صوبہ سندھ میں ابتدائی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بی پی ایس 15 میں ارلی چائلڈہڈ ٹیچر (ای سی ٹی) کی بھرتیوں کا عمل جاری ہے، تاہم اس عمل میں پالیسی اور میرٹ کے درمیان عدم توازن پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، خصوصاً خواتین امیدواروں کے حوالے سے صورتحال تشویش کا باعث بن گئی ہے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق ای سی ٹی کا شعبہ بچوں کی بنیادی تعلیم اور ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے، مگر اس وقت بھی 600 سے زائد اسامیاں خالی پڑی ہیں، جو انتظامی کمزوری اور تعلیمی نظام کی عملی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔ دوسری جانب بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ خواتین امیدوار محض چند نمبروں کی کمی کے باعث میرٹ لسٹ میں شامل نہیں ہو سکیں۔
ذرائع کے مطابق متعدد خواتین امیدواروں نے آئی بی اے سکھر کے زیر اہتمام ہونے والے امتحان میں شرکت کی اور بی ایڈ و ایم ایڈ جیسی پیشہ ورانہ ڈگریاں بھی رکھتی ہیں، تاہم ایک یا دو نمبروں کے فرق نے ان کے لیے ملازمت کے دروازے بند کر دیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال پالیسی میں سختی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں معمولی فرق بھی فیصلہ کن ثابت ہو رہا ہے۔
دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پہلے ہی محدود ہیں، ایسے میں اس طرح کی صورتحال نہ صرف انفرادی سطح پر ناانصافی ہے بلکہ مجموعی طور پر خواتین کی شمولیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں سندھ حکومت مختلف بھرتیوں میں پالیسی میں نرمی کا مظاہرہ کر چکی ہے۔ 2021 کی پی ایس ٹی بھرتیوں میں پاسنگ مارکس 55 سے کم کر کے 40 کیے گئے، جس کے نتیجے میں تقریباً 90 ہزار امیدواروں کو ملازمتیں دی گئیں، جبکہ ہارڈ ایریاز میں 33 نمبر حاصل کرنے والوں کو بھی کامیاب قرار دیا گیا۔ اسی طرح 2018 کی ای سی ٹی بھرتیوں میں بھی کم نمبروں پر امیدواروں کو موقع دیا گیا۔
سرکاری پالیسی کے مطابق 17 مئی 2022 کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے 40 فیصد نمبر مقرر کیے گئے تھے، جبکہ 19 مارچ 2021 کے نوٹیفکیشن کے تحت تھرپارکر، ٹھٹھہ، سجاول، کشمور، کندھ کوٹ اور دادو کو ہارڈ ایریاز قرار دیا گیا، جہاں اساتذہ کی شدید کمی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق خواتین ای سی ٹی کے لیے 1188 نشستیں مختص کی گئیں، تاہم صرف 585 امیدوار کامیاب ہو سکیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں اسامیاں خالی رہ گئیں۔ تھرپارکر سمیت کئی علاقوں میں کامیابی کی شرح انتہائی کم رہی، جو موجودہ پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔
جب خالی نشستیں موجود ہوں اور اہل امیدوار دستیاب ہوں تو مختلف بھرتیوں میں مختلف معیار کا اطلاق شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ اگر ماضی میں کم نمبروں پر بھرتیاں کی جا سکتی ہیں تو 50 سے زائد نمبر حاصل کرنے والی خواتین کو نظر انداز کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔
سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اگر ای سی ٹی بھرتیوں میں پاسنگ مارکس 55 کے بجائے 50 یا 40 کیے جائیں تو نہ صرف خالی نشستیں پُر ہو سکتی ہیں بلکہ اہل خواتین کو بھی مواقع مل سکتے ہیں۔
خاص طور پر ہارڈ ایریاز میں متعدد خواتین امیدواروں نے مشکلات کے باوجود 50 سے 54 نمبر حاصل کیے، مگر وہ میرٹ سے باہر رہ گئیں۔ ماہرین کے مطابق انہیں موقع دینا نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوگا بلکہ تعلیمی نظام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
خواتین امیدواروں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ای سی ٹی بھرتیوں کی پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور خواتین کے لیے پاسنگ مارکس میں نرمی لائی جائے۔ اقلیتی خواتین کے لیے 5 فیصد کوٹے کے تحت 40 سے زائد نمبر پر رعایت دینے یا کم از کم 50 نمبر مقرر کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، تاکہ خالی اسامیاں جلد پُر ہو سکیں اور تعلیمی نظام مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔

