کراچی میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) صرف سندھ کے مریضوں تک محدود نہیں، بلکہ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے دل کے مریضوں کے لیے بھی ایک اہم سرکاری طبی مرکز بن چکا ہے۔
حکومت سندھ کے تعاون سے چلنے والے اس ادارے میں 2019 سے 2025 کے دوران سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں سے آنے والے 23 لاکھ 20 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔ ان مریضوں میں بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے آنے والے افراد بھی شامل تھے۔
این آئی سی وی ڈی میں دل کے امراض کی تشخیص سے لے کر ہنگامی طبی امداد، انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی، کیتھیٹرائزیشن اور پیچیدہ سرجریز تک مختلف سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ صرف 2025 میں ادارے میں 54 ہزار 295 مریض داخل ہوئے، جبکہ ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کے لیے 2 لاکھ 96 ہزار 731 مشاورتیں فراہم کی گئیں۔ بیرونی مریضوں کے شعبے میں 4 لاکھ 43 ہزار 610 مشاورتیں ہوئیں۔
اسی سال دل کے مریضوں کے لیے 18 ہزار 875 انجیوگرافیز کی گئیں اور 88 ہزار 165 ایکوکارڈیوگرافی کے معائنے کیے گئے۔ پرائمری پی سی آئی کے 9 ہزار 279 طریقہ علاج ہوئے، جبکہ بچوں کے امراض قلب سے متعلق 3 ہزار 69 کیتھیٹرائزیشن اور دیگر طبی مداخلتیں کی گئیں۔
این آئی سی وی ڈی میں 291 پی ٹی ایم سی اور 40 ٹی اے وی آئی طریقہ علاج کے علاوہ 5 ہزار 649 ابتدائی طبی مداخلتیں اور 889 اختیاری انجیوپلاسٹیز بھی کی گئیں۔ ایک ہی سال کے دوران ادارے میں امراض قلب کی 1 ہزار 400 سے زائد سرجریز ہوئیں۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی کا یہ سرکاری ادارہ سندھ کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر علاقوں کے مریضوں کے لیے بھی دل کے علاج کا ایک بڑا مرکز بن چکا ہے۔ ادارے میں جدید اور پیچیدہ امراض قلب کے علاج کی سہولیات کو مزید وسعت دینے کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔
حکومت سندھ نے دسمبر 2025 میں کراچی میں جدید ڈبل ڈیکر بس سروس متعارف کرائی، جس کا مقصد شہریوں کو آرام دہ، محفوظ اور معیاری پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ سروس کے ابتدائی مرحلے میں چین سے درآمد کی گئی پانچ ڈبل ڈیکر بسیں شامل کی گئیں۔
یہ بسیں تقریباً 22 کلومیٹر طویل روٹ پر چلتی ہیں، جو ماڈل کالونی سے شروع ہو کر شاہراہ فیصل، ڈرگ روڈ، نرسری، پی ای سی ایچ ایس، میٹروپول، ٹاور اور زینب مارکیٹ تک جاتا ہے۔ یہ راستہ کراچی کے اہم اور مصروف علاقوں کو آپس میں ملاتا ہے، جس کے باعث روزمرہ سفر کرنے والوں کے ساتھ خاندانوں، طلبہ اور سیاحوں کے لیے بھی یہ سروس توجہ کا مرکز بنی ہے۔
مکمل طور پر ایئر کنڈیشنڈ بسوں میں تقریباً 115 سے 120 مسافروں کے بیٹھنے اور سفر کرنے کی گنجائش ہے۔ بالائی منزل شہریوں کو سفر کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں کا نسبتاً منفرد نظارہ بھی فراہم کرتی ہے، جبکہ بسوں میں آرام دہ نشستوں کے علاوہ حفاظتی نظام، کیمروں اور جی پی ایس کے ذریعے نگرانی جیسی سہولیات شامل ہیں۔
سروس کا کرایہ بھی عام شہریوں کی استطاعت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کیا گیا ہے۔ 15 کلومیٹر تک سفر کے لیے 80 روپے جبکہ اس سے زیادہ فاصلے کے لیے 120 روپے کرایہ رکھا گیا ہے۔ حکومت سندھ سروس کی باقی لاگت سبسڈی کی صورت میں برداشت کرتی ہے، جس کا مقصد شہریوں کے لیے سفری سہولت کو نسبتاً کم خرچ رکھنا ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے مطابق عوام کی جانب سے مثبت ردعمل برقرار رہنے کی صورت میں مستقبل میں مزید ڈبل ڈیکر بسیں درآمد کی جائیں گی اور سروس کو کراچی کی دیگر اہم شاہراہوں تک توسیع دینے پر بھی غور کیا جائے گا۔
یوں کراچی کی سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بسیں صرف ایک نئی سفری سہولت کے طور پر نہیں بلکہ شہر کے پبلک ٹرانسپورٹ نظام میں ایک مختلف طرز کے سفر کے آغاز کے طور پر بھی سامنے آئی ہیں۔
جغرافیائی تقسیم جب کسی خطے کی تقدیر بدلتی ہے تو صرف زمین کے ٹکڑے الگ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ ساز ذہن اور عظیم رہنما بھی اپنی مٹی سے جدا ہو جاتے ہیں۔
پرانے کراچی کی گود سے جنم لینے والے ایسے ہی ایک عظیم اور مدبر رہنما جئے رام داس دولت رام تھے، جن کا سفر حیات کراچی کی پرسکون گلیوں سے شروع ہو کر تحریک آزادی کے قید خانوں، آزاد ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی اور پھر بہار اور آسام کے گورنر ہاؤسز تک پھیلا ہوا تھا۔
وہ ایک ایسی شخصیت تھے جن کی پیدائش کراچی کے ایک سندھی ہندو گھرانے میں ہوئی، جنہوں نے برصغیر کی آزادی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کیا اور آزادی کے فوراً بعد ایک بالکل دوسرے خطے، بہار، کے پہلے بھارتی گورنر بنے۔ یہ داستان ایک ایسے رہنما کی ہے جس نے اقتدار کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں بیٹھ کر بھی اپنی مادری زبان ‘سندھی’ اور اپنی جائے پیدائش ‘کراچی’ کا حق کبھی نہیں بھلایا۔
کراچی کی گود میں ابتدائی زندگی
جئے رام داس دولت رام 21 جولائی 1891 کو برطانوی ہند کے ساحلی اور تجارتی مرکز کراچی کے ایک معزز، پڑھے لکھے اور متمول سندھی ہندو خاندان میں دولت رام عالم چندانی کے گھر پیدا ہوئے۔ اسی شہر کی مٹی میں ان کا خمیر گندھا تھا اور اسی کی ہواؤں نے ان کے خیالات کو پروان چڑھایا۔
انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی ہی سے حاصل کی اور بعد ازاں قانون کی اعلیٰ ڈگری حاصل کرکے کراچی ہی میں اپنی وکالت کا آغاز کیا۔
ان دنوں کراچی میں وکالت ایک انتہائی منافع بخش اور معزز پیشہ مانا جاتا تھا اور جئے رام داس بہت جلد ایک کامیاب وکیل کے طور پر ابھر سکتے تھے، لیکن ان کے اندر ایک ایسا ضمیر دھڑک رہا تھا جو برطانوی راج کی غلامی اور اس کے جابرانہ قوانین کو تسلیم کرنے سے انکاری تھا۔
جب برصغیر میں آزادی کی لہریں اٹھیں اور کانگریس نے برطانوی حکومت کے خلاف آواز بلند کی تو نوجوان جئے رام داس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنی چمکتی ہوئی وکالت اور متمول زندگی کو خیرباد کہہ دیا اور خود کو دھرتی کی آزادی کے لیے وقف کردیا۔
مہاتما گاندھی کی رفاقت اور ‘صحرا کا چراغ’ کا لقب
تحریک آزادی میں شامل ہونے کے بعد جئے رام داس دولت رام بہت جلد اپنی ذہانت، سادگی اور عزم کی بدولت مہاتما گاندھی کے چند انتہائی بااعتماد اور قریبی ساتھیوں کی صف میں شامل ہوگئے۔ ان کا اور گاندھی جی کا رشتہ محض سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی اور روحانی بھی تھا۔
اس رفاقت کا ایک تاریخی موڑ 1919 کے امرتسر اجلاس میں آیا۔ اس اجلاس میں گاندھی جی اور دیگر سینیئر کانگریسی رہنماؤں کے درمیان ایک اہم قرارداد پر شدید نظریاتی اختلاف پیدا ہوگیا تھا، جس سے تحریک کے اندر ایک خلیج پیدا ہونے کا خطرہ تھا۔
ایسے نازک وقت میں جئے رام داس نے اپنی غیر معمولی سفارتی اور تحریری صلاحیتوں کا استعمال کیا۔ انہوں نے گاندھی جی کی قرارداد کے الفاظ کو اس مہارت اور خوبصورتی سے دوبارہ ترتیب دیا کہ تمام فریقین اس پر راضی ہوگئے اور یوں تحریک آزادی کا شیرازہ بکھرنے سے بچ گیا۔ اس واقعے کے بعد گاندھی جی ان کی سیاسی دور اندیشی کے دل سے قائل ہوگئے۔
ہندوستان کی مشہور شاعرہ اور سیاسی رہنما سروجنی نائیڈو جئے رام داس کی درویشی، سادگی اور سندھ کے پسماندہ خطوں کے لیے ان کی بے لوث خدمات سے بے حد متاثر تھیں۔ انہوں نے جئے رام داس دولت رام کو ان کی اسی بے لوث طبیعت کی وجہ سے ‘صحرا کا چراغ’ کا خوبصورت لقب دیا، ایک ایسا چراغ جو سندھ کے تپتے صحراؤں اور کراچی کے ساحلوں پر آزادی کی روشنی پھیلا رہا تھا۔
انہوں نے تحریک عدم تعاون، نمک کے ستیہ گرہ اور 1942 کی ‘ہندوستان چھوڑو تحریک’ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس پاداش میں برطانوی حکومت نے انہیں کئی بار جیل بھیجا، جہاں انہوں نے بدترین تشدد اور قید و بند کی صعوبتیں نہایت پامردی سے جھیلیں۔
صحافت کا سفر اور تحریری جہاد
جئے رام داس دولت رام صرف ایوانوں اور جلسوں کے مرد میدان نہیں تھے بلکہ وہ ایک صاحب طرز ادیب اور بے باک صحافی بھی تھے۔ وہ جانتے تھے کہ قلم کی طاقت برطانوی توپوں سے زیادہ کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس دور کے برصغیر کے مشہور انگریزی اخبارات ‘دی ہندو’ اور ‘ہندوستان ٹائمز’ کے چیف ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور اپنے اداریوں کے ذریعے عوام میں آزادی کا شعور بیدار کیا۔
اس کے علاوہ مہاتما گاندھی کے مشہور ہفتہ وار رسالے ‘ینگ انڈیا’ کی ادارت کی ذمہ داری بھی ایک طویل عرصے تک جئے رام داس کے کندھوں پر رہی، جسے انہوں نے نہایت احسن طریقے سے نبھایا۔
تقسیم کا کرب اور آزاد ہندوستان کا پہلا گورنر بہار
1947 کا سال جہاں برصغیر کے لیے آزادی کا سورج لے کر آیا، وہیں جئے رام داس اور لاکھوں سندھیوں کے لیے اپنی مٹی سے بچھڑنے کا ایک لامتناہی کرب بھی لایا۔ جب ملک تقسیم ہوا تو ان کا پیارا شہر کراچی اور پورا سندھ پاکستان کا حصہ بن گیا۔
جئے رام داس دولت رام جو ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی میں سندھ کے کوٹے سے رکن منتخب ہوئے تھے اور آئین سازی کی کارروائی میں سندھ کی نمائندگی کر رہے تھے، راتوں رات اپنے ہی آبائی وطن سے بے وطن ہوگئے۔
لیکن تاریخ نے ان کے لیے ایک اور عظیم منصب چن رکھا تھا۔ 15 اگست 1947 کو ہندوستان کی آزادی کے پہلے ہی دن جب نئی حکومت تشکیل پا رہی تھی تو جئے رام داس دولت رام کو بہار کا گورنر مقرر کیا گیا۔
بہار راج بھون کے سرکاری اور تاریخی ریکارڈ کے مطابق وہ آزاد ہندوستان کے پہلے گورنر بہار بنے۔ انہوں نے 15 اگست 1947 سے 11 جنوری 1948 تک اس عہدے پر فائز رہ کر آزادی کے بعد کے اس پرآشوب اور مخدوش دور میں بہار کے انتظامی معاملات کو تدبر اور پختگی کے ساتھ سنبھالا۔
یہ برصغیر کی تاریخ کا ایک انوکھا اور دلچسپ واقعہ تھا کہ ایک شخص جس کا خمیر کراچی کی مٹی سے اٹھا تھا، وہ برصغیر کے مشرقی حصے کے ایک تاریخی خطے، بہار، کی گورنری کے منصب پر متمکن تھا۔
بعد ازاں ان کی انتظامی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں جواہر لعل نہرو کی مرکزی کابینہ میں ہندوستان کا وزیر خوراک و زراعت بنایا گیا، جہاں انہوں نے ملک کو غذائی قلت سے نکالنے کے لیے اہم اصلاحات کیں۔
آسام کی گورنری اور تبت کا تاریخی دفاع
1950 میں جئے رام داس دولت رام کو آسام کا گورنر مقرر کیا گیا، جہاں وہ 1956 تک فائز رہے۔ ان کی آسام کی گورنری کا دور ہندوستان کی جغرافیائی اور دفاعی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور نازک ترین دور مانا جاتا ہے۔ اسی دور میں چین نے تبت پر اپنا فوجی اور انتظامی کنٹرول سخت کرنا شروع کیا تھا، جس کی وجہ سے ہندوستان کی شمال مشرقی سرحدیں براہ راست چینی خطرے کی زد میں آگئی تھیں۔
بطور گورنر آسام، جئے رام داس دولت رام نے غیر معمولی تزویراتی اور انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے تبت سے متصل بھارت کے شمال مشرقی سرحدی علاقوں کو انتظامی طور پر مضبوط کرنے کے لیے دن رات ایک کردیا۔ 1951 میں توانگ کا بھارت میں تاریخی اور پرامن انضمام دراصل جئے رام داس دولت رام کی اسی دور اندیشی، مضبوط ارادے اور بہترین انتظامی حکمت عملی کا نتیجہ تھا، جس نے بھارت کے دفاع کو ہمیشہ کے لیے محفوظ بنا دیا۔
بھارت میں سندھی زبان کا مقدمہ اور آخری سفر
اقتدار، سیاست اور گورنری کے ان تمام اعلیٰ مناصب پر فائز رہنے کے باوجود جئے رام داس کے دل کے کسی کونے میں ہمیشہ کراچی کے ساحل اور سندھی زبان کی لوریاں گونجتی رہیں۔ تقسیم کے بعد جب لاکھوں سندھی ہندو اپنا سب کچھ سندھ میں چھوڑ کر ہندوستان کے مختلف حصوں میں پناہ گزین ہوئے تو ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنی زبان، شناخت اور ثقافت کو مٹنے سے بچانا تھا۔
جئے رام داس نے اس کڑے وقت میں اپنی مٹی اور مادری زبان کا حق ادا کیا۔ وہ ‘آل انڈیا سندھی زبان و ادب تنظیم’ کے بانی اراکین میں شامل ہوئے۔ انہوں نے دلی کے ایوانوں میں سندھی زبان کا مقدمہ اس مضبوطی سے لڑا کہ بھارتی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔
ان کی انتھک اور مسلسل کوششوں کی بدولت بھارتی حکومت نے سندھی زبان کو ہندوستان کے آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل کرکے اسے باقاعدہ قومی زبان کا درجہ دیا۔ یہ ان کا اپنی مٹی اور زبان پر وہ احسان تھا جو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔
اپنا آبائی شہر کراچی پاکستان میں رہ جانے کے بعد انہوں نے نئی دلی کو اپنا مسکن بنایا اور آخری سانس تک مہاتما گاندھی کے اصولوں کے مطابق نہایت سادگی اور عاجزی کی زندگی گزاری۔ 1 مارچ 1979 کو دلی میں 88 برس کی عمر میں اس عظیم صحافی، مدبر، سیاست دان اور کراچی کے سپوت کا انتقال ہوا۔
1985 میں حکومت ہند نے ان کی یاد میں ایک خصوصی یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ جئے رام داس دولت رام کی زندگی کراچی، سندھ، تحریک آزادی، بہار، آسام اور سندھی زبان کے حقوق کو ایک ایسی داستان میں پرو دیتی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ رہے گی۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، جسے عام طور پر این آئی سی وی ڈی یا دل کے اسپتال کے نام سے جانا جاتا ہے، کی بنیاد 1963 میں رکھی گئی۔ اس وقت دل کے امراض کے علاج کے لیے مخصوص یہ ادارہ جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کے اہم مراکز میں شمار ہوتا تھا۔
یہ ادارہ وقت کے ساتھ وسعت اختیار کرتا گیا اور 1980 میں اس کی موجودہ عمارت مکمل ہوئی۔ ابتدائی طور پر 450 بستروں کے لیے قائم کیے گئے اس اسپتال میں مختلف شعبوں اور طبی سہولیات کے اضافے کے بعد بستروں کی تعداد 600 تک پہنچ چکی ہے۔
سندھ حکومت کے تعاون سے این آئی سی وی ڈی میں دل کے مریضوں کو علاج کی سہولیات بالمعاوضہ فراہم کی جاتی ہیں، یہاں دل کے دورے کی ہنگامی صورتحال سے لے کر پیچیدہ قلبی سرجری اور دیگر جدید طریقۂ علاج تک، علاج کا نظام دن رات جاری رہتا ہے۔
این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر کے مطابق یہ ادارہ 1963 میں قائم ہوا اور اس وقت جنوبی ایشیا میں امراض قلب کے علاج کے لیے مختص اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ تھا۔
اس اسپتال میں دل کے علاج سے متعلق متعدد بڑے شعبوں کی سہولیات موجود ہیں، جہاں انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی، دل کے والو کے پیچیدہ علاج، پیس میکر کی تنصیب، دل کی برقی سرگرمی سے متعلق علاج، زندگی بچانے والے جدید آلات کی تنصیب اور دیگر مداخلتی طریقۂ علاج کیے جاتے ہیں۔
این آئی سی وی ڈی میں انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی، اوپن ہارٹ سرجری، پیس میکر کی تنصیب، ادویات، داخلہ اور کئی پیچیدہ قلبی طریقۂ علاج بھی مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔
پروفیسر طاہر صدیق کے مطابق فالج کے ایسے مریض جن کے دماغ میں خون کا لوتھڑا موجود ہو اور فوری علاج کی ضرورت ہو، این آئی سی وی ڈی میں موقع پر ہی ضروری طبی عمل کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اب تک ایسے 400 سے زیادہ کیسز کیے جا چکے ہیں۔
یہ ادارہ صرف مریضوں کے علاج تک محدود نہیں بلکہ تحقیق، طبی تربیت اور جدید قلبی طب کے لیے بھی ایک بڑا مرکز بن چکا ہے۔
صرف 2025 میں این آئی سی وی ڈی کے پورے نظام میں 16 لاکھ سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا۔ اسی سال 15,871 قلبی انجیوپلاسٹیاں، 2,692 اوپن ہارٹ سرجریاں، 3,069 بچوں کے قلبی مداخلتی علاج اور 1,184 مستقل پیس میکر لگائے گئے۔
یہ اعداد و شمار اس بڑے طبی نظام کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں جہاں دل کے پیچیدہ امراض میں مبتلا مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
ساگا ڈیجیٹل، پاکستان کی نئی نسل کی مصنوعی ذہانت سے چلنے والی صحافت ہے۔
کراچی کے کشمیر روڈ پر واقع کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس شہر کے ان اہم عوامی کھیلوں کے مراکز میں شامل ہے جہاں تیراکی، ٹینس، فٹبال، اسکواش اور دیگر کھیلوں کی سہولیات ایک ہی مقام پر دستیاب ہیں۔
1974 میں قائم ہونے والا یہ کمپلیکس گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران مختلف مراحل سے گزرا اور کراچی کے شہریوں، خصوصاً نوجوانوں کو نسبتاً کم لاگت میں کھیلوں کی سہولیات فراہم کرتا رہا ہے۔
مختلف ادوار میں یہاں سوئمنگ، ٹینس، اسکواش، فٹبال، ہاکی، باسکٹ بال، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، اسکیٹنگ اور جم سمیت متعدد کھیلوں کی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں۔
کمپلیکس کی نمایاں سہولیات میں سوئمنگ پول بھی شامل ہے، جس کی مختلف اوقات میں بحالی کی گئی۔ بحالی کے دوران فلٹریشن پلانٹ، پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام سمیت دیگر سہولیات کو بہتر بنایا گیا۔ 2019 میں بھی سوئمنگ پول کی بحالی کے بعد اسے شہریوں کے لیے دوبارہ کھولا گیا۔
بعد ازاں کمپلیکس میں ایک نئے جدید سوئمنگ پول کی تعمیر کی گئی، جس پر تقریباً 150 ملین روپے لاگت آئی۔ نئے پول کا افتتاح دسمبر 2025 میں کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے کیا۔
نئے سوئمنگ پول میں پانی کو صاف رکھنے کے لیے خودکار فلٹریشن اور واٹر پیوریفکیشن سسٹم نصب کیا گیا ہے، جبکہ سردیوں میں پانی کا درجہ حرارت برقرار رکھنے کے لیے ہیٹ پمپس بھی لگائے گئے ہیں۔
مسابقتی تیراکی کے لیے پول میں الیکٹرانک ٹائمنگ سسٹم بھی موجود ہے۔ 8 لینز کے لیے 16 ٹائمنگ ٹچ پیڈز نصب کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے تیراکوں کا وقت ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔
اس طرح یہ سہولت صرف عام شہریوں کی تفریحی سوئمنگ تک محدود نہیں بلکہ تیراکی کے مقابلوں کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔
کمپلیکس میں ٹینس بھی نمایاں کھیلوں میں شامل ہے۔ یہاں متعدد ٹینس کورٹس موجود ہیں جہاں مختلف سطح کے مقابلے منعقد ہوتے رہے ہیں۔ اس کا اوول شکل کا ٹینس کورٹ بھی کمپلیکس کی منفرد خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔
فٹبال کے شائقین کے لیے بھی یہاں میدان موجود ہے، جبکہ مختلف ادوار میں دیگر کھیلوں کی سرگرمیاں بھی جاری رہی ہیں۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں آبادی میں اضافے کے ساتھ کھیلوں کے لیے دستیاب کھلی جگہیں محدود ہوتی جارہی ہیں۔ ایسے میں عوامی اسپورٹس کمپلیکس نوجوانوں کو کھیلوں اور جسمانی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس مختلف ادوار میں بندش، بحالی اور تعمیر نو کے مراحل سے گزرا، تاہم تقریباً پانچ دہائیوں بعد بھی یہ کراچی میں عوامی سطح پر کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنے والے اہم مراکز میں شامل ہے۔
سوئمنگ پول، ٹینس کورٹس اور فٹبال گراؤنڈ سمیت مختلف سہولیات کے باعث یہ کمپلیکس ایک کثیرالمقاصد کھیلوں کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں شہری ایک ہی مقام پر مختلف کھیلوں سے وابستہ سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔
ساگا ڈیجیٹل، صرف خبر نہیں، معلومات اور مواقع کی آواز۔
کراچی کے ہنگامہ خیز اور گنجان آباد شہر میں یونیورسٹی روڈ پر واقع سفاری پارک محض تفریح کا مقام نہیں بلکہ اپنے اندر ایک دلچسپ شہری آبی مسکن بھی رکھتا ہے۔
سفاری پارک میں موجود سوان لیک، جسے ہنسوں کی جھیل بھی کہا جاتا ہے، کئی دہائیوں سے مختلف آبی پرندوں کے لیے ایک اہم مقام رہی ہے۔ یہ جھیل اپنی موجودہ شکل میں کسی قدرتی دریا یا جھیل کا حصہ نہیں بلکہ انسانی سرگرمی کے نتیجے میں وجود میں آنے والا ایسا آبی ذخیرہ ہے جس نے وقت کے ساتھ ماحولیاتی اہمیت حاصل کرلی۔
سفاری پارک 1970 میں قائم کیا گیا تھا اور یونیورسٹی روڈ پر پھیلا یہ وسیع عوامی پارک طویل عرصے سے کراچی کے اہم تفریحی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ پارک میں جانوروں اور سبزہ زاروں کے علاوہ سفاری ایریا، چیئر لفٹ اور مختلف جھیلیں بھی موجود ہیں۔
ہنسوں کی جھیل کی موجودہ شکل 1970 کی دہائی میں سامنے آئی۔ دستیاب تحقیقی معلومات کے مطابق اس علاقے میں خام مال نکالنے کے لیے کھدائی کی گئی تھی۔ کھدائی کے نتیجے میں بننے والے گہرے حصے میں بعد ازاں میٹھا پانی جمع ہوگیا اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ جگہ ایک شہری ویٹ لینڈ یعنی آبی مسکن میں تبدیل ہوگئی۔
ایک تحقیقی مطالعے میں اس ویٹ لینڈ کا رقبہ تقریباً 3 ایکڑ اور زیادہ سے زیادہ گہرائی تقریباً 25 فٹ ریکارڈ کی گئی۔ اس طرح کراچی کے ایک مصروف شہری علاقے میں انسانی مداخلت سے بننے والا یہ پانی کا ذخیرہ رفتہ رفتہ مختلف پرندوں اور دیگر آبی حیات کے لیے موزوں ماحول بن گیا۔
تحقیقی مشاہدات میں سفاری پارک کے اس آبی مسکن میں پیلیکن، بگلے، بطخیں اور ہنس سمیت مختلف اقسام کے آبی پرندے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ایک تحقیق میں سفاری پارک کے جنگلی ماحول میں مجموعی طور پر 32 پرندوں کی انواع کی موجودگی بھی ریکارڈ کی گئی۔
سردیوں کے موسم میں اس جھیل کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ بعض ہجرت کرنے والے آبی پرندے بھی یہاں پہنچتے رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق کچھ مہمان پرندے اکتوبر یا نومبر میں اس علاقے میں آتے اور مارچ تک یہاں قیام کرتے تھے۔
جھیل صرف پرندوں کے لیے ہی اہم نہیں بلکہ سفاری پارک آنے والے شہریوں کے لیے بھی ایک نمایاں تفریحی مقام بن چکی ہے۔ 2019 میں سندھ حکومت نے جھیل کے قریب کشمیر پوائنٹ کے نام سے ایک تفریحی مقام تعمیر کیا۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً 4 ایکڑ پر پھیلی جھیل کے کنارے ایک بلند مصنوعی پہاڑی بنائی گئی، جس سے آبشار گرنے کا انتظام کیا گیا۔
کشمیر پوائنٹ کے تصور میں مقبوضہ کشمیر کی مشہور ڈل جھیل سے مشابہت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جبکہ یہاں کشتی رانی کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ جھیل کے وسط میں موجود ایک چھوٹا سا جزیرہ بھی اس مقام کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہے۔
دور سے دیکھنے پر یہ جزیرہ جھیل کے منظر کو منفرد بناتا ہے۔ جزیرے پر پگوڈا طرز کا ایک چھوٹا سا بیٹھنے کا مقام تعمیر کیا گیا ہے، جس کے اردگرد درخت اور سبزہ موجود ہے۔ یوں سفاری پارک کی سوان لیک کراچی کے شہری منظرنامے میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں تفریح، انسانی مداخلت اور شہری ماحول کے ساتھ قدرتی نظام بھی ایک دوسرے سے جڑے دکھائی دیتے ہیں۔
جس پانی کے ذخیرے نے کئی دہائیاں قبل انسانی سرگرمی کے نتیجے میں جنم لیا، وہ وقت کے ساتھ آبی پرندوں کے لیے مسکن بن گیا اور آج سفاری پارک کی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔
کراچی میں روزمرہ کی مصروف زندگی کے درمیان موجود یہ جھیل اس بات کی بھی مثال ہے کہ شہری علاقوں میں بننے والے بعض مصنوعی یا غیر فطری آبی ذخیرے وقت کے ساتھ ماحولیاتی اہمیت اختیار کرسکتے ہیں۔
بحرِ ہند کے کنارے آباد یہ عظیم الشان میٹروپولیٹن شہر کراچی صرف ساحلی تجارت، بحری تاریخ اور بندرگاہوں کا شہر نہیں، بلکہ یہ آئین، انصاف اور نوآبادیاتی طاقت کے درمیان ہونے والے ان گنت معرکوں کا خاموش گواہ بھی ہے۔
کیماڑی کی لہروں سے ذرا پرے، موجودہ کورٹ روڈ پر واقع جودھ پور کے سرخ پتھروں سے تراشی گئی وہ باوقار اور تاریخی عمارت، جو آج ‘ہائی کورٹ آف سندھ’ کے نام سے جانی جاتی ہے، اپنے اندر ایک صدی پر محیط قانون، قانون شکنی اور آئینی ارتقا کے پُرپیچ قصے سمیٹے ہوئے ہے۔
1839 میں انگریزوں کے غاصبانہ قبضے کے بعد، جب کراچی کو برطانوی ہند کا معاشی دروازہ بنانے کا عمل شروع ہوا، تو اس نوآبادیاتی نظام کو چلانے اور اس کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ایک عدالتی ڈھانچے کا قیام ناگزیر ہو چکا تھا۔
برطانوی اقتدار، عدالتی ارتقا اور عمارت کا سنگِ بنیاد
سندھ میں برطانوی عدالتی نظام کی رسمی شروعات 1866 کے ‘سندھ جوڈیشل کورٹ ایکٹ’ کے تحت ‘جوڈیشل کمشنر کی عدالت’ سے ہوئی، جس کا مقصد انتظامی اور تجارتی تنازعات کو نمٹانا تھا۔
تاہم، 1920 کی دہائی تک پہنچتے پہنچتے، جب کراچی پورٹ کے راستے بین الاقوامی تجارت نے وسعت اختیار کی اور شہر میں قانونی و معاشی سرگرمیاں عروج پر پہنچیں، تو ایک باقاعدہ اور شاندار اعلیٰ عدالت کی ضرورت محسوس کی گئی۔
3 نومبر 1923 کو بمبئی کے گورنر سر لیسلی ولسن نے موجودہ عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا۔ اطالوی نشاۃ ثانیہ کے طرزِ تعمیر پر مبنی یہ عمارت تقریباً 6 سال کے طویل عرصے میں 26 لاکھ روپے کی خطیر رقم سے مکمل ہوئی۔ 22 نومبر 1929 کو اس شاندار چیف کورٹ کا افتتاح ہوا۔
عمارت کے بیرونی حصے پر کراچی کے مقامی ‘گیزری’ کے پیلے سندھی پتھر، یونانی طرز کے کورینتھین اور ڈورک ستون اور اوپری حصے پر بنے سرخ ٹائلوں والے گنبد اس کے معماری شاہکار ہونے کا پُروقار اعلان کرتے تھے۔
بعد ازاں، 1936 میں جب سندھ کو بمبئی پریسیڈنسی سے الگ کر کے ایک مستقل صوبہ بنایا گیا، تو 1906 کے جوڈیشل ایکٹ میں ترمیم کر کے اسے باقاعدہ ‘چیف کورٹ آف سندھ’ کا عدالتی و آئینی درجہ دے دیا گیا۔
انصاف کا بنچ: برطانوی جج، مقامی دانش اور پہلا مسلم جج
چیف کورٹ آف سندھ کا عدالتی بنچ اپنے آپ میں ایک انوکھا اور تاریخی تنوع رکھتا تھا، جہاں برطانوی بیرسٹرز، ہندو قانونی ماہرین، پارسی قانون دان اور مسلم وکلا عدالتی نظام کا حصہ تھے۔
سر گوڈفرے ڈیوس
سر گوڈفرے ڈیوس چیف کورٹ آف سندھ کے پہلے باقاعدہ چیف جج مقرر ہوئے۔ انہوں نے 1935 سے لے کر قیامِ پاکستان کے بعد 1948 تک اس اعلیٰ منصب پر خدمات انجام دیں۔ وہ برطانوی قانونی نظام کے ساتھ ساتھ مقامی روایات پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔
جسٹس روپ چند بیلارام
جسٹس روپ چند بیلارام سندھ کی عدالتی تاریخ کے اہم مقامی ہندو ججوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ تجارتی قوانین، زمینوں کے تنازعات اور کسٹمز کے معاملات میں اپنے فیصلوں کے لیے برطانوی ہند میں معروف تھے۔
جسٹس حاتم بی بدرالدین طیب جی
ممبئی کے نامور طیب جی خاندان سے تعلق رکھنے والے یہ روشن خیال قانونی ماہر چیف کورٹ آف سندھ کے پہلے مسلم جج بننے کے اعزاز سے سرفراز ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1948 میں وہ سر گوڈفرے کی ریٹائرمنٹ کے بعد چیف کورٹ کے چیف جج بھی بنے۔
اس دور میں عدالت کے انتظامی اور دفتری امور کو سنبھالنے کے لیے رجسٹرار کا عہدہ انتہائی اہم ہوتا تھا۔ 1936 میں بمبئی سے عدالتی ریکارڈ اور دستاویزات کی منتقلی کے دوران انگریز آئی سی ایس افسران اور مقامی ڈسٹرکٹ ججز نے بطور رجسٹرار فرائض انجام دیے، تاکہ نوخیز صوبے کی عدالت کا انتظامی ڈھانچا مربوط رہے۔
قانون کی دنیا کے تاریخی معرکے: استعماری طاقت اور شمشیرِ عدل کے درمیان کشمکش
چیف کورٹ آف سندھ پر تاریخ دانوں اور ناقدین کا اکثر یہ اعتراض رہا ہے کہ یہ نوآبادیاتی طاقت کا ایک اوزار تھی، لیکن اس کے برعکس عدالت کے بعض فیصلوں سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ ججوں نے برطانوی بیوروکریسی، پولیس اور نوآبادیاتی حکمرانوں کے اقدامات کو قانون کی کسوٹی پر پرکھا اور بعض مواقع پر حکومت کے خلاف فیصلے صادر کیے۔
پیر پگاڑا اور حر تحریک کا المیہ
حر تحریک کے قائد سید صبغت اللہ شاہ راشدی، پیر پگاڑا ثانی، کے خلاف برطانوی حکومت نے تحریک کو کچلنے کے لیے سندھ کے بعض علاقوں میں سخت اقدامات کیے۔ ان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور بغاوت کے الزام میں 20 مارچ 1943 کو انہیں پھانسی دی گئی۔ چیف کورٹ آف سندھ اس دور میں عدالتی اور آئینی معاملات کا ایک اہم فورم تھی، جہاں ریاستی اقدامات کے خلاف قانونی سوالات اٹھائے جاتے تھے۔
برطانوی انتظامیہ کے خلاف زمینوں کی ضبطی
1930 کی دہائی میں جب نوآبادیاتی حکومت نے بندرگاہ اور ملٹری کینٹ کی توسیع کے نام پر مقامی شہریوں کی املاک حاصل کرنے کی کوشش کی، تو عدالت میں زمینوں کے حصول اور معاوضے سے متعلق مقدمات بھی زیرِ سماعت آئے۔ ان مقدمات میں شہریوں کے ملکیتی حقوق اور ریاست کے اختیارات کے درمیان توازن کا سوال اہم رہا۔
پولیس کے صوابدیدی اختیارات اور پریس کی آزادی
چیف کورٹ آف سندھ میں ‘ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ’ کے تحت گرفتاریوں، حبسِ بے جا اور انتظامی احکامات سے متعلق مقدمات بھی زیرِ سماعت رہے۔ اسی طرح پریس پر پابندیوں اور نوآبادیاتی انتظامیہ کے اختیارات سے متعلق قانونی تنازعات بھی عدالت تک پہنچے۔ ان مقدمات نے شہری آزادیوں، انتظامی اختیارات اور قانون کی حکمرانی کے سوالات کو نمایاں کیا۔
جمشید نصروانجی اور کے ایم سی کے اختیارات کا تحفظ
کراچی کے معروف میئر جمشید نصروانجی مہتا کی قیادت میں جب میونسپلٹی نے شہر کی صفائی، شہری سہولتوں اور عوامی مقامات سے متعلق اپنے اختیارات کے لیے نوآبادیاتی انتظامیہ سے اختلاف کیا، تو بلدیاتی اداروں کے اختیارات اور حکومت کی مداخلت کا معاملہ بھی قانونی تنازعات کا حصہ بنا۔
سندھ چیف کورٹ کی بیرونی دیوار کے ساتھ گاندھی جی کا مجسمہ
8 جولائی 1934 کو کراچی کی تاجروں کی تنظیم ‘کراچی انڈین مرچنٹس ایسوسی ایشن’ نے گاندھی جی کے ہاتھوں ان کے مجسمے کی نقاب کشائی کرائی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد بھی ایک عرصے تک یہ مجسمہ وہاں نصب رہا۔
نوآبادیاتی نقشِ پا سے سندھ ہائی کورٹ کا سفر
1947 میں آزادی کے بعد، جب کراچی پاکستان کا پہلا دارالحکومت بنا، تو یہی چیف کورٹ ملک کے اہم قانونی مراکز میں شامل ہو گئی۔ جب ملک میں ون یونٹ کا نفاذ ہوا، تو 1955 میں یہ عمارت ‘مغربی پاکستان ہائی کورٹ، کراچی بنچ’ کا حصہ بن گئی۔ بعد ازاں جولائی 1970 میں ون یونٹ کے خاتمے پر اسے باقاعدہ ‘ہائی کورٹ آف سندھ’ کا نام دیا گیا۔
سندھ کلچرل ہیریٹیج پروٹیکشن ایکٹ 1994 کے تحت اب یہ عمارت صوبے کے محفوظ تاریخی ورثے کا حصہ ہے۔ وقت کی ضرورت کے تحت اس کی اصل تاریخی ساخت کے عقب میں 1974 میں جدید ‘اینیکس بلاک’ بھی تعمیر کیا گیا، لیکن سرخ پتھر کی وہ مرکزی عمارت، قدآور ستون اور ساگوان کی لکڑی سے سجے ہال آج بھی برطانوی ہند کے عدالتی وقار اور نوآبادیاتی سندھ کے تنازعات کی گواہی دیتے ہیں۔
کراچی پورٹ کی مٹی اور ‘گھاس بندر’ کی لہروں سے لے کر چیف کورٹ کی کارروائیوں تک، سندھ کی تاریخ صرف فاتحین کے بیانیے پر مبنی نہیں، بلکہ یہ ان ججوں، وکیلوں اور عام انسانوں کا بھی لوک حافظہ ہے جنہوں نے استعماری راج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر قانون اور صداقت کا علم بلند رکھا۔
کراچی میں جانوروں کی صحت، بیماریوں کی تشخیص اور ویکسین کی تیاری کے حوالے سے سندھ حکومت کا ایک اہم ادارہ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ ہے، جسے عام طور پر ایس آئی اے ایچ کہا جاتا ہے۔
کورنگی میں قائم یہ ادارہ مویشیوں، پولٹری، پالتو جانوروں، جنگلی حیات اور آبی حیوانات کی صحت سے متعلق تشخیص، تحقیق اور ویکسین کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتا ہے۔
اس ادارے کا قیام 1970 میں ہوا، جبکہ 1995 میں یہاں سندھ پولٹری ویکسین سینٹر قائم کیا گیا۔ 2018 میں وسیع دائرہ کار کے ساتھ اس ادارے کو سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ میں تبدیل کیا گیا۔
ایس آئی اے ایچ میں پولٹری کی مختلف بیماریوں، جن میں نیوکاسل، ایویئن انفلوئنزا، گمبورو اور انفیکشیئس برونکائٹس شامل ہیں، کی تشخیص اور ویکسین سے متعلق کام کیا جاتا ہے۔
ادارہ مویشیوں کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ پالتو جانوروں اور جنگلی حیات کی بیماریوں پر بھی کام کرتا ہے، جبکہ ایکوا ہیلتھ ڈویژن کے ذریعے مچھلی اور دیگر آبی حیوانات کی صحت بھی اس کے دائرہ کار میں شامل ہے۔
یہاں موجود لیبارٹریز میں خون، ٹشوز اور دیگر حیاتیاتی نمونوں کی جانچ کے علاوہ پی سی آر اور دیگر تشخیصی ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ دودھ، گوشت اور انڈوں سمیت حیوانی مصنوعات کی مائکرو بایولوجیکل جانچ بھی کی جاتی ہے۔
ایس آئی اے ایچ کا ایک اہم شعبہ ویکسین کی تیاری ہے۔ ادارے میں پولٹری اور مویشیوں کے لیے مختلف ویکسین تیار کی جاتی ہیں، جبکہ نئی ویکسین اور بیماریوں کی تشخیص کے طریقوں پر تحقیق بھی کی جاتی ہے۔
ادارے کے کام میں سانپ کے زہر سے بچاؤ کے لیے اینٹی وینم سے متعلق سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔
حالیہ برسوں میں کورنگی میں قائم اس ادارے میں پیٹ ہسپتال، ڈیری، اینالیٹیکل اور پیراسائٹولوجی لیبارٹریز سمیت مختلف ویٹرنری سہولیات بھی شامل کی گئی ہیں۔
ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نذیر حسین کلہوڑو کے مطابق سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کا کام صرف جانوروں کی صحت تک محدود نہیں بلکہ محفوظ دودھ، گوشت اور انڈوں، خوراک کے تحفظ اور بالآخر انسانی صحت سے بھی براہ راست جڑا ہوا ہے۔
کراچی بار ایسوسی ایشن نے برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کے نام ایک خط ارسال کرکے حر تحریک کے رہنما پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی، المعروف سورہیہ بادشاہ، کی تدفین کی جگہ سے متعلق برطانوی تاریخی اور سرکاری ریکارڈ سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
خط برطانوی ہائی کمیشن، اسلام آباد کے ذریعے بھیجا گیا ہے اور اس پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ، جنرل سیکریٹری محمد ارشد شر اور دیگر عہدیداران کے دستخط موجود ہیں۔
بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سورہیہ بادشاہ کو 20 مارچ 1943 کو حیدرآباد سینٹرل جیل میں برطانوی نوآبادیاتی حکومت نے پھانسی دی، لیکن 83 سال گزرنے کے باوجود ان کی آخری آرام گاہ کا مقام عوامی طور پر حتمی طور پر سامنے نہیں آ سکا۔
سورہیہ بادشاہ کون تھے؟
پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی پیر پاگارا خاندان کے چھٹے پیر تھے اور حر جماعت کے روحانی و سیاسی رہنما کے طور پر برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کی قیادت کرتے رہے۔ انہیں ان کے پیروکاروں نے سورہیہ بادشاہ یعنی بہادر بادشاہ کا لقب دیا۔
وہ کم عمری میں پیر پاگارا بنے اور وقت کے ساتھ برطانوی نوآبادیاتی نظام کے خلاف حر تحریک کے اہم رہنما بن گئے۔ ان کی قیادت میں حر مزاحمت نے 1930 کی دہائی کے آخر اور 1940 کی دہائی کے آغاز میں مسلح شکل اختیار کی۔ انگریزوں کے خلاف ان کی تاریخی جدوجہد کے دوران سورہیہ بادشاہ کا نعرہ ‘وطن یا کفن’ آج بھی سندھ کی عوام میں مقبول ہے۔ برطانوی حکومت نے اس تحریک کو دبانے کے لیے سخت قوانین، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، فوجی کارروائیاں اور سندھ میں مارشل لا نافذ کیا۔
حر تحریک کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ برطانوی انتظامیہ نے 1942 میں سندھ میں مارشل لا نافذ کیا، جس کے دوران فوجی عدالتوں کے ذریعے مقدمات چلائے گئے اور ہزاروں حروں اور ان کے خاندانوں کو حراستی کیمپوں میں رکھا گیا۔
سورہیہ بادشاہ کو کیوں پھانسی دی گئی؟
برطانوی حکومت نے ان کے خلاف مقدمہ مارشل لا کے تحت قائم فوجی عدالت میں چلایا۔ انہیں برطانوی تاج کے خلاف جنگ چھیڑنے اور بغاوت سے متعلق الزامات کا سامنا تھا اور بالآخر انہیں سزائے موت سنائی گئی۔
تاریخی ریکارڈز پر تحقیق کرنے والے محققین کے مطابق برطانوی انتظامیہ کے اندر یہ سوچ موجود تھی کہ جب تک پیر زندہ ہیں، حر تحریک کو ختم کرنا مشکل ہوگا۔ بعض برطانوی انتظامی ریکارڈز میں ان کے خلاف کارروائی اور مقدمے کے حوالے سے اہم تفصیلات بھی موجود ہیں۔
1942 میں لاہور میل پر حملے اور مسافروں کی ہلاکت کے بعد برطانوی حکومت نے حر تحریک کے خلاف کارروائی مزید سخت کر دی۔ اسی دور میں سورہیہ بادشاہ کے خلاف مقدمہ آگے بڑھا اور بالآخر انہیں 20 مارچ 1943 کو حیدرآباد سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔
اس وقت ان کی عمر تقریباً 33 سال تھی۔
تدفین کہاں ہوئی؟
یہی وہ سوال ہے جس نے 83 سال بعد بھی تاریخ دانوں اور سندھ کے عوام کو متوجہ کر رکھا ہے۔
سورہیہ بادشاہ نے اپنی زندگی میں اپنی تدفین آبائی قبرستان پیر جو گوٹھ میں ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن برطانوی حکومت نے انہیں وہاں دفن نہیں کیا۔ تاریخی تحقیق کے مطابق برطانوی حکام کو خدشہ تھا کہ ان کی قبر ان کے پیروکاروں کے لیے مزاحمت اور عقیدت کا مرکز بن سکتی ہے۔
2008 میں سابق آئی جی سندھ آفتاب نبی نے لیمبرک پیپرز پر تحقیق کی بنیاد پر بتایا کہ برطانوی حکام نے سورہیہ بادشاہ کو خفیہ طور پر بلوچستان کے ساحل کے قریب آسٹولا جزیرے پر دفن کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ جگہ انتہائی دور افتادہ تھی۔
بعد میں برطانوی دور کے ریکارڈز سے متعلق شائع ہونے والی تحقیقات میں بھی آسٹولا جزیرے کا ذکر سامنے آیا۔ ایک دستاویز میں 19 مارچ 1943 کے وائسرائے کے ٹیلی گرام کا حوالہ دیا گیا جس میں سورہیہ بادشاہ کو آسٹولا جزیرے پر دفن کرنے کی ہدایت کا ذکر تھا۔ تدفین کے مقام کو خفیہ رکھنے کی بات بھی اس ریکارڈ سے منسوب کی گئی ہے۔
آسٹولا جزیرے کا نام تاریخی تحقیق اور برطانوی ریکارڈز سے منسوب حوالوں میں ضرور آتا ہے، مگر آج تک ایسا عوامی طور پر تسلیم شدہ اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ قبر کا مقام سامنے نہیں آیا جسے حتمی طور پر سورہیہ بادشاہ کی قبر قرار دیا جا سکے۔
اسی وجہ سے کراچی بار ایسوسی ایشن اب براہ راست برطانوی حکومت سے اصل ریکارڈ سامنے لانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
یہ معاملہ کئی دہائیوں تک مختلف قیاس آرائیوں کا موضوع بھی رہا ہے۔ بعض محققین نے آسٹولا جزیرے، بعض نے مکران کے دوسرے ساحلی مقامات اور بعض نے کراچی میں ایک مقام کو ممکنہ مدفن قرار دیا، لیکن ان دعووں میں سے کسی کو حتمی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکا۔
برطانوی ریکارڈ کیوں اہم ہیں؟
سورہیہ بادشاہ کے مقدمے، گرفتاری، پھانسی اور تدفین سے متعلق برطانوی دور کے سرکاری ریکارڈ تاریخی تحقیق کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
2008 میں لیمبرک پیپرز کا بڑا ریکارڈ، جو برٹش لائبریری کے انڈیا آفس ریکارڈز میں محفوظ تھا، تحقیق کے لیے دستیاب ہوا۔ ان ریکارڈز میں 1893 سے 1947 تک حر تحریک سے متعلق تفصیلات موجود تھیں اور انہوں نے سورہیہ بادشاہ کے مقدمے اور برطانوی انتظامیہ کے فیصلوں پر نئی بحث کو جنم دیا۔
اسی لیے کراچی بار کا مطالبہ محض قبر تلاش کرنے کا مطالبہ نہیں ہے۔ یہ ایک تاریخی ریکارڈ کی فراہمی کا مطالبہ بھی ہے۔
اگر برطانوی آرکائیوز میں پھانسی، لاش کی منتقلی، تدفین، قبر کے مقام یا اس مقام کو خفیہ رکھنے کے احکامات سے متعلق اصل دستاویزات موجود ہیں تو ان کا سامنے آنا حر تحریک کی تاریخ کے ایک اہم اور ابھی تک غیر واضح باب کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
دنیا میں اس نوعیت کی ایک مثال
سورہیہ بادشاہ کا معاملہ منفرد ضرور ہے، لیکن نوآبادیاتی دور میں برطانوی حکومت کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ایک اور معروف آزادی پسند رہنما کی قبر بھی کئی دہائیوں تک نامعلوم رہی۔
کینیا کے ماؤ ماؤ آزادی پسند رہنما ڈیڈن کیماتھی کو برطانوی نوآبادیاتی حکومت نے 18 فروری 1957 کو کامیتی جیل میں پھانسی دی۔ انہیں ایک غیر نشان زدہ قبر میں دفن کیا گیا اور ان کی درست قبر کا مقام کئی دہائیوں تک معلوم نہیں ہو سکا۔
ان کے خاندان، ماؤ ماؤ کے سابق جنگجوؤں اور حامیوں نے کئی برس تک قبر تلاش کرنے کی کوششیں کیں، لیکن طویل عرصے تک کوئی حتمی مقام سامنے نہیں آیا۔
یہ مثال سورہیہ بادشاہ کے معاملے سے اس لحاظ سے ملتی ہے کہ دونوں نوآبادیاتی مزاحمت کے نمایاں رہنما تھے، دونوں کو برطانوی نوآبادیاتی حکومت نے پھانسی دی اور دونوں کی تدفین کو طویل عرصے تک غیر واضح یا غیر نشان زدہ رکھا گیا۔
یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ نوآبادیاتی دور میں مزاحمتی رہنماؤں کی تدفین کو غیر نمایاں رکھنا بعض صورتوں میں اس خوف سے بھی جڑا ہوا تھا کہ ان کی قبریں بعد میں مزاحمت، عقیدت یا سیاسی اجتماع کا مرکز بن سکتی تھیں۔
کراچی بار کا مطالبہ کتنا اہم ہے؟
کراچی بار ایسوسی ایشن کا مطالبہ اس لیے بھی اہم ہے کہ سورہیہ بادشاہ سندھ کی برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کی تاریخ کا ایک مرکزی کردار ہیں۔ ان کی پھانسی اور اس کے بعد لاش کی تدفین سے متعلق مکمل ریکارڈ سامنے آنا تاریخ کے ایک اہم خلا کو پُر کر سکتا ہے۔
اس تاریخی مطالبے کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ اگر برطانوی سرکاری اداروں کے پاس تدفین سے متعلق اصل احکامات، ٹیلی گرام، فوجی مراسلات، جیل ریکارڈ یا دیگر دستاویزات موجود ہیں تو ان تک عوامی اور تحقیقی رسائی تاریخی تحقیق کے لیے انتہائی اہم ہوگی۔
اس کے علاوہ ایک ایسے شخص کی آخری آرام گاہ جسے اس کے پیروکار آج بھی شہید اور آزادی کی جدوجہد کی علامت سمجھتے ہیں، 83 سال بعد بھی غیر یقینی کا شکار ہو، تو اس مقام کی دستاویزی وضاحت صرف ایک تاریخی سوال نہیں رہتی بلکہ اجتماعی یادداشت اور تاریخی انصاف کا معاملہ بھی بن جاتی ہے۔
تاہم اس مطالبے کی اصل اہمیت اسی وقت سامنے آئے گی جب برطانوی حکومت اپنے آرکائیوز میں موجود متعلقہ دستاویزات کی بنیاد پر واضح جواب دے۔
سورہیہ بادشاہ کی قبر کہاں ہے، یہ سوال 83 سال سے سندھ کی تاریخ میں موجود ہے۔ آسٹولا جزیرے سے متعلق برطانوی ریکارڈز اور محققین کے دعوے اس سوال کو ایک ممکنہ سمت ضرور دیتے ہیں، لیکن حتمی اور قابلِ تصدیق جواب اب بھی سامنے آنا باقی ہے۔
کراچی بار ایسوسی ایشن کا شاہ چارلس سوم کے نام خط اسی لیے اہم ہے کہ اس نے ایک پرانے تاریخی سوال کو دوبارہ برطانوی ریاست کے ریکارڈ اور ذمہ داری کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
اگر متعلقہ برطانوی ریکارڈ عوام کے سامنے آتے ہیں تو ممکن ہے 83 سال پرانا یہ راز بالآخر حل ہو جائے کہ سورہیہ بادشاہ کو کہاں دفن کیا گیا، ان کی لاش کس راستے سے منتقل ہوئی اور کس حکم کے تحت ان کی آخری آرام گاہ کو راز رکھا گیا۔
امریکی قونصل خانہ کراچی نے لنکن کارنر کراچی میں جدید، تعلیمی اور معلوماتی ڈیجیٹل و متحرک نمائش ’روڈ ٹو لبرٹی‘ یعنی ’شاہراہِ آزادی‘ کا افتتاح کیا۔
’فاؤنڈرز میوزیم‘یعنی ’بانیان کا عجائب گھر‘وائٹ ہاؤس کا ایک خصوصی منصوبہ ہے، جس کا مقصد ریاستہائے متحدہ امریکہ کے قیام اور اس کی آزادی کے 250 سالہ سفر کا جشن منانا ہے۔ یہ نمائش پاکستانی نوجوانوں، طلبہ و طالبات اور اساتذہ کو امریکہ کی تاریخی شخصیات اور ان کی بنیادی اقدار، بالخصوص زندگی، حریت اور حصولِ شادمانی، سے روشناس کراتی ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کراچی میں تعینات امریکی قونصل جنرل چارلس گڈمن نے ان بنیادی اصولوں کی دائمی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا: ’امریکہ کی اساس کی داستان آزادی اور فطری حقوق کے محور کے گرد گھومتی ہے، اور یہ وہی عالمگیر اصول ہیں جو 250 سال گزرنے کے بعد بھی ہماری قوم کی رہنمائی کر رہے ہیں۔‘
افتتاح کے موقع پر شرکا نے کیو آر کوڈز کے ذریعے اپنے اسمارٹ فونز پر تفصیلی اور تعلیمی مواد کا مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر ایجوکیشن یو ایس اے کے ماہرین اور مشیران نے ان ممتاز امریکی جامعات کی مجازی سیر بھی کرائی، جن کے نام بانیانِ امریکہ کے ناموں پر رکھے گئے ہیں۔
یہ تاریخ ساز نمائش دسمبر 2026 تک کراچی اور حیدرآباد سمیت کراچی قونصلر ڈسٹرکٹ کے مختلف تعلیمی اور ثقافتی اداروں کا دورہ کرے گی، جہاں نمائشیں منعقد کی جائیں گی۔ ہر پڑاؤ کے دوران باقاعدہ رہنمائی کے ساتھ نمائش کا مشاہداتی دورہ، مہمان دانشوروں کے لیکچرز اور فکری پینل پر مبنی مباحثے بھی ہوں گے۔
لنکن کارنرز پاکستان کا تعارف
لنکن کارنرز پاکستان امریکی مشن اور پاکستان کی مقامی جامعات، عوامی کتب خانوں اور ثقافتی اداروں کے درمیان قائم پائیدار اور مضبوط شراکت داری کا مظہر ہیں۔ ملک بھر میں قائم یہ جدید اور معلوماتی مراکز مفت تعلیمی وسائل، انگریزی زبان کی بہتری کے پروگرام اور بین الثقافتی مکالمے کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔
مزید معلومات کے لیے امریکی قونصل خانے کراچی کے شعبہ پبلک ڈپلومیسی سے رابطہ کریں۔