Tag: تاریخ

  • مزدور رہنما عثمان بلوچ کی کتاب ‘ہم اپنی کرنی کر گزرے‘ : پاکستان کی مزدور تحریک کے عروج و زوال کی داستان

    مزدور رہنما عثمان بلوچ کی کتاب ‘ہم اپنی کرنی کر گزرے‘ : پاکستان کی مزدور تحریک کے عروج و زوال کی داستان

    پاکستان کی سیاسی اور مزدور تحریک کی تاریخ ایسے بے شمار کرداروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے شہرت، اقتدار یا ذاتی مفاد کے بجائے اپنے نظریات اور عوام کے حقوق کے لیے پوری زندگی وقف کر دی۔ انہی شخصیات میں عثمان بلوچ کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔

    عثمان بلوچ صرف ایک ٹریڈ یونین رہنما ہی نہیں بلکہ ایک سرگرم سماجی اور سیاسی کارکن بھی ہیں، جنہوں نے کئی دہائیوں تک محنت کشوں کے حقوق، جمہوریت اور سماجی انصاف کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ حال ہی میں ان کی خودنوشت ‘ہم اپنی کرنی کر گزرے‘ کی تقریب رونمائی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقد ہوئی۔ وہ علاج کی غرض سے امریکہ میں ہونے کے باعث تقریب میں شریک نہ ہو سکے، تاہم ان کے دیرینہ ساتھیوں، مزدور رہنماؤں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کی بڑی تعداد نے اس تقریب میں شرکت کی۔

    یہ کتاب محض ایک فرد کی زندگی کی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کی مزدور تحریک، بائیں بازو کی سیاست اور جمہوریت کے لیے ہونے والی جدوجہد کا ایک مستند تاریخی ریکارڈ بھی ہے۔ اسے صرف خودنوشت کہنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں پاکستان کی سیاسی تاریخ، بائیں بازو کی تحریکوں، مزدور سیاست کے عروج اور زوال اور مختلف ادوار کی جدوجہد کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

    عثمان بلوچ کی مزدوروں اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھی۔ یہ شعور انہیں اپنے خاندان سے ورثے میں ملا۔ ان کے والد کراچی کے قدیم علاقے لیاری میں مزدور تحریکوں اور محروم طبقات کے حقوق کی جدوجہد میں سرگرم رہتے تھے۔

    اسی ماحول نے عثمان بلوچ کی شخصیت اور سوچ کی تشکیل کی۔ نوجوانی ہی میں انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ مزدور صرف معاشی استحصال کا شکار نہیں بلکہ انہیں سیاسی اور سماجی انصاف سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ یہی احساس آگے چل کر ان کی پوری زندگی کا مقصد بن گیا۔

    کتاب میں وہ اپنے گھر کے قریب موجود ایک برگد کے قدیم درخت کا ذکر کرتے ہیں۔ اس درخت کے نیچے ایک تخت رکھا ہوتا تھا، جہاں ان کے والد محمد ابراہیم اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ درحقیقت یہ ایک سیاسی بیٹھک تھی، جہاں مختلف قومی اور سیاسی موضوعات پر گفتگو ہوتی تھی۔

    عثمان بلوچ لکھتے ہیں کہ اسی بیٹھک میں انہوں نے ریشمی رومال تحریک اور خلافت تحریک سمیت کئی تاریخی واقعات کے بارے میں جانا۔ اس وقت ان کی ذمہ داری مہمانوں کے لیے چائے پانی کا انتظام کرنا ہوتی تھی، لیکن وہ خاموشی سے بیٹھ کر بڑی توجہ کے ساتھ یہ تمام گفتگو سنتے رہتے تھے۔ یہی نشستیں ان کی سیاسی تربیت کا پہلا مدرسہ ثابت ہوئیں۔

    ان کی خودنوشت ‘ہم اپنی کرنی کر گزرے‘ اسی طویل جدوجہد کی داستان ہے۔ اس کتاب کو معروف انسانی حقوق کے کارکن کامریڈ واحد بلوچ نے عثمان بلوچ کے ساتھ طویل نشستوں، انٹرویوز اور سوال و جواب کی صورت میں مرتب کیا ہے۔ یہی انداز اس کتاب کو عام خودنوشتوں سے منفرد بناتا ہے۔ قاری کو محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خود عثمان بلوچ کے سامنے بیٹھا ان کی زندگی کے تجربات، یادیں اور مشاہدات سن رہا ہو۔

    کتاب کے آغاز میں عثمان بلوچ کے ساتھیوں اور قریبی رفقا کے مضامین شامل ہیں، جن میں ان کی شخصیت، جدوجہد اور کردار کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان لکھنے والوں میں مرحوم جسٹس (ریٹائرڈ) رشید اے رضوی، پروفیسر انیس زیدی، ڈاکٹر توصیف احمد خان، کامریڈ واحد بلوچ، عبدالخالق جونیجو اور تحریک نسواں کی روح رواں شیما کرمانی

    شامل ہیں۔ ان مضامین میں عثمان بلوچ کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو صرف نظریاتی گفتگو تک محدود نہیں رہے بلکہ ہر تحریک میں عملی طور پر صف اول میں موجود رہے۔

    کتاب کے آخری حصے میں عثمان بلوچ کے قریبی دوستوں اور ساتھیوں کے تاثرات شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں کامریڈ حبیب الرحمان ہزاروی، باور خان، فیض اللہ خان، ناصر منصور، محمد جعفر، سلیم صدیقی، بصیر نوید، حسن اطہر، عبدالحئی، سید شمس الدین، منظور رضی، محمد عثمان، جان بلوچ، منان باچا ایڈووکیٹ، اسلم کھوکھر، کامریڈ سلطان اور حیات بلوچ شامل ہیں۔ ان سب نے عثمان بلوچ کی شخصیت، ان کی سیاسی وابستگی، مزدور تحریک میں کردار اور ذاتی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اپنے مشاہدات بیان کیے ہیں، جو اس کتاب کو مزید معتبر اور دلچسپ بنا دیتے ہیں۔

    پاکستان کی مزدور تحریک

    ساٹھ کی دہائی میں کراچی پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر تھا۔ یہاں کی فیکٹریاں، بندرگاہیں اور صنعتی بستیاں مزدور تحریک کا مرکز سمجھی جاتی تھیں، جبکہ لیاری ان سرگرمیوں کا اہم گڑھ تھا۔ عثمان بلوچ نے اپنے عملی سفر کا آغاز بھی انہی صنعتی علاقوں سے کیا۔ انہوں نے نہ صرف مزدوروں کو منظم کیا بلکہ ہر اس تحریک میں بھرپور حصہ لیا جہاں محنت کش اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے تھے۔

    ان کی سیاسی اور مزدور جدوجہد کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ کراچی کی تاریخی ولیکا ٹیکسٹائل مل پر مزدوروں کے قبضے کی تحریک ہو، جنرل ایوب خان کے مارشل لا کے خلاف مزدوروں کی مزاحمت ہو یا 1971-72 میں سائٹ کراچی کی طاقتور مزدور تحریک، عثمان بلوچ ہر جگہ صف اول میں نظر آتے ہیں۔

    بعض ساتھیوں نے انہیں ایک ‘ملیٹنٹ مزدور رہنما‘ قرار دیا ہے، جو نہ صرف پرجوش تقاریر کرتے ہیں بلکہ ہر مشکل مرحلے پر مزدوروں کے شانہ بشانہ کھڑے بھی رہتے ہیں۔

    وہ کئی مرتبہ گرفتار ہوئے، مگر ایک مرتبہ ان کو امریکی کونسل ممبر کو حیدرآباد میں تھپڑ رسید کرنے کے پاداش میں گرفتار کرلیا گیا۔ وہ کتاب میں لکھتے ہیں:  ’یہ واقعہ 1968ء یا 1969ء کا ہے امریکی کونسل کا ممبر حیدرآباد کے اورینٹ ہوٹل میں پریس کانفرنس کر رہے تھے میں مشہور لیبر لیڈر احسان عظیم کے ساتھ پریس کانفرنس میں جا پہنچا۔‘

    ’سوال جواب کے سیشن میں، میں نے امریکہ کے مزدوروں کی جدوجہد اور شکاگو کے شہدا کے بارے میں سوال کیا، کونسل ممبر نے کہا امریکہ مزدوروں کے حقوق کی پاسداری کرتا ہے اور ان کے قانونی حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔‘

    ـمیں نے دوبارہ دلیل دی کہ بینک آف امریکہ جس کی ایک برانچ پاکستان میں ہے وہاں یونین بنانے پر پابندی ہے۔ میرے سوال پر کونسل ممبر غصے میں آ گئے اور ترش روئی سے کہا کہ میں یہاں تمام پیراسائٹ (خون چوسنے والا) کے لیے نہیں آیا ہوں۔‘

    ’میری غیرت نے اس کو برداشت نہیں کیا اور میں نے کونسل ممبر کے چہرے پر ایک تھپڑ جڑ دیا اور ’Down with Imperialism‘ (سامراج مردہ باد) کا نعرہ لگاتے ہوئے باہر آ گیا۔ تمام میٹنگ منتشر ہو گئی اور مجھے گرفتار کر لیا۔‘

    فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دوران سیاسی جماعتوں اور مزدور تنظیموں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ ٹریڈ یونین رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مزدور تحریک کو کمزور کرنے کی منظم کوششیں کی گئیں۔ اس مشکل دور میں بھی عثمان بلوچ ان رہنماؤں میں شامل رہے جنہوں نے شدید دباؤ کے باوجود اپنے نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ کئی مرتبہ گرفتار ہوئے اور طویل عرصے تک روپوش بھی رہے۔

    کتاب میں شامل مرحوم جسٹس رشید اے رضوی کے مضمون میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ روپوشی کے دوران عثمان بلوچ اکثر ان کے گھر میں پناہ لیتے تھے۔ ان کا رشید اے رضوی کے گھر آنا جانا معمول تھا، کیونکہ رضوی صاحب کی والدہ عثمان بلوچ سے بے حد محبت کرتی تھیں اور انہیں اپنے خاندان کا فرد سمجھتی تھیں۔

    جنرل ضیاء الحق کی ہوائی حادثے میں ہلاکت کے بعد 1988 سے 1999 تک کے جمہوری ادوار میں بھی عثمان بلوچ نے مزدور تحریک کو دوبارہ منظم کرنے اور کارکنوں کو متحرک رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1982 میں جب کرامت علی کی سربراہی میں متحدہ لیبر فیڈریشن کے رہنمائوںنے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) کی بنیاد رکھی تو عثمان بلوچ دیگر سیاسی، سماجی اور مزدور رہنماؤں کے ساتھ اس ادارے کے بانی اراکین میں شامل تھے۔

    سیاسی طور پر وہ بائیں بازو کی عوامی ورکرز پارٹی سے وابستہ رہے ہیں۔ مرحوم یوسف مستی خان سے ان کے دیرینہ تعلقات رہے ہیں۔ ان کی سیاسی تربیت میں مشہور سیاسی شخصیت اور پاکستان نیشنل پارٹی کے سربرہ میر غوث بخش بزنجو نے کی۔

    پاکستان میں مزدور تحریک کی تاریخ دراصل قیام پاکستان سے بھی پہلے شروع ہو چکی تھی۔ برصغیر میں صنعت، تجارت، ریلوے اور دیگر شعبوں میں مضبوط ٹریڈ یونینیں موجود تھیں۔ ایک دلچسپ تاریخی حقیقت یہ بھی ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح 1925 میں آل انڈیا پوسٹل اسٹاف یونین کے صدر منتخب ہوئے تھے، جس کے تقریباً 70 ہزار ارکان تھے۔ انہوں نے انڈین ٹریڈ یونین ایکٹ 1926 کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا، جس نے برصغیر میں مزدوروں کے تنظیمی حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کیا۔

    قیام پاکستان کے بعد بھی ٹریڈ یونین تحریک مضبوط ہوتی رہی، لیکن جنرل ایوب خان کے مارشل لا کے بعد اس پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ ٹریڈ یونین ایکٹ معطل کر دیا گیا، مزدور تنظیموں کی سرگرمیاں محدود کر دی گئیں اور متعدد رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔

    بعد کے ادوار میں بھی بار بار لگنے والے مارشل لا، سیاسی پابندیوں، نجکاری، صنعتوں کی بندش اور صنعتی پالیسیوں میں تبدیلیوں نے پاکستان کی ٹریڈ یونین تحریک کو شدید متاثر کیا۔ اس کے باوجود مزدور تنظیموں نے ہر دور میں صرف اجرتوں میں اضافے، ملازمت کے تحفظ اور بہتر کام کے حالات کے لیے ہی آواز بلند نہیں کی بلکہ جمہوریت کی بحالی، آئین کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ عثمان بلوچ انہی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود اس جدوجہد کی روایت کو زندہ رکھا اور اپنی پوری زندگی محنت کش طبقے کے حقوق کے لیے وقف کیے رکھی۔

    پاکستان کی سیاسی و سماجی تاریخ

    اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف مصنف کی ذاتی یادداشتوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ پاکستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ کے اہم ادوار کو بھی اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ کراچی کی صنعتی بستیوں، کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ہڑتالوں، مزدور تنظیموں کے قیام، فیکٹریوں میں ہونے والی جدوجہد اور محنت کشوں کی تنظیم سازی کو نہایت تفصیل اور باریک بینی سے بیان کیا گیا ہے۔ ان واقعات کے ذریعے قاری کو اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کی صنعتی ترقی کے پس منظر میں محنت کش طبقے نے کتنی قربانیاں دی ہیں اور کن مشکلات کا سامنا کیا ہے۔

    کتاب میں خصوصاً ستر اور اسی کی دہائی کی مزدور تحریک کو نمایاں اہمیت دی گئی ہے۔ اس زمانے میں کراچی کو پاکستان کی مزدور تحریک کا مضبوط ترین مرکز سمجھا جاتا تھا۔ ہزاروں مزدور بہتر اجرت، محفوظ کام کے ماحول اور اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے منظم انداز میں جدوجہد کر رہے تھے۔ عثمان بلوچ نے ان تحریکوں کو نہ صرف قریب سے دیکھا

    بلکہ ان کی قیادت اور تنظیم سازی میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ ان کی یادداشتیں اس دور کے سیاسی ماحول، مزدوروں کی امیدوں، ان کے حوصلے اور ریاستی ردعمل کی ایک واضح اور حقیقی تصویر پیش کرتی ہیں۔

    اس خودنوشت میں پاکستان کی بائیں بازو کی سیاست کے عروج اور زوال پر بھی کھل کر گفتگو کی گئی ہے۔ عثمان بلوچ صرف کامیابیوں کا ذکر نہیں کرتے بلکہ ترقی پسند سیاست کی اندرونی کمزوریوں، تنظیمی اختلافات، دھڑے بندی اور سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے فکری بحران کا بھی بے لاگ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ یہی غیر جانبداری اور دیانت داری اس کتاب کو ایک معتبر تاریخی دستاویز بناتی ہے۔

    ادبی اور تاریخی اعتبار سے بھی ’ہم اپنی کرنی کر گزرے‘ ایک اہم کتاب ہے۔ عام طور پر تاریخ حکمرانوں، جرنیلوں یا بڑے سیاست دانوں کے نقطۂ نظر سے لکھی جاتی ہے، لیکن یہ کتاب تاریخ کو محنت کش طبقے کی آنکھ سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس میں فیکٹری کا مزدور، بندرگاہ کا کارکن، یونین کا سرگرم رکن اور سیاسی کارکن اپنی اصل صورت میں سامنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد سیاسی مبصرین، محققین اور مزدور تحریک کا مطالعہ کرنے والے اسے پاکستان کی مزدور تحریک کے حوالے سے ایک بنیادی ماخذ قرار دیتے ہیں۔

    کتاب کے ایک باب ’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے‘ میں عثمان بلوچ نے متحدہ انڈیا کی تحریک آزادی کے کئی لازوال کرداروں پر مضامین تحریر کیے ہیں۔ ان میں بھگت سنگھ، باتو کیشور دت، کھدی رام بوس، سوریا سین، پیر صبغت اللہ شاہ راشدی شہید، ہیمو کالانی اور نرائن داس بھچر شامل ہیں۔ اسی باب میں انہوں نے سندھ کی ہاری اور عوامی تحریک کے نمایاں کرداروں عنایت اللہ شہید اور مائی بختاور کی جدوجہد کو بھی خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

    ذاتی زندگی کی تفصیل

    عثمان بلوچ کے آباؤ اجداد کا تعلق بلوچستان کے ضلع دالبندین سے تھا، لیکن ان کے پردادا وہاں کی خشک سالی، غربت اور مقامی سرداروں کی باہمی چپقلشوں سے تنگ آ کر بلوچستان کے علاقے ڈیرہ جمالی منتقل ہو گئے۔

    اسی زمانے میں برطانوی حکومت نے دریائے سندھ کے بائیں کنارے ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ شروع کیا۔ خوش قسمتی سے عثمان بلوچ کے پردادا کو بھی اس منصوبے میں ملازمت مل گئی۔ اس ملازمت کے باعث خاندان سندھ کے ضلع دادو میں پیارو گوٹھ ریلوے اسٹیشن کے قریب پاٹ شریف منتقل ہو گیا۔ ان کے دادا کی ایک بہن کی شادی مقامی سندھی خاندان، قاضی صدیقی، میں ہوئی تھی، لیکن کچھ عرصے بعد ان کے بہنوئی کا انتقال ہو گیا اور ان کی بیوہ کو اپنے چار بچوں سمیت گھر چھوڑنا پڑا۔

    عثمان بلوچ لکھتے ہیں کہ ان کے خاندان نے ان بچوں کے وراثتی حقوق کے لیے انگریز عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ بچوں کو زمین کی پیداوار میں حصہ دیا جائے۔ اس فیصلے کے بعد مقامی لوگوں نے ان کے خاندان پر انگریزوں کا حمایتی ہونے کا الزام لگا دیا۔

    اس صورت حال کے باعث ان کے دادا اپنی بہن اور اس کے بچوں کو لے کر کوٹری منتقل ہو گئے، مگر وہاں بھی خود کو محفوظ محسوس نہ کیا، چنانچہ بعد ازاں کراچی آ گئے۔ برطانوی حکومت کی ملازمت کے باعث انہیں سرکاری رہائش بھی مل گئی۔ بعد میں ان کے دادا کی شادی دھابیجی کے ایک بااثر زمیندار جھنڈا خان کی صاحبزادی فاطمہ سے ہوئی، جن کے بطن سے 1905 میں عثمان بلوچ کے والد محمد ابراہیم پیدا ہوئے۔

    عثمان بلوچ 1937 میں کراچی کے لیاری کوارٹرز میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنی ابتدائی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہوں نے لیاری کے مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی، جن میں لیاری ایس ایم اسکول نمایاں ہے۔ بعد ازاں لیاری کے بگڑتے ہوئے سماجی ماحول کے باعث ان کے والد نے انہیں ایک عزیز کے گھر لاڑکانہ بھیج دیا، جہاں ان کا داخلہ لاڑکانہ گورنمنٹ ہائی اسکول میں کرایا گیا۔

    وہ لکھتے ہیں کہ لاڑکانہ میں قیام کے دوران انہیں جاگیردارانہ معاشرے کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ہاریوں اور ملازموں پر ہونے والے ظلم، انسانوں کی تذلیل اور طاقتور طبقے کی سخت گیری کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ سب کچھ انہیں اندر تک جھنجھوڑ گیا۔ اسی وجہ سے وہ اس ماحول کو چھوڑ کر دوبارہ کراچی آ گئے اور بندر روڈ پر قائم این جے وی ہائی اسکول میں داخلہ لے لیا۔

    کراچی میں تعلیم جاری رکھنے کے لیے انہیں ملازمت بھی کرنا پڑی۔ انہوں نے ایس ایم کالج سے انٹرمیڈیٹ اور اسلامیہ کالج سے گریجویشن مکمل کی۔ اس دوران انہوں نے ایک مقامی عدالت میں ملازمت اختیار کی، لیکن ایک خاتون کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی پاداش میں انہیں اپنی سرکاری ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔

    بعد ازاں انہیں کراچی کی ایک گیس کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ یہی وہ دور تھا جب انہوں نے باقاعدہ ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا آغاز کیا۔ اسی کمپنی میں کام کرتے ہوئے ان کی ملاقات ایک خاتون کمپین ملازمہ گلشن سے ہوئی، جو اسماعیلی کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھیں۔

    عثمان بلوچ نے اپنی کتاب میں اپنی شریک حیات کے بارے میں ایک تفصیلی باب تحریر کیا ہے۔ اس سے قبل گلشن کی شادی اپنی برادری کے ایک شخص سے ہوئی تھی، لیکن ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث یہ رشتہ قائم نہ رہ سکا۔ اس شخص سے گلشن کو کچھ اولاد بھی تھی۔ گلشن کا رویہ کمپنی کے مزدوروں کے ساتھ انتہائی ہمدردانہ تھا اور وہ جلد ہی ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں میں بھی شریک ہونے لگیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے درمیان باہمی اعتماد اور ذہنی ہم آہنگی پیدا ہوئی اور والدین کی رضامندی سے 1974 میں ان کی شادی ہو گئی۔

    بعد میں گلشن کو آغا خان اسپتال میں ملازمت مل گئی۔ اسی دوران امریکہ میں مقیم گلشن کے والد کی کوششوں سے انہیں 1979 میں امریکہ میں مستقل رہائش کی اجازت مل گئی۔ انہوں نے عثمان بلوچ کو بھی امریکہ منتقل ہونے کا مشورہ دیا، لیکن انہوں نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں رہ کر مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

    البتہ اپنی اہلیہ کے اصرار پر وہ کچھ عرصے کے لیے امریکہ گئے اور تقریباً آٹھ ماہ قیام کے بعد دوبارہ کراچی واپس آ گئے۔ گلشن بھی انہیں تنہا چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئیں، اس لیے وہ بھی ان کے ساتھ واپس پاکستان آ گئیں۔ اس کے بعد کئی برسوں تک دونوں کا پاکستان اور امریکہ آنا جانا جاری رہا۔

    2020 میں عثمان بلوچ کی طبیعت خراب ہوئی تو مشہور ڈاکٹر اور پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن کے روح رواں ٹیپو سلطان نے ان کے مختلف طبی معائنے کرائے، جن سے معلوم ہوا کہ وہ پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے فوری طور پر گلشن کو اطلاع دی، جنہوں نے انہیں فوراً امریکہ آنے کا مشورہ دیا۔ امریکہ میں ان کا مکمل علاج ہوا۔ کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر ڈاکٹر ٹیپو سلطان نے حاضرین کو بتایا کہ عثمان بلوچ کا علاج امریکہ میں کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے اور وہ اب روبہ صحت ہیں۔

    اسی دوران 2022 میں معلوم ہوا کہ ان کی اہلیہ گلشن الزائمر (بھول جانے والی بیماری) کے مرض میں مبتلا ہیں۔ وہ مسلسل زیر علاج رہیں، لیکن 9 مئی 2024 کو ان کا انتقال ہو گیا۔

    اپنی کتاب میں عثمان بلوچ اس صدمے کا ذکر انتہائی درد بھرے انداز میں کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: *’گلشن کا اور میرا ساتھ پچاس برس رہا۔ گلشن کی وفات نے میری دنیا اجاڑ دی اور میں یکدم تنہا ہو گیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں بہت زندہ دل ہوں اور واقعی ایسا ہی ہے، لیکن گلشن کی وفات کے بعد میرا دل اندر سے مر گیا ہے۔ میں پوری کوشش کر رہا ہوں کہ اس صدمے سے خود کو سنبھال سکوں۔’*

    عثمان بلوچ آج بھی مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد سے وابستہ ہیں۔ اگرچہ بیماری کے باعث وہ کچھ عرصے سے پاکستان سے دور ہیں، لیکن اس دوری نے انہیں پاکستان کے محنت کش طبقے کے مسائل سے الگ نہیں کیا۔ وہ مسلسل ملکی حالات پر نظر رکھتے ہیں اور مزدور تحریک سے اپنا تعلق برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    آج جب پاکستان میں ٹریڈ یونین تحریک ماضی کے مقابلے میں انتہائی کمزور دکھائی دیتی ہے، صنعتی ڈھانچہ تبدیل ہو رہا ہے اور روزگار کی نوعیت بھی تیزی سے بدل رہی ہے، ایسے وقت میں عثمان بلوچ کی زندگی اور ان کی خودنوشت نئی نسل کے لیے ایک اہم سبق رکھتی ہے۔ یہ کتاب یاد دلاتی ہے کہ مزدوروں کے حقوق، جمہوری آزادیوں اور سماجی انصاف کی جدوجہد کبھی آسان نہیں رہی، لیکن انہی جدوجہدوں نے معاشروں میں مثبت تبدیلیوں کی بنیاد رکھی ہے۔ یہی پیغام اس کتاب کو محض ایک خودنوشت نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی، سماجی اور مزدور تحریک کی تاریخ کا ایک اہم حوالہ بنا دیتا ہے۔

  • زاویہ: کیا تاریخ کا اصل حسن بادشاہوں کے محلوں میں ہے یا عام انسان کی برابری میں؟

    زاویہ: کیا تاریخ کا اصل حسن بادشاہوں کے محلوں میں ہے یا عام انسان کی برابری میں؟

    ایک ایسے دور میں جب دنیا کی دیگر تہذیبیں طبقاتی اشرافیت اور خوف کے کھیلوں میں مصروف تھیں، وادی سندھ کے لوگ مٹی کے سادے پاسوں سے ایک منفرد تہذیبی روایت رقم کر رہے تھے۔ آئیے کانسی کے دور کی سیر کریں اور جانیں کہ ہڑپہ کے کھلونے آج کے انسان کو کیا سبق دیتے ہیں۔

    جب کوئی آثار قدیمہ کا طالب علم کانسی کے دور کی عظیم شہری تہذیبوں کے مادی ثقافتی شواہد کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ صرف ان کے دفاعی قلعوں، غلے کے گوداموں یا نکاسی آب کے نظام پر ہی توجہ نہیں دیتا بلکہ ان نوادرات کو بھی دیکھتا ہے جو انسان کی روزمرہ زندگی، فراغت اور سماجی رویوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

     انسان نے جب اوزار بنانا اور تانبے و کانسی کو پگھلا کر دھات گری سیکھ لی تو اسی کے ساتھ اس نے تفریح اور سماجی میل جول کے مختلف طریقے بھی اختیار کیے۔

    آج سے تقریباً ساڑھے چار ہزار سال قبل، جب نیل کے کنارے مصر، دجلہ و فرات کے میدانوں میں میسوپوٹیمیا اور وادی سندھ میں موہنجوداڑو، ہڑپہ، چنہودڑو اور لوتھل جیسے شہر اپنے عروج پر تھے، تب ان تمام تہذیبوں میں کھیل اور کھلونے انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ تھے۔

    لیکن آثار قدیمہ کے ماہرین کے لیے سب سے دلچسپ فرق ان تہذیبوں کے کھیلوں کی نوعیت اور ان کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد میں نظر آتا ہے۔ مصر اور میسوپوٹیمیا سے ملنے والے کئی کھیل شاہی طبقے، مذہبی رسومات یا اشرافیہ سے وابستہ نظر آتے ہیں، جبکہ وادی سندھ سے برآمد ہونے والے بیشتر کھلونے اور کھیل عام مٹی سے تیار کیے گئے تھے، جو اس تہذیب کے روزمرہ طرز زندگی کی ایک منفرد جھلک پیش کرتے ہیں۔

    مادی ثقافت کا فرق، شاہی بورڈز اور مٹی کے کھلونے

    قدیم مصر میں فرعون توت عنخ آمون کے مقبرے سے ہاتھی دانت، آبنوس، سونے اور نیم قیمتی پتھروں سے مزین ‘سینٹ’ کھیل کے بورڈ دریافت ہوئے۔ اسی طرح عراق میں ‘اُر کے شاہی مقبروں’ سے صدف، عقیق اور دیگر قیمتی پتھروں سے تیار کردہ ‘اُر کا شاہی کھیل’ ملا، جسے آج دنیا قدیم ترین بورڈ گیمز میں شمار کرتی ہے۔

    اس کے برعکس، جب 1921 میں ہڑپہ میں باقاعدہ کھدائی شروع ہوئی اور بعد ازاں موہنجوداڑو کی گلیاں دریافت ہوئیں تو وہاں سے بڑی تعداد میں مٹی سے بنے مہرے، چوکور پاسے، پہیوں والی گاڑیاں، جانوروں کے کھلونے اور دیگر ٹیراکوٹا نوادرات برآمد ہوئے۔ یہ اشیا دریا کی باریک مٹی سے تیار کر کے بھٹی میں پکائی گئی تھیں۔

    ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر جوناتھن مارک کینوئر کے مطابق ہڑپہ کے ٹیراکوٹا کھلونوں کی تیاری اعلیٰ درجے کی مہارت کی عکاس ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مٹی کے یہ کھلونے صرف بچوں کی دل بہلانے کی چیزیں نہیں تھے بلکہ اس تہذیب کی دستکاری اور فنی مہارت کا بھی اظہار تھے۔

    کھیل اور معاشرہ

    آثار قدیمہ میں کسی نوادر کی جگہ بھی اہمیت رکھتی ہے۔ مصر اور میسوپوٹیمیا میں کئی قیمتی کھیل شاہی مقبروں اور اشرافیہ سے وابستہ مقامات سے ملے ہیں، جبکہ موہنجوداڑو اور ہڑپہ میں مٹی کے پاسے اور کھیلوں کے آثار عام رہائشی علاقوں، صحنوں، گلیوں اور دکانوں کے قریب بھی دریافت ہوئے ہیں۔

    سر جان مارشل نے اپنی کتاب ‘موہنجوداڑو اینڈ دی انڈس سیولائزیشن’ میں ان دریافتوں کا ذکر کیا ہے۔ بعض محققین کے مطابق ان شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ کھیل صرف محدود طبقے تک محدود نہیں تھے بلکہ شہری زندگی کا حصہ تھے، اگرچہ اس بارے میں قطعی نتائج اخذ کرنا ممکن نہیں۔

    اگر ہم ان آثار کو سامنے رکھ کر ایک تاریخی منظر کا تصور کریں تو شاید شام کے وقت موہنجوداڑو کی کسی گلی یا صحن میں لوگ مٹی کے پاسوں اور مہروں کے ساتھ وقت گزارتے ہوں گے۔ یہ تصور آثار قدیمہ کے شواہد سے متاثر ضرور ہے، تاہم اس کی مکمل تاریخی تصدیق ممکن نہیں۔

    کھیل اور عقائد

    برٹش میوزیم کے ماہر ڈاکٹر ارونگ فنکل کے مطابق مصر کا مشہور کھیل ‘سینٹ’ وقت کے ساتھ مذہبی تصورات سے بھی وابستہ ہو گیا تھا، جبکہ میسوپوٹیمیا میں ‘اُر کے شاہی کھیل’ کے بارے میں بھی بعض محققین کا خیال ہے کہ اس کے بعض مذہبی یا فال گیری سے متعلق پہلو موجود تھے۔

    اس کے برعکس، وادی سندھ سے ملنے والے پاسوں اور کھیلوں پر اب تک ایسے واضح مذہبی مناظر یا تحریری شواہد نہیں ملے جو انہیں کسی مخصوص مذہبی رسم یا بعد از موت عقائد سے براہ راست جوڑتے ہوں۔ اس لیے بیشتر ماہرین انہیں بنیادی طور پر کھیل اور تفریح سے متعلق اشیا تصور کرتے ہیں۔

    ہڑپہ سے ملنے والے چوکور پاسوں پر ایک سے چھ تک نقطوں کی ترتیب آج کے جدید پاسوں سے خاصی مشابہت رکھتی ہے۔ یہ اس تہذیب کی ریاضیاتی ترتیب، پیمائش اور معیاری کاری کی مہارت کی ایک اور مثال سمجھی جاتی ہے۔

    بچوں کے لیے بنائے گئے مٹی کے بندر، پہیوں والی گاڑیاں، جانور اور سیٹی نما پرندے بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کھلونوں کی ایک متنوع روایت موجود تھی۔ ان میں بعض ایسے کھلونے بھی شامل ہیں جن میں حرکت پیدا کرنے کے سادہ میکانیکی طریقے استعمال کیے گئے تھے۔

    عجائب گھروں کی گواہی

    آج برٹش میوزیم، نیشنل میوزیم آف انڈیا اور پاکستان کے مختلف عجائب گھروں میں محفوظ وادی سندھ کے کھلونے، مٹی کے پاسے، پہیوں والی گاڑیاں اور دیگر نوادرات اس تہذیب کی روزمرہ زندگی کی اہم جھلک پیش کرتے ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ وادی سندھ کی کھدائیوں سے بڑی تعداد میں کھلونے، مہریں، برتن اور روزمرہ استعمال کی اشیا ملی ہیں، جبکہ مصر اور میسوپوٹیمیا کی طرح شاہی فتوحات یا جنگی عظمت کی نمائندگی کرنے والی یادگاریں نسبتاً کم سامنے آئی ہیں۔ اسی بنا پر بعض ماہرین کا خیال ہے کہ وادی سندھ کی شناخت زیادہ تر شہری منصوبہ بندی، تجارت، دستکاری اور روزمرہ شہری زندگی سے وابستہ تھی۔

    وادی سندھ کا سبق

    تاریخ صرف عظیم محلات، بلند اہرام یا قیمتی نوادرات کا نام نہیں۔ بعض اوقات ایک مٹی کا کھلونا بھی اپنے عہد کے بارے میں اتنا کچھ بتا دیتا ہے جتنا ایک شاہی محل نہیں بتا سکتا۔

    ہڑپہ اور موہنجوداڑو سے ملنے والے مٹی کے سادہ پاسے، پہیوں والی گاڑیاں اور بچوں کے کھلونے ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ایک عظیم تہذیب کی پہچان صرف اس کی دولت نہیں بلکہ اس کی شہری زندگی، دستکاری، تخلیقی صلاحیت اور روزمرہ انسانی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں۔

    ساڑھے چار ہزار سال گزرنے کے باوجود یہ مٹی کے کھلونے آج بھی خاموشی سے ہمیں بتاتے ہیں کہ تہذیبوں کی اصل طاقت صرف ان کی عمارتوں میں نہیں بلکہ ان لوگوں میں بھی ہوتی ہے جنہوں نے انہیں آباد کیا۔

  • سکھر: ستین کا آستانہ، روایت اور تاریخ کے سنگم پر کھڑا ایک پراسرار ورثہ

    سکھر: ستین کا آستانہ، روایت اور تاریخ کے سنگم پر کھڑا ایک پراسرار ورثہ

    دریائے سندھ کے کنارے سکھر اور روہڑی کے درمیان واقع ستین کا آستانہ سندھ کے ان تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں قدرتی حسن، قدیم طرز تعمیر، لوک روایات اور تاریخی شواہد ایک دوسرے سے ملتے دکھائی دیتے ہیں۔

    روہڑی ریلوے پل کے قریب اروڑ کی پہاڑیوں کی ایک شاخ پر قائم یہ مقام صدیوں سے سیاحوں، محققین اور زائرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

    یہ تاریخی قبرستان اپنی منفرد تعمیر کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کئی اہم قبریں موجود ہیں، جن میں بعض ایک بلند مرکزی چبوترے پر تعمیر کی گئی ہیں۔ اس چبوترے کے چاروں کونوں پر مینار نما برج قائم ہیں، جو مغل دور کے طرز تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں۔ قبروں اور برجوں پر نفیس کاشی کاری کے آثار آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں،

    جبکہ مغرب کی جانب ایک قدیم مسجد کے کھنڈرات موجود ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عمارت بھی اپنے زمانے میں خوبصورت کاشی کاری سے آراستہ تھی۔

    ستین کا آستانہ صرف اپنے تاریخی آثار ہی نہیں بلکہ اس سے وابستہ روایات کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ مقامی لوک روایت کے مطابق سات پاکدامن خواتین ایک ظالم حکمران سے بچنے کے لیے اس مقام پر پہنچیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی، جس کے بعد زمین شق ہوگئی اور وہ اس میں سما گئیں۔

    اسی روایت کی بنیاد پر اس مقام کو "ستین کا آستانہ” کہا جانے لگا۔ تاہم اس روایت کی تاریخی یا آثار قدیمہ کی بنیاد پر تصدیق نہیں ہو سکی اور محققین اسے ایک مقامی لوک داستان قرار دیتے ہیں۔

    تاریخی شواہد ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ آثار قدیمہ کے ماہرین اور متعدد محققین کے مطابق یہاں موجود اہم قبریں مغل دور کے بکھر کے گورنر میر ابو القاسم نمکین اور ان کے اہل خانہ سے منسوب ہیں۔ قبروں پر کندہ فارسی کتبے بھی اسی نسبت کی تائید کرتے ہیں، جس کے باعث بیشتر مؤرخین اس مقام کو مغل دور کے ایک اہم تدفینی احاطے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق ستین کا آستانہ اس بات کی ایک دلچسپ مثال ہے کہ سندھ کے کئی تاریخی مقامات پر لوک روایات اور مستند تاریخی شواہد ایک ساتھ موجود ہیں۔ ایک طرف عوامی عقیدت سے جڑی داستانیں نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہیں، تو دوسری جانب آثار قدیمہ اور کتبے ان مقامات کی حقیقی تاریخی شناخت کو محفوظ رکھتے ہیں۔

    بلند پہاڑی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں سے دریائے سندھ، روہڑی اور سکھر کے دلکش مناظر بھی دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث یہ مقام تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ سیاحتی کشش بھی رکھتا ہے۔ یہی خصوصیات ستین کا آستانہ کو سندھ کے ان منفرد مقامات میں شامل کرتی ہیں جہاں تاریخ، روایت اور قدرت ایک ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہیں۔

  • پیلے پتھر کے نوحے اور گیلریوں کے قصے: رنچھوڑ لائن سے لیاری تک کی مارواڑی تاریخ

    پیلے پتھر کے نوحے اور گیلریوں کے قصے: رنچھوڑ لائن سے لیاری تک کی مارواڑی تاریخ

    کسی بھی شہر کی روح اس کے کنکریٹ کے بے جان ڈھانچوں، بلند و بالا جدید عمارتوں یا چوڑی سڑکوں میں سانس نہیں لیتی، بلکہ ان انسانوں اور برادریوں کے دم قدم سے دھڑکتی ہے جو اپنے خون جگر سے اس کے کینوس پر تہذیب و تمدن کے رنگ بکھیرتے ہیں۔

    آج کا کراچی، جو مسائل کے انبار اور بلند و بالا عمارتوں کے بے ترتیب جنگل میں تبدیل ہو چکا ہے، ماضی میں ایک ایسا کثیرالثقافتی اور کھلا شہر تھا جہاں دنیا بھر کے ہنرمند، مصلح اور امن پسند انسان کھنچے چلے آتے تھے۔ انہی قدیم اور معزز برادریوں میں سے ایک ‘مارواڑی سلاوٹ برادری’ تھی، جس نے کراچی کو ایک پسماندہ ساحلی بستی سے اٹھا کر برصغیر کا سب سے صاف ستھرا، پڑھا لکھا اور متحرک جدید شہر بنانے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا۔

    یہ اس جفاکش برادری کی تاریخ، ان کے فن کی عظمت، عروج اور پھر جدید دور کے بدلتے حالات میں ہجرت اور پھیلاؤ کی وہ داستان ہے، جس کے تذکرے کے بغیر کراچی کی ادھوری تاریخ کا کوئی بھی ورق پلٹایا نہیں جا سکتا۔

    اگر کراچی کی قدامت اور اس کے تعمیراتی حسن کا اندازہ اس کے پتھروں سے لگایا جائے تو شہر میں برطانوی دور کی تاریخی عمارتوں میں نصب کلاسیکی پیلا پتھر پکار پکار کر اس سنگ تراش برادری کی گواہی دے گا جس نے اس شہر کی بنیادوں میں اپنا خون پسینہ سینچا ہے۔

    یہ مارواڑی، سلاوٹ اور گزدر برادری دراصل ایک ہی کڑی کا حصہ ہیں جو برصغیر کی تقسیم سے بہت پہلے راجستھان کے صحرائی علاقوں سے ہجرت کر کے کراچی آئے۔ کراچی کی تعمیر نو اور اس کی سیاسی و سماجی تاریخ میں اس برادری کا کردار انتہائی منفرد اور لازمی رہا ہے، جہاں انہوں نے اپنی چھینی اور ہتھوڑے کی مدد سے کڑے پتھروں کو موم کر کے اس ساحلی شہر کو برصغیر کا ایک خوبصورت نوآبادیاتی مرکز بنا دیا۔

    راجستھان کے صحراؤں سے تالپور دور کے ساحل تک

    اس داستان کا آغاز انیسویں صدی کے وسط میں ہوتا ہے، بالخصوص 1843 میں انگریزوں کے سندھ پر قبضے کے بعد جب کراچی اور حیدرآباد منتقل ہونے کے لیے راجستھان کے علاقے مارواڑ، خاص طور پر جیسلمیر اور جودھپور، سے نقل مکانی کا ایک بڑا سلسلہ شروع ہوا۔

    موروثی طور پر یہ لوگ اعلیٰ پائے کے معمار اور سنگ تراش تھے، جنہیں راجستھانی زبان میں ‘شلاوٹ’ یا ‘سلاوٹ’ کہا جاتا تھا، جس کے معنی پتھر کاٹنے اور اس پر خوبصورت نقش و نگار بنانے والے کے ہیں۔

    مذہبی پس منظر کے لحاظ سے یہ برادری راجستھان میں پہلے ہندو عقائد پر قائم تھی، جنہیں بعد میں پیر پگارا کے آباؤ اجداد اور حر جماعت کے بانی بزرگوں نے اسلام کی دعوت دی اور وہ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ انہیں تاریخ میں ‘مارواڑی مسلمان’ کہا جاتا ہے، جب کہ ان کا ایک محنت کش حصہ اپنے قدیم ہندو عقائد پر بھی قائم رہا۔

    کراچی آمد کے بعد اس مسلم برادری کا مستقل مسکن رنچھوڑ لائن بنا، جو شہر کا قدیم ترین اور مرکز نگاہ علاقہ ہے۔ اس برادری کی لازوال بلدیاتی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں تقسیم ہند کے بعد 1951 میں رنچھوڑ لائن کا نام تبدیل کر کے باقاعدہ ‘گزدر آباد’ رکھ دیا گیا، جب کہ اس کے گردونواح کے علاقوں کو مارواڑی لائنز کہا جاتا ہے۔

    دوسری طرف، ان کے ہم وطن ہندو محنت کش چمڑے کے کارخانوں کی وجہ سے لیاری ندی کے کناروں، چاکیواڑہ اور رنگیواڑہ کی گلیوں میں آباد ہوئے۔

    چھینی اور ہتھوڑے کا جادو، سنگ تراشی اور معماری کا فن

    سلاوٹ برادری کے مرد موروثی طور پر پتھروں کے نبض شناس تھے۔ گزری کے پہاڑوں سے نکلنے والے پیلے پتھر کو منتخب کرنا، اس کی پائیداری کو پرکھنا اور پھر اسے چھینی اور ہتھوڑے کی ضرب سے خوبصورت محرابوں، ستونوں اور گوتھک طرز کے جھروکوں میں تبدیل کرنا ان کا موروثی کمال تھا۔

    اس دور میں جب جدید سیمنٹ دستیاب نہیں تھا، یہ ماہر معمار چونے، گارے اور روایتی آمیزے کی مدد سے پتھروں کو اس مہارت سے جوڑتے تھے کہ عمارتیں صدیوں کے موسموں کی سختیاں جھیلنے کے بعد بھی آج تک جوں کی توں کھڑی ہیں۔

    کراچی کی برطانوی دور کی کلاسیکی پیلے پتھر سے بنی بیشتر تاریخی عمارتوں کی تعمیر، ان کے شاہکار کٹاؤ اور نقش و نگار میں سلاوٹ برادری کا خون پسینہ شامل ہے۔ ان معماروں کا کمال صرف کراچی تک محدود نہیں تھا۔ اس برادری کی سب سے نامور سیاسی و سماجی شخصیت محمد ہاشم گزدر کے والد ‘فیض محمد’ کو راجستھان کے راجا نے شاہی محل کا عظیم اور بے مثال مرکزی دروازہ ‘بادل ولاس’ تعمیر کرنے پر باقاعدہ ‘گجدھر’ یا ‘گزدر’ کا خطاب دیا تھا، جس کے لغوی معنی ‘معمار اعظم’ کے ہیں۔
    یہی خاندانی لقب آگے چل کر اس پورے خاندان کی پہچان بنا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ برادری صرف سنگ تراشی تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان کی اگلی نسلوں میں بہترین شاعر، ادیب، تاجر، وکیل اور اخبار نویس بھی پیدا ہوئے جنہوں نے شہر کے ادبی افق کو جلا بخشی۔

    لیاری کی ٹینریاں اور ہندو مارواڑی خواتین کی گمنام جفاکشی

    کراچی کی صنعتی تاریخ کا ذکر جہاں بھی آتا ہے، وہاں لیاری کے ٹینری روڈ پر واقع چمڑا رنگنے کے قدیم کارخانوں کا تذکرہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ان کارخانوں میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو مارواڑی برادری کی بھی ایک بہت بڑی اور جاندار تاریخ وابستہ ہے، اور خاص طور پر ان کی خواتین کا کردار کراچی کی ابتدائی معیشت کا ایک گمنام مگر نہایت اہم باب ہے۔

    ان خواتین کا تعلق زیادہ تر راجستھان کے نچلے طبقے کی محنت کش برادریوں جیسے باقری، بھیل یا میگھواڑ سے تھا۔

    چمڑے کی صفائی اور پروسیسنگ کا کام انتہائی سخت، جان لیوا اور شدید بدبودار ہوتا تھا۔ یہ ہندو مارواڑی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ان ٹینریوں میں کام کرتی تھیں۔ خام چمڑے کو سڑنے سے بچانے کے لیے اس پر بھاری مقدار میں نمک لگانا، چمڑے کی اندرونی چربی اور گوشت کو مخصوص تیز دھار اوزاروں سے کھرچنا، اور پھر انہیں بڑے بڑے حوضوں میں کیمیائی مادوں اور رنگوں کے ساتھ تیار کرنا ان خواتین کا روز کا معمول تھا۔

    یہ خواتین صبح سویرے سے لے کر رات گئے تک شدید گرمی اور تعفن زدہ ماحول میں سخت ترین جسمانی مشقت کرتی تھیں، جس کی وجہ سے انہیں لیاری کے صنعتی تانے بانے کی ‘پشت پناہ’ مانا جاتا تھا۔

    ان خواتین کی ایک منفرد ثقافتی شناخت اور پہناوا تھا جو انہیں شہر کی باقی آبادی سے بالکل ممتاز کرتا تھا۔ یہ لیاری کی گلیوں میں اپنے روایتی راجستھانی لباس یعنی گھاگھرا، چولی اور چمکدار رنگوں کی اوڑھنی، ‘چنری’، میں نظر آتی تھیں۔ ان کے بازو کندھے سے لے کر کلائی تک سفید رنگ کے ہاتھی دانت یا پلاسٹک کے چوڑوں سے بھرے ہوتے تھے، جو ان کے سہاگ اور روایتی ثقافت کی علامت تھے۔

    اس کے ساتھ وہ چاندی کے روایتی بھاری زیورات پہنتی تھیں اور اپنے ہاتھوں اور چہرے پر روایتی نقش و نگار کے گدنے بنواتی تھیں۔ ان کا یہ روایتی روپ لیاری کے بلوچی اور کچھی ماحول میں بالکل منفرد دکھائی دیتا تھا۔

    1947 میں جب برصغیر کی تقسیم کا سانحہ ہوا اور کراچی کے امیر ہندو تاجروں اور اشرافیہ کی اکثریت بھارت چلی گئی تو لیاری کے ان غریب محنت کش ہندو مارواڑی خاندانوں نے اپنے مسلم پڑوسیوں کی محبت اور یقین دہانی پر اپنا شہر چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا، کیونکہ ان کا روزگار اور جڑیں انہی ٹینریوں اور کراچی کی مٹی سے وابستہ تھیں۔

    گیلریوں کا سماج اور ‘تھالیاں بجانے’ کی منفرد روایت

    گزدر آباد، رنچھوڑ لائن، کی قدیم عمارتیں، جنہیں اسی معمار برادری نے اپنے ہاتھوں سے پیلے پتھر سے بنایا تھا، اپنے خاص طرز تعمیر کی وجہ سے ایک منفرد سماجی تانے بانے کو جنم دیتی تھیں۔ ان تین سے چار منزلہ عمارتوں کے سامنے طویل اور مشترکہ گیلریاں ہوتی تھیں، جو صرف ہوا اور روشنی کے لیے نہیں تھیں بلکہ پورے محلے کو ایک بڑے مشترکہ گھر میں تبدیل کر دیتی تھیں۔ مارواڑی خواتین دن بھر کا بیشتر وقت انہی گیلریوں میں گزارتی تھیں۔

    صبح کا ناشتہ ہو، دوپہر میں پیاز یا سبزیاں چھیلنا ہو، یا شام کی چائے، خواتین اپنی اپنی گیلریوں کے لوہے کے جنگلوں کے ساتھ کھڑی ہو کر آمنے سامنے یا اوپر نیچے کی منزلوں پر موجود دوسری خواتین سے پورے محلے کے سکھ دکھ شیئر کرتی تھیں۔ یہ گیلریاں اتنی قریب ہوتی تھیں کہ پڑوسی آرام سے ہاتھ بڑھا کر سالن کی کٹوری، ماچس کی ڈبیا یا چائے کی پتی ایک دوسرے کو پکڑا دیتے تھے۔

    انہی گلیوں اور کوارٹروں میں خواتین کے درمیان ہونے والی نوک جھونک اور بحث کے دوران ‘تھالیاں بجانے’ کی ایک انتہائی دلچسپ اور منفرد روایت مشہور تھی۔ مارواڑی خواتین کی لڑائی اکثر اونچی آواز اور مخصوص راجستھانی و مارواڑی جملوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ جب دو خواتین کے درمیان جھگڑا طول پکڑتا اور وہ تھک جاتیں تو محلے کی دیگر خواتین یا وہ خود اسٹیل یا پیتل کی تھالی کو چمچے سے زور زور سے بجاتی تھیں۔

    اس تھالی بجانے کا مقصد لڑائی میں ‘وقفہ’ دینا ہوتا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے کشتی کے مقابلے میں ایک مرحلہ ختم ہونے کی گھنٹی بجتی ہے۔ جب خواتین تھک کر اپنے گھروں کے کام کاج نمٹانے یا روٹی پکانے جاتیں تو تھالی بجا کر لڑائی کو عارضی طور پر روک دیا جاتا۔

    بعد میں گھریلو کاموں سے فارغ ہو کر جب دوبارہ میدان جنگ گرم کرنا ہوتا تو ایک بار پھر تھالی بجا کر دوسری خاتون کو گیلری میں آنے کا چیلنج دیا جاتا کہ ‘اب آؤ، اگلا مرحلہ شروع کریں۔’ یہ لڑائیاں محلے کی تفریح کا سامان ہوتی تھیں جن کا خاتمہ اکثر شام کو ہنسی مذاق اور صلح پر ہوتا تھا۔

    ونجھ وٹی کا کھیل اور روایتی تفریحات

    تقسیم سے قبل اور بعد کے ادوار میں گزدر آباد کی مسلم مارواڑی برادری کی تفریحات اور کھیل ان کی مضبوط سماجی جڑت کے عکاس تھے۔ چونکہ سنگ تراشی کا کام کرنے کی وجہ سے اس برادری کے مرد جسمانی طور پر انتہائی مضبوط اور چست ہوتے تھے، اس لیے ان کے کھیل بھی جسمانی طاقت کے مرہون منت تھے۔

    ان کا سب سے پسندیدہ، موروثی اور شاہکار کھیل ‘ونجھ وٹی’ یا ‘وانجھی بارا’ تھا۔ یہ کھیل کسی مہنگے آلات کا محتاج نہیں تھا بلکہ کھلے میدان یا مٹی والی زمین پر چاک یا کوئلے کی مدد سے بڑے بڑے چوکور خانے بنا کر کھیلا جاتا تھا۔ ان خانوں کو تقسیم کرنے والی لکیروں کو ‘پٹیاں’ یا ‘ونجھ’ کہا جاتا تھا۔

    یہ کھیل دو ٹیموں کے درمیان ہوتا تھا جس میں چار سے آٹھ کھلاڑی ہوتے تھے۔ دفاعی ٹیم کے کھلاڑی صرف اپنی مخصوص لکیر پر دائیں بائیں بھاگ کر لکیر کی حفاظت کر سکتے تھے، جب کہ ان کا کپتان مرکزی عمودی لکیر پر اوپر سے نیچے تک حرکت کر سکتا تھا۔ حملہ آور ٹیم کا مقصد لکیر پر کھڑے حریفوں کے ہاتھوں آؤٹ یا لمس ہوئے بغیر تمام خانوں کو پار کر کے آخری حد تک پہنچنا اور پھر وہاں سے کامیابی سے واپس پہلے خانے تک لوٹنا ہوتا تھا۔

    ونجھ وٹی میں سلاوٹ نوجوانوں کی دوڑنے کی چستی اور پینترا بدلنے کی صلاحیت دیکھنے کے لائق ہوتی تھی، اور جب کوئی کھلاڑی حریف کو چکمہ دے کر خانے پار کرتا تو گیلریوں میں کھڑا پورا محلہ زور دار نعروں سے گونج اٹھتا۔ عرس کے دنوں میں یا چاندنی راتوں میں رنچھوڑ لائن اور لیاری کی مختلف گلیوں کے درمیان ونجھ وٹی کے باقاعدہ مقابلے ہوتے تھے اور جیتنے والی ٹیم کو برادری کی طرف سے روایتی مٹھائی کھلائی جاتی تھی۔

    ونجھ وٹی کے علاوہ گلیوں میں کبڈی اور کشتی کے دنگل سجتے تھے، جب کہ راجستھانی ثقافت کے اثر کے باعث پتنگ بازی کا جنون بھی عروج پر ہوتا تھا۔ مردوں کی سب سے بڑی تفریح شام کے وقت محلے کے روایتی چائے خانوں پر لکڑی کے بنچوں پر بیٹھ کر کڑک دودھ پتی کے کپ کے ساتھ دن بھر کی مزدوری اور برادری کے معاملات پر بحث کرنا ہوتا تھا، جہاں پرانے ریکارڈ پلیئر پر موسیقی گونجتی تھی۔

    سیاسی و سماجی خدمات کا تاریخی باب، محمد ہاشم گزدر کا دور

    مارواڑی سلاوٹ برادری کی سیاسی اور بلدیاتی خدمات تاریخ کا ایک نہایت روشن باب ہیں۔ اس برادری کے مایہ ناز رہنما محمد ہاشم گزدر 1941 سے 1942 کے دوران کراچی کے میئر منتخب ہوئے۔ انہوں نے شہر کی بلدیاتی ترقی، صفائی ستھرائی اور پانی کی فراہمی کے نظام میں انقلابی اصلاحات کیں۔

    ہاشم گزدر تحریک آزادی کے سرگرم رہنما اور قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی اور معتمد ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے، جنہوں نے بمبئی لیجسلیٹو کونسل اور بعد میں سندھ کے وزیر داخلہ کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان کی پہلی مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن اور قومی اسمبلی کے دوسرے ڈپٹی اسپیکر بنے۔

    بلدیاتی خدمات کے ساتھ ساتھ، برصغیر میں کوآپریٹو ہاؤسنگ کا پہلا کامیاب تجربہ کرنے والے سنسیناٹس فابین ڈی ابریو نے 1908 میں کراچی کی پہلی منصوبہ بند ہاؤسنگ سوسائٹی قائم کی، جسے ان کے نام پر ‘سنسیناٹس ٹاؤن’ کہا گیا اور جو آج گارڈن ایسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    اس کی تعمیرات میں بھی سلاوٹ معماروں کا کلیدی ہاتھ تھا۔ اسی طرح تقسیم کے بعد رہائشی بحران کو حل کرنے کے لیے جیروم ڈی سلوا نے اپنے مسلم ساتھی کے ساتھ مل کر مشہور ‘حسین ڈی سلوا ٹاؤن’ بنایا تو اس میں بھی انہی کاریگروں کا پسینہ شامل تھا۔

    تعلیمی میدان میں برادری نے اپنے بل بوتے پر گزدر آباد میں فلاحی مراکز اور اسکول قائم کیے، جن میں 1949 میں قائم ہونے والا ‘ایم ایچ گزدر گورنمنٹ سیکنڈری اسکول’ آج بھی ان کی علم دوستی کا ثبوت ہے۔ برٹو روڈ، پیڈرو ڈی سوزا روڈ اور ڈی سلوا اسٹریٹ کے ساتھ ساتھ گزدر آباد کی گلیاں ان شخصیات کی یاد دلاتی ہیں۔

    عقیدت کے رنگ، مساجد اور عرس کے روایتی پکوان

    مذہبی عقائد کے معاملے میں مسلم مارواڑی برادری بنیادی طور پر اہل سنت والجماعت، فقہ حنفی، سے تعلق رکھتی ہے اور ان کا فکری رجحان صوفیانہ ہے۔ چونکہ راجستھان میں ان کے آباؤ اجداد کو حر جماعت کے بانی بزرگوں نے اسلام کا پیغام دیا تھا، اس لیے اس برادری کی ایک بہت بڑی تعداد آج بھی پیر پگارا کے خانوادے کی مرید ہے اور ان سے گہری عقیدت رکھتی ہے۔

    چونکہ یہ لوگ خود معمار تھے، اس لیے انہوں نے کراچی میں جو مساجد تعمیر کیں، وہ اپنی خوبصورتی اور پائیداری میں بے مثال ہیں۔ گزدر آباد کی مرکزی ‘جامع مسجد سلاوٹ’ اور ‘مسجد غوثیہ’ پیلے پتھر کی دستکاری، ہاتھ سے تراشے گئے محرابوں اور شاندار خطاطی کا شاہکار ہیں، جو برادری کے تمام سماجی فیصلوں کا مرکز رہی ہیں۔

    دوسری طرف، لیاری کے اولڈ سلاٹر یارڈ روڈ پر واقع کے ایم سی اسٹاف کمپاؤنڈ میں قائم ‘شری رام دیو جی پیر مندر’، رام شاہ پیر، ہندو مارواڑیوں کا سب سے بڑا مرکز ہے، جہاں ہر سال بھادوں، اگست اور ستمبر، کے مہینے میں راما پیر کا میلہ روایتی ڈنڈیا راس، سفید پرچم لہرانے کی رسم اور جاگرن کے ساتھ دھوم دھام سے منایا جاتا ہے، جس میں مقامی مسلم بلوچ پڑوسی بھی شرکت کرتے ہیں۔

    مسلم مارواڑیوں کے ہاں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا عرس، گیارہویں شریف، اور جشن عید میلاد النبیﷺ سب سے بڑے سالانہ اجتماعات ہوتے ہیں۔ اس موقع پر گزدر آباد کی تنگ گلیوں میں بڑے بڑے دیگچے سج جاتے ہیں اور فضا دیسی گھی، کیوڑے اور الائچی کی خوشبو سے مہک اٹھتی ہے۔ ان کے پکوان راجستھانی روایات اور کراچی کے چٹ پٹے ذائقوں کا ایک بہترین اور منفرد امتزاج ہوتے ہیں۔

    مارواڑی سفید پلاؤ

    یہ عرس کا شاہی پکوان ہے جو ہلکے مسالوں، دیسی گھی، سونف اور دھنیے کی یخنی میں تیار کیا جاتا ہے، جس میں گوشت مکھن کی طرح نرم ہوتا ہے۔

    گٹے کا سالن

    یہ خالص راجستھانی موروثی ڈش ہے جو بیسن کے رولز کو ابال کر، دہی اور ٹماٹر کی کھٹی گریوی میں پکا کر تیار کی جاتی ہے اور عرس کے لنگر میں نان کے ساتھ شوق سے کھائی جاتی ہے۔

    کھڈ گوشت

    عرس کے خاص موقع پر بکرے کے پورے گوشت کو مسالے لگا کر پپیتے کے پتوں میں لپیٹا جاتا ہے اور پھر زمین میں گڑھا کھود کر کوئلوں کی دھیمی آنچ پر کئی گھنٹوں تک پکا کر روایتی صحرائی ذائقہ کشید کیا جاتا ہے۔

    لاپسی

    نیاز اور تبرک کا آغاز و اختتام اس میٹھے کے بغیر ادھورا ہے۔ یہ ٹوٹے ہوئے گیہوں، دلیہ، کو دیسی گھی میں بھون کر، گڑ، الائچی اور خشک میوے ڈال کر دم پر تیار کی جاتی ہے۔

    ثقافتی پہچان اور مارواڑی زبان کا خمیر

    مارواڑی زبان اس برادری کی بقا اور شناخت کا سب سے مضبوط ستون ہے۔ یہ ہند آریائی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور بنیادی طور پر مغربی راجستھان، جودھپور اور جیسلمیر، کا ایک لہجہ ہے، جس کا خمیر سندھی، گجراتی اور کچھی زبانوں سے بہت ملتا جلتا ہے۔

    کراچی آنے کے بعد مسلم مارواڑیوں نے اردو کو بھی اپنایا، لیکن ان کا مخصوص لہجہ اور الفاظ سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتے تھے۔ ان کی خواتین شادیوں اور مذہبی تہواروں کے رت جگے میں ڈھولک کی تھاپ پر مارواڑی زبان میں روایتی لوک گیت ‘مانگڑ’ اور ‘ہمنگ’ گاتی ہیں، جن میں راجستھان کے صحراؤں، بارش کی دعاؤں اور اپنے بزرگوں کی ہجرت کا ذکر ہوتا ہے۔

    جدید دور کے باوجود یہ برادری اپنے گھروں کی چار دیواری کے اندر دادا دادی اور نانا نانی سے گفتگو کے لیے آج بھی خالص مارواڑی زبان ہی استعمال کرتی ہے تاکہ یہ ورثہ زندہ رہے۔

    ہجرت کی دھند اور موجودہ پھیلاؤ

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گنجان آبادی، روزگار کی تبدیلی اور معاشی ترقی کی وجہ سے یہ برادری اب صرف گزدر آباد، رنچھوڑ لائن، تک محدود نہیں رہی۔ جب لیاری سے چمڑے کی ٹینریاں کورنگی صنعتی علاقے منتقل ہوئیں تو چمڑے کے کاروبار سے وابستہ مسلم اور ہندو مارواڑی خاندانوں کی ایک بڑی تعداد کورنگی کے مختلف سیکٹروں، ناصر کالونی اور چمڑا چورنگی، میں منتقل ہو گئی۔

    اسی طرح بلدیہ ٹاؤن اور عثمان آباد میں بھی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے مارواڑی رہائش پذیر ہیں۔ برادری کے وہ لوگ جنہوں نے تعلیم حاصل کی یا بلڈنگ کنسٹرکشن، ٹھیکیداری، چمڑے کی برآمدات اور تھوک تجارت میں ترقی کی، وہ اب کراچی کے پوش اور متوسط علاقوں جیسے گلشن اقبال، گلستان جوہر اور فیڈرل بی ایریا میں منتقل ہو چکے ہیں۔

    سرکاری مردم شماری میں مارواڑی یا سلاوٹ برادری کا کوئی الگ خانہ نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے وہ لسانی طور پر دستاویزی ریکارڈ میں گم ہو جاتے ہیں، لیکن برادری کے فلاحی اداروں، جیسے جامعتہ السلاطین، کے تخمینے کے مطابق کراچی اور حیدرآباد کو ملا کر مسلم مارواڑی سلاوٹ برادری کی آبادی قریباً ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان ہے، جب کہ ان کے اکابرین اور سابق میئر ہاشم گزدر کا ابدی مسکن میوہ شاہ قبرستان کے خاندانی احاطے میں واقع ہے۔

    آج گزدر آباد کی پرانی اور خستہ حال عمارتیں، ان کی طویل گیلریاں اور سڑکوں کے کتبے اب خاموش نوحہ بن چکے ہیں۔ وہ چھینی اور ہتھوڑے کی آوازیں جو کبھی پتھروں کو زندگی دیتی تھیں، اب جدید کنکریٹ کے شور میں دب چکی ہیں، لیکن پرانے کراچی کی گلیوں کا رخ کیا جائے تو یہ پیلے پتھر آج بھی پکار پکار کر کہتے ہیں کہ اس شہر قائد کو معمار اعظم کا روپ دینے والے اصل تاجدار کون تھے۔ کراچی کی تاریخ ان کے تذکرے کے بغیر ہمیشہ نامکمل رہے گی۔

  • زاویہ: جغرافیائی شکنجہ اور بقا کا مقدمہ، کیا اسٹیبلشمنٹ تاریخ کی سب سے بڑی چال چلے گی؟

    زاویہ: جغرافیائی شکنجہ اور بقا کا مقدمہ، کیا اسٹیبلشمنٹ تاریخ کی سب سے بڑی چال چلے گی؟

    تاریخ اقوام عالم کے سامنے بعض اوقات ایسے کڑے، بے رحم اور سفاک لمحات آتے ہیں جہاں تساہل کی گنجائش اور غلطی کا مارجن صفر ہو جاتا ہے۔

    جولائی 2026 کا یہ تپتا ہوا مہینہ پاکستان کے لیے ایک ایسے ہی تاریخی، تزویراتی اور جغرافیائی امتحان کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ ایک طرف ابھی حال ہی میں دنیا بھر میں ’چٹانوں کا عالمی دن‘ منایا گیا، جو ہمیں دھرتی کے مضبوط، غیر متزلزل اور قدیم جغرافیائی ڈھانچے کی یاد دلاتا ہے، تو دوسری طرف خود پاکستان کا جغرافیہ اس وقت ایک دم گھونٹ دینے والے تزویراتی شکنجے میں تبدیل ہو چکا ہے۔

    پاکستان اس وقت ایک ایسے ’بیک وقت کئی محاذوں پر پھیلے بحران‘ کا شکار ہے، جہاں اس کی اندرونی سیاست مفلوج، معیشت وینٹی لیٹر پر اور سرحدیں بارود کی بو سے بوجھل ہیں۔ اس تاریک سرنگ میں اب سویلین قیادت کی بے بسی اور بے اختیاری پوری طرح عیاں ہو چکی ہے، اور اب فیصلہ کن گیند مکمل طور پر ملکی اسٹیبلشمنٹ کے کورٹ میں آ گری ہے۔

    مقتدرہ کو اب اپنی روایتی انا اور مائیکرو مینیجمنٹ کی پالیسی کو پس پشت ڈال کر نہ صرف اندرونی طور پر سیاسی فراخدلی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، بلکہ بیرونی محاذ پر برادر ملک سعودی عرب کے تاریخی و معتبر کردار کو بروئے کار لا کر ملک کو اس تاریخی دلدل سے نکالنا ہوگا۔

    جغرافیائی شکنجہ چار متحرک اور خطرناک محاذ

    اگر ہم پاکستان کے موجودہ جغرافیائی و سیاسی نقشے پر نگاہ دوڑائیں، تو ہمارا ملک اس وقت چار انتہائی متحرک اور مہلک محاذوں کے درمیان گھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

    جنوب مغربی محاذ ایران امریکہ جنگ کا ہولناک سایہ

    پہلا اور سب سے بڑا تزویراتی دھچکا ہمارے جنوب مغرب میں پڑوسی ملک ایران اور امریکہ کے درمیان چھڑنے والی تازہ ترین ہولناک جنگ ہے۔ جون 2026 میں ہونے والے ’اسلام آباد جنگ بندی معاہدے‘ کے ٹوٹنے کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی اور ساحلی شہروں پر فضائی حملوں نے پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

    ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے جوابی کارروائی کے طور پر آبنائے ہرمز میں خلیجی ممالک کے آئل ٹینکرز اور بحرین و اردن میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے عمل نے پاکستان کو براہ راست لپیٹ میں لے لیا ہے۔

    اس جنگ کا سب سے مہلک اثر ہماری معیشت پر پڑا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے خوف سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں حکومت پاکستان کو ملکی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پچاس فیصد تک کا کمر توڑ اضافہ کرنا پڑا ہے۔

    اس بیرونی جھٹکے نے ملک میں مہنگائی کا وہ طوفان نوح کھڑا کیا ہے جس نے عام آدمی سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ مزید برآں، فرنس آئل اور درآمدی گیس کی سپلائی معطل ہونے سے ملک کا توانائی کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہے، طویل لوڈشیڈنگ نے صنعتی پہیے کو جام کر دیا ہے، اور عالمی مالیاتی فنڈ کے حالیہ سخت پروگرام کے اہداف بھی کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    اس محاذ پر پاکستان کی بقا صرف اور صرف ’سخت اور غیر متزلزل غیر جانبداری‘ میں ہے۔ کسی بھی ایک فریق کا ساتھ دینا یا اپنی فضائی حدود کی فراہمی بلوچستان کے حساس بارڈر پر جنگ کی ایک نئی آگ بھڑکانے کے مترادف ہوگا۔

    مغربی محاذ کابل سے تلخی اور زیرو ٹولرینس

    دوسرا فعال محاذ ہماری مغربی سرحد یعنی افغانستان کا ہے۔ کراچی میں رینجرز پر ہونے والے حالیہ بزدلانہ حملے کے تانے بانے افغان سرزمین سے ملنے کے بعد اسلام آباد اور کابل کے مابین سفارتی و عسکری تلخی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔

    پاکستان کی عسکری قیادت اب اپنی دہائیوں پرانی ’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘ کی روایتی پالیسی کو دفن کر کے ’زیرو ٹولرینس‘ کا جارحانہ اصول اپنا چکی ہے۔ طورخم اور چمن بارڈرز پر سخت ترین سکیورٹی ضابطے نافذ ہیں اور بغیر پاسپورٹ و ویزا کے افغان شہریوں کی آمدورفت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    پاکستان کو اس مغربی محاذ پر اپنے قلیل عسکری اور مالی وسائل جھونکنے پڑ رہے ہیں تاکہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر ملک دشمن گروہوں کے حملوں کا راستہ روکا جا سکے۔

    تزویراتی ماہرین کو یہ شدید تشویش ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بحران کا فائدہ اٹھا کر پاکستان مخالف قوتیں مغربی سرحد پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں تاکہ پاک فوج کی توجہ اور دفاعی وسائل کو تقسیم کیا جا سکے۔

    مشرقی محاذ روایتی حریف کی گھات

    تیسرا محاذ مشرق میں روایتی حریف بھارت کا دیرینہ عناد ہے، جو ہمیشہ سے پاکستان کی اندرونی سیاسی کمزوری اور مغربی سرحدوں پر مصروفیت کا فائدہ اٹھانے کی تاک میں رہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان اندرونی طور پر کمزور اور معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار ہوا، مشرقی سرحد پر بھارت کی طرف سے کسی بھی قسم کے ایڈونچر ازم کا خطرہ دوچند ہو گیا۔

    اندرونی محاذ سیاسی انتشار اور معاشی مفلوجگی

    لیکن ان تمام بیرونی محاذوں سے زیادہ مہلک اور ہولناک چوتھا محاذ خود پاکستان کا مرکز یعنی اس کا اندرونی سیاسی اور معاشی خلفشار ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک ملک کے اندر سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل نہیں ہوگا، کوئی بھی ریاست بیرونی خطرات کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

    موجودہ سویلین حکمران اتحاد اور حقیقی اپوزیشن کے مابین نفرتیں اور خلیج اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ وہ ملکی بقا کے لیے کسی ایک میز پر بیٹھنے یا عارضی ’سیاسی جنگ بندی‘ کرنے پر بھی راضی نہیں ہیں۔ سویلین قیادت اس وقت عوامی مقبولیت کے بدترین بحران اور شدید دھڑے بندی کا شکار ہے، جس سے پورا نظام حکومت مفلوج ہو چکا ہے۔ عوام کا ریاست پر سے اعتماد اٹھ رہا ہے اور اپوزیشن مہنگائی کو ڈھال بنا کر ملک گیر احتجاج کی تیاریاں کر رہی ہے۔

    بند گلی سے نکلنے کا راستہ سیاسی فراخدلی

    ایسے حالات میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس تزویراتی بند گلی سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ اس کا واحد، حتمی اور معروضی جواب یہ ہے کہ اب گیند مکمل طور پر اسٹیبلشمنٹ کے کورٹ میں ہے۔ چونکہ سویلین پارٹیاں اپنی سیاسی بقا، نظریاتی دشمنیوں اور ووٹ بینک کے خوف سے طویل مدتی یا کڑوے فیصلے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اس لیے اسٹیبلشمنٹ کو خود آگے بڑھ کر ایک ’معاشی اور سیاسی منتظم‘ کا تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔

    لیکن اس کے لیے مقتدرہ کو اپنا روایتی طریقہ کار بدلنا ہوگا۔ انہیں اب انتہائی ’فراخدلی‘ کے ساتھ گراؤنڈ پر موجود ملک کی حقیقی اپوزیشن اور عوامی نمائندوں کے ساتھ پس پردہ بامقصد مذاکرات کا آغاز کرنا ہوگا۔

    اپوزیشن کو دیوار سے لگا کر، یا انہیں سیاسی عمل سے زبردستی باہر رکھ کر بنایا گیا کوئی بھی ’قومی ایجنڈا‘ یا ’میثاق معیشت‘ عوامی قبولیت حاصل نہیں کر سکے گا، اور ملک اسی طرح دائروں کے بے سود سفر میں بھٹکتا رہے گا۔ ملک کو اس وقت انتقام سے پاک ایک ’سیاسی عام معافی‘ اور تمام متعلقہ فریقوں کے مابین ایک طویل مدتی عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔

    سعودی عرب کا کردار معتبر ضامن اور تزویراتی شراکت دار

    اس اندرونی فراخدلی کے ساتھ ساتھ، پاکستان کو اس معاشی و سیاسی دلدل سے نکالنے کے لیے بیرونی طور پر سب سے معتبر چابی برادر ملک ’سعودی عرب‘ کے پاس ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاسی قیادت اور اہم متعلقہ فریقوں کے درمیان ڈیڈ لاک ناقابل حل ہوا، تو ریاض نے ہمیشہ ایک مخلص ’بڑے بھائی‘ اور ضامن کا کردار ادا کیا۔

    موجودہ علاقائی صورتحال میں پاکستان کا مستحکم ہونا خود سعودی عرب کے اپنے مفاد میں ہے۔ ایران امریکہ جنگ کے سائے میں سعودی عرب کو اپنی آئل تنصیبات اور اندرونی سلامتی کے حوالے سے شدید تزویراتی خدشات لاحق ہیں۔ اس ہولناک جنگی ماحول میں پاکستان کی ایٹمی پوزیشن اور اس کی مضبوط روایتی عسکری قوت ہی وہ واحد دفاعی حصار اور ’ایٹمی چھتری‘ ہے جس پر خلیجی ممالک انحصار کر سکتے ہیں۔ ایک کمزور، ایٹمی صلاحیت رکھنے والا مگر معاشی طور پر مفلوج پاکستان خود سعودی عرب کی اپنی دفاعی صلاحیت کے لیے ایک بہت بڑا سکیورٹی رسک ہے۔

    علاوہ ازیں، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اپنے پروگرام ’ویژن 2030‘ کے تحت پاکستان کے کان کنی اور توانائی کے شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اگر پاکستان کے اندر سیاسی ہیجان اور امن و امان کا بحران ختم نہ ہوا، تو ان کی یہ تمام تر سرمایہ کاری خطرے میں پڑ جائے گی۔

    چنانچہ، اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب کو اس سیاسی ڈیڈ لاک کو توڑنے کے لیے بطور ثالث استعمال کرے۔ سعودی قیادت کا احترام پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ، حکمران جماعتوں اور حقیقی اپوزیشن، تینوں کے ہاں بلا تفریق پایا جاتا ہے۔ اگر سعودی عرب پاکستان کو معاشی بیل آؤٹ پیکج دینے کے ساتھ یہ دوستانہ شرط عائد کرے کہ وہ تمام حقیقی سیاسی قوتوں کو ایک میز پر دیکھنا چاہتا ہے، تو پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کا کھویا ہوا اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور ملک میں ایک طویل مدتی سیاسی جنگ بندی ممکن ہو جائے گی۔

    جیسا کہ کارونجھر کی چٹانوں کے بارے میں تھر کے تھری لوگ کہتے ہیں کہ ’کارونجھر سونا دیتا ہے‘ کیونکہ وہ پہاڑ ان کی زندگی، روزگار اور پانی کے ذخائر کا ضامن ہے۔ بالکل اسی طرح پاکستان کا تزویراتی جغرافیہ اور اس کا دفاعی مقام بھی ہمارا سب سے قیمتی اور بیش بہا اثاثہ ہے، بشرطیکہ ہم اسے اندرونی لڑائیوں اور انتقام کی بھٹی میں جھونکنے کے بجائے عقل و دانش سے استعمال کریں۔

    چٹانوں کے عالمی دن پر ہمیں یہ آفاقی سبق یاد رکھنا چاہیے کہ جو قومیں اندرونی طور پر چٹان کی طرح مضبوط اور متحد نہیں ہوتیں، بیرونی طوفانی ہوائیں ان کے وجود کو ریت کے ذروں کی طرح اڑا کر لے جاتی ہیں۔

    پاکستان کے پاس اب مزید سیاسی تجربات، بند کمروں کے فیصلوں، انتقامی سیاست یا اندرونی خلفشار کی گنجائش قطعی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو اب اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اور فیصلہ کن چال چلنی ہوگی۔ انہیں سویلین قیادت کی مصلحت پسندی اور بے بسی کو بالائے طاق رکھ کر خود ایک قدم آگے بڑھانا ہوگا، حقیقی اپوزیشن کے لیے اپنے دروازے کھولنے ہوں گے اور سعودی عرب کی باوقار ضمانت میں ایک ایسا ’میثاق پاکستان‘ تشکیل دینا ہوگا جو اگلے دس سال کے لیے ملک کی معاشی اور خارجہ پالیسی کو روزمرہ کی گندی سیاست کی دست برد سے محفوظ کر دے۔

    اگر آج یہ موقع گنوا دیا گیا، تو ایران کی جنگ، افغانستان کا تناؤ اور اندرونی مہنگائی کا یہ بھیانک طوفان پاکستان کو ایک ایسے تاریک گڑھے کی طرف دھکیل دے گا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ وقت ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل رہا ہے اور تاریخ کی آنکھیں ہمیں دیکھ رہی ہیں۔

  • نگرپارکر: کارونجھر کی آغوش میں بسا ایک تاریخی شہر

    نگرپارکر: کارونجھر کی آغوش میں بسا ایک تاریخی شہر

    پارکر کے میدانوں پر، کارونجھر کی گود میں نگرپارکر کا خوبصورت شہر آباد ہے۔ جس کے دونوں اطراف سے کارونجھر (پہاڑ) سے بہہ کر آنے والی برساتی ندیوں کا گزر ہوتا ہے۔ شہر کے وسط کی خوبصورتی مٹی کے نلی دار کھپریلوں (نرین) سے بنی چھتوں والی پرانی بازار ہے، جسے ’پالن بازار‘ کہا جاتا ہے۔

    شہر میں داخل ہوتے ہی ایک قدیم جین مندر استقبال کرتا ہے، تو دوسرا کارونجھر سے ہم کلام ہونے کے لیے بازار سے باہر نکلتے وقت الوداع کہنے کے لیے تاریخ کا اونچا سر اٹھائے کھڑا ہے۔ بازار سے ایک راستہ کارونجھر میں موجود ’ساردھڑے دھام‘ کی طرف جاتا ہے، تو دوسرا راستہ گھڑٹیاری کے گھاٹ سے ہوتا ہوا کاسبو کی طرف نکلتا ہے۔ ساردھڑے جانے والے راستے پر چندن گڑھ کے آثار ہیں، ان آثاروں کے سامنے پنگل سوامی کا مندر ہے جس میں سورج کی پوجا کی جاتی تھی۔

    اس شہر میں کھپریلوں والا پرانا گھر ہو یا کوئی عام عمارت، یہاں کے اصل رہائشیوں کا یہ رواج رہا ہے کہ وہ گھر میں دیے (چراغ) کے لیے ایک خوبصورت طاقچہ (آلا) ضرور بنواتے ہیں۔

    جب بادل گھیر کر آتے ہیں اور پارکر کے میدانوں پر بارش کا سماں باندھتے ہیں، تب کارونجھر کی حسیناؤں کے دل میں جاگی ہوئی آرزو ایک لوک دوہے کا روپ اختیار کر لیتی ہے کہ:

    گهر نيگڙو، ڏيئو سچنت، آپ سميڻو مانرو ڪنت،
    پڇي ڀل وسو ميهولا، هون ستوڙي ڪران نچنت،

    (ترجمہ: خوبصورت و مضبوط گھر ہو، اس میں روشن چراغ جل رہا ہو، اور ساتھ میں میری ہی عمر اور ہم خیال میرا شوہر ہو، اس کے بعد بھلے بارشیں برستی رہیں، میں بے فکر ہو کر سکون کی نیند سوؤں گی)

    اسی کیفیت اور منظرنامے پر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:

    اڱڻ تازي، ٻَهَر ڪُنڊيون، پکا پٽ سُنهَن،
    سُرهي سيج، پاسي پرين، مر پيا مينهن وسن،
    اسان ۽ پِرينِ، شال هُون برابر ڏينهڙا۔

    (شاہ جو رسالو؛ کلیان آڈوانی، ص 393)

    (صحن میں اصیل گھوڑے بندھے ہوں، باہر دودھیل بھینسیں ہوں، زمین پر خوبصورت جھونپڑیاں بھلی لگ رہی ہوں، مہکتی ہوئی سیج ہو اور پہلو میں محبوب ہو، پھر بھلے موسلا دھار بارشیں برسیں؛ خدا کرے کہ ہمارے اور محبوب کے یہ (وصل کے) دن ہمیشہ قائم رہیں)

  • مشرق کی ملکہ کا مٹتا ہوا تمدن: جدید کراچی کی تکوین اور سندھی ہندو دانشوروں کا علمی و صحافتی ورثہ

    مشرق کی ملکہ کا مٹتا ہوا تمدن: جدید کراچی کی تکوین اور سندھی ہندو دانشوروں کا علمی و صحافتی ورثہ

    کراچی کی تاریخ دراصل برصغیر کے عظیم ترین تجارتی دماغوں، مدبرین اور دانشوروں کی مشترکہ محنت اور وژن کا مجموعہ ہے۔

    جب ہم آثار قدیمہ، لسانیات، ابلاغ عامہ اور شہری آبادیات کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اس شہر کے ماضی کا سراغ لگاتے ہیں، تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ کراچی کو مٹی کے ڈھیر سے اٹھا کر ‘مشرق کی ملکہ’ بنانے میں سندھی ہندو برادری، خصوصاً عامل اور بھائی بند طبقے، کا کردار بنیاد کا پتھر ہے۔

    یہ وہ برادری تھی جس نے نہ صرف اس شہر کی معاشی اور بلدیاتی بنیادیں استوار کیں، بلکہ جدید سندھی زبان، اس کے مروجہ رسم الخط، نثری ادب، تاریخ نویسی اور صحافت کو ایک سائنسی قالب میں ڈھال کر اسے جدید ترین علمی شکل دی۔

    آج کا کراچی جس تاریخی ورثے اور جن مٹتی ہوئی علمی روایات پر کھڑا ہے، ان کے پیچھے کارفرما فکری تحریک کا آغاز انیسویں صدی کے وسط سے ہوتا ہے۔

    بھائی بند اور عامل، تمدنی ارتقا کے دو متوازی دھڑے

    سندھ کے ہندو معاشرے کو بنیادی طور پر دو بڑے علمی اور عملی گروہوں میں تقسیم کیا جاتا تھا، جن کا کراچی کی منتقلی اور اس شہر کے تمدنی ارتقا میں الگ الگ مگر متوازی کردار رہا۔

    بھائی بند

    یہ بنیادی طور پر لوہانہ اور کھتری نژاد تجارتی طبقہ تھا، جس کا مرکز شکارپور، خدا آباد اور حیدرآباد تھا۔ انگریزوں کی آمد سے قبل یہ لوگ اونٹوں کے قافلوں کے ذریعے شاہراہ ریشم، وسطی ایشیا اور روس تک تجارت کرتے تھے۔ برطانوی راج میں جب کراچی کی بندرگاہ کھلی، تو یہ لوگ بڑے پیمانے پر یہاں منتقل ہوئے اور دنیا بھر میں اپنا تجارتی نیٹ ورک قائم کیا۔

    عامل

    یہ طبقہ انتہائی پڑھا لکھا، مغل اور کلہوڑا دور سے ہی درباروں میں دیوان اور منشی کے عہدوں پر فائز رہنے والا گروہ تھا۔ انگریزوں کے آنے کے بعد انہوں نے مغربی اور انگریزی تعلیم حاصل کی اور کراچی کی عدلیہ، کسٹمز، بلدیہ، صحافت اور انتظامیہ کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو کر شہر کے فکری منظرنامے پر چھا گئے۔

    سندھ ورک اور روایتی عالمی بینکاری نظام

    انیسویں صدی کے وسط سے لے کر بیسویں صدی کے وسط تک، حیدرآباد اور کراچی کے بھائی بند ہندوؤں نے، جنہیں عالمی منڈیوں میں ‘سندھ ورکی’ کہا جاتا تھا، بغیر کسی حکومتی یا فوجی سرپرستی کے دنیا بھر کے سمندری تجارتی راستوں پر اپنا غلبہ قائم کیا۔

    ان کا نیٹ ورک دنیا کے چار براعظموں، جبل الطارق، مالٹا، کینیا، ہانگ کانگ، سنگاپور، کوبے اور پاناما تک پھیل چکا تھا۔ وہ یہاں سے سندھی ریشمی کپڑا، کڑھائی، اجرک اور ہاتھی دانت کا سامان برآمد کرتے تھے اور وہاں کی دولت لا کر کراچی اور حیدرآباد میں لگاتے تھے۔

    ان کا بینکاری نظام جدید بینکاری قوانین کے بغیر چلنے والا دنیا کا ایک انتہائی محفوظ نیٹ ورک تھا، جس کی بنیاد ‘ہونڈی’ پر تھی۔

    عالمی قبولیت

    کراچی اور شکارپور سے جاری ہونے والی کچے کاغذ کی ایک پرچی، ہونڈی، کابل، قندھار، اصفہان اور بخارا کے ہندو صرافوں کے پاس جا کر فوراً نقد رقم میں تبدیل ہو جاتی تھی۔

    خفیہ رسم الخط، خدا آبادی یا وانکی

    یہ بینکار اپنے مالیاتی ریکارڈ رکھنے کے لیے ایک خاص رسم الخط استعمال کرتے تھے جو صرف ان کی برادری کے لوگ ہی پڑھ سکتے تھے، یوں ان کے بہی کھاتے چوری یا ہیک ہونے سے محفوظ رہتے تھے۔

    جدید سندھی رسم الخط اور قواعد کی تشکیل

    انیسویں صدی کے وسط میں برطانوی راج کے آغاز پر جب سندھی زبان کو دفتری اور تعلیمی زبان بنانے کا فیصلہ ہوا، تو اس برادری کے ادیبوں نے اسے عربی سندھی حروف تہجی کے قالب میں ڈھالنے سے لے کر اس کے کلاسیکی صوفیانہ مواد کو محفوظ کرنے تک لازوال خدمات انجام دیں۔

    عربی سندھی حروف تہجی، 1853

    برطانوی افسر سر بارٹل فریر کی سرپرستی میں جب سندھی زبان کے لیے ایک متفقہ رسم الخط بنانے کی کمیٹی بنی، تو اس میں مسلم علمائے کرام کے ساتھ دیوان مٹھارام کلیان داس اور دیگر ہندو عامل دانشوروں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے مل کر موجودہ 52 حروف تہجی پر مشتمل سندھی رسم الخط کو حتمی شکل دی تاکہ اسے سرکاری اسکولوں اور دفاتر میں رائج کیا جا سکے۔

    پہلی قواعد کی کتاب اور لغات

    بھیرومل لکشمی چند اور جیٹھمل پرسرام جیسے ماہرین لسانیات نے سندھی زبان کی پہلی باقاعدہ قواعد کی کتابیں اور سندھی سے انگریزی لغات مرتب کیں، جس نے کراچی اور حیدرآباد کے تعلیمی نظام کو ایک سائنسی بنیاد فراہم کی۔

    شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کی تدوین اور بقا

    آثار قدیمہ اور تمدنی تاریخ کے طلبہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر یہ ہندو ادیب نہ ہوتے، تو شاید سندھ کا سب سے بڑا صوفیانہ تمدنی ورثہ، یعنی ‘شاہ جو رسالو’، ہم تک اس سائنسی اور علمی شکل میں نہ پہنچتا۔ سندھ کے ہندوؤں کا مذہبی مزاج برصغیر کے دیگر حصوں سے بالکل مختلف اور صوفیانہ تھا۔ وہ مندروں کے ساتھ ساتھ اپنے گھروں اور ‘ٹکانوں’، یعنی عبادت گاہوں، میں گرو گرنتھ صاحب کا پرکاش کرتے تھے اور صوفی شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام سے گہرا لگاؤ رکھتے تھے۔

    ڈاکٹر ہوتچند مولچند گربخشانی

    ڈاکٹر گربخشانی برصغیر کے وہ عظیم محقق تھے جنہوں نے پہلی بار سائنسی اور تنقیدی بنیادوں پر ‘شاہ جو رسالو’ کو مرتب کیا۔ انہوں نے شاہ بھٹائی کے کلام سے الحاقی، یعنی جعلی، ابیات کو الگ کیا، مشکل الفاظ کے معنی اور لغت لکھی اور اسے تین ضخیم جلدوں میں شائع کر کے سندھی زبان کو دنیا کے اعلیٰ ترین ادبی معیار کے برابر لا کھڑا کیا۔

    دیوان لیلارام وطومل

    انہوں نے 1890 کی دہائی میں انگریزی زبان میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کی پہلی مفصل سوانح عمری اور ان کی صوفیانہ شاعری کا فلسفہ لکھ کر وادی سندھ کے اس صوفی کو عالمی سطح پر متعارف کروایا۔

    سندھی نثری ادب، ناول اور تاریخ نویسی کے بانی

    اگرچہ مرزا قلیچ بیگ کو جدید سندھی نثر کا معمار مانا جاتا ہے، لیکن ان کے شانہ بشانہ سادھو ہیرانند اور پروفیسر بھیرومل مہرچند ایڈوانی نے سندھی نثر کو بلندیوں پر پہنچایا۔

    بھیرومل مہرچند ایڈوانی

    انہوں نے ‘قدیم سندھ’ اور ‘سندھی جغرافیہ’ جیسی شاہکار کتابیں لکھیں جو آج بھی آثار قدیمہ اور تاریخ کے طلبہ کے لیے بنیادی ماخذ مانی جاتی ہیں۔ انہوں نے وادی سندھ کی تاریخ کو نوآبادیاتی یا متعصبانہ عینک سے دیکھنے کے بجائے خالصتاً سائنسی اور زمینی حقائق کے مطابق تحریر کیا۔

    دیوان کوڑومل چندن مل

    انہوں نے سندھی زبان میں پہلے سماجی ناول اور ڈرامے لکھے، جن کا مقصد معاشرے میں موجود توہم پرستی کا خاتمہ اور خواتین کی تعلیم کی ترویج تھا۔

    امرت لعل اونی

    انہوں نے کراچی بندرگاہ کی تاریخ، اونٹوں کے پرانے تجارتی قافلوں اور شاہراہ ریشم سے جڑے شکارپوری تاجروں کی معاشی تاریخ کو قلمبند کیا، جس کے بغیر آج جدید کراچی کی معاشی تاریخ لکھنا ناممکن ہے۔

    ابلاغ عامہ کا ارتقا، اولین اخبارات اور صحافت

    جب ہم کراچی اور سندھ میں جدید صحافت کی ابتدا کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہاں پریس اور اخبارات کو ایک باقاعدہ صنعت اور عوامی آواز بنانے میں سندھی ہندو دانشوروں اور تاجروں کا کردار انقلابی تھا۔ ان کا مقصد صحافت کو محض خبروں کا ذریعہ بنانا نہیں تھا، بلکہ وہ اسے سماجی اصلاح، صوفیانہ ہم آہنگی اور برطانوی حکومت کے خلاف آزادی کی تحریک کا ہتھیار مانتے تھے۔

    سادھو ہیرانند اور ‘سرسوتی’، 1890

    سادھو ہیرانند شوقی برصغیر کے ان اولین صحافیوں میں سے تھے جنہوں نے کراچی اور حیدرآباد سے ‘سرسوتی’ نامی ایک ماہنامہ جاری کیا۔ یہ رسالہ سندھی نثر، تاریخ اور سائنس کی ترویج کا ایک اہم ذریعہ بنا اور اس نے سندھ کے نوجوانوں میں لکھنے پڑھنے کا ذوق پیدا کیا۔

    دیوان لیلارام وطومل اور ‘سندھ ٹائمز

    یہ کراچی کے اولین انگریزی اخبارات میں سے ایک تھا، جس کے مدیر لیلارام وطومل تھے۔ اس اخبار نے کراچی بندرگاہ کے کسٹمز قوانین، بلدیاتی مسائل اور عام شہریوں کے حقوق کے حوالے سے برطانوی انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

    دیوان پرسرام وشنداس اور ‘روزنامہ سنسار سماچار

    یہ تقسیم سے قبل کراچی کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والا سندھی زبان کا روزنامہ تھا، جس کا جدید پرنٹنگ پریس کراچی کے قدیم شہری علاقے میں قائم تھا۔ یہ اخبار عالمی خبروں کے ساتھ ساتھ کراچی میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی اور عدالتی فیصلوں کو بھی تفصیل سے شائع کرتا تھا۔ اس اخبار کا معیار صحافت اتنا بلند تھا کہ اس کے اداریوں کا جواب خود انگریز کمشنر سندھ کو دینا پڑتا تھا۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1947 کی ہجرت کے بعد جب یہ صحافی اور ادیب ممبئی اور بھارت کے دیگر شہروں میں منتقل ہوئے، تو انہوں نے وہاں اپنی مادری زبان اور صحافت کو زندہ رکھنے کے لیے جن اخبارات کا دوبارہ آغاز کیا یا نئے پرچے جاری کیے، ان میں سے ایک اخبار کا نام انہوں نے ‘سندھ سماچار’ رکھا۔

    صحافت کا صوفیانہ اور انقلابی رخ

    جیٹھمل پرسرام گلراجانی نوآبادیاتی کراچی کی صحافت کے سب سے نڈر اور معتبر ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

    انہوں نے کراچی سے ‘سندھ واسی’ اور ‘ہندواسی’ کے نام سے اخبارات جاری کیے۔ ان اخبارات کی خاصیت یہ تھی کہ یہ صوفی شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست کے کلام کے ذریعے ہندو مسلم اتحاد اور تھیوسوفی کی ترویج کرتے تھے تاکہ کراچی کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو صوفیانہ ہم آہنگی کے ایک مرکز پر اکٹھا رکھا جا سکے۔

    آزادی صحافت کے لیے جیل کا سفر

    1919  میں جب برطانوی حکومت نے رولٹ ایکٹ نافذ کیا، تو جیٹھمل پرسرام نے اپنے اداریوں میں انگریز حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جس کی پاداش میں انہیں گرفتار کر کے قید کی سزا دی گئی، لیکن انہوں نے اپنے اخبار کا سر نہیں جھکایا۔

    تجارتی صحافت اور پریس کلبوں کی ابتدائی شکلیں

    سندھ چونکہ 1936 تک بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ تھا، اس لیے کراچی کے سندھ ورکی تاجروں نے بمبئی کے بڑے اخبارات میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی تھی تاکہ کراچی بندرگاہ کی تجارتی خبریں عالمی سطح پر شائع ہو سکیں۔

    کراچی کے جوڑیا بازار اور کھارادر سے ہندو تاجروں نے خصوصی ‘تجارتی خبرناموں’ کا آغاز کیا۔ ان ہفتہ وار پرچوں میں کراچی بندرگاہ پر آنے والے جہازوں، روئی، اناج اور چمڑے کی قیمتیں شائع ہوتی تھیں، جو برصغیر میں معاشی اور تجارتی صحافت کی اولین شکل تھی۔

    موجودہ کراچی پریس کلب، جو 1958 میں قائم ہوا، سے بہت پہلے نوآبادیاتی دور میں سندھی ہندو صحافیوں اور پارسی و مسلم دانشوروں نے مل کر شہر میں پریس کلب کی ابتدائی شکلیں اور صحافتی انجمنیں قائم کر دی تھیں۔

    سندھ جرنلسٹس ایسوسی ایشن’، 1920 کی دہائی

    جیٹھمل پرسرام، لیلارام وطومل اور سادھو ہیرانند کی کوششوں سے ایم اے جناح روڈ، سابقہ بندر روڈ، اور سولجر بازار کے سنگم پر اس انجمن کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ موجودہ پریس کلبوں کی ابتدائی شکل تھی، جہاں ایک بڑا ہال، اخبارات کی لائبریری اور ٹائپ رائٹر موجود ہوتے تھے۔ یہاں ہندو، مسلم اور پارسی صحافی مل کر بیٹھتے، چائے نوشی کرتے اور کلفٹن یا کراچی بندرگاہ سے آنے والی سیاسی اور تجارتی خبروں پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔

    ینگ مینز ہندو ایسوسی ایشن’ کا صحافتی ہال

    بندر روڈ پر واقع اس تاریخی عمارت کا نقشہ اور مالی معاونت سندھ ورکی تاجروں نے فراہم کی تھی، جو نوآبادیاتی کراچی میں پریس کلب کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ جب بھی بمبئی، دہلی یا یورپ سے کوئی بڑا سیاسی رہنما یا بحری تاجر کراچی بندرگاہ پر اترتا، تو اس کی پہلی پریس کانفرنس اسی عمارت کے ہال میں منعقد کی جاتی تھی۔

    کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کسٹمز پریس گیلری

    سیٹھ ہرچند رائے وشنداس اور دیوان ٹھاکر داس کی بلدیاتی کوششوں سے کراچی بندرگاہ کے قریب ایک مستقل پریس گیلری اور میڈیا روم قائم کیا گیا تھا، جہاں دنیا بھر سے آنے والے بحری جہازوں کے کپتانوں اور درآمدات و برآمدات کے اعداد و شمار پر روزانہ صحافیوں کو بریفنگ دی جاتی تھی۔ اسے اس دور کی معاشی صحافت کا پریس کلب سمجھا جاتا تھا۔

    بلدیہ اور عدلیہ کے معمار اور رہائشی بستیاں

    ان متمول تاجروں اور پڑھے لکھے افسر شاہی طبقے نے اپنی رہائش کے لیے جو محلے منتخب کیے، وہ اپنے طرز تعمیر اور شہری منصوبہ بندی کے لحاظ سے اس دور کے جدید ترین علاقے تھے، جیسے قدیم شہری علاقہ، جونا مارکیٹ، کھوڑی گارڈن، عامل کالونی، سولجر بازار، جمشید کوارٹرز اور آرام باغ۔

    دیارام گدو مل

    یہ نوآبادیاتی سندھ کی عدالتی تاریخ کے معتبر ترین ججوں اور جوڈیشل کمشنروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے دیوان دیارام جیٹھمل کے خاندان کو آمادہ کر کے کراچی کا پہلا تاریخی سائنس کالج 1887 میں قائم کروایا۔

    سیٹھ ہرچند رائے وشنداس

    بحیثیت صدر بلدیہ 1911 سے 1921 تک انہوں نے کراچی کا نقشہ بدل دیا۔ انہوں نے بندر روڈ کو روزانہ پانی سے دھونے کا نظام شروع کروایا تاکہ شہر طاعون سے محفوظ رہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کراچی میونسپل کارپوریشن کی کئی عمارتیں ان کے وژن کا نتیجہ تھیں۔ گارڈن ایسٹ میں واقع ان کا تاریخی بنگلہ اس دور میں آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کے رہنماؤں کی نشست گاہ تھا، جہاں قائد اعظم محمد علی جناح بھی تشریف لائے۔

    1941 کی مردم شماری اور ہجرت کا المیہ، 1947 تا 1948

    برطانوی ہند کی آخری باقاعدہ مردم شماری 1941 کے مطابق کراچی کی کل آبادی 386,655 تھی، جس کا آبادیاتی ڈھانچہ درج ذیل تھا۔

    سندھی اور گجراتی ہندو: 51.1 فیصد، شہر کی واضح اکثریت

    مسلمان، کچھی سندھی، بلوچ، میمن، بوہرہ اور خوجہ: 42.3 فیصد

    لسانی تناسب کے مطابق شہر کی 61.2 فیصد آبادی کی مادری زبان سندھی تھی، جبکہ اردو بولنے والوں کا تناسب محض 6.3 فیصد تھا۔ سندھی ہندو ایک انتہائی شہری برادری تھی، اسی وجہ سے حیدرآباد میں 72 فیصد اور سکھر میں 70 فیصد آبادی ہندوؤں پر مشتمل تھی۔

    اگست 1947 کے بعد اور خصوصاً جنوری 1948 کے فسادات کے نتیجے میں کراچی کی تقریباً نصف آبادی، یعنی ہندو برادری، چند ماہ کے اندر بادل نخواستہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر بھارت روانہ ہو گئی۔ اس عظیم ہجرت نے کراچی کو یکدم درج ذیل گہرے اور ناقابل تلافی زخم دیے۔

    مالیاتی اور عدالتی تعطل

    بندرگاہ کی تجارتی مالیاتی سرگرمیاں، ہونڈی کا نظام اور چیف کورٹ آف سندھ کا عدالتی نظام ججوں اور بینک کے عملے کے چلے جانے سے مفلوج ہو گیا۔

    لسانی اور تمدنی تبدیلی

    1951 کی مردم شماری تک کراچی کی آبادی 11 لاکھ ہو گئی۔ مسلم آبادی 96 فیصد ہو گئی اور ہندو آبادی سمٹ کر محض ایک فیصد رہ گئی۔ کراچی راتوں رات ایک سندھی اکثریتی شہر سے اردو اکثریتی شہر بن گیا، جس سے شہر کا قدیم صوفیانہ اور کثیر الثقافتی مزاج یکسر بدل گیا۔

    تعلیمی اور اسکولی نظام کا بحران

    سندھی میڈیم اسکولوں کے 80 فیصد سے زائد اساتذہ اور ہیڈ ماسٹر عامل ہندو تھے، جن کے چلے جانے سے تعلیم مہینوں تک متاثر رہی۔ حکومت پاکستان نے ہنگامی بنیادوں پر ان خالی شدہ اسکولوں، کالجوں اور ہاسٹلوں، جیسے مٹھارام ہاسٹل، کو مہاجر کیمپوں میں تبدیل کر دیا، جس سے ان کی تاریخی لائبریریاں اور سائنسی تجربہ گاہوں کا سامان ضائع ہو گیا۔

    بعد ازاں وفاقی دارالحکومت بننے کے بعد تعلیمی پالیسی کے تحت درجنوں پرانے سندھی اسکولوں کو اردو میڈیم میں تبدیل کر دیا گیا، جس سے شہر کا تعلیمی ڈھانچہ اپنی قدیم سندھی شناخت کھو بیٹھا۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ 1948 کے اوائل میں جب یہ تمام تجربہ کار ہندو مدیر، مالکان، تاریخ دان اور بلدیاتی معمار یکدم کراچی چھوڑ کر بھارت منتقل ہوئے، تو ان کے بنائے ہوئے صحافتی ہال، پرنٹنگ پریس اور تعلیمی ادارے ویران ہو گئے۔

    ممبئی اور پونا منتقل ہونے کے بعد بھی ان دانشوروں نے اپنی مادری زبان کا رشتہ زندہ رکھا اور بھارت کے آئین کے آٹھویں شیڈول میں سندھی زبان کو شامل کروانے کے لیے طویل قانونی اور سیاسی جدوجہد کی، جس میں وہ کامیاب ہوئے۔

    اگرچہ ان کے جانے کے بعد کراچی ایک گنجان عظیم شہر میں تبدیل ہو گیا اور اس کی جگہ جدید اخبارات اور نئے تمدن نے لے لی، لیکن ان کے قائم کردہ تعلیمی ادارے، ہسپتال اور پیلے پتھر سے تعمیر شدہ تاریخی عمارتیں آج بھی کراچی کے چپے چپے پر ان کے عظیم وژن، صوفیانہ ہم آہنگی اور لازوال خدمات کی خاموش گواہی دے رہی ہیں۔

    تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرا ماننا ہے کہ 4500 قبل مسیح میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث وادی سندھ کے مکینوں کی مرحلہ وار ہجرت کے بعد 1947 اور 1948 میں سندھ کے ان فرزندان زمین کی اچانک ہجرت نے بھی سندھ کو ایک بہت بڑا نقصان پہنچایا۔

  • کراچی شہر، بندرگاہ اور پارسی خاندان: تاریخ، تجارت، قانون اور عقائد کا مطالعہ

    کراچی شہر، بندرگاہ اور پارسی خاندان: تاریخ، تجارت، قانون اور عقائد کا مطالعہ

    سندھ کے ساحلی شہر کراچی اور اس کی قدیم بندرگاہ کی تاریخ کا ذکر برصغیر کی صدیوں پرانی ایرانی النسل برادری کے بغیر ادھورا رہے گا۔ یہ برادری گجراتی زبان بولنے والے پارسیوں پر مشتمل ہے۔ آج کے اس مضمون میں ہم اس برادری کا تفصیل سے جائزہ لیں گے۔

    ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں جب ایران میں ساسانی سلطنت کا زوال ہوا اور اس کے بعد خطے میں بڑے پیمانے پر مذہبی، سیاسی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہونے لگیں، تو قدیم زرتشتی مذہب کے پیروکاروں کے لیے اپنے عقیدے اور بقا کا ایک بڑا بحران پیدا ہو گیا۔ وہ نسلیں جو صدیوں تک ایران کے تخت و تاج اور ثقافت کی امین رہی تھیں، اب اپنے دین کو بچانے کے لیے وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔

    زرتشتیوں کے ایک بڑے گروہ نے ایران کے صوبے ‘خراسان’ اور پھر ساحلی شہر ‘ہرمز’ کا رخ کیا، جہاں سے انہوں نے گجرات کے بحری جہازوں کے ذریعے ہندوستان کے مغربی ساحلوں کی طرف ہجرت کا آغاز کیا۔

    پارسیوں کے یہ بحری جہاز 716 یا بعض روایات کے مطابق 785 میں ہندوستان کے صوبہ گجرات کے ساحلی علاقے ‘سنجان’ پر لنگرانداز ہوئے۔ اس وقت وہاں مقامی راجپوت راجہ یادیو رانا حکومت کرتا تھا۔ پارسیوں کی تاریخی دستاویز ‘قصہ سنجان’ فارسی زبان کی ایک رزمیہ نظم ہے جو 1599 میں بہمن کیکوباد سنجانا نامی ایک پارسی مذہبی پیشوا نے لکھی تھی۔

    ان کے مطابق، راجپوت راجہ نے ایرانی پناہ گزینوں کی آمد پر ابتدا میں ہچکچاہٹ کا اظہار کیا اور اپنی سلطنت میں گنجائش کی کمی ظاہر کرنے کے لیے پارسی پیشواؤں کو کناروں تک دودھ سے بھرا ہوا ایک پیالہ بھیجا، جس کا مطلب یہ تھا کہ ان کے پاس مزید لوگوں کی جگہ نہیں ہے۔

    پارسی مذہبی رہنما نے اس کا جواب انتہائی دانشمندی سے دیا۔ انہوں نے اس دودھ کے پیالے میں ایک چٹکی شکر ڈال دی، جو دودھ سے باہر گرے بغیر اس میں پوری طرح حل ہو گئی اور دودھ کو میٹھا کر دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ پارسی گجرات اور برصغیر کی سرزمین پر مقامی آبادی کے لیے بوجھ نہیں بنیں گے بلکہ ان کی ثقافت اور زندگی میں گھل مل کر اسے مزید شیریں اور خوشحال بنا دیں گے۔ راجہ یادیو رانا اس جواب سے حد درجہ متاثر ہوا اور اس نے پارسیوں کو چار بنیادی شرطوں پر پناہ دی۔

    • وہ مقامی زبان گجراتی اختیار کریں گے۔
    • ان کی خواتین مقامی لباس ساڑھی پہنیں گی۔
    • وہ اپنی شادی بیاہ اور خوشی کی تقریبات رات کے وقت کریں گے تاکہ مقامی آبادی کے آرام میں خلل نہ پڑے۔
    • وہ ہتھیار نہیں اٹھائیں گے اور مقامی راجہ کے وفادار رہیں گے۔

    پارسیوں نے ان شرائط کو تہہ دل سے قبول کیا اور صدیوں تک گجرات کے مختلف علاقوں جیسے سنجان، نوساری، سورت اور بھروچ میں پرامن زندگی گزاری۔ انہوں نے نہ صرف گجراتی زبان کو اپنی مادری زبان کے طور پر اپنایا بلکہ اپنے ناموں کے ساتھ گجراتی لہجے کا لاحقہ ‘جی’ جیسے دنشا جی، کاؤس جی اور جساوالا بھی جوڑ لیا، جو آج بھی ان کی شناخت کا حصہ ہے۔

    برصغیر کی تجارتی سلطنتوں کا عروج

    انیسویں صدی میں جب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر کے ساحلی شہروں بمبئی اور کلکتہ کو بین الاقوامی تجارت کے مراکز کے طور پر ترقی دینا شروع کی، تو گجرات کے ساحلوں سے پارسیوں نے ان شہروں کا رخ کیا۔ پارسیوں کی سب سے بڑی خوبی ان کی غیر معمولی تجارتی بصیرت، ایمانداری اور زبانیں سیکھنے کی قدرتی صلاحیت تھی۔ وہ جلد ہی انگریزوں، پرتگالیوں اور دیگر یورپی تاجروں کے معتبر ترین تجارتی شراکت دار بن گئے۔

    بمبئی میں ‘واڈیا خاندان’ نے بحری جہاز سازی کی صنعت کی بنیاد رکھی اور برطانوی بحریہ کے لیے ایسے شاندار اور مضبوط لکڑی کے جہاز تیار کیے جنہوں نے دنیا بھر کے سمندروں کا سفر کیا۔ اسی طرح ‘ٹاٹا خاندان’ نے ٹیکسٹائل اور لوہے کی صنعت میں قدم رکھا، اور سر جمشید جی نے چین کے ساتھ کپاس اور افیون کی تجارت کے ذریعے برصغیر کی سب سے بڑی تجارتی سلطنتوں میں سے ایک قائم کی۔

    پارسیوں نے دولت کمانے کے بعد روایتی تاجروں کی طرح اسے صرف تجوریوں میں بند نہیں رکھا بلکہ جدید مغربی تعلیمی اداروں کا رخ کیا۔ وہ برصغیر کے پہلے لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے انگریزی زبان سیکھی اور وکالت، عدلیہ، طب، صحافت اور انجینئرنگ جیسے اعلیٰ پیشوں میں اپنی مہارت کا لوہا منوا کر برصغیر کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی اور بااثر اشرافیہ میں صف اول کا مقام حاصل کر لیا۔

    کراچی بندرگاہ کی جدید کاری میں پارسیوں کا حصہ

    1839 میں جب برطانوی فوج نے منوڑہ کے قلعے پر قبضہ کیا اور 1843 میں سر چارلس نیپیئر نے سندھ کو برطانوی سلطنت کا حصہ بنایا، تو کراچی کی جغرافیائی اہمیت یکسر تبدیل ہو گئی۔ انگریزوں کو وسطی ایشیا، پنجاب اور شمال مغربی سرحد تک تجارتی اور فوجی رسائی کے لیے ایک بہترین بندرگاہ کی ضرورت تھی۔ اس وقت کراچی محض چند ہزار ساحلی باشندوں، ماہی گیروں اور مقامی تاجروں کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔

    بمبئی پریزیڈنسی کے تحت جب کراچی کے انتظامی معاملات چلانے کا آغاز ہوا، تو انگریزوں کے ساتھ جو سب سے پہلا متحرک، تعلیم یافتہ اور کاروباری طبقہ کراچی منتقل ہوا، وہ پارسی تاجر تھے۔ 1840 اور 1850 کے عشروں میں بمبئی سے بحری جہازوں کے ذریعے پارسی خاندان کراچی پہنچنا شروع ہوئے اور انہوں نے کیماڑی، صدر اور منوڑہ کے علاقوں میں اپنے ڈیرے جمائے۔

    ابتدائی دور میں کراچی بندرگاہ پر بڑے بحری جہازوں کے لنگرانداز ہونے کی سہولت موجود نہیں تھی کیونکہ سمندر کی لہریں اور ریت کے ڈھیر جہازوں کے راستے میں رکاوٹ بنتے تھے۔ سر چارلس نیپیئر اور بعد میں آنے والے برطانوی انجینئروں نے کراچی بندرگاہ کو جدید نمونے پر ترقی دینے کے لیے کئی منصوبے بنائے۔ ان منصوبوں پر عمل درآمد اور ان کے لیے مالی و انتظامی تعاون پارسیوں نے فراہم کیا۔

    1887 میں جب کراچی پورٹ ٹرسٹ ایکٹ منظور ہوا اور بندرگاہ کا تمام انتظام ایک باقاعدہ بورڈ کے حوالے کیا گیا، تو اس کے بانی ارکان اور طویل عرصے تک بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن رہنے والوں میں پارسی نام سب سے نمایاں تھے۔ ان تاجروں نے بندرگاہ کی درج ذیل بڑی تکنیکی ترقیوں میں حصہ لیا۔

    نیپیئر مول روڈ:

    1854 میں کیماڑی جزیرے کو کراچی کے مرکزی شہر سے جوڑنے کے لیے بنائے گئے پل اور سڑک کی تعمیر کے لیے پارسی تاجروں نے گودام فراہم کیے اور رسد کا انتظام سنبھالا۔

    منوڑہ بریک واٹر:

    سمندر کی لہروں کے دباؤ کو کم کرنے اور جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے منوڑہ کے ساحل پر پتھروں کی ایک بہت بڑی دیوار تعمیر کی گئی، جس کی وجہ سے برطانوی اور یورپی بحری جہازوں کے لیے کراچی کا راستہ کھل گیا۔ اس منصوبے کے لیے پارسیوں نے بندرگاہی فنڈ میں بڑی سرمایہ کاری کی۔

    برتھنگ اور کارگو ہینڈلنگ:

    پارسیوں نے بندرگاہ پر پہلی بار جدید جیٹیاں بنائیں اور جہازوں سے مال اتارنے کے لیے کرینیں اور جدید حسابی نظام متعارف کرایا۔

    کراچی بندرگاہ کے انیسویں صدی کے تجارتی دستاویزات اور ‘بمبئی پریزیڈنسی تجارتی گزٹ’ کے ریکارڈ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کراچی پورٹ کس طرح دنیا کی مصروف ترین بندرگاہوں میں شامل ہوئی۔ 1850 کے عشرے کے ریکارڈ کے مطابق سالانہ لگ بھگ ایک ہزار سے زائد چھوٹے بڑے جہاز یہاں آتے تھے۔

    بیسویں صدی کے آغاز تک کراچی پورٹ سلطنت برطانیہ کو گندم، کپاس اور اون فراہم کرنے والی سب سے بڑی برآمدی بندرگاہ بن چکی تھی۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے پرانے حسابی ریکارڈ میں روزانہ کی بنیاد پر پارسی کمپنیوں کے نام درج ہیں، جنہوں نے کوئلے، نمک، کپڑے اور مشینری کی درآمد اور کلیئرنس کے معاملات سنبھالے۔

    کراچی کے افق پر چمکتے پارسی خاندان

    کراچی کے نامور پارسی خاندانوں نے نہ صرف بندرگاہ کے کاروبار پر حکمرانی کی بلکہ شہر کی صنعت، جائیداد، ہوٹلوں اور عوامی بہبود کی بنیاد بھی رکھی۔ ذیل میں ان بڑے خاندانوں کا تفصیلی خاکہ پیش ہے۔

    1۔ کاؤس جی خاندان

    کاؤس جی خاندان کا شمار پاکستان اور برصغیر کی قدیم ترین جہاز رانی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ یہ خاندان 1883 میں ہندوستان کے مغربی ساحل سے تجارتی مواقع کی تلاش میں کراچی آیا تھا۔ انہوں نے کوئلے اور نمک کی تجارت سے اپنا کاروبار شروع کیا۔ اس دور میں بحری جہاز کوئلے سے چلتے تھے، اس لیے جہازوں کو کوئلہ فراہم کرنا ایک انتہائی منافع بخش اور اہم کاروبار تھا۔

    جلد ہی انہوں نے ‘کاؤس جی گروپ’ کے نام سے پاکستان کی سب سے بڑی جہاز رانی اور کارگو ہینڈلنگ کمپنی قائم کی۔ کراچی بندرگاہ پر آنے والے برطانوی اور دیگر بین الاقوامی جہازوں کو سنبھالنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ اس خاندان کی کاروباری دیانت داری اور سمندری قوانین پر گرفت اتنی مضبوط تھی کہ عالمی جہاز رانی کمپنیاں ان پر مکمل اعتماد کرتی تھیں۔ اس خاندان کے سب سے مشہور فرد اردشیر کاؤس جی تھے، جو پاکستان کے ایک بے باک کالم نگار، ماہر تعمیرات اور سماجی رہنما کے طور پر معروف ہوئے۔ انہوں نے کراچی کے ماحول اور تاریخی عمارتوں کو بچانے کے لیے عمر بھر جدوجہد کی۔

    2۔ ایڈلجی دنشا خاندان

    سیٹھ ایڈلجی دنشا کو کراچی کی تاریخ کا امیر ترین تاجر، زمیندار اور مخیر شخصیت مانا جاتا ہے۔ ان کا خاندان جائیداد اور تجارت کا بے تاج بادشاہ تھا۔ انیسویں صدی کے آخر میں کراچی کے مرکزی علاقوں صدر، ایمپریس مارکیٹ، ایم اے جناح روڈ اور سول لائنز میں ان کی سینکڑوں ایکڑ قیمتی زمین اور شاندار عمارتیں موجود تھیں۔

    ایڈلجی دنشا اور ان کے خاندان کے افراد کراچی پورٹ ٹرسٹ کے بانی اراکین اور طویل عرصے تک ٹرسٹی رہے۔ بندرگاہ کے آس پاس کارگو کے گوداموں اور کسٹمز کلیئرنس کے معاملات میں ان کا بڑا اثر و رسوخ تھا۔ انہوں نے اپنی کمائی ہوئی دولت کا ایک بڑا حصہ کراچی کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیا۔ ان کے بیٹے نادرشا ایڈلجی دنشا کی مالی معاونت اور عطیات کی بدولت کراچی کا پہلا انجینئرنگ کالج قائم ہوا، جسے آج ہم این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے خواتین کے لیے تاریخی لیڈی ڈفرن ہسپتال کی تعمیر کے لیے اس دور میں لاکھوں روپے کے فنڈز بھی فراہم کیے۔

    3۔ ڈوباش خاندان

    لفظ ڈوباش اصل میں سنسکرت اور گجراتی لفظ ‘دو بھاشا’ یعنی دو زبانیں جاننے والا سے نکلا ہے۔ قدیم دور میں جب غیر ملکی جہاز برصغیر کے ساحلوں پر آتے تھے، تو انگریزی یا دیگر یورپی زبانیں بولنے والے کپتانوں اور مقامی گجراتی و سندھی تاجروں کے درمیان براہ راست رابطہ ممکن نہیں ہوتا تھا۔ اس دور میں پارسیوں نے مترجم کا کردار ادا کیا اور جہازوں کو مقامی راشن، پانی اور دیگر سامان فراہم کرنے کا کاروبار شروع کیا۔

    کراچی میں ڈوباش خاندان کا تعلق 1855 سے ہے۔ جہانگیر فیروز شاہ ڈوباش اور ان کے بعد ان کی نسلوں نے کراچی بندرگاہ پر مال برداری کی خدمات اور جہاز رانی کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران، جب کراچی پورٹ اتحادی افواج کا ایک بڑا مرکز تھا، تو ڈوباش خاندان کی کمپنیوں نے امریکی اور برطانوی فوج کے لیے مال برداری کی خدمات انجام دیں اور یونانی و دیگر عالمی جہاز رانی کمپنیوں کی نمائندگی بھی کی۔

    4۔ آواری خاندان

    ہوٹل انڈسٹری میں آواری خاندان کا نام پاکستان کے کونے کونے میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس خاندان کے بانی دنشا آواری تھے، جنہوں نے 1944 میں آواری گروپ کی بنیاد رکھی۔ دنشا آواری نے اگرچہ ہوٹل کی صنعت میں نام کمایا، لیکن ان کے کاروبار کا آغاز بھی کراچی بندرگاہ سے جڑا ہوا تھا۔

    انہوں نے 1948 میں کراچی کے ساحل کے قریب مائی کولاچی اور نیٹی جیٹی کے پاس تاریخی ‘بیچ لگژری ہوٹل’ کی بنیاد رکھی۔ اس ہوٹل کا مقام اس لیے منتخب کیا گیا تھا تاکہ سمندر کے راستے آنے والے غیر ملکی جہاز رانوں، کپتانوں اور بین الاقوامی کاروباری شخصیات کو بندرگاہ کے قریب بین الاقوامی معیار کی رہائش، طعام اور تفریح فراہم کی جا سکے۔ بعد میں اس خاندان نے شاہراہ فیصل پر ‘آواری ٹاورز’ ہوٹل تعمیر کیا، جو آج بھی کراچی کی نمایاں عمارتوں میں شمار ہوتا ہے۔

    5۔ مینوالا خاندان

    مینوالا خاندان نے بھی کراچی کی ہوٹل انڈسٹری، رسدی خدمات اور جائیداد کے شعبے میں تاریخی خدمات انجام دیں۔ اس خاندان کے سربراہ سائرس ایف مینوالا نے 1951 میں صدر کے علاقے میں پاکستان کا پہلا فائیو اسٹار لگژری ہوٹل ‘ہوٹل میٹروپول’ قائم کیا۔ اس ہوٹل کا افتتاح شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے کیا تھا۔ ہوٹل میٹروپول طویل عرصے تک کراچی کی سیاسی و سماجی اشرافیہ، غیر ملکی سفارت کاروں اور بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے عملے کا سب سے بڑا مرکز رہا۔ اس کے علاوہ کیماڑی کے علاقے میں ان کا ‘گرینڈ ہوٹل’ بھی بحری مسافروں کے لیے ایک اہم قیام گاہ تھا۔

    6۔ کیٹرک اور رستم جی خاندان

    سر سہراب کیٹرک کا خاندان درآمد و برآمد اور شراب کی درآمد کے کاروبار کا بڑا نام تھا۔ ٹاور پر موجود ‘کیٹرک مینشن’ اور صدر کی ‘سہراب کیٹرک پارسی کالونی’ اسی خاندان کی یادگار ہیں۔ دوسری طرف سیٹھ ہرمز جی جمشید جی رستم جی نے کراچی میں ایک مضبوط تجارتی اور تعلیمی نیٹ ورک قائم کیا، جس نے شہر کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

    وکالت، عدلیہ اور طب کے شعبوں میں پارسیوں کی اہمیت

    کراچی کے پارسیوں نے نہ صرف تجارت اور معیشت میں نام کمایا بلکہ طب اور قانون کے شعبوں میں بھی صف اول کے ماہرین پیدا کیے۔ ان کی ایمانداری، پیشہ ورانہ مہارت اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے پورے ملک میں ان کا احترام کیا جاتا تھا۔

    نامور پارسی ڈاکٹر

    پرانے کراچی کے رہائشیوں کے لیے پارسی ڈاکٹر مسیحا کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کی ڈسپنسریاں اور ہسپتال سستے اور بہترین علاج کے لیے مشہور تھے۔

    ڈاکٹر فریدون سیٹھنا:

    انہیں پاکستان کے نامور اور معزز ماہر امراض نسواں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ طویل عرصے تک لیڈی ڈفرن ہسپتال کے طبی سربراہ رہے اور کراچی کی ہزاروں خواتین کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کیں۔

    ڈاکٹر برجور انکلیسریہ:

    وہ گارڈن روڈ پر مشہور ‘انکلیسریہ ہسپتال’ کے بانی تھے۔ انہوں نے اور ان کے خاندان نے کراچی میں نرسنگ ہومز اور جدید ہنگامی طبی سہولیات متعارف کرائیں۔

    ڈاکٹر کے این اسپینسر:

    وہ کراچی کے معروف ماہر چشم تھے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں لی مارکیٹ کے قریب تاریخی ‘اسپینسر آئی ہسپتال’ قائم کیا گیا، جس نے دہائیوں تک غریب اور مستحق مریضوں کا مفت علاج اور آپریشن کیے۔

    ڈاکٹر بیجن جی رستم جی:

    تاریخی ریکارڈ کے مطابق یہ کراچی کے پہلے پارسی ڈاکٹر تھے، جو 1858 میں بمبئی کے گرانٹ میڈیکل کالج سے تعلیم مکمل کر کے کراچی آئے اور سول ڈسپنسری کا چارج سنبھالا۔

    نامور پارسی وکیل اور جج

    کراچی بار اور سندھ ہائی کورٹ کی تاریخ پارسی قانون دانوں کی دلیری اور قانون پسندی کی گواہ ہے۔

    جسٹس دوراب پٹیل:

    یہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک انتہائی معتبر اور اصول پسند نام ہے۔ انہوں نے 1955 کے عشرے میں کراچی سے وکالت کا آغاز کیا۔ وہ سندھ ہائی کورٹ کے جج اور بعد ازاں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج بنے۔ 1981 میں جب جنرل ضیا الحق نے عبوری آئینی حکم نافذ کیا اور ججوں سے وفاداری کا نیا حلف مانگا، تو جسٹس دوراب پٹیل نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حلف اٹھانے سے انکار کر دیا اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے بانی اراکین میں بھی شامل تھے۔

    بیرسٹر فرامروز رستم جی اور بیرسٹر ہوشنگ رستم جی:

    کیٹرک اور رستم جی خاندانوں کے ان پڑھے لکھے نوجوانوں نے لندن کے مشہور ‘انز آف کورٹ’ سے بیرسٹری کی ڈگریاں حاصل کیں اور کراچی کی عدالتوں میں جرح کے کمالات دکھائے۔ بیرسٹر ہوشنگ رستم جی خاص طور پر بین الاقوامی کمپنیوں، جہاز رانی کمپنیوں اور کسٹمز سے متعلق پیچیدہ تجارتی مقدمات کے ماہر تھے اور ان کی قانونی مسودہ نویسی کو عدالتوں میں بہت اہمیت دی جاتی تھی۔

    قائد اعظم محمد علی جناح اور پارسی خاندانوں کے روابط

    قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی، سیاست اور ذاتی معاملات کا مطالعہ پارسی برادری کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔ ان کے پارسیوں سے تعلقات پیشہ ورانہ احترام سے لے کر انتہائی گہرے ذاتی رشتوں تک پھیلے ہوئے تھے۔

    قائد اعظم محمد علی جناح اپنے سیاسی سفر کے آغاز میں پارسی خاندان کے ‘دادا بھائی نوروجی’ کی شخصیت اور ان کے لبرل خیالات سے شدید متاثر تھے۔ دادا بھائی نوروجی، جنہیں احتراماً ‘گرینڈ اولڈ مین آف انڈیا’ کہا جاتا ہے، انڈین نیشنل کانگریس کے بانی اراکین میں شامل تھے اور ایک ممتاز ماہر معاشیات تھے۔ جب دادا بھائی نوروجی 1892 میں برطانیہ کی لبرل پارٹی کے ٹکٹ پر برطانوی پارلیمنٹ کے پہلے ایشیائی رکن منتخب ہوئے، تو لندن میں موجود نوجوان محمد علی جناح نے ان کی انتخابی مہم میں دن رات کام کیا۔

    جب دادا بھائی نوروجی 1906 میں کلکتہ کے کانگریس اجلاس کے صدر بنے، تو قائد اعظم نے ان کے نجی سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔ قائد اعظم کی ملکی سیاست میں ابتدائی شناخت قائم کرنے اور ان کے لبرل آئینی نقطہ نظر کو واضح کرنے میں دادا بھائی نوروجی کا بڑا کردار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں ایک اہم سڑک کا نام ‘دادا بھائی نوروجی روڈ’ رکھا گیا۔

    قائد اعظم کی ذاتی زندگی کا سب سے اہم اور رومانوی واقعہ ایک پارسی خاتون سے ان کی شادی ہے۔ قائد اعظم کے قریبی دوست سر دنشا پیٹٹ، جو بمبئی کے ایک انتہائی امیر اور نامور پارسی ٹیکسٹائل مل کے مالک تھے، ان کی صاحبزادی رتن بائی، جنہیں رتی بھی کہا جاتا تھا، جناح صاحب کی ذہانت اور شخصیت کے سحر میں گرفتار ہو گئیں۔ رتی اپنی خوبصورتی، فیشن کے ذوق اور تیز ذہن کی وجہ سے بمبئی کے حلقوں میں ‘بمبئی کا گلاب’ کہلاتی تھیں۔

    جب جناح صاحب نے سر دنشا سے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگا تو سر دنشا سخت ناراض ہوئے کیونکہ پارسی مذہب میں برادری سے باہر شادی کی سخت ممانعت ہے۔ انہوں نے اس شادی کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔

     رتی جب 18 سال کی ہوئیں تو انہوں نے اپنے والدین کا گھر چھوڑ دیا اور 18 اپریل 1918 کو جامع مسجد بمبئی میں مولانا نذیر احمد کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، جہاں ان کا اسلامی نام ‘مریم’ رکھا گیا۔ 19 اپریل 1918 کو قائد اعظم، جن کی عمر 42 سال تھی، اور رتی، جن کی عمر 18 سال تھی، کی شادی بمبئی میں جناح صاحب کے گھر پر منعقد ہوئی۔

    اس شادی کی وجہ سے پارسی برادری نے رتی کا مکمل بائیکاٹ کر دیا اور ان کے والد نے مرتے دم تک رتی اور جناح سے بات نہیں کی۔ ان کی ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام دینا رکھا گیا، جنہوں نے بعد میں ایک پارسی صنعت کار نیول واڈیا سے شادی کی۔

    ایک تاریخی نکتہ:

    قائد اعظم پیدائشی طور پر کچھی خوجہ اسماعیلی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ عدالتی ریکارڈ اور مؤرخین کے مطابق، 1901 کے قریب جب ان کی بہنوں کی شادیاں خوجہ اسماعیلی برادری سے باہر ہوئیں اور برادری نے اس پر اعتراض اٹھایا، تو جناح خاندان نے اسماعیلی طریقہ ترک کر کے خوجہ اثنا عشری مسلک اختیار کر لیا۔ رتی کے ساتھ ان کے نکاح نامے میں بھی ان کا مسلک اثنا عشری درج تھا۔

    زرتشتی مذہبی عقائد اور ان کے بارے میں غلط فہمیاں

    پارسیوں کا مذہب ‘زرتشت واد’ دنیا کے قدیم ترین توحیدی مذاہب میں سے ایک ہے، جس کی بنیاد ایران میں پیغمبر اشو زرتشت نے رکھی تھی۔ برصغیر کے عوام میں معلومات کی کمی کی وجہ سے ان کے عقائد کے بارے میں کئی سنگین غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، جن کا علمی اور تحریری ازالہ کرنا ضروری ہے۔

    بت پرستی کی نفی

    اکثر لوگ جب پارسیوں کے کمیونٹی ہال یا ان کی تاریخی عمارتوں کا دورہ کرتے ہیں، تو وہاں موجود تصویروں اور مجسموں کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ پارسی بت پرست ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زرتشتی مذہب میں بت پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ ایک خالص توحیدی مذہب ہے جو صرف ایک خدا ‘اہورامزدا’ یعنی عقل کل یا دانشمند آقا کی عبادت پر یقین رکھتا ہے۔ ان کے آتش کدوں کے اندر کوئی بت یا مجسمہ نہیں ہوتا۔

    ہالوں میں جو تصویریں لگی ہوتی ہیں، وہ ان کے پیغمبر ‘اشو زرتشت’ کی ایک علامتی اور فرضی شبیہ ہوتی ہے، جس کا مقصد صرف احترام ہے، پوجا نہیں۔ اس کے علاوہ ان کی عمارتوں پر ‘فروہر’ کا نشان ہوتا ہے، جو پروں والے ایک بزرگ کا خاکہ ہے۔ یہ انسان کی روح، ضمیر اور اچھے خیالات کی پرواز کی ایک علامتی تصویر ہے۔

    آتش پرستی کا ابہام

    برصغیر میں پارسیوں کو عام طور پر ‘آتش پرست’ کہا جاتا ہے اور یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ وہ آگ کو اپنا معبود مانتے ہیں، جبکہ حقیقت میں پارسی آگ کو خدا نہیں مانتے اور نہ ہی اس کی پوجا کرتے ہیں۔ زرتشتی فلسفے میں آگ، سورج اور روشنی کو خدا کی پاکیزگی، نور اور کائنات کی سچائی کا مظہر اور علامتی قبلہ مانا جاتا ہے۔ جس طرح مسلمان نماز پڑھتے وقت کعبہ شریف کی طرف رخ کرتے ہیں، لیکن کعبہ کے پتھروں کی پوجا نہیں کرتے، اسی طرح پارسی اپنی عبادت کے دوران آگ یا روشنی کی طرف رخ کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آگ دنیا کا سب سے پاک عنصر ہے، جو ہر چیز کو پاک کر دیتا ہے مگر خود کبھی ناپاک نہیں ہوتا، اس لیے یہ خدا کی صفات کی بہترین علامت ہے۔ ان کے آتش کدوں میں صدیوں سے روشن مقدس آگ کی دیکھ بھال مذہبی پیشوا انتہائی احترام سے کرتے ہیں۔

    زرتشتی اخلاقیات کے تین ستون

    زرتشتی اخلاقیات کا پورا نظام تین سادہ لیکن انتہائی گہرے اصولوں پر قائم ہے، جنہیں ہر پارسی کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہوتا ہے۔

    1۔ ہمت، اچھے خیالات:

    انسان کو اپنے ذہن کو حسد، نفرت اور جھوٹ سے پاک رکھ کر ہمیشہ مثبت اور تعمیری سوچ رکھنی چاہیے۔

    2۔ ہوخت، اچھے الفاظ:

    زبان سے ہمیشہ سچ، نرمی اور محبت پر مبنی الفاظ ادا کرنے چاہییں کیونکہ الفاظ انسان کے کردار کا آئینہ ہوتے ہیں۔

    3۔ ہورشت، اچھے اعمال:

    دوسروں کی مدد کرنا، درخت لگانا، پانی کو صاف رکھنا، کاروبار میں ایمانداری اختیار کرنا اور دنیا کو بہتر جگہ بنانا ہی اصل عبادت ہے۔

    ان کا عقیدہ ہے کہ کائنات میں دو متضاد طاقتیں کارفرما ہیں، ایک یزداں ‘سپینتا مینییو’ یعنی خیر کی طاقت اور دوسری ‘انگر مینییو’ یا اہریمن یعنی شر کی طاقت۔ انسان کو اپنے آزاد ارادے کے ذریعے ان تین اصولوں پر عمل کرتے ہوئے خیر کی طاقت کو غالب کرنا ہے۔

    جنازے کا طریقہ، دخمہ

    ان کا ایک منفرد عقیدہ مردوں کو دفنانے یا جلانے کے بجائے ‘دخمے’ یا ‘ٹاور آف سائلنس’ میں رکھنے کا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ انسانی جسم وفات کے بعد ناپاک ہو جاتا ہے۔ اگر اسے دفنایا جائے تو زمین، جلایا جائے تو آگ اور پانی میں بہایا جائے تو پانی ناپاک ہو گا۔ کائنات کے ان عناصر کی پاکیزگی برقرار رکھنے کے لیے وہ میت کو ایک بلند ٹاور پر رکھ دیتے ہیں، جہاں شکاری پرندے گوشت کھا جاتے ہیں اور ہڈیاں دھوپ میں سوکھ کر پاؤڈر بن جاتی ہیں۔ اگرچہ موجودہ دور میں شکاری پرندوں کی کمی کی وجہ سے کئی پارسی اب تدفین یا شمشان گھاٹ کا رخ بھی کر رہے ہیں۔

    اہم عدالتی مقدمات اور تاریخی تنازعات

    کراچی کی عدالتی تاریخ میں پارسی خاندانوں کی جائیدادوں، ٹرسٹ فنڈز اور مذہبی حقوق سے متعلق کئی ایسے مقدمات چلے، جنہوں نے پاکستان کے کارپوریٹ اور سول قوانین کی تشریح میں اہم کردار ادا کیا۔

    قائد اعظم کی وراثت کا مقدمہ

    قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات 1948 کے بعد کراچی ہائی کورٹ میں ان کی جائیداد اور مسلک کے تعین سے متعلق ایک طویل عدالتی مقدمہ شروع ہوا، جو دو دہائیوں تک چلتا رہا۔ یہ مقدمہ قائد اعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور ان کے دیگر رشتہ داروں، جیسے احمد علی، کے درمیان تھا۔ اس مقدمے میں پارسی برادری سے تعلقات اور قائد اعظم کی شادی کے سرٹیفکیٹ بطور ثبوت پیش کیے گئے۔

    عدالتی کارروائی کے دوران یہ ثابت کرنے کے لیے کہ جناح نے اپنی زندگی میں روایتی خوجہ اسماعیلی طریقہ ترک کر دیا تھا، رتی سے شادی کا 1918 کا سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیا گیا، جس پر ان کا مسلک اثنا عشری درج تھا۔ نامور قانون دان سید شریف الدین پیرزادہ نے بھی اس مقدمے میں اہم گواہی دی۔

    یہ مقدمہ پاکستان کی قانونی تاریخ میں ‘قانون وراثت’ اور مسلم پرسنل لا کی تشریح کے حوالے سے ایک سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔

    ایڈلجی دنشا رفاہی ٹرسٹ کا مقدمہ

    تقسیم ہند کے بعد جب ایڈلجی دنشا خاندان کے کئی افراد انگلینڈ اور امریکہ ہجرت کر گئے، تو کراچی میں موجود ان کی اربوں روپے مالیت کی جائیداد اور سینکڑوں ایکڑ اراضی کو سنبھالنے کے لیے قائم ٹرسٹ کے معاملات عدالتوں میں پہنچے۔ ان مقدمات میں یہ قانونی نکتہ زیر بحث آیا کہ آیا ایک غیر مسلم رفاہی ٹرسٹ کی زمین کو حکومت پاکستان متروکہ وقف املاک کے طور پر ضبط کر سکتی ہے یا نہیں۔

    کراچی ہائی کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلوں میں پارسی ٹرسٹیوں کے حقوق کو تحفظ دیا اور یہ طے کیا کہ پارسی پاکستان کے برابر کے شہری ہیں اور ان کے رفاہی اداروں کی جائیدادیں کسی بھی صورت میں ضبط نہیں کی جا سکتیں۔ انہی فیصلوں کی بدولت آج بھی این ای ڈی یونیورسٹی اور لیڈی ڈفرن ہسپتال جیسے ادارے کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔

    سمندری قانون کے مقدمات

    1950 اور 1960 کے عشروں میں جب پاکستان کی بحری تجارت عروج پر تھی، تو کاؤس جی گروپ اور ڈوباش کمپنیوں کے خلاف بین الاقوامی جہاز رانی کمپنیوں اور کسٹمز حکام کے درمیان کارگو نقصان اور کراچی ہاربر کے برتھنگ چارجز سے متعلق پیچیدہ مقدمات سندھ ہائی کورٹ میں دائر ہوئے۔

    ان مقدمات کی پیروی بیرسٹر ہوشنگ رستم جی اور جسٹس دوراب پٹیل، جج بننے سے پہلے، کرتے تھے۔ ان مقدمات کی وجہ سے پاکستان میں سمندری قانون کے اصول وضع ہوئے اور بندرگاہ پر کارگو ہینڈلنگ کی قانونی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا۔

    ماضی اور حال کا موازنہ

    انیسویں صدی کا کراچی ایک ایسا شہر تھا جس کی صفائی، امن اور ترقی کی مثالیں پورے ایشیا میں دی جاتی تھیں۔ اس دور میں پارسیوں کی آبادی اگرچہ چند ہزار تھی، لیکن شہر کے میئر، ڈاکٹر، وکیل اور تاجر اسی برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ جمشید نسروانجی نے کراچی میونسپل کارپوریشن کے صدر اور میئر کی حیثیت سے شہر کو جو نقشہ دیا، اس کی بدولت کراچی کی سڑکیں روزانہ رات کو سمندر کے پانی سے دھوئی جاتی تھیں۔

    کراچی شہر کی جدید تعمیر و ترقی میں پارسی خاندانوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ کراچی بندرگاہ سے لے کر زندگی کے ہر شعبے میں وہ متحرک اور سرگرم رہے۔ آج اور ماضی کے کراچی کا موازنہ کیا جائے تو شدید افسوس اور دکھ کا احساس ہوتا ہے۔ جب 1970 کے عشرے میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ملکی اداروں کو قومی تحویل میں لیا گیا، تو پارسی خاندانوں کا دل ٹوٹ گیا۔ ان کے بحری جہاز، فلور ملیں اور کاروباری ادارے سرکاری تحویل میں لے لیے گئے۔

    اس معاشی دھچکے اور بعد کے ادوار میں شہر کی امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث پارسیوں کی نئی نسل نے تیزی سے کینیڈا، انگلینڈ، امریکہ اور آسٹریلیا ہجرت کرنا شروع کر دی۔ ایک وقت تھا جب کراچی میں پارسیوں کی تعداد پانچ ہزار سے زائد تھی، لیکن آج 2026 میں یہ تعداد گھٹ کر محض چند سو افراد تک رہ گئی ہے، جن میں اکثریت بزرگ شہریوں کی ہے۔

    شہر کے قلب میں جمشید کوارٹرز میں واقع ‘بائی ویربائی جی کاؤس باغ’ پارسی کالونی آج بھی پرانے کراچی کے امن اور صفائی کا ایک نمونہ پیش کرتی ہے، جہاں اب بھی چند خاندان آباد ہیں۔

    ان کا ورثہ آج بھی کراچی کی روح میں زندہ ہے۔ ‘ماما پارسی گرلز ہائی اسکول’ اور ‘بائی ویربائی سوپاری والا، بی وی ایس پارسی بوائز اسکول’ آج بھی شہر کے ہزاروں مسلم، ہندو اور عیسائی بچوں کو بہترین تعلیم فراہم کر رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پارسیوں نے شہر سے صرف لیا نہیں بلکہ اسے ہمیشہ کے لیے سنوارا ہے۔

    کراچی جب تک قائم ہے، وہ اپنے اس معمار، دیانت دار اور امن پسند طبقے کا قرض دار رہے گا، کیونکہ پارسی صرف ایک برادری کا نام نہیں تھے بلکہ وہ کراچی کی تہذیب، اس کے اخلاق اور اس کے سنہری دور کی علامت تھے۔

  • سن 1893 میں بنی صدر کی تاریخی کچھی میمن مسجد: کراچی کے قلب میں اسلامی فنِ تعمیر اور مسلم شناخت کا مینار

    سن 1893 میں بنی صدر کی تاریخی کچھی میمن مسجد: کراچی کے قلب میں اسلامی فنِ تعمیر اور مسلم شناخت کا مینار

    نوآبادیاتی دور میں کراچی کا نقشہ اگر دیکھا جائے، تو یہ شہر مختلف برادریوں کا گلدستہ تھا۔ موجودہ دور کا مصروف ترین تجارتی مرکز ‘صدر’ برطانوی راج کے دوران بنیادی طور پر مسلمان، مسیحی، پارسی، یہودی اور ہندو برادریوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، جہاں سینٹ پیٹرک کیتھڈرل، کٹراک ہال اور جودھا مل جیسے نامور مندر اور عبادت گاہیں تعمیر ہو رہی تھیں۔

    ایسے میں صدر کے قلب میں واقع راجہ غضنفر علی روڈ پر ایک ایسی عمارت کی بنیاد رکھی گئی جس نے نہ صرف خطے میں اسلامی فنِ تعمیر کی لاجواب چھاپ چھوڑی، بلکہ صدر میں کچھی مسلم کمیونٹی کی مذہبی اور سماجی شناخت کو بھی مستحکم کیا۔ یہ عمارت ‘تاریخی کچھی میمن مسجد’ ہے۔

    اس تاریخی مسجد کی بنیاد 1893 میں برطانوی دورِ حکومت کے دوران رکھی گئی، جو اسے کراچی شہر کی قدیم ترین اور فعال ترین مساجد میں سے ایک بناتی ہے۔ اس کی تعمیر کا سہرا کراچی میں آباد ‘کچھی میمن’ برادری کے سر ہے۔

    یہ وہ دور اندیش کاروباری برادری تھی جو قیامِ پاکستان سے کئی عشروں قبل ہی گجرات کے ساحلی علاقے ‘کچھ’ (Kutch) سے ہجرت کر کے کراچی منتقل ہوئی تھی اور شہر کے تجارتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن گئی تھی۔

    اس دور میں صدر کے تجارتی علاقے میں مسلم ملازمین اور تاجروں کے لیے باجماعت نماز اور اذان کا کوئی مستقل گڑھ موجود نہ تھا، جس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اس برادری نے زمین حاصل کر کے اس پختہ مسجد کی بنیاد رکھی۔

    ثقافتی اور تعمیراتی لحاظ سے یہ مسجد گزری کے پیلے پتھر سے تیار کردہ کلاسیکی نوآبادیاتی طرز اور روایتی اسلامی فنِ تعمیر کا ایک حسین سنگم ہے۔

    جبکہ مسجد کے بیرونی حصے اور محرابوں پر جودھپوری اور مقامی راجگیروں کے ہاتھ کی خوبصورت نقش و نگار اور خطاطی دیکھی جا سکتی ہے۔

    مسجد کی سب سے بڑی انفرادیت اس کا پستہ ہرا رنگ کا اندرونی دالان ہے۔

    رنگین شیشے: مسجد کی کھڑکیوں میں نوآبادیاتی دور کا خاصہ سمجھے جانے والے روایتی رنگ برنگے شیشے نصب ہیں، جن سے چھن کر آنے والی روشنی مسجد کے ماحول کو ایک روحانی اور صدی پرانا تاریخی لمس بخشتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اندرونِ مسجد نصب قدیم کلاک اور نوادرات آج بھی جوں کے توں محفوظ ہیں۔

    جدت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اگرچہ اب اس کے مرکزی دروازے پر نماز کے اوقات بتانے والا ایک جدید ڈیجیٹل بورڈ نصب کر دیا گیا ہے، مگر اس کا اصل تاریخی ڈھانچہ اپنی اصل شکل میں برقرار ہے۔

    یہ مسجد محض ایک عبادت گاہ نہیں رہی، بلکہ اس نے کراچی کی سیاسی اور مذہبی تاریخ کو بنانے میں بھی کردار ادا کیا۔ پاکستان کی مایہ ناز مذہبی و سیاسی شخصیت، مفسرِ قرآن اور جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ اسی مسجد کے جوار (قرب و جوار) میں گزارا۔

    انہوں نے ایک طویل عرصے تک اس منبر و محراب سے امامت، خطابت اور درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیے، جس کی وجہ سے یہ مسجد تحریکِ ختمِ نبوت اور ملک کی سیاسی بیداری کا ایک اہم مرکز بنی رہی۔

    اگرچہ کچھی میمن برادری کا پاکستان سے قبل کا ایک اور بڑا مرکز آرام باغ (پرانا گاڑی کھاتا) میں بھی واقع ہے، لیکن صدر کی یہ کچھی میمن مسجد اپنے منفرد جغرافیائی محلِ وقوع، بازار کے بیچوں بیچ قائم ہونے اور اپنے پرسکون نوآبادیاتی طرزِ تعمیر کی وجہ سے کراچی کا ایک انمول تاریخی ورثہ ہے۔

    صدر کی بھیڑ بھاڑ میں یہ مسجد آج بھی 1893 کے کراچی کی امن پسندی اور خوبصورتی کی گواہی دیتی کھڑی ہے۔

  • یورپ کا وہ شہر جہاں ایک پل تاریخ، جنگ اور امید کی علامت بن گیا

    یورپ کا وہ شہر جہاں ایک پل تاریخ، جنگ اور امید کی علامت بن گیا

    بوسنیا ہرزیگووینا کا تاریخی شہر موسٹار دنیا کے اُن چند شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں ایک پل صرف آمد و رفت کا ذریعہ نہیں بلکہ پورے شہر کی شناخت بن چکا ہے۔ دریائے نیروتوا کے کنارے آباد یہ شہر صدیوں سے مشرق اور مغرب کے درمیان ثقافتی رابطے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہاں واقع مشہور ‘اسٹاری موسٹ’ یعنی ‘پرانا پل’ نہ صرف عثمانی فنِ تعمیر کا ایک شاہکار ہے بلکہ بوسنیا جنگ، تباہی اور دوبارہ تعمیر کی ایک زندہ یادگار بھی مانا جاتا ہے۔

    یہ پل سولہویں صدی میں عثمانی سلطنت کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس کی تعمیر سن 1557 میں شروع ہوئی اور 1566 میں مکمل ہوئی۔ اس منصوبے کی نگرانی عثمانی معمار معمار خیرالدین نے کی، جو مشہور عثمانی معمار سنان کے شاگرد سمجھے جاتے تھے۔ اس زمانے میں ایک ہی محراب پر مشتمل اتنا بڑا پتھریلا پل تعمیر کرنا انجینئرنگ کا حیرت انگیز کارنامہ تصور کیا جاتا تھا۔ پل تقریباً 29 میٹر لمبا اور دریائے نیروتوا سے قریب 24 میٹر بلند ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ اس پل کی تعمیر کے دوران عثمانی انجینئروں نے خاص قسم کے مقامی چونے کے پتھر ‘ٹینیلیا’ کا استعمال کیا تھا، جو ہرزیگووینا کے علاقے سے نکالا جاتا تھا۔ روایت ہے کہ پل کو مضبوط بنانے کے لیے پتھروں کو جوڑنے والے مسالے میں انڈوں کی سفیدی بھی شامل کی گئی تھی، اگرچہ بعض مؤرخین اسے ایک مقامی داستان قرار دیتے ہیں۔ اس پل کی خوبصورتی اور منفرد محرابی ساخت نے بعد میں یورپ کے کئی معماروں کو متاثر کیا۔

    شہر ‘موسٹار’ کا نام بھی اسی پل سے جڑا ہوا ہے۔ قرونِ وسطیٰ میں پل کی حفاظت کرنے والے محافظوں کو ‘موستاری’ کہا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہی لفظ پورے شہر کی پہچان بن گیا۔ یہ پل صرف دو کناروں کو نہیں بلکہ مختلف مذاہب اور قومیتوں کو بھی آپس میں جوڑتا رہا۔ عثمانی دور میں یہاں مسلمان، کروشین اور سرب آبادی ایک ہی تجارتی مرکز میں رہتی تھی، جس کی جھلک آج بھی شہر کی گلیوں اور عمارتوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔

    انیس سو ترانوے میں بوسنیا جنگ کے دوران یہ تاریخی پل شدید گولہ باری کے بعد منہدم ہوگیا۔ اس واقعے کی تصاویر دنیا بھر میں نشر ہوئیں اور بہت سے لوگوں نے اسے صرف ایک عمارت کی تباہی نہیں بلکہ مشترکہ تاریخ اور ثقافت کے ٹوٹنے کی علامت قرار دیا۔ پل کے گرنے کے بعد دریائے نیروتوا میں اس کے بڑے بڑے پتھر بکھر گئے تھے۔

    جنگ کے بعد یونیسکو، ورلڈ بینک، ترکی، اٹلی، نیدرلینڈز اور کئی دیگر ممالک نے اس پل کی بحالی میں حصہ لیا۔ تعمیرِ نو کے دوران ماہرین نے اصل عثمانی نقشوں اور پرانی تصاویر کی مدد سے پل کو دوبارہ اسی طرز میں تعمیر کرنے کی کوشش کی۔ کم معروف حقیقت یہ ہے کہ غوطہ خوروں نے دریائے نیروتوا کی تہہ سے اصل پل کے متعدد پتھر نکالے تاکہ جہاں ممکن ہو انہیں نئی تعمیر میں دوبارہ استعمال کیا جا سکے۔ نئی تعمیر میں بھی وہی ٹینیلیا پتھر استعمال کیے گئے جو صدیوں پہلے اصل پل میں لگائے گئے تھے۔

    سن 2004 میں پل دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا گیا اور اگلے ہی سال UNESCO نے موسٹار کے تاریخی علاقے کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے دیا۔ یونیسکو نے اسے مختلف تہذیبوں، مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی کی علامت قرار دیا تھا۔

    آج بھی موسٹار کی سب سے مشہور روایت پل سے دریائے نیروتوا میں چھلانگ لگانا ہے۔ مقامی نوجوان گرمیوں کے موسم میں اس بلند پل سے برف جیسے ٹھنڈے پانی میں غوطہ لگاتے ہیں۔ یہ روایت کئی صدیوں پرانی سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ اس کا باقاعدہ ریکارڈ بیسویں صدی سے ملتا ہے، لیکن مقامی لوگ اسے عثمانی دور سے جوڑتے ہیں۔ ہر سال یہاں بین الاقوامی ڈائیونگ مقابلے منعقد ہوتے ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔ نیروتوا کا پانی گرمیوں میں بھی انتہائی ٹھنڈا رہتا ہے، اسی لیے یہ چھلانگ صرف بہادری نہیں بلکہ جسمانی مہارت کا امتحان بھی سمجھی جاتی ہے۔

    موسٹار کی پرانی مارکیٹ آج بھی عثمانی دور کی فضا کو زندہ رکھتی ہے۔ پتھروں سے بنی تنگ گلیاں، ہاتھ سے تانبے کے برتن بنانے والے کاریگر، روایتی بوسنیائی قہوہ پیش کرنے والے کیفے اور لکڑی و دھات سے بنی یادگاری اشیا سیاحوں کو کئی صدی پیچھے لے جاتی ہیں۔ یہاں کے بازار میں آج بھی ایسی دکانیں موجود ہیں جو نسلوں سے ایک ہی خاندان چلا رہا ہے۔

    اگرچہ شہر نے خود کو دوبارہ تعمیر کرلیا ہے، لیکن جنگ کے آثار اب بھی واضح ہیں۔ کئی عمارتوں کی دیواروں پر گولیوں کے نشانات موجود ہیں، جبکہ بہت سے خاندان آج بھی جنگ میں کھوئے ہوئے اپنے عزیزوں کی یادیں سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہی تضاد موسٹار کو ایک منفرد شہر بناتا ہے، جہاں خوبصورتی اور درد ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

    موسٹار کو اکثر یورپ میں تہذیبوں کے سنگم کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں ایک ہی وقت میں مسجدوں کی اذانیں، چرچ کی گھنٹیاں اور مختلف ثقافتی روایات ایک ساتھ محسوس کی جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مورخین موسٹار کو صرف ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ یورپ میں بقائے باہمی کی ایک علامت بھی قرار دیتے ہیں۔

    آج دنیا بھر سے لاکھوں سیاح موسٹار کا رخ کرتے ہیں، مگر اس شہر کی اصل کشش اس کا خوبصورت پل نہیں بلکہ وہ داستان ہے جو اس کے پتھروں میں چھپی ہوئی ہے۔ ایک ایسا شہر جو جنگ میں ٹوٹ گیا، مگر دوبارہ کھڑا ہوا، اور ایک ایسا پل جو تباہ ہونے کے باوجود آج بھی لوگوں کو جوڑنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔