15 مئی 1984: جب ڈاکو پرو چانڈیو کی ہلاکت کے بعد آئی جی سندھ بشیر صدیقی پر ڈاکوؤں کا حملہ ہوا

پرو چانڈیو

1980 کی دہائی میں پاکستان کے فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے خلاف سندھ میں چلنے والی ایک بڑی سیاسی تحریک ایم آر ڈی یا تحریک بحالی جمہوریت کے مقابلے میں ضیا کے مارشل لا نے سندھ میں ڈاکوؤں کی حوصلہ افزائی کی، تاکہ امن و امان کی صورت حال خراب رہے۔

اس وقت ڈاکوؤں کے عروج کا دور تھا اور بدنام زمانہ ڈاکو پرو چانڈیو اور اس کے ساتھی اپنے عروج پر تھے۔ اس دور میں یکم نومبر 1983 سے 12 اگست 1984 تک شکارپور کے مشہور تعلیم یافتہ صدیقی خاندان سے تعلق رکھنے والے بشیر احمد صدیقی انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ رہے۔ ان کے والد کا نام خان محمد صدیقی تھا جبکہ ان کے بھائیوں میں نظیر احمد صدیقی، ڈاکٹر منیر احمد صدیقی، جمیل احمد صدیقی (ڈپٹی کمشنر) اور سلطان احمد صدیقی (ایڈیشنل سیشن جج) شامل تھے۔

بشیر احمد صدیقی کی سفارش پر حکومت نے میرباز خان آفریدی کو سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) دادو مقرر کیا۔ ساتھ ہی ڈی ایس پی علی گوہر مٹھاڻي اور انسپکٹر عنایت اللہ سومرو کو میہڑ میں ڈی ایس پی اور ایس ایچ او مقرر کرکے پرو چانڈیو کی زندہ یا مردہ گرفتاری کا ہدف دیا گیا۔

پولیس افسروں نے پرو چانڈیو کے خلاف اس کے ایک دوست لطیف چانڈیو کو لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ آخرکار پرو چانڈیو، علی گوہر چانڈیو، غلام قادر میربحر اور دیگر 14 اپریل 1984 کو لطیف چانڈیو کے گاؤں کشو چانڈیو میں دعوت پر جمع ہوئے۔ دعوت میں میزبان لطیف چانڈیو والوں نے پرو چانڈیو کے ساتھیوں کو نشہ دیا۔

دعوت کے بعد جیسے ہی پرو چانڈیو کے لوگ واپس روانہ ہوئے تو شاہ پنجو ریلوے پھاٹک پر پولیس پہلے سے مورچہ بند تھی۔ ڈی ایس پی میہڑ علی گوہر مٹھاڻي، انسپکٹر عنایت اللہ سومرو، سب انسپکٹر غازی محمد، ایس ایچ او تھرڑی محبت کی قیادت میں پولیس پارٹیوں اور پرو چانڈیو کے گروہ کے درمیان مقابلہ ہوا، جس میں پرو چانڈیو اور غلام قادر میربحر مارے گئے جبکہ اس کا بھائی علی گوہر چانڈیو اور دوسرے ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پرو چانڈیو اور غلام قادر میربحر کی ہلاکت اور پولیس مقابلے کا مقدمہ پولیس اسٹیشن تھرڑی محبت میں ایس ایچ او غازی محمد کی مدعیت میں 14 اپریل 1984 کو ایف آئی آر نمبر 15/1984 بجرم دفعات 307، 353، 412، 148، 149 پی پی سی درج کیا گیا۔ جس میں بتایا گیا کہ پولیس مقابلے میں پرو چانڈیو اور غلام قادر میربحر مارے گئے جبکہ ملزمان عظیم چانڈیو اور مجیب چانڈیو کو مقابلے کے بعد گرفتار کرلیا گیا اور باقی ساتھی فرار ہوگئے۔

ایف آئی آر میں پولیس سے مقابلہ کرنے کا مقدمہ پرو چانڈیو کے بھائی علی گوہر چانڈیو، مزن چانڈیو، پٹھان چانڈیو، غلاموں چانڈیو، ہوت چانڈیو اور مٹھو سیال سمیت دیگر نامعلوم ڈاکوؤں کے خلاف درج کیا گیا، جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پرو چانڈیو اور غلام قادر میربحر کے مارے جانے کے ٹھیک ایک ماہ بعد پرو چانڈیو کے بھائی علی گوہر چانڈیو نے بدلہ لینے کے طور پر 15 مئی 1984 کو آئی جی سندھ پولیس بشیر صدیقی کے قافلے پر حملہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق پرو چانڈیو اور غلام قادر میربحر کے مارے جانے کے بعد آئی جی سندھ پولیس بشیر احمد صدیقی 15 مئی 1984 کو پولیس انسپیکشن اور مقابلے میں حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں کو شاباش دینے کے لیے دادو پہنچے۔ ایس ایس پی آفس میں اجلاس کے بعد وہ پرو چانڈیو والے مقابلے کی جگہ اور میہڑ، تھرڑی محبت تھانوں کے دورے کے لیے ایس ایس پی دادو میرباز خان آفریدی اور دیگر اہلکاروں کے ساتھ قافلے کی صورت میں روانہ ہوئے۔

مخدوم بلاول اور پیر جگ شین کے درمیان گاؤں در محمد ابڑو کے قریب پولیس پوسٹ ککڑ کی حدود میں دن دہاڑے ڈاکوؤں کے گروہ نے علی گوہر چانڈیو کی قیادت میں آئی جی سندھ پولیس بشیر صدیقی کے قافلے پر حملہ کردیا۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ آئی جی سندھ بشیر صدیقی کو گاڑی سے اتر کر سڑک کے کنارے مورچہ بند ہوکر مقابلہ کرنا پڑا۔

مزید پولیس نفری پہنچنے پر ڈاکو فرار ہوگئے۔ اس حملے میں دو پولیس کانسٹیبل جان سے گئے جبکہ دونوں جانب سے کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔

آئی جی سندھ بشیر صدیقی پر اس حملے کا مقدمہ 15 مئی 1984 کو سرکار کی مدعیت میں اے ایس آئی اللہ ڈنو، انچارج پولیس پوسٹ ککڑ نے گناہ نمبر 91/1984 پولیس اسٹیشن خیرپور ناتھن شاہ میں دفعات 302، 395، 393، 397، 307، 353، 148، 149 اور 17/3 HO PPC کے تحت درج کیا۔

اس مقدمے میں درج ذیل ڈاکو نامزد کیے گئے:

1۔ علی گوہر چانڈیو
2۔ نادر جسکانی
3۔ سرور عرف سرو چانڈیو
4۔ گل حسن چانڈیو
5۔ محمد خان چانڈیو
6۔ ٹھارو ماچھی
7۔ مٹھو سیال
8۔ اکبر کھوسو
9۔ غلاموں چانڈیو

جبکہ اس مقدمے کی تفتیش انسپکٹر عبدالغفور گجر، ایس ایچ او پولیس اسٹیشن خیرپور ناتھن شاہ اور دیگر پولیس افسروں کے سپرد کی گئی۔

بعد میں ستمبر 1986 میں ڈی ایس پی علی گوہر مٹھاڻي کی قیادت میں پولیس پارٹیوں نے ڈاکو نادر جسکانی کو اس کے دو ساتھیوں سمیت ٹنڈوالہیار کے قریب زندہ گرفتار کرکے پولیس مقابلہ ظاہر کرتے ہوئے مار دیا۔ جبکہ 1986 ہی میں علی گوہر چانڈیو کو بھی شاہ پنجو کے قریب پیروز شاہ بند کے پاس مقابلہ ظاہر کرکے مار دیا گیا۔

اس طرح سندھ میں برسوں تک دہشت کی علامت بنے یہ کردار اپنے انجام کو پہنچے، جبکہ پرو چانڈیو اور غلام قادر میربحر کو مروانے والے لطیف چانڈیو کو بھی سینٹرل جیل حیدرآباد میں پھانسی دے دی گئی۔

اسی بارے میں: