پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی سے متعلق حکومت نے انکشاف کیا کہ ان کا بیٹا سفارتی ‘بلیو’ پاسپورٹ پر یورپ گیا، وہاں جا کر پاسپورٹ سرنڈر کیا اور سیاسی پناہ یعنی اسائلم لے لی۔ اقبال آفریدی نے جواب میں کہا کہ ‘یہاں امن نہیں، میرے بیٹے سے پہلے بھی کتنے لوگوں نے اسائلم حاصل کیا ہوا ہے؟’۔ یوں ان کے بیان کو حکومتی دعوے کی ایک طرح سے تصدیق سمجھا گیا۔
اقبال آفریدی نے یہ تاثر بھی دیا کہ اگر موقع ملا تو شاید وہ خود بھی اسائلم لینے پر مجبور ہو جائیں۔ ان کے مطابق اگر عمران خان رہا نہ ہوئے تو ملک رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔ دوسری جانب ان کی جماعت چند روز پہلے پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ بہتر بنانے کی مہم چلا رہی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان کے پاسپورٹ کی ساکھ کیسے بہتر ہو سکتی ہے جب بااثر شخصیات کے خاندان بیرونِ ملک جا کر بلیو پاسپورٹ سرنڈر کریں اور اس سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھائیں؟
پاکستان میں عام شہری کے پاس سبز رنگ کا پاسپورٹ ہوتا ہے، جبکہ نیلا پاسپورٹ ‘آفیشل پاسپورٹ’ کہلاتا ہے۔ اس پاسپورٹ کا مقصد سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے بیرونِ ملک سفر کو آسان بنانا ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ نیلا پاسپورٹ صرف سفارت کاروں یا وزیروں کو ملتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
پاکستان کے پاسپورٹ اینڈ ویزا مینول 2006 اور بعد کے حکومتی فیصلوں کے مطابق اراکینِ پارلیمنٹ، ان کے اہلِ خانہ، اعلیٰ سرکاری افسران، جج صاحبان، فوجی افسران اور کئی دیگر سرکاری عہدے رکھنے والے افراد اس سہولت کے حقدار ہوتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق دورِ حکومت میں اس وقت کے وفاقی وزیرِ داخلہ احسن اقبال کی ہدایت پر یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ صوبائی اسمبلیوں کے ارکان، میئرز اور ضلع کونسلوں کے چیئرمین بھی بلیو پاسپورٹ حاصل کر سکیں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف پارلیمنٹیرین ہی نہیں بلکہ ان کے خاندان کے افراد بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ قانون کے مطابق اراکینِ پارلیمنٹ کے شریکِ حیات، والدین اور زیرِ کفالت بچے بھی بلیو پاسپورٹ کے اہل ہوتے ہیں۔ اسی طرح کئی اعلیٰ سرکاری افسران، ججوں، وزیروں اور فوجی حکام کے اہلِ خانہ کو بھی یہ رعایت حاصل ہوتی ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جس پر عوام کی توجہ مرکوز ہے۔ ایک عام پاکستانی برسوں لائنوں میں لگ کر پاسپورٹ بنواتا ہے، ویزوں کے لیے مشکلات برداشت کرتا ہے اور دنیا بھر میں سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرتا ہے، جبکہ طاقتور طبقے کے افراد اور ان کے خاندان خصوصی پاسپورٹ اور سفری سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جب انہی لوگوں کے بچے بیرونِ ملک جا کر اسائلم لے لیتے ہیں تو دنیا میں پاکستان کا تاثر مزید خراب ہوتا ہے۔
آفیشل یا بلیو پاسپورٹ دراصل ریاست کی نمائندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص اس پاسپورٹ پر بیرونِ ملک جاتا ہے تو متعلقہ ملک یہ سمجھتا ہے کہ یہ فرد پاکستان کے کسی سرکاری یا اہم عہدے سے وابستہ ہے۔ اگر بعد میں وہی شخص سیاسی پناہ لے لے یا پاسپورٹ سرنڈر کر دے تو اس سے صرف ایک خاندان یا فرد کا معاملہ نہیں رہتا بلکہ پورے ملک کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
پاکستانی پاسپورٹ کی کمزور عالمی رینکنگ پر اکثر سیاست دان بیانات دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مہم چلائی جاتی ہے کہ پاکستانیوں کو دنیا میں عزت نہیں ملتی، ویزے مشکل سے ملتے ہیں اور امیگریشن حکام سخت رویہ اختیار کرتے ہیں۔ لیکن اس کی ایک بڑی وجہ یہی واقعات بھی بنتے ہیں۔ جب بااثر طبقات کے لوگ خود اپنے ملک پر اعتماد ظاہر نہ کریں اور بیرونِ ملک جا کر پناہ لینے کو ترجیح دیں تو دنیا کے سامنے ایک منفی تصویر بنتی ہے۔
حکومت کے قواعد کے مطابق بلیو پاسپورٹ حاصل کرنے والوں میں وفاقی سیکریٹریز، بی پی ایس 22 کے افسران، چیف سیکریٹریز، سینئر فوجی افسران، صوبائی وزرا، اسپیکرز، ڈپٹی اسپیکرز، الیکشن کمیشن کے اراکین، سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے ججز، اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین اور کئی دیگر شخصیات شامل ہیں۔ ان کے شریکِ حیات اور غیر شادی شدہ زیرِ کفالت بچوں کو بھی یہ سہولت دی جا سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں 28 سال تک کے بچوں کو بھی اہل تصور کیا جاتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا بلیو پاسپورٹ ایک قومی ذمہ داری ہے یا محض ایک سرکاری مراعاتی علامت؟ اگر یہ ریاستی اعتماد کی علامت ہے تو پھر اس کے استعمال کے لیے سخت نگرانی ہونی چاہیے۔ ایسے واقعات جہاں آفیشل یا سفارتی پاسپورٹ استعمال کر کے بیرونِ ملک جا کر اسائلم لیا جائے، وہ نہ صرف قانون بلکہ قومی وقار کے حوالے سے بھی سنجیدہ معاملہ ہیں۔
پاکستان کو اگر واقعی اپنے پاسپورٹ کی عزت اور عالمی ساکھ بہتر بنانی ہے تو صرف سوشل میڈیا مہمات کافی نہیں ہوں گی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے بااثر طبقات خود اپنے وطن پر اعتماد کا اظہار کریں، قوانین کا احترام کریں اور ریاستی سہولتوں کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہ کریں۔ کیونکہ جب حکمران طبقہ ہی دنیا کو یہ پیغام دے کہ پاکستان رہنے کے قابل نہیں، تو پھر عام پاکستانی کے پاسپورٹ کی عزت کیسے بڑھے گی؟

