پاکستان کی عدالتی تاریخ صرف قانونی فیصلوں کی تاریخ نہیں بلکہ اقتدار، فوج، سیاست، آئین اور ریاستی طاقت کی ایک ایسی کہانی ہے جہاں بعض مقدمات اتنے عجیب، متنازع اور غیر معمولی رہے کہ انہوں نے پورے ملک کی سمت بدل دی۔
کچھ فیصلے ایسے تھے جن میں عدالت نے آمریت کو قانونی تحفظ دیا، کچھ میں منتخب وزرائے اعظم کو برطرف کیا گیا، جبکہ کچھ مقدمات میں چند منٹ کی پارلیمانی کارروائی نے پورے ملک کو آئینی بحران میں دھکیل دیا۔
پاکستان کے عجیب ترین عدالتی مقدمات میں سب سے پہلے 1954 کا مولوی تمیز الدین کیس آتا ہے۔ اُس وقت پاکستان ابھی نیا ملک تھا اور آئین سازی جاری تھی۔ گورنر جنرل غلام محمد نے اچانک دستور ساز اسمبلی توڑ دی۔ یہ وہ اسمبلی تھی جو پاکستان کا آئین بنا رہی تھی۔ اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین خان عدالت پہنچے اور مؤقف اختیار کیا کہ گورنر جنرل کو اسمبلی توڑنے کا اختیار نہیں۔
سندھ چیف کورٹ (برطانوی دور میں ہائی کورٹ کے لیے استعمال ہونے والا لفظ) نے اسمبلی کے حق میں فیصلہ دیا اور کہا کہ اسمبلی بحال ہونی چاہیے۔ مگر بعد میں وفاقی عدالت کے چیف جسٹس محمد منیر نے فیصلہ بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی ضرورت کے تحت گورنر جنرل کا اقدام درست تھا۔ اسی فیصلے سے ‘نظریہ ضرورت’ پیدا ہوا، جس نے بعد میں پاکستان کی تاریخ میں بار بار مارشل لاز کو قانونی جواز دیا۔
عدلیہ کی جانب سے ‘نظریہ ضرورت’ کے تحت دیے جانے والے فیصلے نے آنے والے سالوں میں ملک کی تاریخ کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ کئی قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر اُس دن عدالت اسمبلی بحال رکھتی تو شاید پاکستان میں جمہوریت کی تاریخ مختلف ہوتی۔
اس کے بعد 1977 کا نصرت بھٹو کیس آیا۔ جنرل ضیا الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا نافذ کردیا۔ آئین معطل ہوگیا، سیاسی رہنما گرفتار ہوئے اور ملک فوجی حکومت کے نیچے آگیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ نصرت بھٹو سپریم کورٹ پہنچیں۔
سوال یہ تھا کہ کیا فوج آئین توڑ سکتی ہے؟ عدالت نے ایک بار پھر ‘نظریہ ضرورت’ استعمال کیا اور کہا کہ غیر معمولی حالات میں فوجی اقدام جائز ہوسکتا ہے۔ عدالت نے ضیا الحق کو انتخابات کرانے کی شرط کے ساتھ وقتی اختیار دے دیا، مگر یہی وقتی اختیار گیارہ سالہ آمریت میں بدل گیا۔ بعد میں ناقدین نے کہا کہ عدالت نے آئین کے بجائے طاقت کے سامنے سر جھکا دیا تھا۔
پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے متنازع اور پراسرار مقدمہ ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس تھا۔ 1974 میں اپوزیشن رہنما احمد رضا قصوری پر حملہ ہوا جس میں ان کے والد نواب محمد احمد خان مارے گئے۔ بعد میں الزام لگا کہ حملے کے پیچھے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے۔
فوجی حکومت نے بھٹو کو گرفتار کرلیا۔ لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ چلا، جہاں چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین نے انہیں سزائے موت سنائی۔ بھٹو کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ جج جانبدار ہیں اور مقدمہ سیاسی انتقام ہے۔ کیس سپریم کورٹ گیا جہاں سات رکنی بینچ نے چار تین کی اکثریت سے سزا برقرار رکھی۔ صرف ایک ووٹ نے ایک منتخب وزیر اعظم کی جان لے لی۔
چار اپریل 1979 کو بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ بعد میں کئی ججوں، سیاستدانوں اور عالمی ماہرین قانون نے اسے ‘عدالتی قتل’ قرار دیا۔ حتیٰ کہ برسوں بعد سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں کہا کہ بھٹو کو شاید منصفانہ ٹرائل نہیں ملا تھا۔
1990 کی دہائی میں اصغر خان کیس سامنے آیا، جو پاکستان کی سیاسی انجینئرنگ کی سب سے عجیب داستانوں میں شمار ہوتا ہے۔ سابق ایئر مارشل اصغر خان نے عدالت میں درخواست دی کہ 1990 کے انتخابات میں فوج اور خفیہ اداروں نے سیاستدانوں میں پیسے تقسیم کیے۔
مقدمے میں انکشاف ہوا کہ مہران بینک کے ذریعے کروڑوں روپے سیاستدانوں کو دیے گئے تاکہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو روکا جاسکے۔ برسوں بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ واقعی سیاستدانوں میں رقوم تقسیم ہوئیں اور یہ غیر قانونی تھا۔ مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اتنا بڑا فیصلہ آنے کے باوجود عملی طور پر کسی بڑے کردار کو سزا نہ مل سکی۔
2007 میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کی برطرفی کا مقدمہ بھی غیر معمولی تھا۔ فوجی صدر پرویز مشرف نے اچانک چیف جسٹس کو معطل کردیا۔ ٹی وی چینلز پر پہلی بار عوام نے ایک چیف جسٹس کو ریاستی طاقت کے سامنے کھڑا دیکھا۔ وکلا سڑکوں پر نکل آئے، تحریک چلی، پولیس نے لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس چلی اور عدالتیں سیاسی جنگ کا مرکز بن گئیں۔ بعد میں سپریم کورٹ نے افتخار چوہدری کو بحال کردیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک فوجی صدر کو عدالتی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
پھر آیا این آر او کیس۔ جنرل پرویز مشرف نے 2007 میں قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری کیا، جس کے تحت بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور دیگر سیاستدانوں کے مقدمات ختم ہوگئے۔ بعد میں سپریم کورٹ نے این آر او کو کالعدم قرار دے دیا اور حکومت کو سوئس حکام کو خط لکھنے کا حکم دیا تاکہ زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولے جائیں۔
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے صدر کو استثنیٰ حاصل ہونے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے خط لکھنے سے انکار کردیا۔ سپریم کورٹ نے انہیں توہین عدالت میں طلب کیا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ سزا صرف چند سیکنڈ کی علامتی قید تھی، مگر اسی بنیاد پر وہ وزارت عظمیٰ سے نااہل ہوگئے۔ دنیا بھر میں یہ مثال حیرت سے دیکھی گئی کہ چند لمحوں کی سزا ایک منتخب وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کے لیے کافی بن گئی۔
2016 میں پاناما کیس نے پورے پاکستان کو ہلا دیا۔ عالمی صحافتی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ دنیا بھر کی شخصیات آف شور کمپنیاں رکھتی ہیں، جن میں نواز شریف کے بچوں کے نام بھی شامل تھے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ لندن فلیٹس کرپشن کے پیسے سے خریدے گئے۔ سپریم کورٹ میں طویل سماعتیں ہوئیں۔ ٹی وی چینلز روزانہ عدالت کے باہر براہِ راست نشریات کرتے رہے۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ آخرکار نواز شریف کو براہِ راست کرپشن ثابت ہونے پر نہیں بلکہ اقامہ یعنی دبئی کی کمپنی سے وصول نہ کی گئی تنخواہ ظاہر نہ کرنے پر نااہل کیا گیا۔ ایک تنخواہ جو کبھی لی ہی نہیں گئی، وہ پاکستان کے وزیر اعظم کی نااہلی کا سبب بن گئی۔ یہی چیز اس کیس کو عجیب ترین مقدمات میں شامل کرتی ہے۔
2022 کا ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس پاکستان کی آئینی تاریخ کے عجیب ترین اور تیز ترین عدالتی بحرانوں میں شمار ہوتا ہے۔ اُس وقت وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوچکی تھی۔ قومی اسمبلی میں ووٹنگ ہونی تھی۔ مگر اچانک ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے چند منٹ کی رولنگ دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد مسترد کردی اور کہا کہ یہ بیرونی سازش کا حصہ ہے۔ اسی لمحے وزیر اعظم نے صدر کو اسمبلی توڑنے کی سفارش کردی۔
پورا ملک حیران رہ گیا کیونکہ چند منٹ میں حکومت، پارلیمان اور آئین سب غیر یقینی صورتحال میں چلے گئے۔ اپوزیشن فوراً سپریم کورٹ پہنچ گئی۔ عدالت نے مسلسل رات گئے تک سماعتیں کیں۔ ملک بھر کے ٹی وی چینلز پر براہِ راست کارروائی چلتی رہی۔ سوال یہ تھا کہ کیا ڈپٹی اسپیکر آئینی طریقہ کار کے بغیر تحریک مسترد کرسکتا ہے؟ سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے رولنگ کو غیر آئینی قرار دیا، اسمبلی بحال کردی اور حکم دیا کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی۔
چند دن بعد عمران خان وزارت عظمیٰ سے ہٹ گئے۔ یہ شاید پاکستان کی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا جہاں چند منٹ کی پارلیمانی رولنگ نے پورے آئینی نظام کو بحران میں ڈال دیا اور عدالت کو فوری مداخلت کرنا پڑی۔
پاکستان کی عدالتی تاریخ میں میمو گیٹ اسکینڈل بھی بہت عجیب سمجھا جاتا ہے۔ ایک خفیہ میمو کے ذریعے الزام لگا کہ پاکستانی حکومت نے امریکہ سے فوج کے خلاف مدد مانگی۔ ایک غیر تصدیق شدہ سفارتی نوٹ اتنا بڑا بحران بن گیا کہ سپریم کورٹ تک معاملہ پہنچ گیا۔ سفیر حسین حقانی کو استعفیٰ دینا پڑا اور پورا سیاسی ماحول ہل کر رہ گیا۔
حالیہ برسوں میں سائفر کیس بھی غیر معمولی توجہ حاصل کرتا رہا۔ ایک سفارتی مراسلہ، قومی سلامتی، خفیہ دستاویزات اور سابق وزیر اعظم پر آفیشل سیکریٹس ایکٹ کے تحت مقدمات نے اسے پاکستان کی جدید تاریخ کے سب سے حساس قانونی تنازعات میں شامل کردیا۔ عدالتوں میں بند کمرہ سماعتیں ہوئیں، جیل ٹرائلز ہوئے اور فیصلوں پر شدید سیاسی بحث جاری رہی۔
پاکستان کی عدالتی تاریخ کا عجیب پہلو یہ ہے کہ یہاں عدالتیں صرف قانونی ادارے نہیں رہیں بلکہ اکثر اقتدار کی جنگ کا مرکزی میدان بن گئیں۔ بعض فیصلوں نے آمریت کو طاقت دی، بعض نے منتخب حکومتیں ختم کیں، جبکہ کچھ مقدمات نے یہ سوال ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا کہ پاکستان میں اصل طاقت آئین کے پاس تھی یا طاقتور حلقوں کے پاس۔









