Tag: ماحولیات

  • جب سانس بوجھ بن جائے تو سبق کیسے یاد رہے

    جب سانس بوجھ بن جائے تو سبق کیسے یاد رہے

    صبح کے وقت شہر ابھی پوری طرح جاگا بھی نہیں ہوتا لیکن سڑکوں پر گاڑیوں کا شور بڑھنے لگتا ہے۔ فضا میں دھواں پھیلنے لگتا ہے اور کہیں کہیں کچرا جلنے کی بو بھی آتی ہے۔ انہی حالات میں ہزاروں بچے بستے اٹھائے اسکولوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سانس لینا ہی مشکل ہو تو سیکھنے کا عمل بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

    یہ مسئلہ اب صرف ماحولیات تک محدود نہیں رہا۔ اسے صحت اور تعلیم دونوں زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔

    کراچی کی فضا اور اعداد و شمار

    23 مئی 2026 کو شہر میں اے کیو آئی 134 ریکارڈ کیا گیا، جو صحت کے لیے خاصی نقصان دہ سطح سمجھی جاتی ہے۔ رواں برس مارچ میں اے کیو آئی 153 بھی ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق ایسی فضا میں مسلسل سانس لینا انسانی جسم پر نمایاں اثرات ڈال سکتا ہے۔ بچوں کے لیے اس کا درست موازنہ کرنا آسان نہیں، لیکن یہ طے ہے کہ ان کے لیے خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

    شہری امور کے ماہرین کے مطابق شہر میں فضائی آلودگی کا بڑا سبب ٹریفک ہے۔ اندازہ ہے کہ لگ بھگ ستر فیصد آلودگی گاڑیوں کے دھوئیں سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ صنعتی اخراج، کچرا جلانا، ڈیزل جنریٹر، تعمیراتی سرگرمیوں کی گرد اور ناقص ایندھن کا جلنا بھی فضا کو خراب کرتے ہیں۔

    پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سینٹر کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو کے مطابق باریک آلودہ ذرات ‘پی ایم 2 اعشاریہ 5’ بچوں کے نشوونما پاتے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا کر سانس کی دائمی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں، جبکہ خراب فضائی معیار توجہ اور تعلیمی کارکردگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک کا دھواں اور بیرونی سرگرمیاں بچوں کو زیادہ متاثر کرتی ہیں، اس لیے آلودگی والے دنوں میں اے کیو آئی کی نگرانی کی جائے اور این 95 ماسک کے بغیر غیر ضروری باہر جانے سے گریز کرنا چاہیے۔

    بچے زیادہ متاثر کیوں ہوتے ہیں؟

    ڈاکٹروں کے مطابق بچے بڑوں کی نسبت تیزی سے سانس لیتے ہیں، اس لیے وہ فضا میں موجود باریک ذرات زیادہ مقدار میں اپنے جسم میں جذب کر لیتے ہیں۔ یہ ذرات پھیپھڑوں کی نشوونما پر اثر ڈالتے ہیں اور بعض صورتوں میں توجہ اور یادداشت کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

    پیڈیاٹرک ماہر ڈاکٹر صائمہ کاشف کے مطابق بچپن وہ مرحلہ ہے جب سانس کا نظام تیزی سے بڑھ رہا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے دو تین برس میں بچوں میں الرجی اور سانس کے مسائل میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پہلے وائرل فلو سال میں چند بار ہوتا تھا، اب بعض بچوں میں یہ تعداد زیادہ ہو گئی ہے اور زیادہ تر کیس الرجی سے جڑے ہوتے ہیں۔ سانس کی بیماریاں اب صرف سردیوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ سال بھر سامنے آ رہی ہیں، خاص طور پر بڑے شہروں میں۔

    عام علامات

    متاثرہ بچوں میں ناک کی سوزش، مستقل نزلہ، ناک بند رہنے کے باعث منہ سے سانس لینا، نیند میں خلل، بار بار انفیکشن اور کھانسی جیسی علامات دیکھی جاتی ہیں۔ یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ بچہ مسلسل آلودہ فضا میں سانس لے رہا ہے۔

    ہمدرد یونیورسٹی سے وابستہ حکیم محمد انس شمسی کے مطابق صاف ہوا صحت مند زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس میں موجود نائٹروجن اور آکسیجن جسم کو نیوٹریشن پہنچانے کا اہم ذریعہ ہیں، لیکن اب یہی عناصر فضا میں مناسب یا مطلوبہ مقدار میں موجود نہ ہوں تو اس کا براہ راست اثر بڑھتے ہوئے بچوں کی مجموعی نشوونما پر پڑتا ہے۔ اس سے نہ صرف پھیپھڑے بلکہ پورے جسم کی نشوونما شدید متاثر ہوتی ہے۔ صبح کے وقت ماحول میں خنکی کی وجہ سے آلودگی کی سطح ویسے ہی بڑھی ہوئی ہوتی ہے، اور آلودہ ذرات زیادہ مقدار میں سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ پہلے بچوں میں سانس کے مسائل صرف سردیوں میں سامنے آتے تھے لیکن اب یہ سارا سال کا مسئلہ بن گئے ہیں۔

    دماغ اور سیکھنے کی صلاحیت

    مائنڈ سائنس کے ماہر آصف علی خان کے مطابق فضائی آلودگی کے باریک ذرات دماغ کے ان حصوں کو متاثر کر سکتے ہیں جو توجہ، یادداشت اور فیصلہ سازی سے متعلق ہیں۔ بعض مطالعات میں دماغی سوزش اور سیکھنے کی رفتار میں کمی کے شواہد ملے ہیں۔ ایسی صورت میں بچہ کلاس میں جلد تھک جاتا ہے اور اس کے لیے سبق پر توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔

    کلاس روم کی صورتحال

    شہر کے مختلف تعلیمی اداروں کے اساتذہ سے بات چیت میں یہ سامنے آیا کہ آلودگی زیادہ ہونے سے بچوں میں سر درد، تھکن اور گلے کی تکالیف بڑھ جاتی ہیں۔ اساتذہ کے مطابق ایسے دنوں میں غیر حاضری بھی بڑھتی ہے اور تعلیمی سرگرمیوں کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔

    بہادرآباد کے ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ محمد عارف کا کہنا ہے کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو طویل مدت میں تعلیمی معیار متاثر ہو سکتا ہے۔ کورنگی کی ایک استاد تابندہ سحر کے مطابق آلودگی کے دوران فلو اور سانس کے مسائل کی وجہ سے حاضری کم ہو جاتی ہے۔

    آلودگی کم کرنے کے اہم مشورے

    پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری زبیر احمد کی رائے میں فضائی آلودگی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ بچوں کی صحت اور تعلیم کے لیے ایک ‘تعلیمی ایمرجنسی’ بن چکی ہے۔ آلودہ فضا بچوں کی جسمانی نشوونما اور توجہ کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، اس لیے اسکول سطح پر فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

    ماہرین کے مطابق کلاس رومز میں پودے لگانے، اسکول کے اطراف گرین بیلٹ بنانے اور ہوا کے معیار ناپنے والے حساسات نصب کرنے سے فضا کی نگرانی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اساتذہ کو ایئر کوالٹی انڈیکس ‘اے کیو آئی’ سے متعلق تربیت دینا ضروری ہے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نجی گاڑیوں کا ہجوم مقامی آلودگی بڑھاتا ہے۔ کار پولنگ اور محفوظ جدید سہولیات سے لیس بس سروس اس مسئلے کا بہتر حل ہو سکتے ہیں۔

    عالمی تحقیق کیا کہتی ہے

    مختلف ملکوں میں ہونے والی تحقیق نے فضائی آلودگی اور تعلیمی کارکردگی کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی ہے۔ ایک بین الاقوامی جائزے میں اٹھائیس ممالک کے مطالعات کا تجزیہ کیا گیا، جس میں یہی رجحان سامنے آیا کہ زیادہ آلودگی والے علاقوں میں امتحانی نتائج نسبتاً کم رہے۔ امریکہ میں ہونے والے ایک بڑے مطالعے میں بھی یہی بات سامنے آئی کہ فضا میں موجود باریک ذرات میں اضافے کے ساتھ ریاضی اور انگریزی کے نمبروں میں کمی دیکھی گئی، اور کم عمر بچے زیادہ متاثر ہوئے۔

    محکمہ موسمیات کے محدود وسائل

    پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کے مطابق کراچی میں اس وقت فضائی آلودگی ناپنے کے آلات ‘ایئر کوالٹی میٹرنگ سینسرز’ موجود نہیں ہیں، اس لیے واضح صورتحال نہیں بتائی جا سکتی۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کے تناظر میں دیکھیں تو فضائی آلودگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

    ترجمان انجم نذیر ضیغم نے بتایا کہ سردیوں میں ہوا شمال مشرق کی جانب سے چلتی ہے، جبکہ گرمیوں میں جنوب مغربی ہوا سمندر سے خشکی کی جانب آتی ہے۔ سردیوں میں اے کیو آئی زیادہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ گرمیوں میں اس کا اثر نسبتاً کم محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی اب خطرہ بن گئی ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے تاکہ مسئلہ کم ہو سکے۔

    وجوہات اور چیلنجز

    پرانی گاڑیاں، صنعتی دھواں، کچرا ٹھکانے لگانے کا ناقص نظام، تعمیراتی گرد اور غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ اس مسئلے کو بڑھا رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر کچھ اقدامات ضرور کیے گئے ہیں، مگر مؤثر نگرانی اور عمل درآمد کے بغیر بہتری محدود رہی ہے۔

    والدین کا کردار

    ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ شدید آلودگی کے دنوں میں بچوں کو غیر ضروری طور پر باہر نہ بھیجا جائے، ماسک کے استعمال پر توجہ دی جائے اور سانس یا الرجی کی علامات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔

    آگے کیا ہونا چاہیے

    کچرا جلانے پر سخت پابندی، گاڑیوں کے دھوئیں کی باقاعدہ جانچ، اسکولوں کے اطراف ٹریفک کا بہتر انتظام، شجرکاری اور صاف توانائی کے فروغ جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ بعض تعلیمی ماہرین نصاب میں ماحولیاتی شعور کو عملی انداز میں شامل کرنے پر بھی زور دیتے ہیں۔

    صاف ہوا کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ بچوں کی صحت اور تعلیم دونوں کی بنیاد ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں بہتر سیکھ سکیں تو انہیں سانس لینے کے لیے بہتر فضا بھی دینا ہوگی۔

  • کیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس موسمیاتی تبدیلی کو بڑھا رہی ہے؟ اے آئی کی پوشیدہ ماحولیاتی قیمت

    کیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس موسمیاتی تبدیلی کو بڑھا رہی ہے؟ اے آئی کی پوشیدہ ماحولیاتی قیمت

    دنیا تیزی سے ایک نئی ڈیجیٹل حقیقت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سرچ انجنز، سوشل میڈیا کی تجاویز، چیٹ بوٹس، تصویری تخلیق، آواز کی نقل اور خودکار نظام، یہ سب اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے چل رہے ہیں۔ OpenAI، Google اور Microsoft جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس انقلاب کی قیادت کر رہی ہیں۔

    لیکن اس تیز رفتار ترقی کے درمیان ایک اہم سوال اب زیادہ سنجیدگی سے پوچھا جا رہا ہے۔ کیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس موسمیاتی تبدیلی میں اضافہ کر رہی ہے؟

    ٹیکنالوجی جتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، اتنی ہی تیزی سے اس کی توانائی کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔ اے آئی کے پیچھے موجود انفراسٹرکچر عام آنکھ کو نظر نہیں آتا، مگر اس کے ماحولیاتی اثرات حقیقت میں موجود ہیں۔

    آرٹیفیشل انٹیلیجنس دراصل بہت بڑے ڈیٹا اور پیچیدہ ریاضیاتی ماڈلز پر مبنی ہوتی ہے۔ جب کسی بڑے اے آئی ماڈل کو تیار کیا جاتا ہے تو اسے اربوں یا کھربوں ڈیٹا پوائنٹس پر تربیت دی جاتی ہے۔ اس عمل کو ٹریننگ کہا جاتا ہے۔ یہ تربیت عام کمپیوٹر پر نہیں ہوتی بلکہ انتہائی طاقتور سرورز اور جی پی یوز پر ہوتی ہے جو کئی ہفتوں یا مہینوں تک مسلسل چلتے رہتے ہیں۔

    جتنی زیادہ طاقتور مشینیں ہوں اور جتنا زیادہ وقت وہ کام کریں، اتنی ہی زیادہ بجلی خرچ ہوتی ہے۔ جدید اے آئی ماڈلز کی تیاری کے لیے ہزاروں سرورز بیک وقت کام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نئی نسل کا اے آئی ماڈل پچھلے سے بڑا اور زیادہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی کمپنیاں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں زیادہ طاقتور نظام تیار کر رہی ہیں۔ اس دوڑ کا مطلب ہے زیادہ کمپیوٹنگ پاور اور زیادہ توانائی کا استعمال۔

    آرٹیفیشل انٹیلیجنس کسی خیالی بادل میں نہیں چلتی بلکہ حقیقی ڈیٹا سینٹرز میں کام کرتی ہے۔ یہ ڈیٹا سینٹرز دراصل بڑے گوداموں یا اسٹیڈیم جیسے مراکز ہوتے ہیں جہاں ہزاروں سرورز نصب ہوتے ہیں۔ ان سرورز کو چلانے کے لیے مسلسل بجلی درکار ہوتی ہے اور انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے اضافی توانائی خرچ کی جاتی ہے۔

    اگر یہ بجلی کوئلے یا گیس جیسے فوسل فیول سے پیدا کی جا رہی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس بالواسطہ طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں بھی حصہ ڈال رہی ہے۔ اگرچہ کچھ کمپنیاں قابل تجدید توانائی کے استعمال کا دعویٰ کرتی ہیں، لیکن دنیا کے کئی خطوں میں بجلی کا نظام اب بھی فوسل فیول پر انحصار کرتا ہے۔ اسی لیے ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد مستقبل میں توانائی کی طلب کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

    اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف اے آئی ماڈل کی تربیت میں زیادہ بجلی استعمال ہوتی ہے۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ روزمرہ استعمال بھی توانائی کی کھپت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب کوئی صارف اے آئی چیٹ بوٹ سے سوال پوچھتا ہے، تصویر بنواتا ہے یا آواز تیار کرواتا ہے تو کہیں نہ کہیں سرورز متحرک ہو جاتے ہیں۔

    ایک درخواست شاید بہت کم توانائی استعمال کرے، لیکن جب روزانہ کروڑوں لوگ یہ خدمات استعمال کرتے ہیں تو مجموعی توانائی کی کھپت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ جیسے جیسے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سرچ انجنز، موبائل ایپس، بینکنگ سسٹمز اور سمارٹ ڈیوائسز میں شامل ہو رہی ہے، ویسے ویسے اس کے پیچھے چلنے والے سرورز کی توانائی کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔

    ماحولیاتی دباؤ صرف بجلی تک محدود نہیں رہتا۔ ڈیٹا سینٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بڑی مقدار میں پانی بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ بڑے مراکز سالانہ لاکھوں لیٹر پانی صرف کولنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر ایسے مراکز خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں قائم ہوں تو یہ مسئلہ مزید حساس ہو جاتا ہے کیونکہ مقامی کمیونٹیز کو بھی انہی پانی کے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔

    اسی لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا ماحولیاتی اثر صرف کاربن اخراج تک محدود نہیں بلکہ پانی کے وسائل اور زمینی انفراسٹرکچر پر بھی دباؤ ڈالتا ہے۔

    لیکن تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو موسمیاتی مسائل کے حل کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ اے آئی ماڈلز قابل تجدید توانائی کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں، موسمی پیش گوئی کو زیادہ درست بناتے ہیں، ٹریفک مینجمنٹ کے ذریعے ایندھن کی بچت کرتے ہیں اور زرعی نظام کو زیادہ مؤثر بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس نہ صرف مسئلہ بن سکتی ہے بلکہ حل کا حصہ بھی بن سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں اور اسے کس توانائی کے ذریعے چلاتے ہیں۔

    اسی سوچ کے تحت دنیا بھر میں محققین اور ٹیکنالوجی کمپنیاں "گرین اے آئی” کے تصور پر کام کر رہی ہیں۔ اس کا مقصد ایسے ماڈلز تیار کرنا ہے جو کم توانائی استعمال کریں، زیادہ مؤثر ہوں اور اپنی کاربن فٹ پرنٹ کے بارے میں شفاف معلومات فراہم کریں۔ نئے ہارڈویئر چپس بھی تیار کیے جا رہے ہیں جو کم بجلی میں زیادہ کارکردگی دیتے ہیں۔ کچھ بڑی کمپنیاں اپنے ڈیٹا سینٹرز کو مکمل طور پر قابل تجدید توانائی پر منتقل کرنے کے اہداف بھی مقرر کر چکی ہیں۔

    تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی تیز رفتار توسیع کے ساتھ ہم آہنگ رہ سکیں گے۔

    آرٹیفیشل انٹیلیجنس معیشت، صنعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے۔ لیکن ہر نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ اگر اس کی ترقی ماحول کی قیمت پر ہو گی تو طویل مدت میں اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔

    اسی لیے حکومتوں، کمپنیوں اور صارفین کو مل کر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی ترقی پائیدار ہو۔ صاف توانائی میں سرمایہ کاری، مؤثر ماڈلز کی تیاری اور شفاف پالیسی سازی اس سمت میں اہم اقدامات ثابت ہو سکتے ہیں۔

    آرٹیفیشل انٹیلیجنس نہ مکمل طور پر مسئلہ ہے اور نہ مکمل طور پر حل۔ اس کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اسے کس سمت لے جاتے ہیں۔ ہر بار جب ہم کسی اے آئی نظام سے سوال پوچھتے ہیں تو کہیں نہ کہیں سرورز حرکت میں آ جاتے ہیں اور توانائی استعمال ہوتی ہے۔

    ٹیکنالوجی کا مستقبل صرف ذہانت پر نہیں بلکہ پائیداری پر بھی منحصر ہے۔ اگر ہم آج ذمہ دارانہ فیصلے کریں تو آرٹیفیشل انٹیلیجنس موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک طاقتور ہتھیار بن سکتی ہے۔ لیکن اگر اس کے ماحولیاتی اثرات کو نظر انداز کیا گیا تو یہی ٹیکنالوجی ایک نئے چیلنج کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

    آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے۔ کیا ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو ماحول دوست بنا سکیں گے، یا یہ خاموشی سے ہمارے سیارے پر بوجھ بڑھاتی رہے گی؟