کراچی کے لیاری میں ایک ایسا ہسپتال موجود ہے جس کی تاریخ پاکستان کے قیام سے پہلے کی ہے اور جس نے کئی دہائیوں تک کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے مریضوں کو آنکھوں کے علاج کی مفت سہولت فراہم کی۔ یہ اسپینسر آئی ہسپتال ہے، جو لی مارکیٹ کے قریب صدیق وہاب روڈ پر قائم ہے۔
اسپینسر آئی ہسپتال کی بنیاد پارسی ماہر امراض چشم ڈاکٹر کے این اسپینسر نے 1938 میں رکھی۔ ہسپتال کی باقاعدہ عمارت 1940 میں کھولی گئی۔ اس کا بنیادی مقصد شہر کے غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو آنکھوں کے علاج کی سہولت فراہم کرنا تھا۔
وقت کے ساتھ اسپینسر آئی ہسپتال کراچی سے نکل کر ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے مریضوں کے لیے بھی اہم مرکز بن گیا۔ یہاں مفت علاج، آنکھوں کے پیچیدہ امراض کی تشخیص اور سرجری کی سہولت نے اسے ایک منفرد مقام دیا۔
اس ہسپتال کی تاریخ میں قرنیہ کی پیوند کاری بھی ایک اہم باب ہے۔ ایک طویل وقفے کے بعد یہاں دوبارہ قرنیہ کی پیوند کاری شروع کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ آنکھوں کے مختلف امراض کے علاج کے ساتھ اسپینسر آئی ہسپتال جدید طبی تکنیکوں کے استعمال کے حوالے سے بھی اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے۔
لیکن وقت کے ساتھ اس تاریخی ادارے کا حال بدلنے لگا۔
لیاری میں امن و امان کے مسائل، وسائل کی کمی، طبی آلات اور ادویات کی قلت، بجلی کے مسائل اور طبی عملے کی کمی نے ہسپتال کی سرگرمیوں کو متاثر کیا۔ 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ہسپتال کی روزانہ او پی ڈی میں تقریباً 50 سے 100 مریض آتے تھے، جبکہ ڈاکٹروں اور دیگر ضروری عملے کی کئی آسامیاں خالی تھیں۔
پھر 2026 میں اس تاریخی ہسپتال کی کہانی نے ایک نیا موڑ لیا۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور حکومت سندھ کی شراکت سے اسپینسر آئی ہسپتال کی بحالی اور جدید کاری کا عمل شروع کیا گیا۔ ہسپتال کے وارڈز، آپریشن تھیٹر اور او پی ڈی کو بہتر بنایا گیا، جبکہ جدید تشخیصی آلات، لیزر ٹیکنالوجی، انفیکشن کنٹرول کے نظام اور مریضوں کے لیے بہتر سہولتوں پر بھی توجہ دی گئی۔
ہسپتال کو 6 اپریل 2026 سے دوبارہ فعال کرنے کا اعلان کیا گیا۔ یہاں موتیا، کالا موتیا، پردہ چشم کے امراض، بچوں کی آنکھوں کے مسائل، بینائی کی کمزوری اور دیگر پیچیدہ امراض کے علاج کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔
اور اب اس تاریخی ادارے میں مریضوں کی واپسی کے اعداد و شمار اس تبدیلی کی بڑی تصویر پیش کرتے ہیں۔
28 جولائی 2026 کو ایک سرکاری بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسپینسر آئی ہسپتال میں روزانہ تقریباً 4 ہزار مریضوں کو مفت او پی ڈی کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ اسی بریفنگ کے مطابق اپریل 2026 سے اب تک 700 سے زائد لیزر اور دیگر طبی طریقہ علاج بھی کیے جاچکے ہیں۔
یہ اعداد و شمار اس ہسپتال کے ماضی اور حال کے درمیان ایک نمایاں فرق بھی دکھاتے ہیں۔ ایک طرف وہ دور ہے جب وسائل کی کمی اور امن و امان کے مسائل نے مریضوں کی آمد اور طبی سرگرمیوں کو محدود کردیا تھا، اور دوسری طرف 2026 کا وہ مرحلہ ہے جب سرکاری بریفنگ کے مطابق روزانہ ہزاروں مریض دوبارہ اس ادارے کا رخ کر رہے ہیں۔
اسپینسر آئی ہسپتال کی اصل اہمیت صرف اس کی تقریباً نو دہائیوں پر محیط تاریخ یا قدیم عمارت میں نہیں۔ اس کی اہمیت اس عوامی خدمت میں ہے جس کے لیے یہ ادارہ قائم کیا گیا تھا۔
ایک ایسے شہر میں جہاں آنکھوں کا مہنگا علاج غریب خاندانوں کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے، مفت سرکاری علاج کی یہ سہولت آج بھی ہزاروں افراد کے لیے اہم ہے۔
1938 میں غریبوں کے لیے آنکھوں کے علاج کا جو خواب دیکھا گیا تھا، وہ کئی دہائیوں کے اتار چڑھاؤ کے بعد 2026 میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔
اسپینسر آئی ہسپتال صرف لیاری کی ایک تاریخی عمارت نہیں، بلکہ کراچی کی طبی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس نے مشکل وقت دیکھا، زوال کا سامنا کیا اور اب دوبارہ اپنے دروازے مریضوں کے لیے کھول رہا ہے۔
یہ صرف ایک ہسپتال کی بحالی نہیں، بلکہ ایک ایسے تاریخی عوامی ادارے کی واپسی ہے جس کا مقصد ابتدا ہی سے لوگوں کو روشنی دینا تھا۔
ساگا ڈیجیٹل
جہاں ہم صرف عمارتوں کی تاریخ نہیں، ان کے پیچھے چھپی عوامی خدمت کی کہانیاں بھی تلاش کرتے ہیں۔
