بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے شعبہ فارمیسی کی چوتھے سال کی طالبہ مناہل خان ان نوجوانوں میں شامل ہیں جنہیں اپنے گھر کے قریب اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتیں آزمانے اور پریکٹس کرنے کے مواقع بھی میسر ہیں۔
ان کے لیے جامعہ محض ایک درس گاہ نہیں بلکہ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں تعلیم، کھیل اور شخصیت سازی ایک ساتھ آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
حکومت سندھ کی جانب سے 2010 میں قائم کی جانے والی بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری آج علاقے کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے اہم مراکز میں شمار ہوتی ہے۔ جامعہ کے قیام کا مقصد لیاری اور اس سے ملحقہ علاقوں کے نوجوانوں کو ان کے قریب معیاری اور قابل رسائی اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا بھی تھا۔
لیاری کی شناخت کئی دہائیوں سے فٹ بال، باکسنگ اور دیگر کھیلوں سے جڑی ہوئی ہے۔ اس علاقے کی گلیوں اور میدانوں نے کئی باصلاحیت کھلاڑیوں کو جنم دیا، لیکن اب لیاری صرف کھیلوں کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں بھی اپنی نئی شناخت قائم کر رہا ہے۔
بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی میں تعلیم کے ساتھ کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ جامعہ میں طلبہ کے لیے جمنازیم، فٹ بال گراؤنڈ، کرکٹ اور ہاکی کے میدان، باسکٹ بال، بیڈمنٹن اور ٹینس سمیت مختلف کھیلوں کی سہولیات موجود ہیں۔ مرد اور خواتین طلبہ کو مختلف کھیلوں میں حصہ لینے اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، جبکہ جامعہ کی کھیلوں کی ٹیمیں بین الجامعاتی مقابلوں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔
مناہل خان کے لیے یہ سہولت اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ فارمیسی جیسے ایک مشکل اور ذمہ داری والے شعبے میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر آف فارمیسی کے پروگرام میں طلبہ کو ادویات، دواسازی، کیمسٹری، حیاتی کیمیا، جسمانی ساخت، ادویات کے اثرات، ہسپتال فارمیسی، طبی فارمیسی اور ادویات کے معیار سمیت مختلف موضوعات پڑھائے جاتے ہیں۔ اس طرح طلبہ کو پیشہ ورانہ زندگی کے لیے نظری اور عملی دونوں طرح کی تربیت حاصل ہوتی ہے۔
مناہل خان کہتی ہیں کہ گھر کے قریب موجود جامعہ میں تعلیم کے ساتھ کھیلوں کی سہولیات دستیاب ہونا مقامی لڑکیوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق ایسے مواقع طالبات کو نہ صرف اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ انہیں کھیلوں میں حصہ لینے، جسمانی صحت بہتر بنانے اور اپنے اندر اعتماد پیدا کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔
لیاری جیسے گنجان آبادی والے علاقے میں گھر کے قریب اعلیٰ تعلیم کا ادارہ بہت سے خاندانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کراچی میں روزانہ طویل فاصلے کا سفر، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور وقت کی کمی ایسے عوامل ہیں جو کئی نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ مقامی سطح پر جامعہ کی موجودگی ان مشکلات کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
جامعہ میں طلبہ کے لیے مختلف غیر نصابی سرگرمیوں اور سوسائٹیز کا بھی انتظام ہے، جہاں وہ کھیلوں کے علاوہ مباحثے، تقریری مقابلوں، فنون، موسیقی، ٹیکنالوجی، کمیونٹی سروس اور دیگر سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ایسی سرگرمیاں طلبہ کو کلاس روم کی تعلیم کے ساتھ عملی زندگی میں ضروری ٹیم ورک، قیادت اور ابلاغ کی صلاحیتیں بہتر بنانے کا موقع دیتی ہیں۔
بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری ان نوجوانوں کے لیے بھی امید کی کرن ہے جو محدود مالی وسائل کے باوجود اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سرکاری جامعہ ہونے کی وجہ سے یہاں مختلف پروگراموں کی فیس نجی جامعات کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے، جس سے متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم تک رسائی آسان ہوتی ہے۔
لیاری کی کہانی صرف محرومیوں، مسائل اور مشکلات کی کہانی نہیں۔ یہی علاقہ اپنے کھیلوں کے میدانوں سے ملک کو باصلاحیت کھلاڑی دیتا رہا ہے اور اب اسی سرزمین سے ڈاکٹر، فارماسسٹ، اساتذہ، محققین اور دیگر شعبوں کے ماہرین بھی سامنے آ رہے ہیں۔
مناہل خان اس بدلتی ہوئی تصویر کی ایک مثال ہیں۔ ایک طرف فارمیسی کی تعلیم اور مستقبل کے پیشے کی تیاری، دوسری طرف کھیلوں کے میدان میں اپنی صلاحیتیں آزمانے کا موقع، یہ امتزاج اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نوجوانوں کو اگر ان کے قریب بہتر تعلیمی اور تربیتی مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ اپنے علاقے کی شناخت کو بھی نئی سمت دے سکتے ہیں۔
لیاری کی گلیوں سے نکلنے والی یہ نئی نسل اب صرف کھیل کے میدان میں کامیابی کا خواب نہیں دیکھ رہی، بلکہ اعلیٰ تعلیم کے ذریعے اپنے مستقبل کی نئی منزلیں بھی تلاش کر رہی ہے۔
