کسی بھی شہر کی روح اس کے کنکریٹ کے بے جان ڈھانچوں، بلند و بالا جدید عمارتوں یا چوڑی سڑکوں میں سانس نہیں لیتی، بلکہ ان انسانوں اور برادریوں کے دم قدم سے دھڑکتی ہے جو اپنے خون جگر سے اس کے کینوس پر تہذیب و تمدن کے رنگ بکھیرتے ہیں۔
آج کا کراچی، جو مسائل کے انبار اور بلند و بالا عمارتوں کے بے ترتیب جنگل میں تبدیل ہو چکا ہے، ماضی میں ایک ایسا کثیرالثقافتی اور کھلا شہر تھا جہاں دنیا بھر کے ہنرمند، مصلح اور امن پسند انسان کھنچے چلے آتے تھے۔ انہی قدیم اور معزز برادریوں میں سے ایک ‘مارواڑی سلاوٹ برادری’ تھی، جس نے کراچی کو ایک پسماندہ ساحلی بستی سے اٹھا کر برصغیر کا سب سے صاف ستھرا، پڑھا لکھا اور متحرک جدید شہر بنانے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا۔
یہ اس جفاکش برادری کی تاریخ، ان کے فن کی عظمت، عروج اور پھر جدید دور کے بدلتے حالات میں ہجرت اور پھیلاؤ کی وہ داستان ہے، جس کے تذکرے کے بغیر کراچی کی ادھوری تاریخ کا کوئی بھی ورق پلٹایا نہیں جا سکتا۔
اگر کراچی کی قدامت اور اس کے تعمیراتی حسن کا اندازہ اس کے پتھروں سے لگایا جائے تو شہر میں برطانوی دور کی تاریخی عمارتوں میں نصب کلاسیکی پیلا پتھر پکار پکار کر اس سنگ تراش برادری کی گواہی دے گا جس نے اس شہر کی بنیادوں میں اپنا خون پسینہ سینچا ہے۔
یہ مارواڑی، سلاوٹ اور گزدر برادری دراصل ایک ہی کڑی کا حصہ ہیں جو برصغیر کی تقسیم سے بہت پہلے راجستھان کے صحرائی علاقوں سے ہجرت کر کے کراچی آئے۔ کراچی کی تعمیر نو اور اس کی سیاسی و سماجی تاریخ میں اس برادری کا کردار انتہائی منفرد اور لازمی رہا ہے، جہاں انہوں نے اپنی چھینی اور ہتھوڑے کی مدد سے کڑے پتھروں کو موم کر کے اس ساحلی شہر کو برصغیر کا ایک خوبصورت نوآبادیاتی مرکز بنا دیا۔
راجستھان کے صحراؤں سے تالپور دور کے ساحل تک
اس داستان کا آغاز انیسویں صدی کے وسط میں ہوتا ہے، بالخصوص 1843 میں انگریزوں کے سندھ پر قبضے کے بعد جب کراچی اور حیدرآباد منتقل ہونے کے لیے راجستھان کے علاقے مارواڑ، خاص طور پر جیسلمیر اور جودھپور، سے نقل مکانی کا ایک بڑا سلسلہ شروع ہوا۔
موروثی طور پر یہ لوگ اعلیٰ پائے کے معمار اور سنگ تراش تھے، جنہیں راجستھانی زبان میں ‘شلاوٹ’ یا ‘سلاوٹ’ کہا جاتا تھا، جس کے معنی پتھر کاٹنے اور اس پر خوبصورت نقش و نگار بنانے والے کے ہیں۔
مذہبی پس منظر کے لحاظ سے یہ برادری راجستھان میں پہلے ہندو عقائد پر قائم تھی، جنہیں بعد میں پیر پگارا کے آباؤ اجداد اور حر جماعت کے بانی بزرگوں نے اسلام کی دعوت دی اور وہ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ انہیں تاریخ میں ‘مارواڑی مسلمان’ کہا جاتا ہے، جب کہ ان کا ایک محنت کش حصہ اپنے قدیم ہندو عقائد پر بھی قائم رہا۔
کراچی آمد کے بعد اس مسلم برادری کا مستقل مسکن رنچھوڑ لائن بنا، جو شہر کا قدیم ترین اور مرکز نگاہ علاقہ ہے۔ اس برادری کی لازوال بلدیاتی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں تقسیم ہند کے بعد 1951 میں رنچھوڑ لائن کا نام تبدیل کر کے باقاعدہ ‘گزدر آباد’ رکھ دیا گیا، جب کہ اس کے گردونواح کے علاقوں کو مارواڑی لائنز کہا جاتا ہے۔
دوسری طرف، ان کے ہم وطن ہندو محنت کش چمڑے کے کارخانوں کی وجہ سے لیاری ندی کے کناروں، چاکیواڑہ اور رنگیواڑہ کی گلیوں میں آباد ہوئے۔

چھینی اور ہتھوڑے کا جادو، سنگ تراشی اور معماری کا فن
سلاوٹ برادری کے مرد موروثی طور پر پتھروں کے نبض شناس تھے۔ گزری کے پہاڑوں سے نکلنے والے پیلے پتھر کو منتخب کرنا، اس کی پائیداری کو پرکھنا اور پھر اسے چھینی اور ہتھوڑے کی ضرب سے خوبصورت محرابوں، ستونوں اور گوتھک طرز کے جھروکوں میں تبدیل کرنا ان کا موروثی کمال تھا۔
اس دور میں جب جدید سیمنٹ دستیاب نہیں تھا، یہ ماہر معمار چونے، گارے اور روایتی آمیزے کی مدد سے پتھروں کو اس مہارت سے جوڑتے تھے کہ عمارتیں صدیوں کے موسموں کی سختیاں جھیلنے کے بعد بھی آج تک جوں کی توں کھڑی ہیں۔
کراچی کی برطانوی دور کی کلاسیکی پیلے پتھر سے بنی بیشتر تاریخی عمارتوں کی تعمیر، ان کے شاہکار کٹاؤ اور نقش و نگار میں سلاوٹ برادری کا خون پسینہ شامل ہے۔ ان معماروں کا کمال صرف کراچی تک محدود نہیں تھا۔ اس برادری کی سب سے نامور سیاسی و سماجی شخصیت محمد ہاشم گزدر کے والد ‘فیض محمد’ کو راجستھان کے راجا نے شاہی محل کا عظیم اور بے مثال مرکزی دروازہ ‘بادل ولاس’ تعمیر کرنے پر باقاعدہ ‘گجدھر’ یا ‘گزدر’ کا خطاب دیا تھا، جس کے لغوی معنی ‘معمار اعظم’ کے ہیں۔
یہی خاندانی لقب آگے چل کر اس پورے خاندان کی پہچان بنا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ برادری صرف سنگ تراشی تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان کی اگلی نسلوں میں بہترین شاعر، ادیب، تاجر، وکیل اور اخبار نویس بھی پیدا ہوئے جنہوں نے شہر کے ادبی افق کو جلا بخشی۔
لیاری کی ٹینریاں اور ہندو مارواڑی خواتین کی گمنام جفاکشی
کراچی کی صنعتی تاریخ کا ذکر جہاں بھی آتا ہے، وہاں لیاری کے ٹینری روڈ پر واقع چمڑا رنگنے کے قدیم کارخانوں کا تذکرہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ان کارخانوں میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو مارواڑی برادری کی بھی ایک بہت بڑی اور جاندار تاریخ وابستہ ہے، اور خاص طور پر ان کی خواتین کا کردار کراچی کی ابتدائی معیشت کا ایک گمنام مگر نہایت اہم باب ہے۔
ان خواتین کا تعلق زیادہ تر راجستھان کے نچلے طبقے کی محنت کش برادریوں جیسے باقری، بھیل یا میگھواڑ سے تھا۔
چمڑے کی صفائی اور پروسیسنگ کا کام انتہائی سخت، جان لیوا اور شدید بدبودار ہوتا تھا۔ یہ ہندو مارواڑی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ان ٹینریوں میں کام کرتی تھیں۔ خام چمڑے کو سڑنے سے بچانے کے لیے اس پر بھاری مقدار میں نمک لگانا، چمڑے کی اندرونی چربی اور گوشت کو مخصوص تیز دھار اوزاروں سے کھرچنا، اور پھر انہیں بڑے بڑے حوضوں میں کیمیائی مادوں اور رنگوں کے ساتھ تیار کرنا ان خواتین کا روز کا معمول تھا۔
یہ خواتین صبح سویرے سے لے کر رات گئے تک شدید گرمی اور تعفن زدہ ماحول میں سخت ترین جسمانی مشقت کرتی تھیں، جس کی وجہ سے انہیں لیاری کے صنعتی تانے بانے کی ‘پشت پناہ’ مانا جاتا تھا۔
ان خواتین کی ایک منفرد ثقافتی شناخت اور پہناوا تھا جو انہیں شہر کی باقی آبادی سے بالکل ممتاز کرتا تھا۔ یہ لیاری کی گلیوں میں اپنے روایتی راجستھانی لباس یعنی گھاگھرا، چولی اور چمکدار رنگوں کی اوڑھنی، ‘چنری’، میں نظر آتی تھیں۔ ان کے بازو کندھے سے لے کر کلائی تک سفید رنگ کے ہاتھی دانت یا پلاسٹک کے چوڑوں سے بھرے ہوتے تھے، جو ان کے سہاگ اور روایتی ثقافت کی علامت تھے۔
اس کے ساتھ وہ چاندی کے روایتی بھاری زیورات پہنتی تھیں اور اپنے ہاتھوں اور چہرے پر روایتی نقش و نگار کے گدنے بنواتی تھیں۔ ان کا یہ روایتی روپ لیاری کے بلوچی اور کچھی ماحول میں بالکل منفرد دکھائی دیتا تھا۔
1947 میں جب برصغیر کی تقسیم کا سانحہ ہوا اور کراچی کے امیر ہندو تاجروں اور اشرافیہ کی اکثریت بھارت چلی گئی تو لیاری کے ان غریب محنت کش ہندو مارواڑی خاندانوں نے اپنے مسلم پڑوسیوں کی محبت اور یقین دہانی پر اپنا شہر چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا، کیونکہ ان کا روزگار اور جڑیں انہی ٹینریوں اور کراچی کی مٹی سے وابستہ تھیں۔

گیلریوں کا سماج اور ‘تھالیاں بجانے’ کی منفرد روایت
گزدر آباد، رنچھوڑ لائن، کی قدیم عمارتیں، جنہیں اسی معمار برادری نے اپنے ہاتھوں سے پیلے پتھر سے بنایا تھا، اپنے خاص طرز تعمیر کی وجہ سے ایک منفرد سماجی تانے بانے کو جنم دیتی تھیں۔ ان تین سے چار منزلہ عمارتوں کے سامنے طویل اور مشترکہ گیلریاں ہوتی تھیں، جو صرف ہوا اور روشنی کے لیے نہیں تھیں بلکہ پورے محلے کو ایک بڑے مشترکہ گھر میں تبدیل کر دیتی تھیں۔ مارواڑی خواتین دن بھر کا بیشتر وقت انہی گیلریوں میں گزارتی تھیں۔
صبح کا ناشتہ ہو، دوپہر میں پیاز یا سبزیاں چھیلنا ہو، یا شام کی چائے، خواتین اپنی اپنی گیلریوں کے لوہے کے جنگلوں کے ساتھ کھڑی ہو کر آمنے سامنے یا اوپر نیچے کی منزلوں پر موجود دوسری خواتین سے پورے محلے کے سکھ دکھ شیئر کرتی تھیں۔ یہ گیلریاں اتنی قریب ہوتی تھیں کہ پڑوسی آرام سے ہاتھ بڑھا کر سالن کی کٹوری، ماچس کی ڈبیا یا چائے کی پتی ایک دوسرے کو پکڑا دیتے تھے۔
انہی گلیوں اور کوارٹروں میں خواتین کے درمیان ہونے والی نوک جھونک اور بحث کے دوران ‘تھالیاں بجانے’ کی ایک انتہائی دلچسپ اور منفرد روایت مشہور تھی۔ مارواڑی خواتین کی لڑائی اکثر اونچی آواز اور مخصوص راجستھانی و مارواڑی جملوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ جب دو خواتین کے درمیان جھگڑا طول پکڑتا اور وہ تھک جاتیں تو محلے کی دیگر خواتین یا وہ خود اسٹیل یا پیتل کی تھالی کو چمچے سے زور زور سے بجاتی تھیں۔
اس تھالی بجانے کا مقصد لڑائی میں ‘وقفہ’ دینا ہوتا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے کشتی کے مقابلے میں ایک مرحلہ ختم ہونے کی گھنٹی بجتی ہے۔ جب خواتین تھک کر اپنے گھروں کے کام کاج نمٹانے یا روٹی پکانے جاتیں تو تھالی بجا کر لڑائی کو عارضی طور پر روک دیا جاتا۔
بعد میں گھریلو کاموں سے فارغ ہو کر جب دوبارہ میدان جنگ گرم کرنا ہوتا تو ایک بار پھر تھالی بجا کر دوسری خاتون کو گیلری میں آنے کا چیلنج دیا جاتا کہ ‘اب آؤ، اگلا مرحلہ شروع کریں۔’ یہ لڑائیاں محلے کی تفریح کا سامان ہوتی تھیں جن کا خاتمہ اکثر شام کو ہنسی مذاق اور صلح پر ہوتا تھا۔
ونجھ وٹی کا کھیل اور روایتی تفریحات
تقسیم سے قبل اور بعد کے ادوار میں گزدر آباد کی مسلم مارواڑی برادری کی تفریحات اور کھیل ان کی مضبوط سماجی جڑت کے عکاس تھے۔ چونکہ سنگ تراشی کا کام کرنے کی وجہ سے اس برادری کے مرد جسمانی طور پر انتہائی مضبوط اور چست ہوتے تھے، اس لیے ان کے کھیل بھی جسمانی طاقت کے مرہون منت تھے۔
ان کا سب سے پسندیدہ، موروثی اور شاہکار کھیل ‘ونجھ وٹی’ یا ‘وانجھی بارا’ تھا۔ یہ کھیل کسی مہنگے آلات کا محتاج نہیں تھا بلکہ کھلے میدان یا مٹی والی زمین پر چاک یا کوئلے کی مدد سے بڑے بڑے چوکور خانے بنا کر کھیلا جاتا تھا۔ ان خانوں کو تقسیم کرنے والی لکیروں کو ‘پٹیاں’ یا ‘ونجھ’ کہا جاتا تھا۔
یہ کھیل دو ٹیموں کے درمیان ہوتا تھا جس میں چار سے آٹھ کھلاڑی ہوتے تھے۔ دفاعی ٹیم کے کھلاڑی صرف اپنی مخصوص لکیر پر دائیں بائیں بھاگ کر لکیر کی حفاظت کر سکتے تھے، جب کہ ان کا کپتان مرکزی عمودی لکیر پر اوپر سے نیچے تک حرکت کر سکتا تھا۔ حملہ آور ٹیم کا مقصد لکیر پر کھڑے حریفوں کے ہاتھوں آؤٹ یا لمس ہوئے بغیر تمام خانوں کو پار کر کے آخری حد تک پہنچنا اور پھر وہاں سے کامیابی سے واپس پہلے خانے تک لوٹنا ہوتا تھا۔
ونجھ وٹی میں سلاوٹ نوجوانوں کی دوڑنے کی چستی اور پینترا بدلنے کی صلاحیت دیکھنے کے لائق ہوتی تھی، اور جب کوئی کھلاڑی حریف کو چکمہ دے کر خانے پار کرتا تو گیلریوں میں کھڑا پورا محلہ زور دار نعروں سے گونج اٹھتا۔ عرس کے دنوں میں یا چاندنی راتوں میں رنچھوڑ لائن اور لیاری کی مختلف گلیوں کے درمیان ونجھ وٹی کے باقاعدہ مقابلے ہوتے تھے اور جیتنے والی ٹیم کو برادری کی طرف سے روایتی مٹھائی کھلائی جاتی تھی۔
ونجھ وٹی کے علاوہ گلیوں میں کبڈی اور کشتی کے دنگل سجتے تھے، جب کہ راجستھانی ثقافت کے اثر کے باعث پتنگ بازی کا جنون بھی عروج پر ہوتا تھا۔ مردوں کی سب سے بڑی تفریح شام کے وقت محلے کے روایتی چائے خانوں پر لکڑی کے بنچوں پر بیٹھ کر کڑک دودھ پتی کے کپ کے ساتھ دن بھر کی مزدوری اور برادری کے معاملات پر بحث کرنا ہوتا تھا، جہاں پرانے ریکارڈ پلیئر پر موسیقی گونجتی تھی۔

سیاسی و سماجی خدمات کا تاریخی باب، محمد ہاشم گزدر کا دور
مارواڑی سلاوٹ برادری کی سیاسی اور بلدیاتی خدمات تاریخ کا ایک نہایت روشن باب ہیں۔ اس برادری کے مایہ ناز رہنما محمد ہاشم گزدر 1941 سے 1942 کے دوران کراچی کے میئر منتخب ہوئے۔ انہوں نے شہر کی بلدیاتی ترقی، صفائی ستھرائی اور پانی کی فراہمی کے نظام میں انقلابی اصلاحات کیں۔
ہاشم گزدر تحریک آزادی کے سرگرم رہنما اور قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی اور معتمد ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے، جنہوں نے بمبئی لیجسلیٹو کونسل اور بعد میں سندھ کے وزیر داخلہ کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان کی پہلی مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن اور قومی اسمبلی کے دوسرے ڈپٹی اسپیکر بنے۔
بلدیاتی خدمات کے ساتھ ساتھ، برصغیر میں کوآپریٹو ہاؤسنگ کا پہلا کامیاب تجربہ کرنے والے سنسیناٹس فابین ڈی ابریو نے 1908 میں کراچی کی پہلی منصوبہ بند ہاؤسنگ سوسائٹی قائم کی، جسے ان کے نام پر ‘سنسیناٹس ٹاؤن’ کہا گیا اور جو آج گارڈن ایسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس کی تعمیرات میں بھی سلاوٹ معماروں کا کلیدی ہاتھ تھا۔ اسی طرح تقسیم کے بعد رہائشی بحران کو حل کرنے کے لیے جیروم ڈی سلوا نے اپنے مسلم ساتھی کے ساتھ مل کر مشہور ‘حسین ڈی سلوا ٹاؤن’ بنایا تو اس میں بھی انہی کاریگروں کا پسینہ شامل تھا۔
تعلیمی میدان میں برادری نے اپنے بل بوتے پر گزدر آباد میں فلاحی مراکز اور اسکول قائم کیے، جن میں 1949 میں قائم ہونے والا ‘ایم ایچ گزدر گورنمنٹ سیکنڈری اسکول’ آج بھی ان کی علم دوستی کا ثبوت ہے۔ برٹو روڈ، پیڈرو ڈی سوزا روڈ اور ڈی سلوا اسٹریٹ کے ساتھ ساتھ گزدر آباد کی گلیاں ان شخصیات کی یاد دلاتی ہیں۔
عقیدت کے رنگ، مساجد اور عرس کے روایتی پکوان
مذہبی عقائد کے معاملے میں مسلم مارواڑی برادری بنیادی طور پر اہل سنت والجماعت، فقہ حنفی، سے تعلق رکھتی ہے اور ان کا فکری رجحان صوفیانہ ہے۔ چونکہ راجستھان میں ان کے آباؤ اجداد کو حر جماعت کے بانی بزرگوں نے اسلام کا پیغام دیا تھا، اس لیے اس برادری کی ایک بہت بڑی تعداد آج بھی پیر پگارا کے خانوادے کی مرید ہے اور ان سے گہری عقیدت رکھتی ہے۔
چونکہ یہ لوگ خود معمار تھے، اس لیے انہوں نے کراچی میں جو مساجد تعمیر کیں، وہ اپنی خوبصورتی اور پائیداری میں بے مثال ہیں۔ گزدر آباد کی مرکزی ‘جامع مسجد سلاوٹ’ اور ‘مسجد غوثیہ’ پیلے پتھر کی دستکاری، ہاتھ سے تراشے گئے محرابوں اور شاندار خطاطی کا شاہکار ہیں، جو برادری کے تمام سماجی فیصلوں کا مرکز رہی ہیں۔
دوسری طرف، لیاری کے اولڈ سلاٹر یارڈ روڈ پر واقع کے ایم سی اسٹاف کمپاؤنڈ میں قائم ‘شری رام دیو جی پیر مندر’، رام شاہ پیر، ہندو مارواڑیوں کا سب سے بڑا مرکز ہے، جہاں ہر سال بھادوں، اگست اور ستمبر، کے مہینے میں راما پیر کا میلہ روایتی ڈنڈیا راس، سفید پرچم لہرانے کی رسم اور جاگرن کے ساتھ دھوم دھام سے منایا جاتا ہے، جس میں مقامی مسلم بلوچ پڑوسی بھی شرکت کرتے ہیں۔
مسلم مارواڑیوں کے ہاں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا عرس، گیارہویں شریف، اور جشن عید میلاد النبیﷺ سب سے بڑے سالانہ اجتماعات ہوتے ہیں۔ اس موقع پر گزدر آباد کی تنگ گلیوں میں بڑے بڑے دیگچے سج جاتے ہیں اور فضا دیسی گھی، کیوڑے اور الائچی کی خوشبو سے مہک اٹھتی ہے۔ ان کے پکوان راجستھانی روایات اور کراچی کے چٹ پٹے ذائقوں کا ایک بہترین اور منفرد امتزاج ہوتے ہیں۔

مارواڑی سفید پلاؤ
یہ عرس کا شاہی پکوان ہے جو ہلکے مسالوں، دیسی گھی، سونف اور دھنیے کی یخنی میں تیار کیا جاتا ہے، جس میں گوشت مکھن کی طرح نرم ہوتا ہے۔
گٹے کا سالن
یہ خالص راجستھانی موروثی ڈش ہے جو بیسن کے رولز کو ابال کر، دہی اور ٹماٹر کی کھٹی گریوی میں پکا کر تیار کی جاتی ہے اور عرس کے لنگر میں نان کے ساتھ شوق سے کھائی جاتی ہے۔
کھڈ گوشت
عرس کے خاص موقع پر بکرے کے پورے گوشت کو مسالے لگا کر پپیتے کے پتوں میں لپیٹا جاتا ہے اور پھر زمین میں گڑھا کھود کر کوئلوں کی دھیمی آنچ پر کئی گھنٹوں تک پکا کر روایتی صحرائی ذائقہ کشید کیا جاتا ہے۔
لاپسی
نیاز اور تبرک کا آغاز و اختتام اس میٹھے کے بغیر ادھورا ہے۔ یہ ٹوٹے ہوئے گیہوں، دلیہ، کو دیسی گھی میں بھون کر، گڑ، الائچی اور خشک میوے ڈال کر دم پر تیار کی جاتی ہے۔
ثقافتی پہچان اور مارواڑی زبان کا خمیر
مارواڑی زبان اس برادری کی بقا اور شناخت کا سب سے مضبوط ستون ہے۔ یہ ہند آریائی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور بنیادی طور پر مغربی راجستھان، جودھپور اور جیسلمیر، کا ایک لہجہ ہے، جس کا خمیر سندھی، گجراتی اور کچھی زبانوں سے بہت ملتا جلتا ہے۔
کراچی آنے کے بعد مسلم مارواڑیوں نے اردو کو بھی اپنایا، لیکن ان کا مخصوص لہجہ اور الفاظ سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتے تھے۔ ان کی خواتین شادیوں اور مذہبی تہواروں کے رت جگے میں ڈھولک کی تھاپ پر مارواڑی زبان میں روایتی لوک گیت ‘مانگڑ’ اور ‘ہمنگ’ گاتی ہیں، جن میں راجستھان کے صحراؤں، بارش کی دعاؤں اور اپنے بزرگوں کی ہجرت کا ذکر ہوتا ہے۔
جدید دور کے باوجود یہ برادری اپنے گھروں کی چار دیواری کے اندر دادا دادی اور نانا نانی سے گفتگو کے لیے آج بھی خالص مارواڑی زبان ہی استعمال کرتی ہے تاکہ یہ ورثہ زندہ رہے۔
ہجرت کی دھند اور موجودہ پھیلاؤ
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گنجان آبادی، روزگار کی تبدیلی اور معاشی ترقی کی وجہ سے یہ برادری اب صرف گزدر آباد، رنچھوڑ لائن، تک محدود نہیں رہی۔ جب لیاری سے چمڑے کی ٹینریاں کورنگی صنعتی علاقے منتقل ہوئیں تو چمڑے کے کاروبار سے وابستہ مسلم اور ہندو مارواڑی خاندانوں کی ایک بڑی تعداد کورنگی کے مختلف سیکٹروں، ناصر کالونی اور چمڑا چورنگی، میں منتقل ہو گئی۔
اسی طرح بلدیہ ٹاؤن اور عثمان آباد میں بھی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے مارواڑی رہائش پذیر ہیں۔ برادری کے وہ لوگ جنہوں نے تعلیم حاصل کی یا بلڈنگ کنسٹرکشن، ٹھیکیداری، چمڑے کی برآمدات اور تھوک تجارت میں ترقی کی، وہ اب کراچی کے پوش اور متوسط علاقوں جیسے گلشن اقبال، گلستان جوہر اور فیڈرل بی ایریا میں منتقل ہو چکے ہیں۔
سرکاری مردم شماری میں مارواڑی یا سلاوٹ برادری کا کوئی الگ خانہ نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے وہ لسانی طور پر دستاویزی ریکارڈ میں گم ہو جاتے ہیں، لیکن برادری کے فلاحی اداروں، جیسے جامعتہ السلاطین، کے تخمینے کے مطابق کراچی اور حیدرآباد کو ملا کر مسلم مارواڑی سلاوٹ برادری کی آبادی قریباً ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان ہے، جب کہ ان کے اکابرین اور سابق میئر ہاشم گزدر کا ابدی مسکن میوہ شاہ قبرستان کے خاندانی احاطے میں واقع ہے۔
آج گزدر آباد کی پرانی اور خستہ حال عمارتیں، ان کی طویل گیلریاں اور سڑکوں کے کتبے اب خاموش نوحہ بن چکے ہیں۔ وہ چھینی اور ہتھوڑے کی آوازیں جو کبھی پتھروں کو زندگی دیتی تھیں، اب جدید کنکریٹ کے شور میں دب چکی ہیں، لیکن پرانے کراچی کی گلیوں کا رخ کیا جائے تو یہ پیلے پتھر آج بھی پکار پکار کر کہتے ہیں کہ اس شہر قائد کو معمار اعظم کا روپ دینے والے اصل تاجدار کون تھے۔ کراچی کی تاریخ ان کے تذکرے کے بغیر ہمیشہ نامکمل رہے گی۔

