Tag: تاریخ

  • تاریخ کا جیو اکنامک تسلسل: وادیٔ سندھ کے قدیم تجارتی نیٹ ورک سے دورِ جدید کی چین پاکستان اقتصادی راہداری تک

    تاریخ کا جیو اکنامک تسلسل: وادیٔ سندھ کے قدیم تجارتی نیٹ ورک سے دورِ جدید کی چین پاکستان اقتصادی راہداری تک

    دنیا کا طبعی ڈھانچہ، پہاڑی سلسلے، دریاؤں کی گزرگاہیں اور ساحلی گہرائیاں انسان کے معاشی رویوں کی حدود متعین کرتے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ چند تزویراتی خطے قدرت نے ایسے تخلیق کیے ہیں جو ہر دور میں عالمی معیشت اور شاہراہِ ریشم کی بنیادی شریان بنے رہتے ہیں۔

    آج اکیسویں صدی میں جب ہم چین پاکستان اقتصادی راہداری کو خطے کا ایک انقلابی اور جدید ترین معاشی منصوبہ قرار دیتے ہیں تو دراصل ہم اسی جیو اکنامک تسلسل کا احیا کر رہے ہوتے ہیں جس کی بنیاد آج سے ساڑھے چار ہزار سال قبل کانسی کے دور میں وادیٔ سندھ کی تہذیب کے معماروں نے رکھی تھی۔

    ایک آثارِ قدیمہ کے طالب علم اور جدید مقداری تجارت کے طالب علم کے لیے وادیٔ سندھ کی معیشت کوئی گمنام، غیر منظم یا محض دیہاتی تبادلے کا نام نہیں تھی، بلکہ وہ ایک اعلیٰ درجے کے بارٹر نظام کے تحت ابتدائی تجارت اور طلب و رسد کی بنیاد پر قائم بین الاقوامی نیٹ ورک تھا، جس کے اندر اشیا کی قیمتوں کا تعین، معیاری ناپ تول اور خطرات کے انتظام جیسے عناصر شامل تھے۔

    شمالی نیٹ ورک اور خام مال کی ترسیل

    وادیٔ سندھ کا قدیم ماڈل: شور توغئی کی نوآبادی اور سپلائی چین

    ڈھائی ہزار قبل مسیح میں وادیٔ سندھ کے تاجروں نے شمالی افغانستان کے صوبہ تخار میں دریائے آمو کے قریب شور توغئی نامی ایک مکمل شہری نوآبادی قائم کی تھی۔ آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں، بالخصوص فرانسیسی ماہرِ آثارِ قدیمہ ہنری پال فرانکورٹ کی تحقیقات، سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شور توغئی کا طرزِ تعمیر، مٹی کے برتن اور مہریں موہن جو دڑو اور ہڑپہ سے مماثلت رکھتے تھے۔

    وادیٔ سندھ کے تاجروں نے شمال میں یہ دور دراز تجارتی چوکی اس لیے قائم کی تھی تاکہ بدخشاں کی کانوں سے حاصل ہونے والے گہرے نیلے رنگ کے قیمتی پتھر لاجورد، پامیر اور ہندوکش کے پہاڑوں سے حاصل ہونے والے تانبے اور بدخشاں کے دریاؤں سے نکلنے والے سونے کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

    یہ خام مال سوات، گومل اور درۂ خیبر کے پہاڑی دروں سے ہوتا ہوا رحمان ڈھیری اور موجودہ سندھ و پنجاب کے میدانی علاقوں میں واقع تجارتی مراکز تک منتقل کیا جاتا تھا۔

    جدید سی پیک ماڈل: کاشغر، خنجراب اور شمالی راہداری

    آج چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت چین کے صوبے سنکیانگ کے شہر کاشغر کو خنجراب پاس اور شاہراہِ قراقرم کے ذریعے پاکستان کے شمالی علاقوں سے جوڑا گیا ہے۔

    اس جدید راستے کی منطق بھی بڑی حد تک وہی ہے جو شور توغئی کے وادیٔ سندھ کے تاجروں کی تھی، یعنی وسطی ایشیا اور چین کے وسائل، معدنیات اور تیار شدہ مصنوعات کو زمینی فاصلہ کم سے کم کرتے ہوئے بحرِ ہند کے گرم پانیوں تک پہنچانا۔

    جس طرح ماضی میں لاجورد اور تانبا شمالی دروں سے اتر کر ہڑپہ اور موہن جو دڑو کی ورکشاپس تک پہنچتا تھا، اسی طرح آج چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کا خام مال اور صنعتی سامان خنجراب کے راستے گلگت بلتستان سے ہوتا ہوا پاکستان کے صنعتی زونز تک منتقل ہو سکتا ہے۔

    دریائے سندھ کی گزرگاہ: معیشت کی آبی و زمینی شاہراہ

    قدیم دور: متوازی بحری نقل و حمل اور مہروں کا نظام

    ہڑپہ، موہن جو دڑو اور چھنہو دڑو جیسے اہم شہر دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں، یعنی جہلم، چناب، راوی، ستلج اور اب خشک ہو جانے والے سرسوتی یا ہاکڑہ کے قریب واقع تھے۔

    شمال سے دریائے سندھ کا بہاؤ انڈس ڈیلٹا کی طرف جاتا تھا اور ماضی میں یہ ایک قدرتی اور نسبتاً کم لاگت والا آبی راستہ تھا، جس پر لکڑی کی بڑی چپو والی کشتیوں کے ذریعے وزنی سامان، مثلاً پتھر، اینٹیں اور لکڑی، منتقل کیا جاتا تھا۔

    واضح رہے کہ انگریزوں کی آمد اور بیسویں صدی میں بیراجوں کی تعمیر سے قبل دریائے سندھ پر یہ بحری تجارت اٹھارویں اور انیسویں صدی تک مختلف صورتوں میں جاری رہی۔

    آثارِ قدیمہ میں ملنے والے مکعب نما پتھر کے باٹ، جو ایک، دو، چار، آٹھ، سولہ، بتیس اور چونسٹھ کی باقاعدہ ترتیب پر مبنی تھے، اور صابونی پتھر کی مہریں اس بات کی شہادت فراہم کرتی ہیں کہ ان تجارتی راستوں پر منتقل ہونے والے سامان کے وزن، ملکیت اور تجارتی شناخت کے لیے باقاعدہ نظام موجود تھا۔

    جدید سی پیک الائنمنٹ: قومی شاہراہ اور موٹر ویز

    اگر ہم چین پاکستان اقتصادی راہداری کی مغربی، وسطی اور مشرقی راہداریوں کا نقشہ دیکھیں تو متعدد اہم شاہراہیں، قومی شاہراہ اور موٹر ویز دریائے سندھ کے تقریباً متوازی چلتی ہیں اور وادیٔ سندھ کے قدیم و تاریخی شہروں کے قریب سے گزرتی ہیں۔

    جو کام ساڑھے چار ہزار سال قبل دریائے سندھ کا بہاؤ اور اس کے ساتھ چلنے والے کاروانی راستے کرتے تھے، آج بڑی حد تک قومی شاہراہ اور جدید موٹر ویز وہی معاشی رابطہ فراہم کر رہی ہیں۔

    یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ انسان نے صدیوں کی تکنیکی پیش رفت کے باوجود اکثر وہی راستے اختیار کیے جو قدرتی جغرافیہ اور زمینی ساخت نے پہلے سے متعین کر رکھے تھے۔

    ڈیلٹائی و مکران ساحلی بندرگاہوں کی تزویراتی ساخت

    کراچی اور بالاکوٹ، سونمیانی

    آج کے پاکستان کا معاشی مرکز کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم، دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے انہی وسیع ساحلی خطوں میں واقع ہیں جہاں ماضی میں بھی وادیٔ سندھ کے لوگوں کی قدیم بندرگاہیں اور تجارتی مراکز قائم تھے۔

    ڈیلٹائی علاقے کے قریب بالاکوٹ، جسے کوٹ بالا بھی کہا جاتا ہے، وندر ندی اور سونمیانی خلیج کے نزدیک واقع کانسی کے دور کی ایک اہم ساحلی بستی تھی۔

    آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں سے یہ شواہد ملے ہیں کہ بالاکوٹ سے وادیٔ سندھ کے تاجر کپاس، کپڑے، سیپیاں اور مٹی کے ظروف سمندری راستے سے خلیجِ فارس کی منڈیوں تک لے جاتے تھے۔

    آج بھی پاکستان کا بیشتر برآمدی اور ٹیکسٹائل سامان کراچی کی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

    گوادر اور ستکاجن دڑو

    گوادر کی تزویراتی اہمیت یہ ہے کہ یہ خلیجِ عمان کے دہانے، آبنائے ہرمز کے قریب اور مکران کے ساحل پر واقع ہے۔

    تقریباً ڈھائی ہزار قبل مسیح میں وادیٔ سندھ کے جغرافیہ دانوں اور بحری تاجروں نے بھی اس ساحلی خطے کی اہمیت کو سمجھ لیا تھا۔ انہوں نے پاک ایران سرحد کے قریب دشت ندی کے کنارے ستکاجن دڑو اور پسنی کے قریب ستکا کوہ میں اپنی اہم ساحلی تجارتی چوکیوں کو قائم کیا تھا۔

    سر آئورل اسٹین اور جارج ایف ڈیلز کی آثارِ قدیمہ کی تحقیقات کے مطابق ستکاجن دڑو محض ایک عام بستی نہیں تھا بلکہ پتھر کی دیواروں سے گھرا ہوا ایک اہم ساحلی تجارتی مرکز تھا۔

    اس کا مقصد میسوپوٹیمیا اور عمان سے آنے والے بحری جہازوں کو رسد اور دیگر سہولیات فراہم کرنا اور خلیج سے وادیٔ سندھ میں داخل ہونے والے بحری راستوں سے تجارتی روابط قائم رکھنا تھا۔

    جو تزویراتی اور اہم گزرگاہ کی حیثیت ساڑھے چار ہزار سال قبل ستکاجن دڑو کو حاصل تھی، وہی جغرافیائی اہمیت آج گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ کو حاصل ہونے کی دلیل دی جاتی ہے۔

    بین الاقوامی تجارتی شراکت دار اور سرحد پار تجارت کا ڈھانچہ

    میلوہا اور خلیجی منڈیاں

    ساڑھے چار ہزار سال کا عرصہ گزر جانے اور جدید مالیاتی منڈیوں اور الگورتھمک تجارت کے وجود میں آنے کے باوجود، اس تجارتی راہداری کے بعض بنیادی جغرافیائی شراکت دار اور آخری منازل بڑی حد تک تبدیل نہیں ہوئیں۔

    اکادین اور میسوپوٹیمیائی تحریروں میں وادیٔ سندھ کے لیے میلوہا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

    میلوہا کے تاجر اپنے لکڑی کے جہازوں میں عاج، سوتی کپڑا، نایاب لکڑی، عقیق کے منکے اور تانبا لے کر دلمون، یعنی موجودہ بحرین، ماگن، یعنی عمان، اور میسوپوٹیمیا کی منڈیوں تک جاتے تھے، اور وہاں سے چاندی، تارکول اور دیگر اشیا لے کر واپس آتے تھے۔

    جدید خلیجی تعامل

    آج بھی چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے آنے والا سامان گوادر اور کراچی سے بحری جہازوں پر لاد کر دبئی، عمان، دمام اور دیگر خلیجی منڈیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان اپنی قومی معیشت اور صنعتی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خلیجی خطے سے خام تیل، مائع قدرتی گیس اور دیگر توانائی کے وسائل درآمد کرتا ہے۔

    یہ تقابل ظاہر کرتا ہے کہ اشیا کی نوعیت تو بدل گئی ہے، روئی اور دستکاری کی اشیا کی جگہ صنعتی مصنوعات، برقی آلات اور توانائی کے وسائل نے لے لی ہے، لیکن تجارتی راستوں، سپلائی چین کے بنیادی ڈھانچے اور جغرافیائی شراکت داری میں کئی تسلسل آج بھی نظر آتے ہیں۔

    سائنسی و معاشی نچوڑ، تاریخی سبق اور مستقبل کی حکمتِ عملی

    چین پاکستان اقتصادی راہداری کو محض ایک مصنوعی، عارضی یا کاغذی جیوپولیٹیکل راستہ سمجھنے کے بجائے اس خطے کے طویل جغرافیائی اور معاشی ارتقا کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مفید ہے۔

    ساڑھے چار ہزار سال قبل وادیٔ سندھ کے ملاحوں، تاجروں اور مقامی انتظامیہ نے ایسے بنیادی اصول اختیار کیے جنہوں نے دور دراز علاقوں کے ساتھ تجارت کو ممکن بنایا۔

    معیار اور انضباط

    وادیٔ سندھ کے مختلف شہروں میں اینٹوں کے سائز سے لے کر باٹ اور اوزان تک ایک منظم اور بڑی حد تک یکساں نظام کے شواہد ملتے ہیں۔

    سیاسی اور پالیسی استحکام

    تجارتی اور پیداواری سرگرمیوں کے لیے نسبتاً مستحکم ماحول، ہنرمندی اور دستکاری کی تخصص نے اس معاشی نظام کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

    لاجسٹکس کی رفتار

    دریاؤں، زمینی راستوں اور ساحلی تجارتی مراکز کے استعمال نے اشیا کی نقل و حرکت کو ممکن بنایا اور مختلف علاقوں کو ایک دوسرے سے جوڑا۔

    آج پاکستان کو اگر اکیسویں صدی میں چین پاکستان اقتصادی راہداری اور اپنے ساحلی اثاثوں، خصوصاً کراچی اور گوادر، سے حقیقی معاشی خودمختاری اور پائیدار ترقی حاصل کرنی ہے تو اسے محض قرضوں اور امداد پر تکیہ کرنے کے بجائے وادیٔ سندھ کی تجارتی روایت سے چند بنیادی اصول سیکھنے ہوں گے۔

    شفافیت، فیصلہ سازی کی رفتار، معیار، قابلِ اعتماد انفراسٹرکچر اور تجارتی تسلسل وہ عوامل ہیں جو کسی بھی جغرافیائی راستے کو حقیقی معاشی طاقت میں تبدیل کرتے ہیں۔

    تاریخ کا یہ جیو اکنامک تسلسل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جو قومیں اپنے جغرافیے کی تزویراتی حیثیت کو سمجھ کر اسے معاشی اور تجارتی طاقت میں تبدیل کر لیتی ہیں، وہ عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے نقشے پر زیادہ مضبوط مقام حاصل کر سکتی ہیں۔

    نوٹ: اسی تناظر میں اگلی قسط میں ہم وادیٔ سندھ کی قدیم تجارتی بندرگاہوں، خصوصاً بالاکوٹ، پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔

  • عوام پر نفسیاتی اور معاشی جنگ کیسے مسلط کی جاتی ہے؟

    عوام پر نفسیاتی اور معاشی جنگ کیسے مسلط کی جاتی ہے؟

    دنیا کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ حکمران طبقات نے اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے صرف طاقت، قانون اور ریاستی اداروں کا سہارا نہیں لیا، بلکہ عوام کو مختلف ادوار میں سیاسی، مذہبی، نسلی، لسانی، قومی، معاشی اور نفسیاتی کشمکش میں بھی الجھائے رکھا ہے۔

    جب کسی معاشرے کے محنت کش، متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لوگ اپنے بنیادی حقوق، روزگار، تعلیم، صحت، عزت اور بہتر زندگی کے لیے متحد ہونے لگیں تو انہیں تقسیم کرنے کے لیے کبھی مذہب کا سہارا لیا جاتا ہے، کبھی زبان و قومیت کا، کبھی سیاسی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل کیا جاتا ہے اور کبھی معاشی حالات اس قدر مشکل بنا دیے جاتے ہیں کہ انسان اجتماعی جدوجہد کے بجائے صرف اپنے گھر کا چولہا جلانے کی فکر میں مبتلا ہو جائے۔

    آج پاکستان میں عام آدمی کو درپیش صورتحال کو صرف مہنگائی کا مسئلہ سمجھنا شاید کافی نہیں۔ بڑھتی ہوئی قیمتیں، روزگار کے محدود مواقع، بجلی اور گیس کے بھاری بل، علاج اور تعلیم کے اخراجات، ٹرانسپورٹ کے کرائے اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مل کر ایک ایسی معاشی کیفیت پیدا کر رہی ہیں جس کے اثرات انسان کی ذہنی اور سماجی زندگی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

    تازہ مثال پٹرول کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 12 روپے 90 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 72 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 358 روپے 77 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 381 روپے 77 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتیں 8 ستمبر سے نافذالعمل ہیں۔

    بظاہر یہ چند روپے کا اضافہ ہے، مگر اس کے اثرات صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتے۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو موٹر سائیکل، رکشہ، کار، بس اور ٹرک کا سفر مہنگا ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے تو سبزی، پھل، دودھ، آٹا، دال، گوشت اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی ہیں۔ فیکٹری سے مارکیٹ اور مارکیٹ سے گھر تک ہر چیز کی نقل و حمل کا خرچ عام آدمی کی جیب سے وصول کیا جاتا ہے۔

    ایک مزدور جو روزانہ موٹر سائیکل پر کام پر جاتا ہے، اس کے لیے پٹرول کا ہر اضافہ اس کی اجرت میں عملی کمی کے برابر ہے۔ تنخواہ وہی، مگر سفر کا خرچ زیادہ۔ دکاندار کے اخراجات زیادہ، صارف کی قوتِ خرید کم۔ یوں معاشی دباؤ کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کا سب سے بڑا بوجھ محنت کش طبقہ برداشت کرتا ہے۔

    اس صورتحال کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے جس پر ہمارے ہاں کم بات ہوتی ہے۔ جب ایک شخص صبح گھر سے نکلتے ہوئے یہ سوچے کہ آج کا پٹرول، بچوں کی فیس، بجلی کا بل، راشن اور دوا کیسے پوری ہوگی تو اس کے ذہن میں اجتماعی مسائل کے بجائے ذاتی بقا کا سوال سب سے بڑا بن جاتا ہے۔ وہ سیاسی جلسے میں جانے، احتجاج میں شرکت کرنے، کسی اجتماعی تحریک کا حصہ بننے یا اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے بجائے اضافی مزدوری تلاش کرنا زیادہ ضروری سمجھتا ہے۔

    یہی وہ مقام ہے جہاں معاشی دباؤ ایک نفسیاتی اثر پیدا کرتا ہے۔

    اگر ایک متوسط طبقے کے شہری کے پاس اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوانے کے لیے پیسے نہ ہوں، اگر رکشے یا بس کا کرایہ برداشت کرنا مشکل ہو جائے تو وہ شہر کے کسی احتجاج، جلسے یا عوامی اجتماع میں کیسے پہنچے گا؟ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شہری اپنے گھر تک محدود ہو جاتا ہے۔ اس کی سیاسی سرگرمی موبائل فون کی اسکرین تک محدود رہ جاتی ہے اور عملی اجتماعی مزاحمت کمزور پڑتی جاتی ہے۔

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں عوامی تحریکوں نے ہمیشہ اسی وقت قوت حاصل کی جب معاشی مشکلات نے عوام کو ایک دوسرے کے قریب کیا اور سیاسی شعور نے انہیں مشترکہ مطالبات کے گرد متحد کیا۔ مزدور تحریکیں، کسان تحریکیں، طلبہ تحریکیں اور جمہوری جدوجہدیں اس بات کی مثال ہیں کہ جب عوام اپنے مسائل کو انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی مسئلہ سمجھتے ہیں تو حکمرانوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔

    لیکن آج کا مسئلہ یہ ہے کہ عوام کو ایک مشترکہ معاشی مسئلے پر متحد ہونے کے بجائے مختلف سیاسی، لسانی، مذہبی اور گروہی بحثوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ ایک غریب دوسرے غریب سے لڑ رہا ہے، متوسط طبقہ اپنے سے کمزور طبقے کو مسئلے کی جڑ سمجھ رہا ہے، سیاسی کارکن ایک دوسرے کو دشمن تصور کر رہے ہیں، جبکہ اصل معاشی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

    یہ صورتحال کسی ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں۔ ریاستی و سیاسی نظام میں آنے والی مختلف حکومتوں نے اپنے اپنے ادوار میں عوام کو مختلف نعروں کے ذریعے متحرک بھی کیا اور تقسیم بھی۔ کبھی روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ سامنے آیا، کبھی اسلامی نظام، کبھی جمہوریت، کبھی ترقی، کبھی تبدیلی اور کبھی قومی سلامتی۔ عوام نے ہر دور میں امیدیں وابستہ کیں، مگر بنیادی معاشی مسائل بڑی حد تک اپنی جگہ موجود رہے۔

    قانون اور ریاست کا بنیادی مقصد شہری کو تحفظ، انصاف اور مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔ لیکن جب عام شہری کو یہ محسوس ہونے لگے کہ قانون طاقتور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ ہے، روزگار میرٹ کے بجائے تعلقات سے ملتا ہے، تعلیم اور صحت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔ یہی عدم اعتماد معاشرتی بے چینی کو جنم دیتا ہے۔

    سندھ کا عام آدمی اس بحران کو روزانہ اپنی زندگی میں محسوس کر رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں کسان پانی، مہنگی کھاد، بجلی اور پیداوار کی قیمت کے مسائل سے دوچار ہے۔ شہری علاقوں میں مزدور روزگار، کرایوں، بجلی، پانی، تعلیم اور علاج کے اخراجات کے درمیان پستا ہے۔

    کراچی جیسے شہر میں ایک طرف صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں ہیں تو دوسری طرف ٹرانسپورٹ، پانی، بجلی، کچرے اور بنیادی شہری سہولیات کے مسائل بھی موجود ہیں۔

    معاشی دباؤ صرف جیب خالی نہیں کرتا، یہ انسان کے رویے بھی تبدیل کرتا ہے۔ گھر میں آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہوں تو شوہر اور بیوی میں اختلاف بڑھ سکتا ہے، والدین بچوں کی ضروریات پوری نہ ہونے پر ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں، نوجوان مستقبل سے مایوس ہو سکتے ہیں اور بعض افراد قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ یوں مہنگائی ایک معاشی مسئلے سے بڑھ کر سماجی اور نفسیاتی بحران بن جاتی ہے۔

    سب سے خطرناک صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب عوام مسلسل مشکلات کو اپنی قسمت سمجھنے لگیں۔

    اگر ایک معاشرہ یہ سوچ لے کہ ‘کچھ نہیں بدل سکتا’، ‘سب ایک جیسے ہیں’، ‘آواز اٹھانے سے کیا ہوگا؟’ تو یہی سوچ حکمران طبقے کے لیے سب سے بڑی کامیابی بن جاتی ہے، کیونکہ حکمرانی صرف طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ عوام کے اندر بے بسی کا احساس پیدا کرکے بھی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

    یہاں میڈیا اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہے۔ عوام کو صرف ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کے بجائے انہیں ان کے حقیقی معاشی اور سماجی مسائل سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا عوامی طاقت کو تقسیم کرتا ہے۔

    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مزدور، کسان، طلبہ، تاجر، صحافی، وکلا، اساتذہ اور متوسط طبقہ اپنے اپنے مسائل کو ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھیں۔ پٹرول کی قیمت صرف موٹر سائیکل چلانے والے کا مسئلہ نہیں؛ یہ کسان، مزدور، دکاندار، طالب علم، مریض، مسافر اور ہر شہری کا مسئلہ ہے۔

    عوامی مزاحمت کا مطلب صرف سڑکوں پر نکلنا نہیں۔ آئینی اور قانونی دائرے میں پرامن احتجاج، اجتماعی آواز، شہری تنظیم سازی، ووٹ کا شعوری استعمال، مقامی مسائل پر مسلسل سوال اٹھانا، آزاد صحافت کی حمایت اور منتخب نمائندوں سے جواب طلبی بھی جمہوری مزاحمت کی شکلیں ہیں۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ پٹرول آج 358 روپے 77 پیسے فی لیٹر ہوگیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک عام آدمی کی آمدنی اس رفتار سے کیوں نہیں بڑھ رہی جس رفتار سے اس کے اخراجات بڑھ رہے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ مہنگائی کا بوجھ ہمیشہ کمزور طبقے ہی کے کندھوں پر کیوں پڑتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات دینے کے بجائے انہیں ہر بحران کے بعد مزید قربانی دینے کے لیے کیوں کہا جاتا ہے؟

    جب تک یہ سوال اجتماعی سوال نہیں بنیں گے، ہر شخص اپنے اپنے گھر میں بیٹھ کر اپنے مسئلے کا حل تلاش کرتا رہے گا۔ اور جب عوام اپنے اجتماعی مسائل کو انفرادی قسمت سمجھنے لگیں تو حکمرانوں کے لیے سب سے مشکل کام بھی آسان ہو جاتا ہے۔

    اس لیے آج سب سے بڑی ضرورت صرف مہنگائی کے خلاف آواز اٹھانا نہیں بلکہ عوام کو معاشی، سیاسی اور نفسیاتی بے بسی سے نکالنا ہے۔ کیونکہ بھوکا انسان پہلے روٹی تلاش کرتا ہے، پریشان انسان پہلے اپنے گھر کو بچاتا ہے اور خوف زدہ انسان پہلے خاموشی اختیار کرتا ہے۔

    مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب یہی خاموش لوگ اپنے دکھ کو مشترکہ دکھ اور اپنے مسائل کو مشترکہ مسئلہ سمجھ لیتے ہیں تو معاشرے میں تبدیلی کی بنیاد پڑتی ہے۔

    عوام کو تقسیم کرکے حکمرانی شاید کچھ عرصے تک جاری رکھی جا سکتی ہے، لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ عوام کب اپنی خاموشی کو طاقت اور اپنی کمزوری کو اجتماعی شعور میں تبدیل کرتے ہیں۔

  • وادی سندھ کے مٹی کے برتنوں کی خوشبو: جنیفر بیٹس کے تناظر میں وادی سندھ کا غذائی ارتقا اور بین الاقوامی تجارت

    وادی سندھ کے مٹی کے برتنوں کی خوشبو: جنیفر بیٹس کے تناظر میں وادی سندھ کا غذائی ارتقا اور بین الاقوامی تجارت

    جب ہم تاریخ کی کتابوں میں وادی سندھ کی تہذیب کا نام پڑھتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں فوراً پختہ اینٹوں کے مکانات، سیدھی اور کشادہ گلیاں اور دنیا کا بہترین نکاسی آب کا نظام ابھرتا ہے۔ لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ پانچ ہزار سال پہلے ہڑپہ اور موہنجوداڑو کی ان گلیوں میں جب شام ڈھلتی ہوگی تو وہاں کے باورچی خانوں سے کیسی خوشبو اٹھتی ہوگی؟

    وہ لوگ کیا کھاتے تھے، اپنے کھانوں کو کیسے ذایقہ دار بناتے تھے اور ان کا زرعی نظام کیسے کام کرتا تھا؟

    ایک طویل عرصے تک آثارِ قدیمہ کے ماہرین اس عظیم تہذیب کو صرف شہری منصوبہ بندی کے ترازو میں تولتے رہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں ’آثارِ قدیمہ کی نباتیات‘ نے اس قدیم سماج کو دیکھنے کا زاویہ یکسر بدل دیا ہے۔

    اس سلسلے میں کیمبرج یونیورسٹی کی ڈاکٹر جنیفر بیٹس کا معرکہ آرا تحقیقی کام، بالخصوص ان کا مقالہ ’تلہن، مصالحے، پھل اور وادی سندھ کی تہذیب میں ذایقہ‘ اور ان کی کتاب ’کانسی کے دور کی وادی سندھ کی تہذیب میں زراعت کے آغاز‘ تاریخ کے بند دریچوں کو کھولتی ہے۔

    بیٹس کا کام ہمیں روایتی کھداییوں سے آگے لے جا کر خردبینی سطح پر اس عظیم تہذیب کے غذایی تنوع، سماجی طبقات اور بین الاقوامی تجارتی نیٹ ورک کا ایک سحر انگیز سفر کرواتا ہے۔

    مٹی کے مساموں سے برآمد ہوتی تاریخ

    ڈاکٹر جنیفر بیٹس لکھتی ہیں کہ وادی سندھ میں آثارِ قدیمہ کی نباتیات کی ایک طویل اور بھرپور روایت موجود ہے۔ اس علمی تحقیق کے نتیجے میں اب تک پھلوں، اناجوں اور سبزیوں کی تقریباً 260 اقسام رپورٹ ہو چکی ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بہت سے شواہد بکھرے ہویے اور اکلوتے ہیں، لیکن یہ اس حقیقت کا پتا دیتے ہیں کہ ہڑپہ کے باسیوں کی خوراک اتنی سادہ یا یکسر پھیکی نہیں تھی جتنی کہ پہلے فرض کی جاتی تھی۔

    آثارِ قدیمہ کے جدید طلبہ اور ساینس دان اب مٹی کے برتنوں کے مساموں میں جمے ہویے چربی کے اجزا اور قدیم انسانوں و مویشیوں کے دانتوں پر جمی کیلشیم کی تہوں کا خردبین کے ذریعے تجزیہ کرتے ہیں۔ ان تجربات سے یہ شواہد سامنے آیے ہیں کہ مٹی کے ان برتنوں میں صرف پانی یا سادہ اناج نہیں تھا، بلکہ ان میں پکنے والے سالن اور شوربے کی اپنی ایک منفرد اور بھرپور خوشبو تھی۔

    غذایی درجہ بندی

    ڈاکٹر بیٹس نے وادی سندھ کی زرعی پیداوار اور غذایی عادات کو تین واضح درجات میں تقسیم کیا ہے، جو ہمیں اس معاشرے کے معاشی ڈھانچے کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

    درجہ اول، کلیدی غذاییت: اس میں گندم، جو اور باجرہ شامل ہیں۔ یہ فصلیں وادی سندھ کی معیشت اور بقا کی بنیاد تھیں، جنہیں بڑے پیمانے پر کاشت کیا جاتا تھا۔

    درجہ دوم، ثانوی فصلیں: اس درجے میں مٹر، دالیں اور بیر جیسے پھل شامل ہیں، جو غذاییت میں تنوع فراہم کرتے تھے اور باقاعدہ کاشت ہوتے تھے۔

    درجہ سوم، علاقایی پھل: اس میں خربوزے اور کیلے جیسے پھل شامل ہیں، جن کے شواہد نسبتاً کم اور مخصوص علاقوں تک محدود ہیں۔

    اس زرعی نظام میں سب سے حیرت انگیز انکشاف چاول کی سست رو اپناییت کا ہے۔ جہاں گندم اور جو کو پورے جوش و خروش سے اپنایا گیا، وہیں وادی سندھ کے لوگوں نے چاول کو بہت دیر سے قبول کیا۔

    بیٹس دیگر ماہرین کا حوالہ دیتے ہویے کہتی ہیں کہ یہ اجتناب محض جغرافیایی نہیں بلکہ ایک سماجی مزاحمت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ چاول اس دور کی ایک محدود اور کنٹرول شدہ غذا تھی۔

    ادرک، ہلدی اور لہسن کا تڑکا

    وادی سندھ کے باورچی خانے کا ایک اور مادی ثبوت وہاں سے ملنے والے پتھر کے آلات ہیں۔ ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے تقریباً ہر مکان سے ملنے والے سل بٹے، اوکھلی اور موسل یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اناج کو پیسنے اور مصالحوں کو کچلنے کی ٹیکنالوجی ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھی۔

    ڈاکٹر بیٹس کی رپورٹ اس مغربی مفروضے کو یکسر مسترد کرتی ہے کہ قدیم انسان مصالحوں کے استعمال سے ناواقف تھے۔ مٹی کی ہانڈیوں کے کیمیایی تجزیے سے ہلدی اور ادرک کے بقایاجات ملے ہیں۔ یہاں تک کہ ’فرامانہ‘ کے مقام پر مویشیوں کے دانتوں کے ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ وہ ادرک اور ہلدی کے اجزا سے بنے کھانوں کے بچے ہویے ٹکڑے کھاتے تھے۔

    لہسن کی پوتھیوں کا کم از کم دو مقامات پر محفوظ ملنا یہ ثابت کرتا ہے کہ آج ہم برصغیر کے کھانوں میں جو ادرک، لہسن اور ہلدی کا تڑکا لگاتے ہیں، یہ دراصل اسی 5000 سال پرانی عظیم تہذیب کا زندہ تسلسل ہے جو نسل در نسل ہم تک پہنچا ہے۔

    کچی گھانی‘کا تیل اور میسوپوٹیمیا کی منڈیاں

    اس صحافتی اور آثارِ قدیمہ کی تحقیق کا سب سے جاندار پہلو تلہن یعنی تیل دار بیجوں کی کاشت اور ان کی بین الاقوامی تجارت کا نیٹ ورک ہے۔ وادی سندھ کی معیشت میں تل اور سرسوں کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔

    ہڑپہ کے باسی لکڑی اور پتھر کے بڑے کولہو یا گھانی کے ذریعے تلوں کو دبا کر خالص تیل نکالتے تھے، جسے بیلوں کی مدد سے گھمایا جاتا تھا۔ یہ تیل نہ صرف اندرونِ ملک کھانا پکانے اور چراغ روشن کرنے کے کام آتا تھا، بلکہ یہ اس دور کی ایک بہت بڑی بین الاقوامی برآمدی مصنوعات بن چکا تھا۔

    میسوپوٹیمیا یعنی قدیم عراقی تہذیب کی مٹی کی تختیوں اور کتبوں پر وادی سندھ کو ’میلوہا‘ کے نام سے پکارا گیا ہے۔ ان تختیوں پر درج تجارتی ریکارڈ کے مطابق، میلوہا سے بڑے پیمانے پر ہاتھی دانت، قیمتی موتی، سوتی کپڑے اور ’ایلو‘ منگوایا جاتا تھا۔ ماہرینِ لسانیات کے مطابق یہ لفظ ’ایلو‘ دراصل تل کے تیل کا قدیم نام ہے، جو آج بھی تمل زبان میں اسی شکل میں موجود ہے۔

    لوتھل کی تاریخی بندرگاہ سے روانہ ہونے والے بحری جہاز مٹی کے بڑے مٹکوں میں یہ تیل بھر کر، ان پر مٹی کا لیپ کرتے اور پھر اپنی مخصوص ہڑپایی مہریں ثبت کرکے خلیجِ فارس کے راستے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچاتے تھے۔ اس کے بدلے میں ہڑپہ کے تاجر چاندی اور تانبے جیسی قیمتی دھاتیں منگواتے تھے، جو ان کے معاشی استحکام کا باعث بنتی تھیں۔

    ساینسی احتیاط اور افادیت پسندانہ مغالطہ

    ڈاکٹر بیٹس اپنے مقالے میں آثارِ قدیمہ کے محققین کو ایک اہم انتباہ بھی کرتی ہیں، جسے وہ ’افادیت پسندانہ مغالطہ‘ کہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی پودے یا بیج کا معمولی سا مل جانا خود بخود اس کے بڑے استعمال کو ثابت نہیں کرتا۔

    مثال کے طور پر، ہڑپہ کے مقامات سے بھنگ اور افیڈرا کے چند ذرات ملے ہیں۔ کچھ اسکالرز نے فوراً یہ قیاس آراییاں شروع کر دیں کہ یہ لوگ بڑے پیمانے پر نشہ آور یا ویدک دور جیسی جادویی ادویات بناتے تھے۔

    بیٹس کے مطابق، جب تک پختہ اور وسیع شواہد دستیاب نہ ہوں، ایسے بعید از قیاس مفروضوں سے بچنا چاہیے، کیونکہ مختلف مقامات پر مٹی چھاننے کے طریقے الگ ہونے کی وجہ سے اعداد و شمار بعض اوقات ادھورے ہوتے ہیں۔

    مٹی کی لافانی خوشبو

    جنیفر بیٹس کا یہ ساینسی اور تاریخی سفر وادی سندھ کی قدیم نباتیات کو ایک منفرد شکل میں ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ پانچ ہزار سال قبل کا انسان نہ صرف بقا کی جنگ لڑ رہا تھا، بلکہ وہ زرعی ساینس، ذایقوں کی نفیس حس اور ایک مربوط عالمی تجارتی نظام کا خالق تھا۔

    آج جب ہم اپنے گھروں میں سل بٹے پر مصالحہ پیستے ہیں، سرسوں کے تیل کا تڑکا لگاتے ہیں یا روٹی اور چاول کا انتخاب کرتے ہیں تو ہم دراصل ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے انہی گمنام انسانوں کی لافانی ثقافت کو زندہ رکھ رہے ہوتے ہیں۔ مٹی کے ان برتنوں کی خوشبو آج بھی ہمارے باورچی خانوں میں مہک رہی ہے۔

  • زاویہ: جھرک، آغا خان اول کے محل سے قائداعظم سے منسوب ‘جائے پیدائش’ تک ایک بھولی ہوئی تاریخ

    زاویہ: جھرک، آغا خان اول کے محل سے قائداعظم سے منسوب ‘جائے پیدائش’ تک ایک بھولی ہوئی تاریخ

    جھرک کو دیکھنے کا تجسس مجھے کئی برسوں سے تھا۔ اس تجسس کی ایک بڑی وجہ اس شہر میں موجود آغا خان اول کا تاریخی محل تھا، جبکہ دوسری وجہ وہ سبق تھا جو ہم نے پرائمری اسکول کے زمانے میں سندھی نصاب کی کتابوں میں پڑھا تھا۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی اور جدوجہد کے بارے میں پڑھاتے ہوئے ہمیں بتایا جاتا تھا کہ محمد علی جناح سندھ کے قدیم شہر جھرک میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بھی یہیں سے حاصل کی۔

    شاید یہی وجہ تھی کہ جھرک میرے لیے محض ایک تاریخی شہر نہیں بلکہ ایک ایسی جگہ تھی جس کے ساتھ ہماری تاریخ، نصاب اور یادداشت جڑی ہوئی تھی۔ جب ہم شہر کی طرف جانے لگے تو دور سے ہی پرانی سرکاری عمارات اور مختلف کھنڈرات نظر آنے لگے۔ کتابوں میں جس تاریخی جھرک کا تصور ذہن میں بنا تھا، موجودہ شہر اس تصویر سے خاصا مختلف دکھائی دے رہا تھا۔

    آخرکار ہم آغا خان اول کے تاریخی محل تک پہنچے۔ محل کی دیکھ بھال کرنے والے چوکیدار نے ہمیں اندر کا حصہ دکھایا۔ عمارت آج بھی اپنی اصل ساخت کے کئی پہلو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ مٹی اور لکڑی سے تعمیر شدہ یہ عمارت مقامی طرز تعمیر کی جھلک پیش کرتی ہے۔ اندر ایک بڑا صحن، مختلف کمرے، چھوٹے ہال، آنگن اور ایک پرانا درخت موجود ہے۔ گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے ہوا کے گزر کے انتظامات اس دور کی تعمیراتی سمجھ بوجھ کا بھی پتا دیتے ہیں۔

    یہ عمارت دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ جھرک کبھی محض ایک عام قصبہ نہیں تھا بلکہ یہاں زندگی، تجارت اور ثقافت کی ایک پوری دنیا آباد تھی۔

    اسی دوران جھرک کے مقامی تاریخ نویس مشتاق ملاح سے ایک طویل نشست ہوئی۔ وہ قائداعظم یادگار کمیٹی سے بھی وابستہ ہیں۔ گفتگو میں کئی مقامی لوگ بھی شامل ہوگئے اور بات جھرک کی تاریخ سے ہوتی ہوئی قائداعظم سے منسوب مکان تک جا پہنچی۔

    ہم نے قائداعظم کے گھر کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ وہ آغا خان اول کے محل سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔ ہم جب اس جگہ پہنچے تو وہ تاریخی مکان اپنی اصل حالت میں موجود نہیں تھا۔ وقت کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اس جگہ ایک نئی عمارت تعمیر ہوچکی ہے، جہاں ایک اسکول قائم ہے۔

    میں کچھ دیر وہیں کھڑا سوچتا رہا کہ جس شہر کا شمار کبھی اہم تاریخی اور تجارتی مراکز میں ہوتا تھا، جس کی گلیوں میں کبھی تجارت، تعلیم اور انتظامی سرگرمیاں عروج پر تھیں، اس شہر کے تاریخی ورثے کے ساتھ ہم نے کیا سلوک کیا ہے؟

    ایک زمانے کا خوشحال تجارتی مرکز

    جھرک ضلع ٹھٹھہ میں دریائے سندھ کے قریب واقع ایک قدیم شہر ہے۔ دریائے سندھ سے قربت نے اسے تاریخی طور پر اہم تجارتی اور دریائی بندرگاہی مرکز بنایا۔ برطانوی دور میں جھرک دریائی تجارت اور آمدورفت کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرا اور انڈس فلوٹیلا سے بھی اس کا گہرا تعلق رہا۔

    مقامی روایات اور تاریخی حوالوں کے مطابق جھرک کی آبادی مختلف برادریوں پر مشتمل تھی۔ دریائے سندھ سے وابستہ ماہی گیری یہاں کے لوگوں کے روزگار کا ایک اہم ذریعہ رہی، جبکہ مچھلی کی تجارت بھی شہر کی معاشی سرگرمیوں کا حصہ تھی۔

    تاریخی حوالوں میں جھرک کے بازار کا بھی ذکر ملتا ہے، جہاں تقریباً 200 دکانیں موجود تھیں۔ شہر کی تجارتی اہمیت کے ساتھ ساتھ اسے انتظامی اور فوجی اعتبار سے بھی اہم مقام حاصل تھا۔

    جھرک کی انتظامی اہمیت

    سندھ پر برطانوی اقتدار قائم ہونے کے بعد جھرک کی تجارتی اہمیت کے ساتھ اس کی انتظامی حیثیت بھی بڑھی۔ تاریخی حوالوں میں جھرک کے میونسپل انتظام، کراچی کلیکٹوریٹ سے اس کے تعلق اور برطانوی انتظامی و فوجی سرگرمیوں کا ذکر ملتا ہے۔

    جھرک میں مختلف سرکاری اور انتظامی سہولتیں قائم تھیں، جبکہ شہر کی فوجی اہمیت بھی برقرار رہی۔ آج ان میں سے بعض تاریخی عمارتوں اور ڈھانچوں کے آثار جھرک کے ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔

    آغا خان اول اور جھرک

    برطانوی دور میں آغا حسن علی شاہ، یعنی آغا خان اول، 1843 میں جھرک پہنچے اور یہاں قیام کیا۔ تاریخی حوالوں کے مطابق سر چارلس نیپیئر نے انہیں جھرک میں رہنے اور برطانوی مفادات کے تحفظ میں کردار ادا کرنے کی ذمہ داری دی تھی۔

    آغا خان اول سے منسوب تاریخی محل آج بھی جھرک کے ماضی کی اہم علامت ہے۔ عمارت پر 1843 کی تاریخ درج ہے اور اس کی تعمیر میں مقامی تعمیراتی طریقوں اور مواد کے استعمال کے آثار نمایاں ہیں۔ محل کے صحن، لکڑی کے کام اور ہوا کے گزر کے انتظامات اس دور کے طرز تعمیر کی جھلک پیش کرتے ہیں۔

    آغا خان اول کی جھرک میں موجودگی کے باعث یہ شہر اسماعیلی برادری کے لیے بھی اہم مرکز بن گیا۔ تاریخی حوالوں میں سندھ، کَچھ، کاٹھیاواڑ، گجرات اور دیگر علاقوں سے ان کے پیروکاروں کے جھرک آنے کا ذکر ملتا ہے۔

    قائداعظم اور جھرک کا تعلق

    جھرک کی تاریخ کا سب سے اہم اور حساس پہلو قائداعظم محمد علی جناح کی جائے پیدائش کا سوال ہے۔

    مقامی تاریخ نویسوں اور بعض تاریخی حوالوں کے مطابق قائداعظم کا خاندان جھرک سے گہرا تعلق رکھتا تھا اور یہ روایت بھی موجود ہے کہ قائداعظم کی پیدائش اسی شہر میں ہوئی۔ بعض پرانے سندھی نصابی مواد میں بھی جھرک کو قائداعظم کی جائے پیدائش کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ تاہم اس دعوے کی قطعی دستاویزی تصدیق نہیں ہوسکی۔

    قائداعظم کی جھرک میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کی روایت بھی اسی تاریخی بحث کا حصہ ہے۔ جھرک میں 1870 میں قائم ہونے والے ایک اسکول کا ذکر ملتا ہے، تاہم اس اسکول کا تاریخی رجسٹر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے قائداعظم کے وہاں زیر تعلیم رہنے کی حتمی تصدیق نہیں ہوسکی۔

    اسی لیے جھرک میں قائداعظم کی پیدائش اور ابتدائی تعلیم کے دعوے کو تاریخی حقیقت کے بجائے ایک متنازع تاریخی روایت کے طور پر دیکھنا زیادہ محتاط طرز عمل ہے۔ دوسری جانب کراچی کا وزیر مینشن سرکاری طور پر قائداعظم کی جائے پیدائش کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

    قائداعظم کے خاندان کا جھرک سے تعلق بھی تاریخی بحث کا موضوع رہا ہے۔ مقامی روایات میں خاندان کے جھرک آنے اور یہاں قیام کرنے کے مختلف دعوے ملتے ہیں، لیکن خاندان کے ہر فرد کی جھرک آمد، قیام اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق تفصیلات کی یکساں اور قطعی دستاویزی تصدیق موجود نہیں۔

    اسی لیے اس معاملے کو جذبات یا قیاس کی بنیاد پر نہیں بلکہ دستیاب تاریخی دستاویزات، سرکاری ریکارڈ اور مستند تحقیقی مواد کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

    جھرک کے قدیم آثار

    جھرک اور اس کے آس پاس کا علاقہ صرف برطانوی دور کی تاریخ تک محدود نہیں۔ یہاں قدیم مذہبی اور آثار قدیمہ کے مقامات کے حوالے بھی ملتے ہیں، جو اس خطے کی پرانی تہذیبی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

    شہر کی جغرافیائی حیثیت نے بھی اس کی تاریخی اہمیت میں کردار ادا کیا۔ دریائے سندھ کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے جھرک طویل عرصے تک دریائی آمدورفت، تجارت اور مقامی آبادیوں کے درمیان رابطے کا ایک اہم مقام رہا۔

    جھرک: ایک شہر جو اپنا ماضی مانگ رہا ہے

    جھرک کی موجودہ حالت اس شہر کی تاریخی اہمیت کے مقابلے میں ایک افسوسناک تضاد پیش کرتی ہے۔ جس شہر میں کبھی دریائی تجارت، بازار، سرکاری ادارے، فوجی سرگرمیاں اور تعلیمی مراکز موجود تھے، وہاں آج ماضی کی بہت سی نشانیاں بوسیدہ عمارتوں اور خاموش گلیوں کی صورت میں باقی ہیں۔

    دریائے سندھ سے جھرک کا تعلق اس شہر کی معیشت اور زندگی کا بنیادی حصہ رہا ہے۔ وقت کے ساتھ دریائی بہاؤ اور پانی کی دستیابی میں آنے والی تبدیلیوں نے دریا سے وابستہ سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ ماہی گیری اور دریائی وسائل پر انحصار کرنے والی مقامی آبادی کے لیے یہ تبدیلیاں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔

    جھرک صرف کھنڈرات کا نام نہیں۔ یہ سندھ کی اجتماعی یادداشت کا ایک اہم باب ہے۔ یہاں آغا خان اول سے منسوب تاریخی محل ہے، قائداعظم کے خاندان اور جائے پیدائش سے متعلق ایک طویل مقامی روایت ہے، برطانوی دور کی عمارتیں ہیں، قدیم مذہبی اور آثار قدیمہ کے مقامات ہیں اور دریائے سندھ سے وابستہ ایک پوری تہذیبی کہانی موجود ہے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس کہانی کو کب محفوظ کریں گے؟

    جھرک کو صرف قائداعظم کی جائے پیدائش کے تنازع تک محدود کرنے کے بجائے اسے ایک مکمل تاریخی اور ثقافتی ورثے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ تاریخی عمارتوں اور آثار کی باقاعدہ نشاندہی، دستاویز بندی، آثار قدیمہ کی تحقیق، بحالی اور قانونی تحفظ کے ذریعے اس شہر کے ماضی کو محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ جھرک کو ثقافتی سیاحت کے نقشے پر بھی نمایاں کیا جاسکتا ہے۔

    شاید جھرک کی گلیوں میں چلتے ہوئے سب سے بڑا دکھ یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی تاریخ کو کتابوں میں تو محفوظ رکھا، مگر اس تاریخ سے جڑے اصل مقامات کو محفوظ نہ رکھ سکے۔

    آغا خان اول کا محل آج بھی خاموش کھڑا ہے۔ بوسیدہ سرکاری عمارتیں آج بھی اپنے عروج کی گواہی دے رہی ہیں اور قائداعظم سے منسوب مکان کی جگہ کھڑی نئی عمارت جیسے ہم سے ایک سوال کر رہی ہے۔

    جھرک کو آج ہماری توجہ، تحقیق اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ شہر صرف عمارتوں سے نہیں بنتے، ان کی یادیں بھی انہیں زندہ رکھتی ہیں اور یہی یادیں آنے والی نسلوں کو اپنی تاریخ اور شناخت سے جوڑتی ہیں۔

  • قراردادوں سے تحریکِ التوا تک: پیپلز پارٹی تاریخ کے کٹہرے میں

    قراردادوں سے تحریکِ التوا تک: پیپلز پارٹی تاریخ کے کٹہرے میں

    سندھ کی سیاست میں کبھی کبھی الفاظ چھوٹے ہوتے ہیں، لیکن ان الفاظ کے پیچھے چھپے سیاسی معنی بہت بڑے ہوتے ہیں۔ ‘قرارداد’، ‘تحریکِ التوا’، ‘بحث’، ‘انتظامی یونٹ’ اور ‘نیا صوبہ’ بظاہر یہ پارلیمانی اصطلاحات ہیں، لیکن سندھ کی تاریخ، ثقافت، سیاسی حساسیت اور موجودہ حالات کے پس منظر میں ہر لفظ اپنے اندر ایک بڑا سوال لیے کھڑا ہے۔

    دو دن قبل جب سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے نثار احمد کھوڑو کی پیش کردہ تحریکِ التوا اکثریتی ووٹ سے منظور کی اور 31 اگست کو دو گھنٹے بحث کا فیصلہ کیا، تو سوال پیدا ہوا تھا کہ آخر سندھ کی انتظامی اور تاریخی وحدت کو دوبارہ بحث کا موضوع بنانے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟

    اب یہ سوال صرف ‘کیوں’ تک محدود نہیں رہا۔ اب جب یہ معاملہ سندھ اسمبلی کے ایجنڈے پر آ چکا ہے، نیا سوال یہ ہے: بحث کے بعد کیا ہوگا؟

    کیا ایوان صرف تقاریر سن کر معاملہ ختم کر دے گا؟ کیا نئے صوبوں کے حامی اپنا مؤقف ریکارڈ پر لائیں گے اور پھر واپس چلے جائیں گے؟ یا پیپلز پارٹی واقعی اپنے اعلان کے مطابق ایک واضح اور دوٹوک قرارداد کے ذریعے سندھ کی وحدت کے بارے میں اپنا پارلیمانی مؤقف دوبارہ ریکارڈ کرائے گی؟

    کیوں کہ اب معاملہ صرف تحریکِ التوا کا نہیں۔ اب معاملہ سیاسی اعتبار کا ہے۔

    نثار احمد کھوڑو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ تحریکِ التوا پر بحث کے دوران یہ ریکارڈ پر لایا جائے گا کہ سندھ کو تقسیم کرنے یا نئے انتظامی یونٹس بنانے کی بات کرنے والے کون ہیں، اور بحث کے بعد ایوان کی اکثریتی رائے کی بنیاد پر قرارداد منظور کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے نمائندے کشمور سے کراچی تک سندھ کی تقسیم کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ اگر نتیجہ آخرکار سندھ کی وحدت کے حق میں قرارداد ہی ہے تو پھر شروعات قرارداد سے کیوں نہیں کی گئی؟

    سندھ اسمبلی پہلے ہی کئی مرتبہ سندھ کی تقسیم کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہے۔ خود سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایوان نئے صوبوں کی مخالفت میں چھ مرتبہ قراردادیں منظور کر چکا ہے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ بھی قرارداد منظور کرے گا۔

    لیکن سندھ کا عوام اب صرف بیان نہیں چاہتا، نتیجہ بھی چاہتا ہے۔ فائدہ صفر، نقصان دگنا، آخر یہ کیسی دانش مندی ہے؟ نثار کھوڑو کے اس قدم کا سیاسی فائدہ آخر کس کو ہوگا؟

    اگر مقصد سندھ کی وحدت کا دفاع ہے تو دفاع کے لیے سب سے مضبوط ہتھیار ایک واضح قرارداد ہے۔ لیکن اگر بحث کے دوران ایم کیو ایم پاکستان یا کسی دوسری جماعت کو سندھ کی تقسیم، نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے حوالے سے اپنا مؤقف سندھ اسمبلی کے فلور پر تفصیل سے بیان کرنے کا موقع ملا ہے، یہ مؤقف محض سیاسی جلسے یا پریس کانفرنس تک محدود نہیں رہے گا۔

    یہ سندھ کے سرکاری پارلیمانی ریکارڈ کا حصہ بن جائے گا۔ میڈیا اسے نشر کرے گا۔ سوشل میڈیا اس کے ٹکرز چلائے گا۔ ووٹرز تک دلائل پہنچیں گے۔ اور اس طرح ایک پرانا سیاسی مطالبہ دوبارہ ایک آئینی ایوان کی بحث کا حصہ بن جائے گا۔

    شاید اسی لیے سندھ کے عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو کام مخالف قوتیں برسوں سے ایوان کے باہر کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں، کیا بحث کی صورت میں انہیں ایوان کے اندر ایک اور بڑا پلیٹ فارم فراہم نہیں کیا جا رہا؟

    یہ سوال بہرحال سیاسی تجزیے کا سوال ہے، الزام کا نہیں۔

    ایم کیو ایم پاکستان طویل عرصے سے سندھ میں مزید انتظامی یونٹس اور بالخصوص کراچی کے حوالے سے اپنے سیاسی مؤقف کا اظہار کرتی رہی ہے۔ اب اگر یہ مؤقف سندھ اسمبلی کے فلور پر تفصیل سے پیش ہوتا ہے تو اس کے سیاسی اثرات ضرور مرتب ہوں گے۔

    فریقین اپنے دلائل دیں گے، جوابی دلائل سامنے آئیں گے، میڈیا بحث کو تقویت دے گا۔

    تو کیا سندھ کی وحدت کا دفاع صرف جوابی تقاریر سے ہوگا یا اس کا حتمی جواب قرارداد کی صورت میں بھی آئے گا؟

    موجودہ اجلاس  کی صورت حال میں نثار کھوڑو کا یہ اعلان کہ بحث کے بعد قرارداد لائی جائے گی، بحث کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے قوم پر آخر یہ کیسی مہربانی ہے؟

    اب پیپلز پارٹی خود کو اپنے ہی اعلان کی پابند تو کر چکی ہے، ساتھ ہی سندھ کے ساتھ غداری کا سوال بھی پیدا کر چکی ہے۔

    سندھ اسمبلی کی بحث کا سب سے بڑا امتحان پیپلز پارٹی کا ہے۔ کیوں کہ پیپلز پارٹی کا سندھ کے ساتھ سیاسی تعلق صرف موجودہ حکومت تک محدود نہیں۔ اس کی سیاسی تاریخ میں صوبائی خودمختاری، 18ویں ترمیم اور سندھ کے حقوق کا حوالہ بھی موجود ہے۔

    سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سندھ کی تقسیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور سندھ اسمبلی کا مؤقف اس معاملے پر واضح ہے۔ نثار کھوڑو بھی اب کہہ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی سندھ کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور بحث کے بعد قرارداد منظور کرائی جائے گی۔

    تو اب سوال سادہ ہے: یہ قرارداد کتنی صاف اور دوٹوک ہوگی؟

    کیا اس میں سندھ کی موجودہ جغرافیائی اور آئینی وحدت میں کسی بھی ممکنہ ردوبدل کو واضح طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا جائے گا؟ کیا نئے صوبوں کے ساتھ ساتھ نئے انتظامی یونٹس کے نام پر سندھ کی جغرافیائی وحدت تبدیل کرنے کو بھی ہمیشہ کے لیے مسترد کیا جائے گا؟ کیا سندھ کی تمام سیاسی جماعتوں سے اس قرارداد کی حمایت حاصل کی جائے گی؟

    اور کیا ایوان سے یہ واضح پیغام جائے گا کہ انتظامی مسائل کا حل انتظامی اصلاحات ہیں، صوبائی تقسیم نہیں؟

    اگر کراچی کے مسائل ہیں تو ان کا حل کراچی میں بہتر بلدیاتی حکومت کے قیام میں تلاش نہیں کیا جانا چاہیے؟ اگر حیدرآباد کے مسائل ہیں تو اسے اختیارات دیے جائیں۔ اگر سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص، نواب شاہ یا دیگر شہروں کے مسائل ہیں تو انہیں انتظامی وسائل، بہتر بلدیاتی نظام اور مؤثر اداروں کے ذریعے حل کیا جائے۔

    مقامی حکومتوں کو مضبوط کیا جائے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم کی جائے۔ پانی، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور روزگار کے مسائل حل کیے جائیں۔ نقشہ نہ توڑو، نظام درست کرو۔ یہ بات سندھ کی وحدت کی حمایت بھی ہے اور بہتر حکمرانی کا مطالبہ بھی۔

    سندھ مہاجروں کے خلاف نہیں

    سندھ کا مؤقف کسی بھی زبان بولنے والے انسان کے خلاف نہیں رہا۔ سندھ کسی مہاجر کے خلاف نہیں۔ سندھ کسی اردو بولنے والے کے خلاف نہیں۔ سندھ کسی پنجابی، پختون، سرائیکی، بلوچ یا کسی دوسری زبان بولنے والے انسان کے خلاف نہیں۔

    سندھ تاریخی طور پر آنے والوں کو جگہ دینے والی دھرتی رہی ہے۔

    1947 کے بعد ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں کے لیے سندھ کے شہروں کے دروازے کھلے۔ اس دور میں سندھ کے شہری معاشرے میں آبادی اور معیشت کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی آئی، جبکہ تقسیم سے قبل سندھ میں رہنے والی ہندو آبادی کے بڑے حصے کی ہجرت کے باعث شہروں کے معاشی، تعلیمی اور سماجی ڈھانچے میں بھی ایک بڑا خلا پیدا ہوا۔

    سندھ نے مہاجروں کو صرف پناہ نہیں دی۔ شہر دیے۔ روزگار کے مواقع دیے۔ کاروبار کے مواقع دیے۔ تعلیم کے دروازے کھولے۔ اور بہت سے خاندانوں کو نئی زندگی شروع کرنے کے لیے جگہ دی۔

    وقت کے ساتھ بہت سے خاندانوں کی اگلی نسلیں سندھ میں پیدا ہوئیں، یہاں تعلیم حاصل کی، یہاں روزگار کیا اور سندھ کی سماجی، ادبی، صحافتی، تعلیمی، کاروباری اور سیاسی زندگی کا حصہ بنیں۔

    لہٰذا سوال نفرت کا نہیں، تعلق کا ہے۔

    اگر کسی دھرتی پر نسلوں تک زندگی گزاری جائے تو پھر اس دھرتی کے ساتھ رشتہ بھی اتنا ہی مضبوط ہونا چاہیے۔ مستقل اجنبیت اگر سیاسی تصور بن جائے تو پھر سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ‘دھرتی ماں ہے’ 25  اگست کو بلاول بھٹو زرداری نے سندھی زبان میں ایک مختصر جملہ لکھا: ‘دھرتی ماں ہے۔’

    الفاظ چھوٹے تھے، لیکن مطلب بڑا تھا۔

    اگر دھرتی ماں ہے تو پھر سوال بلاول بھٹو زرداری سے بھی پوچھا جا سکتا ہے: ماں کی وحدت کے بارے میں مؤقف بھی اتنا ہی واضح ہونا چاہیے یا نہیں؟

    ماں کی عزت ہوتی ہے۔ ماں سے تعلق ہوتا ہے۔ ماں کی حفاظت کا جذبہ ہوتا ہے۔

    اور اگر سندھ دھرتی ماں ہے تو پھر سندھ کی وحدت پر کوئی بھی مبہم سیاسی اشارہ سندھ کے لوگوں کے لیے اطمینان بخش نہیں ہوگا۔ اسی لیے آج کی بحث کے بعد سندھ بلاول بھٹو، مراد علی شاہ اور نثار کھوڑو سے صرف تقاریر نہیں، واضح پارلیمانی مؤقف دیکھنا چاہتا ہے۔ پیپلز پارٹی پر ‘سندھ کارڈ’ استعمال کرنے کا الزام نیا نہیں۔ یہ شک جب یقین میں بدلنے لگے تو پھر؟

    سندھ کا سوال کسی سیاسی جماعت کا کارڈ نہیں ہونا چاہیے۔ سندھ کسی پارٹی کی جاگیر نہیں۔ سندھ کسی خاندان کی ملکیت نہیں۔ سندھ کسی فرد کے ذاتی سیاسی سرمائے کا نام نہیں۔

    سندھ ایک تاریخی، ثقافتی، سماجی اور آئینی وجود ہے۔

    لہٰذا اگر پیپلز پارٹی سندھ کی وحدت کا دفاع کرتی ہے تو یہ سندھ کا حق ہے۔ اور اگر کوئی دوسری جماعت بھی سندھ کی وحدت کے بارے میں بات کرتی ہے تو اسے بھی سیاسی مفاد سے بالاتر ہو کر بات کرنی چاہیے۔

    سندھ کی وحدت کی حمایت میں کراچی میں ایک بڑی ریلی اور احتجاج بھی سامنے آیا ہے۔

    سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور سندھ یونائیٹڈ لائرز فورم کی اپیل پر ریگل چوک سے کراچی پریس کلب تک ‘وحدت سندھ مارچ’ کیا گیا، جس میں سیاسی کارکنوں، وکلا، ادیبوں، دانشوروں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور سندھ کو تقسیم کرنے یا نئے انتظامی یونٹس بنانے کی مخالفت کی۔

    شرکا نے یہ بھی واضح کیا کہ سندھ کی وحدت کا سوال کسی ایک زبان یا برادری کے خلاف سوال نہیں ہے۔

    سندھ کی وحدت کا دفاع اگر نفرت کی زبان کے بجائے برابری، آئینی حقوق اور مشترکہ شہریت کی زبان میں کیا جائے گا تو اس کا اخلاقی وزن زیادہ ہوگا۔

    سندھ کو توڑنے کی مخالفت کا مطلب کسی انسان یا فریق کو توڑنا نہیں ہے۔ سندھ کو مضبوط کرنے کا مطلب سندھ میں رہنے والے ہر انسان کو برابر حقوق دینا ہونا چاہیے۔ سیاسی اثرات کا تجزیہ کرنا صحافت کا حق بھی ہے اور فرض بھی۔ پارلیمانی طریقہ کار کو بھی سمجھنا ہوگا۔ قرارداد اور تحریکِ التوا ایک جیسے پارلیمانی معاملات نہیں ہیں۔

    تحریکِ التوا کے ذریعے کسی اہم عوامی معاملے کو معمول کی کارروائی روک کر بحث کے لیے لایا جاتا ہے۔ قرارداد کے ذریعے ایوان کسی معاملے پر اپنا مؤقف زیادہ واضح انداز میں ریکارڈ کرا سکتا ہے۔

    لہٰذا یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تحریکِ التوا منظور ہونے سے سندھ تقسیم کرنے کی منظوری مل گئی۔ ایسے قانونی معنی اخذ کرنا درست نہیں۔

    لیکن سیاسی معنی ضرور پیدا ہوتے ہیں۔ کیونکہ جس موضوع کو ایوان میں بحث کے لیے لایا جاتا ہے، وہ سیاسی طور پر اہمیت حاصل کرتا ہے۔

    اور یہی وجہ ہے کہ اب اصل اہمیت بحث سے زیادہ بحث کے بعد کے نتائج کو حاصل ہوگئی ہے۔

    اب اگر یہ قرارداد آتی ہے اور اس میں سندھ کی موجودہ آئینی، جغرافیائی اور تاریخی وحدت کے بارے میں صاف اور غیر مبہم مؤقف اختیار کیا جاتا ہے تو پیپلز پارٹی اپنے سیاسی نقصان کو کافی حد تک سیاسی فائدے میں تبدیل کر سکتی ہے۔

    لیکن اگر بحث ہوئی، تقاریر ہوئیں، مخالفین نے اپنے مؤقف پیش کیے، میڈیا کوریج ہوئی اور پھر معاملہ خاموشی میں دب گیا تو سندھ کا سوال مزید سخت ہوگا: آخر تحریکِ التوا کی ضرورت ہی کیا تھی؟ یہ سوال پھر صرف قوم پرستوں کا نہیں ہوگا۔ عام سندھی ووٹر کا بھی ہوگا۔

    سندھ اسمبلی نے 1943 میں قرارداد پاکستان کی منظوری کے ذریعے پاکستان کے سیاسی سفر میں تاریخی کردار ادا کیا۔ سندھ پاکستان کے قیام کی تاریخ میں تماشائی نہیں تھا۔ سندھ ایک بنیادی سیاسی فریق تھا۔

    آج جب پاکستان کے وفاقی ڈھانچے، صوبائی خودمختاری اور نئے صوبوں کے حوالے سے بحث جاری ہے تو سندھ کا سوال صرف سندھ کا سوال نہیں رہتا۔ یہ پاکستان کے وفاقی مستقبل کا سوال بن جاتا ہے۔

    چھوٹے صوبے بنانے سے انتظامی مسائل حل ہوں گے یا نئے سیاسی تنازعات جنم لیں گے؟

    سندھ ہزاروں سال سے مختلف قوموں اور تہذیبوں کی آمدورفت دیکھتا آیا ہے اور بہت سوں کو اپنے سماجی وجود میں ضم کرتا رہا ہے۔ جس سندھ نے سب کو جگہ دی، اس سندھ کے وجود کو تقسیم کرنے کا مطالبہ آخر کیوں؟

  • بھکتاپور: نیپال کا تاریخی شہر جہاں صدیوں پرانی تہذیب آج بھی زندہ ہے

    بھکتاپور: نیپال کا تاریخی شہر جہاں صدیوں پرانی تہذیب آج بھی زندہ ہے

    نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے تقریباً 13 کلومیٹر مشرق میں واقع بھکتاپور اپنی قدیم تہذیب، اینٹوں سے بنی عمارتوں، لکڑی کی نفیس نقش کاری، مندروں اور تاریخی چوکوں کے باعث نیپال کے اہم ترین ثقافتی شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ شہر کھٹمنڈو وادی کے ان تاریخی مراکز میں شامل ہے جنہوں نے نیپال کی نیواری تہذیب، فن تعمیر اور مذہبی روایات کو صدیوں تک محفوظ رکھا۔

    بھکتاپور کا تاریخی وجود کم از کم قرون وسطیٰ تک پہنچتا ہے اور یہ شہر خاص طور پر ملا دور میں ایک اہم سیاسی اور ثقافتی مرکز کے طور پر ابھرا۔ شہر کا تاریخی مرکز آج بھی قدیم طرز تعمیر کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں اینٹ اور لکڑی سے بنی عمارتیں، نقش دار کھڑکیاں، مندر اور روایتی رہائشی ڈھانچے ایک منفرد شہری منظر پیش کرتے ہیں۔

    بھکتاپور کا سب سے مشہور مقام دربار اسکوائر ہے، جہاں کبھی شاہی محل اور اہم مذہبی عمارتیں موجود تھیں۔ یہ علاقہ کھٹمنڈو وادی کے عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔ کھٹمنڈو وادی کو 1979 میں عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا تھا اور اس کے سات تاریخی یادگاری علاقوں میں بھکتاپور دربار اسکوائر بھی شامل ہے۔

    بھکتاپور آنے والے سیاحوں کے لیے نیاتاپولا مندر، دربار اسکوائر، تاؤمادھی چوک، گولڈن گیٹ، پچپن جھالی والا محل اور دتاتریہ اسکوائر خاص کشش رکھتے ہیں۔ شہر کی گلیوں میں روایتی نیواری طرز کے گھر، لکڑی کی نقش کاری اور مقامی دستکاری بھی سیاحوں کو ماضی کی ایک جھلک دکھاتی ہے۔

    بھکتاپور کی تاریخ کا ایک انتہائی المناک باب 25 اپریل 2015 کو آنے والا تباہ کن زلزلہ تھا۔ اس زلزلے نے کھٹمنڈو وادی کے تاریخی ورثے کو شدید نقصان پہنچایا۔ بھکتاپور دربار اسکوائر بھی بڑے پیمانے پر متاثر ہوا اور متعدد تاریخی عمارتوں کو مکمل یا جزوی نقصان پہنچا۔

    زلزلے کے بعد نیپال کے محکمہ آثار قدیمہ، مقامی اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں نے تاریخی عمارتوں کی بحالی کا کام شروع کیا۔ کئی عمارتوں اور یادگاروں کو روایتی مواد اور تعمیراتی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے دوبارہ بحال کیا گیا۔ تاریخی عمارتوں کی بحالی کا مقصد صرف تباہ شدہ ڈھانچوں کو دوبارہ تعمیر کرنا نہیں تھا بلکہ بھکتاپور کی اصل ثقافتی اور معماری شناخت کو بھی محفوظ رکھنا تھا۔

    زلزلے کے بعد بھی بھکتاپور نے سیاحت کا سفر جاری رکھا۔ تاریخی مقامات کو حفاظتی اقدامات کے ساتھ دوبارہ سیاحوں کے لیے کھولا گیا اور بحالی کا عمل شہر کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے کی کوششوں کا اہم حصہ بن گیا۔

    آج بھکتاپور صرف قدیم مندروں اور شاہی محلات کا شہر نہیں بلکہ ایک زندہ ثقافتی ورثہ ہے، جہاں تہوار، مذہبی رسومات، روایتی دستکاریاں اور نیواری طرز زندگی تاریخی عمارتوں کے درمیان آج بھی نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھکتاپور نیپال آنے والے سیاحوں کے لیے ماضی، فن تعمیر اور زندہ ثقافت کو ایک ساتھ دیکھنے کا منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔

  • زاویہ: چھوٹے صوبے بنانے کی تجویز: کیا پاکستان نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا؟

    زاویہ: چھوٹے صوبے بنانے کی تجویز: کیا پاکستان نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا؟

    ہماری یہ مسافت کسی گول دائرے میں گھومنے والی مسافت نہیں، بلکہ حماقت کے اس دائرے کا سفر ہے جس میں یہ قوم بار بار گھومتی رہی ہے۔ اگر تاریخ سے ہم نے کوئی ایک سبق سیکھا ہے تو شاید وہ یہی ہے کہ ہم نے تاریخ سے کوئی سبق سیکھا ہی نہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں ایک بار پھر وہی پرانا راگ شروع ہو گیا ہے کہ صوبوں کو چھوٹی اور ’قابلِ انتظام‘ اکائیوں میں تقسیم کیا جائے۔ گویا گلگت بلتستان اور کشمیر، جو پہلے ہی رقبے اور آبادی کے اعتبار سے نسبتاً چھوٹے ہیں، اس وقت جنت کے مثالی نمونے بن چکے ہیں۔ یا گویا بلوچستان، جو ملک کا سب سے کم آبادی والا صوبہ ہے، بہترین انداز میں چل رہا ہے؛ جہاں ہر شخص خوشحال ہے، ہر گھر میں روزگار موجود ہے، کسی کو کوئی معاشی پریشانی نہیں اور ہر شہری کو بجلی، پانی اور گیس وافر مقدار میں میسر ہے۔ لیکن بلوچستان کی موجودہ صورتِ حال خود اس سوال کا جواب ہے۔

    اصل مسئلہ صوبوں کے حجم کا نہیں، بلکہ ملک کو چلانے کے طریقۂ کار کا ہے۔ گزشتہ 79 برسوں کے دوران اسٹیبلشمنٹ نے جس انداز میں ملک کو چلایا ہے، خرابی کی بنیادی وجہ بھی وہی ہے۔ مسئلہ صوبے نہیں، بلکہ ملک کے نگہبان اور حکمران ذہن ہیں۔

    پھر آتے ہیں ’سیالکوٹ کے سقراط‘ خواجہ آصف، جو اپنے غیر سنجیدہ اور بغیر سوچے سمجھے بیانات کے ذریعے ملک کے لیے عزت کے بجائے شرمندگی کا باعث بنتے رہے ہیں۔ اب وہ کہتے ہیں کہ کراچی اور گوادر کو صوبوں کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔ تو پھر، خواجہ صاحب، یہ کس کا حصہ ہوں؟ وفاقی حکومت کا؟

    وفاقی حکومت تو کئی دہائیوں سے ان اہم ساحلی گزرگاہوں پر اپنا کنٹرول رکھتی آئی ہے۔ کیا خواجہ صاحب یہ بتانا پسند کریں گے کہ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے حاصل ہونے والی آمدنی آخر کس صوبے کو مل رہی ہے؟ یا پھر یہ آمدنی پنجاب کے حکمرانوں یا اسٹیبلشمنٹ کے حصے میں جا رہی ہے؟

    جو وفاقی حکومت اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی مؤثر انداز میں ٹیکس وصول کرنے کا نظام بھی نہیں چلا سکتی، کیا وہ کراچی جیسے بڑے اور پیچیدہ شہر کو چلانے کی اہل ہو سکتی ہے؟ پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ملز اور ریلوے جیسے تباہ حال وفاقی ادارے وفاقی کارکردگی کی کون سی کہانی بیان کرتے ہیں؟

    زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب طالبان جیسے مسلح گروہ اسلام آباد کے دروازوں تک پہنچ گئے تھے۔ آخر یہ ناکامی کس کی تھی؟ آج بھی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، افغانستان اور انہی طالبان کے تناظر میں، کشیدگی اور لڑائی جاری ہے۔ وہاں بھی کوئی بنیادی بہتری نہیں لائی جا سکی، لیکن اس کے باوجود نئے صوبوں کا راگ چھیڑ دیا گیا ہے۔

    1948 میں کراچی کے ساتھ ناانصافی

    1948 میں ایک ایسی وفاقی حکومت نے کراچی کو زبردستی سندھ سے الگ کر لیا جو سندھ کے مقامی لوگوں، ان کی ثقافت اور تاریخ سے بیگانہ تھی۔ سندھ اسمبلی کے اس فیصلے کو بھی نظر انداز کر دیا گیا جس میں کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی مخالفت کی گئی تھی۔

    کراچی کو پہلے وفاقی دارالحکومت بنایا گیا اور بعد ازاں اسے مغربی پاکستان کی ایک ڈویژن کی حیثیت سے وفاقی کنٹرول میں رکھا گیا، یہاں تک کہ 1970 میں ون یونٹ کا خاتمہ ہوا۔

    سوال یہ ہے کہ اس زبردستی کے وفاقی کنٹرول کے طویل عرصے کے دوران کراچی کے لیے وفاق کی جانب سے ایسا کون سا بڑا اور تاریخی منصوبہ دیا گیا جس نے شہر کی زندگی بدل دی ہو؟

    1947 تک ایشیا کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہونے والا کراچی، دارالحکومت بننے کے بعد رفتہ رفتہ ایسے بے ہنگم شہری پھیلاؤ کا شکار ہوتا گیا جہاں بدانتظامی، جرائم، کرپشن اور گندگی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔

    مسئلہ صوبوں کا نہیں، حکمرانی کا ہے

    پاکستان کبھی مستقل سیاسی استحکام حاصل نہیں کر سکا۔ ملک کے مسائل کی بنیادی وجہ صوبے یا سیاست دان نہیں، بلکہ حکمرانی کا وہ اسٹیبلشمنٹی طریقہ ہے جو قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک مختلف شکلوں میں جاری رہا ہے۔

    ملک کی بنیاد کا پہلا پتھر ہی ایسے انداز میں رکھا گیا جس نے آگے چل کر متعدد مسائل کو جنم دیا۔ ابتدائی اسٹیبلشمنٹ میں مہاجر بیوروکریسی، پنجابی فوج اور ایسے سیاست دان شامل تھے جن کے سیاسی و سماجی پس منظر کے حوالے سے بھی متعدد سوالات موجود تھے۔

    جب ملک کی پہلی کابینہ تشکیل دی گئی تو اس میں ایک بھی بلوچ یا سندھی شامل نہیں تھا، حالانکہ قانون ساز اسمبلی سندھ کی سرزمین پر اجلاس کر رہی تھی۔

    ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی بنیادی ذمہ داری آئین بنانا تھی، لیکن وہ اپنی اس پہلی اور بنیادی ذمہ داری میں ناکام رہی۔

    کراچی کو سندھ سے الگ کرنا، اردو کو مسلط کرنا، 1948 کے منظم نسلی فسادات اور سندھ یونیورسٹی کو کراچی سے منتقل کرنے جیسے اقدامات مقامی آبادی کو سیاسی اور سماجی طور پر کمزور کرنے کے ایک وسیع عمل کا حصہ بنے۔

    اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کی آواز کو دبانے اور لوگوں کو اپنی پسند کی حکومت منتخب کرنے کے حق سے محروم رکھنے کی روش نے ملک کو سیاسی انتشار اور افراتفری کی طرف دھکیل دیا۔

    لیکن مسائل حل کرنے کے بجائے اسٹیبلشمنٹ نے ایک اور ’عظیم‘ تجویز پیش کی: ون یونٹ۔

    ون یونٹ سے چھوٹے صوبوں تک

    مغربی پاکستان کے تمام صوبوں کو ملا کر ایک یونٹ تشکیل دینے کو اس وقت ملک کے تمام مسائل کا علاج قرار دیا گیا تھا۔ آج چھوٹے صوبوں کا تصور بھی تقریباً اسی انداز میں ایک حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

    لیکن ون یونٹ بالآخر ملک کو کس سمت لے گیا، یہ تاریخ کا حصہ ہے۔ وقت ثابت کرے گا کہ موجودہ نئی تجرباتی مہم بھی اگر اسی طریقۂ کار کے ساتھ آگے بڑھائی گئی تو اس کے نتائج مختلف نہیں بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان کبھی سیدھی راہ پر نہیں چل سکا۔ اقتدار کی چوٹی پر بیٹھے لوگوں کے بدلنے کے ساتھ ملک کا سیاسی اور نظریاتی رخ بھی بدلتا رہا۔ کبھی ہم جمہوریہ بنتے ہیں، پھر اسلامی جمہوریہ، پھر مذہبی جذبات کے راستے پر چلتے ہیں اور اچانک ’روشن خیال‘ بن جاتے ہیں۔

    ملک کا تصور ہر نئے حکمران کی سیاسی سوچ، نظریے اور خواہش کے مطابق تبدیل ہوتا رہا ہے۔ اور اب ’سپر وزیر اعظم‘ چھوٹے صوبوں کا تصور لے کر آئے ہیں!

    سوال یہ ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے سے بھی چھوٹی اکائیوں کے قیام سے آخر ایسا کیا حاصل کیا جا سکتا ہے جو موجودہ صوبائی نظام میں حاصل نہیں کیا جا سکتا؟

    یا پھر اصل مقصد یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ملنے والے اختیارات دوبارہ واپس لیے جائیں؟

    گوادر اور سندھ کی تقسیم؟

    آئیے ایک بار پھر ’سیالکوٹ کے سقراط‘ کی تجویز کی طرف آتے ہیں۔

    گوادر کو الگ کرنا شاید اسٹیبلشمنٹ کے لیے زیادہ مشکل نہ ہو، کیونکہ بلوچستان پہلے ہی طاقت کے دباؤ کا شکار ہے۔ لیکن کیا سندھ کے لوگ اپنی مادری دھرتی کی تقسیم اتنی آسانی سے قبول کر لیں گے؟

    صرف انتہائی نادان شخص ہی یہ سمجھ سکتا ہے کہ سندھ کے عوام ایسے کسی اقدام کو خاموشی سے قبول کر لیں گے۔

    سندھ پہلی مرتبہ اسٹیبلشمنٹ کے نشانے پر نہیں آیا۔ پہلا بڑا دھچکا 1948 میں لگا، جب کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاقی علاقہ بنا دیا گیا۔ سندھ کے لوگ اس واقعے کو نہ بھولے ہیں اور نہ ہی اسے معاف کیا ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا سندھ کے لوگ ایک مرتبہ پھر اسی تاریخ کو دہرانے کی اجازت دیں گے؟

    ایک اور محاذ کیوں؟

    اسٹیبلشمنٹ صرف محدود سوچ کا شکار نہیں، بلکہ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ ماضی سے سبق سیکھنے کے بجائے اسے بہت جلد بھول جاتی ہے۔

    اگر ایم آر ڈی کی تحریک بھی فراموش ہو چکی ہے تو کم از کم گزشتہ سال ڈبلرو بائی پاس پر پانی کے مسئلے کے خلاف ہونے والا دھرنا تو یاد ہونا چاہیے۔

    ملک پہلے ہی اندرونی بحرانوں کے دہانے پر کھڑا ہے۔ بلوچستان میں بدامنی جاری ہے، خیبر پختونخوا بے چینی کا شکار ہے اور کشمیر میں بھی مسلح مزاحمت کی صورتِ حال موجود ہے۔

    کیا یہ مسائل کافی نہیں ہیں؟

    آخر کس نادان شخص نے اسٹیبلشمنٹ کو یہ مشورہ دیا ہے کہ سندھ میں ایک اور محاذ کھولا جائے؟

    چھوٹے صوبے بنانے کے بجائے عوام کو اختیار دیا جائے۔ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے سے آپ کو کس نے روکا ہے؟ میونسپل کمیٹیوں کو آپ اہمیت ہی نہیں دیتے، حالانکہ یہی ادارے تقسیمِ ہند سے بھی پہلے کے دور میں عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرتے رہے ہیں۔

    اس لیے چھوٹے صوبوں کی تجویز کو ترک کر دینا چاہیے۔ یہ مسائل حل کرنے کے بجائے شاید مزید مسائل پیدا کرے۔

    اصل ضرورت ملک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کی نہیں، بلکہ ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی گرفت سے آزاد کرنے کی ہے۔

    عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا جائے۔ لوگوں کو اپنی حکومت منتخب کرنے، اپنے وسائل کے بارے میں فیصلہ کرنے اور اپنے مستقبل کی سمت متعین کرنے کا اختیار دیا جائے۔

    ملک کے مسائل کا حقیقی حل نئے صوبوں کے نقشے میں نہیں، بلکہ اختیار عوام کو دینے میں پوشیدہ ہے۔

  • پتھر، پرکار اور بند دروازے: قدیم کراچی میں فری میسنری کی تاریخ اور معاشرتی اثرات

    پتھر، پرکار اور بند دروازے: قدیم کراچی میں فری میسنری کی تاریخ اور معاشرتی اثرات

    کراچی کے ایم آر کیانی روڈ پر واقع، کراچی پریس کلب کے نزدیک، پیلے جیزری پتھر سے تعمیر شدہ ایڈورڈین طرز کی شاہکار عمارت کے سامنے سے گزرتے ہوئے آج شاذ و نادر ہی کوئی یہ اندازہ لگا سکے کہ ان خاموش راہداریوں، لکڑی کی سیڑھیوں اور بلند و بالا ستونوں کے پیچھے استعماری کراچی کی ایک طویل، پراسرار اور اثر انگیز تاریخ پوشیدہ ہے۔

    عام شہریوں کے لیے برسوں تک ‘جادو گھر’ کے نام سے معروف رہنے والی یہ عمارت دراصل ‘فری میسن لاج’ یا ‘لاج آف ہوپ’ تھی، ایک ایسا مرکز جس کے بند دروازوں کے پیچھے نوآبادیاتی طاقت، مقامی ایلیٹ اور عالمی بھائی چارے کا ایک اچھوتا تانا بانا بنا گیا۔

    برطانوی راج کے تحت بننے والے کراچی میں جہاں ریل، بندرگاہ اور تجارتی منڈیاں قائم ہو رہی تھیں، وہاں اس خفیہ سوسائٹی نے شہر کی سیاسی، معاشی اور بلدیاتی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے۔

    سندھ میں ورثہ اور لاج آف ہوپ کا قیام

    سندھ پر برطانوی قبضے 1843 سے ذرا قبل، 1842 میں اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے ممتاز ڈاکٹر، سائنسدان اور پروونشل گرینڈ ماسٹر ڈاکٹر جیمز برنز نے کراچی میں فری میسنری کی بنیاد رکھنے کی ہدایت جاری کی۔ اس کا مقصد سندھ میں تعینات برطانوی فوجی و سول حکام کے لیے ایک ایسا اتحاد اور نگار خانہ قائم کرنا تھا جہاں وہ اپنے عالمی فلسفے، یعنی ‘اخلاقی ارتقا اور بھائی چارے’ کے تحت اکٹھے ہو سکیں۔

    شروع میں اس لاج کے اجتماعات صدر اور کنٹونمنٹ کے عارضی مقامات پر ہوا کرتے تھے۔ تاہم، 20ویں صدی کے اوائل میں جب کراچی بمبئی پریسیڈنسی کے تحت ایک شاندار اور جدید میٹروپولیٹن شہر کی شکل اختیار کر رہا تھا، تو فری میسنز کے لیے ایک باقاعدہ اور مستقل مرکز کی ضرورت محسوس کی گئی۔

    بالآخر 18 دسمبر 1914 کو موجودہ ایم آر کیانی روڈ پر ‘لاج آف ہوپ نمبر 360’ کی شاندار عمارت کا افتتاح ہوا۔ اس عمارت کی معماری میں یونانی کلاسیکی ستون، سنہری پالش والی لکڑی کی سیڑھیاں، وسیع ڈائننگ ہال اور ایک پرسکون لائبریری شامل کی گئی، جو اس دور کی برطانوی اشرافیہ کے پُرتکلف ذوق کی عکاسی کرتی تھی۔

    قدیم کراچی کی ایک کثیر المذاہب ایلیٹ نیٹ ورک کمیونٹی

    یہ تاثر عام ہے کہ فری میسن لاج صرف انگریز حکمرانوں کا اڈہ تھا، لیکن تاریخی حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ 19ویں صدی کے آخر اور 20ویں صدی کے اوائل میں یہ لاج قدیم کراچی کے سب سے طاقتور، بااثر اور کثیر المذاہب طبقے کا مرکوزہ اجتماعی مرکز بن چکی تھی۔

    برطانوی سول و ملٹری بیوروکریسی اس نیٹ ورک کا اہم حصہ تھی۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے جج، کلیکٹرز اور فوج کے اعلیٰ افسران اس لاج کی بنیادی ریڑھ کی ہڈی تھے۔

    امیر پارسی تجارتی طبقات بھی اس نیٹ ورک میں شامل تھے۔ قدیم کراچی کے ارتقا اور ترقی میں پارسی برادری کا کردار محتاج بیان نہیں۔ پارسی تاجر انگریز انتظامیہ کے فکری اور معاشی طور پر بہت قریب تھے۔ جہانگیر کوٹھاری، ایڈلجی دنشاہ اور میتھا خاندانوں جیسی بااثر پارسی شخصیات کے کئی افراد انگریز افسران کے ساتھ ایک ہی لاج میں برابری کی سطح پر بیٹھتے تھے۔

    20ویں صدی میں انگریزی تعلیم یافتہ مقامی اشرافیہ، نامور ہندو سیٹھوں اور ولایت سے پڑھے ہوئے مسلم بیرسٹرز و ججز نے بھی اس لاج کی رکنیت اختیار کی۔

    اگرچہ فری میسن لاج کے اندر سیاست اور مذہب پر بحث کرنے پر رسمی پابندی تھی، لیکن شہر کے تمام بااثر معاشی اور انتظامی مہروں کا ایک ہی چھت تلے جمع ہونا اس بات کی ضمانت تھا کہ کراچی کی بندرگاہ، بلدیاتی منصوبوں اور تجارتی نیٹ ورکس کے لیے اہم غیر رسمی فیصلے اسی عمارت کی راہداریوں میں طے پاتے تھے۔

    جادو گھر’ کا مفروضہ اور عوامی نفسیات

    نوآبادیاتی دور میں عام شہریوں، مزدوروں اور مقامی غریب آبادی کے لیے اس عمارت کے اندر قدم رکھنا تو درکنار، اس کے قریب پھٹکنا بھی ناممکن تھا۔ شام کے وقت جب بگیوں اور قیمتی گاڑیوں میں سوار ہو کر بااثر شخصیات یہاں پہنچتیں اور عمارت کے وزنی لکڑی کے دروازے بند کر دیے جاتے، تو باہر کی دنیا میں قیاس آرائیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا۔

    عمارت کے اندرونی ہالز میں فرش پر چک دار سیاہ و سفید ٹائلیں، پرکار اور گونیا، مربع اور پرکار کی پراسرار علامات اور ارکان کے مخصوص اشاروں و ہاتھ ملانے کے خفیہ طریقوں نے عوام کے ذہنوں میں دہشت اور حیرت کا امتزاج پیدا کر دیا۔

    مقامی آبادی نے اس پراسرار اور الگ تھلگ عمارت کو ‘جادو گھر’ کا نام دے دیا۔ عوام کا ماننا تھا کہ انگریز اور سیٹھ رات کی تاریکی میں اندر جمع ہو کر کالا جادو کرتے ہیں، سحر انگیز عمل کے ذریعے غیب کا علم حاصل کرتے ہیں یا کسی نادیدہ طاقت کو تسخیر کرتے ہیں۔ یہ دیو مالائی کہانیاں زبان زد عام رہیں اور نسلاً بعد نسل کراچی کے لوک داستانوی حافظے کا حصہ بن گئیں۔

    مذہبی ابہام، صیہونیت اور عالمی تناظر

    فری میسنری کا اپنا دعویٰ یہ تھا کہ وہ محض ایک غیر مذہبی اخلاقی بھائی چارہ ہے جس میں ہر اس شخص کو شامل کیا جاتا ہے جو کسی ایک ‘اعلیٰ طاقت’ پر یقین رکھتا ہو۔ لیکن اس کے اندرونی فلسفے اور رسومات میں ہیکل سلیمانی کی تعمیر اور قبالہ کے یہودی تصوف کی علامات کا گہرا دخل تھا۔

    20ویں صدی کے نصف میں، خاص طور پر 1948 میں صیہونی ریاست کے قیام کے بعد، عالمی سطح پر یہ بحث شدت اختیار کر گئی کہ فری میسنری اور صیہونیت کے درمیان پس پردہ گہرے روابط موجود ہیں۔ عالم اسلام اور کیتھولک چرچ دونوں نے اس تنظیم پر سخت تنقید کی اور اسے اسلامی و ملکی مفادات کے خلاف ایک بین الاقوامی خفیہ نیٹ ورک قرار دیا۔

    پابندی، تحویل اور موجودہ حالت

    قیام پاکستان کے بعد بھی کراچی کا یہ فری میسن لاج چند دہائیوں تک عارضی اور محدود پیمانے پر کام کرتا رہا۔ لیکن بالآخر 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے ایک تاریخی اور سٹریٹیجک فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان بھر میں فری میسنری اور اس سے وابستہ تمام لاجز پر مکمل پابندی عائد کر دی۔

    پابندی کے بعد کراچی کے اس ‘جادو گھر’ کے تمام ریکارڈز، علامات اور چابیاں ریاست نے اپنی تحویل میں لے لیں۔

    1990 کی دہائی میں یہ عمارت محکمہ تحفظ جنگلی حیات کو سونپ دی گئی۔

    سندھ کلچرل ہیریٹیج ایکٹ 1994 کے تحت اس شاندار تاریخی عمارت کو محفوظ قومی و صوبائی ورثہ قرار دیا گیا۔

    آج اس عمارت کے مرکزی ہالوں اور کمروں میں سندھ وائلڈ لائف کے دفاتر، نایاب حنوط شدہ جانوروں اور پرندوں کا ایک چھوٹا نیچرل ہسٹری میوزیم اور پبلک لائبریری قائم ہے۔

    ایک علمی و تاریخی جائزہ

    کراچی کا فری میسن لاج محض ایک پرانی عمارت نہیں، بلکہ یہ نوآبادیاتی دور کی اس سماجی اور معاشی بساط کا زندہ ثبوت ہے جس نے جدید کراچی کی بنیادیں رکھیں۔ یہ عمارت اس بات کی گواہ ہے کہ کس طرح ایک غیر ملکی استعماری طاقت نے مقامی ایلیٹ کو اپنے ساتھ ملا کر ایک خفیہ اور بااثر نیٹ ورک قائم کیا۔

    آج اگرچہ اس عمارت کے اندر کا ‘جادو’ ختم ہو چکا ہے اور فری میسنز کا راز تاریخ کے اوراق میں گم ہو چکا ہے، لیکن اس کی خوبصورت لکڑی کی سیڑھیاں، سنہری پالش والے دروازے اور خاموش راہداریاں آج بھی خاموشی سے اس دور کی داستان سناتی ہیں جب کراچی پر انگریز بیوروکریٹ، پارسی تاجر، ہندو سیٹھ اور مسلم بیرسٹرز مل کر ایک بند کمرے سے حکومت کیا کرتے تھے۔

  • کراچی سندھ کا تاریخی شہر اور اس کے معمار

    کراچی سندھ کا تاریخی شہر اور اس کے معمار

    نام نہاد بانیانِ پاکستان کا نعرہ لگانے والے کچھ متعصب افراد اور تنظیمیں کراچی کی ملکیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ کراچی، جو آج پاکستان کی معاشی شہ رگ اور دنیا کے بڑے میگا شہروں میں شمار ہوتا ہے، اس کی تاریخ ہندوستان کی تقسیم کے وقت ہجرت کرکے آنے والے مہاجروں کی آمد سے سینکڑوں سال پہلے شروع ہو چکی تھی۔

    یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کراچی کو جدید طرز پر تعمیر کرنے، اس کی بنیادیں مضبوط کرنے اور اسے ایک ترقی یافتہ تجارتی مرکز بنانے میں سندھیوں، سندھ کی سرکردہ شخصیات اور ہندو سندھی تاجروں کا کردار بنیادی اور فیصلہ کن رہا ہے۔

    جب اردو بولنے والی مہاجر برادری کے زیادہ تر لوگ ہندوستان کے مختلف علاقوں، جیسے اتر پردیش، سینٹرل پردیش، بہار اور لکھنؤ میں اپنی زندگی گزار رہے تھے، اس وقت سندھ کے سرگرم رہنما کراچی کو عالمی معیار کا شہر بنانے کے لیے عملی میدان میں موجود تھے۔

    کراچی اصل میں سندھ کے ماہی گیروں اور مقامی لوگوں، یعنی کولاچی کے ملاحوں کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ برطانوی راج کے دوران، خاص طور پر 1843ء میں سندھ پر انگریزوں کے قبضے کے بعد، کراچی کی جغرافیائی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے ایک بندرگاہ اور انتظامی مرکز کے طور پر ترقی دی گئی۔ اس پورے عمل میں سندھ کی زمین، سندھ کے پیسے اور سندھ کے مقامی لوگوں کا براہِ راست کردار تھا۔

    کراچی کے اصل معمار: چند اہم تاریخی شخصیات

    کراچی کو جدید شہر بنانے میں جن عظیم شخصیات کے نام سب سے نمایاں ہیں، ان میں جمشید مہتا، سائیں جی۔ ایم۔ سید اور رائے ہری چند رائے کے نام تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف میں لکھے گئے ہیں۔

    جمشید این۔ آر۔ مہتا (جمشید مہتا):

    جمشید مہتا کو ’کراچی کا فادر‘ (کراچی کا باپ) کہا جاتا ہے۔ وہ کراچی میونسپل کارپوریشن کے پہلے صدر اور بعد میں میئر رہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کراچی کی بہتری کے لیے وقف کیا۔ شہر میں پینے کے پانی کا نظام، صفائی کا بہترین انتظام، عوامی پارک، اسکول اور اسپتال قائم کرنے میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ انہوں نے کراچی کو ایک صاف ستھرا، سرسبز اور جدید بین الاقوامی شہر بنانے کی بنیاد رکھی۔

    1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں لاکھوں لوگ ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے، جن میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو یو۔ پی، سی۔ پی، بہار اور لکھنؤ سے آئے تھے۔ جب وہ کراچی منتقل ہوئے تو کراچی پہلے ہی ایک تیار شدہ، ترقی یافتہ اور منظم شہر کی شکل اختیار کر چکا تھا۔

    ہجرت کرکے آنے والوں نے شہر کی بنیادیں نہیں رکھیں، لیکن پہلے سے موجود ترقی یافتہ بنیادی ڈھانچے پر اپنا سماجی اور سیاسی اثر ضرور قائم کیا۔ تاہم، سندھیوں کی قربانیوں، زمینوں اور پہلے سے کیے گئے تعمیراتی کاموں کو نظر انداز کرکے کراچی کی ترقی کا تمام کریڈٹ صرف مہاجر برادری کو دینا تاریخ کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔

    اگر دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کوئی بھی شہر راتوں رات ترقی نہیں کرتا۔ کراچی کی ترقی میں سندھیوں کی جغرافیائی، معاشی اور سیاسی قربانیاں شامل ہیں۔ جمشید مہتا جیسی شخصیات کی انتظامی صلاحیت اور سندھ کے وسائل نے اس شہر کو ایشیا کے ایک مثالی شہر کے طور پر متعارف کرایا تھا۔

    تاریخ کسی بھی قوم کے حقوق اور کردار کو چھپا نہیں سکتی۔ کراچی سندھ کا حصہ ہے، سندھ کا دل ہے، اور اس دل کو دھڑکانے والے اصل ہاتھ سندھیوں کے ہی تھے اور ہیں۔

    مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کراچی کی ترقی میں مختلف برادریوں نے اپنا حصہ ڈالا ہے، لیکن سندھیوں، سندھ کے خیرخواہوں، مقامی رہنماؤں اور ہندو سندھی معماروں کا کردار بنیادی اور ناقابلِ فراموش ہے۔ اردو بولنے والے مہاجروں کی آمد سے بہت پہلے کراچی اپنی ترقی کے بلند مراحل طے کر چکا تھا۔

    اس لیے تاریخی حقائق کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ کراچی کو جدید اور ترقی یافتہ شہر بنانے کا اصل فخر سندھیوں کے حصے میں آتا ہے۔ جدید کراچی کی تعمیر میں سندھ ان تین سپوتوں کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔

    سائیں جی۔ ایم۔ سید

    برطانوی ہندوستان کے دور میں مقامی لوکل بورڈ کا نظام زیادہ تر نوآبادیاتی مفادات تک محدود تھا، لیکن سندھ کے کچھ روشن ضمیر رہنماؤں نے اس پلیٹ فارم کو عوام کی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنایا۔ سائیں جی۔ ایم۔ سید نے اپنی جوانی کی ابتدائی دہائیوں ہی میں مقامی اداروں کے ذریعے عوامی خدمت کا آغاز کیا۔

    سائیں جی۔ ایم۔ سید نے کراچی لوکل بورڈ کے صدر اور نائب صدر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے کراچی اور دیگر علاقوں کی ترقی کے لیے کوشش کی اور اہم انتظامی و سماجی اصلاحات متعارف کرائیں، جنہوں نے سندھ کی سیاسی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔

    سائیں جی۔ ایم۔ سید کا مقامی حکومتوں میں سفر، مانجھند تعلقہ بورڈ سے کراچی ضلعی لوکل بورڈ تک، ترقی کا سفر تھا۔ کراچی لوکل بورڈ کے نائب صدر اور صدر کی حیثیت سے ان کے دور میں تعلیم، صحت اور آمدورفت کے حوالے سے کئی عملی اقدامات کیے گئے۔

    لوکل بورڈ میں حاصل ہونے والے اس انتظامی تجربے نے سائیں جی۔ ایم۔ سید کے مجموعی سیاسی فکر اور عوام دوست حکمت عملی تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

    سائیں جی۔ ایم۔ سید کا تعلق سن کے سنائی سادات کے ایک معزز خاندان سے تھا۔ بچپن میں والد کی وفات کے بعد خاندانی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے علاقے کے فلاحی کاموں میں دلچسپی لینا شروع کی۔

    باقاعدہ اسکولی تعلیم کے بغیر انہوں نے عربی، فارسی، سندھی اور انگریزی ادب کا وسیع مطالعہ کیا، جس نے انہیں فکری طور پر اپنے ہم عصر لوگوں سے آگے کھڑا کر دیا۔

    انہوں نے مانجھند تعلقہ بورڈ سے کراچی ضلعی لوکل بورڈ تک کا سفر طے کیا۔ 1925ء میں سائیں جی۔ ایم۔ سید پہلے مانجھند تعلقہ لوکل بورڈ کے رکن اور پھر صدر منتخب ہوئے۔

    یہیں انہوں نے پہلی بار اپنی شاندار انتظامی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ انہوں نے سن اور مانجھند میں نائٹ اسکول، انگریزی اسکول اور بورڈنگ ہاؤس کی بنیاد رکھی۔

    سائیں جی۔ ایم۔ سید نے 1928ء سے 1929ء تک اس وقت کے کراچی کلکٹریٹ کے وسیع ضلعی لوکل بورڈ میں، جس میں سندھ کے بڑے دیہی علاقے شامل تھے، نائب صدر اور پھر صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ انہوں نے رائے بہادر شیو رام دیون مل جیسی نامور شخصیات کے ساتھ مل کر کام کیا اور اپنی غیر معمولی کارکردگی منوائی۔

    سائیں جی۔ ایم۔ سید کی لوکل بورڈ کی قیادت کا دور، بنیادی طور پر 1925ء سے 1929ء کے آخر تک نائب صدر اور صدر کی حیثیت سے، فلاحی کاموں کے حوالے سے سنہری دور سمجھا جاتا ہے۔ ان کے دور میں کراچی ضلعی لوکل بورڈ کے زیر انتظام علاقوں میں نئے پرائمری اور ہائی اسکول کھولے گئے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں کے طلبہ کے لیے تعلیم عام کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔

    غریب اور قابل طلبہ کے لیے اسکالرشپ کا انتظام کیا گیا تاکہ معاشی مشکلات تعلیم کے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔

    اس وقت کراچی ضلع کے دور دراز اور مشکل علاقوں میں آمدورفت کے ذرائع نہ ہونے کے برابر تھے۔ جی۔ ایم۔ سید کی کوششوں سے سن اسٹیشن تک پکی سڑک تعمیر کرائی گئی۔

    کراچی سے کوٹری اور کوٹری سے منگھوپیر تک سڑکوں اور راستوں کا جال بچھانے کے منصوبے شروع کیے گئے تاکہ مقامی آبادی کو آمدورفت میں آسانی ہو۔ لوکل بورڈ کے فنڈز شفاف طریقے سے استعمال کرتے ہوئے دیہی سطح پر صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے شفاخانے اور اسپتال قائم کیے گئے۔

    مقامی سطح پر عوام کے پانی اور صفائی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا گیا۔ کراچی لوکل بورڈ کی تاریخی عمارت کی تعمیر اور اس کی انتظامی بہتری میں بھی ان کی فلاحی سوچ کا بڑا کردار تھا۔ بعد میں یہ عمارت شہر کی انتظامی اور سیاسی تاریخ میں ایک اہم مرکز ثابت ہوئی۔

    ایک مقامی انتظامی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے کام کرنے نے سائیں جی۔ ایم۔ سید کی مجموعی شخصیت اور سیاسی فکر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

    لوکل بورڈ کے صدر کی حیثیت سے انہیں سندھ کے کسانوں، مزدوروں اور عام لوگوں کی مشکلات، غربت اور پسماندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس تجربے سے متاثر ہو کر انہوں نے بعد میں 1930ء میں ’’سندھ ہاری کمیٹی‘‘ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

    برطانوی انتظامی نظام کی سمجھ:
    انگریز حکومت کے مقامی حکومتوں کے قوانین اور نظام کو سمجھنے کے دوران انہیں پارلیمانی سیاست اور قانون سازی، خصوصاً سندھ اسمبلی، کا تجربہ حاصل ہوا۔ اس تجربے نے آگے چل کر انہیں سندھ کا سینئر سیاست دان اور وزیر تعلیم بننے میں مدد دی۔

    خودمختار اور بے لوث قیادت:
    جی۔ ایم۔ سید کی پوری سیاسی زندگی بدعنوانی سے پاک اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے وابستہ تھی۔ لوکل بورڈ کے دور میں ان کی ایمانداری اور عوامی خدمت کے جذبے کی وجہ سے سندھ کے عوام نے انہیں عزت سے ’’سائیں‘‘ کا لقب دیا۔

    سائیں جی۔ ایم۔ سید کی کراچی لوکل بورڈ کے صدر اور نائب صدر کی حیثیت سے کارکردگی صرف چند سڑکوں یا اسکولوں کی تعمیر تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ سندھ میں ’’مقامی خود اختیاری اور فلاحی ریاست‘‘ کے تصور کا پہلا عملی اظہار تھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر کسی رہنما میں اخلاق، دردِ دل اور انتظامی صلاحیت ہو تو محدود وسائل کے باوجود عوام کی زندگی میں انقلابی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

    سائیں جی۔ ایم۔ سید نے سندھ کے وزیر تعلیم کی حیثیت سے سندھ یونیورسٹی، کراچی میں پرائمری اسکولوں سے لے کر نئے کالجوں کے قیام اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بھی شاندار کام کیا۔

    جمشید نسروانجی مہتا

    کراچی، جو آج پاکستان کے سب سے بڑے معاشی اور میگا سٹی کے طور پر پہچانا جاتا ہے، اس کی جدید بنیادوں اور شہری ترقی میں جمشید نسروانجی مہتا کا نام سب سے نمایاں طور پر لیا جاتا ہے۔ انہیں ’کراچی کا باپ‘ (Father of Karachi) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

    جمشید نسروانجی صرف ایک سیاست دان یا بلدیاتی رہنما نہیں تھے بلکہ وہ درویش صفت انسان، سماجی مصلح اور بین الاقوامی سطح کے شہری مفکر بھی تھے۔ ان کا انتظامی ماڈل آج بھی شہری منصوبہ بندی اور بہتر حکمرانی کے لیے ایک مثال سمجھا جاتا ہے۔

    جمشید نسروانجی 1886ء میں کراچی کے ایک معزز پارسی خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد انسانی خدمت اور سماجی اصلاح بنایا۔ ان کا نظریہ اس اصول پر مبنی تھا کہ حکومت کا اصل مقصد شہریوں کی فلاح، برابری اور اخلاقی بلندی ہے، نہ کہ طاقت کا مرکز بننا۔

    جمشید نسروانجی 1922ء میں کراچی میونسپل کارپوریشن (KMC) کے پہلے منتخب صدر، یعنی میئر، بنے اور تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک شہر کی ترقی کے لیے بے مثال کام کیا۔ ان کے دور میں کراچی میں کئی اہم ترقیاتی کام ہوئے۔

    جدید شہری منصوبہ بندی

    جمشید نسروانجی نے کراچی کو گندگی اور بے ترتیب پھیلاؤ سے نکال کر ایک خوبصورت شہر بنانے کا عزم کیا۔ انہوں نے کراچی کی توسیع، صفائی ستھرائی اور جدید سیوریج نظام کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے شہر کے مختلف علاقوں کو ملانے والی سڑکوں اور پارکوں کا ایک مربوط نظام ترتیب دیا۔

    شہر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فلٹریشن پلانٹ لگائے اور پانی کی نئی لائنیں بچھائیں۔ غریب لوگوں کے لیے سستے گھر اور اسپتال بنائے گئے، جن میں جمشید میڈیکل سینٹر کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

    جمشید نسروانجی کا یقین تھا کہ ترقی کا راستہ تعلیم سے گزرتا ہے۔ ان کے دور میں کئی اسکول اور تعلیمی ادارے قائم کیے گئے۔ اس کے ساتھ بچوں اور خواتین کی صحت کے لیے خصوصی فلاحی پروگرام بھی شروع کیے گئے۔

    کراچی کی ترقی میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ شہر کی مختلف برادریوں، یعنی ہندوؤں، مسلمانوں، پارسیوں اور عیسائیوں کو ساتھ رکھنا تھا۔ انہوں نے کبھی مذہب کی بنیاد پر فرق نہیں کیا۔ اسی وجہ سے پورے برصغیر میں کراچی کو امن اور رواداری کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا۔

    جمشید نسروانجی نے اپنی ذاتی زندگی میں انتہائی سادگی اختیار کی اور میونسپل فنڈز کے ایک ایک پیسے کا حساب رکھا۔ وہ سرکاری کاموں کے لیے اپنی ذاتی رقم بھی خرچ کرتے تھے۔ وہ شہر کے غریب اور پسماندہ طبقات کو شہری ترقی کا مرکزی حصہ سمجھتے تھے، جو آج کے پائیدار ترقی کے اہداف کا بنیادی اصول بھی ہے۔

    انہوں نے اقتدار کو اعزاز نہیں بلکہ عوام کی خدمت کا ذریعہ سمجھا۔ جب انہوں نے عہدہ چھوڑا تو ان کے پاس کوئی بڑی ذاتی جائیداد یا بینک بیلنس نہیں تھا، بلکہ وہ عوام کے دلوں پر حکومت کر رہے تھے۔

    جمشید نسروانجی مہتا کا نام کراچی کی تاریخ کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑا رہے گا۔ ان کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ کسی بھی شہر کی حقیقی ترقی صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کی خوشحالی، انسانی اقدار اور ایماندار قیادت سے ہوتی ہے۔

    عالمی سطح پر ہونے والی تحقیق میں انہیں ایک ایسے مثالی منتظم کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے جس نے جنوبی ایشیا کی شہری تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔

    رائے بہادر ہری چند رائے

    کراچی، جو آج پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی اور معاشی مرکز، یعنی میگا سٹی، ہے، اسے اس مقام تک پہنچانے میں برطانوی دور حکومت اور اس وقت کی نامور مقامی شخصیات کا اہم کردار رہا ہے۔ ان رہنماؤں میں رائے بہادر ہری چند رائے، یعنی سیٹھ ہری چند وشنداس، کا نام تاریخ میں ’جدید کراچی کا بانی‘ (Father of Modern Karachi) کے طور پر لیا جاتا ہے۔

    یکم مئی 1862ء کو پیدا ہونے والے ہری چند رائے نے بمبئی کے ایلفنسٹن کالج سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور قانون کے شعبے میں پیشہ ورانہ مہارت حاصل کرنے کے بعد اپنی پوری زندگی کراچی کی ترقی کے لیے وقف کر دی۔

    ہری چند رائے 1911ء سے 1921ء تک کراچی میونسپل کارپوریشن کے صدر رہے۔ صفائی اور سڑکوں کی تعمیر جیسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں ان کے کردار کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے لیاری ندی کا رخ تبدیل کرکے نئی آبادیوں کے لیے زمین فراہم کرنے کے منصوبے کی فنی بنیاد رکھی۔

    کراچی کو ایک عام بندرگاہ سے جدید شہر بنانے کے لیے ہری چند رائے نے کئی اہم اقدامات کیے۔

    جب برصغیر کے کئی اچھے خاصے شہروں میں بجلی کی سہولت موجود نہیں تھی، اس وقت ہری چند رائے نے کراچی شہر میں بجلی لانے اور اسے ’روشنیوں کا شہر‘(City of Lights) بنانے کی حکمت عملی تیار کی۔ ان کی کوششوں سے کراچی میں بجلی گھر تعمیر کیے گئے۔

    ان کے دور میں شہر میں پینے کے پانی، گندے پانی کی نکاسی اور سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ گیس لیمپوں کا استعمال بھی شروع ہوا۔ 1912ء میں کراچی میں بجلی کی فراہمی شروع ہونے کے بعد اسے ’روشنیوں کا شہر‘ کہا جانے لگا۔

    ان کے دور میں انجینئرنگ اور شہری منصوبہ بندی کے کئی شاندار منصوبے مکمل ہوئے۔ لیاری ندی اور زمین کی توسیع کے منصوبوں کے ذریعے شہر کو سیلاب سے بچانے اور مزید ترقی دینے کے لیے لیاری ندی کا رخ تبدیل کیا گیا۔ نئے علاقوں، کوارٹروں اور رہائشی اسکیموں کی تعمیر کے منصوبے بنائے گئے۔ پارکوں، تفریح گاہوں اور شہر کی خوبصورتی کے لیے بھی مختلف منصوبے تیار کیے گئے۔

    کراچی جم خانہ اور سندھ کلب سمیت کراچی کو ایک شاندار شہر بنانے میں رائے بہادر ہری چند رائے کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  • باغ جناح: تاریخی فریئر ہال کے سائے میں کراچی کی تاریخ، ہریالی اور رونق

    باغ جناح: تاریخی فریئر ہال کے سائے میں کراچی کی تاریخ، ہریالی اور رونق

    کراچی کے صدر ٹاؤن میں واقع فن تعمیر کے شاہکار فریئر ہال کے چاروں طرف پھیلا ہوا سبزہ، درختوں اور رنگ برنگے پھولوں سے سجا باغ جناح شہر کے اہم تاریخی اور تفریحی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

    سابق امریکی قونصل خانے اور فائیو اسٹار ہوٹل میریٹ کے سامنے واقع فریئر ہال برطانوی دور حکومت کی یادگار ہے، جبکہ اس کے چاروں طرف پھیلا باغ جناح آج بھی کراچی کے شہریوں کے لیے ایک اہم تفریحی مقام ہے۔ شہر کی مصروف زندگی کے درمیان یہ باغ لوگوں کو کچھ دیر سکون، کھلی فضا اور ہریالی فراہم کرتا ہے۔

    1887 سے 1888 کے درمیان اس باغ کی تعمیر کے بعد اسے کنگز لان اور کوئینز لان کے نام سے جانا جاتا تھا۔ دراصل یہ باغ فریئر ہال کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ برطانوی دور میں یہاں انگریز افسران اپنے خاندانوں کے ساتھ شام کی سیر اور ہوا خوری کے لیے آیا کرتے تھے۔ باغ میں ملکہ وکٹوریہ اور کنگ ایڈورڈ ہفتم کے مجسمے بھی نصب کیے گئے تھے، شاید اسی وجہ سے اس مقام کو کنگز لان اور کوئینز لان کے نام سے پکارا جانے لگا۔ قیام پاکستان کے بعد اس کا نام باغ جناح رکھ دیا گیا۔

    باغ جناح میں کئی سو درخت موجود ہیں، جن میں بعض درخت برطانوی دور کی یادگار سمجھے جاتے ہیں۔ نیم، پیپل، برگد اور سفیدے کے درخت باغ کے ماحول کو گھنا اور دلکش بناتے ہیں۔ باغ کے وسط میں ایک تاریخی فوارہ بھی موجود ہے، جسے 1938 میں مخیر پارسی شخصیت سیٹھ ادلجی ڈنشا نے تعمیر کروایا تھا۔ اپنی قدامت اور طرز تعمیر کے باعث یہ فوارہ بھی باغ کی تاریخی شناخت کا حصہ ہے۔

    فریئر ہال اور باغ جناح کا انتظام بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پاس ہے۔ باغ کی دیکھ بھال کے لیے تعینات عملہ گھاس کی کٹائی، پودوں اور پھولوں کی دیکھ بھال، صفائی اور باغ کی حفاظت سمیت مختلف ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔

    باغ کی مغربی سمت میں ایک نوکیلا، ستون نما مینار بھی موجود ہے۔ یہ پہلی جنگ عظیم میں برطانوی فوج کی جانب سے لڑتے ہوئے ہلاک ہونے والے مقامی سپاہیوں کی یاد میں تعمیر کیا گیا تھا۔ ان سپاہیوں کا تعلق بلوچ انفنٹری سے تھا۔ یادگاری مینار پر اردو اور انگریزی میں ان برطانوی افسروں، نان کمیشنڈ افسروں اور سپاہیوں کے نام درج ہیں جنہوں نے پہلی جنگ عظیم میں جانیں گنوائیں۔

    باغ جناح میں 1997 سے ہفتہ وار کتابوں کا میلہ بھی کئی برس تک وقفے وقفے سے منعقد ہوتا رہا۔ یہاں نئی اور پرانی کتابوں کے ڈیڑھ سے دو درجن اسٹال لگتے تھے، جہاں شہر بھر سے شاعر، ادیب، طلبہ اور کتابوں کے شوقین افراد پہنچتے اور اپنی پسند کی کتابیں خریدتے تھے۔ بعد میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہ کتاب بازار بند کر دیا گیا۔

    باغ جناح کی انگوٹھی کا نگینہ دراصل فریئر ہال ہے، جو آج بھی مختلف ثقافتی، ادبی اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے ایک ہال میں لیاقت نیشنل لائبریری قائم ہے، جبکہ بالائی حصے میں پاکستان کے عظیم مصور صادقین کے نام سے صادقین گیلری اور لائبریری بھی موجود ہے۔ فریئر ہال کی چھت پر نصب مرغ بادنما بھی آج تک اپنی جگہ موجود ہے۔ پرانے زمانے میں ایسے مرغ بادنما سے ہوا کا رخ اور سمت معلوم کرنے میں مدد لی جاتی تھی۔

    باغ جناح مجموعی طور پر تقریباً 15 ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔ یہاں کئی واکنگ ٹریکس ہیں جہاں صبح اور شام کے اوقات میں مرد، خواتین اور بچے چہل قدمی اور ہوا خوری کرتے نظر آتے ہیں۔ بچوں کے لیے جھولوں اور کھیلنے کی جگہیں بھی موجود ہیں، جبکہ خواتین اور خاندان یہاں نسبتاً پرسکون ماحول میں وقت گزارتے ہیں۔

    فریئر ہال کی تاریخی عمارت کو پس منظر میں لیے نوبیاہتا جوڑے عروسی لباس میں تصاویر بنواتے نظر آتے ہیں، جبکہ نوجوانوں کے لیے بھی باغ جناح اور فریئر ہال ویڈیوز اور تصویریں بنانے کا ایک پسندیدہ مقام بن چکے ہیں۔

    یہاں دن بھر رونق رہتی ہے۔ کہیں چائے کے دور چلتے ہیں، کہیں کولڈ ڈرنکس اور چاٹ کے اسٹال شہریوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ شام ڈھلتے ہی باغ کی فضا مزید دلکش ہو جاتی ہے اور فوڈ کارٹس کی روشنیاں اس تاریخی مقام میں ایک الگ رنگ بھر دیتی ہیں۔ لوگ یہاں سیر بھی کرتے ہیں، کچھ وقت گزارتے ہیں اور واپسی سے پہلے اپنی پسندیدہ چائے، چاٹ یا دیگر کھانوں سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔

    باغ جناح آج صرف درختوں، پھولوں اور واکنگ ٹریکس کا نام نہیں۔ یہ کراچی کی نوآبادیاتی تاریخ، شہری زندگی، ثقافت، ادب اور تفریح کو ایک ہی جگہ سمیٹے ہوئے ہے۔

    فریئر ہال کے سائے میں پھیلا یہ باغ وقت کے ساتھ کئی نام اور کئی رنگ بدل چکا ہے، لیکن کراچی کے شہریوں کے لیے آج بھی یہ شہر کے ان مقامات میں شامل ہے جہاں ماضی کی یادیں، موجودہ زندگی اور شہر کی رونق ایک ساتھ دکھائی دیتی ہے۔