سندھی زبان کے مشہور اور عوامی شاعر استاد بخاری 16 جنوری 1930 کو سندھ کے شہر دادو میں پیدا ہوئے۔
سندھی شاعری میں شاہ لطیف اور شیخ ایاز کے بعد اگر کسی شاعر کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی تو وہ استاد بخاری ہی ہیں۔
استاد بخاری کی مقبولیت کی وجوہات ویسے تو کافی ہیں، لیکن وہ دو وجوہات کی بنا پر زیادہ مشہور ہوئے۔ ایک تو ان کا اندازِ بیان سادہ اور حسین ہے۔ ان کی شاعری میں مشکل الفاظ نہیں ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے لغت کا سہارا لینا پڑے۔ ان کی شاعری سیدھی دل میں اتر جاتی ہے، جس طرح سچی محبت۔
استاد بخاری کی شاعری میں سچی اور خالص محبت کا عنصر نمایاں ہے۔ ایسی محبت جیسی صرف گاؤں کی لڑکیاں ہی کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ ان کی شاعری بہت سے گلوکاروں نے گائی، جس کی وجہ سے ان کا کلام زیادہ لوگوں تک پہنچ سکا۔ کیونکہ کتاب ہر کوئی نہیں پڑھتا، لیکن گانے ہر کوئی سنتا ہے۔
استاد بخاری کی شاعری نوجوان نسل اور معمر لوگوں میں یکساں مقبول ہے۔
لیکن ان کی شاعری کا دیگر زبانوں میں زیادہ ترجمہ نہیں ہوا، جو کہ ہونا چاہیے۔
میں نے استاد بخاری کے کچھ اشعار کا اردو میں ترجمہ کرنے کی جسارت کی ہے۔ پیشِ خدمت ہے:
محبت سے جو ڈرتے ہیں بھلا وہ لوگ کیسے ہیں
حقیقت سے جو ہٹتے ہیں بھلا وہ لوگ کیسے ہیں
نہیں جو وصل میں جھومیں، جدائی میں نہ جو روئیں
جو جیون خاک جیتے ہیں بھلا وہ لوگ کیسے ہیں
مزا کیا چاند جب بدلی میں چھپ جائے مرے دلبر
حجابوں میں جو چھپتے ہیں بھلا وہ لوگ کیسے ہیں
یہ شاعر جو بخاری ہے، ہاں اس کی ریت نیاری ہے
جو پاگل اس کو کہتے ہیں بھلا وہ لوگ کیسے ہیں
ادبی خدمات پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے 2009ء میں انہیں صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی دیا گیا۔
استاد بخاری 9 اکتوبر 1992 کو انتقال کر گئے۔
