یورپ اس وقت اپنی جدید تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہروں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے، جہاں کئی ممالک میں درجہ حرارت 40 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ بلکہ بعض علاقوں میں اس سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ اس غیر معمولی گرمی نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے، جبکہ ابتدائی سرکاری رپورٹس کے مطابق متعدد ممالک میں اموات، ہزاروں افراد کے اسپتال پہنچنے اور بنیادی ڈھانچے پر دباؤ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
شدید گرمی کی یہ لہر مغربی یورپ سے وسطی یورپ تک پھیل چکی ہے۔ فرانس، اسپین، جرمنی، اٹلی، برطانیہ، پرتگال، پولینڈ، چیکیا، بیلجیم، نیدرلینڈز اور سوئٹزرلینڈ سمیت متعدد ممالک میں جون کے مہینے کے کئی دہائیوں پرانے درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔
فرانس میں حکومت نے ہیلتھ الرٹ جاری کر رکھا ہے، جہاں سینکڑوں اسکول عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ شدید گرمی، ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے باعث ہزاروں افراد اسپتالوں سے رجوع کر رہے ہیں، جبکہ بزرگ، بچے اور پہلے سے بیمار افراد کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔
اسپین میں متعدد مقامات پر درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ گیا، جس کے نتیجے میں جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی اور کئی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
جرمنی میں شدید گرمی نے ریلوے نظام کو بھی متاثر کیا، جہاں ٹرینوں کی رفتار حفاظتی اقدامات کے تحت محدود کر دی گئی، جبکہ اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
اٹلی نے اپنے کئی بڑے شہروں میں ریڈ الرٹ نافذ کر دیا ہے، جبکہ برطانیہ میں صحت کے اداروں نے شدید گرمی سے متعلق خصوصی وارننگ جاری کی ہے۔ دوسری جانب یورپ کے مختلف ممالک میں بجلی کی طلب بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے کیونکہ لاکھوں افراد نے غیر معمولی گرمی سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر ایئر کنڈیشنرز کا استعمال شروع کر دیا ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موجودہ ہیٹ ویو محض ایک عارضی موسمی واقعہ نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی واضح مثال ہے۔ ان کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث مستقبل میں ایسی شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ آنے کا امکان ہے۔
ماہرین 2003 کی یورپی ہیٹ ویو کی بھی یاد دلاتے ہیں، جس میں تقریباً 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2026 کی گرمی نے کئی ممالک میں جون کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یورپ تیزی سے بدلتے موسمی حالات کا سامنا کر رہا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں اور کاربن کے اخراج میں مؤثر کمی نہ لائی گئی تو صرف یورپ ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر خطے بھی مستقبل میں مزید شدید گرمی، پانی کی قلت، جنگلات میں آگ اور انسانی جانوں کے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ ہیٹ ویو پوری دنیا کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا بحران بن چکی ہے۔
اس وقت یورپ میں شدید گرمی نے تباہی مچا رکھی ہے، جس میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس گرمی نے یورپ میں گرمی کے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جس نے انسانی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین اور برطانیہ سمیت یورپ کے تمام ممالک اس تباہی کی زد میں ہیں۔
جون کے مہینے میں ایسی گرمی، جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی، اس بات کی علامت ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں اب ایک حقیقی خطرہ بن چکی ہیں۔ یورپی ممالک میں درجہ حرارت 41 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ حکومتوں نے الرٹ جاری کر دیے ہیں، اور تعلیمی اداروں سے لے کر سیاحت کی صنعت تک، سبھی شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔
برطانیہ جیسے ممالک، جو عام طور پر ٹھنڈے موسم کے لیے مشہور ہیں، وہاں 35 ڈگری سے زائد درجہ حرارت نے نظام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
گرمی کی لہر کا نام اور کیفیت
میڈیا میں اکثر اس گرمی کی لہر کو ‘ہیٹ ویو’ کا نام دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ صرف ایک ہیٹ ویو نہیں ہے۔ اس کا خاص سبب ‘صحرا کی گرم ہوائیں’ ہیں، جو براہ راست افریقہ کے صحرائی علاقوں سے آ رہی ہیں۔ یہ ہوائیں اپنے ساتھ شدید گرمی اور خشکی لاتی ہیں، جو یورپی فضا کو غیر معمولی حد تک گرم کر دیتی ہیں۔
گرمی کا بنیادی سبب صحرائے صحارا سے چلنے والی گرم ہواؤں کا دباؤ ہے، جو یورپ کے موسمیاتی نظام کو مکمل طور پر تبدیل کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں درجہ حرارت کا معمول سے 5 سے 10 ڈگری زیادہ رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ ایشیا یا مشرق وسطیٰ کے ممالک کے برعکس، یورپی ممالک کے گھر اور عمارتیں ایسی شدید گرمیوں کو برداشت کرنے کے لیے نہیں بنائی گئیں۔
وہاں اکثر گھروں میں ایئر کنڈیشننگ کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے گرمی زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ یورپ میں گرمی کی لہر سے نمٹنے والا انتظامی اور حفاظتی نظام تب مفلوج ہو جاتا ہے جب درجہ حرارت حد سے بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
کیا یہ اوزون کی تہہ کے کمزور ہونے کی وجہ سے ہے؟
یورپ میں پہلی بار پڑنے والی اس گرمی کے بعد عالمی اخبارات اور ماحولیاتی ماہرین نے اسے اوزون کی تہہ کے کمزور ہونے سے جوڑنا شروع کر دیا ہے۔ اس پر دنیا کے مستند ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اوزون کی تہہ کا بنیادی کام سورج سے آنے والی نقصان دہ الٹرا وائلٹ شعاعوں کو روکنا ہے۔
اس کا کمزور ہونا جلد کے کینسر اور آنکھوں کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے، لیکن یہ براہ راست زمین کی فضا میں درجہ حرارت کو اتنا زیادہ نہیں بڑھاتا کہ ہیٹ ویو پیدا ہو۔ یورپ میں اس وقت جو گرمی ہے، اس کا سبب ‘گلوبل وارمنگ’ اور ‘موسمیاتی تبدیلی’ ہے، جو گرین ہاؤس گیسز، جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ، کی بڑھتی ہوئی مقدار سے پیدا ہوتی ہے۔ موسمیاتی سائنس میں اس کا کوئی خاص نام، جیسے طوفانوں کے نام ہوتے ہیں، نہیں رکھا گیا، لیکن سائنسی اصطلاح میں اسے ‘ہیٹ ویو’ ہی کہا جاتا ہے۔
کچھ میڈیا رپورٹس میں اسے ‘لوسیفر’ جیسے نام دیے جاتے ہیں، مگر یہ سائنسی نام نہیں بلکہ محض عوامی یا میڈیا کے دیے ہوئے نام ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں اب اسے ‘سونامی’ کا نام بھی دیا جا رہا ہے، مگر ایسا بالکل نہیں ہے۔ نہ ہی اس کا زلزلوں سے کوئی براہ راست یا بالواسطہ تعلق ہے۔ سونامی تو سمندری لہروں کا ایک طوفانی سلسلہ ہے جو زلزلے، آتش فشاں پھٹنے، یا سمندر کے اندرونی زمینی تبدیلیوں کے سبب پیدا ہوتا ہے، جبکہ یہ ماحولیاتی گرم ہوا کا ایک نظام ہے۔ ان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔
فرانس کی ایک خاص تاریخی ہیٹ ویو، غالباً 2019 یا 2022 کے حوالے سے، اس کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔ یورپ میں ایسی شدید ہیٹ ویو کے دوران ہزاروں لوگ ہلاک ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 2022 میں یورپ میں گرمی کی لہر کے سبب تقریباً 60 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں فرانس کا حصہ ہزاروں میں تھا۔ فصلوں کے جل جانے اور پیداوار میں 20 سے 40 فیصد تک کمی ہوئی۔
فرانس، اسپین اور پرتگال کے ہزاروں ایکڑ جنگلات میں آگ لگ گئی۔ درجہ حرارت بڑھنے کے سبب ایئر کنڈیشنرز کا استعمال بہت بڑھ گیا، جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں بجلی کا نظام ٹرپ کر گیا۔ اسپتالوں پر دباؤ حد سے بڑھ گیا، جس میں ڈی ہائیڈریشن، یعنی پانی کی کمی، اور دل کے دورے پڑنے کے کیسز سرفہرست تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 سے 2030 تک کا عرصہ تاریخ کے گرم ترین سالوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ عالمی درجہ حرارت کی حد، 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ، کو آگے چل کر بار بار پار کرنے کا امکان ہے، جس کا مطلب ہے کہ شدید گرمی اب کسی خاص وقت کی بات نہیں رہے گی۔
ماہرین کو سب سے زیادہ تشویش سمندروں کے گرم ہونے پر ہے۔ سمندر 90 فیصد سے زائد انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرمی کو جذب کرتے ہیں، جس کی وجہ سے سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے اور سمندری طوفانوں کی شدت بڑھ رہی ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے سے پانی کا چکر تیز ہو رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کہیں بہت زیادہ بارش اور سیلاب، تو کہیں شدید خشکی اور قحط کی صورتحال پیدا ہوگی۔
اس سے فصلوں کی تباہی اور پانی کی کمی کے سبب دنیا میں خوراک کا بحران پیدا ہو سکتا ہے، جس سے قیمتیں بڑھیں گی اور غریب ممالک زیادہ متاثر ہوں گے۔ لوگ اب ٹھنڈے علاقوں کی طرف ہجرت شروع کریں گے۔ بیماریاں بڑھیں گی۔ کئی جاندار اور سمندری مخلوق، جیسے کورل ریفس، اپنی رہائش کھو بیٹھیں گے، جس سے حیاتیاتی تنوع کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
‘ہیٹ ڈوم’ کیا ہے؟
‘ہیٹ ڈوم’ اس وقت دنیا کے میڈیا اور موسمیاتی سائنسدانوں کے لیے بحث کا مرکزی نقطہ ہے۔ یہ کوئی معمولی درجہ حرارت نہیں، بلکہ ایک خطرناک موسمیاتی نظام ہے۔ ہیٹ ڈوم تب پیدا ہوتا ہے جب ماحول کے بالائی حصوں میں ہائی پریشر کا ایک مضبوط نظام کسی خاص علاقے پر ٹھہر جاتا ہے۔
یہ ہائی پریشر سسٹم ایک ڈھکن کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ نچلی سطح پر موجود گرم ہوا کو اوپر اٹھنے نہیں دیتا۔ جب گرم ہوا اوپر نہیں اٹھ سکتی، تو وہ واپس زمین کی طرف دب جاتی ہے۔ جیسے جیسے ہوا دبتی ہے، اس کا درجہ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہیٹ ڈوم کے اندر گرمی ایک اوون کی طرح جمع ہو جاتی ہے۔
یہ سسٹم کمزور ہوا کے بہاؤ کی وجہ سے ایک جگہ جم جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ علاقہ دنوں یا ہفتوں تک اس شدید گرمی کے گھیرے میں رہتا ہے۔
اگر دنیا میں ہیٹ ڈوم کے واقعات بڑھتے رہے، تو اس کے اثرات صرف گرمی تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ یہ معاشی اور سماجی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیں گے۔ اس سے سڑکیں پگھل جائیں گی، ریل کی پٹڑیاں ٹیڑھی ہو جائیں گی، اور بجلی کا نظام مسلسل ٹرپ ہوتا رہے گا۔ ان ممالک میں اب ایئر کنڈیشننگ کا استعمال اتنا بڑھ جائے گا کہ ان ممالک کے پاور سسٹمز جواب دے جائیں گے۔ ہیٹ ڈوم زمین سے نمی کو سکھا دیتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پانی کے ذخائر، ڈیم اور تالاب، تیزی سے بخارات بن کر اڑ جاتے ہیں، جس سے پینے کے پانی کا سنگین بحران پیدا ہوتا ہے۔ زرعی فصلیں جل کر تباہ ہو جاتی ہیں۔ عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا ہے۔ اگر کچھ علاقے رہنے کے قابل نہ رہے، یعنی وہاں درجہ حرارت انسان کی برداشت سے باہر ہو گیا، تو لاکھوں لوگ مجبوری میں اپنے علاقے چھوڑ کر ٹھنڈے علاقوں کی طرف نقل مکانی کریں گے، جو ایک نیا عالمی سیاسی بحران ہوگا۔
خشک علاقوں میں آگ لگ جائے گی۔ ہزاروں ایکڑ رقبے پر پھیلے جنگلات جل کر خاکستر ہو جائیں گے۔
موسمیاتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہیٹ ڈوم جیسے واقعات اب اچانک نہیں بلکہ زیادہ شدت کے ساتھ ظاہر ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے زمین کے قدرتی کولنگ سسٹم کو اتنا خراب کر دیا ہے کہ زمین اب اپنے اندر پیدا ہونے والی گرمی کو باہر نکالنے میں مشکلات محسوس کر رہی ہے۔ دنیا کے بڑے ادارے اب ‘ہیٹ ریزیلینس’، یعنی گرمی سے نمٹنے کی صلاحیت، پر زور دے رہے ہیں۔
اس میں شہروں کے ڈیزائن کو تبدیل کرنا، زیادہ درخت لگانا، اور پائیدار توانائی کی طرف تیزی سے منتقلی شامل ہے۔ ہیٹ ڈوم صرف ایک گرم دن نہیں ہے، بلکہ زمین کی طرف سے دیا گیا ایک الرٹ ہے۔ اگر عالمی کاربن کے اخراج میں فوری کمی نہ آئی، تو آنے والی دہائیوں میں ایسے علاقے، جو آج خوشگوار ہیں، وہ بھی انسانی رہائش کے لیے خطرناک بن جائیں گے۔
ماحولیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ ہمارے پاس اب وقت کم ہے۔ تنقید اس بات پر ہے کہ دنیا ‘مطابقت پیدا کرنے’ پر بہت زور دے رہی ہے، مگر ‘جڑ کو ختم کرنے، یعنی کاربن کا اخراج روکنے’ پر عمل سست ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ فوسل فیول، یعنی کوئلہ، تیل اور گیس، کے استعمال کو مکمل طور پر ختم کر کے قابل تجدید توانائی، یعنی شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی، کی طرف منتقل ہوا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ، دنیا کے امیر ممالک کو ترقی پذیر ممالک کی مدد کرنی پڑے گی تاکہ وہ اس ماحولیاتی تباہی سے نمٹنے کے لیے اپنا انفراسٹرکچر مضبوط کر سکیں۔ ہیٹ ڈوم کا بار بار ظاہر ہونا قدرت کی طرف سے دی گئی آخری وارننگ ہے۔ اگر انسانیت نے اپنی صنعتی ترقی کو ماحول دوست نہ بنایا، تو اگلی نسلیں ہمیں ایک ایسی زمین ورثے میں پائیں گی جو انسان کی رہائش کے قابل نہیں ہوگی۔
آج کل یورپ کے کئی ممالک شدید گرمی کا شکار ہیں۔ برطانیہ میں جمعرات کو جون کے مہینے کا اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 36۔7 سیٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ شدید گرمی کے باعث درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی، اسکول بند کرنا پڑے اور متعدد تاریخی و ثقافتی مقامات بھی عارضی طور پر عوام کے لیے بند کر دیے گئے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ بیس برسوں میں رات کے وقت ریکارڈ حد تک زیادہ درجہ حرارت بڑھنے کے امکانات سو گنا بڑھ چکے ہیں۔ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مغربی یورپ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی حالیہ ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی کا واضح نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق اگر عالمی حدت نہ بڑھتی تو اس شدت کی گرمی تقریباً ناممکن تھی۔
ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن (ڈبلیو ڈبلیو اے) نامی بین الاقوامی تحقیقی ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جس علاقے کا جائزہ لیا گیا، وہاں یہ اب تک کی سب سے شدید گرمی کی لہر ثابت ہوئی ہے۔ اس گرمی نے برطانیہ، فرانس، اسپین، اٹلی اور یورپ کے دیگر کئی ممالک کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی اس رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یورپ میں گرمی کی لہریں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران نہ صرف زیادہ بار آنے لگی ہیں بلکہ ان کی شدت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر جون 1976 جیسی گرمی کی لہر آج کے حالات میں نہ آتی تو اس وقت کے مقابلے میں موجودہ گرمی تقریباً ساڑھے تین ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم ہے۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ عالمی حدت نے موسم کے قدرتی نظام کو کس حد تک تبدیل کر دیا ہے۔
تحقیق کے دوران یورپ کے 800 سے زائد شہروں کا تجزیہ کیا گیا۔ ان میں سے تقریباً 45 فیصد شہروں میں جون کے آخری ہفتے کے دوران گرمی کے دباؤ کی بلند ترین سطح ریکارڈ کی گئی یا اس کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ گرمی کا دباؤ اس کیفیت کو کہا جاتا ہے جب انسانی جسم پسینہ خارج کرنے کے باوجود خود کو ٹھنڈا رکھنے میں ناکام رہتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، دل اور سانس کی بیماریوں سمیت دیگر طبی مسائل کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کی تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت گرمی کی لہروں کو زیادہ بار اور زیادہ شدید بنا رہی ہے۔ کوئلہ، تیل اور گیس جیسے ایندھن جلانے سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق زمین کا اوسط درجہ حرارت انیسویں صدی کے صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں اب تقریباً ایک اعشاریہ چار ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔
امپیریل کالج لندن سے وابستہ شدید موسمی حالات کی محقق اور اس رپورٹ کی شریک مصنفہ کلیئر بارنز نے کہا کہ دنیا اس وقت عالمی حدت کی رفتار کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ برسوں میں گرمی کے نئے ریکارڈ پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے ٹوٹتے رہیں گے اور شدید موسمی واقعات معمول بنتے جائیں گے۔
یورپ پہلے ہی دنیا کا وہ براعظم ہے جہاں درجہ حرارت سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس رجحان کے باعث مستقبل میں نہ صرف گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگا بلکہ جنگلات میں آگ، خشک سالی، پانی کی قلت اور زرعی پیداوار میں کمی جیسے مسائل بھی مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس گرمی کی لہر کے صحت پر مکمل اثرات ابھی سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔ تاہم سائنس دانوں نے یاد دلایا کہ 2022 کے موسم گرما میں یورپ میں آنے والی شدید گرمی کی مختلف لہروں کے نتیجے میں 60 ہزار
سے زائد افراد گرمی سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو اموات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں خاص طور پر رات کے وقت بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو تشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب رات کو بھی درجہ حرارت زیادہ رہے تو انسانی جسم دن بھر کی گرمی سے بحال نہیں ہو پاتا، جس سے بیماریوں اور اموات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ فرانس کے بعض علاقوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے رات کا درجہ حرارت مسلسل 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہا ہے، جسے ماہرین ‘استوائی رات’ قرار دیتے ہیں۔ بعض مقامات پر رات کے وقت کم سے کم درجہ حرارت بھی تقریباً 30 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو غیر معمولی صورتحال ہے۔
تحقیق میں ایک اور اہم بات یہ سامنے آئی کہ بحرالکاہل میں بننے والے ایل نینو موسمی نظام کا یورپ کی اس شدید گرمی میں کوئی نمایاں کردار نہیں تھا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس بار گرمی کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی ہے، نہ کہ قدرتی موسمی چکر۔
ماہرین نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری کمی، قابل تجدید توانائی کے فروغ، شہری علاقوں میں سبزہ بڑھانے اور گرمی سے نمٹنے کے مؤثر منصوبے بنانے پر توجہ دیں، کیونکہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں اس سے بھی زیادہ شدید اور جان لیوا گرمی کی لہریں دنیا کے مختلف حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔
کراچی کی سڑک۔ دوپہر کا وقت۔ تیز دھوپ اور گرم ہوا کے جھونکے۔ لوگ سایہ تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ منظر صرف کراچی تک محدود نہیں۔ گرمیوں کے دنوں میں پاکستان کے اکثر شہروں میں یہی صورتحال دکھائی دیتی ہے۔
تقریباً ہر سال ایک ہی سوال سننے کو ملتا ہے۔ کیا واقعی گرمی پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے؟ یا ہمیں صرف ایسا محسوس ہوتا ہے؟
ماہرین کے مطابق یہ صرف احساس نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ دنیا بھر میں زمین کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ اس عمل کو عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے۔
جب زمین کے گرد گرین ہاؤس گیسیں، جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین، زیادہ مقدار میں جمع ہو جاتی ہیں تو وہ سورج کی حرارت کو زمین کے قریب روک لیتی ہیں۔ یوں زمین کی فضا گرم ہونے لگتی ہے اور درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں درجہ حرارت عالمی اوسط سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یعنی جو تبدیلی دنیا کے دوسرے حصوں میں آہستہ آہستہ ہو رہی ہے، وہ پاکستان میں نسبتاً تیزی سے محسوس کی جا رہی ہے۔
لیکن مسئلہ صرف عالمی نہیں بلکہ مقامی بھی ہے۔
پاکستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے شہر، کنکریٹ کی بلند عمارتیں اور درختوں کی کمی بھی گرمی میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ ماہرین اس صورتحال کو اربن ہیٹ آئی لینڈ اثر کہتے ہیں۔
جب کسی شہر میں زیادہ کنکریٹ، اسفالٹ اور عمارتیں ہوں تو وہ دن بھر سورج کی حرارت جذب کر لیتے ہیں۔ پھر رات کے وقت یہ حرارت آہستہ آہستہ واپس فضا میں خارج ہوتی رہتی ہے۔ اسی وجہ سے بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں گرمی دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
بڑھتا ہوا درجہ حرارت صرف شہروں تک محدود مسئلہ نہیں۔ اس کے اثرات پاکستان کے قدرتی ماحول پر بھی پڑ رہے ہیں۔
ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑی سلسلوں میں موجود گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو اس سے دریاؤں کے بہاؤ، موسم کے توازن اور پانی کے نظام پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
گرمی میں اضافہ صرف موسم کی خبر نہیں بلکہ زندگی کے کئی شعبوں کو متاثر کرنے والا مسئلہ ہے۔ شدید ہیٹ ویوز انسانی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ زراعت متاثر ہو سکتی ہے۔ پانی کی طلب بڑھ سکتی ہے اور بجلی کی ضرورت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
یوں پاکستان میں بڑھتی گرمی صرف موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ زمین کے بدلتے ماحول، تیزی سے پھیلتے شہروں اور انسانی سرگرمیوں کا مجموعی نتیجہ ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے سمجھنا بھی ضروری ہے اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا بھی۔