[rank_math_breadcrumb]

پاکستان میں گرمی کیوں بڑھ رہی ہے؟ موسم کی بدلتی کہانی

کراچی کی سڑک۔ دوپہر کا وقت۔ تیز دھوپ اور گرم ہوا کے جھونکے۔ لوگ سایہ تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ منظر صرف کراچی تک محدود نہیں۔ گرمیوں کے دنوں میں پاکستان کے اکثر شہروں میں یہی صورتحال دکھائی دیتی ہے۔

تقریباً ہر سال ایک ہی سوال سننے کو ملتا ہے۔ کیا واقعی گرمی پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے؟ یا ہمیں صرف ایسا محسوس ہوتا ہے؟

ماہرین کے مطابق یہ صرف احساس نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ دنیا بھر میں زمین کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ اس عمل کو عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے۔

جب زمین کے گرد گرین ہاؤس گیسیں، جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین، زیادہ مقدار میں جمع ہو جاتی ہیں تو وہ سورج کی حرارت کو زمین کے قریب روک لیتی ہیں۔ یوں زمین کی فضا گرم ہونے لگتی ہے اور درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں درجہ حرارت عالمی اوسط سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یعنی جو تبدیلی دنیا کے دوسرے حصوں میں آہستہ آہستہ ہو رہی ہے، وہ پاکستان میں نسبتاً تیزی سے محسوس کی جا رہی ہے۔

لیکن مسئلہ صرف عالمی نہیں بلکہ مقامی بھی ہے۔

پاکستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے شہر، کنکریٹ کی بلند عمارتیں اور درختوں کی کمی بھی گرمی میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ ماہرین اس صورتحال کو اربن ہیٹ آئی لینڈ اثر کہتے ہیں۔

جب کسی شہر میں زیادہ کنکریٹ، اسفالٹ اور عمارتیں ہوں تو وہ دن بھر سورج کی حرارت جذب کر لیتے ہیں۔ پھر رات کے وقت یہ حرارت آہستہ آہستہ واپس فضا میں خارج ہوتی رہتی ہے۔ اسی وجہ سے بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں گرمی دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

بڑھتا ہوا درجہ حرارت صرف شہروں تک محدود مسئلہ نہیں۔ اس کے اثرات پاکستان کے قدرتی ماحول پر بھی پڑ رہے ہیں۔

ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑی سلسلوں میں موجود گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو اس سے دریاؤں کے بہاؤ، موسم کے توازن اور پانی کے نظام پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

گرمی میں اضافہ صرف موسم کی خبر نہیں بلکہ زندگی کے کئی شعبوں کو متاثر کرنے والا مسئلہ ہے۔ شدید ہیٹ ویوز انسانی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ زراعت متاثر ہو سکتی ہے۔ پانی کی طلب بڑھ سکتی ہے اور بجلی کی ضرورت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

یوں پاکستان میں بڑھتی گرمی صرف موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ زمین کے بدلتے ماحول، تیزی سے پھیلتے شہروں اور انسانی سرگرمیوں کا مجموعی نتیجہ ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے سمجھنا بھی ضروری ہے اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا بھی۔

اسی بارے میں: