سندھی فلموں کی ترقی میں حاکم علی زرداری کا کردار

حاکم علی زرداری

کل نیو جرسی کے قریبی دوست اور سندھ کے سجن مشتاق سومرو نے ایک پرانی سندھی فلم ‘سورٹھ’ کا پوسٹر شیئر کیا، جس سے بات چیت کا آغاز ہوا۔ میں اس پوسٹر کے حوالے سے گفتگو کو سندھی فلم کی ترقی سے جوڑنا چاہتا تھا، کیونکہ فلم فن کا ایک اہم حصہ ہے، اور فن تو تہذیبیں پیدا کرتی ہیں، لیکن ول ڈیورانٹ کے بقول اضافی وسائل اور وقت کے بغیر تہذیب پیدا نہیں ہو سکتی، اور موجودہ دور کی سندھی تہذیب فنونِ لطیفہ کے اس طاقتور میڈیم، فلم، کو آگے بڑھانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

اسد شیخ نے سندھی سنیما کی ترقی میں رئیس حاکم علی زرداری کے کردار کے بارے میں میری دی گئی مختصر رائے پر لکھا کہ مجھے اس موضوع پر ایک مضمون لکھنا چاہیے، ساتھ ہی ایک ہنستے ہوئے ایموجی بھی دے دیا، جس سے کئی مطلب اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے سوال کے پیچھے نیت کیا تھی، اسے چھوڑ کر دل چاہا کہ رئیس حاکم علی زرداری کے بارے میں کچھ بات کی جائے۔

حاکم علی زرداری نے 20 سال کی عمر میں کراچی اور حیدرآباد میں دو سنیما گھر قائم کیے۔ انہوں نے سندھی فلمیں بنائیں، جن کے وہ خود ڈسٹری بیوٹر بھی تھے۔ وہ اردو اور پنجابی فلموں کے بھی ڈسٹری بیوٹر تھے۔ ان کی ایک سندھی فلم کے پوسٹر، جس سے یہ گفتگو شروع ہوئی، میں سندھ کے بڑے اداکاروں نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ رئیس حاکم علی زرداری خود سیاست میں چلے گئے اور سندھی فلمیں بنانے کا ان کا شوق ادھورا رہ گیا۔

ہمارا تعلق ان سے اس وقت قائم ہوا جب وہ عوامی نیشنل پارٹی کے سرگرم رہنما تھے۔ ہم سجاگ بار تحریک کا حصہ تھے اور اس زمانے میں پارٹی کے ساتھی انہیں ‘چاچا حاکم علی’ کہا کرتے تھے۔ وہ شاہ پور چاکر میں دادا سلیمان ڈاہری کے گھر آئے ہوئے تھے۔ دادا سلیمان بعد میں ان کے منیجر بھی بنے۔ سابق فوجی آمر ضیال کے مارشلا کے خلاف سندھ کے لوگوں کے تحریک بحالی جمہوریت ایم آر ڈی کے دور میں پارٹی کے دوستوں سے جو تعلقات ان کے قائم ہوئے، وہ انہیں نبھاتے رہے۔

ہماری پارٹی کے ایک اور دوست سائیں مشتاق نظامانی، جو خود بھی رئیس ہیں، ان کے ذریعے میرا بھی ان سے دوبارہ تعلق 2003 سے 2006 تک قائم رہا۔ ان کے برٹش کونسل خانے کے قریب واقع گھر جانا ہوتا تھا۔ پلیجو صاحب بھی وہاں آیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ڈاکٹر نظیر شیخ اور پلیجو صاحب میرے چھوٹے سے فلیٹ پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ لانگ مارچ کا آخری دن تھا۔ جلسہ ختم کر کے فلیٹ پر آئے تو رئیس مشتاق نظامانی کا فون آیا کہ حاکم زرداری صاحب پلیجو صاحب سے ملنا چاہتے ہیں۔

اس دن لانگ مارچ کے جلسے میں چاچا حاکم علی زرداری بھی آئے تھے اور انہیں سندھی عوام کے طویل لانگ مارچ میں ہزاروں سندھی خواتین کی شرکت دیکھ کر خوشی اور حوصلہ ملا تھا۔ ان کی دوسری اہلیہ، جنہیں ‘بیگم صاحبہ’ کہا جاتا تھا، کی بھی خواہش تھی کہ سندھیاڻي تحریک کی مالی مدد کی جائے۔

حاکم علی زرداری کی دوسری شادی زرین آرا بخاری سے ہوئی تھی، جو پاکستان کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کی۔ اس شادی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ چاچا حاکم علی زرداری کے چاروں بچے پہلی اہلیہ بلقیس سلطانہ سے ہیں۔ وہ حسن علی آفندی کی پوتی تھیں، جو کراچی میں سندھ مدرسة الاسلام کے بانی تھے۔

میں نے رئیس مشتاق نظامانی کے ذریعے اور براہِ راست بھی چاچا حاکم علی زرداری سے سندھ ٹی وی کے لیے انٹرویو دینے کی کئی بار درخواست کی، لیکن وہ ٹالتے رہے۔

ایک مرتبہ ان کے گھر پر بیگم عابدہ حسین آئی ہوئی تھیں۔ مشتاق نظامانی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ راڄپر کو کہو اگر انٹرویو کرنا چاہتا ہے تو آ جائے۔ میں بھی پہنچ گیا۔ ان کے ساتھ ‘بیگم صاحبہ’ بھی موجود تھیں۔ میں نے مذاقاً کہا، ‘میں آپ کا انٹرویو کرنے آیا ہوں۔’ وہ ہنس کر بولے، ‘اگلی بار۔’ وہ اگلی بار کبھی نہ آئی۔

امریکی قونصل خانے میں ملازمت ملنے کے بعد میں نے ٹی وی چھوڑ دیا۔ اپنے دونوں پروگرام ‘ڈائیلاگ’ اور ‘نیٹھ کیا کریں’ دوسرے دوستوں کے حوالے کر کے ایک نئے سفر پر نکل پڑا۔

کئی سال پہلے، جب آصف علی زرداری کی شادی محترمہ بینظیر بھٹو سے نہیں ہوئی تھی، حاکم علی زرداری 1970 میں چالیس سال کی عمر میں پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی تھے۔ ایم آر ڈی کے دوران رسول بخش پلیجو، شہید فاضل راہو اور سید عالم شاہ کے ساتھ مل کر انہوں نے ولی خان، اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک کے ہمراہ عوامی نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی۔

بینظیر اور آصف کی سیاست کی وجہ سے انہیں کئی بار قید کیا گیا، لیکن ان پر کبھی کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ ہمارے ہاں تحقیق کے بغیر لوگوں کے بارے میں دقیانوسی باتیں پھیلا کر انہیں کمتر دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میں نے اپنی محدود ملاقاتوں میں انہیں ایک باوقار، سلجھے ہوئے، پڑھے لکھے اور عزت دینے اور لینے والے انسان کے طور پر دیکھا۔ وہ پیپلز پارٹی کا حصہ ضرور بنے، لیکن میرا خیال ہے کہ انہوں نے عوامی تحریک کے ساتھیوں اور پلیجو صاحب سے اپنا تعلق کبھی ختم نہیں کیا۔

بات سندھی فلم سے شروع ہوئی تھی اور کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ زندگی دراصل کہانیوں کا مجموعہ ہے، اور فلم اس کا عکس ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ صحیح لکھنے والے، پیش کرنے والے اور اداکاروں کے ہاتھ میں ہو۔

اسی بارے میں: