ہمارے یہاں تاریخ کو عموماً شاہی محلوں، جنگی معرکوں اور سیاسی جوڑ توڑ کی عینک سے دیکھنے کا رواج رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی شہر کا حقیقی ارتقا اس کے پتھروں، گلیوں اور سب سے بڑھ کر اس کی پیاس بجھانے کے وسائل کا مرہون منت ہوتا ہے۔
کراچی، جو آج دو کروڑ سے زائد نفوس کی بوجھل آبادی، کینجھر جھیل اور حب ڈیم سے آنے والی پانی کی فراہمی اور واٹر ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہانپ رہا ہے، ہمیشہ سے ایسا بے بس اور پیاسا نہیں تھا۔
انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں جب اس شہر نے ملاحوں اور مچھیروں کی ایک بکھری ہوئی بستی سے خطے کی ایک اہم بین الاقوامی بندرگاہ اور معاشی مرکز کا روپ دھارا، تو اس کے پیچھے آبی انجینئرنگ کا ایک ایسا شاہکار کارفرما تھا، جس نے قدرتی ماحولیات اور انسانی عقل کا نایاب توازن قائم کر دکھایا تھا۔
یہ کہانی ہے کراچی کے اسی ‘آبی معجزے’ کی، جس نے بے آب و گیاہ صحرا اور کھارے پانی کے ساحل پر ایک جدید، منظم اور سائنسی نظام آب رسانی کی بنیاد رکھی۔
کھارے پانی کا شہر اور نوآبادیاتی ضرورت
1843 میں برطانوی تسلط کے بعد جب کراچی کو تجارتی بندرگاہ اور عسکری چھاؤنی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوا، تو سب سے بڑی رکاوٹ یہاں پانی کا غیر معیاری ہونا تھا۔ شہر کے روایتی کنوؤں کا پانی کھارا اور کڑوا تھا، جبکہ نلکے اور منظم نکاسی آب نہ ہونے کے باعث ہیضے کی وبائیں آئے دن فوجیوں اور عام شہریوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی تھیں۔
برطانوی سول انجینئروں نے جب اس خطے کا جغرافیائی جائزہ لیا، تو معلوم ہوا کہ شہر سے تقریباً تیس تا پینتیس کلومیٹر دور ملیر اور تھڈو ندیوں کا ریتلا پیٹ میٹھے پانی اور آب نوشی کے لیے ایک قدرتی ذخیرہ ہے۔ ملیر ندی کا ریتلا پیٹ محض مٹی کا ڈھیر نہیں تھا، بلکہ فطرت کا بنایا ہوا ایک عظیم الشان قدرتی فلٹر اور اسفنج تھا، جو برسات کے پانی کو جذب کر کے اپنے اندر محفوظ کر لیتا تھا۔
ڈملوٹی واٹر ورکس: کشش ثقل کا معجزہ
1881 میں کراچی میونسپلٹی کے نامور برطانوی انجینئر جیمز اسٹریچن کی زیر نگرانی ملیر کے ڈملوٹی علاقے میں ایک تاریخی منصوبے کا آغاز ہوا۔ 1883 میں جب ڈملوٹی واٹر ورکس کا باقاعدہ افتتاح ہوا، تو اس نے ابتدائی طور پر شہر کو یومیہ پینتالیس لاکھ گیلن صاف اور میٹھا پانی فراہم کرنا شروع کیا۔
اس منصوبے کی اصل سائنسی خوبصورتی اس کا بغیر کسی ایندھن یا پمپ کے خودکار طریقے سے چلنا تھا۔
انفلٹریشن گیلریاں
ملیر ندی کی ریتلی تہہ کے نیچے انتہائی باریک، سوراخ دار پائپ اور نالیاں بچھائی گئیں، جو ندی کی ریت میں جذب ہونے والے پانی کو نچوڑ کر مرکزی کنوؤں تک لاتی تھیں۔ وقت کے ساتھ یہاں بارہ سے زائد گیلری کنوئیں تعمیر کیے گئے۔
پکا نالہ
ڈملوٹی چونکہ سطح سمندر سے کافی بلندی پر واقع تھا، اس لیے وہاں سے شہر تک اٹھائیس کلومیٹر طویل ایک پکی ڈھلوانی نہر تعمیر کی گئی۔ پانی بغیر کسی پمپ یا ایندھن کی طاقت کے، محض کشش ثقل کے تحت خودبخود بہتا ہوا کراچی کے مرکزی ذخائر تک پہنچ جاتا تھا۔
دوہرا انتظامی نظام اور طبقاتی آبی ڈھانچہ
برطانوی دور کی شہری ساخت دو واضح حصوں میں تقسیم تھی، فوجی علاقہ یعنی کنٹونمنٹ اور عوامی علاقہ یعنی سول ڈسٹرکٹ۔ اسی تناظر میں پانی کی تقسیم کا انتظامی اور تکنیکی ڈھانچہ بھی دو مختلف دھاروں میں بٹا ہوا تھا۔
ہائی لیول ریزروائر، گارڈن ایریا
گارڈن روڈ پر واقع اس ذخیرہ گاہ کا انتظام کراچی میونسپلٹی کے پاس تھا۔ یہاں سے پانی قدرتی ڈھالان کی مدد سے صدر، اولڈ ٹاؤن، بندرگاہ، برنس روڈ اور نیپئر کوارٹر کے عوامی علاقوں کو سپلائی کیا جاتا تھا۔
سیڈن ہیم ریزروائر، جیکب لائنز
1912 میں بمبئی کے گورنر لارڈ سیڈن ہیم کے نام پر قائم ہونے والا یہ ریزروائر اور پمپنگ اسٹیشن ملٹری ورکس سروسز کے زیر انتظام تھا۔ چونکہ کنٹونمنٹ اور جیکب لائنز کے علاقے نسبتاً بلندی پر واقع تھے، اس لیے یہاں ڈملوٹی سے آنے والے پانی کو عمارتوں کی بالائی منزلوں اور فوجیوں کی بیرکوں تک پہنچانے کے لیے پہلے بھاپ سے چلنے والے پمپ اور بعد میں برقی پمپ نصب کیے گئے۔
اس دور کے نظام آب رسانی میں ایک واضح انتظامی اور طبقاتی فرق بھی پایا جاتا تھا۔ برطانوی فوجیوں کے حفظان صحت کے سخت قوانین کے تحت کنٹونمنٹ کو روزانہ فی کس پانی کا زیادہ کوٹہ میسر تھا، جبکہ عام شہریوں کے لیے گلیوں اور چوراہوں پر اجتماعی نلکے نصب کیے گئے تھے، جہاں سے لوگ میونسپل ٹیکس کے بدلے پانی حاصل کرتے تھے۔
فائر ہائیڈرینٹس سے پخالیوں تک پانی کی ترسیل
جن علاقوں تک زیر زمین بھاری لوہے کی پائپ لائنیں نہیں پہنچی تھیں، وہاں پانی کی ترسیل کا ذریعہ ایک مختلف انسانی اور ثقافتی نظام تھا۔
گارڈن اور جیکب لائنز کے مرکزی ہائیڈرینٹس سے پخالی اپنے چمڑے کی مشکوں میں پانی بھر کر اونٹوں اور گدھا گاڑیوں پر لادتے اور گلی محلوں میں گھر گھر پہنچاتے تھے۔ دوسری طرف انگریزوں نے شہر کو آتش زدگی سے بچانے کے لیے ایم اے جناح روڈ، صدر اور کسٹمز ہاؤس کے اطراف لوہے کے سرخ فائر ہائیڈرینٹس نصب کیے، جن کے زنگ آلود ڈھانچے آج بھی آئی آئی چندریگر روڈ اور صدر کے بعض حصوں میں خاموش تاریخ کی گواہی دیتے ہیں۔
قدرتی اسفنج کی تباہی اور نوآبادیاتی ورثے کا سوگ
1947 میں قیام پاکستان کے وقت جب لاکھوں مہاجرین کی آمد سے کراچی راتوں رات ایک کثیر الثقافتی شہر بن گیا، تو ڈملوٹی اور اس کے جڑواں نظام نے اس اضافی بوجھ کو بھی کئی دہائیوں تک سنبھالے رکھا۔ لیکن 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں اس تاریخی نظام کو شدید نقصان پہنچا، جس کی بڑی وجوہات ہماری اپنی شہری بے حسی اور انتظامی کوتاہیاں تھیں۔
غیر قانونی ریت کی کھدائی
ملیر ندی کے پیٹ سے اندھا دھند ریت نکال کر کنکریٹ کا شہر تعمیر کیا گیا۔ نتیجتاً ندی کی پانی جذب کرنے کی قدرتی اسفنجی صلاحیت ختم ہو گئی اور زیر زمین پانی کی سطح سیکڑوں فٹ نیچے چلی گئی۔
غیر قانونی تجاوزات
ڈملوٹی کے آبی ذخائر سے متعلق قدرتی علاقوں پر فارم ہاؤسز اور بے ہنگم آبادیاں قائم کر کے قدرتی نالوں کے راستے مسدود کر دیے گئے۔
آج ڈملوٹی کے وہ زرد پتھروں والے تاریخی کنوئیں، خوبصورت گنبد اور جیکب لائنز کی سو سال پرانی عمارتیں زبوں حالی کا شکار ہیں۔
ایم اے جناح روڈ سے ملحقہ کسٹمز کالونی کے قریب کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے احاطے میں آج بھی چوبیس اور تیس انچ کے قدیم لوہے کے پائپ، پمپنگ ہال اور بھاری بھرکم والو ہاؤسز موجود ہیں، جو ایک صدی گزرنے کے باوجود زنگ سے بڑی حد تک محفوظ اور تکنیکی لحاظ سے قابل شناخت حالت میں ہیں۔
ڈملوٹی اور جیکب لائنز کا یہ نظام آب رسانی محض ایک متروک پائپ لائن یا ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ اس بات کا سائنسی اور عملی ثبوت ہے کہ کسی شہر کی پیاس بجھانے کے لیے فطرت کو تباہ کرنا ضروری نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ ہم آہنگی اور سائنسی تدبر قائم کرنا ہوتا ہے۔
تجاویز
اگر کراچی کے موجودہ پالیسی ساز ذرا سی بصیرت کا مظاہرہ کریں، تو جیکب لائنز اور ڈملوٹی کی ان سو سالہ قدیم تنصیبات اور والو ہاؤسز کو ایک ‘صنعتی ورثہ’ یا ‘واٹر ورکس میوزیم’ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ میوزیم آنے والی نسلوں کو یہ بتانے کے لیے ضروری ہے کہ کراچی کبھی پانی کا کشکول لیے کھڑا رہنے والا شہر نہیں تھا، بلکہ اپنی سائنسی فراست، تجارتی بصیرت اور ماحولیاتی تدبر کے بل بوتے پر صحرا اور سمندر کے درمیان ایک خود کفیل اور آباد شہر تھا۔
سندھو دریا کے ڈیلٹا سے ذرا فاصلے پر واقع کراچی کا جوڑیا بازار آج بھلے ہی صرف ہول سیل مارکیٹ کی ہٹ دھرمی، مصالحوں کی تیز چبھتی خوشبوؤں، اناج کی بوریوں کی نقل و حمل اور تجارتی چیخ و پکار کا ایک بے ہنگم، گنجان اور ساختیاتی طور پر بدصورت مرکز دکھائی دیتا ہو، لیکن اس دم گھونٹتے ہوئے تجارتی ہجوم کے عین درمیان ماضی کا ایک ایسا حصار آج بھی سسکیاں لے رہا ہے جو تقسیم ہند 1947 سے قبل کے کراچی کے فلاحی، اخلاقی اور کثیر الثقافتی چہرے کی خاموش گواہی دیتا ہے۔
کراچی کی تاریخی پہچان کہلائے جانے والے ‘گزری کے زرد پتھروں’ سے تعمیر شدہ ایک سو برس سے زائد پرانی عمارت کے ماتھے پر، آزادی کے اتنے برسوں بعد بھی، واضح حروف میں گجراتی زبان کا یہ کتبہ کندہ ہے:
‘ધારસી હાલાઇ લોહાણા ધમશાળા ૧૯૧૮’
ترجمہ: دھارسی ہالائی لوہانہ دھرم شالہ 1918
آزادی کے بعد اردو زبان کے غالب بیانیے اور زبردستی مسلط کردہ حافظے والے اس شہر کے قلب میں گجراتی رسم الخط اور ہندسوں میں لکھی یہ تحریریں محض پتھر پر کھدی ہوئی چند علامات نہیں، بلکہ یہ شہر قائد کے اس مایہ ناز اور گمنام ماضی کا دستاویزی ثبوت ہیں جب یہ بندرگاہی شہر ہندو، مسلم، پارسی اور عیسائی برادریوں کی مشترکہ معاشی دانش اور رواداری پر استوار ہو رہا تھا۔
لوہانہ تاجر اور 1947 کا تاریخی المیہ
‘لوہانہ’ بنیادی طور پر سندھ، گجرات اور کاٹھیاواڑ کے ہندو تاجروں کی ایک انتہائی معزز، متمول، تزویراتی طور پر بیدار اور سخی برادری رہی ہے۔ یہ عمارت 1918 میں، یعنی پہلی جنگ عظیم کے خاتمے اور جدید دنیا کے ابھرنے کے سال، کراچی آنے والے ہندو مسافروں، غریب زائرین اور چھوٹے بیوپاریوں کی پناہ کے لیے ایک فلاحی مسافر خانے کے طور پر قائم کی گئی تھی، تاکہ باہر سے آنے والے کسی اجنبی کو کراچی بے آسرا نہ لگے۔
لیکن تاریخ کا سب سے سفاک اور دردناک موڑ 1947 میں آیا۔ 1918 میں بنی اس عمارت کے اصل معمار اور رکھوالے، جن کے آباؤ اجداد نے اس بندرگاہی شہر کو عام ملاحوں، مچھیروں اور مزدوروں کی ایک چھوٹی بستی سے بدل کر برصغیر کا سب سے بڑا تجارتی بندرگاہی شہر بنانے میں اپنا خون پسینہ بہایا تھا، ٹھیک 29 برس بعد راتوں رات اپنے عالیشان گھر، محنت سے کھڑے کیے گئے کاروبار اور ایسی سخی دھرم شالائیں ہمارے سپرد کر کے صرف جنونی جتھوں کے ہاتھوں اپنی جانیں بچانے کی خاطر ‘شرنارتھی’ بن کر ہندوستان پہنچے۔
جو عمارت دوسروں کو آسرا دینے کے لیے بنی تھی، اس کے اپنے وارث خود اپنے ہی وطن سے سدا کے لیے مسافر بن گئے۔
عامل، بھائی بند اور بین الاقوامی نیٹ ورکس
ریاست اور 1947 کے بعد کے درباری مورخین نے بھلے ہی اس معاشی تاریخ کو نصاب سے خارج کر دیا ہو، لیکن جوڑیا بازار کی منڈیاں اور زرد پتھروں کے ڈھانچے آج بھی ان تاجروں کی جغرافیائی تزویراتی عقل اور تجارتی مہارت کا اعتراف کرتے ہیں۔
تقسیم سے قبل کے کراچی میں چیمبر آف کامرس، بینکاری اور ہول سیل منڈیوں کو قائم کرنے میں لوہانہ ہندو تاجروں، جن میں گجراتی اور سندھی لوہانہ شامل تھے، کے کردار کا تجزیہ کیا جائے تو یہ برادری دو بنیادی حصوں میں منقسم تھی۔
عامل: پڑھے لکھے، نظم و نسق اور بیوروکریسی کو چلانے والے ماہرین۔
بھائی بند: مقامی اور عالمی تجارت کے منجھے ہوئے کھلاڑی۔
انہوں نے بمبئی، مسقط اور افریقہ کے جزیرے زنجبار تک بحری راستوں سے کپاس، چاول، مصالحے اور خشک میوہ جات کی برآمد و درآمد کا ایسا پائیدار نیٹ ورک قائم کیا جس کا پیدا کردہ توازن آج بھی کراچی کی ہول سیل مارکیٹ کا ڈھانچہ سنبھالے ہوئے ہے۔
سیٹھ مولجی جیٹھالال جیسے لوہانہ تاجروں نے 1914 میں کھارادر میں اس دور کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل مارکیٹ قائم کی، جو بعد میں کوچین والا مارکیٹ کہلائی، اور جس سے منسلک ‘مولجی اسٹریٹ’ کا نام بدل کر ‘اسمعیل گیگا روڈ’ کر دیا گیا۔ اسی طرح دھارسی ہالائی جیسے مخیر بیوپاری اپنے منافع کا بڑا حصہ شہر کے بنیادی ڈھانچے، ہسپتالوں اور دھرم شالاؤں پر خرچ کرتے تھے۔
‘پرمان’ کا زوال، اخلاقی تجارتی کلچر کا خاتمہ
تجارتی اور سماجی تاریخ کے شیشے میں دیکھا جائے تو گجراتی زبان کا جوڑیا بازار اور کراچی کی قدیم منڈیوں سے برائے نام غائب ہونا محض ایک لسانی خسارہ نہیں تھا، بلکہ یہ کراچی کے اس روایتی، اخلاقی اور جڑوں سے جڑے کاروباری کلچر کا المناک خاتمہ تھا۔
پرانے کراچی کے گجراتی بولنے والے لوہانہ، میمن، بوہری اور پارسی تاجروں کا پورا نظام ‘بہی کھاتوں’ پر چلتا تھا جو گجراتی رسم الخط میں تحریر کیے جاتے تھے۔ اس عہد میں چیمبر آف کامرس یا عدالتوں کے چکر کاٹنے کے بجائے ایک زبانی بول کی بنیاد پر لاکھوں روپے کے سودے طے پا جاتے تھے، جسے گجراتی تجارتی لغت میں ‘پرمان’ یعنی وعدہ یا ساکھ کہا جاتا تھا۔
گجراتی زبان اور لوہانہ تاجروں کے انخلا سے وہ قدیم تجارتی نیٹ ورک بکھر گیا جس کی بنیاد خاندانی اعتبار اور اخلاقی ذمہ داری پر تھی۔ اس کی جگہ ایک ایسے بے لچک اور لٹیرے کاروباری ماحول نے لے لی جہاں تحریری معاہدوں اور قانونی پیچیدگیوں کی موجودگی کے باوجود بدعنوانی، جعلی دستاویزات اور راتوں رات مارکیٹ ڈیفالٹ کر کے فرار ہو جانے کا مذموم رجحان عام ہو گیا۔
متروکہ املاک کی لوٹ مار اور ‘تطبیقی بحالی’ کا حل
آج اس تاریخی دھرم شالہ کی پہلی منزل کے نیچے اردو بورڈ والی دکانیں، جیسے ‘ایم ایس ٹریڈرز’، سج چکی ہیں، شٹر گرا دیے گئے ہیں اور اوپری منزلوں کی لوہے کی زنگ آلود سلاخیں اداس کھڑی ہیں۔ یہ پاکستان میں ‘متروکہ وقف املاک’ کا وہ تاریک اور الم ناک پہلو ہے جہاں تاریخی ہندو اور سکھ عمارات بیوروکریٹک بدعنوانی، قانونی تنازعات اور تجارتی لالچ کے گٹھ جوڑ کا شکار ہو کر مٹائی جا رہی ہیں۔ اکثر رات کی تاریکی میں ان عمارتوں پر لگے گجراتی یا گورمکھی کتبے توڑ دیے جاتے ہیں تاکہ ان پر آثارِ ورثہ کے قوانین لاگو نہ ہو سکیں اور انہیں گرا کر بے ہنگم تجارتی پلازے کھڑے کیے جا سکیں۔
اگر ہم اس بچی کھچی تاریخ کو مٹنے سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں ‘تطبیقی بحالی’ کا جدید ماڈل اختیار کرنا ہوگا۔
طویل مدتی لیز اور بحالی
حکومت دکانداروں کو ہٹائے بغیر انہیں اس شرط پر لیز دے کہ وہ عمارت کے بیرونی زرد پتھروں اور گجراتی کتبے کی اصل حالت میں بحالی کے اخراجات خود برداشت کریں گے۔
کراچی تجارتی عجائب گھر
عمارت کا ویران اوپری حصہ، جو اس وقت محض گودام بنا ہوا ہے، اسے ایک چھوٹے ‘کراچی تجارتی عجائب گھر’ یا ثقافتی مرکز میں تبدیل کیا جائے۔
تھری ڈی ڈیجیٹل نقشہ سازی
کراچی کی تمام متروکہ وقف املاک کی فوری تھری ڈی ڈیجیٹل نقشہ سازی اور جغرافیائی اندراج کیا جائے تاکہ لینڈ مافیا اگر کل کو کوئی کتبہ مٹائے تو قانون کے پاس اس کا اٹل ڈیجیٹل ثبوت موجود ہو۔
سب سے بڑی اور بنیادی ضرورت اس حاکمانہ ذہنیت کو بدلنے کی ہے کہ ‘یہ ہندوؤں یا غیر مسلموں کا ورثہ ہے، اس لیے اس کی حفاظت ہماری قومی ذمہ داری نہیں’۔ حکومتی و ریاستی مقتدرہ، محققین اور محکمہ تعلیم کو یہ سچ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ زرد پتھر اور گجراتی رسم الخط کسی دوسرے ملک کا اثاثہ نہیں، بلکہ اس مٹی اور کراچی کا اپنا اصل چہرہ ہیں۔
جب تک ہم تاریخ کو سیکیورٹی اور مذہبی تعصب کی عینک سے دیکھتے رہیں گے، ہم اپنی ہی کثیر الثقافتی جڑوں کو کاٹتے رہیں گے۔ جوڑیا بازار کی یہ خاموش عمارتیں دراصل کراچی کے اسی معاشی، اخلاقی اور ثقافتی المیے کا نوحہ ہیں، جس کی قیمت یہ شہر آج تک چکا رہا ہے۔ (آئی ایس ایم)
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی کے قریب واقع ڈی ایچ اے سٹی کو بجلی سپلائی کرنے کے کے لیے قائم کی گئی ڈی ایچ اے انرجی سپلائی کمپنی (ایک نئی ڈسکو) کو بجلی کی تقسیم کا 20 سالہ لائسنس جاری کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ڈی ایچ اے سٹی کراچی پاکستان کا پہلا نجی ہاؤسنگ منصوبہ بن گیا ہے جسے اپنی حدود میں بجلی کی تقسیم کا باقاعدہ اختیار حاصل ہو گیا ہے۔
نیپرا کے مطابق ڈی ایچ اے انرجی سپلائی کمپنی کو صرف ڈی ایچ اے سٹی کراچی کی حدود میں بجلی تقسیم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ کمپنی کو یکم اکتوبر 2026 سے 30 ستمبر 2046 تک لائسنس دیا گیا ہے، جس کے دوران وہ رہائشی، تجارتی اور دیگر صارفین کو بجلی فراہم کر سکے گی، تاہم اس کی تمام سرگرمیاں نیپرا کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہوں گی۔
کے الیکٹرک کے بعد ڈی ایچ اے انرجی سپلائی کمپنی ملک کی دوسری نجی کمپنی بن گئی ہے جو اپنے طور پر بجلی سپلائی کرسکتی ہے۔
ڈی ایچ اے سٹی کراچی، کراچی شہر سے تقریباً 56 کلومیٹر دور ایم نائن موٹروے پر ضلع ملیر میں واقع ہے۔ یہ تقریباً 22 ہزار ایکڑ پر محیط ایک بڑا رہائشی منصوبہ ہے، جہاں مستقبل میں ہزاروں خاندانوں کی آبادکاری متوقع ہے۔
نیپرا نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ڈی ایچ اے انرجی سپلائی کمپنی صارفین سے بجلی کے نرخ، نظام استعمال کے چارجز یا نئے کنکشن کی کوئی فیس نیپرا کی پیشگی منظوری کے بغیر وصول نہیں کر سکے گی۔ اتھارٹی نے کمپنی کو ہدایت کی ہے کہ وہ 30 روز کے اندر بجلی کے نرخوں کے تعین کے لیے باقاعدہ درخواست جمع کرائے تاکہ منظور شدہ ٹیرف کے مطابق صارفین سے وصولیاں کی جا سکیں۔
نیپرا نے یہ بھی شرط عائد کی ہے کہ کمپنی مالی، فنی اور انسانی وسائل سے متعلق تمام ریگولیٹری تقاضوں پر مکمل عمل درآمد کرے گی۔ کمپنی کو بجلی کی فراہمی، نظام کی حفاظت، صارفین کی شکایات کے ازالے اور سروس کے معیار سے متعلق تمام قواعد کی پابندی کرنا ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق ڈی ایچ اے انرجی سپلائی کمپنی نے اپنی درخواست میں بتایا تھا کہ ڈی ایچ اے سٹی کراچی اس وقت نہ تو قومی گرڈ سے براہ راست منسلک ہے اور نہ ہی کے الیکٹرک کے نیٹ ورک سے۔ کمپنی نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں اس نے لکی سیمنٹ لمیٹڈ سے چھ میگاواٹ بجلی حاصل کرنے کے لیے مفاہمت کی ہے، جس کے ذریعے ڈی ایچ اے سٹی کے صارفین کو بجلی فراہم کی جائے گی۔
اس درخواست پر سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور کے الیکٹرک نے اعتراضات بھی اٹھائے تھے۔ ان اداروں نے کمپنی کی مالی استعداد، تکنیکی صلاحیت اور عملی تجربے پر سوالات اٹھائے تھے، تاہم نیپرا نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور مسابقتی نظام متعارف کرانے کے لیے قانون میں کی گئی ترامیم ایسے نئے اداروں کو کام کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔
نیپرا نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا مقصد پیداوار، ترسیل، تقسیم اور فراہمی کے مختلف شعبوں میں مسابقت کو فروغ دینا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت تقسیم کار کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کی جا رہی ہے تاکہ نئے سرمایہ کار بھی بجلی کی فراہمی کے نظام میں حصہ لے سکیں۔
ریگولیٹر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ڈی ایچ اے انرجی سپلائی کمپنی ایک نئی کمپنی ہے اور ابھی اس کی عملی کارکردگی کا ریکارڈ موجود نہیں، تاہم اس کی بنیادی کمپنی ڈی ایچ اے کراچی مالی طور پر مضبوط ادارہ ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنے ذیلی ادارے کی معاونت کر سکتی ہے۔ نیپرا کے مطابق نئی کمپنی کے لیے لائسنس کا اجرا اس کی مالی اور انتظامی صلاحیت میں مزید بہتری کا باعث بنے گا، جبکہ لائسنس ملنے کے بعد کمپنی قانونی طور پر تمام ریگولیٹری تقاضوں کی پابند ہوگی۔
لیاری کا تاریخی ککری فٹبال گراؤنڈ جدید سہولیات سے آراستہ ہونے کے بعد ایک بار پھر نوجوانوں کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں کھلاڑی فٹبال کی مشق اور مختلف مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔
سندھ حکومت نے ورلڈ بینک کے تعاون سے کراچی نیبرہڈ امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت 2022 میں ککری گراؤنڈ کی ازسرنو تعمیر کا آغاز کیا تھا۔ منصوبے کے تحت گراؤنڈ میں فیفا معیار کے مطابق مصنوعی فٹبال ٹرف نصب کیا گیا، جبکہ باکسنگ ایرینا، کراٹے اکیڈمی، جم، لائبریری، کیفے ٹیریا اور دیگر جدید سہولیات بھی قائم کی گئیں۔ اس جدید اسپورٹس کمپلیکس کا افتتاح جون 2023 میں کیا گیا۔
افتتاح کے بعد سے ککری گراؤنڈ ایک بار پھر لیاری کے نوجوانوں سے آباد ہے، جہاں دن اور رات فٹبال کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ گراؤنڈ میں تقریباً چار سے پانچ ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے، جبکہ یہاں روزانہ نوجوان کھلاڑی تربیت اور دوستانہ مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔
لیاری ٹاؤن کے وائس چیئرمین جمیل احمد ہوت کے مطابق صرف لیاری میں 156 سے زائد فٹبال گراؤنڈز موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موسم کوئی بھی ہو، لیاری میں فٹبال کا کھیل نہیں رکتا۔ ان کے مطابق مقامی آبادی کا یقین ہے کہ جہاں کھیل کے میدان آباد ہوں گے، وہاں نوجوان منشیات اور جرائم سے دور رہیں گے۔
کراچی کے قدیم ترین علاقوں میں شمار ہونے والا لیاری کئی دہائیوں سے پاکستان میں فٹبال کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، اسی وجہ سے اسے ‘منی برازیل’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ککری فٹبال گراؤنڈ اس شناخت کی سب سے نمایاں علامت ہے، جہاں ایک صدی سے زائد عرصے سے فٹبال کو فروغ ملتا رہا ہے اور پاکستان کے متعدد قومی فٹبالرز نے اپنے کھیل کا آغاز اسی میدان سے کیا۔
یہ تاریخی گراؤنڈ صرف کھیل تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف سماجی اور تاریخی تقریبات کا بھی گواہ ہے۔ 1987 میں سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کی شادی کی تقریب بھی اسی گراؤنڈ میں منعقد ہوئی تھی۔
مقامی لوگوں کے نزدیک فٹبال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ امید، شناخت اور بہتر مستقبل کی علامت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی کھیل نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرتا ہے اور انہیں منشیات اور جرائم سے دور رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ککری گراؤنڈ کی بحالی صرف ایک کھیل کے میدان کی مرمت نہیں بلکہ لیاری کی اس تاریخی روایت کو نئی زندگی دینے کی کوشش ہے، جس نے محدود وسائل کے باوجود پاکستان کو بے شمار باصلاحیت فٹبالرز دیے اور آج بھی نئی نسل کو بڑے خواب دیکھنے کی ترغیب دے رہی ہے۔
کسی بھی معاشرے کی تہذیبی بیداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے معماروں، فنکاروں اور اہل علم کے ورثے کو کس طرح سنبھالتا ہے۔ جب کوئی شہر اپنے تمدنی مراکز کو کھو دیتا ہے تو تاریخ اس کا متبادل نہیں دیتی۔
جمشید نسروانجی کے جدید کراچی اور آثار قدیمہ کے پس منظر کے بعد کراچی کی تاریخ کا ایک اور سحر انگیز مگر انتہائی بدقسمت باب طیب جی خاندان، عطیہ فیضی اور ان کے شوہر سمیول رحمین کی صورت میں سامنے آتا ہے، جن کا عروج و زوال اس شہر کے مجموعی تمدنی زوال کی عکاسی کرتا ہے۔
بیسویں صدی کے آغاز پر جب برصغیر کا مسلم معاشرہ قدامت پسندی اور فکری جمود کا شکار تھا، ایک ایسی خاتون ابھری جس نے نہ صرف روایات کے بندھن توڑے بلکہ اپنے عہد کے عظیم ترین ذہنوں کی فکری رہنمائی بھی کی۔
وہ ریاستوں کی حاکم تو نہیں تھیں، مگر دلوں کی ملکہ ضرور تھیں۔ قلوپطرہ کی محبت میں اگر سیزر اور انٹونی گرفتار ہوئے تو عطیہ فیضی کی زلف گرہ گیر کے اسیر برصغیر کے عظیم ترین دانشور، شاعر اور فلسفی بھی تھے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اگر عطیہ فیضی نہ ہوتیں تو شاید علامہ اقبال وہ ‘اقبال’ نہ بن پاتے جنہیں آج ہم شاعر مشرق کہتے ہیں، بلکہ وہ حیدرآباد دکن کے حکمرانوں کی ملازمت میں ہی کہیں گم ہو کر رہ جاتے۔
طیب جی خاندان، بمبئی کی روشن خیالی سے کراچی کی اساس تک
عطیہ فیضی 1877 تا 1967 کا تعلق بمبئی کے نامور اور انتہائی بااثر طیب جی خاندان سے تھا، جو سلیمانی بوہرہ برادری کا ایک ایسا علمی مرکز تھا جس نے برصغیر کی مسلم تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ ان کے والد حسن علی فیض حیدر عثمانی دربار سے منسلک کپڑے اور مصالحوں کے بڑے تاجر تھے۔
عطیہ فیضی کی پرورش بمبئی کی اعلیٰ تہذیب میں ہوئی، جہاں انہوں نے گھر پر اردو، فارسی اور قرآن کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے کیتھولک انگریزی اسکول اور پھر لندن کے ‘ماریا گرے ٹیچرز ٹریننگ کالج’ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
وہ برصغیر کی ان اولین مسلم خواتین میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے اس دور میں پردے کی سخت روایات کو توڑ کر نہ صرف عوامی اجتماعات میں خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی بلکہ پہلی آل انڈیا مسلم لیڈیز کانفرنس میں اپنی بہنوں زہرا بیگم اور نازلی بیگم ملکہ جنجیرہ کے ہمراہ شرکت بھی کی۔
اگرچہ اس خاندان کا اصل مرکز بمبئی تھا، لیکن بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بدرالدین طیب جی کو، جو اس خاندان کی روح رواں شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور انڈین نیشنل کانگریس کے اولین صدور میں شامل تھے، اپنا سیاسی استاد اور آئیڈیل مانتے تھے۔ قائد اعظم کے اس خاندان سے گہرے مراسم تھے۔
اسی دیرینہ تعلق کی بنا پر قائد اعظم نے تقسیم ہند کے بعد عطیہ فیضی اور ان کی بہن نازلی رفیعہ کو خصوصی طور پر کراچی آ کر آباد ہونے کی دعوت دی۔ اس خاندان نے نو زائیدہ پاکستان کو صرف فنون لطیفہ ہی نہیں دیے بلکہ عدالتی اور آئینی نظام کی بنیادوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
عطیہ فیضی کے قریبی رشتہ دار جسٹس حاتم بدرالدین طیب جی قیام پاکستان کے بعد سندھ چیف کورٹ، موجودہ سندھ ہائی کورٹ، کے پہلے مسلم چیف جسٹس بنے، جنہوں نے کراچی کے ابتدائی دور میں قانون کی بالادستی اور عدالتی ڈھانچے کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔
گاندھی کا خون اور لندن کے شب و روز
عطیہ فیضی نے ایک ایسے دور میں برطانیہ کا سفر کیا جب مسلم لڑکیوں میں اعلیٰ تعلیم کا تصور بھی عام نہیں تھا۔ اپنی ذہانت اور خاندانی اثر و رسوخ کی بدولت انہوں نے جلد ہی انگلستان کی ہندوستانی برادری میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ ٹاٹا کمپنی کے بانی جمشید جی ٹاٹا، سروجنی نائیڈو اور مختلف ریاستوں کے راجے مہاراجے ان کی محفلوں کا حصہ بنتے تھے۔
ان کے منفرد مزاج کا ایک واقعہ ماہر القادری نے اپنی کتاب ‘یاد رفتگاں’ میں بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق جب مہاتما گاندھی پہلی گول میز کانفرنس کے بعد بحری جہاز کے ذریعے واپس آ رہے تھے تو عطیہ فیضی بھی اسی جہاز میں موجود تھیں۔ انہوں نے اصرار کر کے گاندھی کی انگلی میں سوئی چبھوئی، خون کا نشان اپنی آٹوگراف بک پر لیا اور اس کے ساتھ ان کے دستخط بھی کروائے۔
لندن کے ان شب و روز کا احوال وہ لاہور کے رسالے ‘تہذیب نسواں’ میں لکھتی رہیں، جو بعد میں ‘زمانہ تحصیل’ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوا۔ اسی کتاب نے برصغیر کے اہل علم کو ان کی طرف متوجہ کیا اور یہی علامہ اقبال سے ان کے تعارف کا سبب بھی بنی۔
حیدرآباد کا ملامت نامہ اور اقبال کو ‘اقبال’ بنانے والی ہستی
جرمنی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب علامہ اقبال برصغیر واپس آئے تو انہیں علی گڑھ یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج لاہور جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فلسفے کے پروفیسر کی ملازمت کی پیشکش ہوئی، تاہم انہوں نے وکالت کو ترجیح دی۔
ابتدائی دو برس میں جب وکالت سے معاشی استحکام حاصل نہ ہو سکا تو انہوں نے ریاست حیدرآباد دکن سے وابستہ ہونے کا ارادہ کیا۔ 1907 میں وہ ریاست کے وزیر خزانہ سر اکبر حیدری کے مہمان کی حیثیت سے کئی روز وہاں مقیم رہے۔
لاہور واپسی پر انہیں یکے بعد دیگرے دو خطوط موصول ہوئے، جن میں اس مجوزہ فیصلے پر سخت سرزنش کی گئی تھی۔ خود اقبال نے اس دوستانہ تنبیہ کو ‘میٹھی جھڑکیاں’ اور ‘ملامت نامہ’ جیسے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ خدا جانے خطوط میں کی گئی سرزنش کا اثر تھا یا کوئی اور وجہ، اقبال اپنے ارادے سے باز رہے۔
یہ حقیقت ہے کہ اگر وہ حیدرآباد کی سرکاری ملازمت اختیار کر لیتے تو شاید اقبال وہ ‘اقبال’ نہ ہوتے جنہیں آج ہم جانتے ہیں۔ شاعر مشرق کے ارادے کے راستے میں مزاحم بننے والی شخصیت عطیہ فیضی تھیں۔ انہیں اندیشہ تھا کہ حیدرآباد جا کر اقبال اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کو سرکاری ملازمت کی نذر نہ کر دیں۔
اقبال پر ایک وقت ایسا بھی گزرا جب وہ شدید یاس و قنوطیت کا شکار تھے۔ انہوں نے اپنی کیفیات اور ذاتی احساسات عطیہ فیضی کے نام خطوط میں بیان کیے۔ بقول جسٹس ایس اے رحمان، اقبال کے پرستاروں کو عطیہ بیگم کا احسان مند ہونا چاہیے، جن کے تشفی آمیز طنز اور فکری سہارے کے زیر اثر وہ اپنی زندگی کے نازک موڑ پر دوبارہ رجائیت کی طرف لوٹے۔ عطیہ فیضی کی روز افزوں مقبولیت کا اثر تھا کہ ہندوستان کی بڑی علمی اور ادبی شخصیات ان کی جانب کھنچی چلی آتی تھیں۔
شبلی کا رومان اور ‘حیات معاشقہ’ کا تہلکہ
اس دور کے برصغیر میں عطیہ فیضی کی شادی سے قبل علامہ شبلی نعمانی اور سر محمد اقبال سمیت کئی نامور شخصیات ان سے شادی کی خواہش مند تھیں۔ علامہ شبلی نعمانی بھی انہی میں شامل تھے، جو ان کے والد سے استنبول میں مل چکے تھے۔ عطیہ سے تعارف اور تعلق شبلی کی زندگی کا ایک رومانوی باب تھا، جس کی جھلک ان کے مجموعہ کلام میں بھی ملتی ہے۔
بقول شیخ اکرام، مولانا کو اس قابل اور باکمال خاتون نے جس طرح مسحور کر دیا تھا، اس کا اندازہ خطوط شبلی کے ورق ورق سے ہوتا ہے۔ شبلی انہیں لکھتے ہیں: ‘ان باتوں کے ساتھ اگر تم موسیقی سے بھی واقف ہو تو اجازت دو کہ لوگ تمہیں پوجیں۔’
شبلی کے ان رنگین تذکروں اور والہانہ انداز بیان نے بہت سے اہل قلم کو اس حد تک غلط فہمی میں مبتلا کر دیا کہ ‘شبلی کی حیات معاشقہ’ جیسی کتاب منظر عام پر آ گئی۔ 1950 میں ڈاکٹر وحید قریشی کی اس تصنیف نے ادبی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا۔ بعد میں شدید تنقید کے باعث ڈاکٹر وحید قریشی نے اس کتاب کے مندرجات سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔
خود عطیہ فیضی نے اس بحث کا جواب ان الفاظ میں دیا: ‘ہم نے مولانا کے خطوط کو معصومانہ روشنی میں دیکھا، کیونکہ ان میں بظاہر ایسی کوئی بات نہ تھی کہ ہم سے کوئی کسی قسم کی بدگمانی کرتا۔ البتہ ان میں شاعرانہ شوخی ضرور تھی، جو شاعر طبقے کا خاصہ ہے۔’
سمیول رحمین: یہودیت سے اسلام تک اور فنی کایا پلٹ
1912 میں عطیہ فیضی کی زندگی میں پونا کے ایک معزز اور مہذب بنی اسرائیل یہودی خاندان سے تعلق رکھنے والے نامور مصور سمیول رحمین داخل ہوئے۔ سمیول نے ممبئی کے مشہور ‘سر جے جے اسکول آف آرٹ’ سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد لندن کی ‘رائل اکیڈمی’ میں چار سال تک جان سنگر سارجنٹ اور سولومن جے سولومن جیسے عالمی شہرت یافتہ برطانوی اساتذہ سے آئل پینٹنگ اور یورپی اکیڈمک آرٹ کی تربیت حاصل کی۔
1908 میں جب وہ ہندوستان واپس لوٹے تو انہیں بڑودہ کے مہاراجہ کا باقاعدہ آرٹ اور ثقافتی مشیر مقرر کیا گیا۔ لندن کے شاندار آرٹ حلقے کو چھوڑ کر واپس آنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا: ‘لندن میں رہنا ایسا ہی تھا جیسے بنگال کا شیر قطب شمالی میں سیل کا شکار کرنے نکلے۔’
بڑودہ کی درباری زندگی نے انہیں ہندوستان کی اشرافیہ کے قریب کر دیا۔ 1912 میں جب انہوں نے عطیہ فیضی سے شادی کی تو روایات سے ہٹ کر دونوں نے اپنے خاندانی ناموں کو یکجا کر کے ‘فیضی رحمین’ اختیار کیا، جبکہ سمیول رحمین نے یہودیت چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔ اس تبدیلی مذہب پر علامہ شبلی نعمانی نے اپنی شوخی کا اظہار اس مشہور شعر میں کیا:
‘بتان ہند کافر کر لیا کرتے ہیں مسلم کو عطیہ کی بدولت آج ایک کافر مسلمان ہو گیا’
شادی کے بعد سمیول کی فنی زندگی میں ایک زبردست انقلاب آیا۔ انہوں نے یورپی کینوس اور آئل پینٹنگ کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا اور ہندوستانی مغل منی ایچر اور راجپوت مصوری کی روایات کو دوبارہ زندہ کرنے میں مصروف ہو گئے۔ یہ ان کی یورپی اثرات سے آزادی اور ہندوستانی جدید مصوری کی بنیاد تھی۔ انہوں نے راگوں اور راگنیوں کو رنگوں کا روپ دیا۔
1913 میں ممبئی کے ایک ماہی گیر گاؤں میں عطیہ راگ گاتی تھیں اور رحمین انہیں کینوس پر امر کرتے تھے۔ بعد میں عطیہ فیضی نے اسی تجربے کی بنیاد پر لندن سے اپنی مشہور کتاب ‘دی میوزک آف انڈیا’ شائع کی۔
رحمین کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ وہ برصغیر کے پہلے غیر یورپی اور مسلم مصور بنے جن کی پینٹنگز، جن میں ‘راگنی ٹوڑی’ اور ‘اے راجپوت سردار’ شامل ہیں، لندن کی مشہور ٹیٹ گیلری کے ذخیرے میں شامل ہوئیں۔
انہوں نے پیرس کی ‘گالری جارج پیٹی’ اور لندن کی ‘گوپل گیلری’ میں انفرادی نمائشیں کیں، جبکہ 1926 سے 1929 کے درمیان نئی دہلی کے امپیریل سیکریٹریٹ کی عمارت میں یادگار دیواری تصویریں تخلیق کیں۔ برطانوی آرکائیوز کے مطابق انہوں نے لندن کے وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم اور نیویارک کے میٹروپولیٹن میوزیم کے مشرقی شعبوں کی ازسر نو ترتیب اور تنظیم میں بھی بطور ماہر فن خدمات انجام دیں۔
کراچی کے ڈینسو ہال سے ایوان رفعت تک، فن لطیفہ کا سفر
1948 میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ذاتی دعوت پر، جو طیب جی خاندان کو اپنا سیاسی استاد مانتے تھے، یہ جوڑا بمبئی چھوڑ کر نو زائیدہ پاکستان کے دارالحکومت کراچی منتقل ہو گیا۔
کراچی آنے کے بعد انہوں نے ابتدائی طور پر بندر روڈ، موجودہ ایم اے جناح روڈ، پر واقع تاریخی وکٹورین عمارت ڈینسو ہال کی بالائی منزل پر اپنا اسٹوڈیو قائم کیا۔
یہ اسٹوڈیو کراچی کا پہلا بڑا آرٹ مرکز بن گیا، جہاں فیضی رحمین پینٹنگز تخلیق کرتے اور عطیہ فیضی ادب، موسیقی اور ثقافت پر علمی و ادبی محفلیں سجایا کرتیں۔
بعد ازاں حکومت پاکستان نے انہیں کلفٹن کے قریب ایک پلاٹ الاٹ کیا، جہاں انہوں نے اپنے ذاتی وسائل سے ایک شاندار عمارت تعمیر کی اور اس کا نام اپنی والدہ کے نام پر ‘ایوان رفعت’ رکھا۔
یہ عمارت صرف ان کی رہائش گاہ نہیں تھی بلکہ ایک منفرد عجائب گھر اور ادبی مرکز تھی، جسے انہوں نے اپنی بمبئی کی رہائش گاہ کی طرز پر تخلیق کیا تھا۔ یہاں دنیا بھر سے جمع کیے گئے نایاب فن پارے، پینٹنگز، قدیم نوادرات اور علامہ اقبال، شبلی نعمانی اور مہاتما گاندھی کے نایاب خطوط محفوظ تھے۔ یہ گھر پاکستان کے ابتدائی دور میں ادیبوں، مصوروں اور دانشوروں کا ایک اہم ثقافتی مرکز بن گیا۔
برطانوی نوآبادیاتی تعصب اور بے دخلی کا المیہ
ایک طرف سمیول فیضی رحمین کی عظمت کا یہ عالم تھا کہ وہ عالمی سطح پر تسلیم کیے جاتے تھے، لیکن دوسری طرف برطانوی آرٹ کے بعض ذمہ داران نے ان کے ساتھ شدید تعصب کا مظاہرہ کیا۔ 1952 میں جب ٹیٹ گیلری نے وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم کے ہندوستانی شعبے سے فیضی رحمین کے بارے میں معلومات طلب کیں تو وہاں کے کنزرویٹر نے ایک خط میں انہیں ‘معمولی’ فنکار قرار دیتے ہوئے ان کی پینٹنگز کو ‘کچرا’ لکھا۔
یہ نوآبادیاتی ذہنیت کی ایک نمایاں مثال تھی، جبکہ اسی سال حکومت پاکستان نے اپنے سرکاری مینوئل ‘پاکستان مسلینی’ میں فیضی رحمین پر ایک مکمل باب شامل کیا تھا۔
افسوس کہ غیر ملکی تعصب سے بڑھ کر اپنے لوگوں کا رویہ زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوا۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد 1950 کی دہائی کے آخری برسوں میں ایوب خان کے دور حکومت میں کراچی میونسپل کارپوریشن کے چند بیوروکریٹس کے ساتھ تنازعے کے بعد اس زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی گئی اور ‘ایوان رفعت’ پر سرکاری قبضہ کر لیا گیا۔
اس عظیم ادبی اور فنی جوڑے کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کیے گئے گھر اور عجائب گھر سے بے دخل کر کے کلفٹن کے ایک چھوٹے سے مکان میں منتقل کر دیا گیا۔
یہ صدمہ اس حساس جوڑے کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہوا۔ زندگی کے آخری ایام انہوں نے شدید مالی مشکلات، کسمپرسی اور بیرون ملک مقیم رشتہ داروں کی محدود مالی مدد پر گزارے۔ فیضی رحمین کا انتقال 1964 میں ہوا، جبکہ دلوں پر راج کرنے والی عطیہ فیضی 4 جنوری 1967 کو شدید غربت اور گمنامی کی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
آج ایوان رفعت کی جگہ آرٹس کونسل آف پاکستان کے سامنے ‘فیضی رحمین آڈیٹوریم اور آرٹ گیلری’ کے نام سے ایک عمارت موجود ہے، لیکن ارباب اختیار کی غفلت کے باعث اس جوڑے کا جمع کیا ہوا نایاب ادبی اور فنی سرمایہ، اقبال اور شبلی کے اصل خطوط اور متعدد نوادرات یا تو چوری ہو گئے، ضائع ہو گئے یا وقت کی گرد میں کھو گئے۔
طیب جی خاندان کی ایک منفرد روایت ‘اخبار کی کتاب’ مرتب کرنے کی تھی، جس میں وہ 1940 اور 1950 کی دہائی کے کراچی، اس کی گلیوں اور مہاجرین کی آمد کا تفصیلی احوال قلم بند کرتے تھے۔
آج جب اس تاریخ پر نظر ڈالی جاتی ہے تو یہ المیہ واضح ہوتا ہے کہ جس شہر نے اپنے معمار جمشید نسروانجی کو فراموش کر دیا، اسی شہر نے قائد اعظم کے معزز مہمانوں، اقبال کے مخلص ساتھیوں اور فن و ادب کے سرپرستوں کو بھی ایک سرکاری تنازعے کی نذر کر دیا۔
کسی دانا کا قول ہے کہ شہر محض مٹی، گارے اور کنکریٹ کی بے جان عمارتوں کا نام نہیں ہوتے، بلکہ شہر اپنے والی وارثوں، شہری ملکیت، تمدنی جمالیات اور انتظامی نظم و ضبط سے زندہ رہتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی معاشرہ اپنے تاریخی مراکز کو لاوارث چھوڑ دیتا ہے، تو اس کا خمیازہ پوری ریاست کو بھگتنا پڑتا ہے۔ آج جب ہم ‘عالمی قابل رہائش شہروں کے اشاریے’ کو دیکھتے ہیں، تو پاکستان کا دل، اس کا معاشی انجن اور کبھی ‘روشنیوں کا شہر’ کہلانے والا کراچی دنیا کے بدترین اور ناقابلِ رہائش شہروں کی فہرست میں آخری نمبروں پر سسکتا ہوا نظر آتا ہے۔
یہ محض ایک شہر کے بنیادی ڈھانچے کا زوال نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے شاندار تاریخی، ثقافتی اور معاشی تمدن کی بتدریج تباہی ہے جو کبھی برطانوی راج میں ‘مشرق کی ملکہ’ اور ‘برطانوی تاج کا ہیرا’ کہلاتا تھا۔
اگر ہم تاریخ کے پنّے پلٹیں، تو 1920 اور 1930 کی دہائی کا کراچی ایک خوبصورت رومانوی خواب جیسا معلوم ہوتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب کراچی کے پہلے پارسی میئر، جمشید نسروانجی، جنہیں تاریخ محبت سے ‘بابائے کراچی’ کہتی ہے، کے وژن کے تحت شہر کی سڑکیں روزانہ سمندر کے پانی اور جراثیم کش ادویات سے دھوئی جاتی تھیں۔ شہر کا زیرِ زمین سیوریج نظام اتنا جدید اور مربوط تھا کہ مون سون کی شدید بارشوں کا پانی بھی منٹوں میں غائب ہو جاتا تھا اور شہری زندگی بحال رہتی تھی۔
دملوتی کے تاریخی کنوؤں کے آبی فراہمی کے نظام سے شہریوں کو چوبیس گھنٹے صاف، شفاف اور مفت پانی ملتا تھا، اور سڑکوں پر پٹریوں پر دوڑتی ٹرامیں عوام کو ماحول دوست، سستا اور باوقار سفر فراہم کرتی تھیں۔
سب سے بڑھ کر، اس دور کے کراچی میں سیاسی، لسانی یا فرقہ وارانہ عصبیت کا نام و نشان تک نہ تھا۔ پارسی، ہندو، مسلمان، عیسائی اور یہودی نہ صرف مل جل کر رہتے تھے بلکہ شہر کی ترقی میں برابر کے شراکت دار تھے۔ دھرتی کے متمول ہندو اور پارسی خاندانوں نے اپنے سرمائے سے ایسے ہسپتال، اسکول اور لائبریریاں بنوائیں جو بلا تفریقِ رنگ و نسل سب کے لیے کھلی تھیں۔ فریئر ہال، ایمپریس مارکیٹ، ڈی جے سائنس کالج اور کے ایم سی بلڈنگ جیسے شاندار تاریخی ورثے اس دور کی بلدیاتی خودمختاری، سیاسی رواداری اور شہری جمالیات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
روشنیوں کا شہر اندھیروں کی نذر کیسے ہوا؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مشرق کی ملکہ رفتہ رفتہ اندھیروں کی نذر کیسے ہو گئی؟ اور وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے اس ترقی یافتہ یورپی طرز کے شہر کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا؟
اس تمدنی المیے کا پہلا بڑا سبب 1947 کی تقسیمِ ہند، قدیم مقامی آبادی کا انخلا اور اس کے بعد آبادی کا بے تحاشا جغرافیائی و تزویراتی دباؤ ہے۔ تقسیم سے پہلے کا کراچی ایک پڑھا لکھا، پرامن اور بے حد منظم معاشرہ تھا۔ تقسیم کے بعد جب یہاں کے قدیم ہندو اور پارسی خاندان، جو یہاں کے اصل تاجر، ماہرینِ تعلیم، معمار اور وکیل تھے، ہجرت کر کے بھارت یا دیگر ممالک چلے گئے، تو کراچی ایک دم سے اپنے ان مخلص اور تجربہ کار معماروں سے محروم ہو گیا جنہوں نے اس شہر کو تراشا تھا۔ یہ ایک ایسا تہذیبی نقصان تھا جس کی تلافی آج تک نہ ہو سکی۔
اس قدیم آبادی کے انخلا کے ساتھ ہی کراچی کو نئے ملک پاکستان کا دارالحکومت بنایا گیا، جس کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کا آغاز ہوا۔ 1941 کی مردم شماری میں جس شہر کی آبادی محض چار لاکھ کے قریب تھی، وہ 1951 تک، یعنی صرف چند سالوں میں، بڑھ کر دس لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ بھارت کے اتر پردیش، وسطی صوبوں، حیدرآباد اور دہلی سے لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین ہجرت کر کے کراچی آئے۔ شہر کے پاس اتنی بڑی آبادی کو فوری طور پر سنبھالنے کا بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔ عارضی کیمپ بنے اور قائدِ اعظم کے مزار کے آس پاس کی زمینوں پر کچی بستیاں قائم ہوئیں، جس سے شہر کی ابتدائی منصوبہ بندی ہمیشہ کے لیے پٹری سے اتر گئی۔
شہر ابھی اس صدمے اور دباؤ سے سنبھل ہی رہا تھا کہ 1960 کی دہائی میں صدر ایوب خان کے دور میں دارالحکومت کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ اس فیصلے سے کراچی کی سیاسی اہمیت تو کم ہو گئی، لیکن اس کا معاشی دباؤ برقرار رہا کیونکہ یہ ملک کا واحد صنعتی اور تجارتی مرکز تھا۔
چناں چہ اگلا مرحلہ اندرونِ ملک ہجرت کا شروع ہوا۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں خیبر پختونخوا، پنجاب، بلوچستان اور ایرانی بلوچستان سے لاکھوں لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی آئے۔ کراچی نے ایک سخی ماں کی طرح سب کو گلے لگایا، لیکن شہر کے وسائل، پانی، زمین اور بجلی، محدود رہے اور آبادی لامحدود ہوتی چلی گئی۔
اس کے بعد بین الاقوامی تارکینِ وطن کا بوجھ اس شہر پر لادا گیا۔ 1971 میں سقوطِ ڈھاکہ کے بعد لاکھوں کی تعداد میں بہاری اور بنگلہ دیشی محصورین کراچی آئے۔ پھر 1979 کے افغان جہاد کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین نے کراچی کا رخ کیا۔ ان تارکینِ وطن کی اکثریت نے شہر کے مضافات، جیسے سہراب گوٹھ اور دیگر علاقوں، میں غیر قانونی بستیاں قائم کیں۔
ان بستیوں کے متبادل معاشرے کے طور پر ابھرنے سے شہر میں کلاشنکوف کلچر، منشیات کی بھرمار اور زمینوں پر غیر قانونی قبضوں کا آغاز ہوا، جس نے کراچی کے روایتی امن و امان، امن پسندی اور تمدنی ڈھانچے کو ہمیشہ کے لیے ملیا میٹ کر دیا۔ رہی سہی کسر 1980 اور نوے کی دہائی کی سوچی سمجھی لسانی اور سیاسی تقسیم نے پوری کر دی، جہاں شہر کو مسلح علاقوں میں بانٹ کر سیاست کو ‘بلدیات اور خدمت’ سے ہٹا کر ‘عصبیت اور بقا’ کی جنگ بنا دیا گیا۔
ووٹر کو شہری مسائل پر نہیں بلکہ لسانی شناخت پر متحرک کیا گیا، جس کی وجہ سے شہر کو ملکیت کا احساس دینے والی کوئی مشترکہ قیادت ابھر ہی نہ سکی۔
معاشی تضاد اور ریونیو کا سنگین استحصال
کراچی کا سب سے بڑا المیہ اس کا معاشی استحصال اور ریاستی بے حسی ہے۔ اسٹیٹ بینک اور وفاقی ادارۂ محاصل کے حالیہ دستاویزی اعداد و شمار کے مطابق، کراچی پاکستان کے کل ٹیکس ریونیو کا تقریباً 65 سے 70 فیصد اکیلا جمع کرتا ہے اور ملک کی مجموعی ملکی پیداوار میں اس کا حصہ 25 فیصد سے زائد ہے۔
تضاد کی انتہا دیکھیے کہ پورے ملک کا پیٹ پالنے والا یہ شہر، جو قومی معیشت کا انجن ہے، جب اپنے جائز آئینی حق یا قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت صوبائی فنڈز میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کرتا ہے، تو اسے بجٹ کا محض ایک معمولی حصہ بھی نہیں دیا جاتا۔ ملکی برآمدات کا 54 فیصد سے زائد حصہ سنبھالنے والی کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کی موجودگی کے باوجود اس شہر کی اپنی داخلی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہیں۔
وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس شہر کو سونے کی چڑیا تو سمجھتی ہیں جس کا معاشی خون نچوڑا جا سکتا ہے، لیکن اس کی بقا اور ترقی کے لیے کوئی بھی سنجیدہ انتظامی کوشش کرنے کو تیار نہیں۔
پانی کا بحران اور ٹینکر مافیا کی معیشت
آج کا کراچی دنیا کا واحد میگا سٹی ہے جو پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت کے لیے بھی مکمل طور پر ایک منظم کالی معیشت، یعنی ‘ٹینکر مافیا’، کے رحم و کرم پر ہے۔ یہ بحران قدرتی نہیں بلکہ خالصتاً مصنوعی ہے، جس کے پیچھے چھپے تلخ حقائق کسی سنگین جرم کے اسکرپٹ سے کم نہیں ہیں۔
کراچی کو روزانہ تقریباً 1200 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے، جبکہ واٹر بورڈ کے بوسیدہ اور نااہل نظام کے ذریعے صرف 450 سے 500 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے۔
اس فراہم کردہ پانی کا بھی 40 فیصد سے زائد حصہ جان بوجھ کر لائن لاسز اور ہائیڈرنٹ مافیا کی چوری کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ تھنک ٹینک رپورٹس کے مطابق کراچی میں ٹینکر مافیا کا سالانہ کالا کاروبار 50 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
یعنی جو پانی شہریوں کو پائپ لائن کے ذریعے مفت یا چند سو روپے کے بل میں ملنا چاہیے تھا، اسی پانی کو سرکاری پائپوں سے چوری کر کے شہریوں ہی کو پانچ سے دس ہزار روپے فی ٹینکر بیچا جا رہا ہے، اور یہ کالی کمائی نیچے سے لے کر مقتدر حلقوں تک باقاعدگی سے تقسیم ہوتی ہے۔ غریب تو دور، پوش علاقوں کے لوگ بھی اپنی آمدنی کا بڑا حصہ پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
اسٹریٹ کرائم اور عدم تحفظ کا راج
شہر کی صرف سڑکیں، پارک اور نالے ہی تباہ نہیں ہوئے، جو چائنا کٹنگ اور لینڈ مافیا کی نذر ہو چکے ہیں، بلکہ شہریوں کا سکون، جان اور مال بھی سڑکوں پر سرگرم جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر ہے۔ سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی کے حالیہ ریکارڈ کے مطابق کراچی میں روزانہ اوسطاً 250 سے 300 اسٹریٹ کرائم رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں موبائل فون، موٹر سائیکل چھیننا اور مسلح ڈکیتی شامل ہے۔
سب سے لرزہ خیز حقیقت یہ ہے کہ مزاحمت کرنے پر ہر سال سینکڑوں بے گناہ شہری، جن میں اکثریت یونیورسٹیوں کے ہونہار طلبہ اور اپنے گھروں کا واحد معاشی سہارا بننے والے نوجوانوں کی ہوتی ہے، سڑکوں پر سرِعام گولیوں کا نشانہ بنا دیے جاتے ہیں۔ یہ اس شہر کے امن و امان اور انتظامی ڈھانچے کی بے حسی کی انتہا ہے کہ اب یہاں ایک سستے موبائل فون کی قیمت ایک زندہ انسان کی جان سے زیادہ ہو چکی ہے۔
آج کا کراچی ایک لاوارث اور یتیم شہر بن چکا ہے، جہاں ایک بااختیار میئر کے بجائے شہر کا انتظامی کنٹرول درجنوں مختلف وفاقی، صوبائی اور کینٹونمنٹ اداروں، کے ایم سی، کے ڈی اے، واٹر بورڈ، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور کینٹ بورڈز، میں بری طرح بٹا ہوا ہے۔
کوئی ایک ادارہ بھی کچرا اٹھانے، سڑک بنانے یا پانی فراہم کرنے کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتا اور ہر ادارہ ملبہ دوسرے پر ڈال کر پلہ جھاڑ لیتا ہے۔
عالمی ماڈلز کی روشنی میں ممکنہ حل: کیا کراچی کا یہ زوال مستقل ہے؟
کیا یہ شہر کبھی دوبارہ جمشید نسروانجی کے ماڈل پر واپس جا سکتا ہے؟ دنیا کے دوسرے بڑے میگا سٹیز کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ بالکل ممکن ہے، بشرطیکہ سیاسی عزم، طویل مدتی منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔
دنیا کے کئی شہر ایک وقت میں بالکل اسی طرح کے بدترین بحرانوں کا شکار تھے، لیکن انہوں نے خود کو بدلا۔ ہم درج ذیل تین بنیادی تزویراتی اقدامات کے ذریعے کراچی کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
واٹر مافیا کا خاتمہ
کراچی میں پانی کی قلت سے زیادہ بڑا مسئلہ پانی کی چوری اور غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ بھارت کے شہر ممبئی کی بلدیہ نے شہر کے اندر غیر قانونی کنوؤں اور ہائیڈرنٹس پر سخت پابندی لگائی اور پورے آبی نظام پر ڈیجیٹل ‘فلو میٹرز’ اور نگرانی کا نظام نصب کیا تاکہ پائپ لائنوں سے پانی کی چوری پکڑی جا سکے۔
کراچی کو بھی سب سے پہلے ان ہائیڈرنٹس کو بند کرنا ہوگا۔
انڈونیشیا کے شہر جکارتہ نے زیرِ زمین پانی نکالنے کی وجہ سے شہر کے ڈوبنے کے خطرے کے بعد نجی شعبے کے تعاون سے بڑے پیمانے پر سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹس لگائے۔
کراچی ایک ساحلی شہر ہے، یہاں بھی سرکاری اور نجی شراکت داری کے تحت سمندر کے پانی کو صاف کرنے کے پلانٹس لگائے جائیں، جو پائپ لائنوں اور سستے واٹر میٹرز کے ذریعے پانی براہِ راست گھروں تک پہنچائیں۔ جب شہریوں کو سستا پانی نلکے سے ملے گا تو اربوں روپے کی یہ ٹینکر مافیا خود بخود دم توڑ جائے گی۔
تاجر برادری کا بطور ‘پریشر گروپ’ ابھرنا
لاطینی امریکہ کے شہر بوگوٹا کو 1990 کی دہائی میں وہاں کے چیمبر آف کامرس اور تاجروں نے بدترین جرائم، کرپشن اور ٹریفک جام سے نکال کر ایک ماڈل شہر بنایا۔ وہاں کے انقلابی میئر ‘اینریک پینالوسا’ نے تاجروں کی مدد سے کاروں کے راستے تنگ کر کے فٹ پاتھ چوڑے کیے، سیکڑوں کلومیٹر طویل سائیکل ٹریکس بنائے اور دنیا کا بہترین بس ریپڈ ٹرانزٹ نظام شروع کیا۔ ان کا فلسفہ تھا:
‘ایک ترقی یافتہ شہر وہ نہیں جہاں غریب گاڑیوں میں گھومیں، بلکہ وہ ہے جہاں امیر عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔‘
کراچی کی تاجر برادری، کراچی چیمبر آف کامرس اور صنعتی انجمنیں جیسے سائٹ، کورنگی اور لانڈھی، ملک کا سب سے بڑا ریونیو پیدا کرتی ہیں، اس لیے ان کے پاس حکومتوں کو جھکانے کی زبردست طاقت موجود ہے۔
انہیں اب لسانی اور روایتی انتخابی سیاست سے بالاتر ہو کر ایک مضبوط ‘کراچی فرسٹ پریشر گروپ’ بنانا ہوگا۔ وہ قانونی طور پر ایک ‘اسکرو اکاؤنٹ’ کا مطالبہ کر سکتے ہیں، جس کے تحت کراچی سے جمع ہونے والے ٹیکس کا ایک مخصوص حصہ، مثلاً 25 سے 30 فیصد، براہِ راست شہر کے بنیادی ڈھانچے، صفائی، جدید ٹرانسپورٹ اور سکیورٹی، مثلاً نگرانی کے کیمروں، پر خرچ ہو اور صوبائی یا وفاقی حکومت اسے کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہ کر سکے۔
تاجر برادری سماجی ذمے داری کے تحت اپنے اپنے تجارتی مراکز کی ملکیت کا احساس اپناتے ہوئے بھی شہر کا آدھا حصہ سدھار سکتی ہے۔
آئینی بلدیاتی خودمختاری اور عمودی ترقی
کراچی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کا کوئی ‘والی وارث’ نہیں ہے۔ جب تک آئین کی رو سے کراچی کے میئر کو مالیاتی، انتظامی اور سکیورٹی کے مکمل اختیارات نہیں دیے جاتے، وفاق یا صوبے کے عارضی ‘پیکجز’ اس شہر کی تقدیر نہیں بدل سکتے۔ واٹر بورڈ، کے ڈی اے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ٹریفک پولیس کو براہِ راست میئر کے ماتحت ہونا چاہیے۔
شہر کے افقی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ممبئی کی ‘سلم ری ڈیولپمنٹ اتھارٹی’ کی طرح سرکاری اور نجی شراکت داری کے تحت کچی آبادیوں کو عمودی رہائشی منصوبوں میں تبدیل کرنا ہوگا، جہاں بلڈرز کثیر المنزلہ عمارتیں تعمیر کر کے قدیم رہائشیوں کو مفت فلیٹ دیں اور باقی مارکیٹ میں فروخت کر کے منافع کمائیں۔
اس سے قیمتی زمین لینڈ مافیا کے چنگل سے آزاد ہوگی اور غریبوں کو چھت ملے گی۔ ٹرام وے یا بڑے پیمانے پر برقی بسوں کا نیٹ ورک دوبارہ بحال کرنا ہوگا تاکہ نجی گاڑیوں کا دباؤ کم ہو۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ کراچی کا المیہ یہ نہیں کہ اس کے پاس وسائل یا سرمائے کی کمی ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ اس کا کوئی مخلص ‘والی وارث’ نہیں ہے۔ جمشید نسروانجی کے دور میں کراچی کے پاس ایک دل تھا جو شہر کے لیے دھڑکتا تھا، آج کراچی کے پاس صرف ایسی بیوروکریسی اور انتظامیہ ہے جو اس کا معاشی خون نچوڑنا جانتی ہے۔
کراچی صرف سندھ یا پاکستان کا ایک روایتی شہر نہیں، یہ اس ملک کی معاشی شہ رگ ہے۔ اگر یہ شہ رگ مختلف مافیاز کی بیدردی اور سیاسی کھینچا تانی کی وجہ سے بند ہو گئی تو پورا ملک معاشی طور پر مفلوج ہو جائے گا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ کراچی کے تاجر، دانشور، وکلائے کرام اور عام شہری اپنے داخلی اختلافات، مذہبی، لسانی اور سیاسی وابستگیوں کو پسِ پشت ڈال کر اس شہر کے بلدیاتی، انتظامی اور آئینی حقوق کے لیے یک زبان ہو کر ایک مشترکہ پریشر گروپ بنائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
دنیا کے 173 بڑے شہروں پر مشتمل اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) کے EIU’s Global Livability Index میں پاکستان کے صرف ایک شہر کراچی کو شامل کیا گیا ہے، جہاں اسے مجموعی طور پر 170واں نمبر ملا ہے۔ تاہم رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ بعض پاکستانی ذرائع ابلاغ نے کراچی کو ’دنیا کا سب سے ناقابلِ رہائش شہر‘ قرار دیا، جبکہ اصل رپورٹ اس دعوے کی تائید نہیں کرتی۔
رپورٹ کے مطابق کراچی آخری دس شہروں میں ضرور شامل ہے، لیکن یہ فہرست میں آخری نمبر پر نہیں۔ اس کے بعد بھی تین شہر موجود ہیں، جن میں بنگلہ دیش کا ڈھاکا، لیبیا کا طرابلس اور شام کا دمشق شامل ہیں۔
ای آئی یو کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے رہنے کے قابل 173 شہروں میں کراچی 170ویں نمبر پر ہے، جبکہ ڈھاکا 171ویں، طرابلس 172ویں اور دمشق 173ویں نمبر پر ہے۔ اسی طرح ایران کا دارالحکومت تہران 164ویں، زمبابوے کا ہرارے 165ویں اور یوکرین کا کیف 166ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس درجہ بندی میں پاکستان کا صرف ایک شہر، کراچی، شامل کیا گیا ہے۔ غور سے مطالعہ کرنے کے بنعد معلوم ہو کہ پاکستان کے بہترین اور ترقی یافتہ شہروں جیسا کہ لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، فیصل آباد، پشاور، کوئٹہ یا کسی دوسرے کسی بھی شہر کا اس رپورٹ میں کوئی ذکر موجود نہیں۔ اس وجہ سے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان کا کوئی دوسرا شہر کراچی سے زیادہ یا کم قابلِ رہائش ہے، کیونکہ ان شہروں کا سرے سے جائزہ ہی نہیں لیا گیا۔
ای آئی یو کے مطابق گلوبل لویبلٹی انڈیکس کا مقصد دنیا کے مختلف شہروں میں رہنے کے معیار کا تقابلی جائزہ لینا ہے۔ اس کے لیے 173 شہروں کو 30 مختلف اشاریوں کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے، جنہیں پانچ بڑی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں استحکام، صحت کی سہولتیں، ثقافت اور ماحول، تعلیم اور بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔ انہی شعبوں کے مجموعی نمبروں کی بنیاد پر ہر شہر کو سو میں سے اسکور اور عالمی درجہ بندی دی جاتی ہے۔
رپورٹ میں کراچی کا مجموعی اسکور 43 رہا۔ استحکام کے شعبے میں اسے صرف 20 نمبر ملے، جبکہ صحت کی سہولتوں میں 54، ثقافت اور ماحول میں 36، تعلیم میں 75 اور بنیادی ڈھانچے میں 52 نمبر دیے گئے۔ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی کی کمزور درجہ بندی کی سب سے بڑی وجہ استحکام کا شعبہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اوسط لائیویبلٹی اسکور 76.1 رہا، جو گزشتہ سال کے برابر ہے۔ تاہم استحکام کے شعبے میں عالمی سطح پر اوسط اسکور میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ صحت کی سہولتوں میں مجموعی طور پر بہتری دیکھی گئی۔ تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بھی معمولی بہتری آئی، لیکن ثقافت اور ماحول کے شعبے میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ای آئی یو کا کہنا ہے کہ اس سال مشرق وسطیٰ کے کئی شہروں کی درجہ بندی ایران میں جنگ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث متاثر ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق فروری 2026 میں ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی کارروائیوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی نے کئی شہروں کے استحکام کے نمبروں کو متاثر کیا۔ اسی وجہ سے تہران پہلی مرتبہ آخری دس شہروں میں شامل ہوا۔
رپورٹ کے مطابق آخری دس شہروں میں شامل زیادہ تر شہر جنگ، سیاسی عدم استحکام یا شدید غربت سے متاثر ہیں۔ دمشق مسلسل آخری نمبر پر موجود ہے، اگرچہ وہاں صحت کی سہولتوں میں کچھ بہتری آئی ہے۔ اسی طرح طرابلس میں بھی صحت کے شعبے میں معمولی پیش رفت ہوئی، لیکن مجموعی درجہ بندی بہتر نہ ہو سکی۔
دوسری جانب دنیا کے سب سے زیادہ قابلِ رہائش شہروں میں ڈنمارک کا دارالحکومت کوپن ہیگن مسلسل دوسرے سال پہلے نمبر پر رہا۔ آسٹریا کا ویانا دوسرے، آسٹریلیا کا میلبورن تیسرے، سڈنی چوتھے، سوئٹزر لینڈ کا زیورخ پانچویں اور جنیوا چھٹے نمبر پر رہا۔ جاپان کا اوساکا ساتویں، آسٹریلیا کا ایڈیلیڈ آٹھویں، کینیڈا کا وینکوور نویں اور جاپان کا ٹوکیو دسویں نمبر پر شامل ہیں۔ ان شہروں نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تقریباً مکمل نمبر حاصل کیے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مغربی یورپ مجموعی طور پر دنیا کا سب سے زیادہ قابلِ رہائش خطہ برقرار رہا، جبکہ ایشیا کی اوسط درجہ بندی میں بہتری آئی۔ چین کے کئی شہروں نے صحت کی سہولتوں میں سرمایہ کاری کے باعث اپنی پوزیشن بہتر بنائی، جبکہ جاپان کے بعض شہروں نے بھی ثقافت اور ماحول کے شعبے میں بہتر کارکردگی دکھائی۔
ای آئی یو کے مطابق درجہ بندی تیار کرتے وقت صرف جرائم یا امن و امان کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ 30 مختلف معیارات کو یکجا کرکے مجموعی اسکور بنایا جاتا ہے۔ اسی لیے کسی شہر کی پوزیشن کو سمجھنے کے لیے صرف عالمی رینک نہیں بلکہ اس کے مختلف شعبوں میں حاصل کردہ نمبروں کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔
رپورٹ کا جائزہ لینے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اس میں صرف کراچی کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ لہٰذا اس رپورٹ کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کے دوسرے شہر کراچی سے بہتر یا بدتر ہیں، کیونکہ ان کا جائزہ اس انڈیکس میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 173 شہروں میں کراچی کی 170ویں پوزیشن کا مطلب یہ ہے کہ تین شہر اس سے بھی نیچے موجود ہیں۔ اس لیے رپورٹ کی اصل درجہ بندی کے مطابق کراچی کو دنیا کا ’سب سے ناقابلِ رہائش شہر‘ قرار دینا درست تعبیر نہیں، بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ کراچی دنیا کے آخری چار رہنے کے قابل شہروں میں شامل ہے اور مجموعی درجہ بندی میں 170ویں نمبر پر ہے۔
کراچی کی تاریخ دراصل برصغیر کے عظیم ترین تجارتی دماغوں، مدبرین اور دانشوروں کی مشترکہ محنت اور وژن کا مجموعہ ہے۔
جب ہم آثار قدیمہ، لسانیات، ابلاغ عامہ اور شہری آبادیات کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اس شہر کے ماضی کا سراغ لگاتے ہیں، تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ کراچی کو مٹی کے ڈھیر سے اٹھا کر ‘مشرق کی ملکہ’ بنانے میں سندھی ہندو برادری، خصوصاً عامل اور بھائی بند طبقے، کا کردار بنیاد کا پتھر ہے۔
یہ وہ برادری تھی جس نے نہ صرف اس شہر کی معاشی اور بلدیاتی بنیادیں استوار کیں، بلکہ جدید سندھی زبان، اس کے مروجہ رسم الخط، نثری ادب، تاریخ نویسی اور صحافت کو ایک سائنسی قالب میں ڈھال کر اسے جدید ترین علمی شکل دی۔
آج کا کراچی جس تاریخی ورثے اور جن مٹتی ہوئی علمی روایات پر کھڑا ہے، ان کے پیچھے کارفرما فکری تحریک کا آغاز انیسویں صدی کے وسط سے ہوتا ہے۔
بھائی بند اور عامل، تمدنی ارتقا کے دو متوازی دھڑے
سندھ کے ہندو معاشرے کو بنیادی طور پر دو بڑے علمی اور عملی گروہوں میں تقسیم کیا جاتا تھا، جن کا کراچی کی منتقلی اور اس شہر کے تمدنی ارتقا میں الگ الگ مگر متوازی کردار رہا۔
بھائی بند
یہ بنیادی طور پر لوہانہ اور کھتری نژاد تجارتی طبقہ تھا، جس کا مرکز شکارپور، خدا آباد اور حیدرآباد تھا۔ انگریزوں کی آمد سے قبل یہ لوگ اونٹوں کے قافلوں کے ذریعے شاہراہ ریشم، وسطی ایشیا اور روس تک تجارت کرتے تھے۔ برطانوی راج میں جب کراچی کی بندرگاہ کھلی، تو یہ لوگ بڑے پیمانے پر یہاں منتقل ہوئے اور دنیا بھر میں اپنا تجارتی نیٹ ورک قائم کیا۔
عامل
یہ طبقہ انتہائی پڑھا لکھا، مغل اور کلہوڑا دور سے ہی درباروں میں دیوان اور منشی کے عہدوں پر فائز رہنے والا گروہ تھا۔ انگریزوں کے آنے کے بعد انہوں نے مغربی اور انگریزی تعلیم حاصل کی اور کراچی کی عدلیہ، کسٹمز، بلدیہ، صحافت اور انتظامیہ کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو کر شہر کے فکری منظرنامے پر چھا گئے۔
سندھ ورک اور روایتی عالمی بینکاری نظام
انیسویں صدی کے وسط سے لے کر بیسویں صدی کے وسط تک، حیدرآباد اور کراچی کے بھائی بند ہندوؤں نے، جنہیں عالمی منڈیوں میں ‘سندھ ورکی’ کہا جاتا تھا، بغیر کسی حکومتی یا فوجی سرپرستی کے دنیا بھر کے سمندری تجارتی راستوں پر اپنا غلبہ قائم کیا۔
ان کا نیٹ ورک دنیا کے چار براعظموں، جبل الطارق، مالٹا، کینیا، ہانگ کانگ، سنگاپور، کوبے اور پاناما تک پھیل چکا تھا۔ وہ یہاں سے سندھی ریشمی کپڑا، کڑھائی، اجرک اور ہاتھی دانت کا سامان برآمد کرتے تھے اور وہاں کی دولت لا کر کراچی اور حیدرآباد میں لگاتے تھے۔
ان کا بینکاری نظام جدید بینکاری قوانین کے بغیر چلنے والا دنیا کا ایک انتہائی محفوظ نیٹ ورک تھا، جس کی بنیاد ‘ہونڈی’ پر تھی۔
عالمی قبولیت
کراچی اور شکارپور سے جاری ہونے والی کچے کاغذ کی ایک پرچی، ہونڈی، کابل، قندھار، اصفہان اور بخارا کے ہندو صرافوں کے پاس جا کر فوراً نقد رقم میں تبدیل ہو جاتی تھی۔
خفیہ رسم الخط، خدا آبادی یا وانکی
یہ بینکار اپنے مالیاتی ریکارڈ رکھنے کے لیے ایک خاص رسم الخط استعمال کرتے تھے جو صرف ان کی برادری کے لوگ ہی پڑھ سکتے تھے، یوں ان کے بہی کھاتے چوری یا ہیک ہونے سے محفوظ رہتے تھے۔
جدید سندھی رسم الخط اور قواعد کی تشکیل
انیسویں صدی کے وسط میں برطانوی راج کے آغاز پر جب سندھی زبان کو دفتری اور تعلیمی زبان بنانے کا فیصلہ ہوا، تو اس برادری کے ادیبوں نے اسے عربی سندھی حروف تہجی کے قالب میں ڈھالنے سے لے کر اس کے کلاسیکی صوفیانہ مواد کو محفوظ کرنے تک لازوال خدمات انجام دیں۔
عربی سندھی حروف تہجی، 1853
برطانوی افسر سر بارٹل فریر کی سرپرستی میں جب سندھی زبان کے لیے ایک متفقہ رسم الخط بنانے کی کمیٹی بنی، تو اس میں مسلم علمائے کرام کے ساتھ دیوان مٹھارام کلیان داس اور دیگر ہندو عامل دانشوروں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے مل کر موجودہ 52 حروف تہجی پر مشتمل سندھی رسم الخط کو حتمی شکل دی تاکہ اسے سرکاری اسکولوں اور دفاتر میں رائج کیا جا سکے۔
پہلی قواعد کی کتاب اور لغات
بھیرومل لکشمی چند اور جیٹھمل پرسرام جیسے ماہرین لسانیات نے سندھی زبان کی پہلی باقاعدہ قواعد کی کتابیں اور سندھی سے انگریزی لغات مرتب کیں، جس نے کراچی اور حیدرآباد کے تعلیمی نظام کو ایک سائنسی بنیاد فراہم کی۔
شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کی تدوین اور بقا
آثار قدیمہ اور تمدنی تاریخ کے طلبہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر یہ ہندو ادیب نہ ہوتے، تو شاید سندھ کا سب سے بڑا صوفیانہ تمدنی ورثہ، یعنی ‘شاہ جو رسالو’، ہم تک اس سائنسی اور علمی شکل میں نہ پہنچتا۔ سندھ کے ہندوؤں کا مذہبی مزاج برصغیر کے دیگر حصوں سے بالکل مختلف اور صوفیانہ تھا۔ وہ مندروں کے ساتھ ساتھ اپنے گھروں اور ‘ٹکانوں’، یعنی عبادت گاہوں، میں گرو گرنتھ صاحب کا پرکاش کرتے تھے اور صوفی شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام سے گہرا لگاؤ رکھتے تھے۔
ڈاکٹر ہوتچند مولچند گربخشانی
ڈاکٹر گربخشانی برصغیر کے وہ عظیم محقق تھے جنہوں نے پہلی بار سائنسی اور تنقیدی بنیادوں پر ‘شاہ جو رسالو’ کو مرتب کیا۔ انہوں نے شاہ بھٹائی کے کلام سے الحاقی، یعنی جعلی، ابیات کو الگ کیا، مشکل الفاظ کے معنی اور لغت لکھی اور اسے تین ضخیم جلدوں میں شائع کر کے سندھی زبان کو دنیا کے اعلیٰ ترین ادبی معیار کے برابر لا کھڑا کیا۔
دیوان لیلارام وطومل
انہوں نے 1890 کی دہائی میں انگریزی زبان میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کی پہلی مفصل سوانح عمری اور ان کی صوفیانہ شاعری کا فلسفہ لکھ کر وادی سندھ کے اس صوفی کو عالمی سطح پر متعارف کروایا۔
سندھی نثری ادب، ناول اور تاریخ نویسی کے بانی
اگرچہ مرزا قلیچ بیگ کو جدید سندھی نثر کا معمار مانا جاتا ہے، لیکن ان کے شانہ بشانہ سادھو ہیرانند اور پروفیسر بھیرومل مہرچند ایڈوانی نے سندھی نثر کو بلندیوں پر پہنچایا۔
بھیرومل مہرچند ایڈوانی
انہوں نے ‘قدیم سندھ’ اور ‘سندھی جغرافیہ’ جیسی شاہکار کتابیں لکھیں جو آج بھی آثار قدیمہ اور تاریخ کے طلبہ کے لیے بنیادی ماخذ مانی جاتی ہیں۔ انہوں نے وادی سندھ کی تاریخ کو نوآبادیاتی یا متعصبانہ عینک سے دیکھنے کے بجائے خالصتاً سائنسی اور زمینی حقائق کے مطابق تحریر کیا۔
دیوان کوڑومل چندن مل
انہوں نے سندھی زبان میں پہلے سماجی ناول اور ڈرامے لکھے، جن کا مقصد معاشرے میں موجود توہم پرستی کا خاتمہ اور خواتین کی تعلیم کی ترویج تھا۔
امرت لعل اونی
انہوں نے کراچی بندرگاہ کی تاریخ، اونٹوں کے پرانے تجارتی قافلوں اور شاہراہ ریشم سے جڑے شکارپوری تاجروں کی معاشی تاریخ کو قلمبند کیا، جس کے بغیر آج جدید کراچی کی معاشی تاریخ لکھنا ناممکن ہے۔
ابلاغ عامہ کا ارتقا، اولین اخبارات اور صحافت
جب ہم کراچی اور سندھ میں جدید صحافت کی ابتدا کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہاں پریس اور اخبارات کو ایک باقاعدہ صنعت اور عوامی آواز بنانے میں سندھی ہندو دانشوروں اور تاجروں کا کردار انقلابی تھا۔ ان کا مقصد صحافت کو محض خبروں کا ذریعہ بنانا نہیں تھا، بلکہ وہ اسے سماجی اصلاح، صوفیانہ ہم آہنگی اور برطانوی حکومت کے خلاف آزادی کی تحریک کا ہتھیار مانتے تھے۔
سادھو ہیرانند اور ‘سرسوتی’، 1890
سادھو ہیرانند شوقی برصغیر کے ان اولین صحافیوں میں سے تھے جنہوں نے کراچی اور حیدرآباد سے ‘سرسوتی’ نامی ایک ماہنامہ جاری کیا۔ یہ رسالہ سندھی نثر، تاریخ اور سائنس کی ترویج کا ایک اہم ذریعہ بنا اور اس نے سندھ کے نوجوانوں میں لکھنے پڑھنے کا ذوق پیدا کیا۔
دیوان لیلارام وطومل اور ‘سندھ ٹائمز‘
یہ کراچی کے اولین انگریزی اخبارات میں سے ایک تھا، جس کے مدیر لیلارام وطومل تھے۔ اس اخبار نے کراچی بندرگاہ کے کسٹمز قوانین، بلدیاتی مسائل اور عام شہریوں کے حقوق کے حوالے سے برطانوی انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
دیوان پرسرام وشنداس اور ‘روزنامہ سنسار سماچار‘
یہ تقسیم سے قبل کراچی کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والا سندھی زبان کا روزنامہ تھا، جس کا جدید پرنٹنگ پریس کراچی کے قدیم شہری علاقے میں قائم تھا۔ یہ اخبار عالمی خبروں کے ساتھ ساتھ کراچی میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی اور عدالتی فیصلوں کو بھی تفصیل سے شائع کرتا تھا۔ اس اخبار کا معیار صحافت اتنا بلند تھا کہ اس کے اداریوں کا جواب خود انگریز کمشنر سندھ کو دینا پڑتا تھا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1947 کی ہجرت کے بعد جب یہ صحافی اور ادیب ممبئی اور بھارت کے دیگر شہروں میں منتقل ہوئے، تو انہوں نے وہاں اپنی مادری زبان اور صحافت کو زندہ رکھنے کے لیے جن اخبارات کا دوبارہ آغاز کیا یا نئے پرچے جاری کیے، ان میں سے ایک اخبار کا نام انہوں نے ‘سندھ سماچار’ رکھا۔
صحافت کا صوفیانہ اور انقلابی رخ
جیٹھمل پرسرام گلراجانی نوآبادیاتی کراچی کی صحافت کے سب سے نڈر اور معتبر ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
انہوں نے کراچی سے ‘سندھ واسی’ اور ‘ہندواسی’ کے نام سے اخبارات جاری کیے۔ ان اخبارات کی خاصیت یہ تھی کہ یہ صوفی شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست کے کلام کے ذریعے ہندو مسلم اتحاد اور تھیوسوفی کی ترویج کرتے تھے تاکہ کراچی کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو صوفیانہ ہم آہنگی کے ایک مرکز پر اکٹھا رکھا جا سکے۔
آزادی صحافت کے لیے جیل کا سفر
1919 میں جب برطانوی حکومت نے رولٹ ایکٹ نافذ کیا، تو جیٹھمل پرسرام نے اپنے اداریوں میں انگریز حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جس کی پاداش میں انہیں گرفتار کر کے قید کی سزا دی گئی، لیکن انہوں نے اپنے اخبار کا سر نہیں جھکایا۔
تجارتی صحافت اور پریس کلبوں کی ابتدائی شکلیں
سندھ چونکہ 1936 تک بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ تھا، اس لیے کراچی کے سندھ ورکی تاجروں نے بمبئی کے بڑے اخبارات میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی تھی تاکہ کراچی بندرگاہ کی تجارتی خبریں عالمی سطح پر شائع ہو سکیں۔
کراچی کے جوڑیا بازار اور کھارادر سے ہندو تاجروں نے خصوصی ‘تجارتی خبرناموں’ کا آغاز کیا۔ ان ہفتہ وار پرچوں میں کراچی بندرگاہ پر آنے والے جہازوں، روئی، اناج اور چمڑے کی قیمتیں شائع ہوتی تھیں، جو برصغیر میں معاشی اور تجارتی صحافت کی اولین شکل تھی۔
موجودہ کراچی پریس کلب، جو 1958 میں قائم ہوا، سے بہت پہلے نوآبادیاتی دور میں سندھی ہندو صحافیوں اور پارسی و مسلم دانشوروں نے مل کر شہر میں پریس کلب کی ابتدائی شکلیں اور صحافتی انجمنیں قائم کر دی تھیں۔
‘سندھ جرنلسٹس ایسوسی ایشن’، 1920 کی دہائی
جیٹھمل پرسرام، لیلارام وطومل اور سادھو ہیرانند کی کوششوں سے ایم اے جناح روڈ، سابقہ بندر روڈ، اور سولجر بازار کے سنگم پر اس انجمن کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ موجودہ پریس کلبوں کی ابتدائی شکل تھی، جہاں ایک بڑا ہال، اخبارات کی لائبریری اور ٹائپ رائٹر موجود ہوتے تھے۔ یہاں ہندو، مسلم اور پارسی صحافی مل کر بیٹھتے، چائے نوشی کرتے اور کلفٹن یا کراچی بندرگاہ سے آنے والی سیاسی اور تجارتی خبروں پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔
‘ینگ مینز ہندو ایسوسی ایشن’ کا صحافتی ہال
بندر روڈ پر واقع اس تاریخی عمارت کا نقشہ اور مالی معاونت سندھ ورکی تاجروں نے فراہم کی تھی، جو نوآبادیاتی کراچی میں پریس کلب کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ جب بھی بمبئی، دہلی یا یورپ سے کوئی بڑا سیاسی رہنما یا بحری تاجر کراچی بندرگاہ پر اترتا، تو اس کی پہلی پریس کانفرنس اسی عمارت کے ہال میں منعقد کی جاتی تھی۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کسٹمز پریس گیلری
سیٹھ ہرچند رائے وشنداس اور دیوان ٹھاکر داس کی بلدیاتی کوششوں سے کراچی بندرگاہ کے قریب ایک مستقل پریس گیلری اور میڈیا روم قائم کیا گیا تھا، جہاں دنیا بھر سے آنے والے بحری جہازوں کے کپتانوں اور درآمدات و برآمدات کے اعداد و شمار پر روزانہ صحافیوں کو بریفنگ دی جاتی تھی۔ اسے اس دور کی معاشی صحافت کا پریس کلب سمجھا جاتا تھا۔
بلدیہ اور عدلیہ کے معمار اور رہائشی بستیاں
ان متمول تاجروں اور پڑھے لکھے افسر شاہی طبقے نے اپنی رہائش کے لیے جو محلے منتخب کیے، وہ اپنے طرز تعمیر اور شہری منصوبہ بندی کے لحاظ سے اس دور کے جدید ترین علاقے تھے، جیسے قدیم شہری علاقہ، جونا مارکیٹ، کھوڑی گارڈن، عامل کالونی، سولجر بازار، جمشید کوارٹرز اور آرام باغ۔
دیارام گدو مل
یہ نوآبادیاتی سندھ کی عدالتی تاریخ کے معتبر ترین ججوں اور جوڈیشل کمشنروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے دیوان دیارام جیٹھمل کے خاندان کو آمادہ کر کے کراچی کا پہلا تاریخی سائنس کالج 1887 میں قائم کروایا۔
سیٹھ ہرچند رائے وشنداس
بحیثیت صدر بلدیہ 1911 سے 1921 تک انہوں نے کراچی کا نقشہ بدل دیا۔ انہوں نے بندر روڈ کو روزانہ پانی سے دھونے کا نظام شروع کروایا تاکہ شہر طاعون سے محفوظ رہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کراچی میونسپل کارپوریشن کی کئی عمارتیں ان کے وژن کا نتیجہ تھیں۔ گارڈن ایسٹ میں واقع ان کا تاریخی بنگلہ اس دور میں آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کے رہنماؤں کی نشست گاہ تھا، جہاں قائد اعظم محمد علی جناح بھی تشریف لائے۔
1941 کی مردم شماری اور ہجرت کا المیہ، 1947 تا 1948
برطانوی ہند کی آخری باقاعدہ مردم شماری 1941 کے مطابق کراچی کی کل آبادی 386,655 تھی، جس کا آبادیاتی ڈھانچہ درج ذیل تھا۔
سندھی اور گجراتی ہندو: 51.1 فیصد، شہر کی واضح اکثریت
مسلمان، کچھی سندھی، بلوچ، میمن، بوہرہ اور خوجہ: 42.3 فیصد
لسانی تناسب کے مطابق شہر کی 61.2 فیصد آبادی کی مادری زبان سندھی تھی، جبکہ اردو بولنے والوں کا تناسب محض 6.3 فیصد تھا۔ سندھی ہندو ایک انتہائی شہری برادری تھی، اسی وجہ سے حیدرآباد میں 72 فیصد اور سکھر میں 70 فیصد آبادی ہندوؤں پر مشتمل تھی۔
اگست 1947 کے بعد اور خصوصاً جنوری 1948 کے فسادات کے نتیجے میں کراچی کی تقریباً نصف آبادی، یعنی ہندو برادری، چند ماہ کے اندر بادل نخواستہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر بھارت روانہ ہو گئی۔ اس عظیم ہجرت نے کراچی کو یکدم درج ذیل گہرے اور ناقابل تلافی زخم دیے۔
مالیاتی اور عدالتی تعطل
بندرگاہ کی تجارتی مالیاتی سرگرمیاں، ہونڈی کا نظام اور چیف کورٹ آف سندھ کا عدالتی نظام ججوں اور بینک کے عملے کے چلے جانے سے مفلوج ہو گیا۔
لسانی اور تمدنی تبدیلی
1951 کی مردم شماری تک کراچی کی آبادی 11 لاکھ ہو گئی۔ مسلم آبادی 96 فیصد ہو گئی اور ہندو آبادی سمٹ کر محض ایک فیصد رہ گئی۔ کراچی راتوں رات ایک سندھی اکثریتی شہر سے اردو اکثریتی شہر بن گیا، جس سے شہر کا قدیم صوفیانہ اور کثیر الثقافتی مزاج یکسر بدل گیا۔
تعلیمی اور اسکولی نظام کا بحران
سندھی میڈیم اسکولوں کے 80 فیصد سے زائد اساتذہ اور ہیڈ ماسٹر عامل ہندو تھے، جن کے چلے جانے سے تعلیم مہینوں تک متاثر رہی۔ حکومت پاکستان نے ہنگامی بنیادوں پر ان خالی شدہ اسکولوں، کالجوں اور ہاسٹلوں، جیسے مٹھارام ہاسٹل، کو مہاجر کیمپوں میں تبدیل کر دیا، جس سے ان کی تاریخی لائبریریاں اور سائنسی تجربہ گاہوں کا سامان ضائع ہو گیا۔
بعد ازاں وفاقی دارالحکومت بننے کے بعد تعلیمی پالیسی کے تحت درجنوں پرانے سندھی اسکولوں کو اردو میڈیم میں تبدیل کر دیا گیا، جس سے شہر کا تعلیمی ڈھانچہ اپنی قدیم سندھی شناخت کھو بیٹھا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ 1948 کے اوائل میں جب یہ تمام تجربہ کار ہندو مدیر، مالکان، تاریخ دان اور بلدیاتی معمار یکدم کراچی چھوڑ کر بھارت منتقل ہوئے، تو ان کے بنائے ہوئے صحافتی ہال، پرنٹنگ پریس اور تعلیمی ادارے ویران ہو گئے۔
ممبئی اور پونا منتقل ہونے کے بعد بھی ان دانشوروں نے اپنی مادری زبان کا رشتہ زندہ رکھا اور بھارت کے آئین کے آٹھویں شیڈول میں سندھی زبان کو شامل کروانے کے لیے طویل قانونی اور سیاسی جدوجہد کی، جس میں وہ کامیاب ہوئے۔
اگرچہ ان کے جانے کے بعد کراچی ایک گنجان عظیم شہر میں تبدیل ہو گیا اور اس کی جگہ جدید اخبارات اور نئے تمدن نے لے لی، لیکن ان کے قائم کردہ تعلیمی ادارے، ہسپتال اور پیلے پتھر سے تعمیر شدہ تاریخی عمارتیں آج بھی کراچی کے چپے چپے پر ان کے عظیم وژن، صوفیانہ ہم آہنگی اور لازوال خدمات کی خاموش گواہی دے رہی ہیں۔
تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرا ماننا ہے کہ 4500 قبل مسیح میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث وادی سندھ کے مکینوں کی مرحلہ وار ہجرت کے بعد 1947 اور 1948 میں سندھ کے ان فرزندان زمین کی اچانک ہجرت نے بھی سندھ کو ایک بہت بڑا نقصان پہنچایا۔
کسی بھی شہر کی روح اس کے کنکریٹ کے ڈھانچوں، بلند و بالا عمارتوں یا چوڑی سڑکوں میں نہیں، بلکہ ان انسانوں اور برادریوں کے دم قدم سے سانس لیتی ہے جو اپنے خون جگر سے اس کے کینوس پر تہذیب و تمدن کے رنگ بکھیرتے ہیں۔ آج کا کراچی، جو مسائل کے انبار اور کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہو چکا ہے، ماضی میں ایک ایسا کثیر الثقافتی اور کھلا شہر تھا جہاں دنیا بھر کے ہنر مند، مصلح اور امن پسند انسان کھنچے چلے آتے تھے۔
انہی قدیم اور معزز برادریوں میں سے ایک ‘گوون کمیونٹی’ تھی، جس نے کراچی کو ایک پسماندہ ساحلی بستی سے اٹھا کر برصغیر کا سب سے صاف ستھرا، پڑھا لکھا اور متحرک جدید شہر بنانے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا۔ یہ اس مہذب اور وضع دار برادری کی تاریخ، عروج اور پھر ہجرت کے اس المیے کی داستان ہے، جس کے تذکرے کے بغیر کراچی کی ادھوری تاریخ کا کوئی بھی ورق پلٹایا نہیں جا سکتا۔
اس داستان کا آغاز انیسویں صدی کی پہلی ششماہی میں ہوتا ہے، جب لزبن، گوا اور کراچی کے مابین ایک غیر معمولی نوآبادیاتی تکون جنم لے رہی تھی۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ گوون برادری انگریزوں کی آمد کے بعد یہاں آباد ہوئی، لیکن تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ برطانوی قبضے (1839) سے قبل، یعنی کم و بیش چار سال پہلے 1835 ہی سے ہمیں کراچی میں گوون برادری کے ابتدائی نشانات ملتے ہیں، جب کچھ مہم جو اور تاجر بمبئی کے راستے اس تالپور دور کی ساحلی بستی میں قدم رکھ چکے تھے۔
تاہم، 1850 کی دہائی کے دوران جب برطانوی راج نے سندھ کو فتح کر کے کراچی کو بمبئی پریزیڈنسی کے تحت ایک بین الاقوامی تجارتی اور فوجی مرکز بنانا شروع کیا، تو ان کی آمد میں باقاعدہ تیزی آئی۔
انگریزوں کو ایک ایسی افرادی قوت کی ضرورت تھی جو انگریزی زبان سے واقف ہو، دفتری نظم و ضبط کو سمجھتی ہو اور وفادار ہو۔ دوسری طرف، پرتگالی نوآبادی گوا میں رومن کیتھولک عیسائیت قبول کرنے والی مقامی آبادی کے پاس مغربی رہن سہن اور انگریزی کی مہارت تو تھی، لیکن وہاں معاشی مواقع انتہائی محدود تھے۔
چنانچہ گوا کے یہ ہنر مند عیسائی بحری جہازوں کے ذریعے کراچی آنا شروع ہوئے۔ انگریزوں کے لیے یہ برادری ایک بہترین انتخاب ثابت ہوئی اور وقت کے ساتھ ساتھ انہی لوگوں نے شہر کے دفتری، تعلیمی اور سماجی نظام کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ تقسیم ہند کے وقت 1947 میں کراچی میں ان کی تعداد پندرہ ہزار کے لگ بھگ تھی، جنہوں نے صدر، گارڈن اور پاکستان چوک جیسے مرکزی علاقوں کو اپنا مسکن بنایا۔
گوون برادری کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا تعلیمی نظام، صحت، موسیقی اور کھیلوں کے میدان میں غیر معمولی خدمات تھیں۔ ان کے ہاں شرح خواندگی سو فیصد تھی اور وہ تعلیم کو دنیا کی سب سے بڑی دولت سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے قائم کردہ یا زیر انتظام چلنے والے مشنری اداروں نے قائد اعظم محمد علی جناح سمیت پاکستان کی کئی نسلوں کی کردار سازی کی۔
سینٹ پیٹرکس ہائی اسکول اور کالج، جہاں کے پرنسپلز اور اساتذہ کی اکثریت گوون تھی، شہر میں علم کا سب سے بڑا گڑھ بن گیا۔ اسی طرح سینٹ جوزف کانوینٹ اسکول اور کالج، کانوینٹ آف جیزس اینڈ میری، سینٹ لارنس گرلز اسکول اور سینٹ پاؤلز انگلش ہائی اسکول جیسے اداروں نے نہ صرف علم بانٹا بلکہ ایک ایسا مہذب طبقہ پیدا کیا جس نے آگے چل کر ملک کے بینکوں، ریلوے اور سول سروسز میں اعلیٰ ترین انتظامی عہدے سنبھالے۔ ان اسکولوں میں گوون پادریوں اور راہباؤں، یعنی ننز، کے سخت مگر شفیق تعلیمی نظام نے شہر کے مخلوط ثقافتی ماحول کو ایک خاص جلا بخشی۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ گوون خواتین نے کراچی کے دفتری اور کاروباری ماحول میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ اس دور میں جب مقامی خاندانوں میں خواتین کا گھروں سے نکلنا معیوب سمجھا جاتا تھا، گوون برادری نے اپنی خواتین کو ملازمت کی مکمل آزادی اور حوصلہ افزائی دی۔ اپنی شاندار انگریزی، ٹائپنگ، شارٹ ہینڈ کی پیشہ ورانہ تربیت اور بین الاقوامی آداب کی بدولت یہ خواتین غیر ملکی سفارت خانوں، فضائی کمپنیوں، بینکوں اور بڑے کاروباری اداروں میں ایگزیکٹو سیکریٹری اور انتظامی معاون کے طور پر پہلی اور ناگزیر پسند بن گئیں۔
ان کے دفتری رکھ رکھاؤ اور دیانت داری نے کراچی کے کاروباری ماحول کو ایک مغربی رنگ اور پیشہ ورانہ وقار عطا کیا۔
کراچی میں اس دور کے طبی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو صحت اور طب کا شعبہ بھی اس برادری کے بغیر ادھورا نظر آتا ہے۔ 1948 میں سولجر بازار میں قائم ہونے والا ہولی فیملی ہسپتال کراچی کے معتبر ترین اداروں میں شمار ہوتا ہے، جسے چلانے اور مریضوں کی بے لوث دیکھ بھال میں گوون ڈاکٹروں اور نرسوں کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی مانند رہا۔
ڈاکٹر میری بریگنزا اور ڈاکٹر ہیزل مسکیٹا جیسی نامور معالجین نے دہائیوں تک انسانیت کی خدمت کی۔ حکومت پاکستان سے 2002 میں قومی اعزاز پانے والے ڈاکٹر ہرمی نیگلڈ ڈراگو اور سینٹ لارنس چرچ کمپاؤنڈ میں غریبوں کا مفت علاج کرنے والی ڈاکٹر فلپا ڈراگو نے طب کو تجارت کے بجائے عبادت بنا دیا۔
اس سے بھی بڑھ کر، گوون خواتین نے نرسنگ اور دائی گیری جیسے شعبوں کو اپنا کر انہیں ایک انتہائی معزز اور پیشہ ورانہ مقام دلایا، اور ہولی فیملی نرسنگ اسکول کے ذریعے ہزاروں مقامی خواتین کو اس مقدس پیشے کی جدید تربیت فراہم کی۔
کراچی کو ‘روشنیوں کا شہر’ بنانے اور اس کی شاندار شبانہ زندگی، براہ راست موسیقی اور تفریحی کلبوں کی ثقافت کے اصل معمار بھی یہی گوون فنکار تھے۔ 1940 کی دہائی سے لے کر 1970 کی دہائی تک، صدر اور ایم اے جناح روڈ کے اطراف واقع میٹروپول ہوٹل، بیچ لگژری، پیلس ہوٹل اور تاج محل جیسے نائٹ کلبوں میں گوون بینڈز راج کرتے تھے۔ انہوں نے کراچی کے اشرافیہ اور عام شہریوں کو جاز، سوئنگ اور پاپ موسیقی سے متعارف کرایا۔
‘دی اِن کراوڈ’ جیسے مقبول جاز بینڈ کی قیادت کرنے والے نورمن ڈی سوزا، ‘دی ٹیلسمین’، ‘دی کینوٹس’ اور مایہ ناز سیکسوفون نواز ایلکس روڈریگز کی دھنیں سننے لوگ دور دور سے آتے تھے۔
یہ فنکار صرف کلبوں تک محدود نہیں تھے بلکہ ماسٹر نیسٹر، فیلکس کارڈوزو اور کواڈروس برادرز جیسے موسیقاروں نے پاکستان ٹیلی وژن، ریڈیو پاکستان اور پاکستانی فلموں کی پس منظر موسیقی میں وائلن، پیانو اور ٹرمپٹ جیسے مغربی ساز شامل کر کے قومی موسیقی کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ بال روم رقص، والٹز اور مغربی طرز کے تھیٹر اور اوپیرا کی بنیاد رکھ کر انہوں نے شہر کو ایک ایسا کھلا، کثیر الثقافتی اور سیکولر ماحول دیا جہاں ہر نسل اور مذہب کا انسان سکون کا سانس لیتا تھا۔
اگر ہم کراچی کی لائف لائن یعنی اس کی بندرگاہ کا ذکر کریں، تو برطانوی راج میں 1843 کے بعد کراچی پورٹ ٹرسٹ کا مادی ڈھانچہ تیار ہوا، تو اس ڈھانچے کو کامیابی سے چلانے کے پیچھے بھی گوون برادری کی ذہنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں کارفرما تھیں۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ہیڈ آفس کی تاریخی عمارت ہو یا کسٹمز ہاؤس، چیف کلرک، اکاؤنٹنٹس اور لاجسٹکس مینیجرز کے عہدوں پر گوون افسران اپنی دیانت داری اور برطانوی بیوروکریسی کو سمجھنے کی صلاحیت کی وجہ سے ناگزیر تھے۔ کیماڑی کی بستی، جو بندرگاہ کا دل ہے، وہاں گوون برادری کی ایک بڑی اور فعال آبادی مقیم تھی، جن کا اپنا سینٹ جیگوز چرچ اور سماجی کلب تھے۔ بحری انجینئرنگ سے لے کر بین الاقوامی مسافر بردار بحری جہازوں پر مغربی مسافروں کے لیے ضیافت اور مہمان نوازی کے امور تک، گوون برادری نے کراچی کو برصغیر کی اہم برآمدی بندرگاہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
کھیلوں کے میدان میں بھی اس برادری نے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا۔ جان پرمل، جو 1964 سے 1974 تک مسلسل پاکستان کے تیز ترین انسان رہے اور جنہوں نے 1972 کے میونخ اولمپکس میں ملک کی نمائندگی کی، اسی کراچی کے صدر کے گلی کوچوں کی پیداوار تھے۔ اس برادری نے پاکستان کو اولمپک سطح کے ہاکی کھلاڑی اور قومی ایتھلیٹس دیے۔
نوجوانوں کو سماجی برائیوں سے دور رکھنے کے لیے انہوں نے اسپورٹس کلب قائم کیے اور صدر میں واقع تاریخی کراچی گوا ایسوسی ایشن ہال اور گوون جمخانہ کے تحت فٹ بال اور کرکٹ کے ایسے ٹورنامنٹس منعقد کرائے جن میں شہر بھر کے نوجوان بلا تفریق مذہب حصہ لیتے تھے۔
گوون برادری کی سیاسی اور بلدیاتی خدمات بھی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ 1945 سے 1946 کے دوران اس برادری کے مایہ ناز رہنما مینول روزاریو مسکیٹا کراچی کے میئر منتخب ہوئے، اور ان کے دور میں کراچی کو برصغیر کا سب سے صاف ستھرا اور مثالی شہر قرار دیا گیا۔
ان کا خاندانی کاروبار ‘مسکیٹا بیکری’ صدر کا ایک مشہور نشان تھا۔ اسی طرح برصغیر میں کوآپریٹو ہاؤسنگ کا پہلا کامیاب تجربہ کرنے والے سنسیناٹس فابین ڈی ابریو نے 1908 میں کراچی کی پہلی منصوبہ بند ہاؤسنگ سوسائٹی قائم کی، جسے ان کے نام پر ‘سنسیناٹس ٹاؤن’ کہا گیا اور جو آج گارڈن ایسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا مقصد متوسط طبقے کے ملازمین کو سستے، ہوا دار اور باغیچوں والے مکانات فراہم کرنا تھا۔ تعمیرات کے شعبے میں جیروم ڈی سلوا نے تقسیم کے بعد رہائشی بحران کو حل کرنے کے لیے اپنے مسلم شراکت دار کے ساتھ مل کر مشہور ‘حسین ڈی سلوا ٹاؤن’ بنایا، جبکہ سینٹ پیٹرکس سے تعلیم یافتہ فرینک ڈی سوزا برطانوی راج میں انڈین ریلوے بورڈ کے پہلے مقامی رکن بنے۔
انہی شخصیات کی انتھک محنت کی وجہ سے برٹو روڈ، پیڈرو ڈی سوزا روڈ اور ڈی سلوا اسٹریٹ جیسے نام آج بھی کراچی کے نقشے پر ثبت ہیں۔
ان کا طرز گفتگو اور لہجہ بھی ان کی ایک منفرد ثقافتی پہچان تھا۔ ان کی اصل مادری زبان کونکنی تھی، جس پر گوا کے 450 سالہ پرتگالی راج کی وجہ سے پرتگالی زبان کے گہرے اثرات تھے۔
وہ اسے رومی رسم الخط میں لکھتے تھے، لیکن کراچی آنے کے بعد انگریزی ان کی پہلی اور بنیادی زبان بن گئی۔ ان کی انگریزی کا معیار برطانوی تلفظ کے بہت قریب ہوتا تھا، تاہم گفتگو کے دوران ان کا ایک مخصوص، میٹھا اور گائیکی جیسا اتار چڑھاؤ ہوتا تھا، جس میں پرتگالی اثرات کی وجہ سے ‘ٹی’ اور ‘ڈی’ کی آوازیں بہت نرمی سے ادا کی جاتی تھیں، اور فقروں کے درمیان پیار سے ‘مین’ یا ‘بابا’ کا تکیہ کلام استعمال ہوتا تھا۔
کراچی کے ماحول میں ڈھلنے کے بعد انہوں نے اردو بھی سیکھی، اور ان کا مخصوص لہجے میں اردو بولنا سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتا تھا۔
مذہبی عقائد کے معاملے میں یہ برادری سو فیصد رومن کیتھولک عیسائی تھی اور گوا میں مقیم اپنے سرپرست بزرگ سینٹ فرانسس زیویئر سے گہری عقیدت رکھتی تھی۔ صدر کا شاندار سینٹ پیٹرکس کیتھیڈرل اور گارڈن ایسٹ کا منفرد مغلیہ طرز تعمیر کا شاہکار سینٹ لارنس چرچ ان کی مذہبی زندگی کے مرکز تھے۔
اتوار کے روز کوٹ پینٹ اور روایتی گاؤن پہن کر سنڈے ماس میں شرکت کرنا، اور کرسمس یا ایسٹر پر روایتی گوون کیک اور مٹھائیاں، جیسے ببنکا اور ڈوڈول، بانٹنا ان کا معمول تھا۔ اپنے عقیدے میں پختہ ہونے کے باوجود وہ بین المذاہب رواداری کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ ان کے سماجی مرکز کراچی گوا ایسوسی ایشن ہال، جو 1886 میں قائم ہوا، کا نقشہ کراچی کے مشہور یہودی ماہر تعمیرات موسیٰ سومیک نے تیار کیا۔
اگست 1947 کے خونی فسادات کے وقت گوون برادری نے شہر میں مسلم اور ہندو برادریوں کے درمیان امن کا پل بننے کا کردار ادا کیا اور بھارت سے آنے والے لاکھوں مہاجرین کے لیے اپنے اسکولوں کے دروازے کھول کر ان کے لیے کیمپوں، خوراک اور طبی امداد کا انتظام کیا۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح خود اس برادری کی دیانت داری کے معترف تھے اور محترمہ فاطمہ جناح کے قریبی حلقے اور سماجی کاموں میں گوون خواتین ہمیشہ پیش پیش رہتی تھیں۔
مگر افسوس، 1970 کی دہائی کے بعد کراچی کا یہ شاندار اور پرامن رنگ آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگا۔ ملک کے بدلتے ہوئے سیاسی اور ثقافتی حالات، شبانہ زندگی اور تفریحی کلبوں پر پابندیوں نے ان کے روایتی طرز زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ رہی سہی کسر 1972 میں مشنری تعلیمی اداروں کو قومیانے کی پالیسی نے پوری کر دی، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی اثر و رسوخ ختم ہوا بلکہ ان کے روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ بھی چھن گیا۔
بعد ازاں 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں کراچی کے ناگفتہ بہ حالات اور معاشی عدم استحکام کی وجہ سے اس برادری کی نوجوان نسل نے کینیڈا، خصوصاً ٹورنٹو، آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کا رخ کر لیا، جہاں انہیں ان کی اعلیٰ تعلیم اور انگریزی دانی کی وجہ سے آسانی سے شہریت مل گئی۔
اب یعنی 2026 میں، کسی دور میں پندرہ ہزار نفوس پر مشتمل یہ متحرک برادری کراچی میں سکڑ کر صرف چند سو خاندانوں یا اندازاً دو سے تین ہزار افراد تک محدود رہ گئی ہے۔ ان میں اب بڑی عمر کے بزرگوں کی اکثریت ہے جو گارڈن ایسٹ اور صدر کے اپنے آبائی، خستہ حال بنگلوں اور فلیٹوں میں ماضی کی یادوں کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں۔ جو چند خاندان باقی ہیں، وہ اب بھی کاروباری شعبے اور تعلیمی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔
کراچی گوا ایسوسی ایشن ہال اور گوون جمخانہ اب بھی فعال ہیں، لیکن وہاں ماضی جیسی گہما گہمی اور جاز موسیقی کی دھنیں سنائی نہیں دیتیں، اور ان کلبوں کی بقا کے لیے اب دیگر برادریوں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ چرچوں میں بھی اب دیگر مقامی عیسائی برادریاں زیادہ نظر آتی ہیں۔
کراچی کی گوون برادری اب ہجرت کی دھند میں گم ہو چکی ہے، لیکن صدر کی پرانی عمارتیں، سڑکوں کے کتبے اور شہر کا تعلیمی و بلدیاتی ڈھانچہ آج بھی پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس شہر کو مہذب، مصلح اور خوبصورت بنانے والے اصل معمار کون تھے۔ کراچی کی تاریخ ان کے تذکرے کے بغیر ہمیشہ نامکمل رہے گی۔
لی مارکیٹ کی پنجابی گلی سے اغواء ہونے والے چھ سالہ محمد ولی کی بوری بند لاش برآمد ہوئی، پولیس نے لاش تحویل میں لے کر سول ہسپتال منتقل کر دی۔
محمد ولی کو پیر کی شام گھر کے باہر سے اغواء کیا گیا تھا، کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد اہل خانہ نے نپیئر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرایا تھا۔بچے کی لاش ملنے کے بعد اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں اور انہوں نے اعلیٰ حکام سے واقعے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
والدہ کا کہنا ہے کہ ان کے بچے کی مسخ شدہ لاش بوری میں بند کر کے تین منزلہ عمارت سے نیچے پھینکی گئی۔ اہل خانہ کے مطابق وہ دو دن سے بچے کی تلاش میں تھے۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ واردات پڑوسی کے گھر میں ہوئی، تاہم ملزم نے انہیں گھر کے اندر داخل نہیں ہونے دیا۔اہل خانہ کے مطابق ملزم بچے کی تلاش میں ان کے ساتھ شریک ہو کر ڈرامہ بھی کرتا رہا۔
علاقہ مکینوں نے بتایا کہ انہوں نے ملزم حمزہ کو اپنی مدد آپ کے تحت پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔ والدہ نے حکومت سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ والد کا کہنا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔ والد نے بتایا کہ وہ رکشہ چلاتے ہیں، ان کی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔والد کے مطابق محمد ولی بہت منت مرادوں کے بعد پیدا ہوا تھا اور اس کے قتل نے ان کی دنیا اجاڑ دی۔
والد نے بتایا کہ مقتول محمد ولی پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔علاقائی عہدیدار کے مطابق ملزم نے گرفتاری کے وقت بتایا کہ مقتول بچے کے والد سے اس کی ذاتی رنجش تھی۔علاقائی عہدیدار نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو سرعام پھانسی دی جائے۔