مشرق کی ملکہ کا مٹتا ہوا تمدن: جدید کراچی کی تکوین اور سندھی ہندو دانشوروں کا علمی و صحافتی ورثہ

کراچی

کراچی کی تاریخ دراصل برصغیر کے عظیم ترین تجارتی دماغوں، مدبرین اور دانشوروں کی مشترکہ محنت اور وژن کا مجموعہ ہے۔

جب ہم آثار قدیمہ، لسانیات، ابلاغ عامہ اور شہری آبادیات کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اس شہر کے ماضی کا سراغ لگاتے ہیں، تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ کراچی کو مٹی کے ڈھیر سے اٹھا کر ‘مشرق کی ملکہ’ بنانے میں سندھی ہندو برادری، خصوصاً عامل اور بھائی بند طبقے، کا کردار بنیاد کا پتھر ہے۔

یہ وہ برادری تھی جس نے نہ صرف اس شہر کی معاشی اور بلدیاتی بنیادیں استوار کیں، بلکہ جدید سندھی زبان، اس کے مروجہ رسم الخط، نثری ادب، تاریخ نویسی اور صحافت کو ایک سائنسی قالب میں ڈھال کر اسے جدید ترین علمی شکل دی۔

آج کا کراچی جس تاریخی ورثے اور جن مٹتی ہوئی علمی روایات پر کھڑا ہے، ان کے پیچھے کارفرما فکری تحریک کا آغاز انیسویں صدی کے وسط سے ہوتا ہے۔

بھائی بند اور عامل، تمدنی ارتقا کے دو متوازی دھڑے

سندھ کے ہندو معاشرے کو بنیادی طور پر دو بڑے علمی اور عملی گروہوں میں تقسیم کیا جاتا تھا، جن کا کراچی کی منتقلی اور اس شہر کے تمدنی ارتقا میں الگ الگ مگر متوازی کردار رہا۔

بھائی بند

یہ بنیادی طور پر لوہانہ اور کھتری نژاد تجارتی طبقہ تھا، جس کا مرکز شکارپور، خدا آباد اور حیدرآباد تھا۔ انگریزوں کی آمد سے قبل یہ لوگ اونٹوں کے قافلوں کے ذریعے شاہراہ ریشم، وسطی ایشیا اور روس تک تجارت کرتے تھے۔ برطانوی راج میں جب کراچی کی بندرگاہ کھلی، تو یہ لوگ بڑے پیمانے پر یہاں منتقل ہوئے اور دنیا بھر میں اپنا تجارتی نیٹ ورک قائم کیا۔

عامل

یہ طبقہ انتہائی پڑھا لکھا، مغل اور کلہوڑا دور سے ہی درباروں میں دیوان اور منشی کے عہدوں پر فائز رہنے والا گروہ تھا۔ انگریزوں کے آنے کے بعد انہوں نے مغربی اور انگریزی تعلیم حاصل کی اور کراچی کی عدلیہ، کسٹمز، بلدیہ، صحافت اور انتظامیہ کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو کر شہر کے فکری منظرنامے پر چھا گئے۔

سندھ ورک اور روایتی عالمی بینکاری نظام

انیسویں صدی کے وسط سے لے کر بیسویں صدی کے وسط تک، حیدرآباد اور کراچی کے بھائی بند ہندوؤں نے، جنہیں عالمی منڈیوں میں ‘سندھ ورکی’ کہا جاتا تھا، بغیر کسی حکومتی یا فوجی سرپرستی کے دنیا بھر کے سمندری تجارتی راستوں پر اپنا غلبہ قائم کیا۔

ان کا نیٹ ورک دنیا کے چار براعظموں، جبل الطارق، مالٹا، کینیا، ہانگ کانگ، سنگاپور، کوبے اور پاناما تک پھیل چکا تھا۔ وہ یہاں سے سندھی ریشمی کپڑا، کڑھائی، اجرک اور ہاتھی دانت کا سامان برآمد کرتے تھے اور وہاں کی دولت لا کر کراچی اور حیدرآباد میں لگاتے تھے۔

ان کا بینکاری نظام جدید بینکاری قوانین کے بغیر چلنے والا دنیا کا ایک انتہائی محفوظ نیٹ ورک تھا، جس کی بنیاد ‘ہونڈی’ پر تھی۔

عالمی قبولیت

کراچی اور شکارپور سے جاری ہونے والی کچے کاغذ کی ایک پرچی، ہونڈی، کابل، قندھار، اصفہان اور بخارا کے ہندو صرافوں کے پاس جا کر فوراً نقد رقم میں تبدیل ہو جاتی تھی۔

خفیہ رسم الخط، خدا آبادی یا وانکی

یہ بینکار اپنے مالیاتی ریکارڈ رکھنے کے لیے ایک خاص رسم الخط استعمال کرتے تھے جو صرف ان کی برادری کے لوگ ہی پڑھ سکتے تھے، یوں ان کے بہی کھاتے چوری یا ہیک ہونے سے محفوظ رہتے تھے۔

جدید سندھی رسم الخط اور قواعد کی تشکیل

انیسویں صدی کے وسط میں برطانوی راج کے آغاز پر جب سندھی زبان کو دفتری اور تعلیمی زبان بنانے کا فیصلہ ہوا، تو اس برادری کے ادیبوں نے اسے عربی سندھی حروف تہجی کے قالب میں ڈھالنے سے لے کر اس کے کلاسیکی صوفیانہ مواد کو محفوظ کرنے تک لازوال خدمات انجام دیں۔

عربی سندھی حروف تہجی، 1853

برطانوی افسر سر بارٹل فریر کی سرپرستی میں جب سندھی زبان کے لیے ایک متفقہ رسم الخط بنانے کی کمیٹی بنی، تو اس میں مسلم علمائے کرام کے ساتھ دیوان مٹھارام کلیان داس اور دیگر ہندو عامل دانشوروں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے مل کر موجودہ 52 حروف تہجی پر مشتمل سندھی رسم الخط کو حتمی شکل دی تاکہ اسے سرکاری اسکولوں اور دفاتر میں رائج کیا جا سکے۔

پہلی قواعد کی کتاب اور لغات

بھیرومل لکشمی چند اور جیٹھمل پرسرام جیسے ماہرین لسانیات نے سندھی زبان کی پہلی باقاعدہ قواعد کی کتابیں اور سندھی سے انگریزی لغات مرتب کیں، جس نے کراچی اور حیدرآباد کے تعلیمی نظام کو ایک سائنسی بنیاد فراہم کی۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کی تدوین اور بقا

آثار قدیمہ اور تمدنی تاریخ کے طلبہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر یہ ہندو ادیب نہ ہوتے، تو شاید سندھ کا سب سے بڑا صوفیانہ تمدنی ورثہ، یعنی ‘شاہ جو رسالو’، ہم تک اس سائنسی اور علمی شکل میں نہ پہنچتا۔ سندھ کے ہندوؤں کا مذہبی مزاج برصغیر کے دیگر حصوں سے بالکل مختلف اور صوفیانہ تھا۔ وہ مندروں کے ساتھ ساتھ اپنے گھروں اور ‘ٹکانوں’، یعنی عبادت گاہوں، میں گرو گرنتھ صاحب کا پرکاش کرتے تھے اور صوفی شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام سے گہرا لگاؤ رکھتے تھے۔

ڈاکٹر ہوتچند مولچند گربخشانی

ڈاکٹر گربخشانی برصغیر کے وہ عظیم محقق تھے جنہوں نے پہلی بار سائنسی اور تنقیدی بنیادوں پر ‘شاہ جو رسالو’ کو مرتب کیا۔ انہوں نے شاہ بھٹائی کے کلام سے الحاقی، یعنی جعلی، ابیات کو الگ کیا، مشکل الفاظ کے معنی اور لغت لکھی اور اسے تین ضخیم جلدوں میں شائع کر کے سندھی زبان کو دنیا کے اعلیٰ ترین ادبی معیار کے برابر لا کھڑا کیا۔

دیوان لیلارام وطومل

انہوں نے 1890 کی دہائی میں انگریزی زبان میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کی پہلی مفصل سوانح عمری اور ان کی صوفیانہ شاعری کا فلسفہ لکھ کر وادی سندھ کے اس صوفی کو عالمی سطح پر متعارف کروایا۔

سندھی نثری ادب، ناول اور تاریخ نویسی کے بانی

اگرچہ مرزا قلیچ بیگ کو جدید سندھی نثر کا معمار مانا جاتا ہے، لیکن ان کے شانہ بشانہ سادھو ہیرانند اور پروفیسر بھیرومل مہرچند ایڈوانی نے سندھی نثر کو بلندیوں پر پہنچایا۔

بھیرومل مہرچند ایڈوانی

انہوں نے ‘قدیم سندھ’ اور ‘سندھی جغرافیہ’ جیسی شاہکار کتابیں لکھیں جو آج بھی آثار قدیمہ اور تاریخ کے طلبہ کے لیے بنیادی ماخذ مانی جاتی ہیں۔ انہوں نے وادی سندھ کی تاریخ کو نوآبادیاتی یا متعصبانہ عینک سے دیکھنے کے بجائے خالصتاً سائنسی اور زمینی حقائق کے مطابق تحریر کیا۔

دیوان کوڑومل چندن مل

انہوں نے سندھی زبان میں پہلے سماجی ناول اور ڈرامے لکھے، جن کا مقصد معاشرے میں موجود توہم پرستی کا خاتمہ اور خواتین کی تعلیم کی ترویج تھا۔

امرت لعل اونی

انہوں نے کراچی بندرگاہ کی تاریخ، اونٹوں کے پرانے تجارتی قافلوں اور شاہراہ ریشم سے جڑے شکارپوری تاجروں کی معاشی تاریخ کو قلمبند کیا، جس کے بغیر آج جدید کراچی کی معاشی تاریخ لکھنا ناممکن ہے۔

ابلاغ عامہ کا ارتقا، اولین اخبارات اور صحافت

جب ہم کراچی اور سندھ میں جدید صحافت کی ابتدا کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہاں پریس اور اخبارات کو ایک باقاعدہ صنعت اور عوامی آواز بنانے میں سندھی ہندو دانشوروں اور تاجروں کا کردار انقلابی تھا۔ ان کا مقصد صحافت کو محض خبروں کا ذریعہ بنانا نہیں تھا، بلکہ وہ اسے سماجی اصلاح، صوفیانہ ہم آہنگی اور برطانوی حکومت کے خلاف آزادی کی تحریک کا ہتھیار مانتے تھے۔

سادھو ہیرانند اور ‘سرسوتی’، 1890

سادھو ہیرانند شوقی برصغیر کے ان اولین صحافیوں میں سے تھے جنہوں نے کراچی اور حیدرآباد سے ‘سرسوتی’ نامی ایک ماہنامہ جاری کیا۔ یہ رسالہ سندھی نثر، تاریخ اور سائنس کی ترویج کا ایک اہم ذریعہ بنا اور اس نے سندھ کے نوجوانوں میں لکھنے پڑھنے کا ذوق پیدا کیا۔

دیوان لیلارام وطومل اور ‘سندھ ٹائمز

یہ کراچی کے اولین انگریزی اخبارات میں سے ایک تھا، جس کے مدیر لیلارام وطومل تھے۔ اس اخبار نے کراچی بندرگاہ کے کسٹمز قوانین، بلدیاتی مسائل اور عام شہریوں کے حقوق کے حوالے سے برطانوی انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

دیوان پرسرام وشنداس اور ‘روزنامہ سنسار سماچار

یہ تقسیم سے قبل کراچی کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والا سندھی زبان کا روزنامہ تھا، جس کا جدید پرنٹنگ پریس کراچی کے قدیم شہری علاقے میں قائم تھا۔ یہ اخبار عالمی خبروں کے ساتھ ساتھ کراچی میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی اور عدالتی فیصلوں کو بھی تفصیل سے شائع کرتا تھا۔ اس اخبار کا معیار صحافت اتنا بلند تھا کہ اس کے اداریوں کا جواب خود انگریز کمشنر سندھ کو دینا پڑتا تھا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1947 کی ہجرت کے بعد جب یہ صحافی اور ادیب ممبئی اور بھارت کے دیگر شہروں میں منتقل ہوئے، تو انہوں نے وہاں اپنی مادری زبان اور صحافت کو زندہ رکھنے کے لیے جن اخبارات کا دوبارہ آغاز کیا یا نئے پرچے جاری کیے، ان میں سے ایک اخبار کا نام انہوں نے ‘سندھ سماچار’ رکھا۔

صحافت کا صوفیانہ اور انقلابی رخ

جیٹھمل پرسرام گلراجانی نوآبادیاتی کراچی کی صحافت کے سب سے نڈر اور معتبر ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

انہوں نے کراچی سے ‘سندھ واسی’ اور ‘ہندواسی’ کے نام سے اخبارات جاری کیے۔ ان اخبارات کی خاصیت یہ تھی کہ یہ صوفی شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست کے کلام کے ذریعے ہندو مسلم اتحاد اور تھیوسوفی کی ترویج کرتے تھے تاکہ کراچی کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو صوفیانہ ہم آہنگی کے ایک مرکز پر اکٹھا رکھا جا سکے۔

آزادی صحافت کے لیے جیل کا سفر

1919  میں جب برطانوی حکومت نے رولٹ ایکٹ نافذ کیا، تو جیٹھمل پرسرام نے اپنے اداریوں میں انگریز حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جس کی پاداش میں انہیں گرفتار کر کے قید کی سزا دی گئی، لیکن انہوں نے اپنے اخبار کا سر نہیں جھکایا۔

تجارتی صحافت اور پریس کلبوں کی ابتدائی شکلیں

سندھ چونکہ 1936 تک بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ تھا، اس لیے کراچی کے سندھ ورکی تاجروں نے بمبئی کے بڑے اخبارات میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی تھی تاکہ کراچی بندرگاہ کی تجارتی خبریں عالمی سطح پر شائع ہو سکیں۔

کراچی کے جوڑیا بازار اور کھارادر سے ہندو تاجروں نے خصوصی ‘تجارتی خبرناموں’ کا آغاز کیا۔ ان ہفتہ وار پرچوں میں کراچی بندرگاہ پر آنے والے جہازوں، روئی، اناج اور چمڑے کی قیمتیں شائع ہوتی تھیں، جو برصغیر میں معاشی اور تجارتی صحافت کی اولین شکل تھی۔

موجودہ کراچی پریس کلب، جو 1958 میں قائم ہوا، سے بہت پہلے نوآبادیاتی دور میں سندھی ہندو صحافیوں اور پارسی و مسلم دانشوروں نے مل کر شہر میں پریس کلب کی ابتدائی شکلیں اور صحافتی انجمنیں قائم کر دی تھیں۔

سندھ جرنلسٹس ایسوسی ایشن’، 1920 کی دہائی

جیٹھمل پرسرام، لیلارام وطومل اور سادھو ہیرانند کی کوششوں سے ایم اے جناح روڈ، سابقہ بندر روڈ، اور سولجر بازار کے سنگم پر اس انجمن کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ موجودہ پریس کلبوں کی ابتدائی شکل تھی، جہاں ایک بڑا ہال، اخبارات کی لائبریری اور ٹائپ رائٹر موجود ہوتے تھے۔ یہاں ہندو، مسلم اور پارسی صحافی مل کر بیٹھتے، چائے نوشی کرتے اور کلفٹن یا کراچی بندرگاہ سے آنے والی سیاسی اور تجارتی خبروں پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔

ینگ مینز ہندو ایسوسی ایشن’ کا صحافتی ہال

بندر روڈ پر واقع اس تاریخی عمارت کا نقشہ اور مالی معاونت سندھ ورکی تاجروں نے فراہم کی تھی، جو نوآبادیاتی کراچی میں پریس کلب کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ جب بھی بمبئی، دہلی یا یورپ سے کوئی بڑا سیاسی رہنما یا بحری تاجر کراچی بندرگاہ پر اترتا، تو اس کی پہلی پریس کانفرنس اسی عمارت کے ہال میں منعقد کی جاتی تھی۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کسٹمز پریس گیلری

سیٹھ ہرچند رائے وشنداس اور دیوان ٹھاکر داس کی بلدیاتی کوششوں سے کراچی بندرگاہ کے قریب ایک مستقل پریس گیلری اور میڈیا روم قائم کیا گیا تھا، جہاں دنیا بھر سے آنے والے بحری جہازوں کے کپتانوں اور درآمدات و برآمدات کے اعداد و شمار پر روزانہ صحافیوں کو بریفنگ دی جاتی تھی۔ اسے اس دور کی معاشی صحافت کا پریس کلب سمجھا جاتا تھا۔

بلدیہ اور عدلیہ کے معمار اور رہائشی بستیاں

ان متمول تاجروں اور پڑھے لکھے افسر شاہی طبقے نے اپنی رہائش کے لیے جو محلے منتخب کیے، وہ اپنے طرز تعمیر اور شہری منصوبہ بندی کے لحاظ سے اس دور کے جدید ترین علاقے تھے، جیسے قدیم شہری علاقہ، جونا مارکیٹ، کھوڑی گارڈن، عامل کالونی، سولجر بازار، جمشید کوارٹرز اور آرام باغ۔

دیارام گدو مل

یہ نوآبادیاتی سندھ کی عدالتی تاریخ کے معتبر ترین ججوں اور جوڈیشل کمشنروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے دیوان دیارام جیٹھمل کے خاندان کو آمادہ کر کے کراچی کا پہلا تاریخی سائنس کالج 1887 میں قائم کروایا۔

سیٹھ ہرچند رائے وشنداس

بحیثیت صدر بلدیہ 1911 سے 1921 تک انہوں نے کراچی کا نقشہ بدل دیا۔ انہوں نے بندر روڈ کو روزانہ پانی سے دھونے کا نظام شروع کروایا تاکہ شہر طاعون سے محفوظ رہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کراچی میونسپل کارپوریشن کی کئی عمارتیں ان کے وژن کا نتیجہ تھیں۔ گارڈن ایسٹ میں واقع ان کا تاریخی بنگلہ اس دور میں آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کے رہنماؤں کی نشست گاہ تھا، جہاں قائد اعظم محمد علی جناح بھی تشریف لائے۔

1941 کی مردم شماری اور ہجرت کا المیہ، 1947 تا 1948

برطانوی ہند کی آخری باقاعدہ مردم شماری 1941 کے مطابق کراچی کی کل آبادی 386,655 تھی، جس کا آبادیاتی ڈھانچہ درج ذیل تھا۔

سندھی اور گجراتی ہندو: 51.1 فیصد، شہر کی واضح اکثریت

مسلمان، کچھی سندھی، بلوچ، میمن، بوہرہ اور خوجہ: 42.3 فیصد

لسانی تناسب کے مطابق شہر کی 61.2 فیصد آبادی کی مادری زبان سندھی تھی، جبکہ اردو بولنے والوں کا تناسب محض 6.3 فیصد تھا۔ سندھی ہندو ایک انتہائی شہری برادری تھی، اسی وجہ سے حیدرآباد میں 72 فیصد اور سکھر میں 70 فیصد آبادی ہندوؤں پر مشتمل تھی۔

اگست 1947 کے بعد اور خصوصاً جنوری 1948 کے فسادات کے نتیجے میں کراچی کی تقریباً نصف آبادی، یعنی ہندو برادری، چند ماہ کے اندر بادل نخواستہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر بھارت روانہ ہو گئی۔ اس عظیم ہجرت نے کراچی کو یکدم درج ذیل گہرے اور ناقابل تلافی زخم دیے۔

مالیاتی اور عدالتی تعطل

بندرگاہ کی تجارتی مالیاتی سرگرمیاں، ہونڈی کا نظام اور چیف کورٹ آف سندھ کا عدالتی نظام ججوں اور بینک کے عملے کے چلے جانے سے مفلوج ہو گیا۔

لسانی اور تمدنی تبدیلی

1951 کی مردم شماری تک کراچی کی آبادی 11 لاکھ ہو گئی۔ مسلم آبادی 96 فیصد ہو گئی اور ہندو آبادی سمٹ کر محض ایک فیصد رہ گئی۔ کراچی راتوں رات ایک سندھی اکثریتی شہر سے اردو اکثریتی شہر بن گیا، جس سے شہر کا قدیم صوفیانہ اور کثیر الثقافتی مزاج یکسر بدل گیا۔

تعلیمی اور اسکولی نظام کا بحران

سندھی میڈیم اسکولوں کے 80 فیصد سے زائد اساتذہ اور ہیڈ ماسٹر عامل ہندو تھے، جن کے چلے جانے سے تعلیم مہینوں تک متاثر رہی۔ حکومت پاکستان نے ہنگامی بنیادوں پر ان خالی شدہ اسکولوں، کالجوں اور ہاسٹلوں، جیسے مٹھارام ہاسٹل، کو مہاجر کیمپوں میں تبدیل کر دیا، جس سے ان کی تاریخی لائبریریاں اور سائنسی تجربہ گاہوں کا سامان ضائع ہو گیا۔

بعد ازاں وفاقی دارالحکومت بننے کے بعد تعلیمی پالیسی کے تحت درجنوں پرانے سندھی اسکولوں کو اردو میڈیم میں تبدیل کر دیا گیا، جس سے شہر کا تعلیمی ڈھانچہ اپنی قدیم سندھی شناخت کھو بیٹھا۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ 1948 کے اوائل میں جب یہ تمام تجربہ کار ہندو مدیر، مالکان، تاریخ دان اور بلدیاتی معمار یکدم کراچی چھوڑ کر بھارت منتقل ہوئے، تو ان کے بنائے ہوئے صحافتی ہال، پرنٹنگ پریس اور تعلیمی ادارے ویران ہو گئے۔

ممبئی اور پونا منتقل ہونے کے بعد بھی ان دانشوروں نے اپنی مادری زبان کا رشتہ زندہ رکھا اور بھارت کے آئین کے آٹھویں شیڈول میں سندھی زبان کو شامل کروانے کے لیے طویل قانونی اور سیاسی جدوجہد کی، جس میں وہ کامیاب ہوئے۔

اگرچہ ان کے جانے کے بعد کراچی ایک گنجان عظیم شہر میں تبدیل ہو گیا اور اس کی جگہ جدید اخبارات اور نئے تمدن نے لے لی، لیکن ان کے قائم کردہ تعلیمی ادارے، ہسپتال اور پیلے پتھر سے تعمیر شدہ تاریخی عمارتیں آج بھی کراچی کے چپے چپے پر ان کے عظیم وژن، صوفیانہ ہم آہنگی اور لازوال خدمات کی خاموش گواہی دے رہی ہیں۔

تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرا ماننا ہے کہ 4500 قبل مسیح میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث وادی سندھ کے مکینوں کی مرحلہ وار ہجرت کے بعد 1947 اور 1948 میں سندھ کے ان فرزندان زمین کی اچانک ہجرت نے بھی سندھ کو ایک بہت بڑا نقصان پہنچایا۔

اسی بارے میں: