Tag: لیاری

  • لیاری کو اس کی جگہ واپس دیں، ورنہ دریا اپنی جگہ خود بنا لے گا

    لیاری کو اس کی جگہ واپس دیں، ورنہ دریا اپنی جگہ خود بنا لے گا

    شہر دریا نہیں بناتے، دریا شہروں کو جنم دیتے ہیں۔ مگر جب شہر پھیلتے پھیلتے دریاؤں کی گزرگاہیں چھین لیتے ہیں تو ایک دن یہی دریا اپنے وجود کا حساب مانگتے ہیں۔

    کراچی آج اسی امتحان کے دہانے پر کھڑا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ لیاری ندی کو صاف رکھا جائے یا اس کے کناروں کو خوب صورت بنایا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کراچی لیاری کو اس کی وہ جگہ واپس دینے کے لیے تیار ہے جو کبھی اس کا قدرتی حق تھی؟

    دریائے لیاری کراچی کے قدیم ترین قدرتی نکاسی آب کے نظاموں میں سے ایک ہے۔ یہ تقریباً 50 کلومیٹر طویل قدرتی گزرگاہ ہے، جس کا قدرتی بستر کئی مقامات پر تقریباً 150 میٹر تک چوڑا رہا ہے۔ مگر بڑھتی ہوئی آبادی، بے ہنگم تعمیرات، تجاوزات اور کچرے نے رفتہ رفتہ اس قدرتی راستے کو سکیڑ دیا۔ آج کئی مقامات پر اس کی چوڑائی صرف 15 سے 35 میٹر تک رہ گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب بارش کا پانی اپنی پرانی گزرگاہ تلاش کرے گا تو وہ کہاں جائے گا؟

    اسلام آباد اور راولپنڈی کا نالہ لئی ہمیں اس سوال کا خوف ناک جواب دے چکا ہے۔ یکم اور 2 ستمبر 2026 کو ہونے والی شدید بارشوں کے دوران نالہ لئی میں پانی کی سطح 29.5 فٹ تک پہنچ گئی۔ گھروں اور دکانوں میں کئی فٹ پانی داخل ہوا، شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ محض ایک قدرتی آفت نہیں تھی بلکہ شہری منصوبہ بندی کے لیے ایک انتباہ بھی تھی۔

    جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کے ریکارڈ کے مطابق 1944 سے 2004 تک نالہ لئی میں سیلاب کے 19 بڑے واقعات رونما ہوئے۔ 23 جولائی 2001 کو صرف 10 گھنٹوں میں 620 ملی میٹر بارش ہوئی، 74 افراد جاں بحق ہوئے اور تقریباً 3,000 مکانات تباہ یا متاثر ہوئے۔ یہ اعداد ہمیں بتاتے ہیں کہ قدرتی آبی گزرگاہ کو محدود کرنا دراصل مستقبل کے سانحے کو دعوت دینا ہے۔

    کراچی کو یہ سبق کسی اور شہر سے سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ لیاری خود اس کی اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

    لیاری ایکسپریس وے، صرف شاہراہ نہیں بلکہ ایک شہری دفاع

    لیاری ایکسپریس وے تقریباً 16.5 کلومیٹر طویل منصوبہ ہے جو سہراب گوٹھ سے موری پور تک پھیلا ہوا ہے۔ اس منصوبے کو عموماً ٹریفک کے متبادل راستے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن اس کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ منصوبے کے دوران دریا کے کوریڈور کی 255 ایکڑ سے زائد زمین واپس حاصل کی گئی۔ تقریباً 15,000 مکانات منہدم ہوئے اور 24,400 خاندانوں کو منتقل کیا گیا۔

    اس منصوبے نے یہ ثابت کر دیا کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر اور قدرتی نکاسی آب کے نظام کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ ایک دوسرے کا معاون بنایا جا سکتا ہے۔

    لیاری ایکسپریس وے کا بنیادی مقصد کراچی پورٹ اور سپر ہائی وے کے درمیان بھاری ٹریفک کے لیے ایک متبادل اور تیز رفتار راستہ فراہم کرنا تھا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اسی تصور کو آگے بڑھایا جائے۔

    اگلا قدم، ناردرن بائی پاس تک توسیع

    سہراب گوٹھ سے ناردرن بائی پاس تک لیاری کوریڈور کا باقی حصہ کراچی کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ اگر اس حصے میں دریا کا اصل فلڈ کوریڈور بحال کیا جائے اور اس کے دونوں اطراف مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ شاہراہیں تعمیر کی جائیں تو ایک ہی منصوبے سے دو بڑے مسائل حل ہو سکتے ہیں، سیلاب اور ٹریفک۔

    ایسی شاہراہ مال بردار اور شہر سے گزرنے والی ٹریفک کو مقامی ٹریفک سے الگ کر سکتی ہے، کراچی پورٹ اور صنعتی علاقوں تک رسائی بہتر بنا سکتی ہے اور شہر کی موجودہ شاہراہوں پر دباؤ کم کر سکتی ہے۔ دوسری طرف دریا کو اس کا قدرتی راستہ واپس مل سکتا ہے۔

    یہ صرف ایک سڑک نہیں ہوگی۔ یہ سیلابی پانی کے انتظام، ٹرانسپورٹ منصوبہ بندی، شہری ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کا مربوط منصوبہ ہو سکتا ہے۔

    دنیا نے دریاؤں سے سمجھوتہ نہیں، راستہ نکالا

    دنیا کے ترقی یافتہ شہر اس حقیقت کو بہت پہلے سمجھ چکے ہیں کہ دریا کو ختم نہیں کیا جا سکتا، صرف اس کے ساتھ بہتر انداز میں رہنا سیکھا جا سکتا ہے۔

    نیدرلینڈز میں ’روم فار دی ریور‘ پروگرام کے ذریعے دریاؤں کو مزید جگہ فراہم کی گئی، رکاوٹیں دور کی گئیں اور سیلابی میدان بحال کیے گئے۔ نائیمیخن میں دریا کے لیے جگہ پیدا کرنے کی خاطر بند کو تقریباً 350 میٹر پیچھے منتقل کیا گیا اور تقریباً 50 مکانات ہٹانے پڑے۔

    جاپان نے بھی ٹوکیو کو سیلاب سے بچانے کے لیے تقریباً 22 کلومیٹر طویل اراکاوا فلڈ وے تعمیر کیا۔ اس منصوبے کے لیے تقریباً 1,300 خاندانوں کو منتقل کیا گیا اور 1,098 ہیکٹر زمین حاصل کی گئی۔

    ان مثالوں کا بنیادی سبق ایک ہی ہے: جب شہر دریا کے لیے جگہ نہیں چھوڑتا تو ایک دن دریا شہر سے اپنی جگہ واپس لے لیتا ہے۔

    اب فیصلہ کراچی نے کرنا ہے

    سندھ حکومت کو چاہیے کہ لیاری کوریڈور، خصوصاً سہراب گوٹھ سے ناردرن بائی پاس تک کے حصے کا فوری طور پر جامع لائڈار، کیڈسٹرل، ٹوپوگرافک، ہائیڈرولوجیکل اور ہائیڈرولک سروے کرائے۔ اس سروے کی بنیاد پر دریا کے اصل فلڈ کوریڈور کی حدود متعین کی جائیں اور اسے مستقل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔

    تجاوزات کا خاتمہ ضروری ہے، لیکن اس عمل میں جائز آبادکاروں کے حقوق کو بھی قانون کے مطابق تحفظ، معاوضہ اور مناسب آبادکاری فراہم کی جانی چاہیے۔

    ہمیں لیاری کو صرف ایک نالے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ کراچی کے قدرتی دفاع کا حصہ ہے۔ اس کا فلڈ پلین کراچی کے لیے وہی اہمیت رکھتا ہے جو ایک شہر کے لیے حفاظتی دیوار رکھتی ہے۔

    کراچی کو آج ایک مشکل مگر دور اندیش فیصلہ کرنا ہوگا۔ لیاری کو جگہ دیں، پانی کو راستہ دیں اور ٹریفک کو متبادل راستہ دیں۔

    اگر ہم آج لیاری کو اس کی مطلوبہ جگہ واپس دینے میں ناکام رہے تو ممکن ہے کل دریا اپنی جگہ خود واپس لے لے۔ پھر نقصان کا حساب زمین کے ایکڑوں یا اربوں روپے میں نہیں ہوگا۔

    اس کی قیمت انسانی جانوں میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

    اور قوموں کی تاریخ میں کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں بعد میں اربوں روپے خرچ کرکے بھی درست نہیں کیا جا سکتا۔

  • لیاری ندی کے پرانے راستے پر دفن ماضی: کراچی کے پرانے حاجی کیمپ کے عروج و زوال کی داستان

    لیاری ندی کے پرانے راستے پر دفن ماضی: کراچی کے پرانے حاجی کیمپ کے عروج و زوال کی داستان

    کراچی کی تجارتی، شہری اور ثقافتی تاریخ کے اوراق پلٹیں تو اس عظیم ساحلی شہر کا کونہ کونہ کسی نہ کسی تاریخی موڑ کا گواہ نظر آتا ہے۔

    اسی تاریخ کا ایک روشن، معتبر اور مذہبی ہم آہنگی سے درخشاں باب لیاری ندی کے پرانے راستے سے متصل، نیپیئر کوارٹرز اور لی مارکیٹ کے قریب پٹی پر واقع ہے۔ یہ پرانا حاجی کیمپ محض ایک جغرافیائی خطہ یا عمارت نہیں تھا، بلکہ سندھ کے بندرگاہی شہر کراچی میں برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں کے جذباتی لگاؤ، آنسوؤں، دعاؤں اور حج بیت اللہ کے لیے مقدس سفر کی تڑپ کا ایک بڑا مرکزی نقطہ تھا۔

    اس مقام نے نہ صرف برطانوی راج کے دوران بلکہ قیام پاکستان کے بعد بھی ایک درخشندہ باب رقم کیا، لیکن زمانے کے ساتھ ساتھ یہ تاریخی ورثہ آج تجارتی شور شرابے، لکڑی بازار اور لنڈا بازار کے گوداموں تلے کہیں گم ہو چکا ہے۔

    حاجی کیمپ کا قیام اور برطانوی عہد کا پس منظر

    انیسویں صدی کے آخری عشروں اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب ہوائی سفر کا کوئی وجود نہ تھا، برصغیر کے مسلمانوں، خصوصاً سندھ، پنجاب، بلوچستان اور سرحد پار افغانستان و وسطی ایشیا کے زائرین کے لیے حج بیت اللہ کی ادائیگی کا سب سے محفوظ، سستا اور بڑا ذریعہ بحری راستے کا سفر تھا۔

    برطانوی سرکار نے اس دور میں کراچی کو ایک اہم اور باقاعدہ بحری حج بندرگاہ بنانے کا منصوبہ بنایا۔ اس مقصد کے لیے لی مارکیٹ اور گھاس منڈی روڈ کے سنگم کے قریب ایک وسیع و عریض اراضی پر باقاعدہ حاجی کیمپ قائم کیا گیا۔

    ملک بھر اور بیرون ملک سے قافلوں کی صورت میں آنے والے عازمین حج، کیماڑی بندرگاہ سے بحری جہازوں پر سوار ہونے سے پہلے کئی کئی دن بلکہ ہفتوں اسی کیمپ میں قیام کرتے تھے۔

    یہ کیمپ محض ایک سرائے یا مسافر خانہ نہ تھا، بلکہ ایک پورا عارضی شہر بن جاتا تھا۔ یہاں زائرین کے پاسپورٹ کی چھان بین، ویزا کے اندراج اور طبی معائنے کے تمام مراحل انگریز انتظامیہ کے تحت انجام دیے جاتے تھے۔

    چوں کہ اس دور میں حج کا سفر مہینوں پر محیط ہوتا تھا، اس لیے زائرین اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان، بستر اور ضروری اشیا لاتے تھے، جس سے اس کیمپ میں ہر زبان، پشتو، پنجابی، بلوچی، سندھی وغیرہ، اور ہر نسل کے لوگ ایک ہی مقدس جذبے کے تحت اکٹھے نظر آتے تھے۔

    نصروانجی خاندان، پارسی بصیرت اور لال اینٹوں کی تعمیر

    پرانے حاجی کیمپ کی تاریخ اس خطے کی مشہور پارسی برادری کی فلاحی روایات اور ان کی تجارتی جائیدادوں سے بھی گہرے طریقے سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ کیمپ جس علاقے میں واقع تھا، وہاں کراچی کے معزز پارسی خاندان نصروانجی کے بڑے تجارتی اور صنعتی اثاثے موجود تھے۔

    کیمپ سے کچھ آگے نصروانجی خاندان کی اینٹوں اور مٹی کی ٹائلوں کی بڑی فیکٹری اور گودام واقع تھے۔ یہ جائیدادیں نارتھ ویسٹرن ریلوے لائن کے نزدیک واقع تھیں تاکہ اینٹوں اور دیگر تعمیری مواد کو ملک کے مختلف حصوں میں آسانی سے منتقل کیا جا سکے۔

    تجارتی اور تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ جب حاجی کیمپ میں زائرین کے لیے باقاعدہ بیرکیں، رہائشی کمرے اور دفاتر تعمیر کیے جا رہے تھے تو ان کی پائیدار بنیادوں اور دیواروں میں نصروانجی فیکٹری کی تیار کردہ مشہور پائیدار لال اینٹیں اور مٹی کے بلاکس بکثرت استعمال کیے گئے تھے۔

    جدید کراچی کے معمار اور کراچی میونسپلٹی کے پہلے میئر جمشید نصروانجی مہتا تمام انسانیت، مذاہب اور عقائد کے بے لوث احترام کی ایک مجسم تصویر تھے۔ انہوں نے بطور میئر اور ایک مخیر شخصیت کے، حاجی کیمپ میں آنے والے مسلمانوں کی خدمت کو اپنا انسانی فریضہ سمجھا اور کئی انقلابی اقدامات کیے۔

    پینے کے میٹھے پانی کا انتظام

    حج کے ایام میں جب ہزاروں عازمین ایک ساتھ جمع ہوتے تو پورے علاقے میں پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہو جاتا تھا۔ جمشید نصروانجی نے کراچی میونسپلٹی کے واٹر ٹینکرز، عارضی کھلے نلوں اور نئی پائپ لائنوں کے ذریعے حاجی کیمپ میں 24 گھنٹے میٹھے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا۔

    طبی کیمپس اور صفائی کے اقدامات

    اس دور میں ہیضہ، ملیریا اور چیچک جیسی وبائی بیماریاں سفر حج کے لیے بڑا خطرہ ہوتی تھیں۔ نصروانجی نے میونسپلٹی کے عملے کو پابند کیا کہ حاجی کیمپ میں روزانہ کی بنیاد پر جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ اور صفائی کے اعلیٰ ترین معائنے ہوں۔

    انہوں نے اپنے ذاتی اثر و رسوخ سے موبائل ڈسپنسریاں اور طبی کیمپس قائم کروائے، جہاں زائرین کا مکمل طبی معائنہ اور مفت ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی تھی۔

    تقسیم کے بعد کا دور
    سفینۂ عرب، سفینۂ حجاج اور سفینہ عابد

    1947  میں تقسیم ہند اور پاکستان کے قیام کے بعد اس پرانے حاجی کیمپ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی۔ اب یہ اس نوزائیدہ مملکت پاکستان کا سب سے بڑا اور واحد مرکزی حج بندرگاہ بن چکا تھا۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں جب حج پر جانے والے پاکستانیوں کی تعداد روز بروز بڑھتی گئی تو یہی پرانا حاجی کیمپ رونق کا مرکز بنا رہتا تھا۔

    اس دور میں کراچی کی بندرگاہ سے روانہ ہونے والے سفینۂ عرب، سفینۂ حجاج اور سفینہ عابد جیسے تاریخی بحری جہازوں کے نام ہر پاکستانی کے دل پر نقش تھے۔

    زائرین اپنے پیاروں کے ساتھ حاجی کیمپ پہنچتے، جہاں سے بسوں اور خصوصی گاڑیوں کے ذریعے انہیں کیماڑی کی گوپال داس گودی تک لے جایا جاتا تھا تاکہ وہ اپنے طویل اور مبارک بحری سفر کا آغاز کر سکیں۔

    علاقے کی گنجائش، منتقلی اور نیا حاجی کیمپ

    وقت گزرنے کے ساتھ جہاں کراچی کی آبادی اور ٹریفک میں بے تحاشا اضافہ ہوا، وہیں عازمین حج کی تعداد بھی لاکھوں تک جا پہنچی۔ لی مارکیٹ، گھاس منڈی روڈ اور نیپیئر کوارٹرز کی تنگ گلیاں اور سڑکیں اس قدر لاجسٹکس اور انسانی اژدہام کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہونے لگیں۔

    کیمپ کے اطراف میں مال بردار گاڑیوں اور مسافروں کے بے پناہ رش کے باعث شہر کا تجارتی نظام متاثر ہونے لگا۔

    حکومت نے ان مشکلات کا جائزہ لیتے ہوئے حاجی کیمپ کو اس پرانے اور گنجان علاقے سے منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔ چنانچہ موجودہ امریکی سفارت خانے، سلطان آباد، موجودہ ایم ٹی خان روڈ کے قریب سمندر کے وسیع اور کشادہ ساحلی منظرنامے پر ایک بڑا اور جدید نیا حاجی کیمپ قائم کیا گیا، جہاں عازمین حج کو ہوائی اور بحری دونوں قسم کی جدید ترین سہولیات فراہم کی جانے لگیں۔

    پرانا حاجی کیمپ، لکڑی بازار کے شور میں گم ایک خاموش گواہ

    آج اگر کوئی شخص نیپیئر کوارٹرز کے اس پرانے حصے یا لی مارکیٹ سے گھاس منڈی کی طرف جائے تو اسے پرانے حاجی کیمپ کی وہ روحانی رونقیں، لال اینٹوں کی بیرکیں اور عازمین کی رقت آمیز دعائیں نظر نہیں آئیں گی۔

    حاجی کیمپ کی منتقلی کے بعد یہ پورا علاقہ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایشیا کے بڑے لکڑی بازار اور لنڈا بازار کے بھاری بھاری گوداموں میں تبدیل ہو گیا۔

    آج وہاں لکڑی کٹنے کی مشینیں، لکڑی کے تختوں اور لنڈا بازار کے سامان سے لدے ہوئے ٹرک اور مزدوروں کا شور تو سنائی دیتا ہے، لیکن تاریخ کا طالب علم جب وہاں سے گزرتا ہے تو اسے اس مٹی میں سے عقیدت، رواداری اور انسانیت کی خدمت کی مہک آتی ہے۔

    کراچی کے نقشوں اور معمر شہریوں کے ذہنوں میں یہ علاقہ آج بھی پرانا حاجی کیمپ کے نام سے ہی زندہ ہے، ایک ایسا نام جو کراچی کے عظیم الشان ماضی، اس کی مذہبی ہم آہنگی اور نصروانجی خاندان کی لازوال خدمات کا ایک خاموش لیکن زندہ گواہ ہے۔

  • اسپینسر آئی ہسپتال: لیاری کا 88 سالہ تاریخی ادارہ، جو پھر سے ہزاروں آنکھوں میں روشنی بانٹ رہا ہے

    اسپینسر آئی ہسپتال: لیاری کا 88 سالہ تاریخی ادارہ، جو پھر سے ہزاروں آنکھوں میں روشنی بانٹ رہا ہے

    کراچی کے لیاری میں ایک ایسا ہسپتال موجود ہے جس کی تاریخ پاکستان کے قیام سے پہلے کی ہے اور جس نے کئی دہائیوں تک کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے مریضوں کو آنکھوں کے علاج کی مفت سہولت فراہم کی۔ یہ اسپینسر آئی ہسپتال ہے، جو لی مارکیٹ کے قریب صدیق وہاب روڈ پر قائم ہے۔

    اسپینسر آئی ہسپتال کی بنیاد پارسی ماہر امراض چشم ڈاکٹر کے این اسپینسر نے 1938 میں رکھی۔ ہسپتال کی باقاعدہ عمارت 1940 میں کھولی گئی۔ اس کا بنیادی مقصد شہر کے غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو آنکھوں کے علاج کی سہولت فراہم کرنا تھا۔

    وقت کے ساتھ اسپینسر آئی ہسپتال کراچی سے نکل کر ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے مریضوں کے لیے بھی اہم مرکز بن گیا۔ یہاں مفت علاج، آنکھوں کے پیچیدہ امراض کی تشخیص اور سرجری کی سہولت نے اسے ایک منفرد مقام دیا۔

    اس ہسپتال کی تاریخ میں قرنیہ کی پیوند کاری بھی ایک اہم باب ہے۔ ایک طویل وقفے کے بعد یہاں دوبارہ قرنیہ کی پیوند کاری شروع کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ آنکھوں کے مختلف امراض کے علاج کے ساتھ اسپینسر آئی ہسپتال جدید طبی تکنیکوں کے استعمال کے حوالے سے بھی اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے۔

    لیکن وقت کے ساتھ اس تاریخی ادارے کا حال بدلنے لگا۔

    لیاری میں امن و امان کے مسائل، وسائل کی کمی، طبی آلات اور ادویات کی قلت، بجلی کے مسائل اور طبی عملے کی کمی نے ہسپتال کی سرگرمیوں کو متاثر کیا۔ 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ہسپتال کی روزانہ او پی ڈی میں تقریباً 50 سے 100 مریض آتے تھے، جبکہ ڈاکٹروں اور دیگر ضروری عملے کی کئی آسامیاں خالی تھیں۔

    پھر 2026 میں اس تاریخی ہسپتال کی کہانی نے ایک نیا موڑ لیا۔

    کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور حکومت سندھ کی شراکت سے اسپینسر آئی ہسپتال کی بحالی اور جدید کاری کا عمل شروع کیا گیا۔ ہسپتال کے وارڈز، آپریشن تھیٹر اور او پی ڈی کو بہتر بنایا گیا، جبکہ جدید تشخیصی آلات، لیزر ٹیکنالوجی، انفیکشن کنٹرول کے نظام اور مریضوں کے لیے بہتر سہولتوں پر بھی توجہ دی گئی۔

    ہسپتال کو 6 اپریل 2026 سے دوبارہ فعال کرنے کا اعلان کیا گیا۔ یہاں موتیا، کالا موتیا، پردہ چشم کے امراض، بچوں کی آنکھوں کے مسائل، بینائی کی کمزوری اور دیگر پیچیدہ امراض کے علاج کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

    اور اب اس تاریخی ادارے میں مریضوں کی واپسی کے اعداد و شمار اس تبدیلی کی بڑی تصویر پیش کرتے ہیں۔

    28 جولائی 2026 کو ایک سرکاری بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسپینسر آئی ہسپتال میں روزانہ تقریباً 4 ہزار مریضوں کو مفت او پی ڈی کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ اسی بریفنگ کے مطابق اپریل 2026 سے اب تک 700 سے زائد لیزر اور دیگر طبی طریقہ علاج بھی کیے جاچکے ہیں۔

    یہ اعداد و شمار اس ہسپتال کے ماضی اور حال کے درمیان ایک نمایاں فرق بھی دکھاتے ہیں۔ ایک طرف وہ دور ہے جب وسائل کی کمی اور امن و امان کے مسائل نے مریضوں کی آمد اور طبی سرگرمیوں کو محدود کردیا تھا، اور دوسری طرف 2026 کا وہ مرحلہ ہے جب سرکاری بریفنگ کے مطابق روزانہ ہزاروں مریض دوبارہ اس ادارے کا رخ کر رہے ہیں۔

    اسپینسر آئی ہسپتال کی اصل اہمیت صرف اس کی تقریباً نو دہائیوں پر محیط تاریخ یا قدیم عمارت میں نہیں۔ اس کی اہمیت اس عوامی خدمت میں ہے جس کے لیے یہ ادارہ قائم کیا گیا تھا۔

    ایک ایسے شہر میں جہاں آنکھوں کا مہنگا علاج غریب خاندانوں کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے، مفت سرکاری علاج کی یہ سہولت آج بھی ہزاروں افراد کے لیے اہم ہے۔

    1938 میں غریبوں کے لیے آنکھوں کے علاج کا جو خواب دیکھا گیا تھا، وہ کئی دہائیوں کے اتار چڑھاؤ کے بعد 2026 میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔

    اسپینسر آئی ہسپتال صرف لیاری کی ایک تاریخی عمارت نہیں، بلکہ کراچی کی طبی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس نے مشکل وقت دیکھا، زوال کا سامنا کیا اور اب دوبارہ اپنے دروازے مریضوں کے لیے کھول رہا ہے۔

    یہ صرف ایک ہسپتال کی بحالی نہیں، بلکہ ایک ایسے تاریخی عوامی ادارے کی واپسی ہے جس کا مقصد ابتدا ہی سے لوگوں کو روشنی دینا تھا۔

    ساگا ڈیجیٹل

    جہاں ہم صرف عمارتوں کی تاریخ نہیں، ان کے پیچھے چھپی عوامی خدمت کی کہانیاں بھی تلاش کرتے ہیں۔

  • لیاری سے عالمی دنیا تک: بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے پہلے بیچ کے طالب علم ڈاکٹر عبداللہ ایوب کی حیران کن کامیابی

    لیاری سے عالمی دنیا تک: بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے پہلے بیچ کے طالب علم ڈاکٹر عبداللہ ایوب کی حیران کن کامیابی

    کراچی کا لیاری عام طور پر کھیل، فن، ثقافت اور اپنے مسائل کے حوالے سے دنیا کے سامنے آتا ہے، لیکن اسی لیاری سے ایک ایسا نوجوان بھی نکلا جس نے علم اور تحقیق کی دنیا میں اپنی شناخت بنائی اور عالمی سطح پر نمایاں سائنس دانوں کی فہرست میں جگہ حاصل کی۔

    یہ کہانی ڈاکٹر عبداللہ ایوب کی ہے، جو بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے پہلے بیچ کے طالب علم تھے۔ ان کا تعلیمی سفر 2012 میں اس وقت شروع ہوا جب یونیورسٹی نے اپنی تدریسی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا۔ آج وہ اعلیٰ تعلیم کے کئی مراحل طے کرنے کے بعد تحقیق کے میدان میں عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔

    بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کا قیام سندھ اسمبلی کے قانون کے تحت ہوا اور یونیورسٹی میں باقاعدہ تدریسی سرگرمیوں کا آغاز 2012 میں کیا گیا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد لیاری اور کراچی کے دیگر کم آمدنی والے علاقوں کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا تھا۔

    ڈاکٹر عبداللہ ایوب کے لیے یہ صرف ایک یونیورسٹی نہیں تھی بلکہ ان کے خوابوں کی پہلی سیڑھی تھی۔ دسمبر 2015 میں انہوں نے اپنی گریجویشن مکمل کی، لیکن یہ ان کے تعلیمی سفر کا اختتام نہیں بلکہ اصل سفر کا آغاز تھا۔

    انہوں نے ماسٹرز کیا، پھر پی ایچ ڈی مکمل کی اور اپنے تعلیمی سفر میں گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔ اس کے بعد ملائیشیا کی سلطان زین العابدین یونیورسٹی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کی اور اسی سپروائزر کے زیر نگرانی دوسری پوسٹ ڈاکٹریٹ بھی مکمل کی۔

    تحقیق کے میدان میں مسلسل کام نے انہیں عالمی سطح پر نمایاں کیا۔ ان کے مطابق وہ دنیا کے ٹاپ دو فیصد سائنس دانوں میں شامل ہیں، جبکہ رواں سال ان کی نامزدگی دنیا کے ٹاپ ایک فیصد سائنس دانوں میں بھی ہوئی ہے۔

    لیکن ڈاکٹر عبداللہ ایوب کی کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو ان کی عالمی شناخت سے پہلے کا سفر ہے۔

    وہ اسی لیاری میں رہتے ہوئے لیاری ہی کی ایک نئی اور اس وقت نسبتاً غیر معروف یونیورسٹی سے اپنا تعلیمی سفر شروع کر رہے تھے۔ 2012 کا لیاری آج کے لیاری سے مختلف تھا اور یونیورسٹی بھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ طلبہ کی تعداد کم تھی اور تعلیمی نظام مسلسل تشکیل پا رہا تھا۔

    ڈاکٹر عبداللہ ایوب کے مطابق وقت کے ساتھ یونیورسٹی کے طلبہ، فیکلٹی اور نصاب میں نمایاں بہتری آئی۔ وہ اس تبدیلی کا کریڈٹ اپنے اساتذہ، فیکلٹی ممبران، ڈینز اور انتظامیہ کو دیتے ہیں، جنہوں نے وقت کے ساتھ ادارے کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔

    اس داستان میں فیس کا پہلو بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ عبداللہ ایوب کے مطابق 2012 میں ان کی فی سمسٹر فیس تقریباً 5400 روپے تھی اور چار سال تک اس میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے مطابق اسی زمانے میں اچھی نجی یونیورسٹیوں کی فیس اس کے مقابلے میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے تک پہنچتی تھی۔

    محدود مالی وسائل رکھنے والے ایک طالب علم کے لیے کم فیس نے اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے کا ایک راستہ کھولا۔ لیکن عبداللہ ایوب کی کامیابی صرف یہ نہیں بتاتی کہ کم فیس والی یونیورسٹی سے بھی بڑا مقام حاصل کیا جا سکتا ہے، بلکہ یہ اس تاثر کو بھی چیلنج کرتی ہے کہ کامیابی صرف بڑے نام والے اداروں کی ڈگری سے ملتی ہے۔

    لیاری کا ٹیگ ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنا، کیونکہ انہوں نے اپنی قابلیت کو اپنی شناخت بنا لیا۔

    ایک ایسے نوجوان کا سفر، جس نے 2012 میں ایک نئی یونیورسٹی کے پہلے بیچ سے تعلیم شروع کی، 21 فارغ التحصیل طلبہ میں شامل ہوا، پھر ماسٹرز، پی ایچ ڈی اور دو پوسٹ ڈاکٹریٹ تک پہنچا اور آج عالمی سطح پر نمایاں سائنس دانوں میں شمار ہوتا ہے۔

    ڈاکٹر عبداللہ ایوب کی داستان شاید صرف ایک فرد کی کامیابی کی کہانی نہیں۔ یہ لیاری کے نوجوانوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ آغاز چاہے کہیں سے بھی ہو، منزل کا تعین انسان کی قابلیت، محنت اور مسلسل سیکھنے کی خواہش کرتی ہے۔

    یہ کہانی اس لیے بھی اہم ہے کہ کامیابی کے اصل کردار اکثر انہی گلیوں سے نکلتے ہیں جنہیں دنیا صرف مسائل کے نام سے جانتی ہے۔

    لیاری نے ڈاکٹر عبداللہ ایوب کو صرف ایک طالب علم نہیں دیا، بلکہ ایک ایسا سائنس دان دیا جس نے آج عالمی علمی دنیا میں اپنی جگہ بنائی ہے۔

    یہ ہے لیاری سے عالمی سائنس کی دنیا تک ڈاکٹر عبداللہ ایوب کی داستان۔

  • ککری گراؤنڈ: لیاری کی وہ فٹبال نرسری جہاں سے لڑکیاں عالمی سطح کے کھیل تک پہنچ گئیں

    ککری گراؤنڈ: لیاری کی وہ فٹبال نرسری جہاں سے لڑکیاں عالمی سطح کے کھیل تک پہنچ گئیں

    کراچی کے لیاری میں ایک ایسا میدان ہے جہاں فٹبال صرف کھیلی نہیں جاتی، خواب بھی دیکھے جاتے ہیں۔ یہ ہے ککری گراؤنڈ، جہاں برسوں سے گلیوں اور محلوں کے بچے فٹبال کے ذریعے اپنے مستقبل کا راستہ تلاش کرتے رہے ہیں۔

    ککری گراؤنڈ سے جڑی ایک اہم داستان جافا سوکر اکیڈمی کی بھی ہے، جسے سابق پاکستانی انٹرنیشنل فٹبالر جاوید عرب نے 2006 میں قائم کیا۔ اکیڈمی میں بچوں کو مفت فٹبال تربیت فراہم کی جاتی ہے اور کھلاڑیوں کو کم عمری سے مختلف عمر کے گروپس میں تربیت دے کر آگے بڑھنے کے مواقع دیے جاتے ہیں۔

    لیکن جافا کی کہانی کا سب سے اہم اور دلچسپ باب خواتین کی فٹبال ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب لڑکیوں کے لیے فٹبال کھیلنا اور میدان میں آنا آسان نہیں تھا، جاوید عرب نے ککری گراؤنڈ میں لڑکیوں کو بھی تربیت دینا شروع کی۔ یہ فیصلہ صرف ایک کھیل کی سرگرمی نہیں تھا، بلکہ لیاری کی لڑکیوں کے لیے ایک نئے راستے کا آغاز تھا۔

    جاوید عرب کے مطابق جافا سوکر اکیڈمی سے تقریباً 9 خواتین پاکستانی انٹرنیشنل فٹبالر بن چکی ہیں، جبکہ اکیڈمی سے تعلق رکھنے والے تقریباً 35 مرد کھلاڑی بھی پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔

    یعنی لیاری کے ایک مقامی میدان سے کھیل شروع کرنے والی لڑکیاں پاکستان کی قومی ٹیم تک پہنچیں۔ ان کے لیے ککری گراؤنڈ محض تربیت کی جگہ نہیں رہا، بلکہ قومی سطح تک پہنچنے کی پہلی سیڑھی بن گیا۔

    اکیڈمی میں کھلاڑیوں کو مختلف عمر کے گروپس میں تربیت دی جاتی ہے۔ کم عمر کھلاڑیوں کو بنیادی مہارتیں سکھانے کے بعد مقابلوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے، جبکہ 16 سال کی عمر کے بعد انہیں جافا کے کلب کے ذریعے بڑے مقابلوں میں کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔

    وقت کے ساتھ ککری گراؤنڈ بھی تبدیل ہوا۔ حکومت سندھ اور عالمی بینک کے کراچی نیبرہڈ امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت اس تاریخی میدان کو جدید اسپورٹس کمپلیکس میں تبدیل کیا گیا۔ یہاں نئے فٹبال ٹرف کے ساتھ لڑکیوں کے لیے پریکٹس ایریا، باکسنگ، کراٹے، ٹیبل ٹینس، باسکٹ بال اور والی بال سمیت مختلف کھیلوں کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔

    یوں وہ میدان جہاں کبھی محلے کے بچے محدود وسائل کے ساتھ فٹبال کھیلتے تھے، اب مختلف کھیلوں کے لیے ایک باقاعدہ مرکز بن چکا ہے اور بڑے مقابلوں کی میزبانی بھی کر رہا ہے۔

    خواتین کی فٹبال کے فروغ کے لیے سندھ میں مقابلوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ 2024 کے سندھ پنک فٹبال ٹورنامنٹ میں 16 خواتین ٹیموں اور 320 کھلاڑیوں نے حصہ لیا، جبکہ سندھ کی خواتین فٹبال ٹیم کے لیے باقاعدہ ٹرائلز بھی منعقد کیے گئے۔

    35ویں قومی کھیلوں میں خواتین کی فٹبال کو شامل کیا گیا اور ککری گراؤنڈ نے خواتین کے مقابلوں کی میزبانی بھی کی۔ اس طرح ایک مقامی میدان خواتین کے قومی کھیل کے سفر کا بھی حصہ بن گیا۔

    لیکن اس پوری کہانی کے درمیان ایک اہم سوال موجود ہے۔ کیا صرف ایک گراؤنڈ اور ایک اکیڈمی لڑکیوں کو بین الاقوامی فٹبال تک پہنچانے کے لیے کافی ہیں؟

    جافا کے کوچ کے مطابق کم عمری کی شادی، مالی مشکلات اور تعلیم کا تسلسل خواتین کھلاڑیوں کے لیے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ بہت سی باصلاحیت لڑکیاں کھیل جاری رکھنا چاہتی ہیں، لیکن گھریلو، معاشی اور سماجی حالات ان کے راستے میں حائل ہوجاتے ہیں۔

    اسی لیے ککری گراؤنڈ کی کہانی صرف فٹبال کی کہانی نہیں۔

    یہ اس بات کی کہانی ہے کہ اگر ایک لڑکی کو میدان ملے، تربیت دینے والا کوچ ملے، مقابلے کا موقع ملے اور اسے آگے بڑھنے کی آزادی حاصل ہو تو وہ لیاری کی گلیوں سے نکل کر پاکستان کی قومی ٹیم تک پہنچ سکتی ہے۔

    ککری گراؤنڈ شاید زمین کا ایک محدود ٹکڑا ہو، لیکن یہاں دیکھے جانے والے خوابوں کی کوئی حد نہیں۔ اس میدان سے نکلنے والے کھلاڑی پاکستان کے فٹبال میدانوں تک پہنچے، اور لیاری کی لڑکیوں نے ثابت کیا کہ مواقع ملیں تو وہ بھی ملک کی نمائندگی کرسکتی ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل، جہاں کھیل کو صرف کھیل نہیں، معاشرے میں تبدیلی کی ایک طاقت سمجھا جاتا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل، جہاں پاکستان کے عام میدانوں سے نکلنے والی غیر معمولی کہانیاں آپ تک پہنچتی ہیں۔

  • بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری، تعلیم اور کھیل کے امتزاج کی نئی مثال

    بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری، تعلیم اور کھیل کے امتزاج کی نئی مثال

    بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے شعبہ فارمیسی کی چوتھے سال کی طالبہ مناہل خان ان نوجوانوں میں شامل ہیں جنہیں اپنے گھر کے قریب اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتیں آزمانے اور پریکٹس کرنے کے مواقع بھی میسر ہیں۔

    ان کے لیے جامعہ محض ایک درس گاہ نہیں بلکہ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں تعلیم، کھیل اور شخصیت سازی ایک ساتھ آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

    حکومت سندھ کی جانب سے 2010 میں قائم کی جانے والی بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری آج علاقے کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے اہم مراکز میں شمار ہوتی ہے۔ جامعہ کے قیام کا مقصد لیاری اور اس سے ملحقہ علاقوں کے نوجوانوں کو ان کے قریب معیاری اور قابل رسائی اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا بھی تھا۔

    لیاری کی شناخت کئی دہائیوں سے فٹ بال، باکسنگ اور دیگر کھیلوں سے جڑی ہوئی ہے۔ اس علاقے کی گلیوں اور میدانوں نے کئی باصلاحیت کھلاڑیوں کو جنم دیا، لیکن اب لیاری صرف کھیلوں کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں بھی اپنی نئی شناخت قائم کر رہا ہے۔

    بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی میں تعلیم کے ساتھ کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ جامعہ میں طلبہ کے لیے جمنازیم، فٹ بال گراؤنڈ، کرکٹ اور ہاکی کے میدان، باسکٹ بال، بیڈمنٹن اور ٹینس سمیت مختلف کھیلوں کی سہولیات موجود ہیں۔ مرد اور خواتین طلبہ کو مختلف کھیلوں میں حصہ لینے اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، جبکہ جامعہ کی کھیلوں کی ٹیمیں بین الجامعاتی مقابلوں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔

    مناہل خان کے لیے یہ سہولت اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ فارمیسی جیسے ایک مشکل اور ذمہ داری والے شعبے میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر آف فارمیسی کے پروگرام میں طلبہ کو ادویات، دواسازی، کیمسٹری، حیاتی کیمیا، جسمانی ساخت، ادویات کے اثرات، ہسپتال فارمیسی، طبی فارمیسی اور ادویات کے معیار سمیت مختلف موضوعات پڑھائے جاتے ہیں۔ اس طرح طلبہ کو پیشہ ورانہ زندگی کے لیے نظری اور عملی دونوں طرح کی تربیت حاصل ہوتی ہے۔

    مناہل خان کہتی ہیں کہ گھر کے قریب موجود جامعہ میں تعلیم کے ساتھ کھیلوں کی سہولیات دستیاب ہونا مقامی لڑکیوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق ایسے مواقع طالبات کو نہ صرف اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ انہیں کھیلوں میں حصہ لینے، جسمانی صحت بہتر بنانے اور اپنے اندر اعتماد پیدا کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

    لیاری جیسے گنجان آبادی والے علاقے میں گھر کے قریب اعلیٰ تعلیم کا ادارہ بہت سے خاندانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کراچی میں روزانہ طویل فاصلے کا سفر، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور وقت کی کمی ایسے عوامل ہیں جو کئی نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ مقامی سطح پر جامعہ کی موجودگی ان مشکلات کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

    جامعہ میں طلبہ کے لیے مختلف غیر نصابی سرگرمیوں اور سوسائٹیز کا بھی انتظام ہے، جہاں وہ کھیلوں کے علاوہ مباحثے، تقریری مقابلوں، فنون، موسیقی، ٹیکنالوجی، کمیونٹی سروس اور دیگر سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ایسی سرگرمیاں طلبہ کو کلاس روم کی تعلیم کے ساتھ عملی زندگی میں ضروری ٹیم ورک، قیادت اور ابلاغ کی صلاحیتیں بہتر بنانے کا موقع دیتی ہیں۔

    بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری ان نوجوانوں کے لیے بھی امید کی کرن ہے جو محدود مالی وسائل کے باوجود اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سرکاری جامعہ ہونے کی وجہ سے یہاں مختلف پروگراموں کی فیس نجی جامعات کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے، جس سے متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم تک رسائی آسان ہوتی ہے۔

    لیاری کی کہانی صرف محرومیوں، مسائل اور مشکلات کی کہانی نہیں۔ یہی علاقہ اپنے کھیلوں کے میدانوں سے ملک کو باصلاحیت کھلاڑی دیتا رہا ہے اور اب اسی سرزمین سے ڈاکٹر، فارماسسٹ، اساتذہ، محققین اور دیگر شعبوں کے ماہرین بھی سامنے آ رہے ہیں۔

    مناہل خان اس بدلتی ہوئی تصویر کی ایک مثال ہیں۔ ایک طرف فارمیسی کی تعلیم اور مستقبل کے پیشے کی تیاری، دوسری طرف کھیلوں کے میدان میں اپنی صلاحیتیں آزمانے کا موقع، یہ امتزاج اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نوجوانوں کو اگر ان کے قریب بہتر تعلیمی اور تربیتی مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ اپنے علاقے کی شناخت کو بھی نئی سمت دے سکتے ہیں۔

    لیاری کی گلیوں سے نکلنے والی یہ نئی نسل اب صرف کھیل کے میدان میں کامیابی کا خواب نہیں دیکھ رہی، بلکہ اعلیٰ تعلیم کے ذریعے اپنے مستقبل کی نئی منزلیں بھی تلاش کر رہی ہے۔

  • لیاری کے میڈیکل کالج کا منفرد شعبہ، جہاں ڈاکٹر انصاف کا علم بھی سیکھتے ہیں

    لیاری کے میڈیکل کالج کا منفرد شعبہ، جہاں ڈاکٹر انصاف کا علم بھی سیکھتے ہیں

    کراچی کے تاریخی علاقے لیاری میں قائم شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل کالج کا شعبہ فرانزک میڈیسن اینڈ ٹاکسی کولوجی پاکستان کے نمایاں تدریسی شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں مستقبل کے ڈاکٹر صرف انسانی جسم کی ساخت اور بیماریوں کا مطالعہ نہیں کرتے بلکہ طب، سائنس اور قانون کے باہمی تعلق کو بھی سمجھتے ہیں۔

    یہاں انہیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ طبی شواہد کس طرح انصاف کی فراہمی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

    اس شعبے میں داخل ہوتے ہی انسانی ڈھانچوں، کھوپڑیوں، ہڈیوں اور جسم کے مختلف اعضا کے تعلیمی ماڈلز نظر آتے ہیں۔ ان ماڈلز کی مدد سے طلبہ انسانی جسم کی ساخت، ہڈیوں کی شناخت، مختلف اقسام کی چوٹوں اور ان کے طبی و قانونی پہلوؤں کا عملی مطالعہ کرتے ہیں، تاکہ انہیں کتابی معلومات کے ساتھ عملی سمجھ بھی حاصل ہو۔

    شعبے میں ایسے خصوصی فرانزک ماڈلز بھی موجود ہیں جن پر گلا گھونٹنے، جلنے، آتشیں اسلحے کے زخم، تیز دھار ہتھیاروں کی چوٹیں، جسمانی تشدد کی مختلف علامات اور دیگر فرانزک شواہد کو حقیقت سے قریب انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ان ماڈلز کے ذریعے طلبہ یہ سیکھتے ہیں کہ مختلف زخموں کی نوعیت اور شناخت کیسے کی جاتی ہے، ان کے اسباب کیا ہو سکتے ہیں، اور عدالت میں ایک مستند طبی رائے کس بنیاد پر دی جاتی ہے۔

    یہ تربیت صرف نظریاتی تعلیم تک محدود نہیں رہتی۔ طلبہ کو پوسٹ مارٹم کے بنیادی اصول، موت کی وجوہات کا تعین، زہر خورانی کی تشخیص، قانونی میڈیکل رپورٹس کی تیاری اور فرانزک شواہد کو محفوظ رکھنے کے عملی تقاضوں سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے، کیونکہ ایک درست اور غیر جانبدار طبی رپورٹ کسی بے گناہ کو انصاف دلانے اور کسی ملزم کے خلاف مضبوط شواہد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

    اسی شعبے کا اہم حصہ ٹاکسی کولوجی بھی ہے، جہاں خون، پیشاب اور جسم کے دیگر نمونوں میں زہریلے مادوں، ادویات اور منشیات کی موجودگی کا سائنسی تجزیہ کرنے کے اصول پڑھائے جاتے ہیں۔ یہی تجزیے بعد ازاں قتل، خودکشی، حادثات اور دیگر مشتبہ اموات کی تحقیقات میں انتہائی اہم حیثیت اختیار کرتے ہیں۔

    آج دنیا بھر میں فرانزک سائنس جدید ڈی این اے ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل فرانزک اور جدید لیبارٹری تحقیق کی بدولت انصاف کے نظام کو مزید مؤثر بنا رہی ہے۔ ایسے تدریسی ادارے مستقبل کے ان ڈاکٹروں کو تیار کر رہے ہیں جو نہ صرف زندگی بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ سائنسی شواہد کی بنیاد پر حقیقت سامنے لانے اور انصاف کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    قدرت، صحت، تاریخ اور پاکستان کے منفرد مقامات سے متعلق مستند اور دلچسپ معلومات جاننے کے لیے ‘ساگا ڈیجیٹل’ کو فالو کریں۔

  • لیاری میں منشیات کے خلاف ایک نئی امید، سندھ پولیس کا ڈرگ اسکریننگ سینٹر قائم

    لیاری میں منشیات کے خلاف ایک نئی امید، سندھ پولیس کا ڈرگ اسکریننگ سینٹر قائم

    کراچی کے تاریخی علاقے لیاری میں منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے سندھ حکومت کے تعاون سے سندھ پولیس کے ساوتھ زون نے ‘ڈرگ اسکریننگ سینٹر لیاری’ قائم کیا ہے۔ اس مرکز کا مقصد منشیات کے استعمال میں مبتلا افراد کی بروقت تشخیص، انہیں علاج اور بحالی کی سہولت فراہم کرنا اور دوبارہ معاشرے کا فعال حصہ بننے میں مدد دینا ہے۔

    یہ مرکز منشیات کے عادی افراد کے لیے علاج کے سفر کا پہلا مرحلہ ثابت ہوگا، جہاں ان کا طبی اور نفسیاتی معائنہ کیا جاتا ہے۔ مختلف طبی ٹیسٹوں اور ماہرین کی جانچ کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ متعلقہ فرد منشیات استعمال کر رہا ہے یا نہیں، اگر کر رہا ہے تو کون سی منشیات استعمال کر رہا ہے اور اس کی لت کس حد تک پہنچ چکی ہے۔ ابتدائی تشخیص کے بعد مریض کی ضرورت کے مطابق اسے بحالی مرکز بھیجنے کی سفارش کی جاتی ہے۔

    بحالی مراکز میں علاج صرف ادویات تک محدود نہیں ہوتا بلکہ نفسیاتی مشاورت، خاندانی رہنمائی، سماجی بحالی اور پیشہ ورانہ تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے تاکہ مریض علاج مکمل ہونے کے بعد دوبارہ معمول کی زندگی گزارنے اور معاشرے میں باعزت مقام حاصل کرنے کے قابل ہو سکے۔

    لیاری کئی دہائیوں سے اپنی کھیلوں کی روایات، باصلاحیت نوجوانوں، موسیقی اور ثقافتی شناخت کے باعث ملک بھر میں پہچانا جاتا ہے، تاہم اس علاقے کو منشیات سمیت مختلف سماجی مسائل کا بھی سامنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں علاج اور بحالی پر مبنی یہ مرکز نوجوانوں کو نئی زندگی اور بہتر مستقبل کی امید فراہم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق منشیات کی لت صرف ایک فرد تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خاندان اور معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی مرحلے میں نشے کی تشخیص ہو جائے تو علاج کے کامیاب ہونے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔

    طبی ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ منشیات کا عادی شخص مجرم سے زیادہ ایک مریض ہوتا ہے، جسے سزا کے بجائے علاج، نفسیاتی معاونت اور اہل خانہ کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ بروقت طبی امداد اور مسلسل بحالی کے ذریعے ایسے افراد مکمل صحت یاب ہو کر دوبارہ معمول کی زندگی اختیار کر سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف مؤثر حکمت عملی صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں سے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے بروقت تشخیص، جدید علاج، نفسیاتی معاونت، خاندانی تعاون، آگاہی مہمات اور معاشرے کی قبولیت یکساں اہمیت رکھتی ہیں۔

    اگر ‘ڈرگ اسکریننگ سینٹر لیاری’ اپنی خدمات مؤثر انداز میں جاری رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو یہ نہ صرف لیاری بلکہ کراچی کے دیگر علاقوں کے لیے بھی ایک قابل تقلید ماڈل بن سکتا ہے، کیونکہ منشیات کے خلاف جنگ صرف گرفتاریوں سے نہیں بلکہ علاج، بحالی، آگاہی اور اجتماعی تعاون سے ہی جیتی جا سکتی ہے۔

  • ‘لیاری ندی کے بیچ اُگتا گھانا جنگل: پیپلز اربن فاریسٹ کراچی کو کیسے بدل رہا ہے؟

    ‘لیاری ندی کے بیچ اُگتا گھانا جنگل: پیپلز اربن فاریسٹ کراچی کو کیسے بدل رہا ہے؟

    پیپلز اربن فاریسٹ لیاری کراچی میں شہری جنگلات کے قیام کی ایک نمایاں کوشش ہے، جس کا آغاز چار فروری 2020 کو کیا گیا۔ اس منصوبے کا افتتاح پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کیا، جبکہ اس پر عمل درآمد سندھ حکومت کے محکمہ جنگلات نے کیا۔

    منصوبے کا بنیادی مقصد لیاری دریا کے ویران، کچرے سے بھرے اور بنجر حصوں کو ایک سرسبز شہری جنگل میں تبدیل کرنا، کراچی میں بڑھتی ہوئی گرمی اور فضائی آلودگی کے اثرات کو کم کرنا، حیاتیاتی تنوع میں اضافہ کرنا اور دریا کے کناروں کو ماحولیاتی لحاظ سے بحال کرنا تھا۔

    یہ جنگل لیاری دریا کے اندرونی حصے اور دونوں کناروں پر ماری پور پل سے شیر شاہ پل تک قائم کیا گیا۔ یہ مقام اس لیے بھی اہم ہے کہ لیاری دریا کراچی کی دو بڑی قدرتی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، لیکن گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران غیر منصوبہ بند شہری آبادی، صنعتی فضلے، سیوریج اور کچرے کے باعث اس کا قدرتی ماحول شدید متاثر ہوا۔ اسی لیے دریا کے بستر میں شجرکاری کو صرف درخت لگانے کا منصوبہ نہیں بلکہ ماحولیاتی بحالی کی ایک کوشش قرار دیا گیا۔

    ابتدائی مرحلے میں تقریباً دس ہزار پودے لگانے کا اعلان کیا گیا، تاہم اگست 2021 تک منصوبہ تقریباً پچاس ایکڑ رقبے تک پھیل چکا تھا اور محکمہ جنگلات کے مطابق اس عرصے میں تقریباً تہتر ہزار پانچ سو درخت اگائے جا چکے تھے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں زیادہ تر مقامی اور کراچی کے موسم سے مطابقت رکھنے والی اقسام کا انتخاب کیا گیا تاکہ کم پانی میں بہتر نشوونما ہو اور طویل مدت تک ان کی بقا ممکن ہو۔

    منصوبے میں نیم، شیشم، کیکر، سکھ چین، جامن، امرود، چیکو، انار، جنگل جلیبی، گل موہر، گل نشتر، پارکنسونیا اور دیگر مقامی اقسام کے درخت لگائے گئے۔ ان درختوں کا انتخاب اس بنیاد پر کیا گیا کہ یہ کراچی کی شدید گرمی اور نسبتاً خشک موسم کو برداشت کر سکتے ہیں، کم پانی میں نشوونما پاتے ہیں، مقامی پرندوں اور دیگر جانداروں کے لیے بہتر مسکن فراہم کرتے ہیں اور شہری ماحول میں نسبتاً کم دیکھ بھال کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں۔

    محکمہ جنگلات کے مطابق اس منصوبے سے متعدد ماحولیاتی فوائد متوقع تھے، جن میں فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنا، درجہ حرارت میں کمی، گردوغبار اور فضائی آلودگی کو کم کرنا، مون سون کے دوران مٹی کے کٹاؤ میں کمی، سمندر سے کھارے پانی کی پیش قدمی کو محدود کرنے میں مدد اور پرندوں و دیگر جنگلی حیات کے لیے نئی پناہ گاہیں فراہم کرنا شامل ہیں۔

    چند برس بعد جب درخت بڑے ہوئے تو ان میں سے کئی اقسام نے پھل دینا بھی شروع کر دیا، جبکہ پہلے سے بنجر نظر آنے والا علاقہ ایک سرسبز پٹی میں تبدیل ہونے لگا۔

    محکمہ جنگلات نے اس منصوبے کو لیاری دریا تک محدود رکھنے کے بجائے مستقبل میں مزید وسعت دینے کا بھی اعلان کیا تھا، جبکہ سندھ حکومت نے بعد ازاں دیگر شہروں میں بھی اسی طرز کے شہری جنگلات قائم کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ سکھر میں پیپلز اربن فاریسٹ کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا، جسے کراچی کے بعد دوسرا بڑا شہری جنگلاتی منصوبہ قرار دیا گیا۔

    اگرچہ لیاری اربن فاریسٹ نے ایک ویران علاقے کو سبز پٹی میں تبدیل کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی، تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ لیاری دریا کی مکمل بحالی صرف شجرکاری سے ممکن نہیں۔ دریا میں مسلسل سیوریج کے اخراج، صنعتی فضلے، ٹھوس کچرے اور تجاوزات جیسے مسائل حل کیے بغیر اس ماحولیاتی نظام کی طویل مدتی بحالی ایک بڑا چیلنج رہے گا۔

  • لیاری سے ڈاکٹر بننے تک، شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل کالج نے ہزاروں خوابوں کو حقیقت میں بدلا

    لیاری سے ڈاکٹر بننے تک، شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل کالج نے ہزاروں خوابوں کو حقیقت میں بدلا

    کراچی کے تاریخی علاقے لیاری میں قائم سندھ حکومت کے زیر انتظام شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل کالج آج سندھ کے اہم سرکاری طبی تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کالج کا قیام لیاری اور کم آمدنی والے علاقوں کے باصلاحیت نوجوانوں کو معیاری طبی تعلیم فراہم کرنے کے مقصد سے کیا گیا تاکہ معاشی مشکلات کسی طالب علم کے ڈاکٹر بننے کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔

    یہ میڈیکل کالج لیاری جنرل اسپتال سے منسلک ہے، جبکہ یہاں تدریسی سرگرمیوں کا آغاز 2012 میں ہوا۔ قیام کے بعد سندھ حکومت نے کالج کے انفراسٹرکچر، تدریسی سہولیات، جدید طبی آلات، لیبارٹریوں، کلاس رومز، فیکلٹی اور لیاری جنرل اسپتال کی استعداد کار میں مسلسل اضافہ کیا تاکہ طلبہ کو جدید طبی تعلیم اور عملی تربیت ایک ہی مقام پر میسر آ سکے۔ آج یہ ادارہ کراچی کے نمایاں سرکاری میڈیکل کالجوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    لیاری جنرل اسپتال، جو اس کالج کا تدریسی اسپتال ہے، جنوبی کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں شامل ہے۔ یہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے آتے ہیں، جس کے باعث میڈیکل طلبہ کو مختلف بیماریوں کی تشخیص، علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال کا عملی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ یہی عملی تربیت مستقبل کے ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    کالج میں ایم بی بی ایس کی تعلیم کے دوران طلبہ کو ایناٹومی، فزیالوجی، بائیو کیمسٹری، فارماکولوجی، پیتھالوجی، فارنزک میڈیسن، کمیونٹی میڈیسن، میڈیسن، جنرل سرجری، امراض اطفال، امراض نسواں و زچہ بچہ، نفسیات، ناک کان گلا، امراض چشم، آرتھوپیڈکس، اینستھیزیا، ریڈیالوجی اور دیگر کلینیکل مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نرسنگ سے متعلق تعلیمی پروگرام بھی دستیاب ہیں۔

    سندھ حکومت نے مختلف ادوار میں کالج اور اسپتال میں جدید طبی مشینری، نئی لیبارٹریاں، تدریسی بلاکس، کلاس رومز، طبی سہولیات اور تدریسی عملے میں اضافہ کیا تاکہ طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ طبی تعلیم فراہم کی جا سکے۔

    ادارے میں طالبات کے لیے محفوظ اور باوقار تعلیمی ماحول کی فراہمی پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ہراسگی کے خلاف ضابطہ کار، شکایات کے ازالے کا نظام، کیمپس سکیورٹی اور نظم و ضبط کے مؤثر انتظامات طالبات کو بلا خوف و خطر اپنی تعلیم جاری رکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

    اس میڈیکل کالج سے سب سے زیادہ فائدہ لیاری، کیماڑی، ملیر، کورنگی، لانڈھی، بن قاسم، حب، اندرون سندھ اور بلوچستان کے ان خاندانوں کو پہنچا ہے جو نجی میڈیکل کالجوں کی بھاری فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس ادارے نے ہزاروں نوجوانوں کے لیے ڈاکٹر بننے کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی راہ ہموار کی ہے۔

    کالج کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر انجم رحمان کے مطابق، ادارے کے قیام سے اب تک 1200 سے زائد طالب علم اپنی تعلیم مکمل کر کے ڈاکٹر بن چکے ہیں۔ یہ فارغ التحصیل ڈاکٹر سندھ اور بلوچستان کے مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور صحت کے شعبے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    لیاری جیسے تاریخی مگر طویل عرصے تک پسماندہ رہنے والے علاقے میں ایک جدید سرکاری میڈیکل کالج کا قیام صرف طبی تعلیم کے فروغ تک محدود نہیں بلکہ اس نے صحت کی سہولیات میں بہتری، مقامی نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی خدمت کے نئے راستے کھولنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل پاکستان کی منفرد، مثبت اور تحقیق پر مبنی کہانیاں آپ تک پہنچاتا ہے تاکہ ترقی، تعلیم، صحت اور عوامی خدمت کے ایسے منصوبوں کو اجاگر کیا جا سکے جن سے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بہتر ہو رہی ہیں۔

    مزید ایسی معلوماتی ویڈیوز کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔