Tag: ماحولیات

  • پاکستان اکنامک سروے: ماحول دوست بجلی پہلی بار 53 فیصد سے زائد، مگر تا حال تیل اور گیس پر درآمدی انحصار برقرار

    پاکستان اکنامک سروے: ماحول دوست بجلی پہلی بار 53 فیصد سے زائد، مگر تا حال تیل اور گیس پر درآمدی انحصار برقرار

    پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک کا توانائی کا شعبہ ایک بڑی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف بجلی کی پیداوار میں پن بجلی، ایٹمی توانائی اور قابل تجدید ذرائع کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے، وہیں دوسری جانب تیل اور قدرتی گیس کی درآمدات پر انحصار بدستور ملکی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ-ایران کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد غیر یقینی صورتحال نے پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے خطرات مزید بڑھا دیے ہیں۔

    سالانہ بجیٹ سے ایک دن پہلے، یعنی 11 جون کو جاری کیے گئے اقتصادی سروے کے مطابق مارچ 2026 تک پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 49 ہزار 651 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.5 فیصد زیادہ ہے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے نصب ہونے والے سات ہزار 319 میگاواٹ شمسی توانائی کے نظام ہیں۔ تاہم اسی عرصے میں 13 نجی بجلی گھروں کو بھی بند کر دیا گیا جن کی مجموعی صلاحیت 5 ہزار 105 میگاواٹ تھی۔

    حکومت پاکیستان کی رپورٹ کے مطابق ملک کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں پہلی بار پن بجلی، ایٹمی توانائی اور قابل تجدید ذرائع کا مشترکہ حصہ 50.8 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ حرارتی بجلی گھروں کا حصہ کم ہو کر 49.2 فیصد رہ گیا۔ جولائی سے مارچ 2025-26 کے دوران مجموعی طور پر 92 ہزار 835 گیگا واٹ آور بجلی پیدا ہوئی، جس میں 53.1 فیصد بجلی انہی نسبتاً صاف ذرائع سے حاصل کی گئی۔ حکومت نے اسے ماحول دوست اور مقامی وسائل پر مبنی توانائی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ بجلی استعمال کرنے کے انداز میں بھی نمایاں تبدیلی سامنے آئی ہے۔ گھریلو شعبہ اب بھی سب سے بڑا صارف ہے، لیکن اس کا حصہ کم ہو کر 47.5 فیصد رہ گیا ہے۔ سروے کے مطابق بجلی کے نرخ بڑھنے کے بعد بہت سے صارفین نے شمسی توانائی سمیت متبادل ذرائع اختیار کیے یا بجلی کے استعمال میں احتیاط برتی۔ اس کے برعکس صنعتی شعبے میں بجلی کا استعمال 26 ہزار 205 گیگا واٹ آور تک پہنچ گیا، جس سے اس کا حصہ بڑھ کر 31.5 فیصد ہو گیا۔ اسے صنعتی سرگرمیوں میں بہتری کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

    زرعی شعبے میں بجلی کا استعمال سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں کھپت میں 42 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس کی وجوہات میں بارشوں کے بدلتے رجحانات، آبپاشی کے طریقوں میں تبدیلی اور شمسی توانائی یا ڈیزل سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کی طرف منتقلی شامل ہو سکتی ہے۔

    اقتصادی سروے کے مطابق حکومت بجلی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) کے ذریعے اب تک 102 نجی بجلی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، جن کی مجموعی صلاحیت تقریباً 25 ہزار 874 میگاواٹ ہے اور ان میں 35 ارب ڈالر سے زائد کی غیر ملکی سرمایہ کاری آئی۔ ان میں سے 60 منصوبے پن بجلی، ہوا، شمسی اور بگاس سے بجلی پیدا کرتے ہیں۔ آئندہ برسوں میں زیر غور 19 نئے منصوبوں میں سے تقریباً 84 فیصد قابل تجدید توانائی پر مبنی ہوں گے، جن میں زیادہ تر پن بجلی کے منصوبے شامل ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ کے شمسی منصوبے، گوادر میں 40 میگاواٹ بجلی منصوبے، صحت کے تقریباً 400 مراکز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور گوادر کے پانی کے منصوبوں کو شمسی توانائی اور بیٹری ذخیرہ نظام سے چلانے پر بھی کام کر رہی ہے۔ اس منصوبے سے سالانہ تقریباً 98 کروڑ 70 لاکھ روپے کی بچت متوقع

    ہے۔ حکومت نیٹ میٹرنگ کے موجودہ نظام کو تبدیل کرکے نیٹ بلنگ متعارف کرانے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ شمسی توانائی کے نظام کو زیادہ متوازن انداز میں چلایا جا سکے۔

    تھر کا کوئلہ بھی حکومت کی توانائی حکمت عملی کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔ سروے کے مطابق پاکستان کے پاس تقریباً 175 ارب ٹن تھر کوئلے کے ذخائر موجود ہیں، جنہیں کئی دہائیوں تک بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت تھر کے پانچ منصوبے تین ہزار 300 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کر رہے ہیں جبکہ درآمدی کوئلے سے چلنے والے بڑے بجلی گھروں کو بھی مرحلہ وار تھر کے کوئلے پر منتقل کرنے کی کوشش جاری ہے۔

    ایٹمی توانائی کے شعبے میں پاکستان کے چھ بجلی گھر مجموعی طور پر تین ہزار 530 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ بجلی گھر سالانہ ایک کروڑ 60 لاکھ سے 1 کروڑ 80 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مطابق چشمہ اور کراچی کے ایٹمی بجلی گھروں نے حفاظتی کارکردگی کے لحاظ سے ملک کی 149 بجلی کمپنیوں میں پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔ چشمہ میں ایک نئے 12 سو میگاواٹ کے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر بھی جاری ہے، جس سے 2030 تک بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔

    دوسری جانب تیل کا شعبہ اب بھی پاکستان کے لیے بڑا معاشی بوجھ بنا ہوا ہے۔ جولائی سے مارچ 2025-26 کے دوران ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی کھپت 3.5 فیصد بڑھ کر 13.64 ملین میٹرک ٹن ہو گئی۔ ٹرانسپورٹ کا شعبہ مجموعی کھپت کا 82.5 فیصد استعمال کر رہا ہے، جبکہ صنعتی، زرعی اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں تیل کا استعمال نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ سروے کے مطابق بجلی کی پیداوار میں فرنس آئل کا استعمال کم ہونے کی وجہ پن بجلی، ایٹمی توانائی اور تھر کوئلے کا بڑھتا ہوا کردار ہے۔

    اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان نے نو ماہ کے دوران 13.88 ملین میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد زیادہ ہیں۔ ان درآمدات پر تقریباً 8.9 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ خام تیل کی درآمدات میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی معیشت اب بھی بیرونی ایندھن پر انحصار کرتی ہے۔

    قدرتی گیس کے شعبے میں بھی صورتحال زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق مقامی گیس کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس کے باعث پاکستان کو درآمدی ایل این جی پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک میں روزانہ اوسطاً 2 ہزار 929 ملین مکعب فٹ گیس استعمال کی گئی، جس میں 613 ملین مکعب فٹ درآمدی ایل این جی شامل تھی۔ حکومت نے گیس کی ترسیل بہتر بنانے کے لیے اگلے مالی سال میں تقریباً 103 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔

    کوئلے کی مجموعی کھپت میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ جولائی سے مارچ کے دوران ملک میں دو کروڑ 14 لاکھ ٹن سے زائد کوئلہ استعمال ہوا، جس میں تقریباً 60 فیصد بجلی پیدا کرنے، 21 فیصد اینٹوں کے بھٹوں اور تقریباً 20 فیصد سیمنٹ سمیت دیگر صنعتوں نے استعمال کیا۔

    اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا توانائی کا شعبہ بتدریج مہنگے درآمدی ایندھن سے نکل کر پن بجلی، ایٹمی توانائی، شمسی اور دیگر قابل تجدید ذرائع کی طرف بڑھ رہا ہے۔ تاہم تیل اور گیس کی درآمدات، عالمی منڈی میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ اور مقامی گیس کے کم ہوتے ذخائر اب بھی ایسے بنیادی مسائل ہیں جن پر قابو پانا ملکی معیشت کے لیے ناگزیر ہوگا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ آئندہ برسوں میں توانائی کے منصوبوں کا مرکز مقامی، کم لاگت اور ماحول دوست ذرائع ہوں گے تاکہ بجلی سستی، پائیدار اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔

  • بہاول نگر کینال ایک نہر جو صرف کھیت نہیں، لال سہانرا نیشنل پارک کے پورے ماحولیاتی نظام کو زندگی دیتا ہے

    بہاول نگر کینال ایک نہر جو صرف کھیت نہیں، لال سہانرا نیشنل پارک کے پورے ماحولیاتی نظام کو زندگی دیتا ہے

    پنجاب کے ضلع بہاول نگر میں دریائے ستلج پر واقع اسلام ہیڈورکس پاکستان کے اہم آبی ڈھانچوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس ہیڈورکس کی تعمیر برطانوی دور میں مکمل ہوئی اور اسے 1927 میں فعال کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد دریائے ستلج کے پانی کو منظم کرنا اور نہری نظام کے ذریعے جنوبی پنجاب کے وسیع زرعی علاقوں تک پہنچانا تھا۔

    اسلام ہیڈورکس دریائے ستلج کے پانی کی تقسیم اور بہاؤ کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہاں سے بہاول کینال سمیت متعدد نہریں نکلتی ہیں، جو بہاول نگر، بہاولپور اور ملحقہ علاقوں کی لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کو سیراب کرتی ہیں۔ کپاس، گندم، گنا، چاول اور دیگر فصلوں کی پیداوار بڑی حد تک اسی نہری نظام پر انحصار کرتی ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ اسلام ہیڈورکس صرف زراعت ہی کے لیے اہم نہیں بلکہ ایک منفرد قدرتی ماحولیاتی نظام کی بقا سے بھی براہ راست جڑا ہوا ہے۔ اسی نہری نظام کے ذریعے فراہم ہونے والا پانی پاکستان کے نمایاں محفوظ قدرتی علاقوں میں شامل لال سہانرا نیشنل پارک کے مختلف حصوں کو زندگی بخشتا ہے۔

    بہاولپور کے قریب چولستان کے کنارے واقع لال سہانرا نیشنل پارک 1972 میں قائم کیا گیا تھا، جبکہ 1977 میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے اسے اپنے ‘مین اینڈ بایوسفیئر پروگرام’ کے تحت بایوسفیئر ریزرو قرار دیا۔ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے ابتدائی محفوظ قدرتی علاقوں میں سے ایک ہے۔

    لال سہانرا نیشنل پارک کی سب سے منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہاں تین مختلف قدرتی ماحولیاتی نظام ایک ہی جگہ موجود ہیں۔ پارک میں صحرائی علاقے، قدرتی جنگلات اور میٹھے پانی پر مشتمل آبی ماحول ایک دوسرے کے ساتھ قائم ہیں۔ دنیا میں ایسے مقامات بہت کم ہیں جہاں یہ تینوں قدرتی نظام ایک ہی محفوظ علاقے میں یکجا نظر آتے ہوں۔

    یہ بھی ایک کم معروف حقیقت ہے کہ پارک کے اندر موجود کئی مصنوعی جھیلیں، آبی ذخائر اور جنگلات نہری پانی کی بدولت برقرار رہتے ہیں۔ اگر نہری پانی کی فراہمی متاثر ہو جائے تو نہ صرف ان آبی ذخائر کی سطح کم ہو سکتی ہے بلکہ جنگلات، گھاس کے میدان اور ان پر انحصار کرنے والی جنگلی حیات بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

    لال سہانرا نیشنل پارک پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کا بھی ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں چنکارا، نیل گائے، صحرائی لومڑی، جنگلی سور، سیاہ تیتر، مور اور مقامی و مہاجر پرندوں کی متعدد اقسام پائی جاتی ہیں۔ یہ پارک پاکستان میں بلیک بک یا کالے ہرن کے تحفظ اور افزائش کے کامیاب منصوبوں کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے، جہاں افزائش نسل کے بعد کئی جانور مختلف محفوظ علاقوں میں منتقل کیے گئے۔

    ماہرین کے مطابق نہری پانی صرف فصلوں کی پیداوار کے لیے ضروری نہیں بلکہ یہ زیر زمین پانی کے ذخائر کو برقرار رکھنے، مقامی آب و ہوا پر مثبت اثر ڈالنے اور جنگلات و آبی حیات کی بقا میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا آبپاشی نظام زرعی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ کئی قدرتی ماحولیاتی نظاموں کی زندگی سے بھی وابستہ ہے۔

    پاکستان کا نہری نظام دنیا کے بڑے مربوط آبپاشی نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جہاں دریاؤں، بیراجوں، ہیڈورکس اور ہزاروں کلومیٹر طویل نہروں کے ذریعے پانی دور دراز زرعی علاقوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اسلام ہیڈورکس اسی وسیع نظام کی ایک اہم کڑی ہے، جو نہ صرف لاکھوں افراد کے روزگار بلکہ قدرتی ماحول کے تحفظ میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

    اسلام ہیڈورکس، بہاول کینال اور لال سہانرا نیشنل پارک کی یہ کہانی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ بعض اوقات ایک نہر صرف پانی نہیں بہاتی بلکہ زراعت، جنگلات، جنگلی حیات اور پورے ماحولیاتی نظام کو زندگی فراہم کرتی ہے۔

    ‘ساگا ڈیجیٹل’ پاکستان کا پہلا اے آئی پاورڈ ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ہے، جہاں ہم آپ تک تحقیق پر مبنی، مستند اور منفرد کہانیاں پہنچاتے ہیں۔ اگر آپ کو ہماری یہ رپورٹ پسند آئی ہو تو ‘ساگا ڈیجیٹل’ کو ضرور فالو کریں۔

  • یورپ میں شدید گرمی، ماحولیاتی تبدیلی نے رکارڈ توڑ دیے

    یورپ میں شدید گرمی، ماحولیاتی تبدیلی نے رکارڈ توڑ دیے

    آج کل یورپ کے کئی ممالک شدید گرمی کا شکار ہیں۔ برطانیہ میں جمعرات کو جون کے مہینے کا اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 36۔7 سیٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ شدید گرمی کے باعث درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی، اسکول بند کرنا پڑے اور متعدد تاریخی و ثقافتی مقامات بھی عارضی طور پر عوام کے لیے بند کر دیے گئے۔

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ بیس برسوں میں رات کے وقت ریکارڈ حد تک زیادہ درجہ حرارت بڑھنے کے امکانات سو گنا بڑھ چکے ہیں۔ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مغربی یورپ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی حالیہ ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی کا واضح نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق اگر عالمی حدت نہ بڑھتی تو اس شدت کی گرمی تقریباً ناممکن تھی۔

    ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن (ڈبلیو ڈبلیو اے) نامی بین الاقوامی تحقیقی ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جس علاقے کا جائزہ لیا گیا، وہاں یہ اب تک کی سب سے شدید گرمی کی لہر ثابت ہوئی ہے۔ اس گرمی نے برطانیہ، فرانس، اسپین، اٹلی اور یورپ کے دیگر کئی ممالک کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی اس رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یورپ میں گرمی کی لہریں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران نہ صرف زیادہ بار آنے لگی ہیں بلکہ ان کی شدت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر جون 1976 جیسی گرمی کی لہر آج کے حالات میں نہ آتی تو اس وقت کے مقابلے میں موجودہ گرمی تقریباً ساڑھے تین ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم ہے۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ عالمی حدت نے موسم کے قدرتی نظام کو کس حد تک تبدیل کر دیا ہے۔

    تحقیق کے دوران یورپ کے 800 سے زائد شہروں کا تجزیہ کیا گیا۔ ان میں سے تقریباً 45 فیصد شہروں میں جون کے آخری ہفتے کے دوران گرمی کے دباؤ کی بلند ترین سطح ریکارڈ کی گئی یا اس کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ گرمی کا دباؤ اس کیفیت کو کہا جاتا ہے جب انسانی جسم پسینہ خارج کرنے کے باوجود خود کو ٹھنڈا رکھنے میں ناکام رہتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، دل اور سانس کی بیماریوں سمیت دیگر طبی مسائل کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کی تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت گرمی کی لہروں کو زیادہ بار اور زیادہ شدید بنا رہی ہے۔ کوئلہ، تیل اور گیس جیسے ایندھن جلانے سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق زمین کا اوسط درجہ حرارت انیسویں صدی کے صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں اب تقریباً ایک اعشاریہ چار ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔

    امپیریل کالج لندن سے وابستہ شدید موسمی حالات کی محقق اور اس رپورٹ کی شریک مصنفہ کلیئر بارنز نے کہا کہ دنیا اس وقت عالمی حدت کی رفتار کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ برسوں میں گرمی کے نئے ریکارڈ پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے ٹوٹتے رہیں گے اور شدید موسمی واقعات معمول بنتے جائیں گے۔

    یورپ پہلے ہی دنیا کا وہ براعظم ہے جہاں درجہ حرارت سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس رجحان کے باعث مستقبل میں نہ صرف گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگا بلکہ جنگلات میں آگ، خشک سالی، پانی کی قلت اور زرعی پیداوار میں کمی جیسے مسائل بھی مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

    ڈبلیو ڈبلیو اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس گرمی کی لہر کے صحت پر مکمل اثرات ابھی سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔ تاہم سائنس دانوں نے یاد دلایا کہ 2022 کے موسم گرما میں یورپ میں آنے والی شدید گرمی کی مختلف لہروں کے نتیجے میں 60 ہزار

    سے زائد افراد گرمی سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو اموات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    رپورٹ میں خاص طور پر رات کے وقت بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو تشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب رات کو بھی درجہ حرارت زیادہ رہے تو انسانی جسم دن بھر کی گرمی سے بحال نہیں ہو پاتا، جس سے بیماریوں اور اموات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ فرانس کے بعض علاقوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے رات کا درجہ حرارت مسلسل 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہا ہے، جسے ماہرین ‘استوائی رات’ قرار دیتے ہیں۔ بعض مقامات پر رات کے وقت کم سے کم درجہ حرارت بھی تقریباً 30 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو غیر معمولی صورتحال ہے۔

    تحقیق میں ایک اور اہم بات یہ سامنے آئی کہ بحرالکاہل میں بننے والے ایل نینو موسمی نظام کا یورپ کی اس شدید گرمی میں کوئی نمایاں کردار نہیں تھا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس بار گرمی کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی ہے، نہ کہ قدرتی موسمی چکر۔

    ماہرین نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری کمی، قابل تجدید توانائی کے فروغ، شہری علاقوں میں سبزہ بڑھانے اور گرمی سے نمٹنے کے مؤثر منصوبے بنانے پر توجہ دیں، کیونکہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں اس سے بھی زیادہ شدید اور جان لیوا گرمی کی لہریں دنیا کے مختلف حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔

  • کیا ایک عام دلدلی گھاس پلاسٹک کے اسٹرا کا ماحول دوست متبادل بن سکتی ہے؟

    کیا ایک عام دلدلی گھاس پلاسٹک کے اسٹرا کا ماحول دوست متبادل بن سکتی ہے؟

    کلفٹن اربن فاریسٹ کے بانی مسعود لوہار نے ایک دلچسپ ویڈیو میں بتایا ہے کہ شہری جنگل میں اُگنے والی مقامی گھاس ‘نَڙ’ سے ماحول دوست اسٹرا تیار کیے گئے ہیں۔ اس گھاس کا سائنسی نام Phragmites karka ہے اور یہ سندھ سمیت جنوبی ایشیا کے کئی آبی اور دلدلی علاقوں میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے۔

    ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ اس گھاس کے کھوکھلے اور مضبوط تنوں کو استعمال کرتے ہوئے ایسے اسٹرا تیار کیے جا سکتے ہیں جو پلاسٹک کے اسٹرا کا قدرتی متبادل بن سکتے ہیں۔ یہ اسٹرا بایوڈیگریڈیبل ہیں، یعنی استعمال کے بعد قدرتی طور پر ماحول میں تحلیل ہو سکتے ہیں اور پلاسٹک کی طرح برسوں تک آلودگی پیدا نہیں کرتے۔

    مسعود لوہار کے مطابق اس مقامی گھاس سے تیار کردہ اسٹرا دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر مقامی سطح پر اس کی کاشت، پراسیسنگ اور تیاری کو فروغ دیا جائے تو یہ ایک چھوٹے کاروبار یا اسٹارٹ اپ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس سے نوجوانوں، خواتین اور مقامی کمیونٹیز کو معاشی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

    انہوں نے ویڈیو میں یہ بھی کہا کہ جو افراد یا نوجوان ماحول دوست اسٹرا کی تیاری کا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں، وہ ان سے رابطہ کر سکتے ہیں اور وہ اس سلسلے میں رہنمائی اور تعاون فراہم کرنے میں خوشی محسوس کریں گے۔

    دنیا بھر میں سنگل یوز پلاسٹک کے خلاف بڑھتی ہوئی مہمات کے دوران ایسے مقامی اور قدرتی متبادل نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ مقامی وسائل پر مبنی پائیدار کاروباری مواقع بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

    ویڈیو یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ کیا سندھ کے مقامی پودے اور روایتی قدرتی وسائل مستقبل میں ماحول دوست صنعتوں اور گرین انٹرپرینیورشپ کی بنیاد بن سکتے ہیں؟

    ساگا ڈیجیٹل پر ماحول، جدت اور مقامی حلوں کی ایسی ہی منفرد کہانیاں دیکھتے رہیے۔

  • جب سانس بوجھ بن جائے تو سبق کیسے یاد رہے

    جب سانس بوجھ بن جائے تو سبق کیسے یاد رہے

    صبح کے وقت شہر ابھی پوری طرح جاگا بھی نہیں ہوتا لیکن سڑکوں پر گاڑیوں کا شور بڑھنے لگتا ہے۔ فضا میں دھواں پھیلنے لگتا ہے اور کہیں کہیں کچرا جلنے کی بو بھی آتی ہے۔ انہی حالات میں ہزاروں بچے بستے اٹھائے اسکولوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سانس لینا ہی مشکل ہو تو سیکھنے کا عمل بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

    یہ مسئلہ اب صرف ماحولیات تک محدود نہیں رہا۔ اسے صحت اور تعلیم دونوں زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔

    کراچی کی فضا اور اعداد و شمار

    23 مئی 2026 کو شہر میں اے کیو آئی 134 ریکارڈ کیا گیا، جو صحت کے لیے خاصی نقصان دہ سطح سمجھی جاتی ہے۔ رواں برس مارچ میں اے کیو آئی 153 بھی ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق ایسی فضا میں مسلسل سانس لینا انسانی جسم پر نمایاں اثرات ڈال سکتا ہے۔ بچوں کے لیے اس کا درست موازنہ کرنا آسان نہیں، لیکن یہ طے ہے کہ ان کے لیے خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

    شہری امور کے ماہرین کے مطابق شہر میں فضائی آلودگی کا بڑا سبب ٹریفک ہے۔ اندازہ ہے کہ لگ بھگ ستر فیصد آلودگی گاڑیوں کے دھوئیں سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ صنعتی اخراج، کچرا جلانا، ڈیزل جنریٹر، تعمیراتی سرگرمیوں کی گرد اور ناقص ایندھن کا جلنا بھی فضا کو خراب کرتے ہیں۔

    پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سینٹر کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو کے مطابق باریک آلودہ ذرات ‘پی ایم 2 اعشاریہ 5’ بچوں کے نشوونما پاتے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا کر سانس کی دائمی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں، جبکہ خراب فضائی معیار توجہ اور تعلیمی کارکردگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک کا دھواں اور بیرونی سرگرمیاں بچوں کو زیادہ متاثر کرتی ہیں، اس لیے آلودگی والے دنوں میں اے کیو آئی کی نگرانی کی جائے اور این 95 ماسک کے بغیر غیر ضروری باہر جانے سے گریز کرنا چاہیے۔

    بچے زیادہ متاثر کیوں ہوتے ہیں؟

    ڈاکٹروں کے مطابق بچے بڑوں کی نسبت تیزی سے سانس لیتے ہیں، اس لیے وہ فضا میں موجود باریک ذرات زیادہ مقدار میں اپنے جسم میں جذب کر لیتے ہیں۔ یہ ذرات پھیپھڑوں کی نشوونما پر اثر ڈالتے ہیں اور بعض صورتوں میں توجہ اور یادداشت کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

    پیڈیاٹرک ماہر ڈاکٹر صائمہ کاشف کے مطابق بچپن وہ مرحلہ ہے جب سانس کا نظام تیزی سے بڑھ رہا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے دو تین برس میں بچوں میں الرجی اور سانس کے مسائل میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پہلے وائرل فلو سال میں چند بار ہوتا تھا، اب بعض بچوں میں یہ تعداد زیادہ ہو گئی ہے اور زیادہ تر کیس الرجی سے جڑے ہوتے ہیں۔ سانس کی بیماریاں اب صرف سردیوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ سال بھر سامنے آ رہی ہیں، خاص طور پر بڑے شہروں میں۔

    عام علامات

    متاثرہ بچوں میں ناک کی سوزش، مستقل نزلہ، ناک بند رہنے کے باعث منہ سے سانس لینا، نیند میں خلل، بار بار انفیکشن اور کھانسی جیسی علامات دیکھی جاتی ہیں۔ یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ بچہ مسلسل آلودہ فضا میں سانس لے رہا ہے۔

    ہمدرد یونیورسٹی سے وابستہ حکیم محمد انس شمسی کے مطابق صاف ہوا صحت مند زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس میں موجود نائٹروجن اور آکسیجن جسم کو نیوٹریشن پہنچانے کا اہم ذریعہ ہیں، لیکن اب یہی عناصر فضا میں مناسب یا مطلوبہ مقدار میں موجود نہ ہوں تو اس کا براہ راست اثر بڑھتے ہوئے بچوں کی مجموعی نشوونما پر پڑتا ہے۔ اس سے نہ صرف پھیپھڑے بلکہ پورے جسم کی نشوونما شدید متاثر ہوتی ہے۔ صبح کے وقت ماحول میں خنکی کی وجہ سے آلودگی کی سطح ویسے ہی بڑھی ہوئی ہوتی ہے، اور آلودہ ذرات زیادہ مقدار میں سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ پہلے بچوں میں سانس کے مسائل صرف سردیوں میں سامنے آتے تھے لیکن اب یہ سارا سال کا مسئلہ بن گئے ہیں۔

    دماغ اور سیکھنے کی صلاحیت

    مائنڈ سائنس کے ماہر آصف علی خان کے مطابق فضائی آلودگی کے باریک ذرات دماغ کے ان حصوں کو متاثر کر سکتے ہیں جو توجہ، یادداشت اور فیصلہ سازی سے متعلق ہیں۔ بعض مطالعات میں دماغی سوزش اور سیکھنے کی رفتار میں کمی کے شواہد ملے ہیں۔ ایسی صورت میں بچہ کلاس میں جلد تھک جاتا ہے اور اس کے لیے سبق پر توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔

    کلاس روم کی صورتحال

    شہر کے مختلف تعلیمی اداروں کے اساتذہ سے بات چیت میں یہ سامنے آیا کہ آلودگی زیادہ ہونے سے بچوں میں سر درد، تھکن اور گلے کی تکالیف بڑھ جاتی ہیں۔ اساتذہ کے مطابق ایسے دنوں میں غیر حاضری بھی بڑھتی ہے اور تعلیمی سرگرمیوں کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔

    بہادرآباد کے ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ محمد عارف کا کہنا ہے کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو طویل مدت میں تعلیمی معیار متاثر ہو سکتا ہے۔ کورنگی کی ایک استاد تابندہ سحر کے مطابق آلودگی کے دوران فلو اور سانس کے مسائل کی وجہ سے حاضری کم ہو جاتی ہے۔

    آلودگی کم کرنے کے اہم مشورے

    پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری زبیر احمد کی رائے میں فضائی آلودگی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ بچوں کی صحت اور تعلیم کے لیے ایک ‘تعلیمی ایمرجنسی’ بن چکی ہے۔ آلودہ فضا بچوں کی جسمانی نشوونما اور توجہ کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، اس لیے اسکول سطح پر فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

    ماہرین کے مطابق کلاس رومز میں پودے لگانے، اسکول کے اطراف گرین بیلٹ بنانے اور ہوا کے معیار ناپنے والے حساسات نصب کرنے سے فضا کی نگرانی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اساتذہ کو ایئر کوالٹی انڈیکس ‘اے کیو آئی’ سے متعلق تربیت دینا ضروری ہے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نجی گاڑیوں کا ہجوم مقامی آلودگی بڑھاتا ہے۔ کار پولنگ اور محفوظ جدید سہولیات سے لیس بس سروس اس مسئلے کا بہتر حل ہو سکتے ہیں۔

    عالمی تحقیق کیا کہتی ہے

    مختلف ملکوں میں ہونے والی تحقیق نے فضائی آلودگی اور تعلیمی کارکردگی کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی ہے۔ ایک بین الاقوامی جائزے میں اٹھائیس ممالک کے مطالعات کا تجزیہ کیا گیا، جس میں یہی رجحان سامنے آیا کہ زیادہ آلودگی والے علاقوں میں امتحانی نتائج نسبتاً کم رہے۔ امریکہ میں ہونے والے ایک بڑے مطالعے میں بھی یہی بات سامنے آئی کہ فضا میں موجود باریک ذرات میں اضافے کے ساتھ ریاضی اور انگریزی کے نمبروں میں کمی دیکھی گئی، اور کم عمر بچے زیادہ متاثر ہوئے۔

    محکمہ موسمیات کے محدود وسائل

    پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کے مطابق کراچی میں اس وقت فضائی آلودگی ناپنے کے آلات ‘ایئر کوالٹی میٹرنگ سینسرز’ موجود نہیں ہیں، اس لیے واضح صورتحال نہیں بتائی جا سکتی۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کے تناظر میں دیکھیں تو فضائی آلودگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

    ترجمان انجم نذیر ضیغم نے بتایا کہ سردیوں میں ہوا شمال مشرق کی جانب سے چلتی ہے، جبکہ گرمیوں میں جنوب مغربی ہوا سمندر سے خشکی کی جانب آتی ہے۔ سردیوں میں اے کیو آئی زیادہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ گرمیوں میں اس کا اثر نسبتاً کم محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی اب خطرہ بن گئی ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے تاکہ مسئلہ کم ہو سکے۔

    وجوہات اور چیلنجز

    پرانی گاڑیاں، صنعتی دھواں، کچرا ٹھکانے لگانے کا ناقص نظام، تعمیراتی گرد اور غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ اس مسئلے کو بڑھا رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر کچھ اقدامات ضرور کیے گئے ہیں، مگر مؤثر نگرانی اور عمل درآمد کے بغیر بہتری محدود رہی ہے۔

    والدین کا کردار

    ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ شدید آلودگی کے دنوں میں بچوں کو غیر ضروری طور پر باہر نہ بھیجا جائے، ماسک کے استعمال پر توجہ دی جائے اور سانس یا الرجی کی علامات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔

    آگے کیا ہونا چاہیے

    کچرا جلانے پر سخت پابندی، گاڑیوں کے دھوئیں کی باقاعدہ جانچ، اسکولوں کے اطراف ٹریفک کا بہتر انتظام، شجرکاری اور صاف توانائی کے فروغ جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ بعض تعلیمی ماہرین نصاب میں ماحولیاتی شعور کو عملی انداز میں شامل کرنے پر بھی زور دیتے ہیں۔

    صاف ہوا کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ بچوں کی صحت اور تعلیم دونوں کی بنیاد ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں بہتر سیکھ سکیں تو انہیں سانس لینے کے لیے بہتر فضا بھی دینا ہوگی۔

  • کیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس موسمیاتی تبدیلی کو بڑھا رہی ہے؟ اے آئی کی پوشیدہ ماحولیاتی قیمت

    کیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس موسمیاتی تبدیلی کو بڑھا رہی ہے؟ اے آئی کی پوشیدہ ماحولیاتی قیمت

    دنیا تیزی سے ایک نئی ڈیجیٹل حقیقت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سرچ انجنز، سوشل میڈیا کی تجاویز، چیٹ بوٹس، تصویری تخلیق، آواز کی نقل اور خودکار نظام، یہ سب اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے چل رہے ہیں۔ OpenAI، Google اور Microsoft جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس انقلاب کی قیادت کر رہی ہیں۔

    لیکن اس تیز رفتار ترقی کے درمیان ایک اہم سوال اب زیادہ سنجیدگی سے پوچھا جا رہا ہے۔ کیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس موسمیاتی تبدیلی میں اضافہ کر رہی ہے؟

    ٹیکنالوجی جتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، اتنی ہی تیزی سے اس کی توانائی کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔ اے آئی کے پیچھے موجود انفراسٹرکچر عام آنکھ کو نظر نہیں آتا، مگر اس کے ماحولیاتی اثرات حقیقت میں موجود ہیں۔

    آرٹیفیشل انٹیلیجنس دراصل بہت بڑے ڈیٹا اور پیچیدہ ریاضیاتی ماڈلز پر مبنی ہوتی ہے۔ جب کسی بڑے اے آئی ماڈل کو تیار کیا جاتا ہے تو اسے اربوں یا کھربوں ڈیٹا پوائنٹس پر تربیت دی جاتی ہے۔ اس عمل کو ٹریننگ کہا جاتا ہے۔ یہ تربیت عام کمپیوٹر پر نہیں ہوتی بلکہ انتہائی طاقتور سرورز اور جی پی یوز پر ہوتی ہے جو کئی ہفتوں یا مہینوں تک مسلسل چلتے رہتے ہیں۔

    جتنی زیادہ طاقتور مشینیں ہوں اور جتنا زیادہ وقت وہ کام کریں، اتنی ہی زیادہ بجلی خرچ ہوتی ہے۔ جدید اے آئی ماڈلز کی تیاری کے لیے ہزاروں سرورز بیک وقت کام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نئی نسل کا اے آئی ماڈل پچھلے سے بڑا اور زیادہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی کمپنیاں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں زیادہ طاقتور نظام تیار کر رہی ہیں۔ اس دوڑ کا مطلب ہے زیادہ کمپیوٹنگ پاور اور زیادہ توانائی کا استعمال۔

    آرٹیفیشل انٹیلیجنس کسی خیالی بادل میں نہیں چلتی بلکہ حقیقی ڈیٹا سینٹرز میں کام کرتی ہے۔ یہ ڈیٹا سینٹرز دراصل بڑے گوداموں یا اسٹیڈیم جیسے مراکز ہوتے ہیں جہاں ہزاروں سرورز نصب ہوتے ہیں۔ ان سرورز کو چلانے کے لیے مسلسل بجلی درکار ہوتی ہے اور انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے اضافی توانائی خرچ کی جاتی ہے۔

    اگر یہ بجلی کوئلے یا گیس جیسے فوسل فیول سے پیدا کی جا رہی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس بالواسطہ طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں بھی حصہ ڈال رہی ہے۔ اگرچہ کچھ کمپنیاں قابل تجدید توانائی کے استعمال کا دعویٰ کرتی ہیں، لیکن دنیا کے کئی خطوں میں بجلی کا نظام اب بھی فوسل فیول پر انحصار کرتا ہے۔ اسی لیے ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد مستقبل میں توانائی کی طلب کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

    اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف اے آئی ماڈل کی تربیت میں زیادہ بجلی استعمال ہوتی ہے۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ روزمرہ استعمال بھی توانائی کی کھپت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب کوئی صارف اے آئی چیٹ بوٹ سے سوال پوچھتا ہے، تصویر بنواتا ہے یا آواز تیار کرواتا ہے تو کہیں نہ کہیں سرورز متحرک ہو جاتے ہیں۔

    ایک درخواست شاید بہت کم توانائی استعمال کرے، لیکن جب روزانہ کروڑوں لوگ یہ خدمات استعمال کرتے ہیں تو مجموعی توانائی کی کھپت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ جیسے جیسے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سرچ انجنز، موبائل ایپس، بینکنگ سسٹمز اور سمارٹ ڈیوائسز میں شامل ہو رہی ہے، ویسے ویسے اس کے پیچھے چلنے والے سرورز کی توانائی کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔

    ماحولیاتی دباؤ صرف بجلی تک محدود نہیں رہتا۔ ڈیٹا سینٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بڑی مقدار میں پانی بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ بڑے مراکز سالانہ لاکھوں لیٹر پانی صرف کولنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر ایسے مراکز خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں قائم ہوں تو یہ مسئلہ مزید حساس ہو جاتا ہے کیونکہ مقامی کمیونٹیز کو بھی انہی پانی کے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔

    اسی لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا ماحولیاتی اثر صرف کاربن اخراج تک محدود نہیں بلکہ پانی کے وسائل اور زمینی انفراسٹرکچر پر بھی دباؤ ڈالتا ہے۔

    لیکن تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو موسمیاتی مسائل کے حل کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ اے آئی ماڈلز قابل تجدید توانائی کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں، موسمی پیش گوئی کو زیادہ درست بناتے ہیں، ٹریفک مینجمنٹ کے ذریعے ایندھن کی بچت کرتے ہیں اور زرعی نظام کو زیادہ مؤثر بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس نہ صرف مسئلہ بن سکتی ہے بلکہ حل کا حصہ بھی بن سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں اور اسے کس توانائی کے ذریعے چلاتے ہیں۔

    اسی سوچ کے تحت دنیا بھر میں محققین اور ٹیکنالوجی کمپنیاں "گرین اے آئی” کے تصور پر کام کر رہی ہیں۔ اس کا مقصد ایسے ماڈلز تیار کرنا ہے جو کم توانائی استعمال کریں، زیادہ مؤثر ہوں اور اپنی کاربن فٹ پرنٹ کے بارے میں شفاف معلومات فراہم کریں۔ نئے ہارڈویئر چپس بھی تیار کیے جا رہے ہیں جو کم بجلی میں زیادہ کارکردگی دیتے ہیں۔ کچھ بڑی کمپنیاں اپنے ڈیٹا سینٹرز کو مکمل طور پر قابل تجدید توانائی پر منتقل کرنے کے اہداف بھی مقرر کر چکی ہیں۔

    تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی تیز رفتار توسیع کے ساتھ ہم آہنگ رہ سکیں گے۔

    آرٹیفیشل انٹیلیجنس معیشت، صنعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے۔ لیکن ہر نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ اگر اس کی ترقی ماحول کی قیمت پر ہو گی تو طویل مدت میں اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔

    اسی لیے حکومتوں، کمپنیوں اور صارفین کو مل کر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی ترقی پائیدار ہو۔ صاف توانائی میں سرمایہ کاری، مؤثر ماڈلز کی تیاری اور شفاف پالیسی سازی اس سمت میں اہم اقدامات ثابت ہو سکتے ہیں۔

    آرٹیفیشل انٹیلیجنس نہ مکمل طور پر مسئلہ ہے اور نہ مکمل طور پر حل۔ اس کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اسے کس سمت لے جاتے ہیں۔ ہر بار جب ہم کسی اے آئی نظام سے سوال پوچھتے ہیں تو کہیں نہ کہیں سرورز حرکت میں آ جاتے ہیں اور توانائی استعمال ہوتی ہے۔

    ٹیکنالوجی کا مستقبل صرف ذہانت پر نہیں بلکہ پائیداری پر بھی منحصر ہے۔ اگر ہم آج ذمہ دارانہ فیصلے کریں تو آرٹیفیشل انٹیلیجنس موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک طاقتور ہتھیار بن سکتی ہے۔ لیکن اگر اس کے ماحولیاتی اثرات کو نظر انداز کیا گیا تو یہی ٹیکنالوجی ایک نئے چیلنج کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

    آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے۔ کیا ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو ماحول دوست بنا سکیں گے، یا یہ خاموشی سے ہمارے سیارے پر بوجھ بڑھاتی رہے گی؟