Tag: تاریخ

  • سائیں جی ایم سید کا روزنامہ کاوش کو تصوف اور عشق پر تاریخی انٹرویو

    سائیں جی ایم سید کا روزنامہ کاوش کو تصوف اور عشق پر تاریخی انٹرویو

    جی ایم سیدتین عورتیں تھیں جنہوں نے میری زندگی پر اثر ڈالا۔

    کاوش: جی سائیں، وہ قصہ سنائیے۔

    جی ایم سید: پہلے ان عورتوں کی تصویریں دیکھیں۔ (وہ ایک طرف رکھی ہوئی تین عورتوں کی تصویروں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔) ہم ایک تصویر پر انگلی رکھ کر ان سے پوچھتے ہیں، ’سائیں، یہ کون ہیں؟‘ وہ کہتے ہیں، ’مجھے اب وہاں سے نظر نہیں آ رہی۔‘ ہم انہیں بتاتے ہیں کہ ’وہ جو صوفے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔‘ وہ کہتے ہیں، ’وہ ماد موزیل خانم تریکی ہیں۔‘ پھر وضاحت کرتے ہیں کہ فرانسیسی زبان میں غیر شادی شدہ لڑکی کو ’ماد موزیل‘ کہتے ہیں۔ ان کے والد ترک اور والدہ فرانسیسی تھیں۔

    ہم دوسری تصویر کی طرف اشارہ کرکے پوچھتے ہیں، ’اچھا، یہ کون ہیں جن کے سر کے بال سفید ہیں اور چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ہے؟‘ وہ بتاتے ہیں، ’یہ مریم طیب جی ہیں۔ وہ کراچی کے چیف جج کی بیگم تھیں۔‘ ہم تصدیق کے لیے پوچھتے ہیں، ’ان کی بیگم؟‘ وہ یقین دلاتے ہوئے کہتے ہیں، ’ہاں۔‘

    پھر ہم تیسری تصویر پر ہاتھ رکھ کر پوچھتے ہیں، ’سائیں، یہ ساڑھی والی خاتون کون ہیں؟‘ وہ بتاتے ہیں، ’جیٹھی سپاہ ملانی۔‘ ان کا تعارف کراتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر تھیں۔

    کاوش: سائیں، ان خواتین نے آپ کو کس طرح متاثر کیا؟

    جی ایم سید: ایسی باتیں بیان نہیں کی جاتیں۔ یہ سب خودبخود ہوتا ہے کہ عشق انسان کو نئی نئی باتیں سکھاتا ہے، ایسی باتیں جو نہ کسی کو بتائی جا سکتی ہیں اور نہ بیان کی جا سکتی ہیں۔

    کاوش: پھر بھی کچھ باتیں تو بتائیں۔

    جی ایم سید: بس، انہوں نے دل کو اپنی طرف کھینچ لیا۔

    کاوش: سائیں، پھر بھی کچھ تو بتائیے۔

    جی ایم سید: کتاب پڑھیں نا، ’دیارِ دل داستانِ محبت‘۔

    کاوش: اچھا، کتاب سے ہٹ کر کوئی ایسی بات جو کسی کونے میں رہ گئی ہو یا بھول گئی ہو؟

    جی ایم سید: ہاں، ایسی باتیں بھی ہیں، لیکن وہ میری غیر مطبوعہ کتابوں میں شامل ہیں۔ مثال کے طور پر ’پرین جی پلاند میں‘، ’محبوب جو عشق‘ اور ’تنهنجي اکين ماري آهيان‘۔ ان عنوانات کے تحت میں نے مضامین لکھے ہیں۔

    کاوش: کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے سامنے انسان اپنی ذات کی نفی کر دیتا ہے۔ کیا آپ کی زندگی میں بھی ایسی کوئی عورت آئی؟

    جی ایم سید: میری نظر میں عورت ایک ذریعہ ہے، کسی مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ۔ عشق سارا مجازی ہے، حقیقی نہیں۔ حقیقت تو عورت کے بعد اپنا دیدار کراتی ہے۔ یہ عورتیں حقیقت تک پہنچنے کی سیڑھیاں ہیں۔ انسان اس بات کو اس کافی کی طرح سمجھتا ہے کہ:

    عشق نئی نئی باتیں سکھاتا ہے،
    ایسی باتیں جو نہ بیان کی جا سکتی ہیں، نہ کہی جا سکتی ہیں۔

    کاوش: آپ نے ان عورتوں سے کیا سیکھا؟

    جی ایم سید: مجھے سندھ کا راستہ انہی عورتوں نے دکھایا۔ پہلے ’میم‘ یعنی مریم، پھر ’سین‘ یعنی جیٹھی سپاہ ملانی، اور اس کے بعد ’ت‘ یعنی تریکی۔ یوں سمجھیں کہ ’میم‘ نے ابتدا کی، ’سین‘ نے اسے مکمل شکل دی اور ’ت‘ پر اختتام ہوا۔ ان تینوں حروف کو ملا کر دیکھیں تو لفظ ’مست‘ بنتا ہے۔

    اصل میں ’ت‘ نے خود ہی اختتام کر دیا۔ جب اسے میرے پاس آنا تھا تو وہ وفات پا گئی۔ اس نے مجھے اپنی طرف مائل کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن میں نے اسے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں ایک سیاسی آدمی ہوں اور میرے پاس دل کی باتیں نہیں ہیں۔ میں نے اسے بہت سمجھایا کہ میں ایک عام آدمی ہوں۔ نہ میرے پاس کوئی ولایت ہے اور نہ ہی روحانیت۔

    اس نے مجھے لکھ بھیجا کہ ’نہیں، تم عام آدمی نہیں ہو۔ تم ایک غیر معمولی شخص ہو اور میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔‘ اس کے ساتھ میری خط و کتابت کا طویل سلسلہ رہا۔ یہ ایک بہت طویل داستان ہے۔

    دراصل میری اس سے ملاقات مِیران محمد شاہ نے کروائی تھی۔ وہ مِیران محمد شاہ سے ملی تھی۔ وہ خوبصورت تھی اور اس کا تعلق بھی ترک اور فرانسیسی نسل کے امتزاج سے تھا۔ جب اس نے ترکی میں مِیران محمد شاہ کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا تو مِیران محمد شاہ کو اعتراف کرنا پڑا کہ ’اگرچہ میں قانون کی ڈگری رکھتا ہوں اور شاہ لطیف سے بھی واقف ہوں، لیکن تمہاری باتیں میری سمجھ سے بالاتر ہیں۔‘

    اس کے بعد مِیران محمد شاہ نے سارا احوال مجھے بتایا اور کہا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتی ہے۔ میں نے اسے کہا کہ تمہاری باتیں میری سمجھ سے بھی بالاتر ہیں اور اس دنیا میں رہنے والا میرا بھائی جی ایم سید ہے۔ چنانچہ اس خاتون نے مِیران محمد شاہ سے کہا کہ ’میں جی ایم سید سے ملنا چاہتی ہوں۔‘

    اس کے بعد مِیران محمد شاہ نے مجھے خط لکھا اور اس میں بہت سی باتیں بتائیں کہ وہ کیسی ہے، اس کے خیالات کیسے ہیں اور وہ آپ سے ملنا چاہتی ہے۔

    کاوش: خط پڑھ کر آپ کے دل میں اس سے ملنے کا تجسس پیدا ہوا؟

    جی ایم سید: نہیں۔

    کاوش: پھر ملاقات کہاں ہوئی؟

    جی ایم سید: بمبئی میں۔

    کاوش: پھر آپ دونوں کے درمیان کیا گفتگو ہوئی؟

    جی ایم سید: میں وہاں سترہ دن رہا۔ دراصل میں جواہر لعل نہرو سے ملنے گیا تھا۔ دن کے وقت نہرو کے ساتھ ملاقاتیں اور اجلاس ہوتے تھے، جبکہ شامیں تریکی کے ساتھ گزرتی تھیں۔

    کاوش: آپ کی گفتگو کے موضوعات کیا ہوتے تھے؟

    جی ایم سید: فلسفہ اور اس کے علاوہ مختلف موضوعات۔

    کاوش: کیا آپ اس خاتون سے متاثر ہوئے؟

    جی ایم سید: نہیں۔

    کاوش: کیوں؟

    جی ایم سید: کیونکہ یہاں عقل کی بات نہیں تھی۔

    کاوش: کیا وہ ذہین تھی؟

    جی ایم سید: ہاں، وہ ذہین تھی اور ایم اے پاس تھی۔ اس کے ساتھ میری گفتگو زیادہ تر تصوف کے گرد گھومتی رہتی تھی۔

    دراصل وہ اس خیال سے یہاں آئی تھی کہ ہندوستان ایک روحانی ملک ہے اور یہاں سے روحانیت حاصل کی جا سکتی ہے۔ اسی کوشش میں وہ ایک ہندو نوجوان کی محبت میں گرفتار ہو گئی۔ ان دونوں کی شادی کا پروگرام بھی بن گیا تھا، لیکن اس ہندو نوجوان کے گھر والوں نے اس کی شادی اس کی منگیتر سے کر دی۔

    وہ نوجوان اسے کچھ پیسے بھی دیا کرتا تھا۔ اس نوجوان میں جنسی کشش کم تھی، لیکن روحانیت کے بارے میں جاننے کا تجسس زیادہ تھا۔ وہ ہمیشہ اس تلاش میں رہتی تھی کہ کسی طرح ہندوستان کے روحانی خزانے تک رسائی حاصل کر سکے۔

    اس مقصد کے لیے وہ مختلف ادیبوں، دانشوروں اور فلسفیوں سے ملتی رہی۔ پھر مِیران محمد شاہ کے ذریعے مجھ سے ملی اور مجھ سے محبت کرنے لگی۔

    وہ ایک ایسے شخص کی تلاش میں تھی جو اس کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرے اور علم و فکر میں اس سے کہیں آگے ہو۔ چنانچہ وہ مجھ پر دل ہار بیٹھی اور کہنے لگی کہ ’میں اس شخص کے ساتھ رہ کر اسے سمجھنا اور اس کی شخصیت کی گہرائیوں کو جاننا چاہتی ہوں۔‘

    اس کی خواہش تھی کہ وہ کم از کم ایک مہینہ میرے ساتھ گزارے۔ لیکن میں نے اسے لکھ بھیجا کہ میں وزیر ہوں اور سندھ کی خدمت کے لیے وقف ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ سندھ ایک قدامت پسند معاشرہ ہے۔ لوگ کہیں گے کہ ’یہ غیر ملکی میڈم، سید کو خراب کر رہی ہے۔‘

    اس کے علاوہ میں ایک سخت اصول پسند اور پرہیزگار آدمی ہوں۔ جنسی تعلقات تو دور کی بات، میں سگریٹ یا بیڑی تک نہیں پیتا۔ اس لیے لوگوں کو یہ بات بالکل پسند نہیں آئے گی۔

    اس کے بعد اس نے مِیران محمد شاہ کو خط لکھا اور اس سے شکایت کی۔ مِیران محمد شاہ نے اسے جواب دیا کہ ’میں نے تو جی ایم سید کو بہت سمجھایا ہے، لیکن وہ ایسے آدمی ہیں کہ زمین ہل سکتی ہے، مگر گل محمد نہیں ہل سکتا۔‘

    چنانچہ مِیران محمد شاہ نے مجھ پر زور دیا، لیکن میں نے اسے کہا کہ یہاں یہ ممکن نہیں ہے۔ البتہ تھانے بولا خان میں سرکاری بنگلہ موجود ہے، تم اسے وہاں ٹھہرا دو۔ میں بھی ساتویں یا آٹھویں دن وہاں چکر لگا لیا کروں گا۔ اس طرح ملاقات کا وقت طے ہوگیا۔

    انہی دنوں میری جناح صاحب سے کچھ ناچاقی ہوگئی۔ اس کے باوجود میں نے اسے لکھ بھیجا کہ ’تم ضرور آؤ۔ میں سندھ کی خدمت کے لیے وقف ہوں۔ تمہارا اور میرا تعلق ایسا ہوگا جیسا گاندھی اور ان کی انگریز شاگردہ کا تھا۔‘

    میں نے اسے صاف صاف بتا دیا تھا کہ میں حافظ شیرازی کے اس پرندے کی طرح ہوں جس کے لیے وہ جال بچھائے گی، لیکن وہ جال خالی لے کر واپس آئے گی۔

    دوسری بات یہ تھی کہ میں وزارت میں رہتے ہوئے سوچتا تھا کہ اقتدار میں رہنا اور عوام کی خدمت کے لیے خود کو وقف کرنا، یہ دونوں کام ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ جو شخص یہ دونوں کام کرنے کی کوشش کرے گا، وہ ناکام ہوگا۔

    چنانچہ میں نے جناح صاحب سے کہا کہ وزارت میں رہتے ہوئے بھی میں کچھ نہیں کر سکا ہوں۔ اس لیے مجھے اجازت دی جائے کہ میں تعلیم کی وزارت چھوڑ دوں۔ اس طرح میں نے جناح صاحب سے اجازت لے لی۔

    یعنی ان دنوں جب میری ملاقات تریکی سے ہوتی تھی تو میں نہرو اور جناح صاحب سے بھی ملتا رہتا تھا۔ اس دور میں صرف تریکی ہی نہیں بلکہ کئی دوسری خوبصورت عورتیں بھی مجھ سے ملتی تھیں۔ نہرو کی دو بہنیں تھیں۔ ان کی چھوٹی بہن تو بہت ہی خوبصورت تھی۔ ویسے بھی نہرو کا خاندان کشمیری تھا اور کشمیر کا حسن پوری دنیا میں اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔

    (اسی دوران کھانا آگیا۔ جی ایم سید کے کھانے میں گوشت کے بجائے سبزیاں تھیں۔ اس پر ہم نے ان سے پوچھا۔)

    کاوش: کیا آپ گوشت نہیں کھاتے؟

    جی ایم سید: میں دو سال تک بالکل سبزی خور رہا ہوں۔

    کاوش: پھر آپ نے گوشت کھانا کیوں شروع کیا؟

    جی ایم سید: سبزیاں کھانے سے مجھے گیس کی تکلیف ہوتی تھی اور اس کا اثر میرے دل پر پڑتا تھا۔ دوسری وجہ ہمارا مسلم معاشرہ ہے۔ اس معاشرے میں میرے لیے اس طرح پرہیز کرنا ممکن نہیں تھا۔

    کاوش: سائیں، ہم اسی غیر ملکی لڑکی تریکی کی بات کر رہے تھے۔

    جی ایم سید: ہاں، دراصل اس لڑکی کی میرے بارے میں کیفیت فارسی کے اس شعر جیسی تھی کہ جب شکاری نے دیکھا کہ شکار اس کے جال میں نہیں پھنس رہا تو اس کا شوق اور بڑھتا گیا۔

    میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ تھانے بولا خان میں ہماری ملاقات کا وقت طے ہوا تھا۔ اسی دوران مجھے اچانک اس کا خط ملا کہ ’میں سخت بیمار ہوں۔‘

    ویسے ہی میں بہت زیادہ ذہنی دباؤ میں تھا۔ پھر جب اس کی تار آئی تو میں مزید پریشان ہوگیا۔ اس کے بعد ایک اور تار ملی کہ وہ مر گئی ہے۔

    مجھے بہت صدمہ پہنچا۔ میں نے اپنے دوست حاتم علوی سے اس بارے میں بات کی اور اسے خط دکھایا۔ میں نے اسے بتایا کہ یہ اس کی خواہش تھی اور یہ میرا جواب تھا۔

    حاتم علوی نے کہا کہ اس نے خودکشی کرلی ہے۔

    حاتم علوی اور حسام الدین میرے بہت قریبی رازدار تھے۔ انہیں اس پورے قصے کا علم تھا۔

    مجھے بہت صدمہ ہوا اور میں خود کو گناہ گار سمجھنے لگا۔ میں وزارت میں بیٹھا سب کے سامنے رو رہا تھا، کیونکہ اپنی نظر میں میں خود کو اس کی موت کا ذمہ دار سمجھ رہا تھا۔

    گورنر نے پوچھا، ’اسے کیا ہوا ہے؟ یہ کیوں رو رہا ہے؟‘

    کھوڑو نے جواب دیا، ’اسے ایک لڑکی سے عشق تھا۔ وہ مر گئی ہے۔‘

    (طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ) کھوڑو کو کیا معلوم تھا! وہ تو پتھر دل آدمی تھا۔

    گورنر نے کہا، ’یہ اس کا ذاتی مسئلہ ہے۔‘

    بہرحال، غالب نے کہا ہے:

    رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
    دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے۔

    بہرحال، اس ساری پریشانی کے دوران بھی روحانیت نے ایک بار پھر مجھے پناہ دی۔

    کاوش: آپ کو محبوب کے چہروں میں کون سا رنگ پسند ہے، سانولا یا گورا؟

    جی ایم سید: گورا۔

    کاوش: آپ کو کون سا پھول پسند ہے؟

    جی ایم سید: ویسے تو سندھ میں پھول کم ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود مجھے موتیا پسند ہے۔

    کاوش: دن اور رات کے چوبیس گھنٹوں میں آپ کو کون سا وقت پسند ہے؟

    جی ایم سید: فجر کا وقت۔

    کاوش: آپ کو کپڑوں میں کون سا رنگ پسند ہے؟

    جی ایم سید: سفید رنگ۔

    کاوش: آپ کو کون سا موسم پسند ہے؟

    جی ایم سید: اللہ کے پیدا کیے ہوئے تمام موسم اچھے ہیں، لیکن میری طبیعت کو گرمی پسند ہے۔

    (ایئرکنڈیشنر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔)

    یہ ایئرکنڈیشنر لگا ہوا ہے، لیکن میں اسے گرمیوں میں بھی نہیں چلاتا۔

    کاوش: سائیں، حسن میں آپ کو کیا چیز پسند آتی ہے؟ آنکھیں، ناک، گال، بال، ہونٹ یا قد و قامت؟

    جی ایم سید: صوفیوں نے تو گایا ہے کہ:

    ’تیری آنکھوں نے مجھے مار ڈالا ہے، اس کا کوئی علاج نہیں۔‘

    لیکن میرے خیال میں ہر چیز کا اپنا ایک وقت ہوتا ہے۔ کبھی آنکھیں دل موہ لیتی ہیں، کبھی بال، کبھی گال اور کبھی ہونٹ۔

    کاوش: آپ کو اس غیر ملکی لڑکی تریکی کی کون سی ادا پسند تھی؟

    جی ایم سید: میں اسے پسند تھا نا!

    کاوش: اچھا، تریکی کو آپ کی کون سی ادا پسند تھی؟

    جی ایم سید: تصوف۔

    کاوش: جیٹھی سپاہ ملانی کی کون سی ادا پسند تھی؟

    جی ایم سید: اپنے عہد اور مقصد سے وابستگی۔

    کاوش: اچھا، بیگم طیب جی کی کون سی ادا پسند تھی؟

    جی ایم سید: غالب، اقبال اور فلسفہ۔

    کاوش: لیکن صوفیوں کو تو لڑکے بھی پسند آتے ہیں؟

    جی ایم سید: لڑکوں کو مار پیٹ کا خطرہ نہیں ہوتا، لیکن لڑکیوں پر تو کاروکاری کا الزام لگنے میں دیر ہی نہیں لگتی۔

    کاوش: اچھا، حال ہی میں کوئی فلم پسند آئی؟

    جی ایم سید: ہاں، ’مرزا غالب‘ پسند آئی۔ ’گاندھی‘ بھی اچھی تھی۔

    کاوش: کوئی اداکارہ بھی پسند تھی؟

    جی ایم سید: پرانے زمانے کی ایک اداکارہ تھی، سبیتا۔

  • بیگم نصرت بھٹو کی برسی: پیپلز پارٹی کو بھولی ہوئی ایک کرد خاتون کی داستان

    بیگم نصرت بھٹو کی برسی: پیپلز پارٹی کو بھولی ہوئی ایک کرد خاتون کی داستان

    بیگم نصرت بھٹو نسلی طور پر کرد تھیں۔ کردوں کی تاریخ ان کے مردوں سے زیادہ ان کی بہادر خواتین کے قصوں، کہانیوں اور جدوجہد سے بھری ہوئی ہے۔ کرد اپنی سرزمین ہونے کے باوجود اس کی ملکیت اور آزادی سے محروم ہیں۔

    تاریخ کے جبر نے انہیں مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا۔ وہ کس کس سے اپنی سرزمین اور اپنی شناخت کی آزادی کا مطالبہ کریں؟ انہیں ایران، عراق، شام اور ترکی میں تقسیم کر دیا گیا۔

    کرد نسل سے تعلق رکھنے والی نصرت اصفہانی نے جب موہن جو دڑو کی سرزمین سے اپنا رشتہ جوڑا تو پھر لاڑکانہ کی مٹی میں ہی دفن ہونا پسند کیا۔ جی ہاں، میں بیگم نصرت بھٹو کا ذکر کر رہا ہوں۔ کالج میں انہیں نصرت اصفہانی کہا جاتا تھا۔

    23 مارچ 1929 کو ایران کے خوبصورت شہر اصفہان میں پیدا ہونے والی یہ کرد خاتون جب شادی کے بعد سندھ آئیں تو کردوں کی روایت کے مطابق وفاداری اور قربانی کی مثال بن گئیں۔ ویسے بھی کردوں میں بہادری، حوصلے، قربانی، محبت اور خوبصورتی کی کمی نہیں ہوتی، لیکن یہاں معاملہ کچھ اور ہی تھا۔

    ذوالفقار علی بھٹو جیسے نواب خاندان سے تعلق رکھنے والے خوبصورت، خوش حال اور غیر معمولی ذہانت کے مالک شخص کی زندگی میں کئی حسین چہرے آئے۔ ان رشتوں نے انہیں رلایا بھی اور وہ خود بھی ان کے لیے روئے۔

    ذوالفقار علی بھٹو بچپن میں بمبئی کے کیتھیڈرل اسکول میں پڑھتے تھے۔ وہاں ان کے ساتھ ایک لڑکی ثریا بھی پڑھتی تھی، جس کے لیے ذلفی بھٹو روئے تھے۔ جب ثریا کے سرپرستوں کو دونوں کی محبت کا پتا چلا تو انہوں نے لڑکی کا اسکول ہی تبدیل کروا دیا۔ اس معصوم محبت کی جدائی میں بھٹو اس قدر دکھی ہوئے کہ اسی سال امتحان میں فیل ہو گئے۔ تاہم، جلد ہی انہوں نے خود کو سنبھال لیا، دوبارہ امتحان دیا اور گزشتہ تعلیمی نقصان پورا کر لیا۔

    جب شاہنواز بھٹو جیسے نواب کو اپنے بیٹے کی اس محبت کی خبر ملی تو ان کی روشن خیالی اپنی جگہ، لیکن وہ اپنے روایتی جاگیردارانہ مزاج پر قابو نہ رکھ سکے۔

    شاہنواز بھٹو کو یہ فکر بھی تھی کہ نیو دیرو میں رہنے والے ان کے کزن نواب احمد خان بھٹو کی لاڈلی بیٹی شیرین امیر بیگم کسی دوسرے گھر کی بہو نہ بن جائے۔ نواب احمد خان کے ہاں بیٹا نہیں تھا، اس لیے شاہنواز بھٹو کو خدشہ تھا کہ ان کی وسیع زمینیں، جائیدادیں اور بنگلے ان کی بیٹی شیرین امیر کے جہیز کے ساتھ کسی دوسرے خاندان میں نہ چلے جائیں۔

    آخرکار شاہنواز بھٹو نے اپنے کزن سے شیرین امیر کا رشتہ مانگ لیا۔ نواب احمد خان بھی انکار نہ کر سکے۔

    چودہ سالہ ذلفی بھٹو ان دنوں کرکٹ کے میدان میں کھیل رہے تھے۔ ایک دن ان کے والد نے پیغام بھیجا کہ تمہارے لیے بیرون ملک سے ایک نیا بیٹ منگوایا ہے، آ کر دیکھ لو۔

    ذلفی بھٹو جب بیٹ دیکھنے کے شوق میں والد کے پاس پہنچے تو وہاں شادی کی تقریب اور نکاح پڑھانے والے مولوی صاحب پہلے سے موجود تھے۔ اس طرح چودہ سالہ ذلفی بھٹو کا نکاح ان سے عمر میں بڑی، بیس سالہ جوان اور خوبصورت شیرین امیر بیگم سے پڑھا دیا گیا۔ یوں ذوالفقار علی بھٹو کی شادی ہو گئی۔

    شادی کے کچھ ہی عرصے بعد ذوالفقار علی بھٹو دوبارہ بمبئی چلے گئے۔ جب وہ جوانی میں داخل ہوئے تو بمبئی کے علاقے ورلی میں رہائش پذیر تھے۔

    ذلفی کی زندگی کا ایک دور وہ بھی تھا جب وہ اپنے دوست پیلو مودی اور دوسرے ساتھیوں کے ساتھ بالی وڈ کی سیر و تفریح کے لیے نکل جایا کرتے تھے۔

    بمبئی کے موہن اسٹوڈیو سے وابستہ ان کے دن بھی یادگار تھے۔ وہاں برصغیر کے مشہور موسیقار نوشاد کے تیار کردہ گیتوں پر بھارت کے معروف رقص کے استاد لچھو مہاراج، اداکارہ مدھوبالا کو موسیقی اور رقص کی تربیت دیا کرتے تھے۔

    ذلفی کے وہ دن مدھوبالا کو دیکھنے میں گزرتے تھے۔ فلم کی شوٹنگ کے بعد مدھوبالا اور ذلفی اکٹھے بیٹھ کر کافی بھی پیا کرتے تھے۔

    کہا جاتا ہے کہ مدھوبالا بھی بھٹو پر فریفتہ تھیں، لیکن یہ قصہ زیادہ عرصے تک نہ چل سکا اور بھٹو تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک چلے گئے۔

    ایک دن بغداد سوپ فیکٹری کے مالک کی بیٹی نصرت اصفہانی اپنی سہیلی اور ذلفی بھٹو کی بہن منور الاسلام کے ساتھ کنڈا والا کے تفریحی مقام پر گھومنے آئیں۔ ذلفی نے اپنی بہن سے پوچھا کہ یہ لڑکی کون ہے؟ منور الاسلام نے بتایا کہ یہ نصرت ہے، جس کا تعلق ایرانی کرد خاندان سے ہے۔ اس کے والد کا کراچی اور بمبئی میں کاروبار ہے اور وہ اس کی سہیلی ہے۔

    دوسری مرتبہ جب ذلفی بھٹو نے نصرت اصفہانی کو کالج میں دیکھا تو وہ لڑکیوں کی ایک تقریب میں گرلز گائیڈ کی فوجی وردی پہنے ہوئے تھیں۔ ان کی تربیت مکمل ہونے پر پریڈ ہو رہی تھی۔ بس پھر کیا تھا، ذوالفقار علی بھٹو اپنی بہن منور الاسلام کے پیچھے پڑ گئے کہ ان کی شادی اسی لڑکی سے کروا دی جائے۔

    ایک دن نصرت بینک سے پیسے نکلوانے گئیں تو بھٹو پہلے ہی وہاں موجود تھے۔ ذلفی نے نصرت کے پاس جا کر کہا، ’کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں؟‘ نصرت نے سخت لہجے میں جواب دیا، ’نہیں، آپ کی مہربانی!‘

    ایک دن منور الاسلام نے نصرت کو بتایا کہ ان کا بھائی ذلفی ان سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ان کا بھائی پہلے سے شادی شدہ ہے۔ نصرت نے جواب دیا، ’عام حالات میں شاید میں اس بارے میں سوچتی، لیکن اب تو میں بالکل شادی نہیں کروں گی۔‘

    لیکن آخرکار قسمت نے ذلفی بھٹو اور نصرت اصفہانی کو زندگی کا ساتھی بنا دیا۔ نصرت اصفہانی، بیگم نصرت بھٹو بن گئیں۔

    ایک تاریخی شخصیت کی شریک حیات بننے کے بعد بیگم نصرت بھٹو خود بھی تاریخ کا حصہ بن گئیں۔ ایوبی آمریت کے دور سے لے کر خاتون اول بننے تک وہ سیاسی تحریکوں میں سرگرم کردار ادا کرنے کے ساتھ ایک باہمت خاتون بھی رہیں۔

    ضیاء الحق کے مارشل لا اور آمریت کے دور میں، جب ذوالفقار علی بھٹو جیل میں تھے، نصرت بھٹو نے بڑی جرئت سے مارشل لا کی سختیوں کا مقابلہ کیا۔ قذافی اسٹیڈیم میں تشدد کے نتیجے میں زخمی ہونے کے باوجود وہ آمریت کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہیں۔ المرتضیٰ ہاؤس، ستر کلفٹن اور دیگر مقامات پر نظر بندیوں، کراچی سینٹرل جیل اور سہالا پولیس کیمپ میں قید کے باوجود انہوں نے حوصلے اور بہادری سے عوامی قافلے کی قیادت کی۔

    جب پھانسی گھاٹ میں ذوالفقار علی بھٹو سے ان کی آخری ملاقات ہوئی تو بھٹو نے ان سے کہا، ’نصرت، تم نے میری وجہ سے بہت تکلیفیں اٹھائیں اور عذاب سہے۔ اگر زندگی میں تمہیں میری وجہ سے کوئی دکھ یا رنج پہنچا ہو تو مجھے معاف کر دینا۔‘

    جدائی کے اس لمحے نصرت بھٹو پھانسی گھاٹ کی سلاخوں کے پیچھے قید اپنے شوہر کے سامنے آنسو بہانے لگیں۔ انہوں نے کہا، ’تم تو میرے تاج اور میرے سرتاج ہو۔ جب تک نصرت زندہ ہے، وہ اپنا ساتھ نبھاتی رہے گی۔‘

    واقعی، بیگم نصرت بھٹو نے آخری دم تک اپنا ساتھ نبھایا۔ مرتضیٰ اور شاہنواز جیسے جوان بیٹوں کی لاشیں دفن کرنا اور بینظیر جیسی بیٹی کی جدائی برداشت کرنا کوئی آسان بات نہیں تھی۔

    مئی 1979 سے لے کر 20 ستمبر 1996 کو میر مرتضیٰ بھٹو کی شہادت تک، میرے اور بیگم نصرت بھٹو کے درمیان شفقت اور محبت کا سترہ سالہ تعلق رہا۔ اس کے بعد ان کی حالت ایسی ہو گئی کہ وہ کسی سے ملنے یا بات کرنے کے قابل نہ رہیں۔ ان کے ساتھ گزرے ہوئے یہ طویل سال میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔

    وہ کئی مرتبہ مجھے اپنی گاڑی میں ساتھ بٹھا کر سیاسی دوروں، تعزیتی ملاقاتوں، مجلسوں اور مختلف تقریبات میں لے جاتی تھیں۔ میری والدہ کی دعوت پر بی بی فاطمہ اور بی بی زینب کی یاد میں ہونے والی مجلسوں میں شرکت کے لیے بھی بیگم نصرت بھٹو میرے گھر آتی رہیں۔

    آج بیگم نصرت بھٹو ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، لیکن وہ پاکستان کی تاریخ میں ایک بہادر خاتون کے طور پر ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

    افسوس کی بات یہ ہے کہ بیگم نصرت بھٹو نے اپنے شوہر کی شہادت کے بعد جس پاکستان پیپلز پارٹی کو زندہ رکھنے کے لیے جدوجہد کی، آج اسی پارٹی کے جلسوں اور جلوسوں میں لگائے جانے والے بڑے اشتہاری بینروں اور پوسٹروں پر آصف علی زرداری سے لے کر فریال ٹالپر تک، اور نثار کھوڑو سے لے کر مراد علی شاہ تک، ہر بڑے جاگیردار اور رہنما کی تصویر نظر آتی ہے۔ لیکن بیگم نصرت بھٹو کو اس قابل بھی نہیں سمجھا جاتا کہ ان کی تصویر کہیں آویزاں کی جائے۔

    البتہ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی تصاویر اور ان کی قبروں کو پارٹی کی قیادت اپنی سیاسی ضرورت سمجھتی ہے، کیونکہ ان کے نام اور تصاویر آج بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

    اس موقع پر میں صرف شاہ عبداللطیف بھٹائی کے ایک شعر کا ترجمہ پیش کرتا ہوں:

    مور مر گئے، ایک بھی ہنس باقی نہ رہا۔ 

    ان گھونسلوں پر اب دوسرے قابض ہو گئے ہیں، 

    اور وطن ایک بار پھر جھوٹے اور بزدل لوگوں کے قبضے میں چلا گیا ہے۔نصرت بھٹو

  • مُکھی ہاؤس: ایک گھر جو بٹوارے کے بعد بھی حیدرآباد سے جدا نہ ہوا

    مُکھی ہاؤس: ایک گھر جو بٹوارے کے بعد بھی حیدرآباد سے جدا نہ ہوا

    حیدرآباد کی پرانی گلیوں میں کچھ عمارتیں صرف اینٹ، پتھر، لکڑی اور شیشے سے نہیں بنتیں، وہ اپنے اندر پورا ایک زمانہ آباد رکھتی ہیں۔ 

    مُکھی ہاؤس بھی ایسی ہی ایک عمارت ہے۔پکا قلعہ روڈ اور شاہی بازار کے پرہجوم ماحول کے درمیان کھڑی یہ عمارت بظاہر ایک تاریخی حویلی لگتی ہے، مگر اس کے دروازے سے اندر داخل ہوں تو محسوس ہوتا ہے جیسے وقت چند لمحوں کے لیے رک سا گیا ہو۔ 

    لکڑی کی کاریگری، رنگین شیشے، ماربل کے فرش، محرابیں، برآمدے، سیڑھیاں اور بلند چھتیں ایک ایسے حیدرآباد کی تصویر سامنے لاتی ہیں جو آج کے شہر سے بہت مختلف تھا۔

    یہ صرف ایک گھر نہیں، ایک خاندان کی خوشحالی، تقسیمِ ہند، ہجرت، فسادات، زوال اور پھر بحالی کی داستان ہے۔

    مُکھی ہاؤس، جسے مُکھی محل بھی کہا جاتا ہے، بیسویں صدی کے آغاز میں مُکھی جیٹھانند نے تعمیر کرایا۔ مختلف ذرائع کے مطابق اس کی تعمیر 1920 اور 1921کے درمیاں ہوئی۔ یہ تین منزلہ عمارت اپنے وقت میں صرف رہائش گاہ نہیں بلکہ مُکھی خاندان کے سماجی اور سیاسی اثر و رسوخ کی علامت تھی۔

    مُکھی خاندان حیدرآباد کے ان بااثر سندھی ہندو خاندانوں میں شمار ہوتا تھا جنہوں نے شہر کی معاشی، سماجی اور ثقافتی زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔

    عمارت کے طرزِ تعمیر میں یورپی اور مقامی اثرات کا خوبصورت امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ بیرونی حصے میں کلاسیکی اور رینی ساں طرز کے ستون اور محرابیں نظر آتی ہیں، جبکہ اندرونی حصوں میں رنگین شیشے، لکڑی کا نفیس کام، ماربل اور آرائشی نقش و نگار اس دور کے ذوقِ جمال کی عکاسی کرتے ہیں۔

    جب حویلی میں نہرو آئے

    مُکھی ہاؤس کی تاریخ کا ایک دلچسپ باب ہندوستان کی آزادی کی تحریک سے بھی جڑتا ہے۔تاریخی حوالوں کے مطابق جواہر لال نہرو بھی مُکھی خاندان کے مہمان رہے۔ 1931 کی ایک تصویر، جس میں نہرو اور ان کی اہلیہ کو مُکھی ہاؤس میں دیکھا جا سکتا ہے، آج بھی اس عمارت کی تاریخی اہمیت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔

    یوں یہ حویلی محض ایک خاندان کی رہائش گاہ نہیں رہی بلکہ برصغیر کی سیاسی اور سماجی تاریخ کے ایک دور کی خاموش گواہ بھی بن گئی۔

    1947 میں انڈیا تقسیم ہوا تو لاکھوں خاندانوں کی طرح مُکھی خاندان کو بھی اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔ خاندان کے افراد بھارت منتقل ہوگئے اور وہ گھر جس میں کبھی زندگی کی رونقیں تھیں، آہستہ آہستہ خاموش ہوگیا۔لیکن مُکھی ہاؤس کی مشکلات یہیں ختم نہیں ہوئیں۔

    وقت کے ساتھ عمارت مختلف سرکاری اداروں کے استعمال میں رہی۔ اسے ایک عرصے تک اسکول کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔ مختلف ادوار میں عمارت کو نظرانداز کیے جانے اور غلط استعمال کے باعث اس کی حالت خراب ہوتی چلی گئی۔

    فسادات کی آگ اور بچ جانے والی عمارت

    1980 کی دہائی کے نسلی فسادات نے حیدرآباد کی کئی تاریخی عمارتوں کو متاثر کیا۔ مُکھی ہاؤس بھی محفوظ نہ رہ سکا۔ تاریخی ورثے کے ریکارڈ کے مطابق عمارت کو آگ لگائی گئی اور اسے شدید نقصان پہنچا۔ 

    بعد ازاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے استعمال میں رہنے کی وجہ سے یہ عمارت غیر قانونی قبضے سے کسی حد تک محفوظ رہی۔یہ بات آج حیران کن محسوس ہوتی ہے کہ جس عمارت میں کبھی سیاسی رہنما، تاجر، خاندان اور شہر کے بااثر لوگ جمع ہوتے تھے، ایک وقت میں وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی تھی۔

    حیدرآباد کی بہت سی پرانی حویلیاں اسی دوران یا تو منہدم ہوگئیں یا اپنی اصل شناخت کھو بیٹھیں۔ مُکھی ہاؤس کا باقی رہ جانا اسی لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

    مُکھی ہاؤس کی بحالی کی باقاعدہ کوششیں 2009 میں شروع ہوئیں۔ سندھ کے محکمۂ آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے عمارت کے اصل نقش و نگار اور تعمیراتی خصوصیات کو محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ بحالی کے دوران پرانی تصاویر، عمارت کے باقی ماندہ حصوں اور مُکھی خاندان کی یادداشتوں سے بھی مدد لی گئی۔

    ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے بحالی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ کام آسان نہیں تھا؛ پرانی ٹائلوں سے مشابہ ٹائلیں تلاش کرنا، رنگین شیشوں کو دوبارہ تیار کرنا اور روایتی کاریگری کو بحال کرنا اس منصوبے کا حصہ تھا۔یہ محض دیواروں کی مرمت نہیں تھی۔یہ ماضی کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش تھی۔

    2013: جب مُکھی خاندان اپنے گھر واپس آیا

    بحالی کے سفر کا سب سے جذباتی لمحہ 29 جنوری 2013 کو آیا، جب مُکھی خاندان کے 11 افراد اپنے آبائی گھر میں دوبارہ جمع ہوئے۔ ان میں تین ایسے افراد بھی شامل تھے جو اسی گھر میں پیدا ہوئے تھے۔خاندان کے افراد نے عمارت کے مختلف حصوں سے جڑی اپنی یادیں بیان کیں۔ 

    ایک گھر جو کئی دہائیوں سے ان سے دور تھا، چند گھنٹوں کے لیے پھر ان کی یادوں کا مرکز بن گیا۔ یہ منظر شاید مُکھی ہاؤس کی پوری کہانی کا سب سے خوبصورت استعارہ ہے: گھر وہی تھا، لوگ بدل گئے تھے، لیکن یادیں وہیں موجود تھیں۔

    میوزیم بنانے کی شرط 

    مُکھی ہاؤس کی کہانی کا سب سے قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ مُکھی خاندان نے اپنی آبائی عمارت کو ذاتی ملکیت یا نجی استعمال میں واپس لینے کے بجائے اسے عوامی ورثے کے طور پر محفوظ کرنے کی حمایت کی۔خاندان کی خواہش تھی کہ عمارت کو میوزیم بنایا جائے تاکہ یہ صرف مُکھی خاندان کی یادگار نہ رہے بلکہ حیدرآباد اور سندھ کے لوگوں کے لیے بھی تاریخ کا حصہ بن سکے۔

    یہ فیصلہ اس عمارت کی کہانی کو ایک نیا معنی دیتا ہے۔جن لوگوں نے یہ گھر چھوڑا تھا، انہوں نے آخرکار اسے اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کروایا۔

    آج مُکھی ہاؤس ایک میوزیم ہے جہاں عمارت خود سب سے بڑا تاریخی نمونہ ہے۔یہاں مُکھی خاندان کی تصاویر، فرنیچر اور دیگر اشیا کے ساتھ سندھ کے دستکاری کے نمونے اور حیدرآباد کی شہری تاریخ سے متعلق مواد بھی موجود ہے۔

    لیکن اس میوزیم کو دیکھنے والے کے لیے شاید سب سے دلچسپ چیز کسی ایک شیشے کے صندوق میں رکھی ہوئی چیز نہیں۔

    اصل نمائش خود مُکھی ہاؤس ہے۔

    اس کے برآمدے، صحن، سیڑھیاں، لکڑی کے دروازے، رنگین شیشے، ماربل کے فرش اور چھتوں کی آرائش اس زمانے کے طرزِ زندگی کی ایسی تصویر بناتے ہیں جسے کتاب پڑھ کر مکمل طور پر محسوس نہیں کیا جاسکتا۔

    مُکھی ہاؤس کو صرف ایک ہندو خاندان کی حویلی سمجھنا اس کی تاریخ کو محدود کرنا ہوگا۔یہ تقسیم سے پہلے کے حیدرآباد کی کہانی ہے۔یہ سندھ کی مشترکہ شہری تہذیب کی کہانی ہے۔یہ ہجرت اور بچھڑنے کی کہانی ہے۔یہ ان خاندانوں کی کہانی ہے جو ایک دن اپنا گھر چھوڑ کر دوسری جانب چلے گئے۔یہ ان عمارتوں کی کہانی ہے جو فسادات، قبضوں، غفلت اور وقت کے ہاتھوں ختم ہوگئیں۔

    اور یہ اس امید کی کہانی بھی ہے کہ اگر معاشرہ اپنے ماضی کو محفوظ کرنے کا فیصلہ کرے تو ایک بوسیدہ عمارت دوبارہ زندہ ہوسکتی ہے۔

    مُکھی ہاؤس کی بحالی ایک کامیابی ضرور ہے، لیکن تاریخی ورثے کا تحفظ صرف دیواروں کو کھڑا رکھنے کا نام نہیں۔اس عمارت سے وابستہ کہانیاں، خاندان کی یادیں، پرانی تصاویر، دستاویزات، فرنیچر، فنِ تعمیر اور مقامی تاریخ بھی محفوظ رہنی چاہیے۔

    حالیہ برسوں میں اس عمارت کے حوالے سے یہ ضرورت بھی سامنے آئی ہے کہ تاریخی اشیا اور تصاویر کے بارے میں سندھی، اردو اور انگریزی میں معلومات فراہم کی جائیں اور لکڑی کے اہم حصوں کی بروقت مرمت کی جائے۔کیونکہ اگر عمارت محفوظ ہو لیکن اس کی کہانی لوگوں تک نہ پہنچے تو ورثے کا ایک بڑا حصہ پھر بھی ضائع ہوجاتا ہے۔

    حیدرآباد کے نام ایک خاموش پیغام

    آج جب پکا قلعہ روڈ پر ٹریفک رواں دواں ہے، شاہی بازار اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں گم ہے اور شہر مسلسل تبدیل ہورہا ہے، مُکھی ہاؤس خاموشی سے کھڑا ہے۔وہ شاید اپنے دروازے سے گزرنے والے ہر شخص سے صرف ایک سوال کرتا ہے:کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے شہر نے کیا کچھ دیکھا ہے؟ اس کے ستونوں نے ایک خاندان کی خوشحالی دیکھی۔

    اس کی دیواروں نے سیاسی ملاقاتیں دیکھیں۔اس نے تقسیم دیکھی۔اس نے ہجرت دیکھی۔اس نے فسادات اور تباہی دیکھی۔اور پھر اس نے بحالی بھی دیکھی۔

    شاید اسی لیے مُکھی ہاؤس محض ایک میوزیم نہیں۔

    یہ حیدرآباد کی اجتماعی یادداشت کا ایک زندہ باب ہے۔

    اور جب تک اس کے دروازے کھلے رہیں گے، شہر کی نئی نسلیں ماضی کو صرف کتابوں میں نہیں پڑھیں گی، بلکہ اسے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ بھی سکیں گی۔

  • 18 اکتوبر، کارساز دھماکہ: کچھ منظر، کچھ یادیں

    18 اکتوبر، کارساز دھماکہ: کچھ منظر، کچھ یادیں

    بے نظیر بھٹو کا قافلہ چیونٹی کی رفتار سے کراچی ایئرپورٹ کے حج ٹرمینل سے اسٹار گیٹ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ میں بھی صحافی ساتھیوں کے ساتھ ایک گاڑی پر سوار، بے نظیر بھٹو کے کنٹینر کے پیچھے پیچھے تھا۔

    بے نظیر بھٹو جس کنٹینر ٹرک میں سوار تھیں، وہ اسٹار گیٹ سے مڑتے ہوئے شارع فیصل کی طرف رخ کر رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ کنٹینر کی چھت پر بنے ایک پلیٹ فارم پر کوئی صاحب نماز پڑھ رہے ہیں۔ غالباً مغرب کی نماز تھی۔ غور کرنے پر اندازہ ہوا کہ وہ اس وقت کے پیپلز پارٹی کے رہنما میاں مٹھو ہیں۔

    قافلہ شارع فیصل پر آگے بڑھ رہا تھا۔ رفتار شاید چیونٹی سے بھی سست ہو کر کچھوے یا گھونگھے تک پہنچ گئی تھی۔ اردگرد پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کا اژدھام تھا۔ بے نظیر بھٹو کے کنٹینر کو جن جیالوں نے گھیر رکھا تھا، ان کے سروں پر پٹیاں تھیں۔ ان پٹیوں پر لکھا تھا ’جانثاران بے نظیر‘۔

    اب میں بے نظیر بھٹو کے کنٹینر کے عین پیچھے موجود ایک ٹرک کی ڈرائیور سائیڈ والی چھت پر کھڑا تھا۔ میرے ساتھ اس وقت خیبر ٹی وی پشتو کے بیورو چیف رحمان بونیری اور آج ٹی وی کے کیمرہ مین شہادت بلوچ بھی تھے۔

    میں نے دائیں طرف دیکھا تو ایک کھلے کنٹینر ٹرک پر نوائے وقت کے چیف رپورٹر یوسف خان اور ایک اور سینئر صحافی جاوید چوہدری بھی نظر آئے۔ یوسف بھائی کو دیکھ کر خیال آیا کہ ماشاء اللہ، اس عمر میں بھی کیسے تروتازہ ہیں، چہرے پر تھکن کے کوئی آثار نہیں۔ 

    انہیں دیکھ کر اپنی تھکن بھی کچھ کم ہوئی یا کم از کم شرمندگی ہوگئی کہ یوسف بھائی ڈٹے ہوئے ہیں تو ہم تو جوان جہان ہیں۔

    کام کی سختی یا تھکن کی شکایت بڑی بدنصیبی کی بات ہوتی، کیونکہ یہ کتنا بڑا موقع تھا۔ ملک میں پھر جمہوریت آ رہی تھی۔ ایک اتنی بڑی رہنما کا ایسا تاریخی استقبال ہو رہا تھا اور ہم اس تاریخی استقبال کے گواہ تھے۔ ہم اپنے سامنے تاریخ بنتے دیکھ رہے تھے۔

    ہمارا ٹرک بے نظیر بھٹو کے کنٹینر کے بالکل پیچھے پیچھے تھا۔ اچانک میری نظر پڑی کہ کنٹینر دائیں جانب جھک رہا ہے۔ پتا نہیں یہ نظر کا دھوکا تھا یا واقعی ایسا ہو رہا تھا۔ میری انگلیاں مسلسل اپنے موبائل فون پر تھیں اور میں کھٹ کھٹ ٹکر ٹائپ کرکے اپنے چینل کو بھیج رہا تھا۔

    لیکن یہ ٹکر نہیں بھیجا۔ کچھ دیر بعد مجھے لگا کہ کنٹینر سیدھا ہوگیا ہے۔ میری جان میں جان آئی۔

    اب تاریکی کافی بڑھ چکی تھی۔ میں حیران تھا کہ آج شارع فیصل کی تمام اسٹریٹ لائٹس کیوں بند ہیں۔ عام طور پر تو یہ سڑک بقعہ نور بنی ہوئی ہوتی ہے۔ ہمارے ٹرک کے ساتھ ساتھ لیاری کے جیالوں کا بھی ایک ٹرک تھا، جس پر بلوچی گانے بلند آواز میں چل رہے تھے۔

    رحمان بونیری کو اپنے چینل کے لیے بیپر دینا تھا۔ گانوں کی وجہ سے اس کی آواز ٹھیک سے نہیں جا پا رہی تھی۔ چینل سے بار بار فون آ رہا تھا کہ کسی مناسب جگہ سے بیپر دو، لیکن اس وقت یہ ممکن نہیں تھا۔

    رحمان نے ذرا چیخ کر لیاری کے جیالوں سے کہا کہ آواز کم کر لیں۔ اس کے جواب میں دوسری طرف سے کوئی سخت جملہ آیا، شاید کسی نے گالی بھی دی۔ اس پر تو رحمان کا بھی میٹر آؤٹ ہوگیا۔ دونوں طرف سے چیخ پکار اور گالم گلوچ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔

    ہم نے بڑی مشکل سے رحمان کو خاموش کرایا۔ تب تک اس کا موڈ بالکل آف ہو چکا تھا۔ ہم بھی کھڑے کھڑے کافی تھک گئے تھے۔ جلوس کی سست روی سے اندازہ ہوگیا تھا کہ صبح سے پہلے مزار قائد پر نہیں پہنچیں گے۔ تب ہی کوئی خبر بنے گی اور شاید تب ہی مزید کوئی بیپر ہو سکے گا۔ ہم تینوں نے فیصلہ کیا کہ ٹرک سے اتر کر کسی بس میں بیٹھ جاتے ہیں، کچھ دیر آرام کرکے تازہ دم ہو جائیں گے۔

    میں، رحمان اور شہادت اپنے ٹرک کے پیچھے قافلے میں شامل بسوں میں جھانک رہے تھے۔ ایک بس کچھ خالی نظر آئی۔ اندر لیاری کی کچھ بزرگ جیالیاں تھیں۔ ہم نے تعارف کروا کر اجازت مانگی کہ ’کیا ہم کچھ دیر بس میں بیٹھ سکتے ہیں؟‘ خالہ نے بخوشی اجازت دی، ’ہاں ہاں بیٹا، آ جاؤ، بیٹ  (بیٹھ) جاؤ۔‘

    ہم تینوں بس کی بالکل آخری نشستوں پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر تو باتیں کرتے رہے، لیکن جانے کب آنکھ لگ گئی۔

    اچانک دھماکے کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔ بس کے دروازے سے آواز آئی، ’تابان، رحمان کو جگاؤ، جلدی! دھماکہ ہوگیا ہے۔‘ میں اور رحمان گولی کی رفتار سے بس کے دروازے کی طرف بڑھے تو خواتین رو اور چلا رہی تھیں۔ اچانک بلوچی لہجے میں ایک مرد نے انہیں تسلی دی، ’کچھ نئیں ہوا، فکر نئیں کرو، پی ایم ٹی پھٹا ہے۔‘

    میں نے بھی باہر نکل کر دیکھا تو واقعی بے نظیر کے کنٹینر کے قریب ایک پی ایم ٹی جل رہا تھا۔ ہم صحافی کنٹینر کی طرف بڑھنے لگے تو اے آر وائی نیوز کے کیمرہ مین عارف نے کہا، ’یار، میں ذرا پولیس موبائل سے فوٹیج بناتا ہوں۔‘

    وہ موبائل بے نظیر بھٹو کے کنٹینر کے بالکل ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ اس وقت بے نظیر کا کنٹینر اور وہ موبائل، دونوں رکے ہوئے تھے۔ عارف بھاگتا ہوا پولیس موبائل کی طرف گیا۔

    شاید وہ موبائل پر سوار ہوگیا تھا یا اس کے انتہائی قریب تھا کہ ایک اور زور دار دھماکہ ہوا۔ عارف اور بہت سے دوسرے لوگوں کے چیتھڑے اڑ گئے۔ میرا موبائل بھی ہاتھ سے چھوٹ کر کہیں دور جا گرا۔ میں سناٹے میں آگیا۔

     کچھ دیر کے لیے میرے حواس گم ہوگئے۔ جب کچھ حواس بحال ہوئے تو میں نے اپنے اردگرد کٹے ہوئے بازو، ٹانگیں اور گردنیں دیکھیں۔

    ذہنی طور پر میں تقریباً سن ہو چکا تھا۔ بے بسی اور خالی الدماغی کے عالم میں تڑپتے ہوئے زخمیوں اور کٹی پھٹی لاشوں کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔ مجھے پتا بھی نہیں تھا کہ میں آگے کیوں جا رہا ہوں، مجھے کرنا کیا ہے۔ 

    اسی وقت مجھے ایک اور ساتھی رپورٹر سبین آغا نظر آئیں، جو شاید ہم مرد رپورٹروں کے مقابلے میں زیادہ مضبوطی سے کھڑی ہوئی تھیں اور ہماری خیریت دریافت کر رہی تھیں۔

    میرا موبائل کہیں گر کر ٹوٹ چکا تھا۔ میں دفتر یا گھر، کسی کو خبر نہیں کر سکتا تھا۔ اچانک مجھے کیمرہ مین دانش شکیل نظر آیا۔ وہ تیزی سے میری طرف بڑھا۔ اس نے کہا، ’مجھے ابھی چینل سے فون آیا ہے کہ تمہیں ڈھونڈوں۔ تمہاری کوئی خیر خبر نہیں مل رہی تھی۔ تمہارا فون کہاں ہے؟‘ میں نے بس ہوں ہاں میں اسے جواب دیا۔

    دانش نے کہا، ’وہاں دفتر کی گاڑی کھڑی ہے، تم فوراً نکل جاؤ۔‘ پتا نہیں رات کے کتنے بجے تھے۔ میں دفتر کی گاڑی میں بیٹھ کر گھر پہنچ گیا۔

    میرے پہنچنے پر گھر والوں کی جان میں جان آئی، لیکن میں انہیں کچھ بھی نہ بتا سکا۔ کچھ بھی نہیں۔ اب یاد نہیں کہ میں سو گیا تھا یا یونہی خالی الدماغی کے عالم میں صبح تک جاگتا رہا۔ دماغ بالکل ماؤف تھا۔ صبح اٹھ کر کچھ کچھ حواس بحال ہوئے تو گھر والوں کو ساری روداد سنائی۔

    مجھے شاید اگلے دن ہی پوری طرح سمجھ میں آیا کہ وہ خودکش حملے تھے۔ بے نظیر بھٹو کی جان تو بچ گئی، لیکن کتنے ہی جانثاروں نے ان پر اپنی جان نثار کر دی۔

    میرے دل میں اس دن بے نظیر کی عزت اور بڑھ گئی، جب مجھے معلوم ہوا کہ قاتلانہ حملے کے اگلے روز ہی وہ لیاری پہنچ گئی تھیں۔ انہوں نے جاں بحق کارکنوں کے روتے تڑپتے لواحقین کو گلے لگا کر دلاسہ دیا۔ بے نظیر بہت بہادر تھیں، بہت حساس تھیں، لیکن قاتلوں نے ان کی جان لینے کا فیصلہ کر رکھا تھا، جس پر عمل کرکے ہی دم لیا۔

  • ’پرسنل آبزرویشنز آن سندھ‘: 1843 میں شائع ہونے والی سندھ کی تاریخ، سماج، زراعت اور دریائے سندھ پر ایک اہم دستاویز

    ’پرسنل آبزرویشنز آن سندھ‘: 1843 میں شائع ہونے والی سندھ کی تاریخ، سماج، زراعت اور دریائے سندھ پر ایک اہم دستاویز

    تھامس پوسٹنز کی کتاب ’پرسنل آبزرویشنز آن سندھ‘ 1843 میں لندن سے شائع ہوئی۔ یہ کتاب انیسویں صدی کی سندھ کے بارے میں ایک اہم تاریخی ماخذ ہے، جس میں خطے کی تاریخ، جغرافیہ، زراعت، تجارت، دریائے سندھ، مقامی آبادی، سماجی رسوم و رواج اور سیاسی حالات کا احوال بیان کیا گیا ہے۔

    کتاب کے مصنف کیپٹن تھامس پوسٹنز برطانوی فوج میں افسر تھے۔ وہ سندھ اور بلوچستان میں برطانوی سیاسی ایجنٹ کے معاون کے طور پر بھی کام کر چکے تھے۔ اس سرکاری حیثیت کی وجہ سے انہیں سندھ کے حکمرانوں، مقامی آبادی، تجارتی سرگرمیوں اور سیاسی حالات کا مشاہدہ کرنے کے مواقع ملے۔

    اس کتاب کی اشاعت کا سال سندھ کی تاریخ میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 1843 میں برطانوی فوجی مہم کے نتیجے میں ٹالپر حکمرانوں کی حکومت ختم ہوئی اور سندھ برطانوی قبضے میں چلا گیا۔ اس لیے یہ کتاب ایسے دور کی تصویر پیش کرتی ہے جب سندھ کا سیاسی، انتظامی اور معاشی نظام ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہا تھا۔

    کتاب کا مکمل عنوان واضح کرتا ہے کہ مصنف نے سندھ کے باشندوں کے رہن سہن، رسم و رواج، زمین کی پیداواری صلاحیت، تاریخ، حالیہ سیاسی واقعات اور برطانوی حکومت کے ساتھ سندھ کے تعلقات کو اپنے مطالعے کا موضوع بنایا۔

    سندھ کی جغرافیائی اور قدرتی صورتحال

    کتاب میں سندھ کی جغرافیائی ساخت، زمین، قدرتی ماحول اور دریائے سندھ کی اہمیت پر گفتگو کی گئی ہے۔ مصنف نے دریا کے بہاؤ، اس کے کناروں، مقامی آبادیوں اور زرعی سرگرمیوں کے درمیان تعلق کو بیان کیا ہے۔

    انیسویں صدی میں سندھ کی زراعت، آمدورفت اور روزگار کا بڑا حصہ دریائے سندھ سے وابستہ تھا۔ دریا کا پانی، موسمی سیلاب، زمین کی زرخیزی اور مقامی آبپاشی کے طریقے لوگوں کی زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتے تھے۔ پوسٹنز کے مشاہدات ان حالات کو سمجھنے کے لیے اہم تاریخی مواد فراہم کرتے ہیں۔

    آج بھی اس کتاب کے جغرافیائی اور ماحولیاتی بیانات کی مدد سے دریائے سندھ کے تاریخی کردار، قدیم آبادیوں، زرعی نظام اور زمین کے استعمال پر تحقیق کی جا سکتی ہے۔ تاہم، ان مشاہدات کو جدید سائنسی تحقیق کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ انہیں دوسرے تاریخی اور سائنسی شواہد کے ساتھ ملا کر دیکھنا چاہیے۔

    سندھ کے باشندے اور سماجی زندگی

    پوسٹنز نے سندھ کی آبادی اور مختلف سماجی گروہوں کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ کتاب میں مسلمان آبادی، سندھ میں آباد افغانوں اور ایرانیوں، کسانوں، مقامی سرداروں اور دیگر گروہوں کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے علاوہ لوری یا بلوچ بھاٹوں اور گویوں سے متعلق مواد بھی کتاب کے موضوعات میں شامل ہے۔

    یہ تفصیلات اس دور کے سندھ کی سماجی ساخت کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔ ان سے یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ مختلف برادریاں زراعت، تجارت، حکمرانی اور مقامی معاشرت میں کیا کردار ادا کرتی تھیں۔

    تاہم، مصنف کی جانب سے استعمال کی گئی سماجی درجہ بندی کو احتیاط سے پڑھنا ضروری ہے۔ وہ برطانوی نوآبادیاتی دور کے نمائندے تھے، اس لیے ان کی اصطلاحات اور تشریحات لازمی طور پر مقامی لوگوں کی اپنی شناخت اور سماجی تصورات کی مکمل نمائندگی نہیں کرتیں۔

    زراعت، فصلیں اور زمین کی پیداوار

    کتاب میں سندھ کی زرعی معیشت اور قدرتی وسائل پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ مصنف نے زمین کی پیداواری صلاحیت، مختلف فصلوں، درختوں، لکڑی اور دیگر وسائل کا ذکر کیا ہے۔

    کتاب کے بارے میں سندھی انسائیکلوپیڈیا کی معلومات کے مطابق، پوسٹنز نے جنوبی سندھ میں چاول کی کاشت اور اس کی پیداوار کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے شمالی سندھ میں گندم اور جوار جیسی فصلوں کی اہمیت پر بھی بات کی ہے۔

    یہ معلومات اس لیے اہم ہیں کہ سندھ کے مختلف علاقوں میں زرعی حالات یکساں نہیں رہے۔ پانی کی دستیابی، زمین کی نوعیت، موسم اور آبپاشی کے طریقوں نے فصلوں کی کاشت اور پیداوار کو متاثر کیا۔

    پوسٹنز کی تحریر سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ برطانوی حکام سندھ کی زمین اور قدرتی وسائل کو معاشی نقطۂ نظر سے دیکھتے تھے۔ ان کی دلچسپی صرف مقامی زراعت کے مطالعے تک محدود نہیں تھی، بلکہ زمین کی پیداوار بڑھانے، محصولات حاصل کرنے اور تجارتی مواقع تلاش کرنے سے بھی وابستہ تھی۔

    دریائے سندھ، مقامی کشتیاں اور ماہی گیری

    دریائے سندھ اس کتاب کے اہم موضوعات میں شامل ہے۔ پوسٹنز نے دریا کی قدرتی صورتحال، مقامی کشتیوں، سفر کے دورانیے، ہواؤں کے اثرات اور آبی راستوں پر گفتگو کی ہے۔ مچھلیوں اور دیگر جانوروں کا ذکر بھی ان کے مشاہدات میں شامل ہے۔

    یہ معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ اس زمانے میں دریائے سندھ محض پانی کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ آمدورفت، تجارت، ماہی گیری اور روزگار کا ایک اہم وسیلہ بھی تھا۔ مقامی کشتیاں مختلف بستیوں کو آپس میں ملاتی تھیں اور سامان کی نقل و حمل میں کردار ادا کرتی تھیں۔

    کتاب میں کشتیوں اور دریائی سفر سے متعلق تفصیلات جدید سڑکوں اور ریلوے کے قیام سے پہلے سندھ کے سفری اور تجارتی نظام کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

    اسی طرح مچھلیوں اور دیگر جانداروں کے بارے میں مصنف کے مشاہدات تاریخی ماحولیاتی تحقیق کے لیے ابتدائی مواد فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، ان بیانات کی بنیاد پر کسی نوع کی سابقہ آبادی یا دریا کے ماحولیاتی نظام میں تبدیلی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید شواہد درکار ہوں گے۔

    کلہوڑا اور ٹالپر حکمرانوں کی تاریخ

    پوسٹنز نے سندھ کی سیاسی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ کتاب میں قدیم تاریخ، سکندر اعظم کی مہم، کلہوڑا حکمرانوں اور ٹالپر خاندان کے عروج سے متعلق موضوعات شامل ہیں۔ مصنف نے کلہوڑا اقتدار کے قیام اور عبداللہ خان ٹالپر کا ذکر بھی کیا ہے۔

    یہ تاریخی مواد اس لیے اہم ہے کہ کتاب اس وقت شائع ہوئی جب سندھ میں اقتدار کا نظام بنیادی تبدیلی سے گزر رہا تھا۔ ٹالپر حکمرانوں کی شکست کے بعد سندھ پر برطانوی قبضہ قائم ہوا اور اس کے سیاسی و انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں آئیں۔

    پوسٹنز کی تحریر سے سندھ کے حکمران خاندانوں، سیاسی تعلقات اور حکمرانی کے نظام کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ تاہم، ان کے تاریخی بیانات کو سندھی روایات، فارسی تواریخ، کتبوں اور دوسرے ہم عصر تاریخی ذرائع کے ساتھ ملا کر پڑھنا ضروری ہے۔

    خصوصاً ان واقعات کے بارے میں احتیاط ضروری ہے جنہیں برطانوی مداخلت کے جواز کے طور پر پیش کیا گیا، کیونکہ مصنف کا تعلق اسی فوجی اور سیاسی نظام سے تھا جس نے سندھ پر قبضہ کیا۔

    جاگیرداری نظام اور حکومتی محصولات

    کتاب میں سندھ کے حکومتی نظام، جاگیروں اور زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی پر بھی بحث کی گئی ہے۔

    جاگیر عام طور پر زمین کی آمدنی یا اس سے متعلق حقوق کی ایسی صورت تھی جو کسی شخص یا خاندان کو مخصوص ذمہ داریوں کے عوض دی جاتی تھی۔ اس نظام کی نوعیت مختلف ادوار اور علاقوں میں مختلف ہو سکتی تھی۔

    پوسٹنز کے بیان سے حکمرانوں، مقامی سرداروں، زمین داروں اور محصول وصول کرنے والوں کے درمیان تعلقات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس دور میں زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی سیاسی طاقت اور مقامی سماجی نظام سے گہرا تعلق رکھتی تھی۔

    سندھی انسائیکلوپیڈیا میں پوسٹنز کے حوالے سے زمین سے محصولات وصول کرنے اور سندھ کی سالانہ سرکاری آمدنی 80 لاکھ روپے بتائے جانے کا ذکر بھی ملتا ہے۔

    تجارت اور برطانوی مفادات

    پوسٹنز نے سندھ کی تجارت اور برطانوی حکومت کے تجارتی مفادات پر بھی گفتگو کی ہے۔ کتاب میں سندھ کی تجارت کی اہمیت سے متعلق ایک الگ حصہ شامل ہے۔

    سندھ کی جغرافیائی حیثیت نے اسے دریائی اور زمینی تجارتی راستوں کے ذریعے مختلف علاقوں سے منسلک کیا۔ مقامی منڈیاں، دریائی آمدورفت اور بیرونی علاقوں سے رابطے اس کی معاشی زندگی کا حصہ تھے۔

    کتاب کے تجارتی بیانات سے اس دور کی اقتصادی سرگرمیوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، لیکن ان کا مطالعہ کرتے وقت یہ سوال بھی اہم ہے کہ مصنف موجودہ تجارتی نظام کی وضاحت کر رہا تھا یا برطانوی تجارت کے لیے نئے امکانات تلاش کر رہا تھا۔

    چونکہ پوسٹنز برطانوی فوج اور سیاسی انتظامیہ سے وابستہ تھے، اس لیے ان کی تحریر میں مقامی معیشت کے مشاہدات کے ساتھ برطانوی مفادات کی جھلک بھی موجود ہو سکتی ہے۔

    برطانوی فوجی مہم اور سندھ پر قبضہ

    کتاب کا ایک اہم حصہ سندھ اور برطانوی حکومت کے تعلقات سے متعلق ہے۔ اس میں سندھ کے ساتھ برطانوی تعلقات کی ابتدا، برطانوی حکومت کو حاصل مراعات، 1838 کی کابل مہم، سندھ میں بمبئی فوج کی آمد، سیاسی معلومات جمع کرنے اور دوآبے کی جنگ سے متعلق موضوعات شامل ہیں۔

    ان موضوعات سے سندھ پر برطانوی مداخلت کے پس منظر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس دور میں افغانستان سے متعلق برطانوی پالیسی اور خطے میں اپنے اثرورسوخ کو بڑھانے کی خواہش نے سندھ کی جغرافیائی حیثیت کو مزید اہم بنا دیا تھا۔

    پوسٹنز کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی حکام سندھ کے سیاسی حالات اور مقامی حکمرانوں کے ساتھ تعلقات کو کس نظر سے دیکھتے تھے۔ لیکن ان کے بیان کو سندھ کی فتح کی مکمل اور غیر جانب دار تاریخ نہیں سمجھنا چاہیے۔

    مصنف خود برطانوی فوجی اور سیاسی نظام کا حصہ تھا۔ اس لیے برطانوی مداخلت کے اسباب، فوجی کارروائیوں اور ان کے نتائج سے متعلق اس کے بیانات کو دوسرے تاریخی ذرائع کے ساتھ جانچنا ضروری ہے، خصوصاً ان ذرائع کے ساتھ جو سندھ کے مقامی نقطۂ نظر کی نمائندگی کرتے ہیں۔

    کتاب میں شامل تاریخی تصاویر

    کتاب کی ایک اہم خصوصیت اس میں شامل تصاویر بھی ہیں۔ سندھی انسائیکلوپیڈیا کی معلومات کے مطابق، ان میں سندھی خواتین، پلو مچھلی پکڑنے والے مچھیرے، اونٹ پر سوار بلوچ شخص، سندھی کسان، دریائے سندھ کی کشتیاں، دریائے سندھ سے سکھر یا سیہون کے مناظر سے متعلق تصاویر، حقہ، کنویں سے پانی نکالنے کے لیے اونٹ کے استعمال، موسیقی کے سازوں اور ہتھیاروں کی تصاویر شامل ہیں۔

    یہ تصویری مواد انیسویں صدی میں سندھ کے لوگوں، لباس، پیشوں، آلات اور روزمرہ زندگی کی اس دور میں پیش کی جانے والی نمائندگی کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

    خصوصاً زراعت، ماہی گیری، پانی نکالنے کے روایتی طریقوں اور دریائی آمدورفت پر تحقیق کرنے والوں کے لیے یہ تصاویر دلچسپی کا باعث ہو سکتی ہیں۔

    تاہم، ان تصاویر کو عکاسی یا مصوری کے ذریعے بنائی گئی تاریخی نمائندگی سمجھنا چاہیے۔

    کتاب کی تاریخی اہمیت

    ’پرسنل آبزرویشنز آن سندھ‘کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ سندھ کی تاریخ، سماج، معیشت، زراعت، تجارت، دریائے سندھ اور سیاسی حالات کو ایک ہی جگہ جمع کرتی ہے۔

    یہ کتاب انیسویں صدی کے سندھ کے بارے میں تحقیق کرنے والے تاریخ دانوں، صحافیوں، ماہرین ماحولیات اور سماجی محققین کے لیے ایک اہم ابتدائی ماخذ ہے۔ اس میں موجود تفصیلات سے مزید سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں اور دوسرے تاریخی شواہد کی مدد سے ان کی جانچ کی جا سکتی ہے۔

    تاہم، کتاب کی حدود کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ پوسٹنز نے سندھ کو ایک برطانوی فوجی افسر اور سیاسی اہلکار کی حیثیت سے دیکھا۔ اس لیے ان کے مشاہدات میں اس دور کے نوآبادیاتی مفادات، سیاسی ترجیحات اور سماجی تصورات کا اثر موجود ہو سکتا ہے۔

    اس کتاب کو نہ تو مکمل طور پر مسترد کرنا چاہیے اور نہ ہی اس کے ہر بیان کو بلا تحقیق درست تسلیم کرنا چاہیے۔ اس کی اصل تاریخی افادیت اس وقت بڑھتی ہے جب اس کے بیانات کو مقامی تاریخی روایات، فارسی تواریخ، سرکاری دستاویزات، کتبوں اور دیگر ہم عصر ذرائع کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے۔

    مجموعی طور پر، تھامس پوسٹنز کی یہ کتاب 1843 کے سندھ کو سمجھنے کے لیے ایک اہم تاریخی دستاویز ہے۔ یہ ہمیں اس دور کی زمین، دریا، زراعت، تجارت، سماجی زندگی اور سیاسی تبدیلیوں کے بارے میں ایک برطانوی افسر کے مشاہدات فراہم کرتی ہے۔ اس کی اہمیت صرف ماضی کی معلومات میں نہیں، بلکہ اس موقع میں بھی ہے کہ ہم ان مشاہدات کو دوسرے شواہد کے ساتھ پرکھیں اور سندھ کی تاریخ کو زیادہ جامع اور متوازن انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں۔

  • 17 اکتوبر 1984 کا ٹوڑھی پھاٹک سانحہ: مکمل تاریخ اور پس منظر

    17 اکتوبر 1984 کا ٹوڑھی پھاٹک سانحہ: مکمل تاریخ اور پس منظر

    1983 کی ایم آر ڈی تحریک سے کوئی اتفاق کرتا ہو یا نہ کرتا ہو، لیکن اس تحریک میں سندھ کے لوگوں کے تاریخی غصے اور جدوجہد نے نہ صرف فوجی آمر ضیا الحق کی نیندیں حرام کر دی تھیں بلکہ عالمی سطح پر سندھ کی مزاحمت کی ایک نئی شکل بھی سامنے آئی۔

    ایم آر ڈی تحریک کے خاتمے کے بعد فوجی آمر ضیا الحق نے سندھی عوام سے بدلہ لینے کے لیے سندھ کے کور کمانڈر اور زون سی کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم عباسی کو ہٹا کر لیفٹیننٹ جنرل جہانداد خان کو پانچویں کور کا کمانڈر اور سندھ کا مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔

    اس کے کچھ عرصے بعد سندھ کے تعلیمی اداروں میں ایک سازش کے تحت طلبہ تنظیموں کے درمیان خونی لڑائیوں کا سلسلہ شروع کروا دیا گیا۔

    1983 میں شفیع محمد کرنانی جساف کے مرکزی صدر تھے۔ تاہم 1984 میں جب شفیع کرنانی کی جگہ گل محمد جکھرانی جساف کے صدر بنے تو ان کی صدارت کا دور پورے سندھ میں، خاص طور پر سندھ یونیورسٹی، ایل ایم سی جامشورو، سپیریئر سائنس کالج خیرپور، ٹیکنیکل کالج خیرپور، لطیف یونیورسٹی خیرپور، قائد عوام انجینئرنگ یونیورسٹی نواب شاہ، چانڈکا میڈیکل کالج اور ڈگری کالج لاڑکانہ میں طلبہ تنظیموں کے درمیان مسلح جھڑپوں کا دور ثابت ہوا۔

    کراچی میں 14 اگست 1984 کو سندھ میڈیکل کالج (ایس ایم سی) کے ہاسٹل میں ایک واقعہ پیش آیا۔ حکومتی ظلم و جبر کے خلاف جب سندھی طلبہ نے ہاسٹل پر سیاہ جھنڈے لہرائے تو ضیاء الحق کے حامی ایک غیر سندھی طلبہ تنظیم کے ارکان کو یہ بات پسند نہ آئی۔ 

    انہوں نے ایک منظم سازش کے تحت سندھی طلبہ پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں سندھی طالب علم حنیف میمن شہید ہو گئے۔

    اس کے بعد سندھی طلبہ کا گھیراؤ کیا گیا اور برما جیسرانی، ویرسی مل، اسلم پرویز اور بابر جمالی سمیت تقریباً ڈھائی سو طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں زیادہ تر طلبہ کو رہا کر دیا گیا، لیکن برما جیسرانی، ویرسی مل، اسلم پرویز، بابر جمالی اور دیگر طلبہ کو لانڈھی جیل بھیج دیا گیا۔ یہ طلبہ طویل عرصے تک جیل میں رہے۔

    17 اکتوبر 1984 کو ٹوڑھی پھاٹک کے واقعے سے پہلے جساف، سپاف اور بی ایس او کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کے دو طالب علم میر اشتیاق تالپور اور روپ چند بھی مارے جا چکے تھے۔

    سپاف لاڑکانہ کے ضلعی صدر صفی اللہ جوکیو کو گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا گیا تھا۔ سندھ میں سپاف اور جساف کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی تھی۔

    اسی دوران جساف کے کارکنوں نے چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں ’جشنِ لطیف‘ منانے کا اعلان کیا۔ ایک افواہ یہ بھی پھیل گئی کہ وہ سپاف کے کارکنوں سے لڑنے کے لیے آ رہے ہیں۔

    چناںچہ 17 اکتوبر 1984 کو سندھ یونیورسٹی جامشورو سے لاڑکانہ جانے کے لیے سندھ یونیورسٹی، مہران انجینئرنگ یونیورسٹی اور ایل ایم سی جامشورو کے تقریباً ڈیڑھ سو طلبہ بسوں میں سوار ہوئے۔ وہ جامشورو سے چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ جا رہے تھے۔

    جب یہ بسیں مانجھند اور کھانوٹ کے درمیان انڈس ہائی وے پر واقع ٹوڑھی پھاٹک کے پتھریلے اور ویران علاقے میں پہنچیں تو سکیورٹی فورسز نے بسوں پر فائرنگ کر دی۔

    اس فائرنگ کے نتیجے میں پانچ نوجوان شہید ہو گئے۔ ان میں عبدالمالک خشک، ذکریا میمن، امان اللہ وسطڑو، انور عباسی اور سندھ یونیورسٹی کی مرکزی کینٹین میں کام کرنے والے محنت کش مٹھو بلیدی شامل تھے۔

    اس واقعے میں کئی طلبہ زخمی ہوئے، جبکہ سو سے زیادہ طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔

    فوجی حکومت نے سندھ کے محکمہ اطلاعات کے ذریعے ایک اعلامیہ جاری کیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ حکومت کو مطلوب انتہائی خطرناک مجرموں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان مقابلے کے بعد پانچ مجرم مارے گئے ہیں۔ 

    اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ مختلف جرائم میں مطلوب گل محمد جکھرانی اور ستار موریو کو ان کے گروہ سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    اس واقعے کے خلاف پورا سندھ سراپا احتجاج بن گیا۔ سندھ کے کونے کونے میں مظاہرے کیے گئے۔ صوبے میں پہیہ جام کی تاریخی ہڑتال ہوئی۔ لاڑکانہ میں احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے جساف کے کارکن زخمی ہوئے۔

    شدید احتجاج کے نتیجے میں گرفتار کیے گئے بیشتر طلبہ کو رہا کر دیا گیا۔ تاہم ٹوڑھی پھاٹک واقعے کا مقدمہ جیئے سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن (جساف) کے رہنماؤں گل محمد جکھرانی، ڈاکٹر دودو مہیری، ستار موریو، عمرالدین زرداری، سکندر میرانی، اقبال عرف دریا خان تونیو، نظیر تونیو اور سلیمان جتوئی کے خلاف باقاعدہ طور پر مانجھند تھانے میں درج کیا گیا۔

    فوجی آمر ضیا الحق کی حکومت ٹوڑھی سانحے کے قیدیوں کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانا چاہتی تھی، لیکن سندھ میں شدید احتجاج کے بعد حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عبدالرزاق تھہیم کی سربراہی میں ایک عدالتی ٹریبونل قائم کیا۔ ٹریبونل کی ابتدائی سماعتیں حیدرآباد میں ہوئیں، جس کے بعد اس کی کارروائی کراچی میں جاری رہی۔

    مارچ 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں محمد خان جونیجو ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ ٹوڑھی مقدمے کے قیدیوں کی رہائی کے لیے قومی اسمبلی میں لیاقت علی خان جتوئی کے والد مرحوم عبدالحمید خان جتوئی، سائیں امداد محمد شاہ، قاضی شفیق مہیسَر، جنید سومرو اور سندھ سے تعلق رکھنے والے اسمبلی کے دیگر ارکان نے اہم کردار ادا کیا۔

    دسمبر 1985 میں ملک سے مارشل لا اٹھانے اور فوجی عدالتیں ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

    ٹوڑھی پھاٹک مقدمے کے قیدی طلبہ گل محمد جکھرانی، دودو مہیری، ستار موریو، عمرالدین زرداری، سکندر میرانی، دریا خان اقبال تونیو، نظیر تونیو اور سلیمان جتوئی کے خلاف اسلحے، اغوا، توڑ پھوڑ اور دیگر الزامات کے تحت مختلف مقدمات درج کیے گئے تھے۔

    ان کے مقدمات کی سماعت جسٹس عبدالرزاق تھہیم کے ٹریبونل میں ہوتی رہی۔ اس دوران گل محمد جکھرانی نے ٹریبونل میں اپنا ایک تاریخی تحریری بیان جمع کرایا، جو بعد میں ’تاریخ ہمارے ساتھ انصاف کرے گی‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہوا۔

    ٹوڑھی پھاٹک مقدمے میں گرفتار طلبہ کی پیروی کرنے والے وکلا میں ماما یوسف لغاری، عبدالحفیظ پیرزادہ، مجیب پیرزادہ، حفیظ لاکھو، سابق سینیٹر مرحوم حسین شاہ راشدی، نورالدین سرکی، نعمت اللہ قریشی، چاچا حفیظ قریشی، نورالحق قریشی، اعجاز ہکڑو اور پرویز قریشی شامل تھے۔

     17  اگست 1988 کو فوجی آمر ضیاالحق ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ 16 نومبر 1988 کو ملک میں عام انتخابات ہوئے، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔ 2 دسمبر 1988 کو محترمہ بینظیر بھٹو ملک کی وزیراعظم بنیں۔

    مارچ 1989 میں بینظیر بھٹو کی حکومت کے دور میں ٹوڑھی سانحے کے تمام قیدی ضمانت پر رہا کر دیے گئے۔

    جیل سے رہائی کے بعد ٹوڑھی پھاٹک کے قیدیوں نے پورے سندھ کا دورہ کیا۔ ہر شہر میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔

    بعد میں واقعے کی جگہ پر ٹوڑھی پھاٹک کے شہیدوں کی یاد میں ایک یادگار تعمیر کی گئی۔ تاہم اب یہ یادگار خستہ حالی کا شکار ہے۔

    ٹوڑھی پھاٹک مقدمے کے قیدیوں کا مختصر تعارف

     گل محمد جکھرانی

    گل محمد جکھرانی جساف کے کارکن سے ترقی کرتے ہوئے اس کے مرکزی صدر کے عہدے تک پہنچے۔ قوم پرست کارکن انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اس دور میں وہ بہت سے نوجوانوں کے لیے ایک مثالی شخصیت تھے۔

    ٹوڑھی پھاٹک مقدمے سے رہائی کے بعد انہوں نے جیئے سندھ سے علیحدگی اختیار کر لی اور ممتاز علی بھٹو کی سندھ نیشنل فرنٹ میں شامل ہو گئے۔ بعد میں انہوں نے اس جماعت سے بھی استعفیٰ دے دیا۔ 23 دسمبر 2007 کو انہوں نے نوڈیرو میں محترمہ بینظیر بھٹو سے ملاقات کی اور پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ 

    بعد میں وہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ان کا حلقہ کندھ کوٹ اور کشمور تھا۔ اس کے بعد وہ ضلع کونسل کندھ کوٹ اور کشمور کے چیئرمین کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی ضلع کندھ کوٹ اور کشمور کے صدر بھی ہیں۔

    ستار موریو

    ستار موریو جساف کے کارکن سے ترقی کرتے ہوئے اس کے مرکزی رہنماؤں میں شامل ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ جیل اور روپوشی میں گزارا۔

    ٹوڑھی پھاٹک واقعے کے بعد انہوں نے جیئے سندھ سے علیحدگی اختیار کر لی اور علی حیدر شاہ کے ساتھ میر مرتضیٰ بھٹو کی جماعت میں شامل ہو گئے۔ میر مرتضیٰ بھٹو کی شہادت کے بعد انہوں نے آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ 

    انہیں پیپلز پارٹی ضلع لاڑکانہ کا نائب صدر مقرر کیا گیا۔

    ستار موریو کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد چھ ستمبر 2017 کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

    ڈاکٹر دودو مہیری

    ڈاکٹر دودو مہیری طویل عرصے تک جساف سے وابستہ رہے۔ ٹوڑھی پھاٹک واقعے کے بعد انہیں بھی قید کا سامنا کرنا پڑا۔ رہائی کے بعد وہ مختلف قوم پرست جماعتوں اور گروہوں سے وابستہ رہے۔

    انہیں خفیہ اداروں نے مبینہ طور پر اٹھایا اور طویل عرصے تک لاپتا رکھا۔ وہ اپنے سیاسی سفر کے دوران ڈاکٹر قادر مگسی اور سید جلال محمود شاہ کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔ 

    2018 کے عام انتخابات کے دوران وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔

    عمرالدین زرداری

    عمرالدین زرداری دادو کے قریب ککڑ کے علاقے میں واقع گاؤں سہراب زرداری کے رہنے والے تھے۔ وہ جساف کے سرگرم رہنما تھے اور مہران انجینئرنگ یونیورسٹی جامشورو میں مکینیکل انجینئرنگ کے آخری سال کے طالب علم تھے۔

    وہ پڑھے لکھے اور نظریاتی کارکن تھے۔ قوم پرست سیاست سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ سوشلزم کے بڑے حامی بھی تھے۔ جیل میں رہتے ہوئے بھی وہ لیکچروں اور تحریروں کے ذریعے اپنی جدوجہد جاری رکھتے تھے۔ وہ ٹوڑھی پھاٹک واقعے کے قیدیوں میں شامل تھے۔

    جیل سے رہائی کے بعد وہ کچھ عرصہ خاموش رہے۔ بعد میں ذاتی تعلقات کی بنیاد پر کچھ عرصے کے لیے آصف علی زرداری کے قریب بھی رہے، لیکن انہوں نے نہ کوئی مالی فائدہ حاصل کیا اور نہ ہی پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

    زندگی کے آخری حصے میں وہ شدید بیمار ہو گئے اور اپنے گاؤں میں گوشہ نشینی کی زندگی گزارنے لگے۔ بالآخر مئی 2018 میں ان کا انتقال ہو گیا۔

    نظیر تونیو

    نظیر تونیو آج بھی سائیں جی ایم سید کے نظریے سے وابستہ ہیں، تاہم وہ عملی سیاست میں سرگرم نہیں ہیں۔ وہ اپنے شہر قمبر کے شہری اتحاد کے سرگرم رہنما ہیں اور سماجی و فلاحی کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔

    سکندر میرانی

    سکندر میرانی لاڑکانہ کے بہار پور محلے کے رہائشی ہیں۔ انہوں نے اپنی جوانی کا بیشتر حصہ جساف کے ساتھ گزارا۔ رہائی کے بعد وہ کچھ عرصے تک سیاسی طور پر سرگرم رہے، لیکن اب زیادہ فعال نہیں ہیں۔ تاہم وہ آج بھی سائیں جی ایم سید کے نظریے سے وابستہ ہیں۔

    اقبال تونیو عرف دریا خان

    اقبال تونیو، جنہیں دریا خان کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، جساف کے سرگرم رہنما تھے۔ ٹوڑھی پھاٹک مقدمے سے رہائی کے بعد وہ کافی عرصے تک سیاسی طور پر سرگرم رہے۔ بعد میں بیماری کے باعث گوشہ نشین ہو گئے۔ بالآخر ان کا انتقال ہو گیا اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

    سلیمان جتوئی

    سلیمان جتوئی کا تعلق لاڑکانہ کے قریب آباد جتوئی گاؤں سے ہے۔ وہ جساف کے مرکزی عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے مہران انجینئرنگ یونیورسٹی جامشورو سے گریجویشن کی۔

    جیل سے رہائی کے بعد انہیں محکمہ ایکسائز میں افسر مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ قبل وہ محکمہ ایکسائز سے ریٹائر ہو گئے۔ آج کل کراچی میں رہتے ہیں اور عملی سیاست میں سرگرم نہیں ہیں، تاہم نظریاتی طور پر آج بھی سائیں جی ایم سید کے فکر و فلسفے سے وابستہ ہیں۔

  • وادی سندھ کی تاریخ کے اوراق میں سنسنی خیز موڑ: تامل ناڈو سے 3,200 سال پرانے ’خفیہ کوڈز‘ کی دریافت نے دنیا کو حیران کر دیا

    وادی سندھ کی تاریخ کے اوراق میں سنسنی خیز موڑ: تامل ناڈو سے 3,200 سال پرانے ’خفیہ کوڈز‘ کی دریافت نے دنیا کو حیران کر دیا

    ایک تاریخی دھماکہ، جب مٹی کے پیالے نے خاموشی توڑ دی

    اکتوبر 2026 کی ایک خنک صبح، جب تامل ناڈو کے محکمہ آثارِ قدیمہ کی ٹیم ضلع سالم کے تاریخی علاقے میں می کنٹور ڈیم کے قریبی گاؤں تہیلونگانور میں کھدائی میں مصروف تھی، تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ مٹی کی تہوں کے نیچے چھپا ایک معمولی سا برتن برصغیر کی تاریخ کے کئی قائم شدہ نظریات کو ہلا کر رکھ دے گا۔

    زمین سے کئی فٹ نیچے، لوہے کے دور کے ایک قدیم مدفن سے کالی اور سرخ مٹی کا ایک سالم پیالہ برآمد ہوا۔ پہلی نظر میں یہ ایک عام قدیم برتن دکھائی دیتا تھا، لیکن جب اس پر جمی صدیوں پرانی مٹی کی تہوں کو ہٹایا گیا تو ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

    پیالے کی گردن پر بائیں سے دائیں ترتیب وار پانچ واضح علامتی نشانات کھرچے ہوئے تھے۔ یہ ایک ایسا طویل علامتی تسلسل تھا جو جنوبی ہند کی تاریخ میں آج تک کسی ایک برتن پر دریافت نہیں ہوا تھا۔

    یہ دریافت صرف ایک برتن کی نہیں تھی، بلکہ یہ 3,200 سال پرانے انسانوں کے ایک ایسے ’خفیہ کوڈ‘ کا سراغ تھا جو وادی سندھ کی تہذیب کے زوال اور جنوبی ہند میں تحریر کے ارتقا کے درمیان پھیلی صدیوں پرانی دھند کو صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    تھیلنگانور کا جغرافیہ: جہاں تاریخ اور معدنیات کا ملاپ ہوتا ہے

    ضلع سالم کا یہ خطہ ہمیشہ سے لوہے اور تانبے کی معدنیات کے لیے مشہور رہا ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا ماننا ہے کہ می کنٹور ڈیم کے آبی پھیلاؤ والے علاقے میں واقع تہیلونگانور قبل از مسیح ایک انتہائی متحرک انسانی بستی اور صنعتی مرکز رہا ہوگا۔

    ارضیاتی تہوں کے سائنسی تجزیے اور مٹی کی کاربن ڈیٹنگ کے ابتدائی اشاروں کے مطابق، یہ پیالہ 1600 سے 1200 قبل مسیح کے درمیانی عہد کا ہے۔ یہ وہ دور ہے جب برصغیر میں ایک طرف وادی سندھ کی عظیم شہری تہذیب دم توڑ رہی تھی اور دوسری طرف جزیرہ نما ہند میں لوہے کے دور کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔

    اس تدفینی مقام سے صرف یہ پیالہ ہی نہیں ملا، بلکہ اس کے ساتھ اعلیٰ معیار کے فولاد سے بنی ایک قدیم تلوار، دھاتی اوزار اور انسانی ہڈیوں کی باقیات بھی ملیں۔ یہ تمام اشیا گواہی دیتی ہیں کہ آج سے تین ہزار سال پہلے یہاں رہنے والے انسان دھات کاری اور ٹیکنالوجی میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔

    ’خفیہ نشانات‘ کی گتھی: سجاوٹ یا کوئی گمشدہ زبان؟

    آثارِ قدیمہ کی دنیا میں سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ کسی برتن پر بنے نشانات محض کسی کاریگر کی نقاشی یا سجاوٹ ہیں یا ان کا کوئی گہرا لسانی مقصد بھی ہے؟

    تھیلگانور کی دریافت نے اس سوال کا جواب انتہائی ٹھوس سائنسی انداز میں دیا ہے۔

    کچھ ہی فاصلے پر کی جانے والی کھدائی سے آثارِ قدیمہ کی ٹیم کو ایک اور پیالہ بھی ملا، جس پر عین یہی پانچوں علامات کندہ تھیں، لیکن ان کی ترتیب بدلی ہوئی تھی۔

    یہ وہ نکتہ تھا جس نے بین الاقوامی ماہرینِ لسانیات کو اچھلنے پر مجبور کر دیا۔ اگر یہ نشانات محض آرٹ یا سجاوٹ ہوتے تو ان کی ترتیب کو آگے پیچھے کرنے کی کوئی منطق نہیں بنتی تھی۔ حروف یا نشانات کی ترتیب بدلنا اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ یہ ایک ابتدائی نظامِ تحریر تھا، جہاں نشانات کو آگے پیچھے کرنے سے مفہوم، جملہ یا نام تبدیل ہو جاتا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے انگریزی کے حروف ’E, A, T‘ کو ترتیب بدل کر ’TEA‘ یا ’ATE‘ بنا دیا جائے تو مطلب بدل جاتا ہے۔

    یہ دریافت ثابت کرتی ہے کہ تامل ناڈو کے مشہور قدیم رسم الخط تامل برہمی کے وجود میں آنے سے بھی کئی صدیاں پہلے، یہاں کے لوگ علامات کے ذریعے پیغام رسانی کا ایک پیچیدہ نظام وضع کر چکے تھے۔

    کیا یہ نشانات وادی سندھ سے آئے تھے؟

    اس بارے میں مزید چھان بین کے دوران جب ہم نے تامل ناڈو کے محکمہ آثارِ قدیمہ کے حالیہ ڈیٹا کا جائزہ لیا تو چونکا دینے والے سائنسی حقائق سامنے آئے۔ یہاں کے محکمہ آثارِ قدیمہ نے گزشتہ چند سالوں میں ریاست کے 140 سے زائد مقامات سے ملنے والے 15,000 سے زائد گرافیٹی نشانات کا ڈیجیٹل اور کمپیوٹرائزڈ تجزیہ کیا ہے۔

    اس مطالعے کے نتائج بتاتے ہیں کہ تامل ناڈو کی مٹی پر ملنے والی 90 فیصد گرافیٹی علامات وادی سندھ کی تہذیب کے رسم الخط سے مماثلت رکھتی ہیں۔

    ماہرین نے اس تعلق کو ثابت کرنے کے لیے درج ذیل تین سائنسی طریقے اپنائے ہیں۔

    شماریاتی الگورتھم

    کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے وادی سندھ کی مہروں پر موجود نشانات کے جوڑوں کا موازنہ تہیلونگانور کی گرافیٹی سے کیا گیا۔ سائنسی شماریات سے معلوم ہوا کہ جن دو علامتوں کا ملاپ وادی سندھ میں سب سے زیادہ دیکھا گیا، وہی ملاپ تہیلونگانور کے پیالے پر بھی موجود ہے۔ یہ ریاضیاتی یکسانیت کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔

    قدیم تحریروں کا مطالعہ

    اسکیننگ مائیکروسکوپ کے ذریعے جب پیالے پر کھرچے گئے نشانات کی لکیروں اور زاویوں کا مطالعہ کیا گیا تو پتا چلا کہ لکیریں کھینچنے کے لیے اوزار پر دباؤ اور ہاتھ کی حرکت بالکل اسی طرزِ تحریر سے تعلق رکھتی ہے جو وادی سندھ میں رائج تھا۔

    قدیم اور تاریخی تحریروں، رسم الخط اور دستاویزات کے مطالعے کو قدیم تحریروں کا سائنسی مطالعہ کہا جاتا ہے۔

    پتھروں اور معدنیات کا تجزیہ

    اس خدشے کو دور کرنے کے لیے کہ کہیں یہ پیالہ وادی سندھ سے تجارت کے ذریعے تو نہیں لایا گیا تھا، پیالے کی مٹی کا کیمیائی تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے ثابت ہوا کہ مٹی سالم کے مقامی پہاڑی ندی نالوں کی ہی تھی، جس کا مطلب ہے کہ برتن تامل ناڈو کا تھا، لیکن اسے لکھنے کا علم یا فارمولا وادی سندھ کے نظریاتی ارتقا سے آیا تھا۔

    تاریخ دانوں کی دنیا میں برپا طوفان

    اس دریافت نے تاریخ دانوں اور آثارِ قدیمہ کے ماہرین کو دو دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے اور ایک نئی علمی بحث چھیڑ دی ہے۔

    بھارت کے پدم شری اعزاز یافتہ مرحوم کتبہ شناس آئیراواتھم مہادیون کی روح شاید آج سب سے زیادہ خوش ہوگی۔ انہوں نے اپنی زندگی کی مشہور تحقیق ’انڈس اسکرپٹ: ٹیکسٹس، کنکورڈنس اینڈ ٹیبلز‘ میں دعویٰ کیا تھا کہ ہڑپہ کی زبان ایک ابتدائی دراوڑی زبان تھی اور وادی سندھ کے زوال کے بعد وہاں کے لوگ اپنی تہذیب کا علمی ورثہ لے کر جنوبی ہند منتقل ہو گئے تھے۔

    ہیلونگانور کا یہ پیالہ مہادیون کے اس انڈس اور تامل تسلسل کے نظریے کا سب سے بڑا ثبوت بن کر ابھرا ہے۔

    دوسری طرف، یونیورسٹی آف پونڈیچیری کے مایہ ناز پروفیسر کے۔ راجن، جنہوں نے جنوبی ہند کی کھدائیوں پر گراں قدر کام کیا ہے، اس دریافت کو جزیرہ نما ہند کی شرحِ خواندگی سے جوڑتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے:

    ’تھیلگانور کے پیالوں پر علامات کی ترتیب کا بدلنا یہ ثابت کرتا ہے کہ لوہے کے دور کا عام تامل انسان پڑھنا لکھنا اور علامتوں کو سمجھنا جانتا تھا۔ یہ دریافت برصغیر میں تحریر کے آغاز کی تاریخ کو اشوک کے دور سے کم از کم 800 سال پیچھے لے جاتی ہے۔‘

    اسی طرح آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے سابق ڈائریکٹر جنرل بی۔ بی۔ لال نے اپنے تاریخی مقالے میں پہلے ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ نقل مکانی کی لہروں کے باعث وادی سندھ اور جنوبی ہند کی گرافیٹی میں 89 فیصد مماثلت پائی جاتی ہے۔ تہیلونگانور کا ڈیٹا ان کے اس دعوے پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے۔

    سائنسی تنازعات: کیا یہ دعویٰ سو فیصد سچ ہے؟

    ایک متوازن صحافتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس دریافت کو حتمی سچ ماننے میں ابھی کچھ سائنسی رکاوٹیں باقی ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وادی سندھ کا رسم الخط ابھی تک مکمل طور پر پڑھا نہیں جا سکا۔ جب تک ہم ہڑپہ کی مہروں پر لکھے الفاظ کا قطعی ترجمہ نہیں کر لیتے، تب تک تہیلونگانور کے پیالے پر موجود چوتھی یا پانچویں علامت کا حتمی لسانی ترجمہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

    علاوہ ازیں، وادی سندھ کے عروج، یعنی 2600 سے 1900 قبل مسیح، اور تہیلونگانور کے اس عہد، یعنی 1600 سے 1200 قبل مسیح، کے درمیان چند صدیوں کا ایک ارتقائی خلا موجود ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے درمیانی علاقوں، جیسے مہاراشٹر اور کرناٹک، میں مزید کھدائیوں کی ضرورت ہے۔

    کیا تاریخ کی کتابیں دوبارہ لکھنے کا وقت آ گیا ہے؟

    تھیلگانور، سالم سے برآمد ہونے والا یہ 3,200 سال پرانا پیالہ صرف مٹی کا ایک برتن نہیں، بلکہ ایک ٹائم مشین ہے جس نے ہمیں برصغیر کی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں شمال اور جنوب کی تفریق مٹ جاتی ہے۔

    یہ دریافت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ برصغیر کے قدیم انسانوں کا علمی، تجارتی اور لسانی نیٹ ورک ہماری سوچ سے کہیں زیادہ وسیع اور مربوط تھا۔ چاہے وہ وادی سندھ کے علاقوں کے شہری ہوں یا تامل ناڈو کے لوہے کے دور کے دھات کار، ان کے درمیان علامتوں اور خیالات کا ایک ایسا رشتہ تھا جو وقت کے بے رحم تھپیڑوں کے باوجود مٹی کے برتنوں پر زندہ رہا۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھر کی درسی کتابوں میں برصغیر کی تاریخ کے ابواب کو اس نئی سائنسی دریافت کی روشنی میں دوبارہ تحریر کیا جائے۔

  • ٹھٹہ کا سپوت، کراچی کا معمار: راؤ بہادر شیوارام دیوان مل وزیرانی کا بھولا ہوا افسانہ

    ٹھٹہ کا سپوت، کراچی کا معمار: راؤ بہادر شیوارام دیوان مل وزیرانی کا بھولا ہوا افسانہ

    آج کا کراچی، جو دو کروڑ سے زائد انسانوں کا مسکن اور پاکستان کا معاشی انجن ہے، اپنی شناخت کی تہوں میں ان گنت ایسی شخصیات کی تاریخ چھپائے ہوئے ہے جن کا پسینہ اور وژن اس شہر کی بنیادوں میں گارا بن کر لگا۔ 

    نوآبادیاتی دور، یعنی برطانوی راج، کا کراچی محض چند ملاحوں اور مچھیروں کی بستی سے نکل کر ایک جدید، منظم اور خوب صورت پورٹ سٹی میں تبدیل ہو رہا تھا تو اس کے پیچھے کچھ ایسے مخلص عوامی خادموں کا دماغ کام کر رہا تھا جن کا کوئی ذاتی سیاسی ایجنڈا نہیں، بلکہ صرف شہری ترقی کا خواب تھا۔

    ان چمکتے ہوئے ناموں میں سے ایک نام راؤ بہادر شیوارام دیوان مل وزیرانی کا ہے، ایک ایسی کثیرالجہت شخصیت جو بیک وقت ایک کامیاب تاجر، دوراندیش تعلیمی بانی، روادار سیاست دان اور کراچی و لوئر سندھ کی بلدیاتی ترقی کے روحِ رواں تھے۔

    عام طور پر تاریخ کے صفحات میں نوآبادیاتی دور کے صرف چند بڑے ناموں، جیسے جمشید نسروانجی یا سر کاؤس جی کٹرک، کا تذکرہ ملتا ہے، لیکن راؤ بہادر شیوارام دیوان مل وہ خاموش معمار تھے جن کا کام کراچی کی سڑکوں، اسکولوں، ہسپتالوں اور یہاں تک کہ سجاول اور ٹھٹہ کے دریاؤں کے پانیوں پر بھی کندہ رہا۔

    ٹھٹہ سے کراچی تک: ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

    شیوارام دیوان مل وزیرانی 17 ستمبر 1883 کو سندھ کے تاریخی اور علمی شہر ٹھٹہ میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک ایسے سندھی ہندو خاندان کے چشم و چراغ تھے جو خطے میں اپنی وسیع زمیندارانہ جائیدادوں اور بااثر تجارتی ساکھ کی وجہ سے مقتدر مانا جاتا تھا۔

    برطانوی ہند کے اس دور میں ٹھٹہ اگرچہ اپنی قدیم شان و شوکت کھو چکا تھا، لیکن اس کی مٹی کی علمی زرخیزی برقرار تھی۔ شیوارام نے اسی ماحول میں پرورش پائی اور ان کی ابتدائی تربیت میں زمیندارانہ سخاوت اور کاروباری نظم و ضبط دونوں شامل ہو گئے۔

    انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں جب کراچی سندھ کا ابھرتا ہوا تجارتی مرکز بن رہا تھا تو شیوارام دیوان مل نے بھی ٹھٹہ کے بعد کراچی کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ تاریخی سوانحی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ وہ محض ایک نجی تاجر یا زمیندار بن کر مطمئن نہیں رہے، بلکہ انھوں نے اپنی خاندانی دولت اور اثر و رسوخ کو عوامی خدمت کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔

    عوامی سفر کا آغاز: ایک نوجوان کونسلر کی آمد

    بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی شیوارام کے عوامی کیریئر کا ایک ایسا سفر شروع ہوا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ان کی عمر محض 23 برس تھی جب 1906 میں انھیں کراچی میونسپلٹی کا میونسپل کونسلر نامزد کیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب بلدیہ میں شامل ہونا محض ایک اعزاز نہیں، بلکہ شہر کی تعمیر کی ایک کڑی ذمہ داری تھی۔

    ان کی انتظامی صلاحیتوں کا اندازہ لگا کر برطانوی انتظامیہ نے 1909 میں انھیں کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کا رکن بنایا اور 1911 میں وہ اعزازی مجسٹریٹ مقرر ہوئے۔ بعد ازاں، ان کی دیانت اور انصاف پسندی کو دیکھتے ہوئے انھیں اسپیشل فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کا درجہ دیا گیا اور وہ کراچی ضلع کے لیے جسٹس آف دی پیس کے طور پر پہچانے جانے لگے۔

    یہ وہ عہدے تھے جہاں اس دور میں ایک مقامی باشندے کا پہنچنا اس کی غیر معمولی قابلیت اور غیر متنازع کردار کی دلیل ہوتا تھا۔

    مسلم اکثریتی حلقے کا ہندو صدر: رواداری کی روشن مثال

    راؤ بہادر شیوارام دیوان مل کی سیاسی اور سماجی زندگی کا سب سے درخشاں اور حیرت انگیز باب ان کا کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کا صدر منتخب ہونا تھا۔ وہ اس بورڈ کے پہلے منتخب غیر سرکاری صدر بنے اور انھوں نے 1920 سے 1928 تک اس عہدے پر کام کیا۔

    اس انتخاب کی سب سے منفرد بات یہ تھی کہ اس دور کے سرکاری اور سوانحی مواد کے مطابق، یہ انتخابی حلقہ بنیادی طور پر محمڈن، یعنی مسلم اکثریتی، تھا۔ ایک ایسے دور میں جب برطانوی ہند میں مذہبی بنیادوں پر سیاست جڑیں پکڑ رہی تھی، ایک سندھی ہندو رہنما کا مسلم اکثریتی حلقے سے بلا مقابلہ یا بھاری اکثریت سے بار بار منتخب ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ سندھ کی مٹی صوفیانہ رواداری اور مروت سے گندھی ہوئی تھی۔ 

    شیوارام دیوان مل نے مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر دیہی اور شہری عوام کی خدمت کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مسلم ووٹرز اور عمائدین نے ان پر اپنی قیادت کا پورا اعتماد برقرار رکھا۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا، بلکہ یکم اپریل 1937 سے شروع ہونے والی اگلی تین سالہ مدت کے لیے بھی وہ دوبارہ اس بورڈ کے صدر منتخب ہوئے۔

    تعلیمی انقلاب اور خواتین کی صحت کے لیے جدوجہد

    شیوارام دیوان مل کا وژن محض سڑکیں اور عمارتیں بنانے تک محدود نہیں تھا۔ وہ جانتے تھے کہ کسی بھی معاشرے کی اصل ترقی تعلیم اور صحت کے بغیر ناممکن ہے۔

    کراچی میونسپل اسکول بورڈ (1927 تا 1930)

    جب وہ اس بورڈ کے چیئرمین بنے تو انھوں نے کراچی کے گلی کوچوں میں پرائمری تعلیم کے جال کو پھیلایا۔ انھوں نے اسکولوں کے نصاب، اساتذہ کی تربیت اور غریب بچوں کے لیے تعلیمی وظائف پر خصوصی توجہ دی۔ 

    اس کے علاوہ وہ مشہور ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کے بورڈ کے انتظام سے بھی گہرائی سے وابستہ رہے، جو اس وقت پورے سندھ میں اعلیٰ تعلیم کا ایک بڑا مرکز تھا۔

    لوئیس لارنس انسٹی ٹیوٹ

    نوآبادیاتی دور میں خواتین کی طبی تعلیم اور ان کے علاج معالجے کی سہولیات ناپید تھیں۔ شیوارام دیوان مل نے سندھ کے ایڈیشنل جوڈیشل کمشنر ایچ این کراؤچ کے ساتھ مل کر کراچی میں لوئیس لارنس انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی۔ تاریخی آرکائیوز کی ایک اہم دستاویز، یعنی 1918 کی نیشنل ایسوسی ایشن فار سپلائینگ فیمیل میڈیکل ایڈ ٹو دی ویمن آف انڈیا کی سالانہ رپورٹ، اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ شیوارام نے اس انسٹی ٹیوٹ کی سالانہ رپورٹ اور مالیاتی کھاتوں کی منظوری کی خود تائید کی تھی۔ 

    یہ اس بات کا تاریخی ثبوت ہے کہ وہ خواتین کو طبی شعبے میں آگے لانے کے لیے کس قدر متحرک تھے۔

    لیڈی فیلس لوئیس لارنس اس دور کے کلکٹر کراچی کی اہلیہ تھیں۔ انھوں نے سندھی خواتین کی تعلیم اور صحت کے لیے جدوجہد کی تھی۔ کراچی کے لیڈی ڈفرن ہسپتال میں کاوسجی اسکول آف مڈوائفری دراصل فیلس لوئیس لارنس انسٹی ٹیوٹ ہی کا تسلسل ہے، جو 1912 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا نام بھی انھی کے نام پر رکھا گیا تھا۔

    ایک وسیع و عریض بلدیاتی نیٹ ورک

    اگر ہم ان اداروں کی فہرست دیکھیں جن سے شیوارام دیوان مل وابستہ تھے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کراچی اور لوئر سندھ کا کوئی بھی ایسا شعبہ نہیں تھا جہاں ان کی خدمات نہ ہوں۔ ان اداروں میں درج ذیل شامل تھے:

    کراچی پورٹ ٹرسٹ: وہ کے پی ٹی کے بورڈ کے اہم رکن رہے، جہاں انھوں نے کراچی بندرگاہ کی توسیعی مہم میں حصہ لیا۔

    شہری خوب صورتی: 1926 میں وہ میونسپل گارڈنز اور چڑیا گھر کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ کراچی کے گاندھی گارڈن، جو اب چڑیا گھر کہلاتا ہے، اور دیگر پارکوں کی ہریالی انھی کے دورِ صدارت کی مرہونِ منت تھی۔

    صحت اور فلاحِ عامہ: وہ انڈین ریڈ کراس سوسائٹی کی سندھ پرووینشل برانچ کے اعزازی خزانچی رہے اور انھوں نے کراچی سول ہسپتال ایڈ اینڈ نرسنگ ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر غریب مریضوں کے لیے مفت ادویات اور نرسنگ کی سہولیات فراہم کیں۔

    سماجی اور تجارتی روابط: وہ کراچی کلب کے صدر، سندھ آبزرور اینڈ مرکنٹائل اسٹیم پریس لمیٹڈ کے ڈائریکٹر اور آر جی ایم ہندو جمخانہ کے اعزازی خزانچی بھی رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کراچی جیل کے غیر سرکاری معائنہ کار بھی تھے، جہاں وہ قیدیوں کے انسانی حقوق اور ان کی اصلاح کے لیے کام کرتے تھے۔

    برطانوی تاج کے اعزازات: راؤ صاحب سے راؤ بہادر تک

    ان کی بے لوث خدمات کے اعتراف میں نوآبادیاتی حکومت نے انھیں وقت کے ساتھ ساتھ بڑے اعزازات سے نوازا۔

    1921 میں انھیں راؤ صاحب کا خطاب ملا۔

    1927 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں راؤ بہادر کے اعلیٰ شہری خطاب سے سرفراز کیا گیا۔

    1935 میں انھیں برطانوی بادشاہ کا کنگز سلور جوبلی میڈل دیا گیا۔

    لیکن ان تمام سرکاری اعزازات سے بڑھ کر شیوارام کے لیے اصل اعزاز حکومت کے یہ تمغے نہیں، بلکہ عوام کے دلوں میں ان کی محبت تھی۔

    دریا کا اسٹیمر اور شہر کی سڑک: جغرافیائی ورثہ

    راؤ بہادر شیوارام کی خدمات کا ایک خوب صورت اعتراف دیہی سندھ میں بھی کیا گیا۔ ان کے دور میں ٹھٹہ اور سجاول کے درمیان دریائے سندھ کو عبور کرنا ایک مشکل ترین مرحلہ تھا۔ انھوں نے اس روٹ پر عوامی نقل و حمل کو منظم کیا۔ 

    ان کی خدمات کے صلے میں کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ نے ٹھٹہ اور سجاول کے درمیان چلنے والے ایک مسافر فیری اسٹیمر کا نام شیوارام دیوان مل فیری رکھا۔ بعد کی دستاویزات میں ایک باقاعدہ فیری کمیٹی کا ذکر بھی ملتا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ان کا نام اس خطے میں سفری سہولت کی علامت بن چکا تھا۔

    اسی طرح کراچی کے شہری جغرافیے میں بھی ان کی یاد کو محفوظ کر دیا گیا۔ نوآبادیاتی دور کی ڈائریکٹریز کے مطابق، کراچی کے اولڈ ٹاؤن اور صدر کے کاروباری علاقے کے قریب ایک اہم سڑک کا نام شیوارام دیوان مل روڈ رکھا گیا۔ 

    یہ سڑک آج بھی بوہری پیر، کراچی کی تجارتی زندگی کا حصہ ہے، جہاں روزانہ ہزاروں لوگ گزرتے ہیں، اگرچہ اب بہت کم لوگ اس نام کے پیچھے چھپی شخصیت سے واقف ہیں۔

    تقسیمِ ہند اور آخری ایام: مٹی سے وفاداری

    1947 میں جب تقسیمِ ہند کا تاریخی اور خونی سانحہ رونما ہوا تو سندھ کے لاکھوں ہندو خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر بھارت ہجرت کر گئے۔ لیکن راؤ بہادر شیوارام دیوان مل وزیرانی کا دل اسی مٹی کے لیے دھڑکتا تھا۔ انھوں نے ہجرت کی تلخی پر اپنے وطن کی محبت کو ترجیح دی اور کراچی ہی میں قیام کا فیصلہ کیا۔ وہ تقسیم کے بعد بھی اسی شہر میں رہے جسے انھوں نے اپنے ہاتھوں سے سنوارا تھا۔

    28 اکتوبر 1958 کو کراچی ہی میں اس معمار نے اپنی آخری سانسیں لیں اور ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے۔

    تاریخ کا قرض

    راؤ بہادر شیوارام دیوان مل وزیرانی محض ایک تاجر یا جاگیردار نہیں تھے جنھیں مقتدر حلقوں نے ایک خطاب دے دیا ہو۔ وہ جدید سندھ اور خاص طور پر کراچی کی ادارہ جاتی اور شہری ترقی کے ایک متحرک ستون تھے۔ ٹھٹہ میں جنم لینے والے اس سندھی ہندو رہنما نے اپنی پوری زندگی ایک ایسی متنوع آبادی کی خدمت میں گزار دی جو مذہبی اور سماجی طور پر منقسم تھی، لیکن ان کے وژن میں سب کے لیے برابری تھی۔

    آج جب ہم کراچی کی سڑکوں پر چلتے ہیں یا ٹھٹہ اور سجاول کے راستوں کو دیکھتے ہیں تو راؤ بہادر شیوارام جیسے معماروں کی یاد کو تازہ کرنا ہمارا اخلاقی اور تاریخی فرض بن جاتا ہے۔ وہ سندھ کے اس روادار، باشعور اور ترقی پسند ماضی کا چہرہ ہیں جسے آنے والی نسلوں کے سامنے لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

  • برنس گارڈن: کراچی کے مالیاتی مرکز کے بیچ تاریخی سبزہ زار

    برنس گارڈن: کراچی کے مالیاتی مرکز کے بیچ تاریخی سبزہ زار

    کراچی کے مصروف ترین کاروباری علاقے میں، جہاں دن بھر ٹریفک، گاڑیوں کے شور اور لوگوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے، وہیں ایک ایسا تاریخی سبزہ زار بھی موجود ہے جہاں داخل ہوتے ہی شہری ماحول کا شور کچھ دیر کے لیے پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

    ڈاکٹر ضیاء الدین احمد روڈ پر واقع برنس گارڈن کراچی کے مرکزی علاقے کا ایک اہم تاریخی شہری باغ ہے۔ اس کے قریب ہی آئی آئی چندریگر روڈ واقع ہے، جو ملک کے اہم مالیاتی اور کاروباری مراکز میں شمار ہوتی ہے اور عام طور پر ‘پاکستان کی وال اسٹریٹ’ بھی کہلاتی ہے۔

    برنس گارڈن کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کا قومی عجائب گھر بھی اسی باغ کے اندر قائم ہے۔ یوں ایک ہی مقام پر کراچی کی شہری تاریخ، پاکستان کا تہذیبی ورثہ اور ایک تاریخی شہری سبزہ زار ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

    1927 میں قائم ہونے والے اس باغ کا رقبہ ساڑھے چودہ ایکڑ ہے۔ برنس گارڈن میں موجود پرانے اور بڑے درخت اس کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں۔

    یہاں مختلف اقسام کے درخت موجود ہیں، جن میں جنگلی جلیبی، نیم، لگنم، برگد، پیپل، املتاس اور برنا شامل ہیں، جبکہ پھل دار درختوں میں املی، آم، بادام اور امرود بھی پائے جاتے ہیں۔

    باغ میں شجرکاری کا سلسلہ بھی مختلف ادوار میں جاری رہا۔ 2022 میں ایک شہری شجرکاری مہم کے دوران یہاں سو سے زیادہ پودے لگائے گئے، جن میں بیری، املی، شریفہ، آم اور کھجور شامل تھے۔ 2023 میں بھی مزید دو سو سے زیادہ درخت لگائے گئے، جن میں جامن، املی اور کھجور کے درخت شامل تھے۔

    برنس گارڈن کے بڑے درخت اور گھنا سبزہ اس باغ کو کراچی کے مرکزی کاروباری علاقے میں خاص اہمیت دیتے ہیں، جہاں اردگرد زیادہ تر عمارتیں، دفاتر، سڑکیں اور تجارتی سرگرمیاں موجود ہیں۔

    باغ میں شہریوں کے لیے بیٹھنے اور چہل قدمی کی سہولت بھی موجود ہے۔ تزئین و آرائش کے بعد پیدل چلنے اور جاگنگ کے ٹریک بنائے گئے، بچوں کے لیے لان تیار کیا گیا جبکہ خواتین کے لیے ایک ڈھکا ہوا حصہ بھی مختص کیا گیا۔

    تاہم برنس گارڈن کو اپنے موجودہ مقام تک پہنچنے کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہوا۔

    ایک عرصے تک یہ باغ عوام کے لیے بند رہا اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کی حالت بھی متاثر ہوئی۔ فروری 2022 میں تزئین و آرائش کے بعد اسے دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ اس دوران نئے داخلی دروازے بھی قائم کیے گئے، جبکہ آئی آئی چندریگر روڈ کی جانب سے آنے والوں کے لیے بھی نیا داخلی راستہ بنایا گیا۔

    برنس گارڈن کی اہمیت صرف اس کے رقبے یا درختوں تک محدود نہیں۔

    ایک طرف چند قدم کے فاصلے پر ملک کا اہم مالیاتی اور تجارتی مرکز ہے، جہاں بینک، مالیاتی ادارے اور کاروباری دفاتر موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف یہی باغ شہریوں کو درختوں، لان اور پیدل راستوں پر مشتمل ایک نسبتاً پرسکون ماحول فراہم کرتا ہے۔

    قومی عجائب گھر کی موجودگی اس مقام کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت میں مزید اضافہ کرتی ہے۔

    برنس گارڈن اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ بڑے شہر صرف سڑکوں، بلند عمارتوں اور کاروباری مراکز سے نہیں بنتے۔ شہری زندگی کے لیے ایسے سبز مقامات بھی ضروری ہیں جہاں لوگ کچھ دیر بیٹھ سکیں، پیدل چل سکیں، درختوں کے سائے میں وقت گزار سکیں اور مسلسل شہری شور سے مختصر وقفہ حاصل کر سکیں۔

    کراچی جیسے تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر میں، جہاں کھلی جگہیں اور بڑے درخت مسلسل شہری دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، مرکزی علاقے میں موجود برنس گارڈن محض ایک تفریحی مقام نہیں بلکہ شہر کے شہری، تاریخی اور ماحولیاتی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے۔

  • سلاخوں کے پیچھے تاریخ: کراچی کی نوآبادیاتی جیلیں، معماری کے شاہکار اور جبر کی داستاں

    سلاخوں کے پیچھے تاریخ: کراچی کی نوآبادیاتی جیلیں، معماری کے شاہکار اور جبر کی داستاں

    کراچی کی تاریخ صرف اس کی بندرگاہ، تجارتی شاہراہوں یا وکٹورین طرز کی عمارتوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس شہر کی شاندار عمارتوں کے سائے تلے نوآبادیاتی جبر، سیاسی اسارت اور انسانی حقوق کی پامالی کی ایک طویل داستاں بھی دفن ہے۔

    1843 میں جب چارلس نیپیئر نے سندھ پر برطانوی پرچم لہرایا، تو اس نے اس نوزائیدہ ساحلی شہر میں دو چیزوں کی بنیاد رکھی، ایک پولیس کا جدید فریم ورک اور دوسرا قید خانوں کا جال۔ برطانوی راج کے لیے جیلیں محض قانون کی پاسداری کا ذریعہ نہیں تھیں، بلکہ یہ مقامی آبادی میں ہیبت قائم کرنے اور نوآبادیاتی تسلط کو مستحکم رکھنے کے معمارانہ اور انتظامی اوزار تھے۔

    کراچی کے قید خانے: تعمیراتی ارتقا اور خاکہ

    برطانوی حکومت نے کراچی اور اس کے مضافات میں بنیادی طور پر تین اہم اور باقاعدہ جیل خانے قائم کیے، جو اپنے مقصد اور معمارانہ ضرورت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے منفرد تھے:

    کراچی گاؤل / ڈسٹرکٹ جیل (1848)

    بندر روڈ کے بالکل اختتام سے کچھ آگے قائم ہونے والا یہ کراچی کا پہلا باقاعدہ قید خانہ تھا۔ ابتدا میں یہ معمولی بیرکوں پر مشتمل تھا، لیکن 19ویں صدی کے اختتام پر جب بمبئی پریزیڈنسی نے قیدیوں کی بڑھتی تعداد دیکھی تو 1899 سے 1906 کے دوران اسے وسعت دے کر جدید سینٹرل جیل کراچی کی شکل دی گئی۔ گاؤل انگریزی کا وہ لفظ ہے جو جیل کا پرانا یا برطانوی ہجے ہے۔

    کراچی جووینائل اینڈ ریمانڈ ہوم (1930 کی دہائی)

    نابالغ اور کم عمر قیدیوں کی اصلاح کے نام پر سینٹرل جیل کے احاطے سے متصل ایک علیحدہ مرکز قائم کیا گیا۔ یہ بمبئی چلڈرن ایکٹ اور بعد ازاں سندھ بورسٹل اسکولز ایکٹ کے تحت بنایا گیا، تاکہ کم عمر مجرموں کو معاشرتی و حرفتی تربیت دی جا سکے، اگرچہ عملی طور پر یہاں بھی سخت ڈسپلن اور تنہائی کے اصول لاگو تھے۔

    منوڑا ڈیٹینشن کیمپ

    ساحل سے دور جزیرہ منوڑا پر قائم یہ ملٹری قید خانہ برطانوی بحریہ اور فوج کی چھاؤنی کا حصہ تھا۔ یہاں بالخصوص جنگِ عظیم اول اور دوم کے دوران فوجی باغیوں، ملٹری قیدیوں اور غیر ملکی جنگی اسیروں کو کڑی نظربندی میں رکھا جاتا تھا۔

    ان کے علاوہ، صدر اور کیماڑی پورٹ میں دو ذیلی جوڈیشل لاک اپس بھی قائم تھے، جہاں کسٹمز، اسمگلنگ اور عدالتی پیشیوں کے ملزمان کو عارضی طور پر رکھا جاتا تھا۔

    سینٹرل جیل کراچی، وکٹورین جلال اور پینوپٹیکن طرزِ تعمیر

    کراچی کی تمام جیلوں میں معمارانہ اور تاریخی اعتبار سے سب سے نمایاں سینٹرل جیل کراچی ہے۔ تقریباً 90 ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلی یہ عمارت نوآبادیاتی دور کے اس فلسفے کو مجسم کرتی ہے جس میں عمارت کا بیرونی روپ شاہانہ اور اندرونی ساخت خوف اور نگرانی پر مبنی ہوتی تھی۔

    گیزری پتھر اور وکٹورین شکوہ

    سینٹرل جیل کا مرکزی گیٹ اور اس سے جڑی بلند فصیلیں کراچی کے مقامی پیلے گیزری پتھر اور سرخ اینٹوں کے امتزاج سے تیار کی گئی ہیں۔ یہ وہی سنگِ مرمر اور اینٹیں ہیں جو کئی اور عمارات کی تعمیر میں استعمال ہوئیں۔ اس گیزری پتھر کی شاندار محرابیں اور نگرانی کے برج دور سے دیکھنے والے پر ریاست کے اٹل اور غیر متزلزل اقتدار کی دھاک بٹھاتے تھے۔

    پینوپٹیکن نقشہ

    عمارت کا اندرونی ڈھانچا انگریزی فلسفی جیرمی بینتھم کے مشہور معمارانہ نظریے پینوپٹیکن پر مبنی تھا۔ جیل کے بالکل مرکز میں ایک دائرہ نما مرکزی کنٹرول ٹاور بنایا گیا، جہاں سے گول دائرے یا شعاعوں کی طرح پھیلی ہوئی بیرکوں اور گلیاروں پر ایک ساتھ نظر رکھی جا سکتی تھی۔ قیدیوں کو یہ احساس دلایا جاتا کہ مرکزی ٹاور سے انہیں ہر لمحہ دیکھا جا رہا ہے، چاہے ٹاور میں کوئی موجود ہو یا نہ ہو۔ یہ معمارانہ ڈھانچا قیدیوں کو نفسیاتی طور پر مغلوب رکھنے کا شاطرانہ ذریعہ تھا۔

    قانون کی آڑ میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں

    کاغذوں پر انگریزوں نے ‘بمبئی جیل مینوئل’ مرتب کر رکھا تھا، جس میں قیدیوں کے لیے راشن، کپڑے اور طبی معائنہ درج تھا، مگر عملی طور پر نوآبادیاتی جیلیں انسانی حقوق کی شدید اور منظم خلاف ورزیوں کا اڈہ تھیں۔

    مشقتِ شاقہ اور جسمانی اذیت

    قیدیوں سے انسانی صلاحیت سے زیادہ مشقت لی جاتی تھی۔ گرمی اور شدید حبس کے ماحول میں کوہلو چلوا کر تیل نکالنا، سنگلاخ پتھر توڑنا اور جُوٹ کی بوریاں بُننا روز کا معمول تھا۔ ذرا سی سستی پر ‘کاٹھ’ میں پاؤں جکڑ کر برہنہ پیٹھ پر چمڑے کے کوڑے مارے جاتے تھے۔

    نسلی اور طبقاتی تفریق

    انگریز سرکار نے قید خانوں کو بھی نسل پرستی کی بنیاد پر تقسیم کر رکھا تھا۔ سفید فام یورپی قیدیوں کے لیے ہوادار سیل، اعلیٰ خوراک، چائے اور بستر کی سہولت میسر تھی، جبکہ مقامی ہندوستانی، سندھی اور بلوچ قیدیوں کو حبس زدہ اور انتہائی گندے ہالوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونس دیا جاتا تھا۔

    وبائی بیماریاں اور طبی غفلت

    کراچی کی ساحلی نمی، صفائی کے فقدان اور ناکافی طبی سہولیات کے باعث سینٹرل جیل میں ہیضہ، ملیریا اور تپِ دق وبائی صورت اختیار کر جاتے تھے۔ بیسیوں قیدی علاج کی عدم دستیابی کے باعث اپنی سزائیں پوری ہونے سے پہلے ہی جان کی بازی ہار جاتے تھے۔

    حریت پسند، صحافی اور آزادی کے اسیر

    کراچی کی جیلوں کی دیواریں صرف مجرموں کی شاہد نہیں ہیں، بلکہ برصغیر کی آزادی کی تحریکوں کا عکس بھی ان میں قید رہا ہے۔

    1857 کے سرفروش

    ستمبر 1857 میں جب 21ویں نیٹو انفنٹری کے مقامی سپاہیوں نے کراچی میں بغاوت کا علم بلند کیا، تو انہیں گرفتار کر کے کراچی گاؤل میں رکھا گیا اور بعد میں صدر کے علاقے میں توپوں کے سامنے باندھ کر اڑا دیا گیا۔

    کراچی سازش کیس (1921)

    خالق دینا ہال میں انگریز فوج کی ملازمت کو حرام قرار دینے کی تاریخی قرارداد کے بعد تحریکِ خلافت کے سرکردہ رہنماؤں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا حسین احمد مدنی اور ڈاکٹر سیف الدین کچلو کو گرفتار کر کے سینٹرل جیل کراچی کے پینوپٹیکن بلاکس میں رکھا گیا۔ سیف الدین کچلو نے مارچ 1919 میں برطانوی حکومت کے کالے قانون ‘رولٹ ایکٹ’ کے خلاف زبردست تحریک چلائی۔ 10 اپریل 1919 کو ڈاکٹر ستیا پال کے ساتھ انگریز حکومت نے انہیں گرفتار کیا۔ ان گرفتاریوں کے خلاف امرتسر میں پرامن احتجاج پر جلیانوالہ باغ کا قتل عام جیسا دلخراش سانحہ پیش آیا۔

    صحافیوں اور ایڈیٹرز پر سنسرشپ

    1930 اور 1940 کی دہائیوں میں ‘ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ’ کے جابرانہ استعمال کے تحت روزنامہ ‘الوحید’ کے ایڈیٹر شیخ عبدالمجید سندھی، قاضی عبدالرحمٰن اور متعدد سندھی و اردو اخبارات کے صحافیوں کو پری سنسرشپ کی خلاف ورزی پر اسی جیل کے سیاسی وارڈز میں قید کیا گیا۔

    حر تحریک، ‘حر لورز’ اور پیر پگاڑا کی شہادت

    کراچی کی نوآبادیاتی تاریخ کا سب سے خونی اور دردناک باب حر تحریک (1940–1943) کو کچلنا اور اس کے بعد کا انسانی بحران ہے۔ انگریزوں نے 1942 میں سندھ میں مارشل لا نافذ کر کے پوری حر قومیت کو کریمنل ٹرائبز ایکٹ کے تحت ‘مجرم پیشہ’ قرار دے دیا۔

    حر لورز

    انگریز حکومت نے یورپ کے نازی کیمپوں کی طرز پر سانگھڑ، نواب شاہ، حیدرآباد اور سکھر کے اطراف کانٹے دار تاروں سے محصور گاؤں قائم کیے جنہیں ‘حر لورز’ کہا جاتا تھا۔ یہاں حروں کے پورے کے پورے خاندانوں، خواتین، شیر خوار بچوں اور بزرگوں کو جلاوطن کر کے قید کیا گیا۔ دن میں تین بار حاضری، بھوک، سخت بیماریاں اور بنیادی انسانی آزادیوں کی مکمل سلبی نے ان کیمپوں کو انسانوں کی سلاخوں کے بغیر جیل بنا دیا تھا۔

    سورھیہ بادشاہ کی قید اور حیدرآباد جیل میں شہادت

    حر تحریک کے سرفروش گوریلوں کو سکھر اور کراچی کے سخت حراستی بلاکس میں رکھا گیا، جبکہ حریت پسند رہنما پیر صبغت اللہ شاہ راشدی، سورھیہ بادشاہ، پر انگریز سرکار نے بغاوت کے الزامات کے تحت ملٹری کورٹ کے ذریعے سزائے موت مقرر کی۔

    بالآخر 20 مارچ 1943، بمطابق 14 ربیع الاول 1362 ہجری، کو فجر کے وقت سینٹرل جیل حیدرآباد میں فقط 35 سال کی عمر میں آپ کو پھانسی دے دی گئی۔ برطانوی حکومت حروں کے ممکنہ ردِعمل اور مزار بننے کے خوف سے اتنی خائف تھی کہ پیر صاحب کی میت کو بھی گمنام مقام پر سپردِ خاک کر دیا گیا، جس کا سراغ آج تک افشا نہ ہو سکا۔

    خلاصہ کلام یہ کہ کراچی کی نوآبادیاتی جیلیں صرف پیلے گیزری پتھروں سے چنی گئی عمارات نہیں ہیں، بلکہ یہ برطانوی ہند کی اس متضاد پالیسی کا عکس ہیں جہاں ایک طرف جدید قانونی فریم ورک اور طرزِ تعمیر کا مظاہرہ کیا گیا، تو دوسری طرف اسی خوبصورت عمارت کے اندر انسانی حقوق، آزادیِ اظہار اور انسانی وقار کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    سینٹرل جیل کراچی کے بلند برج اور دُہری فصیلیں آج بھی اس دورِ جبر اور ان سرفروشوں کی خاموش گواہ ہیں جنہوں نے ان تاریک کوٹھڑیوں میں آزادی کے خواب دیکھے اور ان کی تعبیر کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔