورپی یونین پہلے ہی پاکستان کی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل، کے لیے ایک بڑی منڈی ہے اور جی ایس پی پلس کے تحت رعایت فراہم کرتی ہے۔ مگر انڈیا کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ یورپی منڈی میں مسابقت کو کہیں زیادہ سخت بنا دے گا۔

    اگر انڈین ٹیکسٹائل، انجینئرنگ مصنوعات اور آئی ٹی خدمات کم ٹیرف کے ساتھ یورپ پہنچتی ہیں تو پاکستانی برآمدی صنعت کو شدید دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں محض رعایتی اسکیموں پر انحصار پاکستان کے لیے کافی نہیں رہے گا۔

    یہ معاہدہ پاکستان کو یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ جغرافیہ اب اکیلا ہتھیار نہیں رہا۔ معاشی سفارت کاری، صنعتی اپ گریڈیشن، ویلیو ایڈیشن اور منڈیوں کا تنوع ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر پاکستان ٹیکسٹائل سے آگے بڑھ کر آئی ٹی، زرعی پراسیسنگ اور گرین صنعتوں میں سنجیدہ اصلاحات کرے تو یورپ کے ساتھ زیادہ مضبوط اور پائیدار تعلق قائم کر سکتا ہے۔

    انڈیا اور چین کے تعلقات کے تناظر میں یہ ڈیل مزید اہم ہو جاتی ہے۔ سرحدی تنازعات اور باہمی عدم اعتماد کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ یورپ کے ساتھ یہ معاہدہ انڈیا کی اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنی معاشی ترقی کے لیے چین پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے۔

    یورپ بھی اسی سمت بڑھ رہا ہے۔ یہ معاہدہ چین کے خلاف کسی کھلے اتحاد کا اعلان نہیں، مگر متبادل سپلائی چین کی بنیاد ضرور رکھتا ہے۔ چین کے لیے یہ ایک اسٹریٹجک دباؤ ہے، کیونکہ یورپ جو طویل عرصے تک چینی مینوفیکچرنگ کا بڑا خریدار رہا، اب انڈیا کو ایک قابل اعتماد متبادل کے طور پر دیکھنے لگا ہے۔

    اسی لیے بیجنگ میں اس معاہدے کو برسلز اور نئی دہلی کے درمیان خاموش قربت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ قربت مستقبل میں چین کے یورپی منڈی تک اثر و رسوخ کو محدود کر سکتی ہے۔

    اگر انڈیا اور امریکہ کے تعلقات کو دیکھا جائے تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے انڈیا کو چین کے توازن کے طور پر دیکھتا آیا ہے۔ یورپ اور انڈیا کا یہ معاہدہ امریکی حکمت عملی سے متصادم نہیں بلکہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔

    امریکہ کے لیے یہ پیش رفت خوش آئند ہے کہ اس کا یورپی اتحادی بھی اب انڈیا کے ساتھ معاشی طور پر جڑ رہا ہے۔ اس سے چین پر عالمی انحصار کم ہو سکتا ہے۔ تاہم ایک باریک نکتہ یہ بھی ہے کہ انڈیا اب صرف امریکہ کا ثانوی شراکت دار نہیں رہے گا بلکہ یورپ کے ساتھ براہ راست بڑے معاہدے کر کے اپنی خودمختار حیثیت مضبوط کرے گا۔

    یہی پہلو یورپ اور امریکہ کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ دونوں اتحادی ہونے کے باوجود تجارت، سبسڈیز، ٹیکنالوجی ضوابط اور کاربن ٹیکس جیسے معاملات پر اختلافات رکھتے ہیں۔ انڈیا کے ساتھ یہ ڈیل یورپ کی اس خواہش کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ عالمی تجارت میں ایک خودمختار معاشی طاقت کے طور پر فیصلے کرے۔

    دوسرے الفاظ میں یورپ یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ صرف واشنگٹن کی ترجیحات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اپنی الگ معاشی سمت بھی متعین کرے گا۔

    یوں یہ معاہدہ بیک وقت کئی سطحوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ پاکستان کے لیے ایک چیلنج اور تنبیہ۔ چین کے لیے خاموش مقابلہ۔ امریکہ کے لیے اسٹریٹجک سہولت۔ اور یورپ کے لیے ایک خودمختار عالمی کردار کی علامت۔

    آخر میں اصل سوال یہ نہیں کہ مدر آف ڈیل انڈیا اور یورپ کو کیا دے گی، یہ تو وقت کے ساتھ واضح ہو جائے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اس بدلتی ہوئی عالمی بساط میں خود کو کہاں کھڑا دیکھنا چاہتا ہے، ایک تماشائی کے طور پر یا ایک سنجیدہ معاشی کھلاڑی کے طور پر۔

  • کئی ادوار کی تاریخ کا شاہد جرمنی میں واقع یورپ کا طلسماتی ہائیڈل برگ قلعہ یا ہائیڈل برگ شلوس کیسا دکھائی دیتا ہے؟

    کئی ادوار کی تاریخ کا شاہد جرمنی میں واقع یورپ کا طلسماتی ہائیڈل برگ قلعہ یا ہائیڈل برگ شلوس کیسا دکھائی دیتا ہے؟

    جرمنی کی ریاست باڈن ووٴرٹمبرگ میں واقع ہائیڈل برگ قلعہ، جسے جرمن زبان میں شلوس ہائیڈل برگ یا ہائیڈل برگر شلوس کہا جاتا ہے، یورپ کے قدیم اور تاریخی قلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ قلعہ دریائے نیکر کے کنارے ایک پہاڑی پر واقع ہے اور صدیوں سے جرمن تاریخ، سیاست اور ثقافت کا خاموش گواہ رہا ہے۔

    ہائیڈل برگ قلعے کی ابتدائی تعمیر تیرہویں صدی میں شروع ہوئی، جب یہ علاقہ ہولی رومن ایمپائر کے زیرِ اثر تھا۔ ابتدا میں یہ قلعہ مقامی حکمرانوں کی رہائش اور دفاعی مرکز کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ مختلف ادوار میں اس میں توسیع اور تعمیر نو ہوتی رہی، جس کے باعث قلعے میں گوتھک اور نشاۃ ثانیہ طرزِ تعمیر کی جھلک واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

    پندرھویں اور سولہویں صدی میں ہائیڈل برگ قلعہ پیلاٹینیٹ کے حکمرانوں کی مرکزی رہائش گاہ بنا۔ اسی دور میں قلعے کو سیاسی اور انتظامی اہمیت حاصل ہوئی۔ یہاں شاہی تقریبات، سفارتی ملاقاتیں اور حکومتی فیصلے کیے جاتے تھے۔ قلعے کے اندر تعمیر کیا گیا عظیم الشان ہال، رہائشی کمرے اور مذہبی عبادت گاہیں اس دور کی شاہانہ زندگی کی عکاسی کرتی ہیں۔

    سترھویں صدی میں یورپ میں ہونے والی جنگوں، بالخصوص تیس سالہ جنگ اور بعد ازاں فرانس اور جرمنی کے درمیان تنازعات کے دوران ہائیڈل برگ قلعے کو شدید نقصان پہنچا۔ کئی بار قلعہ تباہ ہوا اور دوبارہ تعمیر نہ کیا جا سکا، جس کے باعث یہ رفتہ رفتہ ایک تاریخی کھنڈر کی صورت اختیار کر گیا۔ اٹھارویں صدی میں بجلی گرنے سے بھی قلعے کے کچھ حصے منہدم ہو گئے۔

    انیسویں صدی میں جرمنی میں تاریخی ورثے کے تحفظ کا شعور بڑھا تو ہائیڈل برگ قلعے کو محفوظ کرنے کے اقدامات کیے گئے۔ مکمل بحالی کے بجائے اسے اسی تاریخی حالت میں محفوظ رکھا گیا تاکہ آنے والی نسلیں اس کی اصل ساخت اور تاریخ کو سمجھ سکیں۔

    آج قلعے کے کئی حصے میوزیم میں تبدیل ہو چکے ہیں، جہاں پرانی اشیا، دستاویزات اور فنِ تعمیر کی مثالیں رکھی گئی ہیں۔

    ہائیڈل برگ قلعہ آج جرمنی کے نمایاں سیاحتی مقامات میں شامل ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں سیاح اس قلعے کو دیکھنے آتے ہیں۔ یہ قلعہ نہ صرف جرمن تاریخ کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ یورپ کی سیاسی، عسکری اور ثقافتی تبدیلیوں کی ایک جامع تصویر بھی پیش کرتا ہے۔۔

  • کولون کیتھڈرل: سات صدیوں میں پروان چڑھنے والا گوتھک معجزہ

    کولون کیتھڈرل: سات صدیوں میں پروان چڑھنے والا گوتھک معجزہ

     

    یورپ کے دل میں، جرمنی کے تاریخی شہر کولون میں، دریائے رائن کے کنارے ایک ایسی عمارت کھڑی ہے جسے دیکھنے والا پہلی نظر میں وقت کی شدت کو محسوس کرتا ہے۔

    بلند میناروں کی سایہ دار گہرائیوں اور شیشے کی رنگین کھڑکیوں سے چھن کر آتی روشنی کے درمیان یہ عمارت محض پتھروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ تقریباً سات صدیوں پر پھیلا ہوا ایک تعمیراتی سفر ہے۔

    یہ ہے کولون کیتھڈرل: گوتھک طرزِ تعمیر کا وہ شاہکار جو وقت، طاقت، مذہب اور فن کی پیچیدہ داستان اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔

    اس عظیم عمارت کی کہانی سال 1248 میں شروع ہوتی ہے، جب یورپ قرونِ وسطیٰ کے سماجی اور مذہبی عروج کی منزلوں سے گزر رہا تھا۔

    اسی دور میں کولون کے معماروں اور مذہبی رہنماؤں نے ایک ایسی عبادت گاہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا جو نہ صرف جرمنی بلکہ پورے یورپ میں گوتھک فن کا سب سے بڑا نمونہ بن سکے۔

    یہ وہ وقت تھا جب گوتھک طرزِ تعمیر اپنی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ نوکیلے محراب، آسمان کی طرف اٹھتے ستون اور روشنی کو عبادت کا حصہ بنا دینے والی رنگین کھڑکیاں، سب ایک نئے فن کی زبان بن رہی تھیں۔

    اسی زبان کو پتھر میں ڈھالنے کے لیے کولون کیتھڈرل کی بنیاد رکھی گئی۔

    تاہم ہر خواب کی طرح اس خواب کے راستے میں بھی بڑے امتحان آئے۔ تعمیر کے ابتدائی مراحل تیزی سے آگے بڑھے لیکن سیاسی تبدیلیوں، مذہبی جنگوں اور مالی وسائل کی کمی نے 16ویں صدی میں اس تاریخی منصوبے کو روک دیا۔

    تقریباً 300 سال تک یہ عمارت ادھوری رہی۔ مینار آدھے بنے ہوئے، دیواریں نامکمل، اور اندرونِ خانہ وہ وسعت مفقود جو معماروں نے سوچ رکھی تھی۔

    یورپ میں تحریکِ اصلاحِ مذہب، بادشاہتوں کی تبدیلی، اور صنعتی انقلاب جیسے بڑے واقعات گزر گئے، لیکن کیتھڈرل اپنی ادھوری حالت میں کھڑا دنیا کی تبدیلیوں کا تماشائی بنا رہا۔

    شہر کے کئی مکین اس ادھورے منصوبے کو "پتھروں کا خواب” کہتے تھے، تو کچھ اسے یورپ کی سب سے بڑی نامکمل عمارت کے طور پر دیکھتے تھے۔

    مگر حقیقت یہ تھی کہ اس کا بقیہ حصہ بھی کسی نہ کسی آنے والی نسل نے مکمل کرنا تھا۔ صرف وقت مناسب نہیں تھا۔

    انیسویں صدی میں جب جرمنی کے اتحاد کی تحریک مضبوط ہونے لگی تو قوم پرستی کے جذبات نے اس قدیم منصوبے میں نئی زندگی پھونکی۔

    جرمنی کی نئی شناخت، ایک مشترکہ ثقافت اور قومی فخر کی تلاش نے کولون کیتھڈرل کو دوبارہ اہم بنا دیا۔ عوام سے لے کر حکمران طبقے تک سب اس بات پر متفق تھے کہ اس عمارت کو مکمل ہونا چاہیے۔

    یوں تعمیر نو کی تحریک شروع ہوئی، اور جدید دور کے انجینیئرز، معمار اور فنکار دوبارہ اس عظیم منصوبے کے گرد جمع ہونے لگے۔

    آخرکار، تقریباً 632 برس بعد 1880 میں کولون کیتھڈرل مکمل ہوا ۔

    جرمن عوام کے لیے یہ صرف ایک تعمیراتی کامیابی نہیں تھی بلکہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے پورے ملک میں قومی تشخص کا نیا احساس پیدا کیا۔ اس افتتاح کو اس دور کا سب سے بڑا ثقافتی واقعہ قرار دیا گیا۔

    کیتھڈرل کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے دو جڑواں مینار ہیں جو 157 میٹر کی حیران کن بلندی پر کھڑے ہیں۔ ان میناروں نے اسے ایک طویل عرصے تک دنیا کی سب سے اونچی عمارت کا درجہ دیا۔

    آج بھی یہ مینار کولون شہر کے افق پر سب سے نمایاں عمود ہیں۔

    دن میں یہ اپنی سنگی ساخت کے ساتھ رعب دار دکھائی دیتے ہیں اور رات میں روشنیوں کے ساتھ شہر کے اوپر تیرتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔

    کولون کیتھڈرل کو دنیا میں گوتھک فن کی بہترین مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    باریک نقش و نگاری، فلائنگ بٹرس، نوکیلے محراب، بلند ستون اور سنگ تراشی کی وہ مہارت جو آج کے دور میں بھی حیران کرتی ہے—سب اس عمارت کو ایک فن پارہ بنا دیتے ہیں۔

    معماروں نے عمارت کو ایسا ڈیزائن دیا کہ قدرتی روشنی اس کے اندر عبادت کا حصہ بن جائے۔ چھت تک بلند ہر ستون اور دیوار گویا روشنی کے بہاؤ کو سمجھ کر ترتیب دی گئی ہے۔

    کیتھڈرل کے اندر 10 ہزار مربع میٹر پر پھیلی ہوئی شیشے کی کھڑکیاں اس کی روح سمجھی جاتی ہیں۔

    ہر کھڑکی میں رنگ، تاریخ اور مذہبی علامتوں کی ایک الگ کہانی چھپی ہے۔

    جدید دور میں اس عمارت میں شامل ہونے والی سب سے مشہور کھڑکی جرمن آرٹسٹ گیرہارڈ رِشٹر کی ڈیزائن کردہ ہے، جو رنگوں کے ایک ایسے نمونے پر مشتمل ہے جس میں چھن کر آتی روشنی عمارت کے اندر ایک نیا جہان بنا دیتی ہے۔

    کیتھڈرل کی مذہبی اہمیت کا سب سے بڑا سبب اس کے اندر موجود شائن آف دی تھری کنگز ہے۔ یہ ایک سنہری تابوت ہے جو گوتھک دور کے سب سے عظیم فن پاروں میں شمار ہوتا ہے۔

    روایات کے مطابق اس میں تین مغربی بادشاہوں کی باقیات محفوظ ہیں جو حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کے بعد ان سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔

    اسی روایت نے کولون کیتھڈرل کو صدیوں سے ایک بڑی مسیحی زیارت گاہ کا درجہ دے رکھا ہے۔

    سال 1980 میں کولون کیتھڈرل کو یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج قرار دیا گیا، اور آج یہ جرمنی کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی تاریخی جگہوں میں شامل ہے۔

    دنیا بھر سے لاکھوں سیاح اس کی شان دیکھنے آتے ہیں۔ کوئی اس کے تاریخی سفر سے متاثر ہوتا ہے، کوئی اس کے فنِ تعمیر سے، اور کوئی اس روحانی فضا سے جو اس کے اندر قدم رکھتے ہی محسوس ہوتی ہے۔

    کولون کیتھڈرل محض ایک عمارت نہیں؛ یہ صدیوں کی محنت، عقیدے، سیاست، فن اور انسان کی بے پایاں تخلیقی قوت کا مجسمہ ہے۔ یہ تعمیر ہے جو بتاتی ہے کہ خواب اگر وقت سے بھی لمبے ہو جائیں تو بھی پورے ہو سکتے ہیں۔ بس نسلیں بدلتی رہتی ہیں، مگر خواب اپنی تکمیل کا راستہ خود تلاش کر لیتے ہیں۔

    عرفان الحق ، نمائندہ خصوصی یورپ