بڑی مونچھیں، پیشانی تک رکھی ہوئی سندھی ٹوپی، قمیض کے کھلے ہوئے بٹن، گلے میں موٹی چین، آنکھوں میں عجیب سی اداسی، ہاتھ میں رنگ برنگی موتی جڑی جھالر والا ایکتارہ اور چپڑی۔ سندھ میں آج بھی اس قسم کے خدوخال کا تصور کرتے ہی جو پہلی شخصیت ذہن میں آتی ہے، وہ پچھلی صدی کے آخری عشروں کے سندھ کے سب سے مقبول اور عوامی گلوکار جلال چانڈیو کی ہے۔
عوام میں جلال کا انداز ’جلال کٹ‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ جن میں ’جلال کٹ ٹوپی‘، ’جلال کٹ شہپر‘ (مونچھیں) اور ’جلال کٹ یکتارو‘ خاصے مقبول ہوئے۔ ان کی شخصیت سے متاثر ہوکر ان کے بعد کئی فنکاروں نے ان کے سٹائل کی کاپی کرتے ہوئے ان ہی کے انداز میں گانے گائے اور مقبول بھی ہوئے۔ کچھ فن کار اپنے نام کے ساتھ جلال کا نام لگانا فخر سمجھتے تھے۔
سنہ 1980 کے بعد سندھ کے دیہی علاقوں میں جلال چانڈیو کا نام ہر چوپال، ہر میلے اور ہر شادی میں سنائی دینے لگا۔ یہی جلال تھے۔ انہوں نے شاہ لطیف، سچل سرمست اور لوک شاعری کو اس زبان میں گایا جو عام آدمی کی اپنی زبان تھی۔
ان کی آواز میں ہجر بھی تھا، مزاحمت بھی، اور وہ خاموش احتجاج بھی جو صرف دیہی سندھ سمجھ سکتا ہے۔ وہ اس سماج کی آواز بنے جو نہ خبروں میں آتا تھا، نہ شہ سرخیوں میں۔
سندھی زبان میں وسطی سندھ کو ’ساہتی پرگنو‘ کہا جاتا ہے۔ جلال چانڈیو اسی ساہتی پرگنے کے ضلع نوشہروفیروز کے شہر پھُل کے نزدیک واقع تاریخی گاؤں ’ہرپا جو ہٹ‘، جس کا اب نام تبدیل ہوکر جلال چانڈیو گوٹھ ہوگیا ہے، میں 1944 میں پیدا ہوئے۔
ان کے خاندان کا آبائی کام کپڑے سینا تھا۔ انہوں نے بچپن میں بکریاں بھی چرائیں مگر بعد میں ان کے والد حاجی فیض محمد نے ان سے سلائی کا کام سیکھنے کو کہا۔
جلال چانڈیو نے درسی تعلیم حاصل نہیں کی تھی، مگر ان کا حافظہ کمال کا تھا۔ وہ کوئی بھی شعر یا کلام ایک بار سن لیتے تھے تو وہ انہیں ازبر ہوجاتا تھا۔ دیگر فن کاروں کی طرح انہوں نے کبھی بھی لکھا ہوا کلام نہیں پڑھا۔
جلال چانڈیو نے تین شادیاں کی اور ان کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔
ویسے تو جلال شادیوں، تقریبات اور سندھ میں درگاہوں پر لگنے والے میلوں میں گاتے تھے، مگر 1970 کی دہائی میں جب ٹیپ ریکارڈر آیا تو لوگ ان کے گانوں کو ریکارڈ کرنے لگے تاکہ وہ بعد میں ان کا کلام سن سکیں۔ اسی دور میں سندھ میں کیسٹ کمپنیاں کھل گئی اور بعد میں ان کمپنیوں نے جلال کے کلام کی کیسٹس بھی ریلیز کیں۔
ٹھیک پچیس سال پہلے، آج ہی کے دن 2001 میں اس جہاں سے رخصت ہوئے۔
جلال چانڈیو کی وفات کے بعد انہیں ان کے آبائی گاؤں سے چار کلومیٹر دور گاؤں بودلو میں دفنایا گیا، جہاں ان کی برسی پر سندھ بھر کے فنکار گانا گا کر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
سندھ میں چپڑی اور یکتارے پر گانے والے تمام فنکار برسی والے دن یہاں آتے ہیں اور یکتارا اور چپڑی پر گانا گاکر انہیں یاد کرتے ہیں.۔
ان کی وفات پر سندھی صحافی اسحاق منگریو نے لکھا: ‘جلال چانڈیو نے صدی کے ایک چوتھائی حصے تک سندھ کے عوام کو ایکتارہ اور چپڑی کی دھن پر مست رکھا۔’
ایک اندازے کے مطابق جلال چانڈیو نے اپنی زندگی میں تین ہزار کے قریب کیسٹیں ریکارڈ کروائیں۔ کیسٹ، ماضی میں مقبول مقناطیسی ٹیپ جو پلاسٹک کے ایک چھوٹے خول میں بند ہوتی تھی اور ٹیپ ریکارڈر یا ریڈیو کیسٹ پلیئر میں ڈال کر آواز سنی جاتی تھی۔
چوتھائی صدی گزرنے کے باوجود ان کی آواز آج بھی میلوں ٹھیلوں، ہوٹلوں، ٹریکٹروں، بسوں اور ٹرکوں میں گونجتی رہتی ہے۔ ٹرکوں کے پیچھے ان کی تصویریں آج بھی نظر آ جاتی ہیں۔ ایسی عوامی مقبولیت شاید کسی گلوکار کو نصیب ہوئی ہو۔
موسیقی کے علم سے ناآشنائی، آواز کی کھردراہٹ اور بعض اوقات مساجنسٹ انداز و اسلوب کے باوجود، گذشتہ صدی کے آخری عشروں میں سندھ کے عام لوگوں نے جس فنکار سے سب سے زیادہ خود کو جوڑا، وہ جلال چانڈیو تھا۔

چرواہے سے ڈاکو، ڈاکو سے درزی اور درزی سے فنکار بننے والا جلال چانڈیو جب حیدرآباد کے راجپوتانہ ہسپتال میں بیماری سے نبرد آزما تھے۔ انہی دنوں تازہ وفات پانے والی میڈم نورجہاں کے بارے میں اپنے کالم میں صحافی وسعت اللہ خان نے مشہور سندھی روزنامہ کاوش میں لکھا تھا: ‘میں نے کراچی بس کے کنڈکٹر کو کرایہ دیتے ہوئے کہا کہ کیا تمہیں معلوم ہے نورجہاں انتقال کر گئی ہیں؟ اس نے بات سنی اَن سنی کرتے ہوئے کہا: اچھا، تھوڑا آگے ہوتے چلو، نمائش، سبزی منڈی، حسن اسکوائر، نیپا’
لیکن جلال کی رحلت پر نہ صرف پورے پھل شہر میں فضا سوگوار تھی بلکہ اس دن اگر سندھ کی کسی بس کا کوئی کنڈکٹر کسی وسعت اللہ خان کی طرف سے جلال چانڈیو کے بارے میں نورجہاں جیسی خبر سنتا تو اسے یوں سنی اَن سنی کر دے، اس کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔
کہتے ہیں کہ جلال چانڈیو جب ہسپتال میں زیرِ علاج تھا اور ڈاکٹروں نے کہا کہ اسےگردوان کی پیوندکاری کی ضرورت ہے تو ڈیوٹی پر مامور اس کا ایک پرستار سپاہی گردہ عطیہ کرنے کے لیے فوری طور پر پہنچ گیا تھا۔
آسمان کو چھوتی ان کی مقبولیت دیکھ کر گوالیار گھرانے کے سندھ کے سب سے بڑے کلاسیکل فنکار استاد منظور علی خان نے کہا تھا: ‘ہم راگ کا کھاتے ہیں، جلال بھاگ (قسمت) کا کھاتا ہے۔’
سندھ میں کیسٹوں کی مارکیٹنگ کی بنیاد رکھنے سے لے کر لوگوں کی شادیوں کی تاریخیں طے ہونے تک، جلال سندھ کا واحد زندہ لوک محبوب فنکار تھا جس نے سندھی معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
جلال چانڈیو سندھی ٹوپی، اعلیٰ نسل کے گھوڑے اور اچھی نسل کی بھینس رکھنے کے شوقین تھے۔ ان کی ٹوپیاں ضلع دادو کے علاقے جوہی سے آتی تھیں اور وہ ہر جوڑے کے ساتھ الگ سندھی ٹوپی پہنتے تھے۔ بھینس ایسی لیتے تھے جس پر کوئی داغ نہ ہو۔
ایک آپریشن کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں گھڑسواری کرنے سے منع کردیا تھا مگر پھر بھی وہ گھوڑے رکھتے تھے۔
جلال کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ گذشتہ سال میں انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں، وہاں کے مشہور گرو، بھارت میں پیدا ہونے والے سندھی سائیں آنند کشن کے آشرم میں بیٹھا تھا تو ایک طرف بھٹائی کے رسالے کا انگریزی ترجمہ رکھا تھا اور دوسری طرف دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے عقیدت مند اس سندھی مصرعے پر جھوم رہے تھے: ‘ڈیکھارن طبیبن کھے بیکار آ، منھنجو داروں، دوا تنھنجو دیدار آ۔”’ (دکھانا طبیبوں کو بے کار ہے، میری داروں دوا تمہارا دیدار ہے)۔
مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ آشرم میں بھجن کے طور پر گایا جانے والا یہ کلام دراصل جلال چانڈیو کا اوائلی دور میں گایا ہوا ہے۔
‘دیکھو سندھ کہاں کہاں پہنچ گئی ہے، پیارے’، ایک جلاوطن دوست نے مجھ سے کہا۔
یہ بات عام طور پر سننے میں آتی ہے کہ ماضی میں سندھ کے لوگوں میں میڈم نورجہان کے گانے سننے کا بڑا رواج تھا، مگر بعد میں جب گلوکار جلال چانڈیو نے اپنے منفرد انداز میں گانا شروع کیا تو نورجہان کی مقبولیت کم ہو گئی۔ عوامی زبان میں اسے یوں بیان کیا جاتا ہے کہ نورجہان کا بوریہ بستر باندھ کر سندھ سے رخصت ہو جانا پڑا۔
حقیقت میں یہ جملہ ایک محاورہ اور تاثر ہے، کوئی تاریخی یا دستاویزی حقیقت نہیں۔ میڈم نورجہان برصغیر کی وہ واحد گلوکارہ تھیں جن کی آواز فلمی موسیقی، کلاسیکی گائیکی اور عوامی گیتوں میں دہائیوں تک مقبول رہی۔ سندھ میں بھی ان کے فلمی اور ریڈیو گانے عرصے تک سنے جاتے رہے۔
البتہ سنہ 1980 کی دہائی کے بعد سندھ میں عوامی اور لوک موسیقی کا ذوق بدلنے لگا۔ اسی دور میں جلال چانڈیو ابھرے جنہوں نے سندھی لوک شاعری، صوفیانہ کلام اور دیہی لہجے کو ایک نئی طاقت اور سادگی کے ساتھ پیش کیا۔ ان کا ایکتارہ، سادہ لباس اور درد بھری آواز دیہی سندھ کے عوام سے براہ راست جڑ گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جلال چانڈیو کی مقبولیت شہری یا فلمی موسیقی کی جگہ نہیں تھی بلکہ وہ دیہی اور لوک سماعت کا خلا پُر کر رہے تھے۔ اس تبدیلی کے باعث عوامی سطح پر یہ تاثر پیدا ہوا کہ پرانے ذوق کی جگہ نیا ذوق آ گیا ہے، جسے مبالغہ آمیز انداز میں نورجہان کے جانے سے تعبیر کیا گیا۔
ماہرین موسیقی کے مطابق یہ مقابلہ نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ذوق کی فطری تبدیلی تھی۔ نورجہان اپنی جگہ ایک عہد ہیں اور جلال چانڈیو سندھی لوک موسیقی کا ایک الگ باب۔ دونوں کی مقبولیت مختلف سماجی اور ثقافتی دائروں میں رہی اور آج بھی دونوں کو ان کے اپنے مقام پر سنا اور یاد کیا جاتا ہے۔
بے پناہ مقبولیت کے باوجود جلال نے ایک روایتی سندھی انسان کی طرح زندگی گزاری۔ بیماری کے دوران وہ کبھی ہسپتال میں ہوتا اور کبھی سائیں سعدی موسانی کی درگاہ پر بیٹھا نظر آتا۔ اس کا حسِ مزاح بھی لاجواب تھا۔ وفات سے ایک ہفتہ قبل بیماری کے بستر پر اسحاق منگریو کو انٹرویو دیتے ہوئے اس نے کہا: ‘مجھے تو ہسپتال چھوڑتے ہی نہیں۔ ڈاکٹروں نے جتنی دوائیں مجھے کھلائی ہیں، اتنی اگر کوئی جانور کھا لے تو وہ بھی مر جائے۔’
موجود سول ہسپتال حیدرآباد (سابق لال بتی) میں دوران علاج جب ان کا قریبی دوست عیادت کے آیا تو انہوں خود کلام لکھ کر گیا تھا۔ ‘اساں پان تنھجیوں گلاہیوں ویٹھے گایوں، بھلیں یار آئیں، تنھنجیوں لکھ بھلایوں’ (ہم خود تمہیں ہی یاد کررہے تھے، تم آگئے، تمہاری لاکھ مہربانیاں)
گائکی کے علاوہ جلال چانڈیو نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور ایک فلم بھی بنائی مگر پھر دونوں کو جلد ہی خیرآباد کہا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا: ‘سیاست میں منافقت کرنی پڑتی ہے اور فلموں میں ناچنا پڑتا ہے لحاظہ میں نے دونوں ہی چھوڑ دیے ‘۔
جلال کے انداز، اس کی شاعری کے انتخاب اور اس کی مردانہ بالادستی کو ابھارنے والے فن پر لوگوں کے ہزار اختلافات سہی، مگر وہ سندھ کا ایک غیر معمولی مقبول فنکار تھے۔ ان کے انداز کی جھلکیاں سندھی معاشرے اور ثقافت میں اس قدر رچ بس گئی تھیں کہ کئی خواتین گلوکاراؤں کو بھی اس کا اسلوب اپنانا پڑا۔ ان میں سے روبینہ حیدری نے تو باقاعدہ جلال چانڈیو والا انداز اپنایا اور تاج مستانی نے ایکتارہ اور چپڑی اٹھائی۔
آج جب سندھی موسیقی ہر اعتبار سے زوال پذیر دکھائی دیتی ہے تو جلال چانڈیو پر لگایا جانے والا یہ الزام کہ اس نے خالص موسیقی کو پیچھے دھکیل کر ولگر کیسٹ کلچر کو فروغ دیا، اپنی معنویت کھو چکا ہے۔ تاریخ فنکاروں کو ان کی نیت نہیں، ان کے اثر سے یاد رکھتی ہے، اور جلال کا اثر یہ تھا کہ اس نے موسیقی کو درباروں، کلاس رومز اور اشرافیہ کی محفلوں سے نکال کر عام آدمی کے دکھ، خوشی اور روزمرہ زندگی کا حصہ بنا دیا۔
اگر عابدہ پروین نصیبو لال کے ساتھ جھک کر مل سکتی ہے تو سندھ کی ثقافتی تاریخ میں اس جلال چانڈیو کے لیے بھی جگہ ہونی چاہیے جس کے اسلوب کو لاکھ تنقید کا سامنا رہا، مگر جس کی آواز نے میلوں، بسوں، ٹرکوں اور کھیتوں میں کام کرتے لوگوں کو اپنا عکس دکھایا۔ جلال نہ راگ کا پابند تھا، نہ روایت کا قیدی، وہ عوام کی سماعت اور نبض پر ہاتھ رکھنے والا فنکار تھا۔
شاید اسی لیے چوتھائی صدی گزرنے کے بعد بھی سندھ کے کسی ویران اسٹینڈ، کسی دھول اڑاتے ٹریکٹر یا کسی اندھیری شاہراہ پر چلتے ٹرک سے جب ایکتارے کی وہ مانوس تان ابھرتی ہے تو لگتا ہے جلال کہیں گیا ہی نہیں۔ وہ اب بھی یہی ہے، سندھ کی اجتماعی یادداشت میں، زندہ، بے ترتیب، اور ناقابلِ فراموش۔
آج جلال کی برسی پر سندھ کے کئی گھروں میں کوئی پرانی کیسٹ چلے گی، کہیں موبائل پر کوئی دھندلی ریکارڈنگ سنائی دے گی۔
جلال چانڈیو جسمانی طور پر اس مٹی میں سو رہے ہیں، مگر ان کی آواز آج بھی زندہ ہے۔ سندھ کی راتوں میں، اس کی خاموشی میں، اور ان دلوں میں جو آج بھی ایکتارے کی ایک تار پر پوری کائنات سن لیتے ہیں۔
