یورپ میں شدید گرمی، ماحولیاتی تبدیلی نے رکارڈ توڑ دیے

آج کل یورپ کے کئی ممالک شدید گرمی کا شکار ہیں۔ برطانیہ میں جمعرات کو جون کے مہینے کا اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 36۔7 سیٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ شدید گرمی کے باعث درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی، اسکول بند کرنا پڑے اور متعدد تاریخی و ثقافتی مقامات بھی عارضی طور پر عوام کے لیے بند کر دیے گئے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ بیس برسوں میں رات کے وقت ریکارڈ حد تک زیادہ درجہ حرارت بڑھنے کے امکانات سو گنا بڑھ چکے ہیں۔ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مغربی یورپ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی حالیہ ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی کا واضح نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق اگر عالمی حدت نہ بڑھتی تو اس شدت کی گرمی تقریباً ناممکن تھی۔

ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن (ڈبلیو ڈبلیو اے) نامی بین الاقوامی تحقیقی ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جس علاقے کا جائزہ لیا گیا، وہاں یہ اب تک کی سب سے شدید گرمی کی لہر ثابت ہوئی ہے۔ اس گرمی نے برطانیہ، فرانس، اسپین، اٹلی اور یورپ کے دیگر کئی ممالک کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی اس رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یورپ میں گرمی کی لہریں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران نہ صرف زیادہ بار آنے لگی ہیں بلکہ ان کی شدت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر جون 1976 جیسی گرمی کی لہر آج کے حالات میں نہ آتی تو اس وقت کے مقابلے میں موجودہ گرمی تقریباً ساڑھے تین ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم ہے۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ عالمی حدت نے موسم کے قدرتی نظام کو کس حد تک تبدیل کر دیا ہے۔

تحقیق کے دوران یورپ کے 800 سے زائد شہروں کا تجزیہ کیا گیا۔ ان میں سے تقریباً 45 فیصد شہروں میں جون کے آخری ہفتے کے دوران گرمی کے دباؤ کی بلند ترین سطح ریکارڈ کی گئی یا اس کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ گرمی کا دباؤ اس کیفیت کو کہا جاتا ہے جب انسانی جسم پسینہ خارج کرنے کے باوجود خود کو ٹھنڈا رکھنے میں ناکام رہتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، دل اور سانس کی بیماریوں سمیت دیگر طبی مسائل کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کی تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت گرمی کی لہروں کو زیادہ بار اور زیادہ شدید بنا رہی ہے۔ کوئلہ، تیل اور گیس جیسے ایندھن جلانے سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق زمین کا اوسط درجہ حرارت انیسویں صدی کے صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں اب تقریباً ایک اعشاریہ چار ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔

امپیریل کالج لندن سے وابستہ شدید موسمی حالات کی محقق اور اس رپورٹ کی شریک مصنفہ کلیئر بارنز نے کہا کہ دنیا اس وقت عالمی حدت کی رفتار کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ برسوں میں گرمی کے نئے ریکارڈ پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے ٹوٹتے رہیں گے اور شدید موسمی واقعات معمول بنتے جائیں گے۔

یورپ پہلے ہی دنیا کا وہ براعظم ہے جہاں درجہ حرارت سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس رجحان کے باعث مستقبل میں نہ صرف گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگا بلکہ جنگلات میں آگ، خشک سالی، پانی کی قلت اور زرعی پیداوار میں کمی جیسے مسائل بھی مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس گرمی کی لہر کے صحت پر مکمل اثرات ابھی سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔ تاہم سائنس دانوں نے یاد دلایا کہ 2022 کے موسم گرما میں یورپ میں آنے والی شدید گرمی کی مختلف لہروں کے نتیجے میں 60 ہزار

سے زائد افراد گرمی سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو اموات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں خاص طور پر رات کے وقت بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو تشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب رات کو بھی درجہ حرارت زیادہ رہے تو انسانی جسم دن بھر کی گرمی سے بحال نہیں ہو پاتا، جس سے بیماریوں اور اموات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ فرانس کے بعض علاقوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے رات کا درجہ حرارت مسلسل 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہا ہے، جسے ماہرین ‘استوائی رات’ قرار دیتے ہیں۔ بعض مقامات پر رات کے وقت کم سے کم درجہ حرارت بھی تقریباً 30 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو غیر معمولی صورتحال ہے۔

تحقیق میں ایک اور اہم بات یہ سامنے آئی کہ بحرالکاہل میں بننے والے ایل نینو موسمی نظام کا یورپ کی اس شدید گرمی میں کوئی نمایاں کردار نہیں تھا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس بار گرمی کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی ہے، نہ کہ قدرتی موسمی چکر۔

ماہرین نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری کمی، قابل تجدید توانائی کے فروغ، شہری علاقوں میں سبزہ بڑھانے اور گرمی سے نمٹنے کے مؤثر منصوبے بنانے پر توجہ دیں، کیونکہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں اس سے بھی زیادہ شدید اور جان لیوا گرمی کی لہریں دنیا کے مختلف حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔

اسی بارے میں: