Tag: پی ٹی آئی

  • جماعت اسلامی یا پی ٹی آئی،کس کے کارکن زیادہ مایوس؟

    جماعت اسلامی یا پی ٹی آئی،کس کے کارکن زیادہ مایوس؟

    حقیقی سیاسی اور سماجی کارکن کسی بھی ملک اور جمہوریت کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی ذات اور ضروریات سے بلند ہوکر سماج کی بہتر کے لیے اپنا وقت، کوششیں اور تو اور پیسہ بھی لگاتے ہیں۔ سیاسی نظریہ جو بھی ہو، قیادت کوئی بھی ہو، وہ دل و جان سے یہ سمجھ کر میدان میں اترتے ہیں کہ یہی طریقہ اور یہی جماعت عوام اور ملک کابھلا کر سکتی ہے۔

    حقیقی سیاسی کارکن  پی ٹی آئی کا ہو، پیپلز پارٹی کا، ایم کیو ایم کا، ن لیگ کا یا پھر جماعت اسلامی کا۔ کسی بھی جماعت کے کارکنوں کی کامیاب پرامن تحریک سیاست اور جمہوریت کو مضبوط کرتی ہے۔ تحریک کی ناکامی سیاسی جماعتوں کو کمزور کرتی ہے جس کے نتیجے میں جمہوریت بھی کمزور ہوتی ہے۔

    بدقسمتی سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی اب ایسی جماعتیں بن چکی ہیں جو صرف عوامی حمایت ہی نہیں،حقیقی اور بے لوث سیاسی کارکنوں سے بھی خالی ہو چکی ہیں۔ اب ان جماعتوں میں کارکنوں کے نام پر صرف ’بینیفشریز‘ ہی رہ گئے ہیں، جنہیں سرکاری ٹھیکے ملتے ہیں، جو سرکاری اداروں میں سسٹم چلاتے ہیں، جو پتھارے لگواتے اور چلواتے ہیں، جو سرکاری اور نجی زمینوں پر قبضے کراتے ہیں، جو سرکاری محکموں میں گھوسٹ ملازمین لگواتے ہیں یا خود کام کرتے ہیں۔ ہر گاؤں کا چودھری، وڈیرہ اور بھوتار جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بانٹتے اور الیکشن کے دن ٹھپے لگواتے ہیں۔

    ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے پاس ایسے ’بینیفشریز‘ کی تعداد اچھی خاصی ہے مگر وہ حقیقی سیاسی کارکن اور عوامی حمایت کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ یہ لوگ پارٹی کے ساتھ اس وقت تک ہیں جب تک وہ اقتدار میں ہے۔ اقتدار جاتے ہی یہ ’بینیفشریز ‘ اگلی برسرِ اقتدار پارٹی کے ساتھ ہوں گے۔ پیپلز پارٹی و ن لیگ جیسی جماعتیں بھی وہیں کھڑی ہوں گی جہاں آج ایم کیو ایم ہے، بلکہ شاید اس سے بھی نیچے!

    ن لیگ کی نوبت تو اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی وہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بیچاری میاں داؤد ایڈووکیٹ کے مریم نواز اور کیپٹن صفدر پر رکیک اور ’بلو دی بیلٹ‘ حملوں کا جواب دینے جوگی بھی نہیں رہی ۔ بینیفشریز کے بجائے حقیقی کارکن ن لیگ کے ساتھ ہوتے تو میاں داؤد اس بکواس کی ہمت بھی نہیں کر سکتا تھا۔

    خیر، یہ میرا اصل موضوع نہیں ہے۔ اب میں اس موضوع پر آتا ہوں جس پر بہت دنوں سے لکھنا چاہ رہا تھا ۔اور وہ ہے جماعت اسلامی کا لانگ مارچ،جسے ملتان پہنچ کر بریک لگ گئی ۔اگرچہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی وہ مسئلہ ہے جس کی آنچ ہر شہری کے کچن تک پہنچ چکی ہے، اس کے باوجود قابلِ ذکر تعداد میں نکلنے پر تیار نظر نہیں آئے۔ اور تو اور دھرنوں میں خود جماعت کے اپنے کارکن بھی اتنی تعداد میں شریک نہیں ہو رہے ہیں جتنا کہ آئی پی پیز کے خلاف دھرنے میں اور چار سال پہلے کراچی میں صرف بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے لیے دھرنے میں شریک تھے۔

    حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں ٹرین مارچ میں بھی کارکنوں کی تعداد اتنی نہیں تھی جتنی ہونی چاہیے تھی۔ لیکن جس طرح صرف وزیراعظم کے فون پر  دھرنا روکا گیا ، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مارچ میں شریک ہونے والے کارکنوں کے مورال کے لیےہرگز اچھا نہیں۔

    مارچ میں کارکنوں کی شرکت جو پہلے ہی توقعات سے کہیں کم تھی، اب مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں مارچ دوبارہ شروع کرنا پڑا تو شاید اتنے کارکن بھی حافظ نعیم الرحمن کی کال پر لبیک نہ کہیں۔ کارکن یہ ضرور سوچیں گے کہ ایسے مارچ میں کیوں شرکت کریں جو اسلام آباد پہنچنے کے بجائے لاہور یا گجرانوالہ میں ہی ختم ہو سکتا ہے۔

    اب آتے ہیں تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کی طرف۔ تحریکِ انصاف اتنی کمپرومائزڈ اور بار بار کارکنوں اور سپورٹرز کو دھوکا دینے والی قیادت کے ساتھ کوئی مارچ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ پنجاب کی صورتحال پہلے ہی سہیل آفریدی کے دورۂ لاہور نے واضح کر دی ہے۔ سہیل آفریدی لاہور کی سڑکوں پر تھے اور پی ٹی آئی کے سو کے قریب ایم پی ایز اور پنجاب سے 50 سے زائد ایم این ایز میں سے پانچ بھی سڑکوں پر نہیں آئے۔ وہ پولیس کے پروٹوکول اور اپنے چند وزرا کے ساتھ سڑکوں پر گھوم گھام کر واپس چلے گئے۔سلمان اکرم راجہ 26 نومبر کو لاہور کی سڑکوں پر گھومتے ہوئے ایک ویڈیو بنا کر گھر چلے گئے تھے ۔ پنجاب کے عوامی نمائندے اور کارکن اتنا ہی کر سکتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی  علی امین گنڈاپور سے بھی کہیں زیادہ کمپرومائزڈ نظر آ رہے ہیں۔ گنڈاپور تو اپنی ڈیڑھ سالہ وزارتِ اعلیٰ کے دوران تین بار اسلام آباد پہنچے تھے لیکن سہیل آفریدی کا اسکور اب تک صفر ہے۔ اس وقت سب سے بڑھ چڑھ کر بیان بازی کرنے والے جنید اکبر اور شفیع جان سب سے زیادہ کمپرومائزڈ ہیں، یہ اٹک پل یا صوابی انٹرچینج کے بعد لانگ مارچ میں نظر بھی نہیں آئیں گے۔

    لیکن شاید اس کی نوبت بھی نہ آئے کیونکہ 4 اکتوبر تک ملتوی ہونے والا مارچ آئندہ بھی ’ملتوی‘ ہی نظر آ رہا ہے۔

  • پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیٹے کی یورپ میں سیاسی پناہ اور بلیو پاسپورٹ پر اٹھتے سوالات

    پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیٹے کی یورپ میں سیاسی پناہ اور بلیو پاسپورٹ پر اٹھتے سوالات

    پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی سے متعلق حکومت نے انکشاف کیا کہ ان کا بیٹا سفارتی ‘بلیو’ پاسپورٹ پر یورپ گیا، وہاں جا کر پاسپورٹ سرنڈر کیا اور سیاسی پناہ یعنی اسائلم لے لی۔ اقبال آفریدی نے جواب میں کہا کہ ‘یہاں امن نہیں، میرے بیٹے سے پہلے بھی کتنے لوگوں نے اسائلم حاصل کیا ہوا ہے؟’۔ یوں ان کے بیان کو حکومتی دعوے کی ایک طرح سے تصدیق سمجھا گیا۔

    اقبال آفریدی نے یہ تاثر بھی دیا کہ اگر موقع ملا تو شاید وہ خود بھی اسائلم لینے پر مجبور ہو جائیں۔ ان کے مطابق اگر عمران خان رہا نہ ہوئے تو ملک رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔ دوسری جانب ان کی جماعت چند روز پہلے پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ بہتر بنانے کی مہم چلا رہی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان کے پاسپورٹ کی ساکھ کیسے بہتر ہو سکتی ہے جب بااثر شخصیات کے خاندان بیرونِ ملک جا کر بلیو پاسپورٹ سرنڈر کریں اور اس سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھائیں؟

    پاکستان میں عام شہری کے پاس سبز رنگ کا پاسپورٹ ہوتا ہے، جبکہ نیلا پاسپورٹ ‘آفیشل پاسپورٹ’ کہلاتا ہے۔ اس پاسپورٹ کا مقصد سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے بیرونِ ملک سفر کو آسان بنانا ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ نیلا پاسپورٹ صرف سفارت کاروں یا وزیروں کو ملتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

    پاکستان کے پاسپورٹ اینڈ ویزا مینول 2006 اور بعد کے حکومتی فیصلوں کے مطابق اراکینِ پارلیمنٹ، ان کے اہلِ خانہ، اعلیٰ سرکاری افسران، جج صاحبان، فوجی افسران اور کئی دیگر سرکاری عہدے رکھنے والے افراد اس سہولت کے حقدار ہوتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق دورِ حکومت میں اس وقت کے وفاقی وزیرِ داخلہ احسن اقبال کی ہدایت پر یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ صوبائی اسمبلیوں کے ارکان، میئرز اور ضلع کونسلوں کے چیئرمین بھی بلیو پاسپورٹ حاصل کر سکیں گے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف پارلیمنٹیرین ہی نہیں بلکہ ان کے خاندان کے افراد بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ قانون کے مطابق اراکینِ پارلیمنٹ کے شریکِ حیات، والدین اور زیرِ کفالت بچے بھی بلیو پاسپورٹ کے اہل ہوتے ہیں۔ اسی طرح کئی اعلیٰ سرکاری افسران، ججوں، وزیروں اور فوجی حکام کے اہلِ خانہ کو بھی یہ رعایت حاصل ہوتی ہے۔

    یہی وہ نکتہ ہے جس پر عوام کی توجہ مرکوز ہے۔ ایک عام پاکستانی برسوں لائنوں میں لگ کر پاسپورٹ بنواتا ہے، ویزوں کے لیے مشکلات برداشت کرتا ہے اور دنیا بھر میں سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرتا ہے، جبکہ طاقتور طبقے کے افراد اور ان کے خاندان خصوصی پاسپورٹ اور سفری سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جب انہی لوگوں کے بچے بیرونِ ملک جا کر اسائلم لے لیتے ہیں تو دنیا میں پاکستان کا تاثر مزید خراب ہوتا ہے۔

    آفیشل یا بلیو پاسپورٹ دراصل ریاست کی نمائندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص اس پاسپورٹ پر بیرونِ ملک جاتا ہے تو متعلقہ ملک یہ سمجھتا ہے کہ یہ فرد پاکستان کے کسی سرکاری یا اہم عہدے سے وابستہ ہے۔ اگر بعد میں وہی شخص سیاسی پناہ لے لے یا پاسپورٹ سرنڈر کر دے تو اس سے صرف ایک خاندان یا فرد کا معاملہ نہیں رہتا بلکہ پورے ملک کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

    پاکستانی پاسپورٹ کی کمزور عالمی رینکنگ پر اکثر سیاست دان بیانات دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مہم چلائی جاتی ہے کہ پاکستانیوں کو دنیا میں عزت نہیں ملتی، ویزے مشکل سے ملتے ہیں اور امیگریشن حکام سخت رویہ اختیار کرتے ہیں۔ لیکن اس کی ایک بڑی وجہ یہی واقعات بھی بنتے ہیں۔ جب بااثر طبقات کے لوگ خود اپنے ملک پر اعتماد ظاہر نہ کریں اور بیرونِ ملک جا کر پناہ لینے کو ترجیح دیں تو دنیا کے سامنے ایک منفی تصویر بنتی ہے۔

    حکومت کے قواعد کے مطابق بلیو پاسپورٹ حاصل کرنے والوں میں وفاقی سیکریٹریز، بی پی ایس 22 کے افسران، چیف سیکریٹریز، سینئر فوجی افسران، صوبائی وزرا، اسپیکرز، ڈپٹی اسپیکرز، الیکشن کمیشن کے اراکین، سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے ججز، اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین اور کئی دیگر شخصیات شامل ہیں۔ ان کے شریکِ حیات اور غیر شادی شدہ زیرِ کفالت بچوں کو بھی یہ سہولت دی جا سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں 28 سال تک کے بچوں کو بھی اہل تصور کیا جاتا ہے۔

    اس تمام صورتحال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا بلیو پاسپورٹ ایک قومی ذمہ داری ہے یا محض ایک سرکاری مراعاتی علامت؟ اگر یہ ریاستی اعتماد کی علامت ہے تو پھر اس کے استعمال کے لیے سخت نگرانی ہونی چاہیے۔ ایسے واقعات جہاں آفیشل یا سفارتی پاسپورٹ استعمال کر کے بیرونِ ملک جا کر اسائلم لیا جائے، وہ نہ صرف قانون بلکہ قومی وقار کے حوالے سے بھی سنجیدہ معاملہ ہیں۔

    پاکستان کو اگر واقعی اپنے پاسپورٹ کی عزت اور عالمی ساکھ بہتر بنانی ہے تو صرف سوشل میڈیا مہمات کافی نہیں ہوں گی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے بااثر طبقات خود اپنے وطن پر اعتماد کا اظہار کریں، قوانین کا احترام کریں اور ریاستی سہولتوں کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہ کریں۔ کیونکہ جب حکمران طبقہ ہی دنیا کو یہ پیغام دے کہ پاکستان رہنے کے قابل نہیں، تو پھر عام پاکستانی کے پاسپورٹ کی عزت کیسے بڑھے گی؟