Tag: کراچی

  • سندھ کے اجتماعی سماجی اور سیاسی شعور کا بحران

    سندھ کے اجتماعی سماجی اور سیاسی شعور کا بحران

    سندھ، جو تاریخی طور پر صوفی روایتوں، رواداری اور مضبوط سیاسی شعور کی سرزمین رہی ہے، اس وقت ایک گہرے بحران سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے قبائلی معاشرے اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے ‘اجتماعی غیرت’ اور فوری ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف سندھ میں پریا کماری، فضیلا سرکی جیسی بیٹیاں برسوں سے لاپتہ ہیں اور سعید میمن جیسے بے گناہ شہری اغوا ہو چکے ہیں، مگر سندھ کا معاشرہ کسی بڑی اجتماعی تحریک کو جنم دینے میں ناکام رہا ہے۔

    سندھی سماج اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر ناکامی کا شکار ہے۔ قبائلی جھگڑے، کاروکاری، سرداری اور وڈیرا شاہی نظام کی خوشامد، اور سوشل میڈیا کا غیر اخلاقی استعمال، فحش ویڈیوز، نازیبا پوسٹس، غیبت اور کردار کشی اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ شریف لوگ اور خواتین فیس بک استعمال کرنے سے نفرت محسوس کرنے لگے ہیں۔

    قومی وسائل کی لوٹ مار پر خاموشی اور کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی سازشوں کے خلاف مؤثر مزاحمت کا نہ ہونا ایک بڑا المیہ ہے۔

    اہم سوالات

    سندھی معاشرہ اپنی بیٹیوں اور شہریوں کے اغوا پر ویسا ردعمل کیوں نہیں دیتا جیسا پشتون یا بلوچ معاشرہ دیتا ہے؟

    سندھی نوجوانوں کے شعور کو مضبوط بنانے کے بجائے سوشل میڈیا اخلاقی زوال کا سبب کیوں بن رہا ہے؟

    سرداری نظام اور ‘بھوتار کلچر’ نے سندھیوں کی اجتماعی جدوجہد کو کیسے مفلوج کر دیا ہے؟

    قبائلی معاشرہ بمقابلہ زرعی اور جاگیردارانہ معاشرہ

    پشتون اور بلوچ معاشرے آج بھی اپنے خالص قبائلی ڈھانچے پر قائم ہیں، جہاں ‘قبیلے کی عزت و ناموس’ کے لیے سب متحد ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس سندھ کی صورتحال مختلف ہے۔ یہاں سردار یا وڈیرا قبیلے کا محافظ نہیں بلکہ اکثر اس کا استحصال کرنے والا بن چکا ہے۔ سندھی عوام کو معاشی طور پر اتنا کمزور کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بقا کی جنگ میں پوری قوم کے درد کو بھول بیٹھے ہیں۔

    جب بلوچستان سے سعید میمن اغوا ہوتا ہے تو سندھ کی کسی بڑی سیاسی یا سماجی قوت کی طرف سے بلوچستان جا کر احتجاج کرنے کا اعلان سامنے نہیں آتا۔ یہ سندھ کی قیادت اور سماجی تنظیموں کی کمزوری اور خوف کی علامت ہے۔

    پریا کماری، جو اقلیتی برادری سے تعلق رکھتی ہے، اور فضیلا سرکی، جو ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے، کا برسوں تک لاپتہ رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ ریاستی اور سماجی ڈھانچہ صرف طاقتور اور امیر کے تحفظ کے لیے کھڑا ہے۔

    سوشل میڈیا اور فکری زوال

    فیس بک پر سندھی سماج کا ایک بڑا حصہ قومی حقوق کی بات کرنے کے بجائے ان امور میں مصروف ہے:

    وڈیروں کی خوشامد

    بھوتاروں کی بے جا تعریف

    ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا

    ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا

    حالانکہ سوشل میڈیا معلومات، شعور اور سیکھنے کا ایک مضبوط ذریعہ ہو سکتا تھا، مگر وہاں فحش مواد اور غیر اخلاقی پوسٹس کا عام ہونا اس بات کی علامت ہے کہ معاشرے میں فکری خلا پیدا ہو چکا ہے۔ جب کسی قوم کے پاس کوئی بڑا مقصد یا نظریہ نہ ہو تو نوجوان اسی قسم کی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    کراچی اور سندھ کی وحدت

    اس وقت سندھ کو توڑنے اور کراچی کو الگ کرنے کے مختلف منصوبے زیر بحث رہتے ہیں۔ کراچی سندھ کی معاشی اور سیاسی روح ہے، مگر اس کے باوجود سندھی عوام کی مزاحمت زیادہ تر صرف انتخابات تک محدود ہو چکی ہے۔

    تاریخ میں سندھ نے ون یونٹ کے خلاف اور ایم آر ڈی جیسی عظیم تحریکیں چلائیں، مگر آج وہ اجتماعی قومی شعور کمزور پڑ چکا ہے۔ اقتدار میں بیٹھے وڈیرے میرٹ کا قتل کر کے نوجوانوں کو محرومیوں میں دھکیل رہے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتیں اقتدار کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے سامنے اجتماعی قومی شعور کا سودا کر چکی ہیں۔

    یہ بے حسی کیوں؟

    سندھی قوم کی یہ بے حسی کوئی فطری یا پیدائشی چیز نہیں بلکہ ایک گہری ‘سماجی بیماری’ ہے۔ جاگیردارانہ نظام، تباہ حال تعلیم، ریاستی بے حسی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال نے مل کر سندھی معاشرے کو مفلوج کر دیا ہے۔

    جہاں پشتون اور بلوچ اپنی روایات سے طاقت لیتے ہیں، وہاں سندھی سماج اپنے ہی سرداروں کے پیدا کردہ قبائلی جھگڑوں اور کاروکاری جیسے ناسور میں الجھا ہوا ہے۔

    حل کیا ہے؟

    ایسی صورتحال میں سندھی دانشوروں، ادیبوں اور باشعور نوجوانوں کو فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر منظم انداز میں موجودہ بھوتار کلچر، سندھ کی تقسیم کی سازشوں اور اخلاقی زوال کے خلاف ایک فکری جدوجہد شروع کرنا ہوگی۔

    قبائلی جھگڑے کرانے والے سرداروں اور بیٹیوں کے اغوا پر خاموش رہنے والوں کا سماجی بائیکاٹ کرنا ہوگا۔

    سندھ کو وڈیرا شاہی کی خوشامد سے نکالنے کے لیے متوسط طبقے اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو آگے آ کر مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنا ہوگی۔

    سوشل میڈیا کی گندگی سے نکل کر عملی میدان میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔

    سندھ ابھی مکمل طور پر سویا نہیں ہے۔ جہاں ایسے سوال اٹھتے ہیں، وہاں کل تبدیلی کی لہر بھی ضرور جنم لیتی ہے۔ مگر اس کے لیے سندھ سے محبت رکھنے والی تمام قوتوں کو متحد ہو کر عملی جدوجہد کرنا ہوگی۔

  • 12 مئی 2007 جب کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی

    12 مئی 2007 جب کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی

    12 مئی 2007 پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ کا ایک نہایت سیاہ اور دردناک دن ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف قانون کی حکمرانی کی پامالی تھا بلکہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والے تشدد کی بدترین مثال بھی تھا۔ مارچ 2007 میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف کی جانب سے افتخار محمد چوہدری کو غیر آئینی طور پر معطل کیے جانے کے بعد پورے ملک میں عدلیہ کی آزادی کی تحریک شروع ہو چکی تھی۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر چیف جسٹس کو 12 مئی 2007 کو کراچی میں خطاب کرنا تھا۔

    11 مئی کی رات ہی سے کراچی کی اہم شاہراہوں خصوصاً شاہراہ فیصل کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا تاکہ وکلا اور عوام ایئرپورٹ تک نہ پہنچ سکیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے مسلح کارکنوں نے جنرل مشرف کی حمایت میں کراچی کو یرغمال بنا لیا تھا۔

    جب چیف جسٹس کراچی ایئرپورٹ پہنچے تو انہیں وہیں روک دیا گیا اور شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی گئی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ایم کیو ایم کے مسلح جتھوں کی جانب سے وکلا، سیاسی کارکنوں خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی اور عام شہریوں پر براہ راست فائرنگ کی گئی۔ اے آر وائی نیوز اور آج نیوز کے دفاتر پر کئی گھنٹوں تک مسلسل فائرنگ ہوتی رہی، جسے دنیا بھر میں براہ راست دیکھا گیا۔

    اس دن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 50 سے زائد افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ سب سے افسوسناک بات یہ تھی کہ ایمبولینسوں کو بھی راستہ نہیں دیا جا رہا تھا اور وکلا کو ان کے دفاتر میں زندہ جلانے کی کوششیں کی گئیں۔

    جب کراچی میں خون کی یہ ہولی کھیلی جا رہی تھی، اس وقت جنرل مشرف اسلام آباد میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے:

    دیکھو، آج کراچی میں عوامی طاقت کا مظاہرہ ہوا ہے۔

    اس بیان کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ اس سے یہ تاثر ملا کہ کراچی کا قتل عام حکومت کی مرضی اور سرپرستی میں ہوا تاکہ عدالتی تحریک کو دبایا جا سکے۔

    اس واقعے نے عدالتی تحریک کو مزید شدت دی، جس کے نتیجے میں بعد ازاں چیف جسٹس افتخار چوہدری بحال ہوئے۔ 12 مئی 2007 کراچی واقعات جنرل مشرف کے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا اور اس کے بعد ان کی حکمرانی کا اخلاقی جواز ختم ہوتا چلا گیا۔ اس سانحے نے کراچی میں لسانی اور سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا، جس کے اثرات کئی برسوں تک محسوس کیے جاتے رہے۔

    12 مئی 2007 کا قتل عام صرف ایک سیاسی تصادم نہیں تھا بلکہ یہ پاکستانی عوام کی جمہوریت اور انصاف کی خواہشات کو بندوق کے زور پر دبانے کی ناکام کوشش تھی۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ جب ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے مسلح جتھوں کو کھلی چھوٹ دے تو اس کے نتائج قومی سانحے کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ آج بھی اس واقعے کے متاثرین انصاف کے منتظر ہیں۔

  • سانحہ کراچی: 12 مئی 2007 کو کیا ہوا؟ انسانی حقوق کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کیا کہا؟

    سانحہ کراچی: 12 مئی 2007 کو کیا ہوا؟ انسانی حقوق کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کیا کہا؟

    12 مئی 2007 پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ کے ان سیاہ ترین دنوں میں شمار ہوتا ہے جب کراچی کئی گھنٹوں تک عملی طور پر میدانِ جنگ بنا رہا۔ شہر کی سڑکوں پر مسلح جتھے آزادانہ انداز میں گھومتے رہے، فائرنگ ہوتی رہی، لاشیں گرتی رہیں اور ریاستی ادارے تقریباً مفلوج دکھائی دیے۔

    یہ وہ دن تھا جب معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کراچی پہنچے تھے، جہاں وکلا اور اپوزیشن جماعتوں نے ان کے استقبال کی تیاری کر رکھی تھی۔ لیکن شہر میں ایسا خونریز تصادم ہوا جس نے پاکستان کی سیاست، عدلیہ اور میڈیا پر گہرے اثرات چھوڑے۔

    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے اپنی سالانہ رپورٹ برائے 2007 میں 12 مئی کے واقعات کو تفصیل سے دستاویزی شکل دی۔ اس کے علاوہ اگست 2007 میں کمیشن نے “Carnage in Karachi – A City Under Siege” کے عنوان سے ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ بھی جاری کی، جس میں 12 مئی کو کراچی میں پیش آنے والے واقعات کا تفصیلی ریکارڈ مرتب کرنے کی کوشش کی گئی۔

    یہ رپورٹ اخباری اطلاعات، چشم دید گواہوں کے بیانات، حلف ناموں اور متاثرین کی شہادتوں کی بنیاد پر تیار کی گئی تھی۔ ایچ آر سی پی نے واضح کیا کہ اس کا مقصد کسی عدالتی عمل پر اثر انداز ہونا یا کسی فریق کے حق یا مخالفت میں فیصلہ دینا نہیں، بلکہ ایک ایسا تاریخی ریکارڈ مرتب کرنا تھا جو مستقبل میں حقائق تک رسائی میں مدد دے سکے۔

    مشرف حکومت اور تحقیقات سے انکار

    ایچ آر سی پی کی 2007 سالانہ رپورٹ کے مطابق اُس وقت کے فوجی ڈکٹیٹر صدر جنرل پرویز مشرف نے 12 مئی کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبات مسترد کر دیے تھے۔ اس روز ہونے والی ہلاکتوں میں تقریباً 40 افراد مارے گئے تھے، جبکہ مختلف ذرائع میں تعداد اس سے زیادہ بھی بتائی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ان ہلاکتوں کا الزام وسیع پیمانے پر اُس سیاسی جماعت پر عائد کیا گیا جو اُس وقت سندھ میں حکومت کا حصہ تھی اور جنرل مشرف کی حامی سمجھی جاتی تھی، یعنی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)۔ تاہم ایم کیو ایم نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کے کارکن بھی تشدد کا نشانہ بنے۔

    عدالتوں میں کارروائیاں اور توہینِ عدالت کی درخواستیں

    12 مئی کے واقعات کے بعد قانونی محاذ پر بھی اہم پیش رفت ہوئی۔ ایچ آر سی پی رپورٹ میں سندھ ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواستوں کا بھی حوالہ دیا گیا، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چیف جسٹس کو مطلوبہ سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی، حالانکہ عدالت پہلے ہی اس حوالے سے احکامات جاری کر چکی تھی۔

    عدالت نے وفاقی سیکریٹری داخلہ، سندھ کے ہوم سیکریٹری، چیف سیکریٹری، صوبائی پولیس چیف اور سٹی پولیس چیف کو طلب کیا تاکہ وہ الزامات کا جواب دیں۔ متعلقہ حکام نے جواب جمع کرانے کے لیے ایک ماہ کی مہلت طلب کی، لیکن عدالت نے انہیں صرف ایک ہفتے کا وقت دیا۔

    بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے چیف جسٹس کو ایک تفصیلی ریفرنس بھیجا جس میں بتایا گیا کہ 12 مئی کو سندھ ہائی کورٹ کے ججوں، ماتحت عدلیہ کے ججوں اور وکلا کے ساتھ کیا کچھ پیش آیا۔ اس کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک سات رکنی بینچ تشکیل دیا اور متعدد حکام کو نوٹس جاری کیے۔ تاہم یہ مقدمہ فروری 2008 میں خارج کر دیا گیا۔

    سندھ ہائی کورٹ پر دھاوا

    ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں 2007 کے دوران عدالتی عمل میں مداخلت کے ایک اور سنگین واقعے کا بھی ذکر کیا گیا۔ ستمبر 2007 میں، جب 12 مئی کیس کی سماعت جاری تھی، تقریباً دو ہزار افراد کے ایک ہجوم نے سندھ ہائی کورٹ کی عمارت پر دھاوا بول دیا۔

    رپورٹ کے مطابق ہجوم نے عدالت کے ڈویژن بینچ کو 12 مئی کے قتل عام کی سماعت ملتوی کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس واقعے میں تقریباً 43 افراد کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا۔ ایم کیو ایم، جس پر اس ہجوم کو منظم کرنے کا الزام لگایا گیا، نے مؤقف اختیار کیا کہ لوگ صرف حلف نامے جمع کرانے اور عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے عدالت پہنچے تھے۔

    کراچی بند، سڑکیں سیل، کنٹینرز کی رکاوٹیں

    رپورٹ کے مطابق 12 مئی کے روز سندھ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کراچی میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو سکیورٹی خدشات کے باعث اپنا روٹ اور شیڈول تبدیل کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا۔

    شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل کر دی گئی تھی جبکہ آرٹس کونسل، سندھ اسمبلی، ایم پی اے ہاسٹل، صدر اور برنس روڈ سے سندھ ہائی کورٹ جانے والی شاہراہوں کو شپنگ کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔

    کراچی عملاً دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ ایک طرف چیف جسٹس کے استقبال کی تیاریاں تھیں، دوسری جانب شہر کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد کی موجودگی اور سڑکوں کی بندش نے خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی تھی۔

    میڈیا پر حملے اور آج ٹی وی کا محاصرہ

    12 مئی کے واقعات کا ایک اہم پہلو میڈیا پر حملے بھی تھے۔ ایچ آر سی پی کے مطابق کئی ٹی وی چینلز کی نشریات بند کر دی گئی تھیں کیونکہ وہ چیف جسٹس کی ریلی اور شہر میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی براہِ راست کوریج نشر کر رہے تھے۔

    کیبل آپریٹرز نے دعویٰ کیا کہ انہیں حکام کی جانب سے نشریات بند کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔

    اسی دوران کراچی میں آج ٹی وی کے دفتر پر مسلح حملہ کیا گیا۔ حملہ آوروں نے دفتر کی پارکنگ میں کھڑی ایک درجن سے زائد گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ مختلف رپورٹس کے مطابق آج ٹی وی اس وقت اپنے دفتر کے باہر بزنس ریکارڈر روڈ پر موجود مسلح نوجوانوں اور پٹیل پاڑہ میں ہونے والی فائرنگ کی براہِ راست تصاویر نشر کر رہا تھا۔

    جب نشریات جاری رہیں تو حملہ آوروں نے آج ٹی وی کی عمارت پر بھی فائرنگ شروع کر دی۔ اسی عمارت میں روزنامہ بزنس ریکارڈر کے دفاتر بھی قائم تھے۔ رپورٹ کے مطابق سکیورٹی اداروں نے مدد کی اپیلوں پر کارروائی کرنے میں تقریباً آٹھ گھنٹے لگا دیے، جبکہ اس دوران چینل کے تقریباً 350 صحافی، سب ایڈیٹرز اور کیمرہ مین شدید خطرے میں محصور رہے۔

    ملک بھر کی صحافتی تنظیموں، پریس کلبز اور صحافی یونینز نے آج ٹی وی پر حملے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو الیکٹرانک میڈیا کو تحفظ فراہم نہ کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

    12 مئی کے روز ایدھی فاؤنڈیشن کے دو ایمبولینس ڈرائیور بھی ڈیوٹی کے دوران فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک ہوئے۔ اس واقعے نے صورتحال کی سنگینی کو مزید نمایاں کر دیا، کیونکہ امدادی کارکن بھی محفوظ نہیں رہے تھے۔

    ایچ آر سی پی کا مؤقف

    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں زور دیا کہ کراچی میں بے گناہ شہریوں کے قتل کی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

    کمیشن کے مطابق یہ صرف ایک سیاسی تصادم نہیں تھا بلکہ یہ ریاستی رٹ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور سیاسی تشدد کے کلچر سے جڑا ایک اہم معاملہ تھا۔

    ایچ آر سی پی نے خبردار کیا کہ اگر ایسے واقعات میں ملوث عناصر کا احتساب نہ کیا گیا تو سیاسی جماعتیں مستقبل میں بھی طاقت اور تشدد کا راستہ اختیار کرتی رہیں گی۔ کمیشن نے واضح کیا کہ مسلح اور پرتشدد سیاست کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔

    ایچ آر سی پی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیاسی شعور اور جمہوری عمل صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ شہریوں کو بھی فعال اور باخبر کردار ادا کرنا ہوگا، تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کا راستہ روکا جا سکے۔

  • ایک بھولی بسری داستان: جب کراچی میں سائیکل چلانے کے لیے بھی لائسنس لازمی تھا

    ایک بھولی بسری داستان: جب کراچی میں سائیکل چلانے کے لیے بھی لائسنس لازمی تھا

    آج کے دور میں جب ہم کراچی کی شاہراہوں پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا ہجوم دیکھتے ہیں تو یہ تصور کرنا مشکل لگتا ہے کہ کبھی اسی شہر میں سائیکل کو ایک باقاعدہ ’گاڑی‘ کا درجہ حاصل تھا۔
    وہ ایک ایسا دور تھا جب سڑک پر سائیکل لانے کے لیے آپ کی جیب میں لائسنس اور سائیکل کے مڈگارڈ پر کراچی پولیس کا جاری کردہ ٹوکن ہونا لازمی تھا۔


    سائیکل پر لائٹ اور ڈائنامو ہونا بھی لازمی شرط تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پولیس اہلکار آپ کو بیچ سڑک روک کر نہ صرف جرمانہ کر سکتے تھے بلکہ آپ کی سواری ضبط کر کے تھانے بھی منتقل کی جا سکتی تھی۔ ’اگر کسی سائیکل پر ڈائنامو والی لائٹ نہیں ہوتی تھی تو وہ رات کو سیل والی ٹارچ لگا دیتا تھا،‘ لیاری سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی ابراہیم صالح محمد نے بتایا۔

    سائیکل کے ساتھ ساتھ ان دنوں کراچی میں سائیکل رکشہ بھی چلتے تھے، جو اس وقت کی کمرشل گاڑی تھی، مگر موٹر رکشا آنے کے بعد سائیکل رکشا ختم ہو گئے۔ سائیکل آج تک موجود ہے۔

    ایک وائرل تصویر اور ماضی کی یادیں
    برٹش راج کے دوران سائیکل لائسنس انڈیا کے بڑے بڑے شہروں، جیسا کہ بمبئی، کلکتہ، مدراس اور کراچی میں رائج تھا۔
    حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر 1956 کے ایک پرانے سائیکل لائسنس کی تصویر نے نئی اور پرانی نسل کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ یہ لائسنس اروند وی دیش پانڈے نامی شہری کے نام پر ممبئی پولیس نے جاری کیا تھا۔ چونکہ قیام پاکستان سے قبل 1936 تک سندھ انتظامی طور پر بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ تھا، اس لیے کراچی کا بلدیاتی اور پولیس کا نظام بھی بالکل دیگر بڑے شہروں کی طرز پر کام کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس تصویر نے کراچی کے بزرگوں کو بھی وہ وقت یاد دلا دیا ہوگا جب یہاں ’وہیل ٹیکس‘ وصول کیا جاتا تھا۔

    سینیئر صحافی ابراہیم صالح محمد کے مطابق کراچی میں سائیکل کا لائسنس ہوتا تھا جو کہ علاقے کے تھانے سے جاری ہوتا تھا۔ ان کے مطابق پولیس والے باقاعدگی سے لائسنس چیک کرتے رہتے تھے۔
    ایک اور سینیئر صحافی اور مشہور کرکٹر اور اسپورٹس رائٹر قمر احمد کے مطابق کراچی میں سائیکل لائسنس یا سائیکل ٹیکس مارشل لا ڈکٹیٹر ایوب خان کی جانب سے دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل ہونے تک رائج تھا، مگر بعد میں فوجی حکومتوں نے اس طرف کم توجہ دی اور پھر موٹر گاڑیوں کی تعداد بھی بڑھتی گئی۔

    کراچی میں سائیکل لائسنس کا نظام
    اپنے قیام کے بعد سے لے کر آزادی کے کئی برسوں بعد بھی کراچی میں سائیکلوں کی رجسٹریشن ہوتی تھی۔ اس وقت ہر سائیکل سوار کو سالانہ بنیادوں پر ایک معمولی فیس ادا کرنی پڑتی تھی، جس کے بدلے اسے پیتل یا ایلومینیم کا ایک چھوٹا سا ٹوکن دیا جاتا تھا۔


    کراچی کے پرانے باسی مجید موٹانی، جو ابراہیم حیدری میں رہتے ہیں، بتاتے ہیں کہ یہ ٹوکن سائیکل کے پچھلے مڈگارڈ پر نمایاں جگہ پر لگایا جاتا تھا۔ مجید موٹانی، جو ماہی گیر ہیں اور لانچوں کے انجن مرمت کرنے کے ماہر ہیں، نے بتایا کہ ہر سال اس سائیکل ٹوکن کا رنگ یا ڈیزائن تبدیل کر دیا جاتا تھا تاکہ دور سے ہی یہ پہچانا جا سکے کہ مالک نے اس سال کا ٹیکس ادا کیا ہے یا نہیں۔


    ان کے مطابق ان کے ایک رشتہ دار نے سائیکل کا ٹوکن سنبھال کر رکھا ہوا تھا، مگر ان کی وفات کے بعد وہ ٹوکن کہاں گیا، ان کے گھر والوں کو بھی نہیں پتا۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کباڑی والے کو بیچ دیا گیا ہو۔

    کراچی کے پرانے دور میں پولیس کانسٹیبل بندر روڈ، میکلوڈ روڈ اور صدر ایمپریس مارکیٹ جیسے مصروف علاقوں میں باقاعدہ ناکہ بندی کرتے تھے اور سائیکلوں کو چیک کرتے رہتے تھے۔
    مجید موٹانی نے بتایا کہ ’اگر کسی کی سائیکل پر ٹوکن نہیں ہوتا تھا تو پولیس اہلکار سائیکل کی ہوا نکال دیتے تھے یا اسے ضبط کر کے قریبی چوکی پر لے جاتے تھے۔ پھر مالک کو بلدیہ کے دفتر جا کر جرمانہ بھرنا پڑتا تھا اور رسید دکھا کر اپنی سائیکل چھڑانی پڑتی تھی۔‘ یہ نظم و ضبط اس بات کی علامت تھا کہ مقامی حکومت ہر چھوٹی بڑی سرگرمی پر نظر رکھتی تھی۔

    سائیکل: ایک معزز سواری
    اس وقت سائیکل محض غریب کی سواری نہیں تھی بلکہ اسکول کے اساتذہ، کلرک، صحافی اور یہاں تک کہ چھوٹے افسران بھی فخر سے سائیکل استعمال کرتے تھے۔ لائسنس کا ہونا اس بات کا ثبوت ہوتا تھا کہ شہری قانون پسند ہے اور اس کی سواری باقاعدہ رجسٹرڈ ہے۔ پولیس کی سختی بھی ہوتی تھی، اس لیے ہر کوئی سائیکل ٹیکس بھرتا تھا۔

    بمبئی کے اس وائرل لائسنس پر درج دو روپے کی فیس اس زمانے میں ایک معقول رقم سمجھی جاتی تھی۔ مجید موٹانی نے بتایا کہ کراچی میں سائیکل فیس ایک روپیہ ہوتی تھی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دور میں بھی ریکارڈ برقرار رکھنے کے لیے ٹائپ رائٹر کا استعمال اور باقاعدہ فائلنگ کا نظام موجود تھا۔ جس طرح بمبئی کی اس وائرل تصویر میں پولیس تھانے کی مہر اور سائیکل کا میک بھی نظر آتا ہے، ویسے ہی کراچی کے بلدیاتی دفاتر میں ہر رجسٹرڈ سائیکل کا ڈیٹا موجود ہوتا تھا۔
    یہ نظام موجودہ وقت کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم جتنا جدید تو نہیں تھا، لیکن اپنے وقت کے لحاظ سے انتظامی طور پر انتہائی مضبوط تھا۔

    نظام کا خاتمہ کیوں ہوا؟
    صحافی قمر احمد کے مطابق وہ 1964 میں بیرون ملک چلے گئے، مگر ان کو معلوم ہے کہ کراچی میں موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا تھا اور کراچی کی آبادی بہت زیادہ بڑھ گئی تھی۔ اس تناسب سے سائیکلوں کی تعداد بھی بڑھ گئی، اس لیے ہر ایک سائیکل کا ریکارڈ رکھنا اور ایک ایک روپیہ ٹیکس جمع کرنا انتظامیہ کے لیے ایک بوجھ بن گیا۔ ٹیکس وصولی پر آنے والے اخراجات اس سے ہونے والی آمدنی سے زیادہ ہونے لگے۔ چنانچہ آہستہ آہستہ اس قانون کو نرم کر دیا گیا اور بالآخر یہ نظام ہی ختم ہو گیا۔

    آج جب ہم پرانے لائسنس یا پیتل کے ٹوکنز کی تصاویر دیکھتے ہیں تو ہمیں کراچی کے اس سنہرے دور کی یاد آتی ہے جب سڑکوں پر شور کم اور نظم و ضبط زیادہ تھا۔ یہ لائسنس محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ اس عہد کی یادگار ہے جب کراچی کی سڑکیں سائیکلوں کے پہیوں سے آباد تھیں اور ہر پہیہ قانون کے دائرے میں گھومتا تھا۔

  • مصطفیٰ کمال واقعی سادہ زندگی گزار رہے ہیں؟ قومی اسمبلی کے کاغذاتِ نامزدگی نے نئی بحث چھیڑ دی

    مصطفیٰ کمال واقعی سادہ زندگی گزار رہے ہیں؟ قومی اسمبلی کے کاغذاتِ نامزدگی نے نئی بحث چھیڑ دی

    کیا آپ کو یقین آ رہا ہے کہ سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال واقعی اتنے غریب ہیں کہ ان کے پاس اپنا گھر بھی نہیں ہے؟ کیا واقعی سابق ناظم کراچی سید مصطفیٰ کمال اتنے کم وسائل کے مالک ہیں جتنا کہ ان کے کاغذاتِ نامزدگی میں ظاہر کیا گیا ہے، یا پھر یہ اعداد و شمار کسی اور کہانی کی نشاندہی کرتے ہیں؟

    کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 247 سے ان کے جمع کرائی گئی دستاویزات نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

    دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق سید مصطفیٰ کمال نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات میں یہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے پاس کسی قسم کی غیر منقولہ جائیداد موجود نہیں۔ یعنی نہ تو ان کے نام پر کوئی گھر ہے، نہ پلاٹ اور نہ ہی کوئی کمرشل پراپرٹی، چاہے وہ پاکستان میں ہو یا بیرون ملک۔

    یہ انکشاف خاص طور پر اس لیے توجہ کا مرکز بن گیا ہے کیوں کہ مصطفیٰ کمال سابق فوجی ڈکٹیٹر کے دور میں ایم کیو ایم کے کراچی کے سابق ناظم رہ چکے ہیں، جو شہر کا ایک اہم انتظامی عہدہ سمجھا جاتا ہے۔

    تاہم دستاویزات کے مطابق انہوں نے ایک نجی کمپنی ’ٹرانس گلوبل کنسلٹنسی (پرائیویٹ) لمیٹڈ‘ میں اپنی ملکیت ظاہر کی ہے، جہاں وہ بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کمپنی کا سرمایہ تقریباً 40 لاکھ روپے بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے دیگر مالی اثاثے بھی زیادہ بڑے نہیں دکھائے گئے۔

    تفصیلات کے مطابق سید مصطفیٰ کمال کے پاس تقریباً ایک لاکھ 94 ہزار روپے کی سرمایہ کاری موجود ہے، جبکہ بینک اکاؤنٹس میں ان کی رقم تقریباً ایک لاکھ 93 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ گھریلو استعمال کی اشیا، جیسے فرنیچر وغیرہ، کی مالیت ایک لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے نام پر نہ کوئی گاڑی ہے، نہ زیورات اور نہ ہی کوئی بیرون ملک اثاثہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب اگر ان کے واجبات کا جائزہ لیا جائے تو انہوں نے 12 لاکھ روپے کے غیر محفوظ قرضے ظاہر کیے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کسی قسم کے بینک قرضے، اوور ڈرافٹ یا جائیداد پر رہن ہونے کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ حلف نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف نامزدگی جمع کرانے سے قبل کسی قسم کا فوجداری مقدمہ زیر سماعت نہیں تھا۔

    ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ معلومات کے مطابق وہ ایم بی اے کی ڈگری رکھتے ہیں اور خود کو بزنس مین اور کنسلٹنٹ ظاہر کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے گذشتہ تین سال کے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تصدیق بھی کی ہے، تاہم ان گوشواروں میں قابلِ ادا ٹیکس صفر ظاہر کیا گیا ہے، جو ایک اور اہم نکتہ ہے جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے شخص کے اثاثے، جو ماضی میں کراچی جیسے بڑے شہر کا ناظم رہ چکا ہو، اتنے محدود ہونا حیران کن ہے۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ یہ سادگی اور شفافیت کی مثال ہو سکتی ہے، جبکہ دیگر کے مطابق اس میں مزید چھان بین کی ضرورت ہے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔

    دوسری جانب مصطفیٰ کمال یا ان کی جماعت کی جانب سے ان تفصیلات پر کوئی غیر معمولی وضاحت سامنے نہیں آئی، اور یہ تمام معلومات الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ریٹرننگ افسر کی جانب سے جون 2018 میں ان کے کاغذاتِ نامزدگی منظور بھی کر لیے گئے تھے، جس کے بعد وہ این اے 247 سے باقاعدہ انتخاب لڑنے کے اہل قرار پائے۔

    یہ معاملہ اب عوامی بحث کا موضوع بن چکا ہے کہ آیا یہ اعداد و شمار مکمل حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید سوالات اور وضاحتیں سامنے آنے کا امکان ہے، کیوں کہ شفافیت اور احتساب کا مطالبہ پاکستانی سیاست میں ہمیشہ ایک اہم موضوع رہا ہے۔

  • سبین محمود: مکالمے کی آواز جو خاموش نہ ہو سکی

    سبین محمود: مکالمے کی آواز جو خاموش نہ ہو سکی

    کراچی کی روشن، متحرک اور باشعور سماجی زندگی میں اگر کسی ایک نام کو جرات، مکالمے اور کھلے خیالات کی علامت کہا جائے تو وہ سبین محمود تھیں۔ ایک ایسی خاتون جنہوں نے نہ صرف سوال اٹھانے کا حوصلہ دیا بلکہ اختلافِ رائے کو معاشرے کی طاقت سمجھا۔

    24 اپریل 2015 کی شام کو سبین محمود نے کراچی میں صوبہ بلوچستان کے مسائل پر Unsilencing Balochistan کے عنوان سے اپنے ادارے ’ٹی ٹو ایف‘میں ایک اہم مذاکرہ منعقد کیا، جس میں لاپتہ افراد کے مسئلے پر بات کی گئی۔ اس پروگرام میں مسنگ پرسنس کے لیے کام کرنے والے معروف کارکن ماما قدیر بھی شریک تھے۔

    اسی رات، جب وہ اپنی والدہ کے ہمراہ پروگرام سے واپس لوٹ رہی تھیں، تو نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ انہیں چار سے پانچ گولیاں ماری گئیں۔ یہ حملہ کراچی کے مصروف علاقے میں ایک سگنل پر ہوا، جو T2F سے چند سو میٹر کے فاصلے پر تھا۔

    اس حملے میں سبین محمود موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں، جبکہ ان کی والدہ شدید زخمی ہوئیں اور انہیں آغا خان اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ ایک ٹارگٹ کلنگ تھی، جسے انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت درج کیا گیا۔

    ایک خواب: مکالمہ، برداشت اور تبدیلی

    سبین محمود انسانی حقوق کی کارکن، کاروباری شخصیت اور ٹیکنالوجی سے وابستہ ایک تخلیقی ذہن تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی صرف مکالمے اور تنقیدی سوچ سے آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کا سب سے بڑا خواب ’انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا کو بہتر بنانا‘ ہے۔

    اسی وژن کے تحت انہوں نے ’Peace Niche‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا، جو عوامی مفاد کے لیے ایک سماجی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا رہا۔ 2006 میں انہوں نے کراچی میں ’دی سیکنڈ فلور (T2F)‘ کے نام سے ایک پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی، جو جلد ہی ایک منفرد ادبی و ثقافتی مرکز بن گیا۔ یہاں مکالمے، تھیٹر، شاعری، فلم اور سماجی موضوعات پر کھلی گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔

    خوف کے مقابل کھڑے ہونے والی آواز

    سبین محمود ان چند لوگوں میں شامل تھیں جو خوف کے ماحول میں بھی کھل کر بات کرنے پر یقین رکھتی تھیں۔ انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ اگر ہم خوف کو خود پر حاوی کر لیں تو ہم کبھی کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ یہی سوچ ان کے ہر عمل میں نظر آتی تھی۔

    سبین محمود کی موت نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے اس واقعے کی شدید مذمت کی۔ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف اور سندھ کے وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے بھی افسوس کا اظہار کیا اور تحقیقات کا حکم دیا۔

    سوشل میڈیا پر بھی غم اور غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ملک کے نامور دانشوروں، صحافیوں اور کارکنوں نے اسے آزادیٔ اظہار پر حملہ قرار دیا۔

    ’ اسٹریٹس اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر بھرپور احتجاج کے بعد سب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی آواز کو کبھی مرنے نہیں دیا جائے گا،‘ سماجی کارکن زینیہ شوکت نے کہا۔

    ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ چاہے ان کے کام کا کون سا پہلو ان کے قتل کی وجہ بنا، سبین کے قتل کا گہرا تعلق ان کے کام سے تھا جو وہ اس شہر کے لیے کر رہی تھیں۔

    انصاف کی جدوجہد

    20 مئی 2015 تک حکام نے اس قتل میں ملوث مرکزی ملزم سعد عزیز کو گرفتار کر لیا، جس نے جرم کا اعتراف بھی کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم ٹی ٹو ایف کے پروگرامز میں باقائدگی سے شرکت کرتا رہتا تھا۔ اس کیس نے کراچی میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے نیٹ ورکس پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے۔

    سبین محمود کا ملزم طاہر عزیز، جسے فوجی عدالت نے مقدمہ چلا کر بعد میں پھانسی دے دی گےی، ایک اور ہولناک واقعے ’’سفورا گوٹھ قتلِ عام‘‘ میں بھی شریکِ ملزم تھا، جس میں اسماعیلی برادری کے 45 افراد کو قتل کیا گیا تھا۔

    سبین محمود کی زندگی اگرچہ مختصر تھی، مگر ان کا کام اور فکر آج بھی زندہ ہے

    سبین محمود اس پاکستان کی نمائندہ تھیں جو کھلا، روشن خیال اور مکالمے پر یقین رکھتا ہے۔ ان کی آواز خاموش ضرور ہوئی، مگر ان کا پیغام آج بھی گونج رہا ہے: سوال کریں، بات کریں، اور خوف کے آگے نہ جھکیں۔

  • کراچی کا اپنا زرعی خطہ ویران کیوں ہوا؟ ملیر کے سرسبز باغات اور کھیتوں کے اجڑنے کی داستان

    کراچی کا اپنا زرعی خطہ ویران کیوں ہوا؟ ملیر کے سرسبز باغات اور کھیتوں کے اجڑنے کی داستان

    کراچی کا ضلع ملیر کبھی شہر کا سب سے زرخیز اور سرسبز علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ ہزاروں ایکڑ پر کاشت کاری ہوتی تھی اور زرخیز کھیت موجود تھے جہاں صحت مند فصلیں اگتی تھیں۔ یہ ہریالی شہر کو زندگی بخشتی تھی۔ بلکہ یہی علاقہ کراچی کی سبزیوں اور پھلوں کی بڑی ضرورت بھی پوری کرتا تھا۔

    آج بیشتر اراضی بے رونق ویرانے کا منظر پیش کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کی زرعی شناخت مدھم پڑ گئی۔ وسیع باغات اور کھیت تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔

    کچھ عشرے قبل تک ملیر کو کراچی کا زرعی دل کہا جاتا تھا۔ مراد میمن گوٹھ، گڈاپ اور ملیر ندی کے اطراف ہزاروں ایکڑ پر کاشت کاری ہوتی تھی۔ مقامی افراد کے مطابق یہ رقبہ کئی ہزار ایکڑ پر مشتمل تھا، جہاں مستقل بنیادوں پر فصلیں اگائی جاتی تھیں۔

    مراد میمن گوٹھ خاص طور پر اپنے باغات کے لیے مشہور تھا، جہاں دو سو سے ڈھائی سو ایکڑ تک پھلوں کے باغات موجود تھے۔ آج یہ باغات صرف سات یا آٹھ ایکڑ زمین تک سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ یہ باغات نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ میں اپنی پیداوار کے لیے الگ پہچان رکھتے تھے۔

    ملیر کی زرخیز زمین اور زیر زمین پانی کے امتزاج نے اس خطے کو الگ مقام عطا کیا تھا۔ یہاں ٹماٹر، پیاز، گوبھی اور کئی ہری سبزیاں اگائی جاتی تھیں۔ گندم اور چارے کی پیداوار بھی عام تھی۔ صرف یہی نہیں، پھلوں میں امرود یہاں کی خاص پہچان بن گیا تھا۔ چیکو، پپیتا اور کسٹرڈ ایپل کی بھی قابل ذکر پیداوار ہوا کرتی تھی۔

    ملیر کی زرعی زمینوں کی تباہی نے صرف کسانوں کو متاثر نہیں کیا بلکہ یہ پاکستان میں خوراک کی کمی کے بڑے مسئلے کو بھی بڑھا رہی ہے، جو مہنگائی، خشک سالی اور مویشیوں کی بیماریوں کی وجہ سے مزید سنگین ہو گیا ہے۔ انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2021 سے اپریل 2022 کے دوران پاکستان میں چھیالیس لاکھ ساٹھ ہزار افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار تھے۔

    ماہرین اور مقامی افراد کے مطابق ملیر میں زراعت کے زوال کا آغاز 1990 کی دہائی میں ہوا اور سن دو ہزار کے بعد تو زرعی زمینیں اجڑنا شروع ہو گئیں۔

    ملیر کی زرعی تباہی کی کئی وجوہات ہیں، جو وقت کے ساتھ مل کر ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو گئیں۔

    زیر زمین پانی کی سطح میں نمایاں کمی آئی۔ ملیر ندی سے ریت اور بجری نکالنے کے عمل نے پانی کے ذخائر کو مزید متاثر کیا، جس سے باغات اور فصلوں کی باقاعدہ تباہی شروع ہوئی۔

    کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی نے زرعی زمینوں کو رہائشی منصوبوں میں بدل دیا۔ فارم ہاؤسز، سوسائٹیز اور اسکیم پینتالیس جیسے منصوبوں نے کھیتوں کی جگہ لے لی۔

    حکومتی عدم توجہی اور شہری آبادی کے پھیلاؤ کی وجہ سے سیوریج کا پانی اور بڑھتی آلودگی نے زمین کی زرخیزی کو متاثر کیا، جس سے پیداوار کم ہوتی گئی۔

    نتیجہ یہ ہوا کہ آج ملیر میں کاشت کاری ہزاروں ایکڑ سے سمٹ کر بمشکل چند ایکڑ اراضی تک محدود ہو گئی ہے۔ وہ کراچی جو اجناس اور پھلوں کی بیشتر ضروریات کو پورا کرنے میں بڑی حد تک خود کفیل تھا، آج سبزیاں اور پھل دیگر علاقوں سے درآمد کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر ملیر میں بڑے پیمانے پر شجرکاری اور ماحول دوست اقدامات کیے جائیں تو کراچی کو ہیٹ ویوز، سیلاب اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے کسی حد تک محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

    ملیر کی اجڑتی زمینیں صرف ماضی کی یاد نہیں، یہ ایک انتباہ بھی ہیں۔ اگر آج بھی اس طرف توجہ نہ دی گئی تو کراچی اپنا زرعی دل ہمیشہ کے لیے کھو دے گا۔ ضرورت ہے کہ پانی کی تجدید، شجرکاری اور کسانوں کی مدد کے ٹھوس اقدامات کیے جائیں، تبھی اس دھرتی کی ہریالی واپس آ سکتی ہے۔

  • اونٹ گاڑی والا بشیر ساربان: کراچی کی سڑک سے وائٹ ہاؤس تک کا سفر، ایک زبانی دعوت جو تاریخ بن گئی

    اونٹ گاڑی والا بشیر ساربان: کراچی کی سڑک سے وائٹ ہاؤس تک کا سفر، ایک زبانی دعوت جو تاریخ بن گئی

    انیس سو ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں کراچی ایک ایسا شہر تھا جہاں جدید عمارتوں کے ساتھ ساتھ اونٹ گاڑیاں بھی سڑکوں پر عام نظر آتی تھیں۔ انہی سادہ مناظر میں ایک غریب مگر باوقار اونٹ گاڑی چلانے والا شخص، بشیر احمد ساربان، اپنی روزمرہ زندگی گزار رہا تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ اس کی قسمت اسے دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ تک لے جائے گی۔

    20 مئی 1961 کو امریکی نائب صدر لینڈن بی جانسن پاکستان کے دورے پر کراچی آئے۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ لیڈی برڈ جانسن بھی موجود تھیں۔ شہر کے دورے کے دوران ان کا قافلہ کراچی کی ایک سڑک سے گزرا جہاں بشیر اپنے اونٹ کے ساتھ کھڑا تھا۔ گاڑی سے اتر کر لینڈن بی جانسن نے اونٹ کے ساربان کو قریب بلایا۔ روایتی انداز میں ہاتھ ملاتے ہوئے جانسن نے ایک جملہ کہا: ’کبھی واشنگٹن آؤ اور ہم سے ملو۔‘ یہ جملہ وہ اکثر سفارتی دوروں میں بطور خوش اخلاقی کہتے تھے، مگر اس بار یہ جملہ ایک غیر معمولی کہانی کا آغاز بن گیا۔

    بشیر نے اس دعوت کو سنجیدگی سے لیا، اور اگلے ہی دن پاکستانی اخبارات میں یہ خبر نمایاں طور پر شائع ہو گئی کہ ایک اونٹ گاڑی والا امریکی نائب صدر کی دعوت پر امریکہ جائے گا۔ مشہور صحافی ابراہیم جلیس، جو پاکستان کے ایک مشہور کالم نگار تھے، نے لکھا کہ اس بات پر سب لوگ بہت خوش اور پُرجوش تھے کہ نائب صدر نے بشیر کو امریکہ آنے کی دعوت دی ہے۔ ممکن ہے کہ انہوں نے بشیر سے ہاتھ ملاتے ہوئے یہ جملہ کہا ہو، جس سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی کہ انہیں باقاعدہ دعوت دی گئی ہے۔

    ایک عام آدمی کا عالمی سفر
    کچھ ہی مہینوں بعد امریکی حکومت نے اس زبانی دعوت کو حقیقت بنا دیا۔ بشیر احمد کو سرکاری مہمان کے طور پر امریکہ بلایا گیا۔ وہ نیویارک پہنچے جہاں خود لینڈن جانسن نے ان کا استقبال کیا۔ یہ ایک غیر معمولی لمحہ تھا: کراچی کی سڑکوں سے اٹھنے والا ایک مزدور اب عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن چکا تھا۔

    بشیر ساربان کے بیٹے نے بعد میں کراچی کے امریکی کاونسلیٹ کی ایک تقریب میں بتایا: ’امریکہ جانے سے پہلے، میرے والد کو ان کا چلنا، اٹھنا اور بیٹھنا سکھایا گیا، ان کے لیے شیروانی اور ٹوپی بنوائی گئی۔‘

    اکتوبر 1961 میں بشیر احمد واشنگٹن ڈی سی پہنچے۔ انہیں امریکی دارالحکومت کے اہم مقامات دکھائے گئے، جن میں لنکن میموریل، سینیٹ اور دیگر سرکاری عمارتیں شامل تھیں۔ اسی دوران انہیں وائٹ ہاؤس لے جایا گیا جہاں اس وقت کے صدر جان ایف کینیڈی کی انتظامیہ موجود تھی۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 20 اکتوبر 1961 کو وائٹ ہاؤس میں بشیر احمد کی ملاقات اور تصاویر محفوظ کی گئیں، جن میں لیڈی برڈ جانسن انہیں خوش آمدید کہتی نظر آتی ہیں۔

    یہ منظر خود میں ایک علامت تھا: ایک ترقی پذیر ملک کا محنت کش، دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے ایوان میں مہمان کے طور پر کھڑا تھا۔

    بشیر کے دورے میں لیڈی برڈ جانسن نے خاص دلچسپی لی۔ وہ کئی تقریبات میں ان کے ساتھ نظر آئیں اور بعض مواقع پر ان کی رہنمائی بھی کی۔ اس دورے کے دوران بشیر نے امریکی اسکول میں تقریر بھی کی جہاں لیڈی برڈ جانسن موجود تھیں۔ یہ تعلق محض سفارتی نہیں بلکہ انسانی سطح پر بھی گہرا تھا۔ ایک سادہ آدمی کو عزت دینا اس دور کی امریکی ’پیپل ٹو پیپل‘ پالیسی کی جھلک بھی تھی۔

    ٹیکساس کا سفر اور یادگار لمحات واشنگٹن کے بعد بشیر احمد کو ٹیکساس لے جایا گیا جہاں انہوں نے جانسن کے نجی فارم کا دورہ کیا۔ یہاں ایک دلچسپ واقعہ بھی پیش آیا جب بشیر نے گھوڑے کی دوڑ میں جانسن کو ہرا دیا، جسے انہوں نے اپنے سفر کا سب سے یادگار لمحہ قرار دیا۔ یہ واقعہ میڈیا میں خوب نمایاں ہوا اور دونوں کے درمیان دوستی کی علامت بن گیا۔

    بشیر احمد کا یہ سفر صرف ایک شخص کی کامیابی نہیں تھا بلکہ یہ پاکستان اور امریکہ کے عوام کے درمیان تعلقات کی ایک منفرد مثال بن گیا۔ اس دور میں جب سرد جنگ جاری تھی، ایک اونٹ گاڑی والے اور ایک عالمی رہنما کے درمیان دوستی نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اصل طاقت عوامی رابطوں میں ہے، نہ کہ صرف سیاست میں۔

    واپسی اور اثرات امریکہ سے واپسی پر بشیر کو مزید تحفے دیے گئے، حتیٰ کہ ان کے لیے عمرہ کی زیارت کا بھی انتظام کیا گیا۔ کراچی واپس آنے پر وہ ایک مقامی ہیرو بن چکے تھے۔ اخبارات، رسائل اور عوامی محافل میں ان کی کہانی سنائی جاتی رہی۔ آج بھی یہ واقعہ پاکستان کی سفارتی اور سماجی تاریخ میں ایک منفرد باب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

    ایک سادہ سا جملہ، ایک اچانک ملاقات، اور ایک سچا وعدہ: یہ سب مل کر ایک ایسی کہانی بن گئے جس میں انسانیت، مہمان نوازی اور بین الاقوامی تعلقات کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ بشیر احمد ساربان کی یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تاریخ صرف بڑے لیڈروں کے فیصلوں سے نہیں بنتی، بلکہ کبھی کبھی ایک عام انسان بھی دنیا کو جوڑنے کا سبب بن جاتا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسی چھپی ہوئی کہانیاں لاتا ہے، ایسی دلچسپ کہانیوں کے لیے جڑے رہے ساگا ڈیجیٹل کے ساتھ۔

  • 17 اپریل 1977: جب ‘مشرق کے پیرس’ کے طور پر مشہور کراچی کی رنگین راتوں پر پابندی لگا دی گئی

    17 اپریل 1977: جب ‘مشرق کے پیرس’ کے طور پر مشہور کراچی کی رنگین راتوں پر پابندی لگا دی گئی

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 17 اپریل 1977 ایک اہم دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جب اُس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ملک میں مذہبی جماعتوں کی احتجاجی تحریک (پاکستان قومی اتحاد) کا سامنا کرنے اور اسلامی نظام کے نفاذ کی جانب ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے کچھ اہم پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ اس تاریخ پر ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے کیے گئے اہم فیصلے یہ تھے:

    شراب خانوں پر پابندی: پورے ملک میں شراب کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی لگا دی گئی (سوائے غیر مسلموں کے)۔

    نائٹ کلبوں پر پابندی: ملک کے تمام بڑے شہروں میں نائٹ کلبوں کو فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا گیا۔

    جوا پر پابندی: ہر قسم کے جوا اور جوئے کے اڈوں اور اس سے متعلق سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔

    جمعہ کی چھٹی: اتوار کے بجائے جمعہ کے دن کو ہفتہ وار چھٹی کے طور پر مقرر کرنے کا اعلان بھی اسی دور کی اصلاحات کا حصہ تھا۔

    ذوالفقار علی بھٹو نے یہ اقدامات اُس وقت کیے جب 1977 کے انتخابات کے بعد اپوزیشن کی جانب سے ’تحریکِ نظامِ مصطفیٰ‘ زور پکڑ چکی تھی۔ ان اصلاحات کا مقصد مذہبی طبقوں کے مطالبات کو پورا کر کے سیاسی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔ تاہم ان فیصلوں کے چند ماہ بعد ہی ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔

    کراچی، خاص طور پر 1950 سے لے کر 1977 کی دہائی کے آخر تک، اپنی آزاد خیال ثقافت، متحرک اور رنگین راتوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور تھا۔ اس دور میں کراچی کی نائٹ لائف عالمی سطح پر معروف تھی اور اس شہر کو اکثر ’روشنیوں کا شہر‘ اور ’مشرق کا پیرس‘ کہا جاتا تھا۔

    اس زمانے میں صدر، ایم اے جناح روڈ اور کلفٹن کے علاقے رات کو روشنیوں سے جگمگاتے تھے۔ یہاں میٹروپول، پیلس اور تاج جیسے ہوٹلوں میں مشہور نائٹ کلب شامل تھے۔ یہ مقامات، جو صدر کے علاقے کے آس پاس تھے، وہاں لائیو بینڈ، کیبری ڈانسرز اور ایک زندہ دل سماجی ماحول ہوتا تھا۔

    ناموں سے ہی نفاست سے لے کر عیاشی تک کے مناظر آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے وہاں آنے والے گاہک ہوتے تھے۔ ہوٹل میٹروپول، پیلس ہوٹل، بیچ لگژری ہوٹل اور بعد میں انٹرکانٹینینٹل ہوٹل اس شہر کے چمکتے ہوئے ہیرے تھے، جبکہ امپیریل، ایکسیلسیئر، تاج اور سینٹرل ہوٹلیں نسبتاً زیادہ آزاد خیال تفریح فراہم کرتی تھیں۔ فنکاروں کو پورے خطے سے ہوائی جہاز کے ذریعے بلایا جاتا تھا، جن میں ترک، لبنانی، آسٹریلوی، مصری اور دیگر قومیتوں کے فنکار باقاعدگی سے اپنا فن پیش کرتے تھے۔

    ماضی کے کراچی کے مشہور نائٹ کلب اور ڈانس کلب

    یہ مقامات اکثر بڑی ہوٹلوں کے اندر واقع ہوتے تھے، جہاں بین الاقوامی معیار کے پروگرام منعقد ہوتے تھے:

    سمر نائٹ کلب (ہوٹل میٹروپول):

    یہ اُس دور کا سب سے شاندار اور معتبر کلب تھا۔ یہ اپنی پرتعیش فضا، فانوسوں اور بین الاقوامی بینڈز کی لائیو پرفارمنس کی وجہ سے پورے ایشیا میں مشہور تھا۔

    ایکسیلسیئر (ہوٹل ایکسیلسیئر): صدر کے علاقے میں واقع یہ کلب اپنے ’پینٹ ہاؤس‘ کی وجہ سے مشہور تھا جہاں بین الاقوامی فنکار آتے تھے۔

    لی گورمیٹ (پیلس ہوٹل): یہ جگہ اپنے نفیس ماحول اور جاز موسیقی کی وجہ سے معروف تھی جہاں شہر کی اشرافیہ اور سفارتکار آتے تھے۔

    پلے بوائے: یہ 1960 اور 1970 کی دہائی کا ایک مہنگا اور مشہور ہائی اینڈ کلب تھا۔

    اویسس (تاج ہوٹل): یہ کلب اپنی لائیو موسیقی اور ڈانس فلور کی وجہ سے مشہور تھا۔

    کلب 007: یہ اُس دور کا ایک مقبول نائٹ کلب تھا۔

    روما شبانہ: یہ فریئر روڈ (موجودہ شاہراہ لیاقت) پر واقع تھا اور نوجوانوں میں مقبول تھا۔

    لیڈو (امپیریل ہوٹل): یہ نسبتاً کم خرچ میں تفریح فراہم کرنے کے لیے جانا جاتا تھا۔

    نسرین اور چاندنی (انٹرکانٹینینٹل ہوٹل): یہ لاؤنجز اپنی شاندار فضا اور مہنگی شراب کے لیے مشہور تھے۔

    کراچی کے مشہور بار اور پب: ٹوئنکل بار، شیزان کیسینو، ویسٹ اینڈ بار، 007 بار۔ یہ تمام مقامات کراچی کی سماجی زندگی کا اہم حصہ تھے۔

    فنکار اور رقاصائیں: پرنسس امینہ (لبنان سے تعلق رکھنے والی مشہور بیلی ڈانسر)، ایمی منوالا (کلاسیکل بیلے رقاصہ)، مرزی کانگا (گلیمرس اور مغربی انداز کی رقاصہ)، نیلو (فلمی دنیا کی معروف رقاصہ)۔ بین الاقوامی فنکار بھی باقاعدگی سے یہاں پرفارم کرتے تھے، جن میں لبنان، اٹلی اور فلپائن کے گروپس شامل تھے۔

    اہم خصوصیات: ثقافتی سنگم، بین الاقوامی پروازوں کی موجودگی، شراب کی آزاد دستیابی، لائیو موسیقی اور منظم پروگرام۔

    رنگین دور کا خاتمہ

    کراچی کی نائٹ لائف کا یہ دور 17 اپریل 1977 کو ختم ہو گیا جب ذوالفقار علی بھٹو نے شراب اور نائٹ کلبوں پر پابندی لگا دی۔

    اس پابندی نے فنکاروں کے کیریئر کو شدید متاثر کیا۔ کئی غیر ملکی فنکار واپس چلے گئے جبکہ مقامی فنکار یا تو ریٹائر ہو گئے یا بیرون ملک منتقل ہو گئے۔ ہوٹل تو باقی رہے لیکن ان کی محفلیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئیں۔

    آج کراچی کی وہ رنگین راتیں ماضی کا حصہ بن چکی ہیں اور ان کی جگہ ریسٹورنٹس، شاپنگ مالز اور سنیما گھروں نے لے لی ہے۔

  • کراچی: لڑکیوں کی تعلیم، اسکول اسپیسفک اور صنفی حساس بجٹ سازی پر تربیتی نشست

    کراچی: لڑکیوں کی تعلیم، اسکول اسپیسفک اور صنفی حساس بجٹ سازی پر تربیتی نشست

    کراچی میں لڑکیوں کی تعلیم اور صنفی حساس بجٹ سازی سے متعلق ایک روزہ تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں ضلع ملیر سے تعلق رکھنے والی 20 نوجوان طالبات ‘چیمپئنز فار چینج’ نے شرکت کی۔

    تربیتی پروگرام کا اہتمام تھر ایجوکیشن الائنس نے ملالہ فنڈ کے تعاون سے ایک نجی ہوٹل میں کیا، جس کا مقصد لڑکیوں کو تعلیمی پالیسی سازی اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانا تھا۔

    تربیتی سیشنز کے دوران شرکاء کو عملی مشقوں کے ذریعے پالیسی امور کو زمینی حقائق سے جوڑنے کی تربیت دی گئی۔ اس موقع پر تنقیدی سوچ، مؤثر وکالت اور بجٹ سازی کے عمل کو سمجھنے پر خصوصی توجہ دی گئی، تاکہ لڑکیاں اپنی برادریوں میں درپیش تعلیمی مسائل کو بہتر انداز میں اجاگر کر سکیں۔

    سماجی ماہر کپیل دیو نے شرکاء کو مؤثر ایڈووکیسی مہمات ترتیب دینے، شواہد کے استعمال اور مؤثر ابلاغ کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ باشعور اور باخبر نوجوان لڑکیاں معاشرتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

    اس موقع پر حکومت سندھ کے سیکشن آفیسر (بجٹ و فنانس) ڈاکٹر اسد کھتری نے پبلک فنانس اور تعلیمی بجٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بجٹ سازی کے طریقہ کار کو آسان انداز میں بیان کرتے ہوئے شرکاء کو اس عمل میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔

    ملالہ فنڈ کی مینیجر گرانٹس انعم اکرم نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم کی بہتری کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کے مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے کمیونٹی کی شمولیت انتہائی ضروری ہے۔

    تھر ایجوکیشن الائنس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پرتاب شیوانی نے بتایا کہ محکمہ تعلیم حکومت سندھ کی جانب سے 18.67 ارب روپے براہ راست سرکاری اسکولوں کو فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ 31 ہزار 633 اسکول سربراہان کو ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز مقرر کیا گیا ہے، جس سے فنڈز کے استعمال میں شفافیت اور بہتری آئے گی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام تعلیم کے شعبے میں نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کی جانب اہم پیش رفت ہے، جس میں کمیونٹی اور خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کا کردار نہایت اہم ہو گیا ہے۔

    تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ حاصل کردہ علم کو اپنی کمیونٹیز تک منتقل کریں گی اور لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھیں گی۔

    اس موقع پر تھر ایجوکیشن الائنس کے پروگرام مینیجر بھرت کمار، پریانکا، مہک، اقران میمن و دیگر بھی موجود تھے۔