اس وقت یورپ میں شدید گرمی نے تباہی مچا رکھی ہے، جس میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس گرمی نے یورپ میں گرمی کے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جس نے انسانی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین اور برطانیہ سمیت یورپ کے تمام ممالک اس تباہی کی زد میں ہیں۔
جون کے مہینے میں ایسی گرمی، جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی، اس بات کی علامت ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں اب ایک حقیقی خطرہ بن چکی ہیں۔ یورپی ممالک میں درجہ حرارت 41 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ حکومتوں نے الرٹ جاری کر دیے ہیں، اور تعلیمی اداروں سے لے کر سیاحت کی صنعت تک، سبھی شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔
برطانیہ جیسے ممالک، جو عام طور پر ٹھنڈے موسم کے لیے مشہور ہیں، وہاں 35 ڈگری سے زائد درجہ حرارت نے نظام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
گرمی کی لہر کا نام اور کیفیت
میڈیا میں اکثر اس گرمی کی لہر کو ‘ہیٹ ویو’ کا نام دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ صرف ایک ہیٹ ویو نہیں ہے۔ اس کا خاص سبب ‘صحرا کی گرم ہوائیں’ ہیں، جو براہ راست افریقہ کے صحرائی علاقوں سے آ رہی ہیں۔ یہ ہوائیں اپنے ساتھ شدید گرمی اور خشکی لاتی ہیں، جو یورپی فضا کو غیر معمولی حد تک گرم کر دیتی ہیں۔
گرمی کا بنیادی سبب صحرائے صحارا سے چلنے والی گرم ہواؤں کا دباؤ ہے، جو یورپ کے موسمیاتی نظام کو مکمل طور پر تبدیل کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں درجہ حرارت کا معمول سے 5 سے 10 ڈگری زیادہ رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ ایشیا یا مشرق وسطیٰ کے ممالک کے برعکس، یورپی ممالک کے گھر اور عمارتیں ایسی شدید گرمیوں کو برداشت کرنے کے لیے نہیں بنائی گئیں۔
وہاں اکثر گھروں میں ایئر کنڈیشننگ کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے گرمی زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ یورپ میں گرمی کی لہر سے نمٹنے والا انتظامی اور حفاظتی نظام تب مفلوج ہو جاتا ہے جب درجہ حرارت حد سے بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
کیا یہ اوزون کی تہہ کے کمزور ہونے کی وجہ سے ہے؟
یورپ میں پہلی بار پڑنے والی اس گرمی کے بعد عالمی اخبارات اور ماحولیاتی ماہرین نے اسے اوزون کی تہہ کے کمزور ہونے سے جوڑنا شروع کر دیا ہے۔ اس پر دنیا کے مستند ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اوزون کی تہہ کا بنیادی کام سورج سے آنے والی نقصان دہ الٹرا وائلٹ شعاعوں کو روکنا ہے۔
اس کا کمزور ہونا جلد کے کینسر اور آنکھوں کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے، لیکن یہ براہ راست زمین کی فضا میں درجہ حرارت کو اتنا زیادہ نہیں بڑھاتا کہ ہیٹ ویو پیدا ہو۔ یورپ میں اس وقت جو گرمی ہے، اس کا سبب ‘گلوبل وارمنگ’ اور ‘موسمیاتی تبدیلی’ ہے، جو گرین ہاؤس گیسز، جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ، کی بڑھتی ہوئی مقدار سے پیدا ہوتی ہے۔ موسمیاتی سائنس میں اس کا کوئی خاص نام، جیسے طوفانوں کے نام ہوتے ہیں، نہیں رکھا گیا، لیکن سائنسی اصطلاح میں اسے ‘ہیٹ ویو’ ہی کہا جاتا ہے۔
کچھ میڈیا رپورٹس میں اسے ‘لوسیفر’ جیسے نام دیے جاتے ہیں، مگر یہ سائنسی نام نہیں بلکہ محض عوامی یا میڈیا کے دیے ہوئے نام ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں اب اسے ‘سونامی’ کا نام بھی دیا جا رہا ہے، مگر ایسا بالکل نہیں ہے۔ نہ ہی اس کا زلزلوں سے کوئی براہ راست یا بالواسطہ تعلق ہے۔ سونامی تو سمندری لہروں کا ایک طوفانی سلسلہ ہے جو زلزلے، آتش فشاں پھٹنے، یا سمندر کے اندرونی زمینی تبدیلیوں کے سبب پیدا ہوتا ہے، جبکہ یہ ماحولیاتی گرم ہوا کا ایک نظام ہے۔ ان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔
فرانس کی ایک خاص تاریخی ہیٹ ویو، غالباً 2019 یا 2022 کے حوالے سے، اس کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔ یورپ میں ایسی شدید ہیٹ ویو کے دوران ہزاروں لوگ ہلاک ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 2022 میں یورپ میں گرمی کی لہر کے سبب تقریباً 60 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں فرانس کا حصہ ہزاروں میں تھا۔ فصلوں کے جل جانے اور پیداوار میں 20 سے 40 فیصد تک کمی ہوئی۔
فرانس، اسپین اور پرتگال کے ہزاروں ایکڑ جنگلات میں آگ لگ گئی۔ درجہ حرارت بڑھنے کے سبب ایئر کنڈیشنرز کا استعمال بہت بڑھ گیا، جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں بجلی کا نظام ٹرپ کر گیا۔ اسپتالوں پر دباؤ حد سے بڑھ گیا، جس میں ڈی ہائیڈریشن، یعنی پانی کی کمی، اور دل کے دورے پڑنے کے کیسز سرفہرست تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 سے 2030 تک کا عرصہ تاریخ کے گرم ترین سالوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ عالمی درجہ حرارت کی حد، 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ، کو آگے چل کر بار بار پار کرنے کا امکان ہے، جس کا مطلب ہے کہ شدید گرمی اب کسی خاص وقت کی بات نہیں رہے گی۔
ماہرین کو سب سے زیادہ تشویش سمندروں کے گرم ہونے پر ہے۔ سمندر 90 فیصد سے زائد انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرمی کو جذب کرتے ہیں، جس کی وجہ سے سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے اور سمندری طوفانوں کی شدت بڑھ رہی ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے سے پانی کا چکر تیز ہو رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کہیں بہت زیادہ بارش اور سیلاب، تو کہیں شدید خشکی اور قحط کی صورتحال پیدا ہوگی۔
اس سے فصلوں کی تباہی اور پانی کی کمی کے سبب دنیا میں خوراک کا بحران پیدا ہو سکتا ہے، جس سے قیمتیں بڑھیں گی اور غریب ممالک زیادہ متاثر ہوں گے۔ لوگ اب ٹھنڈے علاقوں کی طرف ہجرت شروع کریں گے۔ بیماریاں بڑھیں گی۔ کئی جاندار اور سمندری مخلوق، جیسے کورل ریفس، اپنی رہائش کھو بیٹھیں گے، جس سے حیاتیاتی تنوع کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

‘ہیٹ ڈوم’ کیا ہے؟
‘ہیٹ ڈوم’ اس وقت دنیا کے میڈیا اور موسمیاتی سائنسدانوں کے لیے بحث کا مرکزی نقطہ ہے۔ یہ کوئی معمولی درجہ حرارت نہیں، بلکہ ایک خطرناک موسمیاتی نظام ہے۔ ہیٹ ڈوم تب پیدا ہوتا ہے جب ماحول کے بالائی حصوں میں ہائی پریشر کا ایک مضبوط نظام کسی خاص علاقے پر ٹھہر جاتا ہے۔
یہ ہائی پریشر سسٹم ایک ڈھکن کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ نچلی سطح پر موجود گرم ہوا کو اوپر اٹھنے نہیں دیتا۔ جب گرم ہوا اوپر نہیں اٹھ سکتی، تو وہ واپس زمین کی طرف دب جاتی ہے۔ جیسے جیسے ہوا دبتی ہے، اس کا درجہ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہیٹ ڈوم کے اندر گرمی ایک اوون کی طرح جمع ہو جاتی ہے۔
یہ سسٹم کمزور ہوا کے بہاؤ کی وجہ سے ایک جگہ جم جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ علاقہ دنوں یا ہفتوں تک اس شدید گرمی کے گھیرے میں رہتا ہے۔
اگر دنیا میں ہیٹ ڈوم کے واقعات بڑھتے رہے، تو اس کے اثرات صرف گرمی تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ یہ معاشی اور سماجی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیں گے۔ اس سے سڑکیں پگھل جائیں گی، ریل کی پٹڑیاں ٹیڑھی ہو جائیں گی، اور بجلی کا نظام مسلسل ٹرپ ہوتا رہے گا۔ ان ممالک میں اب ایئر کنڈیشننگ کا استعمال اتنا بڑھ جائے گا کہ ان ممالک کے پاور سسٹمز جواب دے جائیں گے۔ ہیٹ ڈوم زمین سے نمی کو سکھا دیتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پانی کے ذخائر، ڈیم اور تالاب، تیزی سے بخارات بن کر اڑ جاتے ہیں، جس سے پینے کے پانی کا سنگین بحران پیدا ہوتا ہے۔ زرعی فصلیں جل کر تباہ ہو جاتی ہیں۔ عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا ہے۔ اگر کچھ علاقے رہنے کے قابل نہ رہے، یعنی وہاں درجہ حرارت انسان کی برداشت سے باہر ہو گیا، تو لاکھوں لوگ مجبوری میں اپنے علاقے چھوڑ کر ٹھنڈے علاقوں کی طرف نقل مکانی کریں گے، جو ایک نیا عالمی سیاسی بحران ہوگا۔
خشک علاقوں میں آگ لگ جائے گی۔ ہزاروں ایکڑ رقبے پر پھیلے جنگلات جل کر خاکستر ہو جائیں گے۔
موسمیاتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہیٹ ڈوم جیسے واقعات اب اچانک نہیں بلکہ زیادہ شدت کے ساتھ ظاہر ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے زمین کے قدرتی کولنگ سسٹم کو اتنا خراب کر دیا ہے کہ زمین اب اپنے اندر پیدا ہونے والی گرمی کو باہر نکالنے میں مشکلات محسوس کر رہی ہے۔ دنیا کے بڑے ادارے اب ‘ہیٹ ریزیلینس’، یعنی گرمی سے نمٹنے کی صلاحیت، پر زور دے رہے ہیں۔
اس میں شہروں کے ڈیزائن کو تبدیل کرنا، زیادہ درخت لگانا، اور پائیدار توانائی کی طرف تیزی سے منتقلی شامل ہے۔ ہیٹ ڈوم صرف ایک گرم دن نہیں ہے، بلکہ زمین کی طرف سے دیا گیا ایک الرٹ ہے۔ اگر عالمی کاربن کے اخراج میں فوری کمی نہ آئی، تو آنے والی دہائیوں میں ایسے علاقے، جو آج خوشگوار ہیں، وہ بھی انسانی رہائش کے لیے خطرناک بن جائیں گے۔
ماحولیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ ہمارے پاس اب وقت کم ہے۔ تنقید اس بات پر ہے کہ دنیا ‘مطابقت پیدا کرنے’ پر بہت زور دے رہی ہے، مگر ‘جڑ کو ختم کرنے، یعنی کاربن کا اخراج روکنے’ پر عمل سست ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ فوسل فیول، یعنی کوئلہ، تیل اور گیس، کے استعمال کو مکمل طور پر ختم کر کے قابل تجدید توانائی، یعنی شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی، کی طرف منتقل ہوا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ، دنیا کے امیر ممالک کو ترقی پذیر ممالک کی مدد کرنی پڑے گی تاکہ وہ اس ماحولیاتی تباہی سے نمٹنے کے لیے اپنا انفراسٹرکچر مضبوط کر سکیں۔ ہیٹ ڈوم کا بار بار ظاہر ہونا قدرت کی طرف سے دی گئی آخری وارننگ ہے۔ اگر انسانیت نے اپنی صنعتی ترقی کو ماحول دوست نہ بنایا، تو اگلی نسلیں ہمیں ایک ایسی زمین ورثے میں پائیں گی جو انسان کی رہائش کے قابل نہیں ہوگی۔

