شہر دریا نہیں بناتے، دریا شہروں کو جنم دیتے ہیں۔ مگر جب شہر پھیلتے پھیلتے دریاؤں کی گزرگاہیں چھین لیتے ہیں تو ایک دن یہی دریا اپنے وجود کا حساب مانگتے ہیں۔
کراچی آج اسی امتحان کے دہانے پر کھڑا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ لیاری ندی کو صاف رکھا جائے یا اس کے کناروں کو خوب صورت بنایا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کراچی لیاری کو اس کی وہ جگہ واپس دینے کے لیے تیار ہے جو کبھی اس کا قدرتی حق تھی؟
دریائے لیاری کراچی کے قدیم ترین قدرتی نکاسی آب کے نظاموں میں سے ایک ہے۔ یہ تقریباً 50 کلومیٹر طویل قدرتی گزرگاہ ہے، جس کا قدرتی بستر کئی مقامات پر تقریباً 150 میٹر تک چوڑا رہا ہے۔ مگر بڑھتی ہوئی آبادی، بے ہنگم تعمیرات، تجاوزات اور کچرے نے رفتہ رفتہ اس قدرتی راستے کو سکیڑ دیا۔ آج کئی مقامات پر اس کی چوڑائی صرف 15 سے 35 میٹر تک رہ گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب بارش کا پانی اپنی پرانی گزرگاہ تلاش کرے گا تو وہ کہاں جائے گا؟
اسلام آباد اور راولپنڈی کا نالہ لئی ہمیں اس سوال کا خوف ناک جواب دے چکا ہے۔ یکم اور 2 ستمبر 2026 کو ہونے والی شدید بارشوں کے دوران نالہ لئی میں پانی کی سطح 29.5 فٹ تک پہنچ گئی۔ گھروں اور دکانوں میں کئی فٹ پانی داخل ہوا، شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ محض ایک قدرتی آفت نہیں تھی بلکہ شہری منصوبہ بندی کے لیے ایک انتباہ بھی تھی۔
جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کے ریکارڈ کے مطابق 1944 سے 2004 تک نالہ لئی میں سیلاب کے 19 بڑے واقعات رونما ہوئے۔ 23 جولائی 2001 کو صرف 10 گھنٹوں میں 620 ملی میٹر بارش ہوئی، 74 افراد جاں بحق ہوئے اور تقریباً 3,000 مکانات تباہ یا متاثر ہوئے۔ یہ اعداد ہمیں بتاتے ہیں کہ قدرتی آبی گزرگاہ کو محدود کرنا دراصل مستقبل کے سانحے کو دعوت دینا ہے۔
کراچی کو یہ سبق کسی اور شہر سے سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ لیاری خود اس کی اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
لیاری ایکسپریس وے، صرف شاہراہ نہیں بلکہ ایک شہری دفاع
لیاری ایکسپریس وے تقریباً 16.5 کلومیٹر طویل منصوبہ ہے جو سہراب گوٹھ سے موری پور تک پھیلا ہوا ہے۔ اس منصوبے کو عموماً ٹریفک کے متبادل راستے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن اس کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ منصوبے کے دوران دریا کے کوریڈور کی 255 ایکڑ سے زائد زمین واپس حاصل کی گئی۔ تقریباً 15,000 مکانات منہدم ہوئے اور 24,400 خاندانوں کو منتقل کیا گیا۔
اس منصوبے نے یہ ثابت کر دیا کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر اور قدرتی نکاسی آب کے نظام کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ ایک دوسرے کا معاون بنایا جا سکتا ہے۔
لیاری ایکسپریس وے کا بنیادی مقصد کراچی پورٹ اور سپر ہائی وے کے درمیان بھاری ٹریفک کے لیے ایک متبادل اور تیز رفتار راستہ فراہم کرنا تھا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اسی تصور کو آگے بڑھایا جائے۔
اگلا قدم، ناردرن بائی پاس تک توسیع
سہراب گوٹھ سے ناردرن بائی پاس تک لیاری کوریڈور کا باقی حصہ کراچی کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ اگر اس حصے میں دریا کا اصل فلڈ کوریڈور بحال کیا جائے اور اس کے دونوں اطراف مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ شاہراہیں تعمیر کی جائیں تو ایک ہی منصوبے سے دو بڑے مسائل حل ہو سکتے ہیں، سیلاب اور ٹریفک۔
ایسی شاہراہ مال بردار اور شہر سے گزرنے والی ٹریفک کو مقامی ٹریفک سے الگ کر سکتی ہے، کراچی پورٹ اور صنعتی علاقوں تک رسائی بہتر بنا سکتی ہے اور شہر کی موجودہ شاہراہوں پر دباؤ کم کر سکتی ہے۔ دوسری طرف دریا کو اس کا قدرتی راستہ واپس مل سکتا ہے۔
یہ صرف ایک سڑک نہیں ہوگی۔ یہ سیلابی پانی کے انتظام، ٹرانسپورٹ منصوبہ بندی، شہری ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کا مربوط منصوبہ ہو سکتا ہے۔
دنیا نے دریاؤں سے سمجھوتہ نہیں، راستہ نکالا
دنیا کے ترقی یافتہ شہر اس حقیقت کو بہت پہلے سمجھ چکے ہیں کہ دریا کو ختم نہیں کیا جا سکتا، صرف اس کے ساتھ بہتر انداز میں رہنا سیکھا جا سکتا ہے۔
نیدرلینڈز میں ’روم فار دی ریور‘ پروگرام کے ذریعے دریاؤں کو مزید جگہ فراہم کی گئی، رکاوٹیں دور کی گئیں اور سیلابی میدان بحال کیے گئے۔ نائیمیخن میں دریا کے لیے جگہ پیدا کرنے کی خاطر بند کو تقریباً 350 میٹر پیچھے منتقل کیا گیا اور تقریباً 50 مکانات ہٹانے پڑے۔
جاپان نے بھی ٹوکیو کو سیلاب سے بچانے کے لیے تقریباً 22 کلومیٹر طویل اراکاوا فلڈ وے تعمیر کیا۔ اس منصوبے کے لیے تقریباً 1,300 خاندانوں کو منتقل کیا گیا اور 1,098 ہیکٹر زمین حاصل کی گئی۔
ان مثالوں کا بنیادی سبق ایک ہی ہے: جب شہر دریا کے لیے جگہ نہیں چھوڑتا تو ایک دن دریا شہر سے اپنی جگہ واپس لے لیتا ہے۔
اب فیصلہ کراچی نے کرنا ہے
سندھ حکومت کو چاہیے کہ لیاری کوریڈور، خصوصاً سہراب گوٹھ سے ناردرن بائی پاس تک کے حصے کا فوری طور پر جامع لائڈار، کیڈسٹرل، ٹوپوگرافک، ہائیڈرولوجیکل اور ہائیڈرولک سروے کرائے۔ اس سروے کی بنیاد پر دریا کے اصل فلڈ کوریڈور کی حدود متعین کی جائیں اور اسے مستقل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
تجاوزات کا خاتمہ ضروری ہے، لیکن اس عمل میں جائز آبادکاروں کے حقوق کو بھی قانون کے مطابق تحفظ، معاوضہ اور مناسب آبادکاری فراہم کی جانی چاہیے۔
ہمیں لیاری کو صرف ایک نالے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ کراچی کے قدرتی دفاع کا حصہ ہے۔ اس کا فلڈ پلین کراچی کے لیے وہی اہمیت رکھتا ہے جو ایک شہر کے لیے حفاظتی دیوار رکھتی ہے۔
کراچی کو آج ایک مشکل مگر دور اندیش فیصلہ کرنا ہوگا۔ لیاری کو جگہ دیں، پانی کو راستہ دیں اور ٹریفک کو متبادل راستہ دیں۔
اگر ہم آج لیاری کو اس کی مطلوبہ جگہ واپس دینے میں ناکام رہے تو ممکن ہے کل دریا اپنی جگہ خود واپس لے لے۔ پھر نقصان کا حساب زمین کے ایکڑوں یا اربوں روپے میں نہیں ہوگا۔
اس کی قیمت انسانی جانوں میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
اور قوموں کی تاریخ میں کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں بعد میں اربوں روپے خرچ کرکے بھی درست نہیں کیا جا سکتا۔












