Tag: تاریخ

  • ‘نظریہ ضرورت’ کے تحت عدالتی فیصلہ، جس نے ملک کی تاریخ کو یکسر بدل دیا

    ‘نظریہ ضرورت’ کے تحت عدالتی فیصلہ، جس نے ملک کی تاریخ کو یکسر بدل دیا

    پاکستان کی عدالتی تاریخ صرف قانونی فیصلوں کی تاریخ نہیں بلکہ اقتدار، فوج، سیاست، آئین اور ریاستی طاقت کی ایک ایسی کہانی ہے جہاں بعض مقدمات اتنے عجیب، متنازع اور غیر معمولی رہے کہ انہوں نے پورے ملک کی سمت بدل دی۔

    کچھ فیصلے ایسے تھے جن میں عدالت نے آمریت کو قانونی تحفظ دیا، کچھ میں منتخب وزرائے اعظم کو برطرف کیا گیا، جبکہ کچھ مقدمات میں چند منٹ کی پارلیمانی کارروائی نے پورے ملک کو آئینی بحران میں دھکیل دیا۔

    پاکستان کے عجیب ترین عدالتی مقدمات میں سب سے پہلے 1954 کا مولوی تمیز الدین کیس آتا ہے۔ اُس وقت پاکستان ابھی نیا ملک تھا اور آئین سازی جاری تھی۔ گورنر جنرل غلام محمد نے اچانک دستور ساز اسمبلی توڑ دی۔ یہ وہ اسمبلی تھی جو پاکستان کا آئین بنا رہی تھی۔ اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین خان عدالت پہنچے اور مؤقف اختیار کیا کہ گورنر جنرل کو اسمبلی توڑنے کا اختیار نہیں۔

    سندھ چیف کورٹ (برطانوی دور میں ہائی کورٹ کے لیے استعمال ہونے والا لفظ) نے اسمبلی کے حق میں فیصلہ دیا اور کہا کہ اسمبلی بحال ہونی چاہیے۔ مگر بعد میں وفاقی عدالت کے چیف جسٹس محمد منیر نے فیصلہ بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی ضرورت کے تحت گورنر جنرل کا اقدام درست تھا۔ اسی فیصلے سے ‘نظریہ ضرورت’ پیدا ہوا، جس نے بعد میں پاکستان کی تاریخ میں بار بار مارشل لاز کو قانونی جواز دیا۔

    عدلیہ کی جانب سے ‘نظریہ ضرورت’ کے تحت دیے جانے والے فیصلے نے آنے والے سالوں میں ملک کی تاریخ کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ کئی قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر اُس دن عدالت اسمبلی بحال رکھتی تو شاید پاکستان میں جمہوریت کی تاریخ مختلف ہوتی۔

    اس کے بعد 1977 کا نصرت بھٹو کیس آیا۔ جنرل ضیا الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا نافذ کردیا۔ آئین معطل ہوگیا، سیاسی رہنما گرفتار ہوئے اور ملک فوجی حکومت کے نیچے آگیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ نصرت بھٹو سپریم کورٹ پہنچیں۔

    سوال یہ تھا کہ کیا فوج آئین توڑ سکتی ہے؟ عدالت نے ایک بار پھر ‘نظریہ ضرورت’ استعمال کیا اور کہا کہ غیر معمولی حالات میں فوجی اقدام جائز ہوسکتا ہے۔ عدالت نے ضیا الحق کو انتخابات کرانے کی شرط کے ساتھ وقتی اختیار دے دیا، مگر یہی وقتی اختیار گیارہ سالہ آمریت میں بدل گیا۔ بعد میں ناقدین نے کہا کہ عدالت نے آئین کے بجائے طاقت کے سامنے سر جھکا دیا تھا۔

    پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے متنازع اور پراسرار مقدمہ ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس تھا۔ 1974 میں اپوزیشن رہنما احمد رضا قصوری پر حملہ ہوا جس میں ان کے والد نواب محمد احمد خان مارے گئے۔ بعد میں الزام لگا کہ حملے کے پیچھے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے۔

    فوجی حکومت نے بھٹو کو گرفتار کرلیا۔ لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ چلا، جہاں چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین نے انہیں سزائے موت سنائی۔ بھٹو کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ جج جانبدار ہیں اور مقدمہ سیاسی انتقام ہے۔ کیس سپریم کورٹ گیا جہاں سات رکنی بینچ نے چار تین کی اکثریت سے سزا برقرار رکھی۔ صرف ایک ووٹ نے ایک منتخب وزیر اعظم کی جان لے لی۔

    چار اپریل 1979 کو بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ بعد میں کئی ججوں، سیاستدانوں اور عالمی ماہرین قانون نے اسے ‘عدالتی قتل’ قرار دیا۔ حتیٰ کہ برسوں بعد سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں کہا کہ بھٹو کو شاید منصفانہ ٹرائل نہیں ملا تھا۔

    1990 کی دہائی میں اصغر خان کیس سامنے آیا، جو پاکستان کی سیاسی انجینئرنگ کی سب سے عجیب داستانوں میں شمار ہوتا ہے۔ سابق ایئر مارشل اصغر خان نے عدالت میں درخواست دی کہ 1990 کے انتخابات میں فوج اور خفیہ اداروں نے سیاستدانوں میں پیسے تقسیم کیے۔

    مقدمے میں انکشاف ہوا کہ مہران بینک کے ذریعے کروڑوں روپے سیاستدانوں کو دیے گئے تاکہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو روکا جاسکے۔ برسوں بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ واقعی سیاستدانوں میں رقوم تقسیم ہوئیں اور یہ غیر قانونی تھا۔ مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اتنا بڑا فیصلہ آنے کے باوجود عملی طور پر کسی بڑے کردار کو سزا نہ مل سکی۔

    2007 میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کی برطرفی کا مقدمہ بھی غیر معمولی تھا۔ فوجی صدر پرویز مشرف نے اچانک چیف جسٹس کو معطل کردیا۔ ٹی وی چینلز پر پہلی بار عوام نے ایک چیف جسٹس کو ریاستی طاقت کے سامنے کھڑا دیکھا۔ وکلا سڑکوں پر نکل آئے، تحریک چلی، پولیس نے لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس چلی اور عدالتیں سیاسی جنگ کا مرکز بن گئیں۔ بعد میں سپریم کورٹ نے افتخار چوہدری کو بحال کردیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک فوجی صدر کو عدالتی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

    پھر آیا این آر او کیس۔ جنرل پرویز مشرف نے 2007 میں قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری کیا، جس کے تحت بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور دیگر سیاستدانوں کے مقدمات ختم ہوگئے۔ بعد میں سپریم کورٹ نے این آر او کو کالعدم قرار دے دیا اور حکومت کو سوئس حکام کو خط لکھنے کا حکم دیا تاکہ زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولے جائیں۔

    وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے صدر کو استثنیٰ حاصل ہونے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے خط لکھنے سے انکار کردیا۔ سپریم کورٹ نے انہیں توہین عدالت میں طلب کیا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ سزا صرف چند سیکنڈ کی علامتی قید تھی، مگر اسی بنیاد پر وہ وزارت عظمیٰ سے نااہل ہوگئے۔ دنیا بھر میں یہ مثال حیرت سے دیکھی گئی کہ چند لمحوں کی سزا ایک منتخب وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کے لیے کافی بن گئی۔

    2016 میں پاناما کیس نے پورے پاکستان کو ہلا دیا۔ عالمی صحافتی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ دنیا بھر کی شخصیات آف شور کمپنیاں رکھتی ہیں، جن میں نواز شریف کے بچوں کے نام بھی شامل تھے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ لندن فلیٹس کرپشن کے پیسے سے خریدے گئے۔ سپریم کورٹ میں طویل سماعتیں ہوئیں۔ ٹی وی چینلز روزانہ عدالت کے باہر براہِ راست نشریات کرتے رہے۔
    دلچسپ بات یہ تھی کہ آخرکار نواز شریف کو براہِ راست کرپشن ثابت ہونے پر نہیں بلکہ اقامہ یعنی دبئی کی کمپنی سے وصول نہ کی گئی تنخواہ ظاہر نہ کرنے پر نااہل کیا گیا۔ ایک تنخواہ جو کبھی لی ہی نہیں گئی، وہ پاکستان کے وزیر اعظم کی نااہلی کا سبب بن گئی۔ یہی چیز اس کیس کو عجیب ترین مقدمات میں شامل کرتی ہے۔

    2022 کا ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس پاکستان کی آئینی تاریخ کے عجیب ترین اور تیز ترین عدالتی بحرانوں میں شمار ہوتا ہے۔ اُس وقت وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوچکی تھی۔ قومی اسمبلی میں ووٹنگ ہونی تھی۔ مگر اچانک ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے چند منٹ کی رولنگ دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد مسترد کردی اور کہا کہ یہ بیرونی سازش کا حصہ ہے۔ اسی لمحے وزیر اعظم نے صدر کو اسمبلی توڑنے کی سفارش کردی۔

    پورا ملک حیران رہ گیا کیونکہ چند منٹ میں حکومت، پارلیمان اور آئین سب غیر یقینی صورتحال میں چلے گئے۔ اپوزیشن فوراً سپریم کورٹ پہنچ گئی۔ عدالت نے مسلسل رات گئے تک سماعتیں کیں۔ ملک بھر کے ٹی وی چینلز پر براہِ راست کارروائی چلتی رہی۔ سوال یہ تھا کہ کیا ڈپٹی اسپیکر آئینی طریقہ کار کے بغیر تحریک مسترد کرسکتا ہے؟ سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے رولنگ کو غیر آئینی قرار دیا، اسمبلی بحال کردی اور حکم دیا کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی۔

    چند دن بعد عمران خان وزارت عظمیٰ سے ہٹ گئے۔ یہ شاید پاکستان کی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا جہاں چند منٹ کی پارلیمانی رولنگ نے پورے آئینی نظام کو بحران میں ڈال دیا اور عدالت کو فوری مداخلت کرنا پڑی۔

    پاکستان کی عدالتی تاریخ میں میمو گیٹ اسکینڈل بھی بہت عجیب سمجھا جاتا ہے۔ ایک خفیہ میمو کے ذریعے الزام لگا کہ پاکستانی حکومت نے امریکہ سے فوج کے خلاف مدد مانگی۔ ایک غیر تصدیق شدہ سفارتی نوٹ اتنا بڑا بحران بن گیا کہ سپریم کورٹ تک معاملہ پہنچ گیا۔ سفیر حسین حقانی کو استعفیٰ دینا پڑا اور پورا سیاسی ماحول ہل کر رہ گیا۔

    حالیہ برسوں میں سائفر کیس بھی غیر معمولی توجہ حاصل کرتا رہا۔ ایک سفارتی مراسلہ، قومی سلامتی، خفیہ دستاویزات اور سابق وزیر اعظم پر آفیشل سیکریٹس ایکٹ کے تحت مقدمات نے اسے پاکستان کی جدید تاریخ کے سب سے حساس قانونی تنازعات میں شامل کردیا۔ عدالتوں میں بند کمرہ سماعتیں ہوئیں، جیل ٹرائلز ہوئے اور فیصلوں پر شدید سیاسی بحث جاری رہی۔

    پاکستان کی عدالتی تاریخ کا عجیب پہلو یہ ہے کہ یہاں عدالتیں صرف قانونی ادارے نہیں رہیں بلکہ اکثر اقتدار کی جنگ کا مرکزی میدان بن گئیں۔ بعض فیصلوں نے آمریت کو طاقت دی، بعض نے منتخب حکومتیں ختم کیں، جبکہ کچھ مقدمات نے یہ سوال ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا کہ پاکستان میں اصل طاقت آئین کے پاس تھی یا طاقتور حلقوں کے پاس۔

  • صدر پاکستان آصف زرداری کا دورہ چین، پاکستان چین تعلقات کی طویل تعلقات کی تاریخ

    صدر پاکستان آصف زرداری کا دورہ چین، پاکستان چین تعلقات کی طویل تعلقات کی تاریخ

    میں نے گزشتہ رات صدر آصف علی زرداری کے چین کے دورے کے بارے میں چائنا سینٹرل ٹیلی وژن کی ایک مختصر ڈاکیومنٹری دیکھی جو صدر پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے آفیشل سوشل میڈیا پیج پر بھی شیئر کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں پاکستانی صدر کے بجائے انہیں زیادہ تر پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے داماد اور بینظیر بھٹو کے شوہر کے طور پر متعارف کروایا جا رہا تھا۔

    پاکستان اور چین کے تعلقات ہمیشہ ریاستی مفادات کے ساتھ ساتھ دوستی پر مبنی رہے ہیں مگر ان تعلقات کو مضبوط بنانے میں قیادت کی دور اندیشی اور ان کے وفد کے انتخاب کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ ایک طرف ذوالفقار علی بھٹو کی علمی اور سفارتی حکمت عملی ہے اور دوسری طرف صدر آصف علی زرداری کے دور کے وفود کی سیاسی نوعیت۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا روح رواں سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس وقت چین سے دوستی کی بنیاد رکھی جب دنیا دو بلاکس میں تقسیم تھی۔ بھٹو صاحب کی کامیابی کا راز صرف ان کی شخصیت نہیں بلکہ ان کی بااعتماد اور ماہر ٹیم بھی تھی۔

    عزیز احمد ایک تجربہ کار سفارتکار تھے۔ بھٹو صاحب انہیں اپنے وفد میں اس لیے شامل کرتے تھے تاکہ بین الاقوامی معاہدوں کی پیچیدگیوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ ان کی موجودگی چین کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کو باوقار موقف فراہم کرتی تھی۔

    عبدالحفیظ پیرزادہ نہ صرف ایک سیاستدان بلکہ قانون کے ماہر بھی تھے۔ چین کے ساتھ ہونے والے دفاعی اور اقتصادی معاہدوں کو قانونی شکل دینے اور پاکستان کے مفادات کے تحفظ میں ان کا کردار نہایت اہم تھا۔

    ڈاکٹر مبشر حسن ایک ماہر معاشیات تھے۔ انہیں بخوبی علم تھا کہ امریکہ اور روس جیسی عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے پاکستان چین کے ساتھ کس طرح معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔

    بھٹو صاحب کی حکمت عملی کے اثرات بھی نمایاں تھے۔ وہ چینی قیادت ماؤ زے تنگ اور چو این لائی سے برابری کی بنیاد پر بات کرتے تھے۔ انہوں نے وزارت خارجہ کو ایسے ماہرین سے مزین کیا جو اپنے شعبے میں مہارت رکھتے تھے جس سے پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا۔

    صدر آصف علی زرداری کے دور میں چین کے ساتھ تعلقات میں اقتصادی رخ پر زور دیا گیا جسے بعد میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کی شکل ملی تاہم ان کے وفود کے انتخاب پر اکثر تنقید بھی کی گئی۔

    جب ریاستی وفود میں ایسے افراد شامل کیے جائیں جن کا نہ خارجہ پالیسی سے تعلق ہو اور نہ ہی وہ سفارتی آداب سے واقف ہوں تو اس سے ملکی وقار متاثر ہوتا ہے۔ زرداری دور پر بڑی تنقید یہ رہی کہ اہم دوروں میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن کی علمی سطح بین الاقوامی فورمز کے معیار کے مطابق نہیں تھی۔ جب سیاسی وفاداری کی بنیاد پر افراد کو آگے لایا جائے تو میزبان ممالک میں پاکستان کی سنجیدگی پر سوال اٹھتے ہیں۔

    وفد کے انتخاب کا مسئلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ قابلیت تجربہ اور علم کی جگہ اگر سیاسی وفاداری اور ذاتی تعلقات کو بنیاد بنایا جائے تو اعلیٰ سطح کے وفود محض سیر سپاٹے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

    کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب اسے چلانے والے افراد عزیز احمد عبدالحفیظ پیرزادہ اور ڈاکٹر مبشر حسن جیسے ماہر ہوں۔ جب علم اور دانائی کی جگہ خوشامد لے لے تو ریاست کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    بھٹو صاحب نے چین کو مستقبل کا دوست بنایا مگر اس دوستی کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے ایسی ٹیم درکار ہے جو چینی قیادت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے نہ کہ صرف تصاویر بنوانے تک محدود رہے

  • تاریخ کا جبر، سیکولرزم اور ہماری بقا: اندھیروں سے روشنی تک کا سفر

    تاریخ کا جبر، سیکولرزم اور ہماری بقا: اندھیروں سے روشنی تک کا سفر

    انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حیرت انگیز تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک طرف انسان خود کو عقل، شعور اور اخلاقی برتری کا مالک سمجھتا ہے، تو دوسری طرف ہزاروں سالوں سے مذہب، زمین، قومیت اور طاقت کے نام پر خون کی ندیاں بہاتا رہا ہے۔ تاریخ صرف بادشاہوں اور جنگوں کی داستان نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی شعور کے ارتقاء، فکری آزادی اور سماجی ڈھانچوں کی تبدیلی کی کہانی بھی ہے۔

    آج جب ہم اکیسویں صدی میں کھڑے ہیں تو دنیا واضح طور پر دو حصوں میں بٹی ہوئی نظر آتی ہے: ایک طرف وہ قومیں ہیں جو سائنسی، معاشی اور سماجی طور پر عروج پر ہیں، اور دوسری طرف ہم جیسے ممالک ہیں، جو اب تک مذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت اور معاشی پسماندگی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کے ان موڑوں کو سمجھنا ہوگا جہاں قوموں نے اپنے راستے بدل کر نئے مستقبل تعمیر کیے۔

    مسلمانوں کا سنہرا دور: جب عقل امام تھی

    آٹھویں صدی سے تیرہویں صدی تک کا دور اسلامی تاریخ کا سنہرا دور کہلاتا ہے۔ مگر یہ سوال اہم ہے کہ اس عروج کی بنیادی وجہ کیا تھی؟ کیا یہ صرف مذہب تھا یا مذہب کی وہ تشریح، جس نے عقل اور تحقیق کو مرکزی حیثیت دی؟

    بغداد کے بیت الحکمت میں یونانی فلسفے، ہندی ریاضی اور ایرانی طب کے ترجموں اور تحقیق کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ انسانی علم کی تاریخ میں ایک انقلاب تھا۔ یہاں علم کو کسی مذہبی حد بندی میں نہیں جکڑا گیا، بلکہ تجربے اور مشاہدے کو بنیادی حیثیت دی گئی۔

    جب ابن الہیثم روشنی کے اصول بیان کر رہے تھے، یا الخوارزمی الجبرا کی بنیاد رکھ رہے تھے، تب یہ محقق مذہب کی تنگ تشریح سے آزاد ہو کر کائنات کی حقیقتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس دور میں معتزلہ جیسے فکری مکتبے موجود تھے، جو کہتے تھے کہ عقل خدا کی دی ہوئی سب سے بڑی نعمت ہے، اور مذہبی متن کو بھی عقل کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔

    لیکن تیرہویں صدی کے بعد حالات بدلنے لگے۔ اجتہاد کا دروازہ آہستہ آہستہ بند کر دیا گیا اور تقلید کو ترجیح دی گئی۔ فکری آزادی ختم ہونے لگی، اور مذہب کی سخت تشریح غالب آ گئی۔ نتیجے میں، وہ معاشرہ جو کبھی علم کا مرکز تھا، رفتہ رفتہ جمود کا شکار ہو گیا۔

    یورپ کا تاریک دور اور فکری بغاوت

    جس وقت مسلم دنیا سائنسی ترقی کے عروج پر تھی، یورپ تاریک دور سے گزر رہا تھا۔ چرچ کا مکمل راج تھا، اور پوپ کے حکم سے انکار کفر تصور کیا جاتا تھا۔ سائنسدانوں اور مفکروں کو مذہبی عدالتوں میں پیش کیا جاتا تھا، جہاں انہیں سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔

    کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کے درمیان ہونے والی تیس سالہ جنگ یورپ کی تاریخ کی سب سے تباہ کن جنگوں میں سے ایک تھی، جس نے نہ صرف لاکھوں جانیں لیں، بلکہ پورے معاشرے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔

    مگر یہاں ایک اہم فرق پیدا ہوا – یورپ نے اس تباہی سے سبق سیکھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اگر مذہب ریاست پر حاوی رہا تو امن، ترقی اور استحکام ناممکن رہے گا۔ 1648ء میں معاہدہ ویسٹ فیلیا ایک تاریخی موڑ ثابت ہوا، جس نے ریاست اور مذہب کے درمیان حدود مقرر کیں۔ یہی سیکولرزم کی بنیاد کا آغاز تھا۔

    سیکولرزم: جدید دنیا کی تعمیر کا بنیاد

    سیکولرزم کا مطلب مذہب سے انکار کرنا نہیں ہے، بلکہ مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دینا اور ریاست کو غیر جانبدار بنانا ہے۔ یہ ایک ایسا سماجی معاہدہ ہے، جہاں ہر شہری، کسی بھی عقیدے سے تعلق رکھنے کے باوجود، برابر حقوق کا مالک ہوتا ہے۔

    یورپ میں جب چرچ کی سیاسی طاقت کو محدود کیا گیا، تب سائنسدانوں کو آزادی ملی۔ نتیجے میں سائنسی انقلاب آیا، جس کے بعد صنعتی انقلاب، ٹیکنالوجی کی ترقی اور جدید معیشت وجود میں آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ قانون کی حکمرانی قائم ہوئی، انسانی حقوق کو تحفظ ملا، عورتوں کو معاشی اور سماجی میدان میں شامل کیا گیا، اور تعلیم کو مذہبی کنٹرول سے آزاد کیا گیا۔ یہ تمام عناصر مل کر جدید مغربی معاشرے کی تعمیر کا سبب بنے۔

    مسلم دنیا اور جدید بحران: تضاد کا شکار معاشرہ

    آج جب ہم مسلم دنیا، خاص کر پاکستان کی صورتحال دیکھتے ہیں تو ایک بڑا تضاد نظر آتا ہے۔ ہم سائنسی ایجادات – موبائل، انٹرنیٹ، ادویات، ٹیکنالوجی – کا استعمال تو کرتے ہیں، مگر ان کے پیچھے موجود سائنسی سوچ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

    ہمارا معاشرہ اب تک فرقہ واریت، مذہبی تعصب اور غیر سائنسی سوچ میں پھنسا ہوا ہے۔ ہم اپنی توانائی اس بحث میں ضائع کرتے ہیں کہ کون سچا ہے اور کون غلط، جبکہ دنیا مصنوعی ذہانت، جینیاتی انجینئرنگ اور خلائی تحقیق میں آگے بڑھ رہی ہے۔ آج عالمی معاشی نظام علم اور ڈیٹا پر مبنی ہے۔ وہ قومیں جو علم پیدا کرتی ہیں، وہی دنیا پر حکمرانی کرتی ہیں۔ جبکہ جو قومیں صرف ماضی میں رہتی ہیں، وہ معاشی غلامی کا شکار ہو جاتی ہیں۔

    پاکستان کے لیے راستہ: فکری انقلاب کی ضرورت

    اگر پاکستان کو ترقی کرنی ہے، تو صرف معاشی پالیسیوں سے کام نہیں چلے گا – اس کے لیے فکری انقلاب کی ضرورت ہے۔

    پہلا: سیاست اور مذہب کی علیحدگی۔ ریاست کی بنیاد شہریت پر ہونی چاہیے، نہ کہ کسی مخصوص مذہبی شناخت پر۔ جب ریاست غیر جانبدار ہوگی، تبھی تمام شہریوں کو یکساں مواقع ملیں گے۔

    دوسرا: تعلیمی اصلاحات۔ ہمیں اپنی تعلیم کو رٹہ نظام سے نکال کر تنقیدی سوچ پر لانا ہوگا۔ طلباء کو سوال کرنا، دلیل دینا اور تحقیق کرنا سکھانا ہوگا۔

    تیسرا: سماجی رواداری۔ ایک ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے، نہ کہ دبایا جائے۔

    چوتھا: سائنسی معیشت۔ معیشت کو زرعی یا قرضی نظام سے نکال کر ٹیکنالوجی اور صنعت کی طرف لے جانا ہوگا۔

    تاریخ کا سبق اور مستقبل کا سوال

    تاریخ بار بار ایک ہی سبق دیتی ہے: جو قوم عقل کو رد کرتی ہے وہ زوال کا شکار ہوتی ہے۔

    یورپ کا عروج اس لیے نہیں ہوا کہ انہوں نے اپنی ثقافت چھوڑ دی، بلکہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے ایک ایسا نظام بنایا جہاں علم، انصاف اور آزادی بنیادی اصول بنے۔ پاکستان کا مستقبل بھی اس بات سے جڑا ہے کہ کیا ہم ماضی کی زنجیروں میں جکڑے رہیں گے یا ایک نیا فکری سفر شروع کریں گے؟

    قائد اعظم کی 11 اگست والی تقریر بھی ایک ایسی ریاست کا تصور پیش کرتی ہے جہاں مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہو اور ریاست سب کے لیے برابر ہو۔

    اندھیروں سے روشنی کی جانب

    آج ہم ایک تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں۔ ایک طرف جمود، تعصب اور پسماندہ سوچ ہے، اور دوسری طرف علم، آزادی اور ترقی کا راستہ ہے۔ انتخاب ہمیں کرنا ہے۔

    اگر ہم نے اپنی فکری پیاس کو سائنس، فلسفے اور آرٹ کے ذریعے سیراب کیا تو ہم بھی ترقی کے راستے پر چل سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ماضی کی زنجیروں میں جکڑے رہے، تو تاریخ ہمیں بھی ان قوموں کی صف میں کھڑا کر دے گی جو اپنا مستقبل خود تباہ کرتی ہیں۔

    یہ سفر آسان نہیں مگر ناممکن بھی نہیں، کیونکہ تاریخ ثابت کر چکی ہے کہ جب انسان سوال کرنا شروع کرتا ہے، تبھی روشنی جنم لیتی ہے۔

  • زندگی کے اوپر بسا ہوا ماضی: پاکستان کے وہ شہر جہاں زمین کے نیچے تاریخ سانس لیتی ہے

    زندگی کے اوپر بسا ہوا ماضی: پاکستان کے وہ شہر جہاں زمین کے نیچے تاریخ سانس لیتی ہے

    کیا واقعی ایسے شہر موجود ہیں جہاں زندگی براہ راست ماضی کے اوپر کھڑی ہو؟ جہاں سڑکیں، گھر اور بازار اس زمین پر آباد ہوں جس کے نیچے صدیوں پرانی قبریں موجود ہوں؟ پاکستان کے کئی بڑے شہر اس حقیقت کی خاموش مثال ہیں، جہاں وقت کی تہیں ایک دوسرے کے اوپر جڑی ہوئی ہیں۔

    کراچی، جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے، دراصل ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں تاریخ اکثر زمین کے نیچے چھپی ہوئی ملتی ہے۔ سخی حسن، ماوا شاہ اور لیاری کے اطراف موجود قدیم قبرستان اب شہری پھیلاؤ کے باعث گنجان آبادیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ مستند رپورٹس کے مطابق شہر میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے دوران پرانی قبریں اور انسانی باقیات دریافت ہونے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ علاقے کبھی مکمل قبرستان تھے۔

    لاہور، جو صدیوں پرانی تہذیبوں کا مرکز رہا ہے، وہاں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ میاں میر قبرستان اور بی بی پاکدامن کے اطراف کے علاقے آج مصروف شہری زندگی کا حصہ ہیں، مگر ان کے نیچے تاریخ کی پرتیں موجود ہیں۔ تاریخی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ برصغیر کے قدیم شہروں میں قبرستان اکثر آبادیوں کے قریب یا اندر ہی قائم کیے جاتے تھے، جو وقت کے ساتھ شہری حدود میں شامل ہو گئے۔

    پشاور، جسے جنوبی ایشیا کے قدیم ترین مسلسل آباد شہروں میں شمار کیا جاتا ہے، اس حوالے سے اور بھی منفرد ہے۔ قصہ خوانی بازار اور اس کے گردونواح میں کھدائی کے دوران مختلف ادوار کے آثار ملے ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ شہر صدیوں سے بار بار آباد اور مدفون ہوتا رہا ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق ایسے شہر دراصل تہوں میں زندہ رہتے ہیں، جہاں ہر نئی آبادی پچھلی تہذیب کے اوپر قائم ہوتی ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ دنیا کے کئی تاریخی شہروں، جیسے قاہرہ اور استنبول، میں بھی یہی پیٹرن دیکھا جاتا ہے، جہاں پرانی قبریں اور آبادیاں نئی زندگی کے ساتھ ساتھ موجود رہتی ہیں۔ پاکستان کے یہ شہر بھی اسی تسلسل کا حصہ ہیں۔

    یہ منظر ہمیں ایک گہری حقیقت کی یاد دلاتا ہے۔ زندگی اور موت الگ نہیں، بلکہ ایک ہی کہانی کے دو رخ ہیں، جو وقت کے ساتھ ایک دوسرے میں ضم ہوتے رہتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل
    جہاں کہانیاں صرف نظر نہیں آتیں، بلکہ محسوس بھی ہوتی ہیں

     

  • کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت : تاریخی اہمیت، کپاس کی معیشت، اور ملکیتی تنازع

    کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت : تاریخی اہمیت، کپاس کی معیشت، اور ملکیتی تنازع

    کراچی کی تجارتی اور معاشی تاریخ میں چند عمارتیں ایسی ہیں جو محض دفتری استعمال تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ شہر کی اجتماعی یادداشت اور اقتصادی شناخت کا حصہ بن جاتی ہیں۔

    ایسی ہی ایک عمارت کراچی کے مرکزی کاروباری علاقے آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی عمارت ہے، جسے عام طور پر کراچی کاٹن ایکسچینج کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ عمارت صرف اینٹ اور پتھر کا ڈھانچہ نہیں بلکہ وہ جگہ تھی جہاں سے دہائیوں تک پاکستان کی کپاس کی معیشت کی سمت متعین ہوتی رہی۔ یہاں جاری ہونے والے نرخ ملک بھر کی ٹیکسٹائل صنعت، برآمدی معاہدوں، بینکاری نظام اور انشورنس سیکٹر کے لیے فیصلہ کن اہمیت رکھتے تھے۔

    کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کا قیام 1933 میں برطانوی دور میں عمل میں آیا۔ اس ادارے کا مقصد کپاس کی خرید و فروخت کو منظم کرنا، معیار مقرر کرنا اور نرخوں کا تعین کرنا تھا۔

    اس وقت کراچی برصغیر کی بڑی بندرگاہوں میں شامل تھا اور کپاس کی برآمد خطے کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہی تھی۔ اسی ضرورت کے تحت کراچی میونسپل کمیٹی کی ملکیتی زمین پر کاٹن ایکسچینج کی عمارت تعمیر کی گئی تاکہ کپاس کی تجارت کے لیے ایک مرکزی اور باقاعدہ پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے۔

    دستاویزی ریکارڈ کے مطابق اس عمارت کی تعمیر 1930 کی دہائی کے آخر یا 1940 کی دہائی کے آغاز میں مکمل ہوئی۔ زمین کراچی میونسپل کمیٹی کی ملکیت تھی، جو آج کی کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی پیش رو سمجھی جاتی ہے، جب کہ عمارت کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے میونسپل لیز کے تحت تعمیر کی۔

    اس دور میں یہ زمین کسی نجی فرد یا کمپنی کی ملکیت نہیں تھی بلکہ براہ راست ایک بلدیاتی ادارے کے انتظام میں تھی۔

    یہ بھی ایک کم معروف حقیقت ہے کہ کاٹن ایکسچینج کی عمارت اپنے دور کی تجارتی عمارتوں میں شمار ہوتی تھی، جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بولیاں اور اسپاٹ ریٹس نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی خریداروں کے لیے بھی حوالہ قیمت کی حیثیت رکھتے تھے۔

    قیام پاکستان کے بعد بھی یہ عمارت مسلسل کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے زیر استعمال رہی اور کئی دہائیوں تک کپاس کی قومی معیشت کا عملی مرکز بنی رہی۔

    وقت کے ساتھ ساتھ کراچی کے تجارتی نقشے میں تبدیلی آئی، اسٹاک ایکسچینج اور دیگر مالیاتی ادارے نمایاں ہوئے، مگر کاٹن ایکسچینج کی عمارت اپنی تاریخی اور معاشی اہمیت برقرار رکھتی رہی۔

    یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں جب اس عمارت پر ملکیتی تنازع سامنے آیا تو یہ معاملہ محض قانونی نہیں رہا بلکہ شہری اور تجارتی سطح پر ایک حساس موضوع بن گیا۔

    کاٹن ایکسچینج کی عمارت کیوں سیل کی گئی؟

    13 دسمبر 2025 کو وفاقی تحقیقاتی ادارے میں درج ایک ایف آئی آر کے تحت وفاقی اداروں، ایویکی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ اور ایف آئی اے نے اس عمارت کو ایویکی پراپرٹی قرار دیتے ہوئے کارروائی کی اور عمارت کو سیل کر دیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق زمین اور عمارت ایویکی ٹرسٹ کی ملکیت ہیں اور ماضی میں انہیں غیر قانونی طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

    عمارت کے سیل ہونے سے معمول کی تجارتی سرگرمیاں عارضی طور پر متاثر ہوئیں اور چند دن تک اسپاٹ ریٹس جاری نہ ہو سکے۔

    بعد ازاں ادارے نے سرکاری طور پر بتایا کہ عدالتی کارروائی کے دوران کپاس کی منڈی میں خلل سے بچنے کے لیے عبوری انتظامات کیے گئے ہیں، جن کے تحت اسپاٹ ریٹس متبادل مقام اور دفتری و آن لائن نظام کے ذریعے جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ ٹیکسٹائل صنعت، بینکوں اور دیگر متعلقہ شعبوں کو قیمتوں کے تعین میں تسلسل میسر رہے۔

    ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کا مؤقف ہے کہ تقسیم کے بعد بعض املاک کو سرکاری گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ایویکیو پراپرٹی قرار دیا گیا تھا اور یہ عمارت بھی انہی ریکارڈز میں شامل ہے۔

    بورڈ کے مطابق اگر کسی جائیداد کو کسی مرحلے پر ایویکی پراپرٹی قرار دے دیا جائے تو وہ وفاقی حکومت کی تحویل میں آ جاتی ہے، چاہے اس پر بعد میں کسی ادارے کا استعمال کیوں نہ رہا ہو۔

    تاہم اس مؤقف پر اعتراض بھی سامنے آیا ہے۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے مطابق یہ عمارت کبھی کسی ایسے فرد کی ملکیت نہیں رہی جو ہجرت کر گیا ہو، اس لیے اسے روایتی معنوں میں ایویکی پراپرٹی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    ان اداروں کا کہنا ہے کہ چونکہ زمین ابتدا ہی سے ایک بلدیاتی ادارے کی ملکیت تھی، اس لیے ایویکی قوانین کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا۔

    کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے عمارت کو سیل کرنے اور مکینوں کو نکالنے کے اقدام کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہوا ہے۔ اس سے قبل کراچی کے میئر نے وفاقی اداروں کو لکھے گئے خط میں اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا۔

    کے ایم سی کا مؤقف ہے کہ کارروائی بغیر پیشگی نوٹس اور اختیار کے کی گئی، جبکہ 2019 کے قانون کے بعد ایویکی پراپرٹی سے متعلق بعض اختیارات صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔ عدالت نے ابتدائی سماعت میں سخت کارروائی سے روکنے کا حکم دیا ہے۔

    مزید برآں کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ یہ ادارہ انڈین کمپنیز ایکٹ 1913 کے تحت قائم ہوا تھا اور جائیداد 1947 سے قبل ہی اس کے استعمال میں آ چکی تھی، اس لیے اسے ایویکی ٹرسٹ پراپرٹی ایکٹ 1975 کے تحت نہ تو چھوڑ دی گئی جائیداد اور نہ ہی ایویکی پراپرٹی قرار دیا جا سکتا۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے بعض دستاویزات پر جعلی ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ دوسری جانب بلدیاتی ادارے اپنے ریکارڈ اور لیز دستاویزات کو درست قرار دیتے ہیں۔ یہی متضاد سرکاری ریکارڈ اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

    یہ معاملہ اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے، جہاں تمام فریقین اپنے اپنے قانونی اور دستاویزی مؤقف پیش کر رہے ہیں۔ عدالت کے حتمی فیصلے سے قبل کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہو گا۔

    تاہم ایک بات واضح ہے کہ کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت محض ایک عمارت نہیں بلکہ کراچی کی تجارتی تاریخ، کپاس کی معیشت، اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی تشریح کا ایک اہم امتحان ہے۔ اس کا فیصلہ نہ صرف ملکیتی معاملہ طے کرے گا بلکہ مستقبل میں سرکاری زمینوں اور تاریخی تجارتی اداروں کے تحفظ کی سمت بھی متعین کرے گا۔

  • صدام حسین: اقتدار، مزاحمت، روپوشی اور انجام

    صدام حسین: اقتدار، مزاحمت، روپوشی اور انجام

    بیسویں صدی کی عرب اور مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں چند شخصیات ایسی گزری ہیں جنہوں نے صرف اپنے ملک نہیں بلکہ پورے خطے کی سیاست، جنگ، معیشت اور عالمی طاقتوں کے توازن کو متاثر کیا۔ صدام حسین انہی متنازع اور اثرانداز کرداروں میں شامل تھے۔

    کچھ حلقوں کے نزدیک وہ عرب خودمختاری اور مغربی بالادستی کے خلاف مزاحمت کی علامت تھے۔ کچھ کے لیے وہ ایک سخت گیر آمر، جنگوں کے معمار اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ دار تھے۔ صدام حسین کی زندگی دراصل اقتدار، خوف، قومی وقار، غلط فیصلوں اور بالآخر تنہائی کی داستان ہے۔

    یہ کہانی ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک پورے نظام کے عروج اور زوال کی ہے۔ غربت سے اقتدار تک اور پھر روپوشی سے پھانسی تک، صدام حسین کا سفر جدید عرب تاریخ کے سب سے تاریک ابواب میں شمار ہوتا ہے۔

    ابتدائی زندگی: محرومی سے اقتدار کے خواب تک

    صدام حسین 28 اپریل 1937 کو عراق کے قصبے الاعوجہ میں پیدا ہوئے جو تکریت کے قریب واقع ہے۔ ان کے والد ان کی پیدائش سے پہلے وفات پا چکے تھے۔ شدید معاشی اور سماجی دباؤ کے باعث والدہ نے کچھ عرصہ انہیں نانا کے گھر چھوڑ دیا۔

    یہ غیر محفوظ اور محرومی سے بھرا بچپن صدام کی شخصیت میں سختی، بداعتمادی اور طاقت کے ذریعے بقا کے تصور کو گہرا کرتا گیا۔ ان کی پرورش زیادہ تر چچا خیر اللہ طلفاح نے کی جو عرب قوم پرست اور سخت نظریات کے حامل تھے۔

    اسی ماحول نے صدام کے ذہن میں طاقت، ریاستی بالادستی اور قومی وقار کے تصورات کو مضبوط کیا۔ تعلیم میں وہ نمایاں نہ تھے مگر اقتدار کی خواہش کم عمری میں ہی نمایاں ہو چکی تھی۔

    بعث پارٹی اور سیاست میں داخلہ

    انیس سو پچاس کی دہائی میں عراق سیاسی انتشار، فوجی بغاوتوں اور نظریاتی کشمکش کا شکار تھا۔ 1957 میں صدام حسین نے بعث عرب سوشلسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

    1959 میں وزیر اعظم عبدالکریم قاسم پر قاتلانہ حملے میں مبینہ شمولیت کے بعد انہیں عراق چھوڑنا پڑا۔ وہ شام اور مصر میں رہے جہاں سیاسی روابط مضبوط کیے اور پارٹی کے اندر اپنی حیثیت مستحکم کی۔

    1968 کی بعث پارٹی بغاوت کے بعد صدام عراق واپس آئے اور تیزی سے اقتدار کے مراکز تک پہنچ گئے۔

    اقتدار کی سیڑھیاں: 1979  کا فیصلہ کن موڑ

    1968 کے بعد اگرچہ وہ صدر نہیں تھے مگر انٹیلیجنس، سیکیورٹی اداروں اور پارٹی تنظیم پر ان کا کنٹرول بڑھتا گیا۔ 1970 اور 1972 میں تیل کی قومی تحویل نے عراق کو معاشی طاقت دی اور صدام کو عوامی سطح پر مقبولیت ملی۔

    1979 میں صدر احمد حسن البکر کے استعفے کے بعد صدام حسین صدر بنے۔ اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے بعث پارٹی کے اندر صفائی مہم چلائی۔ درجنوں اعلیٰ رہنماؤں کو غدار قرار دے کر قتل یا قید کر دیا گیا۔

    یہی وہ مرحلہ تھا جب عراق ایک مکمل آمرانہ ریاست میں تبدیل ہو گیا۔

    ایران عراق جنگ

    1980 میں صدام حسین نے ایران پر حملہ کیا۔ ان کا خیال تھا کہ انقلاب کے بعد ایران کمزور ہے اور عراق خطے کی بڑی طاقت بن سکتا ہے۔

    یہ جنگ آٹھ برس جاری رہی۔ لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں۔ معیشت تباہ ہوئی اور معاشرہ گہرے زخموں کا شکار ہوا۔ اسی دوران کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اور کردوں کے خلاف انفال مہم نے صدام کی حکمرانی کو خوف پر قائم رکھا۔

    کویت پر حملہ: عالمی تنہائی کا آغاز

    1990 میں کویت پر حملہ صدام کی سب سے بڑی سیاسی اور تزویراتی غلطی ثابت ہوا۔ اس فیصلے نے امریکہ اور مغربی طاقتوں کو براہ راست عراق کے خلاف متحد کر دیا۔

    1991 کی خلیج جنگ میں عراق کو شدید شکست ہوئی مگر صدام اقتدار میں برقرار رہے۔ اس کے بعد طویل اقتصادی پابندیاں لگیں جن کا سب سے زیادہ بوجھ عام عراقی عوام نے اٹھایا۔

    2003: اقتدار کا خاتمہ اور فرار

    مارچ 2003 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق پر حملہ کیا۔ اس جنگ کا جواز بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا دعویٰ تھا جو بعد میں ثابت نہ ہو سکا۔

    چند ہفتوں میں بغداد سقوط کا شکار ہو گیا۔ ریاستی ڈھانچہ بکھر گیا اور دہائیوں سے قائم خوف کا نظام اچانک زمین بوس ہو گیا۔

    صدام حسین آخری بار بغداد کی سڑکوں پر نظر آئے۔ اس کے بعد وہ منظر سے غائب ہو گئے۔ اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی وہ طاقت بھی ختم ہو گئی جو برسوں ان کے گرد حصار بنی رہی تھی۔

    روپوشی کی زندگی

    صدام حسین نے بغداد کے بجائے تکریت اور اس کے نواحی علاقوں میں چھپنے کو ترجیح دی۔ وہ مستقل ایک جگہ نہیں رکتے تھے۔ کبھی دیہاتی گھروں میں، کبھی خفیہ کمروں میں اور کبھی زیر زمین گڑھوں میں پناہ لیتے رہے۔

    وہ محدود افراد پر ہی اعتماد کرتے تھے۔ نہ موبائل فون استعمال کرتے تھے اور نہ ریڈیو۔ پیغامات قاصدوں کے ذریعے بھجوائے جاتے تھے اور یہی انسانی روابط بالآخر ان کی گرفتاری کا سبب بنے۔

    امریکی انٹیلیجنس: انسانی سراغ کی بنیاد پر تلاش

    صدام حسین کی تلاش میں جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ انسانی معلومات پر انحصار کیا گیا۔ سابق بعث ارکان، ڈرائیوروں، کسانوں اور قریبی افراد سے تفتیش کی گئی۔

    بالآخر ایک اندرونی نیٹ ورک سے فیصلہ کن معلومات ملیں جن کی بنیاد پر کارروائی ممکن ہوئی۔

    آپریشن ریڈ ڈان

    13 دسمبر 2003 کو امریکی فوج نے تکریت کے قریب اد دور کے علاقے میں کارروائی کی۔ ایک فارم ہاؤس کے قریب زمین میں چھپا زیر زمین گڑھا دریافت ہوا۔

    اسی گڑھے سے بکھرے بالوں، داڑھی اور تھکے ہوئے شخص کو نکالا گیا۔ وہ صدام حسین تھے۔ نہ مزاحمت ہوئی اور نہ فائرنگ۔

    یہ ایک طاقتور آمر کے انجام کی علامت تھا۔

    گرفتاری کے بعد: مقدمہ اور انجام

    گرفتاری کے بعد صدام حسین کو عراقی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ دجیل قتل عام کے مقدمے میں انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیا گیا۔

    30 دسمبر 2006 کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔

    آج، تقریباً دو دہائیوں بعد، عراق اب بھی سیاسی عدم استحکام، فرقہ وارانہ تشدد اور بیرونی مداخلت کا شکار ہے۔ صدام حسین کے خاتمے کے ساتھ ایک آمر کا باب بند ہوا، مگر ایک ایسا طاقت کا خلا پیدا ہوا جو آج تک پُر نہ ہو سکا۔

    یہ سوال اب بھی قائم ہے۔
    کیا صدام حسین کے خاتمے نے عراق کو آزادی دی، یا اسے ایک طویل بحران کے حوالے کر دیا؟۔

  • کولاچی، Kurrachee  سے کراچی تک: نام، تاریخ اور ارتقا کی کہانی

    کولاچی، Kurrachee  سے کراچی تک: نام، تاریخ اور ارتقا کی کہانی

    ابتدائی دور: مائی کولاچی جو گوٹھ
    کراچی کی تاریخ کا آغاز ایک چھوٹی سی ماہی گیر بستی سے ہوتا ہے، جسے مقامی روایات میں ‘مائی کولاچی جو گوٹھ‘ کہا گیا۔
    کہا جاتا ہے کہ 17ویں صدی میں ایک خاتون مائی کولاچی نے اپنے قبیلے کے ساتھ ساحلِ سمندر کے قریب ایک بستی بسائی۔
    سندھی زبان میں ‘کولاچی جو گوٹھ‘ کا مطلب ہے ‘کولاچی کا گاؤں‘۔
    یہ بستی ماہی گیروں کی ایک چھوٹی بندرگاہ تھی جہاں سے مقامی لوگ مچھلی اور نمک کی تجارت کرتے تھے۔

    کولاچی کا سب سے پرانا تحریری حوالہ


    کراچی کے قدیم ترین تحریری ذکر پرتگالی اور انگریز ریکارڈز میں ملتے ہیں۔
    17ویں صدی (1640 تا 1650) کے دوران پرتگالی ملاحوں کے سفرناموں میں ‘Kolechi‘ یا ‘Kolachi Bandar‘ کا ذکر ایک چھوٹی بندرگاہ کے طور پر ملتا ہے۔
    یہ وہ زمانہ تھا جب عرب، پرتگالی اور مقامی تاجر سندھ کے ساحلوں سے تجارتی جہاز رانی کرتے تھے۔
    18ویں صدی (1795 سے 1800) میں میر کلام الدین تالپور کے دورِ حکومت میں یہاں ایک قلعہ تعمیر ہوا جو ‘کولاچی جو قلعو‘ یا ‘قلعہ کولاچی‘
    اسی قلعے کے گرد بستی آباد ہوئی، جو بعد میں بڑھ کر ایک شہر میں تبدیل ہو گئی۔

    1754 میں Sind Gazetteer میں صاف لکھا گیا:
    ‘Karachi was originally a small fishing village known as Kolachi, situated on the coast of Sind‘

    کولاچی نام کی لسانی جڑ


    ‘کولاچی‘ بنیادی طور پر سندھی زبان کا نسوانی نام ہے۔
    یہ لفظ ممکنہ طور پر ‘کولاچی کول‘ (پانی یا ندی کے قریب رہنے والا) سے نکلا ہے۔
    یوں ‘کولاچی‘ کا مطلب سمجھا جاتا ہے, ‘پانی کے کنارے رہنے والی عورت‘
    یہ مفہوم اُس جغرافیائی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ بستی سمندر اور دریا کے سنگم پر آباد تھی۔

    کیا یونانی مؤرخوں نے کراچی یا کولاچی کا ذکر کیا؟

    تاریخی طور پر نہیں۔
    یونانی مؤرخین جیسے ہیروڈوٹس، اریان، اور اروستھینیز نے سندھ کے خطے اور دریائے سندھ کے کنارے موجود شہروں، جیسے پٹالا (Patala) اور دیبل (Debal) کا ذکر ضرور کیا،
    مگر ‘کولاچی‘ یا ‘کراچی‘ کا نام کسی یونانی تحریر میں موجود نہیں۔
    ممکن ہے کہ قدیم بندرگاہ ‘دیبل (Debal)‘ موجودہ کراچی کے قریب ہو، لیکن اس زمانے میں ‘کولاچی‘ بطور نام موجود نہیں تھا۔
    لہٰذا ‘کولاچی‘ یونانی لفظ نہیں بلکہ مقامی سندھی ماخذ سے آیا ہے۔

    پہلا انگریزی تذکرہ     ‘Kurrachee‘

    19ویں صدی کے آغاز میں جب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے سندھ کے ساحلی علاقوں کا سروے شروع کیا،
    تو ان کے سرکاری ریکارڈز میں پہلی بار اس بندرگاہ کا ذکر ‘Kurrachee‘ کے نام سے کیا گیا۔
    1820 تا 1830 کے دوران بنائے گئے British Admiralty Charts (بحری نقشے) میں اسے ‘Port of Kurrachee‘ درج کیا گیا۔
    1843 میں سر چارلس نیپئر کی قیادت میں جب سندھ برطانوی قبضے میں آیا، تو برطانوی فوجی رپورٹوں اور Gazetteers میں یہی ہجے استعمال ہوئے۔ ‘Kurrachee (Sind)‘
    1843 کی جنگِ سندھ کے بعد شائع ہونے والی رپورٹ کا عنوان بھی یہی تھا:
    ‘Report on the Capture of Kurrachee by the British Troops‘
    جب کہ 1851 کی Gazetteer of India میں درج تھا:
    ‘Kurrachee, a rising port of Sind, is expected to become the chief harbour of Western India‘
    یہ وہ وقت تھا جب انگریزوں کو یقین تھا کہ Kurrachee مستقبل میں پورے خطے کا سب سے اہم بندرگاہی شہر بنے گا۔

    ‘Kurrachee‘ سے ‘Karachi‘ : انگریزی ہجوں کی تبدیلی

    19ویں صدی کے آخر میں انگریزوں نے ہندوستان بھر کے شہروں کے انگریزی ناموں کو معیاری (Standardize) کرنے کا فیصلہ کیا۔
    1870 کی دہائی میں برطانوی سروے اور ڈاک محکمے نے یہ طے کیا کہ تمام نقشوں، خطوط اور ڈاک کے نظام میں ایک ہی ہجے استعمال ہوں گے۔
    اسی دوران ‘Kurrachee‘ کے ہجے بدل کر ‘Karachi‘ کر دیے گئے۔کیونکہ یہ تلفظ میں آسان اور ہجوں میں مختصر تھا۔
    1900 کے بعد سے یہی ‘Karachi‘ انگریزی اور بین الاقوامی نام بن گیا۔

    کولاچی سے کراچی :  ارتقا کی کہانی

    یوں ایک ماہی گیروں کے گاؤں ‘کولاچی جو گوٹھ‘ سے آغاز ہوا، پھر برطانوی ریکارڈ میں ‘Kurrachee‘ لکھا گیا، اور بالآخر جدید زمانے میں ‘Karachi‘ کہلایا۔
    ایک ایسا شہر جو آج پاکستان کا تجارتی، معاشی، اور بندرگاہی دارالحکومت ہے۔
    انگریزوں کی وہ پیش گوئی کہ ‘Kurrachee will become the chief harbour of Western India‘ واقعی حقیقت بنی۔ مگر کراچی کی اصل شناخت آج بھی اُس ‘کولاچی‘ سے جڑی ہے، جو سمندر کے کنارے ایک ماہی گیر عورت کے خواب سے وجود میں آئی تھی۔

    کراچی کی تاریخ کسی ایک عہد کی کہانی نہیں، بلکہ کئی صدیوں کی ارتقائی داستان ہے۔
    یہ نام وقت کے ساتھ ‘کولاچی‘ سے ‘کراچی‘ بنا، مگر اس کی روح آج بھی سمندر، محنت اور ہمت سے وابستہ ہے۔ وہی ہمت جو ایک ماہی گیر مائی کولاچی نے دکھائی تھی۔

  • زہران ممدانی نے نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر کے طور پر حلف اٹھا لیا

    زہران ممدانی نے نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر کے طور پر حلف اٹھا لیا

    زہران ممدانی نے امریکی شہر نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر کے طور پر حلف اٹھایا لیا۔ پہلے مسلمان میئر کے ساتھ وہ تاریخ میں نیو یارک کے سب سے کم عمر میئر بھی بن گئے۔

    حلف برداری کی تقریب کے دوران ان کی اہلیہ روما دواجی نے قران کے دو نسخے اٹھا رکھے تھے، جن پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے حلف لیا۔

    ان کے ترجمان کے مطابق زہران ممدانی قرآن کے جن نسخوں پر حلف لیا ان میں ایک ان کے اپنے دادا کا قرآن اور ایک سیاہ فام مصنف اور مورخ آرتورو شومبرگ کا قرآن استعمال کیا جو نیو یارک پبلک لائبریری سے لیا گیا تھا۔

    ان کی حلف برداری کی تقریب نئے سال کے آغاز پر پرانے سٹی ہال سب وے سٹیشن پر منعقد ہوئی۔ جہاں زہران ممدانی نے باضابطہ طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ اس موقع پر شہر کی سیاسی، سماجی اور شہری قیادت موجود تھی جبکہ دنیا بھر میں اس واقعے کو غیر معمولی توجہ حاصل ہوئی۔

    حلف برداری کے بعد اپنے پہلے خطاب میں زہران ممدانی نے کہا کہ وہ نیو یارک کو تمام شہریوں کے لیے قابلِ رہائش، منصفانہ اور محفوظ شہر بنانے کے عزم کے ساتھ کام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیو یارک تنوع کا شہر ہے اور یہی تنوع اس کی اصل طاقت ہے۔

    زہران ممدانی کب منتخب ہوئے

    زہران ممدانی کو نیو یارک سٹی کے میئر کے طور پر حالیہ بلدیاتی انتخابات میں منتخب کیا گیا۔ انتخابی عمل کئی مراحل پر مشتمل تھا جس میں ابتدائی ووٹنگ کے بعد حتمی نتائج سامنے آئے۔ زہران ممدانی نے واضح اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی اور یوں وہ نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر منتخب ہوئے۔ ان کی کامیابی کو شہر کی بدلتی ہوئی سماجی اور سیاسی ترجیحات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

    الیکشن مہم کیسے چلائی گئی

    زہران ممدانی کی انتخابی مہم روایتی سیاست سے مختلف نظر آئی۔ انہوں نے بڑی ریلیوں کے ساتھ ساتھ گلی محلوں میں جا کر براہ راست عوام سے ملاقاتوں پر زور دیا۔ کرایوں میں اضافے، رہائش کے بحران، پبلک ٹرانسپورٹ، صحت اور تعلیم ان کی مہم کے مرکزی نکات رہے۔ انہوں نے نوجوانوں، محنت کش طبقے اور اقلیتی برادریوں کو منظم کیا اور ایک ایسی مہم چلائی جس میں سادہ زبان اور واضح وعدے شامل تھے۔

    انتخابی مہم کے دوران زہران ممدانی نے کہا کہ شہر میں رہنا ایک حق ہے، کسی کی مالی حیثیت پر منحصر نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی مہم میں رضاکاروں کا کردار نمایاں رہا جو گھر گھر جا کر ووٹرز سے رابطہ کرتے رہے۔

    زہران ممدانی کون ہیں؟

    زہران ممدانی ایک نوجوان سیاست دان ہیں جو طویل عرصے سے نیو یارک کی سیاست میں سرگرم رہے ہیں۔ وہ اس سے قبل ریاستی اسمبلی کے رکن کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں جہاں انہوں نے رہائش، ٹرانسپورٹ اور سماجی انصاف سے متعلق قانون سازی پر کام کیا۔ ان کی سیاست کا مرکز عام شہری اور کم آمدنی والے طبقات رہے ہیں۔

    زہران ممدانی نے اپنی ابتدائی تعلیم امریکہ میں حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے اعلیٰ تعلیم مکمل کی جہاں ان کا جھکاؤ سماجی علوم اور عوامی پالیسی کی طرف رہا۔ میئر منتخب ہونے کے وقت ان کی عمر 34 بتائی جاتی ہے، جس کے باعث وہ نیو یارک کی تاریخ کے کم عمر ترین میئرز میں شامل ہو گئے ہیں۔

    زہران ممدانی کی ازدواجی زندگی نسبتاً سادہ اور نجی رہی ہے۔ وہ شادی شدہ ہیں اور ان کی اہلیہ روما دواجی سماجی شعبے سے وابستہ بتائی جاتی ہیں۔ زہران ممدانی متعدد مواقع پر یہ بات دہرا چکے ہیں کہ ان کی ذاتی زندگی انہیں عوامی خدمت میں توازن سکھاتی ہے۔

    زہران ممدانی کو ‘مسٹر الائچی’ کیوں کہا جاتا تھا؟

    زہران ممدانی کو نوجوانی کے دور’مسٹر کارڈیمم‘ یعنی ‘مسٹر الائچی’ کے نام سے ریپ گانا گایا کرتے تھے۔ اس لیے ان کو لقب ‘مسٹر الائچی’ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔  اور 2019 میں ان کا گانا ’نانی‘ خاصا زیر بحث رہا۔

    الیکشن مہم کے نعرے

    زہران ممدانی کی انتخابی مہم کے نعرے سادہ مگر مؤثر تھے۔ ان کے نعروں میں سب کے لیے رہائش، قابلِ برداشت کرائے، مفت اور بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، اور بچوں کی دیکھ بھال جیسے موضوعات نمایاں رہے۔ انہوں نے یہ پیغام دیا کہ شہر کی پالیسیاں صرف امیر طبقے کے لیے نہیں بلکہ ہر شہری کے لیے ہونی چاہئیں۔

    انہوں نے بار بار کہا کہ نیو یارک کو ایک ایسا شہر بنایا جائے گا جہاں محنت کش خاندان عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

    سوشل میڈیا پر ردعمل

    زہران ممدانی کے حلف اٹھانے کے بعد سوشل میڈیا پر ردعمل کا ایک طوفان نظر آیا۔ فیس بک اور ایکس پر ہزاروں صارفین نے انہیں مبارکباد دی۔ بہت سی پوسٹس میں انہیں تاریخ ساز میئر قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ لمحہ امریکی سیاست میں ایک نئی سمت کی علامت ہے۔

    کئی صارفین نے لکھا کہ ایک مسلمان میئر کا منتخب ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ نیو یارک واقعی تنوع کو قبول کرتا ہے۔ کچھ پوسٹس میں نوجوان قیادت اور سماجی انصاف کے بیانیے کو سراہا گیا۔
    دوسری جانب تنقیدی آوازیں بھی سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے ان کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے اور خدشات کا اظہار کیا کہ آیا وہ اپنے انتخابی وعدے پورے کر پائیں گے یا نہیں۔

    سیاسی مبصرین اور شہری حلقے

    شہر کے سیاسی حلقوں میں زہران ممدانی کی کامیابی کو ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی نے روایتی سیاست کو چیلنج کیا ہے اور شہری مسائل کو مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اب اصل امتحان اقتدار میں آنے کے بعد شروع ہوگا۔
    زہران ممدانی کو میئر کے طور پر متعدد چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ شہر میں رہائش کا بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ٹرانسپورٹ کا دباؤ اور موسمیاتی اثرات ان کے سامنے بڑے مسائل ہوں گے۔ ان کے حامیوں کو امید ہے کہ وہ عملی اقدامات کے ذریعے ان مسائل کا حل تلاش کریں گے۔

     

  • پاکستان  – مراکش تعلقات: ایک خاموش مگر زندہ سفارتی تاریخ

    پاکستان  – مراکش تعلقات: ایک خاموش مگر زندہ سفارتی تاریخ

    بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں بعض ریاستی رشتے محض معاہدوں، سرکاری بیانات یا وقتی مفادات کے گرد نہیں گھومتے، بلکہ وہ اخلاقی اصولوں، نظریاتی ہم آہنگی اور مشکل وقت میں دی گئی بے لوث حمایت کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔

    پاکستان اور مراکش کا تعلق بھی اسی نوعیت کا ایک منفرد اور کم مثال رشتہ ہے۔ یہ تعلق نہ صرف دو مسلمان ممالک کے درمیان مذہبی اور ثقافتی قربت کا اظہار ہے بلکہ نوآبادیاتی نظام کے خلاف ایک مشترکہ جدوجہد اور اصولی سفارت کاری کی عملی تصویر بھی ہے۔

    پاکستان اور مراکش کے تعلقات کی جڑیں اس دور میں پیوست ہیں جب پاکستان خود ایک نوآزاد ریاست تھا اور اسے داخلی استحکام، معاشی مشکلات اور علاقائی تنازعات جیسے بڑے چیلنجز درپیش تھے۔ اس کے باوجود پاکستان نے عالمی سیاست میں ایک واضح اور جرات مندانہ مؤقف اختیار کیا: مظلوم اقوام کے حقِ خودارادیت کی غیر مشروط حمایت۔ یہی اصول مراکش کی آزادی کی جدوجہد کے دوران پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ بنا۔

    مراکش کی آزادی کی جدوجہد اور عالمی خاموشی

    1950 کی دہائی میں مراکش فرانسیسی استعمار کے خلاف اپنی آزادی کی تحریک میں مصروف تھا۔ اگرچہ مراکشی عوام میں آزادی کی شدید خواہش موجود تھی، مگر عالمی طاقتیں اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے باعث اس تحریک سے نظریں چرا رہی تھیں۔ فرانس، جو شمالی افریقہ میں ایک مضبوط نوآبادیاتی قوت تھا، ہر ممکن طریقے سے مراکش کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہا تھا۔

    اسی دوران مراکش کے مقبول رہنما شاہ محمد پنجم کو جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے تحریکِ آزادی کو وقتی طور پر شدید دھچکا لگا۔ مراکشی قیادت عالمی فورمز تک رسائی سے محروم ہو چکی تھی اور اقوام متحدہ جیسے اداروں میں ان کی نمائندگی تقریباً ناممکن بنا دی گئی تھی۔ ایسے حالات میں کسی بھی آزاد ریاست کی جانب سے مراکش کی کھلی حمایت نہ صرف سفارتی جرات کا تقاضا کرتی تھی بلکہ بڑی طاقتوں سے اختلاف مول لینے کا حوصلہ بھی چاہتی تھی۔

    پاکستان کا اصولی مؤقف اور سفارتی جرات

    پاکستان ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے مراکش کی جدوجہدِ آزادی کو محض اخلاقی ہمدردی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ پاکستان کی قیادت کا یہ مؤقف تھا کہ نوآبادیاتی نظام نہ صرف انسانی آزادی کے منافی ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔ یہی سوچ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد بنی۔

    اقوام متحدہ میں مراکش کے مسئلے پر پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس وقت فرانس کی جانب سے مراکشی نمائندوں کو اقوام متحدہ میں بولنے کی اجازت نہ دینا ایک بڑی سفارتی رکاوٹ تھی۔ ایسے نازک مرحلے پر پاکستان کے پہلے وزیرِ خارجہ، سر ظفر اللہ خان نے ایک ایسا تاریخی قدم اٹھایا جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک اصول پسند ریاست کے طور پر متعارف کرایا۔

    اقوام متحدہ میں تاریخی لمحہ

    سر ظفر اللہ خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مراکش کے حقِ خودارادیت کے لیے نہ صرف بھرپور اور مدلل خطاب کرنا بلکہ مراکش کے وفد کو اپنی نشست فراہم کرنا، بظاہر ایک سادہ سفارتی اقدام دکھائی دیتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اُس دور کی عالمی سیاست میں ایسی اخلاقی جرات ایک معمول کی بات تھی؟

    حقیقت یہ ہے کہ نوآزاد ریاستیں عموماً بڑی طاقتوں کی ناراضی مول لینے سے گریز کرتی تھیں، مگر پاکستان نے اس موقع پر مفاد کے بجائے اصول کو ترجیح دی۔ یہ اقدام محض ایک علامتی اظہار نہیں تھا بلکہ عالمی نظام کے اس دوہرے معیار پر ایک خاموش سوال بھی تھا، جہاں طاقتور اقوام نوآبادیاتی تسلط کو ‘اندرونی معاملہ’ کہہ کر نظر انداز کرتی تھیں۔

    تحقیقی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ عمل محض علامتی نہیں تھا، بلکہ اس نے مراکش کے مسئلے کو عالمی توجہ کا مرکز بنایا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس کے بعد مراکش کی آزادی کی تحریک کو بین الاقوامی اخلاقی حمایت حاصل ہونا شروع ہوئی۔

    پاکستانی پاسپورٹ: سفارت کاری سے بڑھ کر انسانیت

    پاکستان اور مراکش کی دوستی کا ایک اور غیر معمولی اور جذباتی باب وہ ہے جب مراکشی جلاوطن رہنماؤں کے پاس سفر کے لیے کوئی قانونی دستاویز موجود نہ تھی۔ فرانسیسی دباؤ کے باعث ان کے پاسپورٹ منسوخ یا ضبط کر لیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں وہ عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیوں سے عملاً کٹ چکے تھے۔

    ایسے میں پاکستان نے ایک بار پھر تاریخ رقم کی۔ حکومتِ پاکستان نے مراکش کے ممتاز رہنماؤں، جن میں احمد بلافریج جیسے اہم سیاسی قائدین شامل تھے، کو پاکستانی سفارتی پاسپورٹ جاری کیے۔ ان پاسپورٹس کے ذریعے مراکشی رہنما مختلف ممالک کا سفر کرنے، حمایت حاصل کرنے اور اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کے قابل ہوئے۔

    یہ اقدام محض سفارتی تعاون نہیں بلکہ ایک گہری اخلاقی وابستگی کا اظہار تھا۔ ان پاکستانی پاسپورٹس نے مراکش کی آزادی کی تحریک کو نئی زندگی دی اور عالمی برادری میں پاکستان کے وقار کو بھی بلند کیا۔

    شہری یادداشت اور علامتی تعلقات

    پاکستان اور مراکش کے تعلقات صرف سرکاری دستاویزات یا سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ تعلق دونوں ممالک کی شہری یادداشت (Urban Memory) کا حصہ بھی بن چکا ہے۔ کراچی اور کاسابلانکا کی سڑکوں کے نام اس دوستی کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔

    کراچی میں ‘مراکش ایونیو’ اور کاسابلانکا میں ‘Rue de Karachi’ اس بات کی علامت ہیں کہ قومیں ایک دوسرے کو محض مفادات کی بنیاد پر نہیں بلکہ مشکل وقت میں دی گئی قربانیوں کے ذریعے یاد رکھتی ہیں۔ یہ نام آنے والی نسلوں کو ایک خاموش پیغام دیتے ہیں کہ تاریخ میں بعض رشتے لفظوں سے زیادہ عمل سے بنتے ہیں۔

    آزادی کے بعد تعلقات اور باہمی اعتماد

    1956 میں مراکش کی آزادی کے فوراً بعد پاکستان نے اس کی خودمختاری کو تسلیم کیا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات بتدریج دفاع، تعلیم، تجارت اور سفارت کاری کے مختلف شعبوں تک پھیلتے چلے گئے۔ سرد جنگ کے دور میں بھی پاکستان اور مراکش کے تعلقات کسی بڑے بحران کا شکار نہیں ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی بنیادیں محض وقتی سیاست پر نہیں تھیں۔

    مراکش نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی حمایت کی، جبکہ پاکستان نے مغربی صحارا کے معاملے پر مراکش کی علاقائی سالمیت کا احترام کیا۔ یہ باہمی احترام اور اعتماد اس تعلق کو دیگر بین الاقوامی رشتوں سے ممتاز بناتا ہے۔

    اقدار پر مبنی سفارت کاری کی مثال

    اکیڈمک اور تحقیقی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان اور مراکش کا تعلق اس تصور کی تردید کرتا ہے کہ عالمی سیاست صرف طاقت اور مفاد کے گرد گھومتی ہے۔ یہ رشتہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اخلاقی اصول، نظریاتی وابستگی اور مشکل وقت میں دیا گیا ساتھ بھی بین الاقوامی تعلقات میں دیرپا اثر چھوڑ سکتا ہے۔

    آج بھی مراکش کے عوام اور قیادت پاکستان کے اس تاریخی کردار کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک خاموش سفارتی تاریخ ہے—جو نہ بلند دعوے کرتی ہے، نہ تشہیر کی محتاج ہے، —مگر آج بھی زندہ ہے اور دونوں قوموں کے اجتماعی شعور میں محفوظ ہے۔