سندھ، جو تاریخی طور پر صوفی روایتوں، رواداری اور مضبوط سیاسی شعور کی سرزمین رہی ہے، اس وقت ایک گہرے بحران سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے قبائلی معاشرے اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے ‘اجتماعی غیرت’ اور فوری ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف سندھ میں پریا کماری، فضیلا سرکی جیسی بیٹیاں برسوں سے لاپتہ ہیں اور سعید میمن جیسے بے گناہ شہری اغوا ہو چکے ہیں، مگر سندھ کا معاشرہ کسی بڑی اجتماعی تحریک کو جنم دینے میں ناکام رہا ہے۔
سندھی سماج اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر ناکامی کا شکار ہے۔ قبائلی جھگڑے، کاروکاری، سرداری اور وڈیرا شاہی نظام کی خوشامد، اور سوشل میڈیا کا غیر اخلاقی استعمال، فحش ویڈیوز، نازیبا پوسٹس، غیبت اور کردار کشی اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ شریف لوگ اور خواتین فیس بک استعمال کرنے سے نفرت محسوس کرنے لگے ہیں۔
قومی وسائل کی لوٹ مار پر خاموشی اور کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی سازشوں کے خلاف مؤثر مزاحمت کا نہ ہونا ایک بڑا المیہ ہے۔
اہم سوالات
سندھی معاشرہ اپنی بیٹیوں اور شہریوں کے اغوا پر ویسا ردعمل کیوں نہیں دیتا جیسا پشتون یا بلوچ معاشرہ دیتا ہے؟
سندھی نوجوانوں کے شعور کو مضبوط بنانے کے بجائے سوشل میڈیا اخلاقی زوال کا سبب کیوں بن رہا ہے؟
سرداری نظام اور ‘بھوتار کلچر’ نے سندھیوں کی اجتماعی جدوجہد کو کیسے مفلوج کر دیا ہے؟
قبائلی معاشرہ بمقابلہ زرعی اور جاگیردارانہ معاشرہ
پشتون اور بلوچ معاشرے آج بھی اپنے خالص قبائلی ڈھانچے پر قائم ہیں، جہاں ‘قبیلے کی عزت و ناموس’ کے لیے سب متحد ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس سندھ کی صورتحال مختلف ہے۔ یہاں سردار یا وڈیرا قبیلے کا محافظ نہیں بلکہ اکثر اس کا استحصال کرنے والا بن چکا ہے۔ سندھی عوام کو معاشی طور پر اتنا کمزور کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بقا کی جنگ میں پوری قوم کے درد کو بھول بیٹھے ہیں۔
جب بلوچستان سے سعید میمن اغوا ہوتا ہے تو سندھ کی کسی بڑی سیاسی یا سماجی قوت کی طرف سے بلوچستان جا کر احتجاج کرنے کا اعلان سامنے نہیں آتا۔ یہ سندھ کی قیادت اور سماجی تنظیموں کی کمزوری اور خوف کی علامت ہے۔
پریا کماری، جو اقلیتی برادری سے تعلق رکھتی ہے، اور فضیلا سرکی، جو ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے، کا برسوں تک لاپتہ رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ ریاستی اور سماجی ڈھانچہ صرف طاقتور اور امیر کے تحفظ کے لیے کھڑا ہے۔
سوشل میڈیا اور فکری زوال
فیس بک پر سندھی سماج کا ایک بڑا حصہ قومی حقوق کی بات کرنے کے بجائے ان امور میں مصروف ہے:
وڈیروں کی خوشامد
بھوتاروں کی بے جا تعریف
ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا
ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا
حالانکہ سوشل میڈیا معلومات، شعور اور سیکھنے کا ایک مضبوط ذریعہ ہو سکتا تھا، مگر وہاں فحش مواد اور غیر اخلاقی پوسٹس کا عام ہونا اس بات کی علامت ہے کہ معاشرے میں فکری خلا پیدا ہو چکا ہے۔ جب کسی قوم کے پاس کوئی بڑا مقصد یا نظریہ نہ ہو تو نوجوان اسی قسم کی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
کراچی اور سندھ کی وحدت
اس وقت سندھ کو توڑنے اور کراچی کو الگ کرنے کے مختلف منصوبے زیر بحث رہتے ہیں۔ کراچی سندھ کی معاشی اور سیاسی روح ہے، مگر اس کے باوجود سندھی عوام کی مزاحمت زیادہ تر صرف انتخابات تک محدود ہو چکی ہے۔
تاریخ میں سندھ نے ون یونٹ کے خلاف اور ایم آر ڈی جیسی عظیم تحریکیں چلائیں، مگر آج وہ اجتماعی قومی شعور کمزور پڑ چکا ہے۔ اقتدار میں بیٹھے وڈیرے میرٹ کا قتل کر کے نوجوانوں کو محرومیوں میں دھکیل رہے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتیں اقتدار کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے سامنے اجتماعی قومی شعور کا سودا کر چکی ہیں۔
یہ بے حسی کیوں؟
سندھی قوم کی یہ بے حسی کوئی فطری یا پیدائشی چیز نہیں بلکہ ایک گہری ‘سماجی بیماری’ ہے۔ جاگیردارانہ نظام، تباہ حال تعلیم، ریاستی بے حسی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال نے مل کر سندھی معاشرے کو مفلوج کر دیا ہے۔
جہاں پشتون اور بلوچ اپنی روایات سے طاقت لیتے ہیں، وہاں سندھی سماج اپنے ہی سرداروں کے پیدا کردہ قبائلی جھگڑوں اور کاروکاری جیسے ناسور میں الجھا ہوا ہے۔
حل کیا ہے؟
ایسی صورتحال میں سندھی دانشوروں، ادیبوں اور باشعور نوجوانوں کو فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر منظم انداز میں موجودہ بھوتار کلچر، سندھ کی تقسیم کی سازشوں اور اخلاقی زوال کے خلاف ایک فکری جدوجہد شروع کرنا ہوگی۔
قبائلی جھگڑے کرانے والے سرداروں اور بیٹیوں کے اغوا پر خاموش رہنے والوں کا سماجی بائیکاٹ کرنا ہوگا۔
سندھ کو وڈیرا شاہی کی خوشامد سے نکالنے کے لیے متوسط طبقے اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو آگے آ کر مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنا ہوگی۔
سوشل میڈیا کی گندگی سے نکل کر عملی میدان میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔
سندھ ابھی مکمل طور پر سویا نہیں ہے۔ جہاں ایسے سوال اٹھتے ہیں، وہاں کل تبدیلی کی لہر بھی ضرور جنم لیتی ہے۔ مگر اس کے لیے سندھ سے محبت رکھنے والی تمام قوتوں کو متحد ہو کر عملی جدوجہد کرنا ہوگی۔

