Tag: تاریخ

  • لہروں پر لکھی تاریخ: کراچی کے قدیم ترین جزائر اور کچھی واگھیر و بڈالہ برادریاں

    لہروں پر لکھی تاریخ: کراچی کے قدیم ترین جزائر اور کچھی واگھیر و بڈالہ برادریاں

    کراچی کو اگر صرف انگریز راج کی تیار کردہ بندرگاہ یا قیام پاکستان کے بعد آباد ہونے والا ایک جدید صنعتی شہر سمجھا جائے تو یہ اس خطے کی ہزاروں سالہ ساحلی تاریخ کے ساتھ شدید ناانصافی ہوگی۔

     کراچی کا جدید بندرگاہی شہر بننے کا سفر اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب کلاچی کے بھنوروں اور بحیرہ عرب کے دریائے سندھ کے ڈیلٹائی ساحلوں پر بادبانی جہازوں کا راج تھا۔ اس کٹھن اور بے رحم سمندری دنیا میں جنہوں نے سندھ کے ساحلوں کو خلیج، عرب اور افریقہ کے ساحلوں سے جوڑے رکھا، وہ سندھ اور کچھ کی دو قدیم ترین ملاحی و بحری برادریاں، کچھی واگھیر اور کچھی بڈالہ جماعتیں تھیں۔

    یہ دونوں برادریاں محض مچھلیاں پکڑنے والے ماہی گیر یا عام کشتی بان نہیں بلکہ بحیرہ عرب کی شاہراہ پر سفر کرنے والی ایک غیر رسمی ‘بحری قوت’ اور سندھ و گجرات کے ساحلی خطے کا زندہ و جاوید استعارہ ہیں۔

    نسبی ذاتیں نہیں، فن و حرفت کی انجمن

    سندھ کی بشریاتی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو سماٹ قبیلوں کی متعدد ذاتیں، مثلاً ہنگورا، سومرو، مندھرا، بھٹی، جونیجا اور تھیبا، اپنی شجرہ نسبی بنیادوں پر الگ شناخت رکھتی ہیں، لیکن کچھی واگھیر اور بڈالہ برادریاں اس سے مختلف ایک بالکل جداگانہ تاریخ پیش کرتی ہیں۔

    یہ محض ایک واحد نسبی قبیلہ نہیں بلکہ مختلف نسبی گروہوں، مثلاً جاڑیجا، راجپوت، بلوچ اور ڈیلٹائی سندھ کے ساحلی ملاحوں، پر مشتمل ایک تاریخی پیشہ ورانہ اور بحری اتحاد ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے مخصوص فن، جرات اور سمندری مہارت کی بنیاد پر ان کی شناخت قائم ہوئی۔

    واگھیر اپنی بے باکی، لکڑی کے کام، تیز رفتار بادبانی سفر اور سمندری مہارت کے باعث ‘واگھیر’ کہلائے۔

    بڈالہ اپنے ناخدانہ علوم، قطب نما کے بغیر سمت شناسی اور لکڑی کے جہاز بنانے کے کمال کی وجہ سے ‘بڈالہ’ کی شناخت اختیار کر گئے۔

    وقت گزرنے کے ساتھ یہی فن اور حرفت ان کا سب سے بڑا قبیلہ اور شناختی لقب بن گئی۔

    کراچی کے قدیم ترین جزائر اور ملاحی مسکن

    اٹھارویں اور انیسویں صدی میں جب رن کچھ اور گجرات کی اوکھا، دوارکا اور ماندوی بندرگاہوں سے تجارتی نقل و حمل کے مراکز بدل رہے تھے تو کچھی واگھیر اور بڈالہ ملاحوں کی بڑی تعداد نے کراچی کے قدرتی جزائر، بابا جزیرہ، بھٹ جزیرہ، منوڑا، کیماڑی اور صالح آباد کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔

    یہ جزائر صرف ان کی رہائش گاہیں نہیں تھے بلکہ بحیرہ عرب پر کنٹرول کے لیے ان کے فطری مراکز تھے۔ بابا جزیرہ اور بھٹ کے پرانے محلے، جنہیں ‘پاڑے’ کہا جاتا ہے، نسل در نسل منتقل ہونے والے بحری علوم، سمندری محاوروں اور لکڑی کے بحری جہازوں کی مرمت کے اہم مراکز بن کر ابھرے۔

    افریقہ سے ممبئی تک بحری راجدھانی اور دبئی کی تعمیر

    بادبانی کشتیوں کے زمانے میں جب سمندر کی خطرناک لہروں پر صرف تجربہ اور جرات ہی نجات کا ذریعہ ہوتی تھی، واگھیر اور بڈالہ ملاحوں کی بادبانی کشتیاں ممبئی سے لے کر مسقط، عدن، ممباسا، زنجبار اور مڈغاسکر کے ساحلوں تک بلا خوف و خطر سفر کرتی تھیں۔

    اس زمانے میں دبئی اور خلیجی ریاستوں کی ابتدائی آباد کاری اور معیشت میں ان ملاحوں کا کردار سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔

    موتیوں کی غواصی

    خلیج میں تیل کی دریافت سے قبل موتیوں کی تجارت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھی، جس میں یہ کچھی ملاح گہرے سمندر میں غواصی کے ماہر کے طور پر خدمات انجام دیتے تھے۔

    خوراک اور ضروری سامان کی ترسیل

    بیسویں صدی کے اوائل میں جب دبئی ایک چھوٹی بندرگاہی خور تک محدود قصبہ تھا تو کراچی اور کچھ کی بندرگاہوں سے غلہ، کپڑا، لکڑی اور روزمرہ کی ضروریات یہی ملاح اپنی کشتیوں میں لاد کر دبئی اور شارجہ پہنچایا کرتے تھے۔ البتہ یہ سلسلہ وادی سندھ کے زمانے سے یہاں کے باشندے جاری رکھے ہوئے تھے۔

    شیخ راشد کے دور میں بابا اور بھٹ کے کئی کچھی واگھیر برادری کے افراد، جو اسمگلنگ سے وابستہ تھے، دبئی منتقل ہوگئے اور انہوں نے دبئی کو اپنا مرکز بنا لیا۔ اس دور میں دبئی کے بڑے شیوخ ان کی بھرپور پذیرائی کرتے تھے۔ دبئی کو کاروباری مرکز بنانے میں بھی ان کے کردار کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یہی لوگ پاکستان سے تعمیراتی مزدور اپنی لانچوں کے ذریعے دبئی لے جاتے تھے۔

    انسانی ہمدردی اور ریاست جونا گڑھ کا تاریخی ریسکیو

    تاریخ کے وہ گوشے جو عام نصابی کتب میں نظر نہیں آتے، ان ملاحوں کی انسانیت اور غیر معمولی جرات کی گواہی دیتے ہیں۔

    حاجی سر عبداللہ ہارون کی مدد

    تحریک پاکستان کے رہنما حاجی سر عبداللہ ہارون کی ابتدائی یتیمی کے زمانے میں، جب ان کی والدہ حنیفہ بائی شدید غربت اور عسرت کا شکار تھیں، تو ساحلی ملاحوں نے انہیں ان کے شیر خوار بچے سمیت بلا کرایہ اپنی بادبانی کشتی کے ذریعے کچھ کے بھوج سے کراچی کے چاکیواڑہ پہنچایا، جس کے بعد انہوں نے اسی شہر میں ترقی کی منازل طے کیں۔

    جونا گڑھ کے نواب کی محفوظ منتقلی

    قیام پاکستان کے وقت جب ریاست جونا گڑھ کے نواب، نواب مہابت خانجی سوم، نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تو بھارتی افواج نے ریاست کی ناکہ بندی کر دی۔ اس نازک موقع پر واگھیر اور بڈالہ ناخداؤں نے بھارتی بحریہ کو چکمہ دیتے ہوئے اپنی بادبانی کشتیوں پر نواب کے شاہی خاندان، قیمتی اثاثوں، سرکاری دستاویزات اور شاہی خزانے کو سمندر کی تاریک راتوں میں محفوظ طریقے سے کراچی بندرگاہ پہنچایا۔

    سمگلنگ، سونے کی ترسیل اور غیر رسمی معیشت

    بیسویں صدی کے وسط، خصوصاً 1950 سے 1980 کی دہائی تک، جب برصغیر میں سخت کسٹمز قوانین اور کنٹرولڈ معیشت نافذ تھی، یہ ملاح سمندری راہداری کے غیر رسمی بادشاہ سمجھے جاتے تھے۔

    دبئی اور مسقط سے سونا اور دیگر نایاب اشیا لانے میں واگھیر ملاحوں کی تیز رفتار بادبانی اور انجن والی کشتیوں کا نیٹ ورک سب سے مضبوط تھا۔ وہ سمندری گشت کرنے والے بحری جہازوں اور ریڈار کی نگرانی سے بچتے ہوئے سامان کراچی کے جزائر میں اتارتے اور پھر وہاں سے متوازی منڈیوں تک پہنچاتے تھے۔ دبئی سے آنے والا یہی اسمگل شدہ سامان کھارادر اور بولٹن مارکیٹ میں فروخت ہوتا تھا، جس سے کئی میمن خاندان ارب پتی اور کھرب پتی بن گئے۔

    اس عمل نے بھی کراچی کو اس دور میں ایک بڑے تجارتی مرکز کی حیثیت دلانے میں غیر رسمی کردار ادا کیا۔ ساٹھ کی دہائی میں قاسم بھٹی اور جنرل ضیا کے دور میں عبداللہ یعقوب بھٹی نے اسمگلنگ کے شعبے میں بڑا نام کمایا۔ عبداللہ یعقوب بھٹی کی جزیرہ بھٹ کے علاوہ کراچی، دبئی اور یورپ کے کئی ممالک میں بھی وسیع جائیدادیں بتائی جاتی ہیں۔

    دفاع پاکستان اور ایٹمی پروگرام کے خاموش سپاہی

    پاک بحریہ اور ملک کے ایٹمی پروگرام کی تاریخ ان کچھی ملاحوں کے ذکر کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہے۔

    1965 اور 1971 کی جنگیں

    1965 کے تاریخی ‘آپریشن دوارکا’ میں پاک بحریہ کو بھارتی ساحل دوارکا اور اوکھا کے اتھلے پانیوں اور راستوں کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنے والے یہی مقامی واگھیر ناخدا تھے، کیونکہ دوارکا ان کی ایک قدیم گزرگاہ تھی۔ 1971 کی جنگ میں بھی ان ملاحوں نے اپنی چھوٹی کشتیوں کے ذریعے سمندر میں گشت کیا، پاک بحریہ کو معلومات فراہم کیں اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

    ایٹمی ٹیکنالوجی کی خفیہ ترسیل

    1970 اور 1980 کی دہائیوں میں جب پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر مغربی ممالک کی جانب سے سخت پابندیاں عائد تھیں، تو بیرون ملک سے لائی جانے والی حساس ٹیکنالوجی، ری ایکٹروں کے آلات اور خام مال کو کھلے سمندر میں بڑے بحری جہازوں سے ان ملاحوں کی لکڑی کی کشتیوں پر منتقل کیا جاتا تھا۔

    واگھیر اور بڈالہ ناخدا ان آلات کو عالمی نگرانی سے بچا کر کراچی کے جزائر، بابا، بھٹ اور منوڑا، پر اپنی خفیہ پناہ گاہوں تک لاتے، جہاں سے انتہائی رازداری کے ساتھ انہیں ایٹمی تنصیبات تک پہنچایا جاتا تھا۔

    سمت شناسی کا علم اور بغیر نقشے کے کشتی سازی

    ان برادریوں کا سب سے حیران کن سائنسی اور فنی کارنامہ ان کا روایتی بحری علم اور کشتی سازی ہے۔

    غیر نقشہ جاتی کشتی سازی

    بڈالہ برادری کے استاد، جنہیں ‘واڈھا’ کہا جاتا تھا، کسی کاغذ، نقشے یا جدید آلے کے بغیر صرف اپنے ذہنی حساب اور روایتی پیمانوں کی مدد سے 200 سے 500 ٹن تک کے لکڑی کے بحری جہاز، یعنی لانچیں، تیار کر لیتے تھے، جن کا توازن اور ساخت انتہائی معیاری ہوتی تھی۔

    سمندری لغت

    وہ ہواؤں کے رخ اور سمتوں کو اپنے کچھی ناموں سے پکارتے تھے، جیسے شمال کو ‘اوتر’، جنوب کو ‘دکھن’، مشرق کو ‘اوگم’ اور مغرب کو ‘آتھم’۔ ستاروں کو دیکھ کر سمت متعین کرنے والے استاد کو ‘معلم’ اور کشتی کے کپتان کو ‘ناخدا’ کہا جاتا تھا۔

    کانجی مالم، جس نے واسکو ڈے گاما کو برصغیر کا بحری راستہ دکھایا، ناخدا قاسم واگھیر اور ناخدا ابراہیم کچھی جیسی شخصیات اسی بحری روایت کی پیداوار تھیں۔

    غرض یہ کہ کراچی کے ان قدیم ترین جزائر پر آباد کچھی واگھیر اور کچھی بڈالہ برادریاں محض ماضی کا ایک قصہ نہیں بلکہ کراچی کی بحری روح ہیں۔ چاہے یتیم عبداللہ ہارون کی دست گیری ہو، نواب جونا گڑھ کی سمندری نجات، جنگوں میں پاک بحریہ کی معاونت یا ایٹمی پروگرام کا کٹھن سفر، ان ملاحوں نے بغیر کسی تمغے اور سرکاری اعتراف کے سمندر کے سینے پر اپنی جرات کی تاریخ رقم کی۔

    آج جب فائبر گلاس کی کشتیاں اور جدید ٹیکنالوجی ان کے روایتی ہنر کو ختم کر رہی ہیں اور کراچی کے جزائر بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہیں، تو ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی کی اس اصل بحری شناخت اور ان گمنام ہیروز کی تاریخی خدمات کو محفوظ کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ کلاچی کی بستی کو شہر قائد بنانے میں کن ملاحوں کا لہو اور پسینہ شامل تھا۔

  • انسان، زمین اور ملکیت: وادی سندھ کے زوال سے طبقاتی اونچ نیچ تک کی تاریخی داستاں

    انسان، زمین اور ملکیت: وادی سندھ کے زوال سے طبقاتی اونچ نیچ تک کی تاریخی داستاں

    آثارِ قدیمہ کا علم محض قدیم پتھروں، مٹی کے برتنوں، برباد شدہ عمارتوں اور کھنڈرات کے مطالعے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی ذہن، سماج اور معاشی فکر کے ارتقا کو سمجھنے کا ایک سائنسی اور تاریخی راستہ ہے۔

    انسان کی ہزاروں سالہ تاریخ کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ وہ انسان، جو اپنے ابتدائی دور میں ایک پُرامن اور مساوات پسند فطرت کے ساتھ زندگی گزارتا تھا، وہ کس طرح تاریخ کے دھارے میں آگے بڑھ کر ذات پات، نجی ملکیت اور طبقاتی اونچ نیچ کی ناگوار زنجیروں میں جکڑا گیا۔

    اس طویل تاریخی اور سماجی سفر کو سمجھنے کے لیے ہمیں قدیم پتھر کے دور، زراعت کے آغاز، وادی سندھ کی منفرد ساخت، موسمیاتی تغیرات، اور بعد ازاں برصغیر میں طبقاتی ڈھانچے اور جدید دور کے معاشی و حرفتی زوال جیسے اہم تاریخی مراحل کا جائزہ لینا پڑے گا۔

    شکار کا دور اور بے طبقاتی معاشرہ

    انسان کا قدیم ترین دور، جسے شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور کہا جاتا ہے، بنیادی طور پر ایک بے طبقاتی اور مساوات پر مبنی دور تھا۔ ماہرینِ بشریات کی جدید تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس دور میں نجی ملکیت کا کوئی وجود نہ تھا۔

    ذخیرہ اندوزی کا عدم وجود: چونکہ انسان شکار کرتا تھا یا جنگلی پھل جمع کرتا تھا، اس لیے خوراک اتنی مقدار میں نہیں ہوتی تھی کہ اسے آئندہ چند سالوں کے لیے ذخیرہ کیا جا سکے۔ ذخیرہ اندوزی نہ ہونے کا صاف مطلب یہ تھا کہ اس دور میں کوئی فرد معاشی طور پر ‘امیر’ یا ‘غریب’ نہیں ہو سکتا تھا۔

    غلامی کا عدم جواز: اس دور میں کسی دوسرے انسان کو قید کرنا یا غلام بنانا معاشی لحاظ سے بے سود تھا، کیونکہ کسی غلام کی مشقت سے حاصل ہونے والی خوراک خود اس کی اپنی بقا کے لیے کافی ہوتی تھی۔ اس لیے طاقت کے بل بوتے پر دوسروں کو غلام بنانے کا ادارہ اس وقت تک وجود میں نہیں آ سکا، جب تک وسائطِ پیداوار میں اضافہ نہیں ہوا۔

    زرعی انقلاب اور ‘ملکیت’ کا جنم

    تقریباً 10000 سے 12000 سال قبل، جب انسان نیولیتھک دور میں زراعت اور مویشی بانی کا پیشہ اختیار کیا، تو انسانی معاشرت کی بنیادیں یکسر تبدیل ہو گئیں۔

    مستقل سکونت اور نجی جائیداد: فصل اگانے کے لیے انسان کو زمین کے ایک مخصوص ٹکڑے سے منسلک ہونا پڑا۔ یہیں سے ‘میرا’ اور ‘تیرا’ کا بنیادی تصور پیدا ہوا، یعنی زمین، ندی کے پانی اور مویشیوں پر نجی ملکیت کا قیام۔

    اضافی پیداوار: زراعت نے انسان کو اس قابل بنایا کہ وہ اپنی فوری ضرورت سے زیادہ اناج پیدا کر سکے۔ اس اضافی اناج نے ذخیرہ اندوزی کو جنم دیا، اور جہاں ذخیرہ اندوزی آئی، وہاں اس کے دفاع، تحفظ اور انتظام کے لیے ایک ایسا طبقہ پیدا ہوا جس نے خود کھیتوں میں محنت کرنے کے بجائے حکمرانی اور دفاع کی ذمہ داری سنبھالی۔ یوں غیر مساوی تقسیم اور طبقاتی نابرابری کی پہلی اینٹ رکھی گئی۔

    وادی سندھ کی تہذیب، ایک غیر مذہبی اور پُرامن استثنا

    تاریخ کے اس ارتقا میں وادی سندھ کی تہذیب ایک انتہائی دلفریب اور منفرد مثال کے طور پر سامنے آتی ہے۔ کانسی کے دور کی دیگر تہذیبوں، مثلاً مصر اور میسوپوٹیمیا، کے برعکس وادی سندھ میں ہمیں فراعنہ کے سائز کے شاندار محل، بادشاہوں کے حاکمانہ مقبرے یا طبقاتی تفریق پر مبنی بڑے مجسمے نہیں ملتے۔

    آثارِ قدیمہ کی تنقیدی نگاہ سے اگر وادی سندھ کی دریافتوں کو دیکھا جائے تو پرانے نوآبادیاتی مورخین کے ان دعوؤں کا بطلان ہوتا ہے کہ یہ کوئی مذہبی یا دیوتاؤں کی پوجا کرنے والی تہذیب تھی۔

    ‘پشوپتی’ مہر: ایک مہر پر یوگا کے آسن میں بیٹھی ہوئی شکل کو اکثر پرانے ماہرین نے ‘پری شیو’ کا نام دیا، جبکہ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق یہ تجارتی مقصد کے لیے بنائی گئی مہر اور ماحولیاتی توازن یا قبیلے کے سردار کی علامت تھی، نہ کہ کوئی دیوتا۔

    مٹی کی مورتیوں کی حقیقت: عورت نما مٹی کی مورتیوں کو فوراً ‘مدر گاڈیس’ یا ‘مادرِ وطن’ کا مذہبی لقب دینا عجلت پسندی تھی۔ آثارِ قدیمہ کے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ روزمرہ فنکاری، بچوں کے کھلونے یا زچگی کی عام علامات تھیں، کیونکہ ان کے ساتھ کوئی مندر یا پوجا گاہ منسوب نہیں تھی۔

    فطرت سے رشتہ: پیپل کا درخت، ندی کی صفائی اور بیل کی تصاویر دیومالائی پوجا کے بجائے کسان اور تاجر کی فطرت سے جڑی روزمرہ کی ضروریات اور باربرداری کا حصہ تھیں۔

    امن پسند معاشرہ: کھدائیوں سے تلواروں، خود اور عسکری آلاتِ حرب کا نہ ملنا ثابت کرتا ہے کہ وادی سندھ کا معاشرہ ایک پُرامن، تجارتی اور حرفت کار معاشرہ تھا، جہاں محنت کشوں کو احترام حاصل تھا اور کوئی عسکری طاقت کا طبقاتی تسلط قائم نہیں تھا۔

    موسمیاتی تغیر، زوال اور زرعی پسماندگی

    تقریباً 1900 قبلِ مسیح کے قریب وادی سندھ شدید موسمیاتی تغیر، بارشوں کے نظام کی تبدیلی اور سرسوتی یا ہاکڑہ ندی کی خشک سالی کا شکار ہوئی۔

    شہروں کا زوال: موہنجوڈارو اور ہڑپہ جیسے منصوبہ بند اور منظم شہر اجڑ گئے۔

    ہجرت اور حرفت کاری کا زوال: شہری آبادی مشرق، یعنی گنگا کے میدانوں، اور جنوب، یعنی گجرات اور سواشٹرا، کی طرف ہجرت کر گئی۔ شہر ختم ہونے سے بین الاقوامی تجارت اور اعلیٰ درجے کی صنعتی حرفت کاری زوال پذیر ہوئی، اور وادی سندھ کے باشندے دیہی علاقوں میں صرف بنیادی زراعت اور مویشی بانی تک محدود ہو کر رہ گئے۔

    بیرونی آلاتِ حرب اور طبقاتی اونچ نیچ کی شروعات

    جب وادی سندھ کی مقامی آبادی موسمیاتی زوال کے بعد زراعت اور دیہی زندگی میں جدوجہد کر رہی تھی، ٹھیک اسی دور، 1500 قبلِ مسیح کے بعد، وسطی ایشیا اور فارس کی طرف سے ہند آریائی زبانیں بولنے والے گروہ برصغیر کے شمال مغربی خطے میں داخل ہوئے۔

    عسکری قوت اور وسائط پر قبضہ: ان نئے آنے والے چرواہوں کے پاس دو ایسی چیزیں تھیں جنہوں نے اس خطے کی شکل بدل کر رکھ دی۔ وہ تھے ان کے تیز رفتار گھوڑے، رتھ، اور کانسی و تانبے کے جدید آلاتِ حرب۔ مقامی آبادی کی امن پسندی اور آلاتِ حرب کی عدم موجودگی کے باعث ان نئے گروہوں نے زرخیز زمینوں اور مویشیوں کے ریوڑوں پر اپنا قبضہ قائم کر لیا۔ رگ وید میں جنگ کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ‘گوشٹی’، جس کا مطلب مویشیوں کی تلاش یا قبضہ تھا، اس بات کا بین ثبوت ہے کہ طبقاتی غلبے کی بنیاد زمین اور مویشیوں پر قبضہ ہی تھا۔

    لفظ ‘آریہ’ کی لسانیاتی اور طبقاتی اصل: جدید لسانیاتی تحقیقات، بشمول ڈاکٹر جیاکومو بینیڈیٹی کی تحقیق، یہ ظاہر کرتی ہیں کہ سنسکرت کا لفظ ‘آریہ’ بنیادی طور پر کسی نسلی زمرے کا نام نہیں تھا۔ اس دور کے معاشی تناظر میں ‘آریہ’ کا مطلب ‘آزاد شہری’، ‘زمین و جائیداد کا مالک’ یا ‘اشرافیہ’ تھا۔ اس کے برعکس وادی سندھ کے وہ قدیم حرفت کار اور مقامی محنت کش، جو معاشی وسائط کھو بیٹھے، انہیں ‘ملکیت سے محروم’ کر کے سماجی نچلے درجے، یعنی ‘داس’ یا ‘شودر’، میں دھکیل دیا گیا۔

    جدید دور کا المیہ1947 کی نقل مکانی اور معاشی و حرفتی ڈھانچے کی تبدیلی

    انسان، زمین اور وسائلِ پیداوار کے درمیان اس تاریخی رشتے کا ایک اور بڑا موڑ بیسویں صدی کے وسط میں 1947 کی تقسیمِ ہند کے موقع پر دیکھنے میں آیا۔ تاریخی اور معاشی تجزیے کے مطابق، اس عظیم الشان جغرافیائی اور سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں خطے کی صدیوں پرانی سماجی اور حرفتی ساخت کو گہرا دھچکا پہنچا۔

    صنعتی اور تجارتی طبقات کی ہجرت: وادی سندھ اور کراچی کے خطے میں صدیوں سے آباد سندھی ہندو تاجر، بینکار اور ہنرمند گروہ، جنہوں نے مقامی معیشت، زراعت کی مالی اعانت اور تجارتی نظام کو سنبھال رکھا تھا، اپنے آباؤ اجداد کی زمینوں اور کاروبار کو چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

    متروکہ املاک اور نئی سماجی مساوات: اس ناگہانی ہجرت کے نتیجے میں جو معاشی خلا پیدا ہوا، اس میں نئے آنے والے پناہ گزینوں کی آباد کاری، متروکہ املاک کی تقسیم اور کاروباری وسائط پر قبضے کا ایک پیچیدہ عمل شروع ہوا۔

    ثقافتی اور حرفتی تسلسل کا التوا: تاریخی اور آثارِ قدیمہ کے نقطۂ نظر سے کسی بھی خطے سے مقامی ہنرمندوں اور تاجروں کا یکلخت انخلا وہاں کی مقامی فنکاری، روایتی علم اور سماجی توازن میں ایک عارضی جمود کا باعث بنتا ہے۔ جس طرح قدیم دور میں شہروں کے زوال سے حرفت کاری دیہی پسماندگی میں تبدیل ہوئی، اسی طرح جدید دور کی اس اچانک نقل مکانی نے کراچی سمیت سندھ کی روایتی معاشی ساخت اور وسائطِ پیداوار پر قبضے کے نئے سماجی اور سیاسی نمونوں کو جنم دیا۔

    خلاصہ کلام یہ کہ آثارِ قدیمہ، لسانیات اور تاریخ کا تفصیلی مطالعہ ہمیں اس حتمی نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر طبقاتی یا ذات پات کے نظام میں تقسیم نہیں تھا۔ پتھر کے دور کا شکاری اور وادی سندھ کا شہری مساوات اور فطرت کے توازن پر یقین رکھتا تھا۔

    طبقات کی اصل زراعت کے آغاز اور پھر بیرونی عسکری گروہوں کے ذریعے زمین، پانی اور مویشیوں پر نجی ملکیت قائم کرنے کے بعد برصغیر میں ‘آریہ’، یعنی مالک، اور ‘شودر’، یعنی محنت کش، کی صورت میں ظاہر ہوئی۔

    وادی سندھ کے قدیم زوال سے لے کر 1947 کی عظیم نقل مکانی اور معاشی وسائط کی تبدیلی تک یہ ایک ہی تسلسل کی کڑیاں ہیں، جہاں بھی کسی خطے کا معاشی اور حرفتی توازن بگڑا، وسائطِ پیداوار اور زمین پر قبضے کے نئے نمونوں نے جنم لیا۔

    ہماری بنیادی ذمہ داری ہے کہ ہم تاریخ، زبان اور مادی ثقافت کی سائنسی حقیقتوں کو سامنے لائیں تاکہ نسل، ذات یا تعصب کے نام پر قائم کی گئی مصنوعی طبقاتی دیواروں کو ڈھایا جا سکے اور انسان کے اصل مساوات پسند ماضی کو بحال کیا جا سکے۔

  • ملڑی کی ٹکریاں: کراچی کی بارہ ہزار سال پرانی بھولی ہوئی تاریخ

    ملڑی کی ٹکریاں: کراچی کی بارہ ہزار سال پرانی بھولی ہوئی تاریخ

    ہر شہر کی اپنی ایک شناخت، ایک تاریخ اور ایک کہانی ہوتی ہے۔ کچھ کہانیاں کتابوں کے صفحات میں محفوظ رہتی ہیں، کچھ عظیم یادگاروں کی صورت میں زندہ رہتی ہیں، جبکہ کچھ کہانیاں زمین کی تہوں کے نیچے ہزاروں سال تک خاموشی سے دبی رہتی ہیں۔ کراچی بھی ایسا ہی ایک شہر ہے۔

    عام خیال یہ ہے کہ کراچی کی تاریخ ماہی گیروں کے گاؤں ‘کولاچی’ سے شروع ہوئی، پھر برطانوی دور میں یہاں کی بندرگاہ نے ترقی کی اور پاکستان بننے کے بعد یہ ملک کا سب سے بڑا صنعتی، تجارتی اور سمندری مرکز بن گیا۔ یقیناً یہ کراچی کی تاریخ کے اہم ابواب ہیں، لیکن یہ اس کی ابتدا نہیں ہے۔

    آثارِ قدیمہ کے ماہرین اور سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ آج کے کراچی کی سرزمین پر تقریباً بارہ ہزار سال پہلے بھی انسان آباد تھے۔ اس لحاظ سے کراچی صرف جدید پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہی نہیں بلکہ انسانی آبادی کے اعتبار سے ملک کی قدیم ترین سرزمینوں میں سے بھی ایک ہے۔

    تاریخی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بارہ ہزار سال پہلے، جب دنیا آخری برفانی دور سے نکل رہی تھی، اس وقت کراچی کا منظر آج سے بالکل مختلف تھا۔ لیاری اور ملیر ندیاں سرسبز میدانوں اور دلدلی علاقوں سے گزرتی ہوئی بحیرۂ عرب میں گرتی تھیں، جبکہ چونے کی پہاڑیوں سے میٹھا پانی پھوٹتا تھا۔

    آج کے ڈرگ روڈ، ہل پارک، گلستانِ جوہر اور گزری تک پھیلے ہوئے علاقوں کو ملڑی کی ٹکریاں کہا جاتا تھا۔ اس دور میں یہ ٹکریاں شکار کرنے والے انسانوں کے لیے قدرت کا ایک بہترین تحفہ تھیں۔ یہاں انہیں میٹھا پانی، جنگلی جانور، مچھلیاں، سمندری خوراک اور فلنٹ اور چرٹ جیسے اعلیٰ معیار کے پتھر آسانی سے مل جاتے تھے، جن سے وہ اپنے اوزار تیار کرتے تھے۔

    بیسویں صدی کے دوران اس علاقے کی اہمیت آہستہ آہستہ بڑھنے لگی۔ 1947ء میں برطانوی محققین ٹوڈ اور پیٹرسن نے لیاری ندی کے کنارے سے پتھر کے کچھ قدیم اوزار دریافت کیے، جس کے بعد اس علاقے کی طرف آثارِ قدیمہ کے ماہرین کی توجہ مبذول ہوئی۔

    اس کے بعد 1968ء سے 1976ء تک کراچی یونیورسٹی کے نامور ماہر پروفیسر عبدالرؤف خان نے ملڑی کی ٹکریوں کا باقاعدہ سروے کیا۔ انہوں نے تقریباً بیس قدیم مقامات کی نشاندہی کی اور ہزاروں پتھریلے اوزار دریافت کیے، جن میں مائیکرولتھ، بلیڈ، اسکریپر، برین اور دیگر نفیس اوزار شامل تھے۔

    بعد میں عالمی شہرت یافتہ اطالوی ماہرِ آثارِ قدیمہ پروفیسر پاؤلو بیاجی اور دوسرے محققین نے ان دریافتوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور تصدیق کی کہ یہ اشیا میزولتھک دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس طرح ملڑی کی ٹکریاں سندھ کے اہم ترین قبل از تاریخ مقامات میں شامل ہو گئیں۔

    کراچی کے پہلے باشندے

    ان ٹکریوں پر رہنے والے لوگ ہومو سیپینس تھے، یعنی جسمانی طور پر آج کے انسانوں جیسے۔ وہ چھوٹے خاندانی گروہوں میں رہتے تھے اور موسم، پانی اور خوراک کی دستیابی کے مطابق اپنی رہائش گاہیں تبدیل کرتے رہتے تھے۔

    ان کی زندگی کا انحصار شکار، مچھلی پکڑنے اور جنگلی پودے، پھل، بیج اور جڑیں جمع کرنے پر تھا۔ زندگی کے ہنر لکھنے پڑھنے کے ذریعے نہیں بلکہ مشاہدے، تجربے اور نسل در نسل منتقل ہونے والی روایات کے ذریعے آگے بڑھتے تھے۔

    پتھروں کے علم، ان کی شناخت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ملڑی کی ٹکریوں کے بارے میں یہ ثبوت ملا کہ اس ٹیکنالوجی کی ابتدا جدید دور میں نہیں بلکہ ہزاروں سال پہلے ہو چکی تھی۔ یہاں سے ملنے والے مائیکرولتھ نہایت مہارت سے بنائے گئے چھوٹے پتھریلے اوزار ہیں، جنہیں لکڑی یا ہڈی کے دستوں میں لگا کر تیر، بھالے، چاقو اور دوسرے ہتھیار بنائے جاتے تھے۔

    یہ اوزار بنانے کے لیے اعلیٰ مہارت، منصوبہ بندی اور پتھروں کی خصوصیات کے بارے میں گہری معلومات درکار تھیں، جو ان انسانوں کی ذہانت اور فنی صلاحیت کا زندہ ثبوت ہیں۔

    ملڑی کی ٹکریوں سے ایسا نامیاتی مواد نہیں ملا، جس کے ذریعے کاربن 14 کے طریقے سے درست تاریخ معلوم کی جا سکے۔

    اسی لیے ماہرین نے ان اوزاروں کی ساخت، شکل اور بنانے کے طریقے کا پاکستان اور پڑوسی علاقوں کے تاریخ متعین شدہ میزولتھک اوزاروں سے موازنہ کیا اور ان کی عمر کا اندازہ لگایا۔ ارضیاتی شواہد بھی اسی رائے کی تائید کرتے ہیں، جس کی بنیاد پر ان کی عمر تقریباً بارہ ہزار سال تسلیم کی گئی ہے۔

    ملڑی کی ٹکریوں سے کسی باقاعدہ شہر کے آثار نہیں ملے۔ یہاں نہ اینٹوں کی عمارتیں ملی ہیں، نہ گلیاں اور نہ ہی نکاسیٔ آب کا کوئی منظم نظام۔ یہ ٹکریاں انسانی تاریخ کے اس دور سے تعلق رکھتی ہیں، جب انسان شکار اور خوراک جمع کرنے پر انحصار کرتا تھا۔

    بعد میں مہر گڑھ میں زراعت کا آغاز ہوا اور پھر موہنجو دڑو اور ہڑپہ جیسی عظیم شہری تہذیبیں وجود میں آئیں۔ ملڑی کی ٹکریاں اسی ارتقائی سفر کے پہلے مرحلے کی گواہی دیتی ہیں۔

    تقریباً بارہ ہزار سال پہلے میزولتھک دور کے انسان ملڑی کی ٹکریوں پر آباد ہوئے۔ 1947ء میں ٹوڈ اور پیٹرسن نے قدیم پتھریلے اوزار دریافت کیے۔ 1968ء سے 1976ء تک پروفیسر عبدالرؤف خان نے ان آثار کا تفصیلی سروے کیا۔ 1980ء میں گلستانِ جوہر کی تعمیر کے ساتھ قدیم مقامات کا بڑا حصہ جدید آبادی کے نیچے آ گیا۔ 2000ء کے بعد پروفیسر پاؤلو بیاجی اور دوسرے ماہرین نے ان دریافتوں کی عالمی سطح پر تصدیق کی۔

    ‘ملڑی’ نام کا معمہ

    ‘ملڑی’ نام کی اصل اب تک تحقیق طلب ہے۔ یہ نام آثارِ قدیمہ کی تحقیق سے بہت پہلے برطانوی نقشوں میں موجود تھا۔ بعض ماہرین اسے قدیم سندھی یا بلوچی زبانوں سے جوڑتے ہیں، لیکن اب تک اس بارے میں کوئی حتمی لسانی تحقیق سامنے نہیں آئی۔

    پروفیسر عبدالرؤف خان کے دریافت کردہ اوزار کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ آثارِ قدیمہ کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔ پاکستان کا محکمۂ آثارِ قدیمہ اور عجائب گھر ملڑی کی ٹکریوں کو ایک اہم قبل از تاریخ مقام تسلیم کرتا ہے۔

    اس کے علاوہ گراس روٹس، اینشینٹ سندھ اور دوسرے تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے مقالات، پروفیسر پاؤلو بیاجی کی تحقیقات اور نیشنل میوزیم آف پاکستان میں محفوظ آثار، کراچی کی اس قدیم تاریخ کے زندہ گواہ ہیں۔

    ملڑی کی ٹکریوں پر تحقیق کسی سرکاری پابندی کی وجہ سے نہیں رکنی چاہیے تھی، لیکن تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی، گلستانِ جوہر کی تعمیر، چونے کی کانوں، محدود مالی وسائل اور موہنجو دڑو، ہڑپہ اور ٹیکسلا جیسے بڑے مقامات کو ترجیح ملنے کی وجہ سے یہ علاقہ آہستہ آہستہ نظر انداز ہوتا گیا۔

    جدید کراچی کے لیے سبق

    ملڑی کی ٹکریاں ترقی کی مخالفت نہیں کرتیں بلکہ یہ سکھاتی ہیں کہ ترقی اور تاریخی ورثے کا تحفظ ساتھ ساتھ ہونا چاہیے۔ جدید ٹیکنالوجی، جیسے جی آئی ایس، لائیڈار، سیٹلائٹ تصاویر اور گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار استعمال کر کے ترقیاتی منصوبوں سے پہلے قدیم آثار کی شناخت اور حفاظت ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ ملڑی کی ٹکریوں پر ایک تشریحی مرکز قائم کیا جائے، جہاں نئی نسل کو کراچی کی قدیم ترین تاریخ سے آگاہ کیا جا سکے۔

    کراچی کی تاریخ نہ کولاچی سے شروع ہوئی، نہ برطانوی دور سے، اور نہ ہی صرف وادیٔ سندھ کی تہذیب سے۔ اس کی ابتدا ہزاروں سال پہلے ہوئی، جب انسانوں کے چھوٹے چھوٹے گروہ ملڑی کی ٹکریوں پر آباد ہوئے اور اپنے پیچھے پتھر کے نفیس اوزار چھوڑ گئے۔

    آج ان ٹکریوں کا بڑا حصہ جدید گلستانِ جوہر کے نیچے چھپا ہوا ہے، لیکن جامعات، عجائب گھروں اور سائنسی تحقیق میں محفوظ شواہد یہ ثابت کرتے ہیں کہ کراچی پاکستان کی قدیم ترین انسانی تاریخوں میں سے ایک کا امین شہر ہے۔

    ملڑی کی ٹکریاں صرف آثارِ قدیمہ کا ایک مقام نہیں بلکہ وہ ہمیں یہ احساس بھی دلاتی ہیں کہ ہر عظیم شہر کی جڑیں ہزاروں سال پرانی ہوتی ہیں، اور جو معاشرہ اپنے ماضی کو بھول جاتا ہے، وہ اپنی شناخت کا ایک اہم حصہ بھی کھو دیتا ہے۔

  • کراچی کا تاریخی صدر، جہاں عمارتیں آج بھی تقسیم سے پہلے کے شہر کی کہانی سناتی ہیں

    کراچی کا تاریخی صدر، جہاں عمارتیں آج بھی تقسیم سے پہلے کے شہر کی کہانی سناتی ہیں

    کراچی کا صدر آج بھی پاکستان کے مصروف ترین تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے، مگر اس کی گلیوں، بازاروں اور تاریخی عمارتوں میں شہر کی ڈیڑھ صدی پرانی تاریخ محفوظ ہے۔

    روزانہ ہزاروں افراد خریداری اور کاروبار کی غرض سے یہاں آتے ہیں، لیکن بہت کم لوگ ان عمارتوں پر نظر ڈالتے ہیں جو برطانوی دور سے آج تک کراچی کی شہری، ثقافتی اور تجارتی تاریخ کی گواہی دے رہی ہیں۔

    صدر کی تاریخی عمارتوں کی سب سے نمایاں خصوصیات ان کی نفیس لوہے کی بالکونیاں، ہاتھ سے تراشے گئے زرد پتھر، بلند محرابیں، لکڑی کے دروازے اور عمارتوں کے داخلی حصوں پر نصب پتھر کے نامی تختے ہیں۔ ان میں سے متعدد عمارتوں پر آج بھی ان کے اصل مالکان یا تعمیر کرانے والے خاندانوں کے نام پڑھے جا سکتے ہیں، جو شہر کی قدیم شناخت کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔

    انیسویں صدی کے وسط سے لے کر بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں تک کراچی ایک اہم بین الاقوامی بندرگاہ اور تجارتی مرکز کے طور پر تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ اس دور میں ہندو، پارسی، مسلمان، عیسائی، یہودی اور دیگر برادریوں کے تاجر، صنعت کار اور کاروباری شخصیات صدر کے علاقے میں آباد ہوئیں۔ انہی برادریوں نے متعدد رہائشی اور تجارتی عمارتیں تعمیر کروائیں، جن میں سے بڑی تعداد آج بھی موجود ہے۔

    تقسیم ہند کے بعد ہندو برادری کی بڑی تعداد بھارت منتقل ہو گئی، تاہم ان کی تعمیر کردہ عمارتیں، کاروباری مراکز اور شہری ورثہ آج بھی صدر کی تاریخی شناخت کا حصہ ہیں۔ کئی عمارتوں پر اصل مالکان کے نام اب بھی واضح طور پر پڑھے جا سکتے ہیں، جو اس دور کی سماجی اور معاشی سرگرمیوں کی یاد دلاتے ہیں۔

    صدر کی تاریخی اہمیت صرف اس کی عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ یہاں کی کئی سڑکیں اور علاقے بھی ماضی کی یادگار ہیں۔ مثال کے طور پر ایم اے جناح روڈ سے اردو بازار جانے والی سڑک کو آج بھی بہت سے پرانے کراچی والے ‘موہن داس کرم چند گاندھی روڈ’ یا ‘مہاتما گاندھی روڈ’ کے نام سے جانتے ہیں۔ اگرچہ سرکاری طور پر اس سڑک کا نام تبدیل ہو چکا ہے، تاہم عوامی یادداشت میں اس کا تاریخی نام آج بھی رائج ہے۔

    اسی طرح صدر کا معروف علاقہ ‘رتن تلا’ آج بھی اپنے تاریخی نام سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ نام اس دور کی یادگار ہے جب مختلف مذاہب اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہی علاقے میں رہتے، تجارت کرتے اور کراچی کی معاشی و سماجی ترقی میں مشترکہ کردار ادا کرتے تھے۔

    صدر کی گلیوں میں آج بھی پارسی، ہندو اور عیسائی شخصیات اور خاندانوں سے منسوب متعدد مقامات، عمارتیں اور تاریخی نشانات موجود ہیں، جو اس شہر کی کثیرالثقافتی شناخت کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہی تنوع کراچی کو برصغیر کے دیگر شہروں سے ممتاز بناتا ہے۔

    معماری کے اعتبار سے بھی صدر غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں موجود متعدد عمارتوں میں وکٹورین، نوکلاسیکل، گوتھک اور مقامی طرز تعمیر کا حسین امتزاج دیکھا جا سکتا ہے۔ ہاتھ سے تیار کیے گئے لوہے کے جنگلے، سنگ تراشی، بلند ستون، محرابیں اور لکڑی کے نفیس دروازے اس دور کے اعلیٰ تعمیراتی فن کا نمونہ ہیں۔

    ماہرین کے مطابق صدر کی متعدد تاریخی عمارتیں سندھ کلچرل ہیریٹیج ایکٹ کے تحت ثقافتی ورثے کا درجہ رکھتی ہیں، تاہم وقت گزرنے، تجاوزات، غیر قانونی تبدیلیوں، ناقص مرمت اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ان میں سے کئی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ اور شہری منصوبہ بندی سے وابستہ حلقے ان تاریخی عمارتوں کے تحفظ اور اصل طرز تعمیر کی بحالی پر زور دیتے رہے ہیں تاکہ کراچی کا یہ منفرد ورثہ آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھا جا سکے۔

    تاریخی عمارتوں، قدیم سڑکوں کے نام، پرانے نامی تختوں اور منفرد فن تعمیر کی بدولت صدر آج بھی صرف ایک تجارتی مرکز نہیں بلکہ کراچی کی اجتماعی یادداشت اور مشترکہ ثقافتی تاریخ کا ایک زندہ استعارہ ہے، جہاں ماضی آج بھی خاموشی سے موجود ہے۔

  • مزدور رہنما عثمان بلوچ کی کتاب ‘ہم اپنی کرنی کر گزرے‘ : پاکستان کی مزدور تحریک کے عروج و زوال کی داستان

    مزدور رہنما عثمان بلوچ کی کتاب ‘ہم اپنی کرنی کر گزرے‘ : پاکستان کی مزدور تحریک کے عروج و زوال کی داستان

    پاکستان کی سیاسی اور مزدور تحریک کی تاریخ ایسے بے شمار کرداروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے شہرت، اقتدار یا ذاتی مفاد کے بجائے اپنے نظریات اور عوام کے حقوق کے لیے پوری زندگی وقف کر دی۔ انہی شخصیات میں عثمان بلوچ کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔

    عثمان بلوچ صرف ایک ٹریڈ یونین رہنما ہی نہیں بلکہ ایک سرگرم سماجی اور سیاسی کارکن بھی ہیں، جنہوں نے کئی دہائیوں تک محنت کشوں کے حقوق، جمہوریت اور سماجی انصاف کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ حال ہی میں ان کی خودنوشت ‘ہم اپنی کرنی کر گزرے‘ کی تقریب رونمائی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقد ہوئی۔ وہ علاج کی غرض سے امریکہ میں ہونے کے باعث تقریب میں شریک نہ ہو سکے، تاہم ان کے دیرینہ ساتھیوں، مزدور رہنماؤں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کی بڑی تعداد نے اس تقریب میں شرکت کی۔

    یہ کتاب محض ایک فرد کی زندگی کی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کی مزدور تحریک، بائیں بازو کی سیاست اور جمہوریت کے لیے ہونے والی جدوجہد کا ایک مستند تاریخی ریکارڈ بھی ہے۔ اسے صرف خودنوشت کہنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں پاکستان کی سیاسی تاریخ، بائیں بازو کی تحریکوں، مزدور سیاست کے عروج اور زوال اور مختلف ادوار کی جدوجہد کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

    عثمان بلوچ کی مزدوروں اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھی۔ یہ شعور انہیں اپنے خاندان سے ورثے میں ملا۔ ان کے والد کراچی کے قدیم علاقے لیاری میں مزدور تحریکوں اور محروم طبقات کے حقوق کی جدوجہد میں سرگرم رہتے تھے۔

    اسی ماحول نے عثمان بلوچ کی شخصیت اور سوچ کی تشکیل کی۔ نوجوانی ہی میں انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ مزدور صرف معاشی استحصال کا شکار نہیں بلکہ انہیں سیاسی اور سماجی انصاف سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ یہی احساس آگے چل کر ان کی پوری زندگی کا مقصد بن گیا۔

    کتاب میں وہ اپنے گھر کے قریب موجود ایک برگد کے قدیم درخت کا ذکر کرتے ہیں۔ اس درخت کے نیچے ایک تخت رکھا ہوتا تھا، جہاں ان کے والد محمد ابراہیم اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ درحقیقت یہ ایک سیاسی بیٹھک تھی، جہاں مختلف قومی اور سیاسی موضوعات پر گفتگو ہوتی تھی۔

    عثمان بلوچ لکھتے ہیں کہ اسی بیٹھک میں انہوں نے ریشمی رومال تحریک اور خلافت تحریک سمیت کئی تاریخی واقعات کے بارے میں جانا۔ اس وقت ان کی ذمہ داری مہمانوں کے لیے چائے پانی کا انتظام کرنا ہوتی تھی، لیکن وہ خاموشی سے بیٹھ کر بڑی توجہ کے ساتھ یہ تمام گفتگو سنتے رہتے تھے۔ یہی نشستیں ان کی سیاسی تربیت کا پہلا مدرسہ ثابت ہوئیں۔

    ان کی خودنوشت ‘ہم اپنی کرنی کر گزرے‘ اسی طویل جدوجہد کی داستان ہے۔ اس کتاب کو معروف انسانی حقوق کے کارکن کامریڈ واحد بلوچ نے عثمان بلوچ کے ساتھ طویل نشستوں، انٹرویوز اور سوال و جواب کی صورت میں مرتب کیا ہے۔ یہی انداز اس کتاب کو عام خودنوشتوں سے منفرد بناتا ہے۔ قاری کو محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خود عثمان بلوچ کے سامنے بیٹھا ان کی زندگی کے تجربات، یادیں اور مشاہدات سن رہا ہو۔

    کتاب کے آغاز میں عثمان بلوچ کے ساتھیوں اور قریبی رفقا کے مضامین شامل ہیں، جن میں ان کی شخصیت، جدوجہد اور کردار کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان لکھنے والوں میں مرحوم جسٹس (ریٹائرڈ) رشید اے رضوی، پروفیسر انیس زیدی، ڈاکٹر توصیف احمد خان، کامریڈ واحد بلوچ، عبدالخالق جونیجو اور تحریک نسواں کی روح رواں شیما کرمانی

    شامل ہیں۔ ان مضامین میں عثمان بلوچ کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو صرف نظریاتی گفتگو تک محدود نہیں رہے بلکہ ہر تحریک میں عملی طور پر صف اول میں موجود رہے۔

    کتاب کے آخری حصے میں عثمان بلوچ کے قریبی دوستوں اور ساتھیوں کے تاثرات شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں کامریڈ حبیب الرحمان ہزاروی، باور خان، فیض اللہ خان، ناصر منصور، محمد جعفر، سلیم صدیقی، بصیر نوید، حسن اطہر، عبدالحئی، سید شمس الدین، منظور رضی، محمد عثمان، جان بلوچ، منان باچا ایڈووکیٹ، اسلم کھوکھر، کامریڈ سلطان اور حیات بلوچ شامل ہیں۔ ان سب نے عثمان بلوچ کی شخصیت، ان کی سیاسی وابستگی، مزدور تحریک میں کردار اور ذاتی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اپنے مشاہدات بیان کیے ہیں، جو اس کتاب کو مزید معتبر اور دلچسپ بنا دیتے ہیں۔

    پاکستان کی مزدور تحریک

    ساٹھ کی دہائی میں کراچی پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر تھا۔ یہاں کی فیکٹریاں، بندرگاہیں اور صنعتی بستیاں مزدور تحریک کا مرکز سمجھی جاتی تھیں، جبکہ لیاری ان سرگرمیوں کا اہم گڑھ تھا۔ عثمان بلوچ نے اپنے عملی سفر کا آغاز بھی انہی صنعتی علاقوں سے کیا۔ انہوں نے نہ صرف مزدوروں کو منظم کیا بلکہ ہر اس تحریک میں بھرپور حصہ لیا جہاں محنت کش اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے تھے۔

    ان کی سیاسی اور مزدور جدوجہد کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ کراچی کی تاریخی ولیکا ٹیکسٹائل مل پر مزدوروں کے قبضے کی تحریک ہو، جنرل ایوب خان کے مارشل لا کے خلاف مزدوروں کی مزاحمت ہو یا 1971-72 میں سائٹ کراچی کی طاقتور مزدور تحریک، عثمان بلوچ ہر جگہ صف اول میں نظر آتے ہیں۔

    بعض ساتھیوں نے انہیں ایک ‘ملیٹنٹ مزدور رہنما‘ قرار دیا ہے، جو نہ صرف پرجوش تقاریر کرتے ہیں بلکہ ہر مشکل مرحلے پر مزدوروں کے شانہ بشانہ کھڑے بھی رہتے ہیں۔

    وہ کئی مرتبہ گرفتار ہوئے، مگر ایک مرتبہ ان کو امریکی کونسل ممبر کو حیدرآباد میں تھپڑ رسید کرنے کے پاداش میں گرفتار کرلیا گیا۔ وہ کتاب میں لکھتے ہیں:  ’یہ واقعہ 1968ء یا 1969ء کا ہے امریکی کونسل کا ممبر حیدرآباد کے اورینٹ ہوٹل میں پریس کانفرنس کر رہے تھے میں مشہور لیبر لیڈر احسان عظیم کے ساتھ پریس کانفرنس میں جا پہنچا۔‘

    ’سوال جواب کے سیشن میں، میں نے امریکہ کے مزدوروں کی جدوجہد اور شکاگو کے شہدا کے بارے میں سوال کیا، کونسل ممبر نے کہا امریکہ مزدوروں کے حقوق کی پاسداری کرتا ہے اور ان کے قانونی حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔‘

    ـمیں نے دوبارہ دلیل دی کہ بینک آف امریکہ جس کی ایک برانچ پاکستان میں ہے وہاں یونین بنانے پر پابندی ہے۔ میرے سوال پر کونسل ممبر غصے میں آ گئے اور ترش روئی سے کہا کہ میں یہاں تمام پیراسائٹ (خون چوسنے والا) کے لیے نہیں آیا ہوں۔‘

    ’میری غیرت نے اس کو برداشت نہیں کیا اور میں نے کونسل ممبر کے چہرے پر ایک تھپڑ جڑ دیا اور ’Down with Imperialism‘ (سامراج مردہ باد) کا نعرہ لگاتے ہوئے باہر آ گیا۔ تمام میٹنگ منتشر ہو گئی اور مجھے گرفتار کر لیا۔‘

    فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دوران سیاسی جماعتوں اور مزدور تنظیموں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ ٹریڈ یونین رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مزدور تحریک کو کمزور کرنے کی منظم کوششیں کی گئیں۔ اس مشکل دور میں بھی عثمان بلوچ ان رہنماؤں میں شامل رہے جنہوں نے شدید دباؤ کے باوجود اپنے نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ کئی مرتبہ گرفتار ہوئے اور طویل عرصے تک روپوش بھی رہے۔

    کتاب میں شامل مرحوم جسٹس رشید اے رضوی کے مضمون میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ روپوشی کے دوران عثمان بلوچ اکثر ان کے گھر میں پناہ لیتے تھے۔ ان کا رشید اے رضوی کے گھر آنا جانا معمول تھا، کیونکہ رضوی صاحب کی والدہ عثمان بلوچ سے بے حد محبت کرتی تھیں اور انہیں اپنے خاندان کا فرد سمجھتی تھیں۔

    جنرل ضیاء الحق کی ہوائی حادثے میں ہلاکت کے بعد 1988 سے 1999 تک کے جمہوری ادوار میں بھی عثمان بلوچ نے مزدور تحریک کو دوبارہ منظم کرنے اور کارکنوں کو متحرک رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1982 میں جب کرامت علی کی سربراہی میں متحدہ لیبر فیڈریشن کے رہنمائوںنے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) کی بنیاد رکھی تو عثمان بلوچ دیگر سیاسی، سماجی اور مزدور رہنماؤں کے ساتھ اس ادارے کے بانی اراکین میں شامل تھے۔

    سیاسی طور پر وہ بائیں بازو کی عوامی ورکرز پارٹی سے وابستہ رہے ہیں۔ مرحوم یوسف مستی خان سے ان کے دیرینہ تعلقات رہے ہیں۔ ان کی سیاسی تربیت میں مشہور سیاسی شخصیت اور پاکستان نیشنل پارٹی کے سربرہ میر غوث بخش بزنجو نے کی۔

    پاکستان میں مزدور تحریک کی تاریخ دراصل قیام پاکستان سے بھی پہلے شروع ہو چکی تھی۔ برصغیر میں صنعت، تجارت، ریلوے اور دیگر شعبوں میں مضبوط ٹریڈ یونینیں موجود تھیں۔ ایک دلچسپ تاریخی حقیقت یہ بھی ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح 1925 میں آل انڈیا پوسٹل اسٹاف یونین کے صدر منتخب ہوئے تھے، جس کے تقریباً 70 ہزار ارکان تھے۔ انہوں نے انڈین ٹریڈ یونین ایکٹ 1926 کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا، جس نے برصغیر میں مزدوروں کے تنظیمی حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کیا۔

    قیام پاکستان کے بعد بھی ٹریڈ یونین تحریک مضبوط ہوتی رہی، لیکن جنرل ایوب خان کے مارشل لا کے بعد اس پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ ٹریڈ یونین ایکٹ معطل کر دیا گیا، مزدور تنظیموں کی سرگرمیاں محدود کر دی گئیں اور متعدد رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔

    بعد کے ادوار میں بھی بار بار لگنے والے مارشل لا، سیاسی پابندیوں، نجکاری، صنعتوں کی بندش اور صنعتی پالیسیوں میں تبدیلیوں نے پاکستان کی ٹریڈ یونین تحریک کو شدید متاثر کیا۔ اس کے باوجود مزدور تنظیموں نے ہر دور میں صرف اجرتوں میں اضافے، ملازمت کے تحفظ اور بہتر کام کے حالات کے لیے ہی آواز بلند نہیں کی بلکہ جمہوریت کی بحالی، آئین کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ عثمان بلوچ انہی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود اس جدوجہد کی روایت کو زندہ رکھا اور اپنی پوری زندگی محنت کش طبقے کے حقوق کے لیے وقف کیے رکھی۔

    پاکستان کی سیاسی و سماجی تاریخ

    اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف مصنف کی ذاتی یادداشتوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ پاکستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ کے اہم ادوار کو بھی اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ کراچی کی صنعتی بستیوں، کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ہڑتالوں، مزدور تنظیموں کے قیام، فیکٹریوں میں ہونے والی جدوجہد اور محنت کشوں کی تنظیم سازی کو نہایت تفصیل اور باریک بینی سے بیان کیا گیا ہے۔ ان واقعات کے ذریعے قاری کو اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کی صنعتی ترقی کے پس منظر میں محنت کش طبقے نے کتنی قربانیاں دی ہیں اور کن مشکلات کا سامنا کیا ہے۔

    کتاب میں خصوصاً ستر اور اسی کی دہائی کی مزدور تحریک کو نمایاں اہمیت دی گئی ہے۔ اس زمانے میں کراچی کو پاکستان کی مزدور تحریک کا مضبوط ترین مرکز سمجھا جاتا تھا۔ ہزاروں مزدور بہتر اجرت، محفوظ کام کے ماحول اور اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے منظم انداز میں جدوجہد کر رہے تھے۔ عثمان بلوچ نے ان تحریکوں کو نہ صرف قریب سے دیکھا

    بلکہ ان کی قیادت اور تنظیم سازی میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ ان کی یادداشتیں اس دور کے سیاسی ماحول، مزدوروں کی امیدوں، ان کے حوصلے اور ریاستی ردعمل کی ایک واضح اور حقیقی تصویر پیش کرتی ہیں۔

    اس خودنوشت میں پاکستان کی بائیں بازو کی سیاست کے عروج اور زوال پر بھی کھل کر گفتگو کی گئی ہے۔ عثمان بلوچ صرف کامیابیوں کا ذکر نہیں کرتے بلکہ ترقی پسند سیاست کی اندرونی کمزوریوں، تنظیمی اختلافات، دھڑے بندی اور سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے فکری بحران کا بھی بے لاگ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ یہی غیر جانبداری اور دیانت داری اس کتاب کو ایک معتبر تاریخی دستاویز بناتی ہے۔

    ادبی اور تاریخی اعتبار سے بھی ’ہم اپنی کرنی کر گزرے‘ ایک اہم کتاب ہے۔ عام طور پر تاریخ حکمرانوں، جرنیلوں یا بڑے سیاست دانوں کے نقطۂ نظر سے لکھی جاتی ہے، لیکن یہ کتاب تاریخ کو محنت کش طبقے کی آنکھ سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس میں فیکٹری کا مزدور، بندرگاہ کا کارکن، یونین کا سرگرم رکن اور سیاسی کارکن اپنی اصل صورت میں سامنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد سیاسی مبصرین، محققین اور مزدور تحریک کا مطالعہ کرنے والے اسے پاکستان کی مزدور تحریک کے حوالے سے ایک بنیادی ماخذ قرار دیتے ہیں۔

    کتاب کے ایک باب ’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے‘ میں عثمان بلوچ نے متحدہ انڈیا کی تحریک آزادی کے کئی لازوال کرداروں پر مضامین تحریر کیے ہیں۔ ان میں بھگت سنگھ، باتو کیشور دت، کھدی رام بوس، سوریا سین، پیر صبغت اللہ شاہ راشدی شہید، ہیمو کالانی اور نرائن داس بھچر شامل ہیں۔ اسی باب میں انہوں نے سندھ کی ہاری اور عوامی تحریک کے نمایاں کرداروں عنایت اللہ شہید اور مائی بختاور کی جدوجہد کو بھی خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

    ذاتی زندگی کی تفصیل

    عثمان بلوچ کے آباؤ اجداد کا تعلق بلوچستان کے ضلع دالبندین سے تھا، لیکن ان کے پردادا وہاں کی خشک سالی، غربت اور مقامی سرداروں کی باہمی چپقلشوں سے تنگ آ کر بلوچستان کے علاقے ڈیرہ جمالی منتقل ہو گئے۔

    اسی زمانے میں برطانوی حکومت نے دریائے سندھ کے بائیں کنارے ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ شروع کیا۔ خوش قسمتی سے عثمان بلوچ کے پردادا کو بھی اس منصوبے میں ملازمت مل گئی۔ اس ملازمت کے باعث خاندان سندھ کے ضلع دادو میں پیارو گوٹھ ریلوے اسٹیشن کے قریب پاٹ شریف منتقل ہو گیا۔ ان کے دادا کی ایک بہن کی شادی مقامی سندھی خاندان، قاضی صدیقی، میں ہوئی تھی، لیکن کچھ عرصے بعد ان کے بہنوئی کا انتقال ہو گیا اور ان کی بیوہ کو اپنے چار بچوں سمیت گھر چھوڑنا پڑا۔

    عثمان بلوچ لکھتے ہیں کہ ان کے خاندان نے ان بچوں کے وراثتی حقوق کے لیے انگریز عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ بچوں کو زمین کی پیداوار میں حصہ دیا جائے۔ اس فیصلے کے بعد مقامی لوگوں نے ان کے خاندان پر انگریزوں کا حمایتی ہونے کا الزام لگا دیا۔

    اس صورت حال کے باعث ان کے دادا اپنی بہن اور اس کے بچوں کو لے کر کوٹری منتقل ہو گئے، مگر وہاں بھی خود کو محفوظ محسوس نہ کیا، چنانچہ بعد ازاں کراچی آ گئے۔ برطانوی حکومت کی ملازمت کے باعث انہیں سرکاری رہائش بھی مل گئی۔ بعد میں ان کے دادا کی شادی دھابیجی کے ایک بااثر زمیندار جھنڈا خان کی صاحبزادی فاطمہ سے ہوئی، جن کے بطن سے 1905 میں عثمان بلوچ کے والد محمد ابراہیم پیدا ہوئے۔

    عثمان بلوچ 1937 میں کراچی کے لیاری کوارٹرز میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنی ابتدائی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہوں نے لیاری کے مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی، جن میں لیاری ایس ایم اسکول نمایاں ہے۔ بعد ازاں لیاری کے بگڑتے ہوئے سماجی ماحول کے باعث ان کے والد نے انہیں ایک عزیز کے گھر لاڑکانہ بھیج دیا، جہاں ان کا داخلہ لاڑکانہ گورنمنٹ ہائی اسکول میں کرایا گیا۔

    وہ لکھتے ہیں کہ لاڑکانہ میں قیام کے دوران انہیں جاگیردارانہ معاشرے کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ہاریوں اور ملازموں پر ہونے والے ظلم، انسانوں کی تذلیل اور طاقتور طبقے کی سخت گیری کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ سب کچھ انہیں اندر تک جھنجھوڑ گیا۔ اسی وجہ سے وہ اس ماحول کو چھوڑ کر دوبارہ کراچی آ گئے اور بندر روڈ پر قائم این جے وی ہائی اسکول میں داخلہ لے لیا۔

    کراچی میں تعلیم جاری رکھنے کے لیے انہیں ملازمت بھی کرنا پڑی۔ انہوں نے ایس ایم کالج سے انٹرمیڈیٹ اور اسلامیہ کالج سے گریجویشن مکمل کی۔ اس دوران انہوں نے ایک مقامی عدالت میں ملازمت اختیار کی، لیکن ایک خاتون کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی پاداش میں انہیں اپنی سرکاری ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔

    بعد ازاں انہیں کراچی کی ایک گیس کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ یہی وہ دور تھا جب انہوں نے باقاعدہ ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا آغاز کیا۔ اسی کمپنی میں کام کرتے ہوئے ان کی ملاقات ایک خاتون کمپین ملازمہ گلشن سے ہوئی، جو اسماعیلی کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھیں۔

    عثمان بلوچ نے اپنی کتاب میں اپنی شریک حیات کے بارے میں ایک تفصیلی باب تحریر کیا ہے۔ اس سے قبل گلشن کی شادی اپنی برادری کے ایک شخص سے ہوئی تھی، لیکن ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث یہ رشتہ قائم نہ رہ سکا۔ اس شخص سے گلشن کو کچھ اولاد بھی تھی۔ گلشن کا رویہ کمپنی کے مزدوروں کے ساتھ انتہائی ہمدردانہ تھا اور وہ جلد ہی ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں میں بھی شریک ہونے لگیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے درمیان باہمی اعتماد اور ذہنی ہم آہنگی پیدا ہوئی اور والدین کی رضامندی سے 1974 میں ان کی شادی ہو گئی۔

    بعد میں گلشن کو آغا خان اسپتال میں ملازمت مل گئی۔ اسی دوران امریکہ میں مقیم گلشن کے والد کی کوششوں سے انہیں 1979 میں امریکہ میں مستقل رہائش کی اجازت مل گئی۔ انہوں نے عثمان بلوچ کو بھی امریکہ منتقل ہونے کا مشورہ دیا، لیکن انہوں نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں رہ کر مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

    البتہ اپنی اہلیہ کے اصرار پر وہ کچھ عرصے کے لیے امریکہ گئے اور تقریباً آٹھ ماہ قیام کے بعد دوبارہ کراچی واپس آ گئے۔ گلشن بھی انہیں تنہا چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئیں، اس لیے وہ بھی ان کے ساتھ واپس پاکستان آ گئیں۔ اس کے بعد کئی برسوں تک دونوں کا پاکستان اور امریکہ آنا جانا جاری رہا۔

    2020 میں عثمان بلوچ کی طبیعت خراب ہوئی تو مشہور ڈاکٹر اور پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن کے روح رواں ٹیپو سلطان نے ان کے مختلف طبی معائنے کرائے، جن سے معلوم ہوا کہ وہ پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے فوری طور پر گلشن کو اطلاع دی، جنہوں نے انہیں فوراً امریکہ آنے کا مشورہ دیا۔ امریکہ میں ان کا مکمل علاج ہوا۔ کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر ڈاکٹر ٹیپو سلطان نے حاضرین کو بتایا کہ عثمان بلوچ کا علاج امریکہ میں کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے اور وہ اب روبہ صحت ہیں۔

    اسی دوران 2022 میں معلوم ہوا کہ ان کی اہلیہ گلشن الزائمر (بھول جانے والی بیماری) کے مرض میں مبتلا ہیں۔ وہ مسلسل زیر علاج رہیں، لیکن 9 مئی 2024 کو ان کا انتقال ہو گیا۔

    اپنی کتاب میں عثمان بلوچ اس صدمے کا ذکر انتہائی درد بھرے انداز میں کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: *’گلشن کا اور میرا ساتھ پچاس برس رہا۔ گلشن کی وفات نے میری دنیا اجاڑ دی اور میں یکدم تنہا ہو گیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں بہت زندہ دل ہوں اور واقعی ایسا ہی ہے، لیکن گلشن کی وفات کے بعد میرا دل اندر سے مر گیا ہے۔ میں پوری کوشش کر رہا ہوں کہ اس صدمے سے خود کو سنبھال سکوں۔’*

    عثمان بلوچ آج بھی مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد سے وابستہ ہیں۔ اگرچہ بیماری کے باعث وہ کچھ عرصے سے پاکستان سے دور ہیں، لیکن اس دوری نے انہیں پاکستان کے محنت کش طبقے کے مسائل سے الگ نہیں کیا۔ وہ مسلسل ملکی حالات پر نظر رکھتے ہیں اور مزدور تحریک سے اپنا تعلق برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    آج جب پاکستان میں ٹریڈ یونین تحریک ماضی کے مقابلے میں انتہائی کمزور دکھائی دیتی ہے، صنعتی ڈھانچہ تبدیل ہو رہا ہے اور روزگار کی نوعیت بھی تیزی سے بدل رہی ہے، ایسے وقت میں عثمان بلوچ کی زندگی اور ان کی خودنوشت نئی نسل کے لیے ایک اہم سبق رکھتی ہے۔ یہ کتاب یاد دلاتی ہے کہ مزدوروں کے حقوق، جمہوری آزادیوں اور سماجی انصاف کی جدوجہد کبھی آسان نہیں رہی، لیکن انہی جدوجہدوں نے معاشروں میں مثبت تبدیلیوں کی بنیاد رکھی ہے۔ یہی پیغام اس کتاب کو محض ایک خودنوشت نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی، سماجی اور مزدور تحریک کی تاریخ کا ایک اہم حوالہ بنا دیتا ہے۔

  • زاویہ: کیا تاریخ کا اصل حسن بادشاہوں کے محلوں میں ہے یا عام انسان کی برابری میں؟

    زاویہ: کیا تاریخ کا اصل حسن بادشاہوں کے محلوں میں ہے یا عام انسان کی برابری میں؟

    ایک ایسے دور میں جب دنیا کی دیگر تہذیبیں طبقاتی اشرافیت اور خوف کے کھیلوں میں مصروف تھیں، وادی سندھ کے لوگ مٹی کے سادے پاسوں سے ایک منفرد تہذیبی روایت رقم کر رہے تھے۔ آئیے کانسی کے دور کی سیر کریں اور جانیں کہ ہڑپہ کے کھلونے آج کے انسان کو کیا سبق دیتے ہیں۔

    جب کوئی آثار قدیمہ کا طالب علم کانسی کے دور کی عظیم شہری تہذیبوں کے مادی ثقافتی شواہد کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ صرف ان کے دفاعی قلعوں، غلے کے گوداموں یا نکاسی آب کے نظام پر ہی توجہ نہیں دیتا بلکہ ان نوادرات کو بھی دیکھتا ہے جو انسان کی روزمرہ زندگی، فراغت اور سماجی رویوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

     انسان نے جب اوزار بنانا اور تانبے و کانسی کو پگھلا کر دھات گری سیکھ لی تو اسی کے ساتھ اس نے تفریح اور سماجی میل جول کے مختلف طریقے بھی اختیار کیے۔

    آج سے تقریباً ساڑھے چار ہزار سال قبل، جب نیل کے کنارے مصر، دجلہ و فرات کے میدانوں میں میسوپوٹیمیا اور وادی سندھ میں موہنجوداڑو، ہڑپہ، چنہودڑو اور لوتھل جیسے شہر اپنے عروج پر تھے، تب ان تمام تہذیبوں میں کھیل اور کھلونے انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ تھے۔

    لیکن آثار قدیمہ کے ماہرین کے لیے سب سے دلچسپ فرق ان تہذیبوں کے کھیلوں کی نوعیت اور ان کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد میں نظر آتا ہے۔ مصر اور میسوپوٹیمیا سے ملنے والے کئی کھیل شاہی طبقے، مذہبی رسومات یا اشرافیہ سے وابستہ نظر آتے ہیں، جبکہ وادی سندھ سے برآمد ہونے والے بیشتر کھلونے اور کھیل عام مٹی سے تیار کیے گئے تھے، جو اس تہذیب کے روزمرہ طرز زندگی کی ایک منفرد جھلک پیش کرتے ہیں۔

    مادی ثقافت کا فرق، شاہی بورڈز اور مٹی کے کھلونے

    قدیم مصر میں فرعون توت عنخ آمون کے مقبرے سے ہاتھی دانت، آبنوس، سونے اور نیم قیمتی پتھروں سے مزین ‘سینٹ’ کھیل کے بورڈ دریافت ہوئے۔ اسی طرح عراق میں ‘اُر کے شاہی مقبروں’ سے صدف، عقیق اور دیگر قیمتی پتھروں سے تیار کردہ ‘اُر کا شاہی کھیل’ ملا، جسے آج دنیا قدیم ترین بورڈ گیمز میں شمار کرتی ہے۔

    اس کے برعکس، جب 1921 میں ہڑپہ میں باقاعدہ کھدائی شروع ہوئی اور بعد ازاں موہنجوداڑو کی گلیاں دریافت ہوئیں تو وہاں سے بڑی تعداد میں مٹی سے بنے مہرے، چوکور پاسے، پہیوں والی گاڑیاں، جانوروں کے کھلونے اور دیگر ٹیراکوٹا نوادرات برآمد ہوئے۔ یہ اشیا دریا کی باریک مٹی سے تیار کر کے بھٹی میں پکائی گئی تھیں۔

    ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر جوناتھن مارک کینوئر کے مطابق ہڑپہ کے ٹیراکوٹا کھلونوں کی تیاری اعلیٰ درجے کی مہارت کی عکاس ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مٹی کے یہ کھلونے صرف بچوں کی دل بہلانے کی چیزیں نہیں تھے بلکہ اس تہذیب کی دستکاری اور فنی مہارت کا بھی اظہار تھے۔

    کھیل اور معاشرہ

    آثار قدیمہ میں کسی نوادر کی جگہ بھی اہمیت رکھتی ہے۔ مصر اور میسوپوٹیمیا میں کئی قیمتی کھیل شاہی مقبروں اور اشرافیہ سے وابستہ مقامات سے ملے ہیں، جبکہ موہنجوداڑو اور ہڑپہ میں مٹی کے پاسے اور کھیلوں کے آثار عام رہائشی علاقوں، صحنوں، گلیوں اور دکانوں کے قریب بھی دریافت ہوئے ہیں۔

    سر جان مارشل نے اپنی کتاب ‘موہنجوداڑو اینڈ دی انڈس سیولائزیشن’ میں ان دریافتوں کا ذکر کیا ہے۔ بعض محققین کے مطابق ان شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ کھیل صرف محدود طبقے تک محدود نہیں تھے بلکہ شہری زندگی کا حصہ تھے، اگرچہ اس بارے میں قطعی نتائج اخذ کرنا ممکن نہیں۔

    اگر ہم ان آثار کو سامنے رکھ کر ایک تاریخی منظر کا تصور کریں تو شاید شام کے وقت موہنجوداڑو کی کسی گلی یا صحن میں لوگ مٹی کے پاسوں اور مہروں کے ساتھ وقت گزارتے ہوں گے۔ یہ تصور آثار قدیمہ کے شواہد سے متاثر ضرور ہے، تاہم اس کی مکمل تاریخی تصدیق ممکن نہیں۔

    کھیل اور عقائد

    برٹش میوزیم کے ماہر ڈاکٹر ارونگ فنکل کے مطابق مصر کا مشہور کھیل ‘سینٹ’ وقت کے ساتھ مذہبی تصورات سے بھی وابستہ ہو گیا تھا، جبکہ میسوپوٹیمیا میں ‘اُر کے شاہی کھیل’ کے بارے میں بھی بعض محققین کا خیال ہے کہ اس کے بعض مذہبی یا فال گیری سے متعلق پہلو موجود تھے۔

    اس کے برعکس، وادی سندھ سے ملنے والے پاسوں اور کھیلوں پر اب تک ایسے واضح مذہبی مناظر یا تحریری شواہد نہیں ملے جو انہیں کسی مخصوص مذہبی رسم یا بعد از موت عقائد سے براہ راست جوڑتے ہوں۔ اس لیے بیشتر ماہرین انہیں بنیادی طور پر کھیل اور تفریح سے متعلق اشیا تصور کرتے ہیں۔

    ہڑپہ سے ملنے والے چوکور پاسوں پر ایک سے چھ تک نقطوں کی ترتیب آج کے جدید پاسوں سے خاصی مشابہت رکھتی ہے۔ یہ اس تہذیب کی ریاضیاتی ترتیب، پیمائش اور معیاری کاری کی مہارت کی ایک اور مثال سمجھی جاتی ہے۔

    بچوں کے لیے بنائے گئے مٹی کے بندر، پہیوں والی گاڑیاں، جانور اور سیٹی نما پرندے بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کھلونوں کی ایک متنوع روایت موجود تھی۔ ان میں بعض ایسے کھلونے بھی شامل ہیں جن میں حرکت پیدا کرنے کے سادہ میکانیکی طریقے استعمال کیے گئے تھے۔

    عجائب گھروں کی گواہی

    آج برٹش میوزیم، نیشنل میوزیم آف انڈیا اور پاکستان کے مختلف عجائب گھروں میں محفوظ وادی سندھ کے کھلونے، مٹی کے پاسے، پہیوں والی گاڑیاں اور دیگر نوادرات اس تہذیب کی روزمرہ زندگی کی اہم جھلک پیش کرتے ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ وادی سندھ کی کھدائیوں سے بڑی تعداد میں کھلونے، مہریں، برتن اور روزمرہ استعمال کی اشیا ملی ہیں، جبکہ مصر اور میسوپوٹیمیا کی طرح شاہی فتوحات یا جنگی عظمت کی نمائندگی کرنے والی یادگاریں نسبتاً کم سامنے آئی ہیں۔ اسی بنا پر بعض ماہرین کا خیال ہے کہ وادی سندھ کی شناخت زیادہ تر شہری منصوبہ بندی، تجارت، دستکاری اور روزمرہ شہری زندگی سے وابستہ تھی۔

    وادی سندھ کا سبق

    تاریخ صرف عظیم محلات، بلند اہرام یا قیمتی نوادرات کا نام نہیں۔ بعض اوقات ایک مٹی کا کھلونا بھی اپنے عہد کے بارے میں اتنا کچھ بتا دیتا ہے جتنا ایک شاہی محل نہیں بتا سکتا۔

    ہڑپہ اور موہنجوداڑو سے ملنے والے مٹی کے سادہ پاسے، پہیوں والی گاڑیاں اور بچوں کے کھلونے ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ایک عظیم تہذیب کی پہچان صرف اس کی دولت نہیں بلکہ اس کی شہری زندگی، دستکاری، تخلیقی صلاحیت اور روزمرہ انسانی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں۔

    ساڑھے چار ہزار سال گزرنے کے باوجود یہ مٹی کے کھلونے آج بھی خاموشی سے ہمیں بتاتے ہیں کہ تہذیبوں کی اصل طاقت صرف ان کی عمارتوں میں نہیں بلکہ ان لوگوں میں بھی ہوتی ہے جنہوں نے انہیں آباد کیا۔

  • سکھر: ستین کا آستانہ، روایت اور تاریخ کے سنگم پر کھڑا ایک پراسرار ورثہ

    سکھر: ستین کا آستانہ، روایت اور تاریخ کے سنگم پر کھڑا ایک پراسرار ورثہ

    دریائے سندھ کے کنارے سکھر اور روہڑی کے درمیان واقع ستین کا آستانہ سندھ کے ان تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں قدرتی حسن، قدیم طرز تعمیر، لوک روایات اور تاریخی شواہد ایک دوسرے سے ملتے دکھائی دیتے ہیں۔

    روہڑی ریلوے پل کے قریب اروڑ کی پہاڑیوں کی ایک شاخ پر قائم یہ مقام صدیوں سے سیاحوں، محققین اور زائرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

    یہ تاریخی قبرستان اپنی منفرد تعمیر کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کئی اہم قبریں موجود ہیں، جن میں بعض ایک بلند مرکزی چبوترے پر تعمیر کی گئی ہیں۔ اس چبوترے کے چاروں کونوں پر مینار نما برج قائم ہیں، جو مغل دور کے طرز تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں۔ قبروں اور برجوں پر نفیس کاشی کاری کے آثار آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں،

    جبکہ مغرب کی جانب ایک قدیم مسجد کے کھنڈرات موجود ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عمارت بھی اپنے زمانے میں خوبصورت کاشی کاری سے آراستہ تھی۔

    ستین کا آستانہ صرف اپنے تاریخی آثار ہی نہیں بلکہ اس سے وابستہ روایات کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ مقامی لوک روایت کے مطابق سات پاکدامن خواتین ایک ظالم حکمران سے بچنے کے لیے اس مقام پر پہنچیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی، جس کے بعد زمین شق ہوگئی اور وہ اس میں سما گئیں۔

    اسی روایت کی بنیاد پر اس مقام کو "ستین کا آستانہ” کہا جانے لگا۔ تاہم اس روایت کی تاریخی یا آثار قدیمہ کی بنیاد پر تصدیق نہیں ہو سکی اور محققین اسے ایک مقامی لوک داستان قرار دیتے ہیں۔

    تاریخی شواہد ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ آثار قدیمہ کے ماہرین اور متعدد محققین کے مطابق یہاں موجود اہم قبریں مغل دور کے بکھر کے گورنر میر ابو القاسم نمکین اور ان کے اہل خانہ سے منسوب ہیں۔ قبروں پر کندہ فارسی کتبے بھی اسی نسبت کی تائید کرتے ہیں، جس کے باعث بیشتر مؤرخین اس مقام کو مغل دور کے ایک اہم تدفینی احاطے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق ستین کا آستانہ اس بات کی ایک دلچسپ مثال ہے کہ سندھ کے کئی تاریخی مقامات پر لوک روایات اور مستند تاریخی شواہد ایک ساتھ موجود ہیں۔ ایک طرف عوامی عقیدت سے جڑی داستانیں نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہیں، تو دوسری جانب آثار قدیمہ اور کتبے ان مقامات کی حقیقی تاریخی شناخت کو محفوظ رکھتے ہیں۔

    بلند پہاڑی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں سے دریائے سندھ، روہڑی اور سکھر کے دلکش مناظر بھی دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث یہ مقام تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ سیاحتی کشش بھی رکھتا ہے۔ یہی خصوصیات ستین کا آستانہ کو سندھ کے ان منفرد مقامات میں شامل کرتی ہیں جہاں تاریخ، روایت اور قدرت ایک ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہیں۔

  • پیلے پتھر کے نوحے اور گیلریوں کے قصے: رنچھوڑ لائن سے لیاری تک کی مارواڑی تاریخ

    پیلے پتھر کے نوحے اور گیلریوں کے قصے: رنچھوڑ لائن سے لیاری تک کی مارواڑی تاریخ

    کسی بھی شہر کی روح اس کے کنکریٹ کے بے جان ڈھانچوں، بلند و بالا جدید عمارتوں یا چوڑی سڑکوں میں سانس نہیں لیتی، بلکہ ان انسانوں اور برادریوں کے دم قدم سے دھڑکتی ہے جو اپنے خون جگر سے اس کے کینوس پر تہذیب و تمدن کے رنگ بکھیرتے ہیں۔

    آج کا کراچی، جو مسائل کے انبار اور بلند و بالا عمارتوں کے بے ترتیب جنگل میں تبدیل ہو چکا ہے، ماضی میں ایک ایسا کثیرالثقافتی اور کھلا شہر تھا جہاں دنیا بھر کے ہنرمند، مصلح اور امن پسند انسان کھنچے چلے آتے تھے۔ انہی قدیم اور معزز برادریوں میں سے ایک ‘مارواڑی سلاوٹ برادری’ تھی، جس نے کراچی کو ایک پسماندہ ساحلی بستی سے اٹھا کر برصغیر کا سب سے صاف ستھرا، پڑھا لکھا اور متحرک جدید شہر بنانے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا۔

    یہ اس جفاکش برادری کی تاریخ، ان کے فن کی عظمت، عروج اور پھر جدید دور کے بدلتے حالات میں ہجرت اور پھیلاؤ کی وہ داستان ہے، جس کے تذکرے کے بغیر کراچی کی ادھوری تاریخ کا کوئی بھی ورق پلٹایا نہیں جا سکتا۔

    اگر کراچی کی قدامت اور اس کے تعمیراتی حسن کا اندازہ اس کے پتھروں سے لگایا جائے تو شہر میں برطانوی دور کی تاریخی عمارتوں میں نصب کلاسیکی پیلا پتھر پکار پکار کر اس سنگ تراش برادری کی گواہی دے گا جس نے اس شہر کی بنیادوں میں اپنا خون پسینہ سینچا ہے۔

    یہ مارواڑی، سلاوٹ اور گزدر برادری دراصل ایک ہی کڑی کا حصہ ہیں جو برصغیر کی تقسیم سے بہت پہلے راجستھان کے صحرائی علاقوں سے ہجرت کر کے کراچی آئے۔ کراچی کی تعمیر نو اور اس کی سیاسی و سماجی تاریخ میں اس برادری کا کردار انتہائی منفرد اور لازمی رہا ہے، جہاں انہوں نے اپنی چھینی اور ہتھوڑے کی مدد سے کڑے پتھروں کو موم کر کے اس ساحلی شہر کو برصغیر کا ایک خوبصورت نوآبادیاتی مرکز بنا دیا۔

    راجستھان کے صحراؤں سے تالپور دور کے ساحل تک

    اس داستان کا آغاز انیسویں صدی کے وسط میں ہوتا ہے، بالخصوص 1843 میں انگریزوں کے سندھ پر قبضے کے بعد جب کراچی اور حیدرآباد منتقل ہونے کے لیے راجستھان کے علاقے مارواڑ، خاص طور پر جیسلمیر اور جودھپور، سے نقل مکانی کا ایک بڑا سلسلہ شروع ہوا۔

    موروثی طور پر یہ لوگ اعلیٰ پائے کے معمار اور سنگ تراش تھے، جنہیں راجستھانی زبان میں ‘شلاوٹ’ یا ‘سلاوٹ’ کہا جاتا تھا، جس کے معنی پتھر کاٹنے اور اس پر خوبصورت نقش و نگار بنانے والے کے ہیں۔

    مذہبی پس منظر کے لحاظ سے یہ برادری راجستھان میں پہلے ہندو عقائد پر قائم تھی، جنہیں بعد میں پیر پگارا کے آباؤ اجداد اور حر جماعت کے بانی بزرگوں نے اسلام کی دعوت دی اور وہ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ انہیں تاریخ میں ‘مارواڑی مسلمان’ کہا جاتا ہے، جب کہ ان کا ایک محنت کش حصہ اپنے قدیم ہندو عقائد پر بھی قائم رہا۔

    کراچی آمد کے بعد اس مسلم برادری کا مستقل مسکن رنچھوڑ لائن بنا، جو شہر کا قدیم ترین اور مرکز نگاہ علاقہ ہے۔ اس برادری کی لازوال بلدیاتی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں تقسیم ہند کے بعد 1951 میں رنچھوڑ لائن کا نام تبدیل کر کے باقاعدہ ‘گزدر آباد’ رکھ دیا گیا، جب کہ اس کے گردونواح کے علاقوں کو مارواڑی لائنز کہا جاتا ہے۔

    دوسری طرف، ان کے ہم وطن ہندو محنت کش چمڑے کے کارخانوں کی وجہ سے لیاری ندی کے کناروں، چاکیواڑہ اور رنگیواڑہ کی گلیوں میں آباد ہوئے۔

    چھینی اور ہتھوڑے کا جادو، سنگ تراشی اور معماری کا فن

    سلاوٹ برادری کے مرد موروثی طور پر پتھروں کے نبض شناس تھے۔ گزری کے پہاڑوں سے نکلنے والے پیلے پتھر کو منتخب کرنا، اس کی پائیداری کو پرکھنا اور پھر اسے چھینی اور ہتھوڑے کی ضرب سے خوبصورت محرابوں، ستونوں اور گوتھک طرز کے جھروکوں میں تبدیل کرنا ان کا موروثی کمال تھا۔

    اس دور میں جب جدید سیمنٹ دستیاب نہیں تھا، یہ ماہر معمار چونے، گارے اور روایتی آمیزے کی مدد سے پتھروں کو اس مہارت سے جوڑتے تھے کہ عمارتیں صدیوں کے موسموں کی سختیاں جھیلنے کے بعد بھی آج تک جوں کی توں کھڑی ہیں۔

    کراچی کی برطانوی دور کی کلاسیکی پیلے پتھر سے بنی بیشتر تاریخی عمارتوں کی تعمیر، ان کے شاہکار کٹاؤ اور نقش و نگار میں سلاوٹ برادری کا خون پسینہ شامل ہے۔ ان معماروں کا کمال صرف کراچی تک محدود نہیں تھا۔ اس برادری کی سب سے نامور سیاسی و سماجی شخصیت محمد ہاشم گزدر کے والد ‘فیض محمد’ کو راجستھان کے راجا نے شاہی محل کا عظیم اور بے مثال مرکزی دروازہ ‘بادل ولاس’ تعمیر کرنے پر باقاعدہ ‘گجدھر’ یا ‘گزدر’ کا خطاب دیا تھا، جس کے لغوی معنی ‘معمار اعظم’ کے ہیں۔
    یہی خاندانی لقب آگے چل کر اس پورے خاندان کی پہچان بنا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ برادری صرف سنگ تراشی تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان کی اگلی نسلوں میں بہترین شاعر، ادیب، تاجر، وکیل اور اخبار نویس بھی پیدا ہوئے جنہوں نے شہر کے ادبی افق کو جلا بخشی۔

    لیاری کی ٹینریاں اور ہندو مارواڑی خواتین کی گمنام جفاکشی

    کراچی کی صنعتی تاریخ کا ذکر جہاں بھی آتا ہے، وہاں لیاری کے ٹینری روڈ پر واقع چمڑا رنگنے کے قدیم کارخانوں کا تذکرہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ان کارخانوں میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو مارواڑی برادری کی بھی ایک بہت بڑی اور جاندار تاریخ وابستہ ہے، اور خاص طور پر ان کی خواتین کا کردار کراچی کی ابتدائی معیشت کا ایک گمنام مگر نہایت اہم باب ہے۔

    ان خواتین کا تعلق زیادہ تر راجستھان کے نچلے طبقے کی محنت کش برادریوں جیسے باقری، بھیل یا میگھواڑ سے تھا۔

    چمڑے کی صفائی اور پروسیسنگ کا کام انتہائی سخت، جان لیوا اور شدید بدبودار ہوتا تھا۔ یہ ہندو مارواڑی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ان ٹینریوں میں کام کرتی تھیں۔ خام چمڑے کو سڑنے سے بچانے کے لیے اس پر بھاری مقدار میں نمک لگانا، چمڑے کی اندرونی چربی اور گوشت کو مخصوص تیز دھار اوزاروں سے کھرچنا، اور پھر انہیں بڑے بڑے حوضوں میں کیمیائی مادوں اور رنگوں کے ساتھ تیار کرنا ان خواتین کا روز کا معمول تھا۔

    یہ خواتین صبح سویرے سے لے کر رات گئے تک شدید گرمی اور تعفن زدہ ماحول میں سخت ترین جسمانی مشقت کرتی تھیں، جس کی وجہ سے انہیں لیاری کے صنعتی تانے بانے کی ‘پشت پناہ’ مانا جاتا تھا۔

    ان خواتین کی ایک منفرد ثقافتی شناخت اور پہناوا تھا جو انہیں شہر کی باقی آبادی سے بالکل ممتاز کرتا تھا۔ یہ لیاری کی گلیوں میں اپنے روایتی راجستھانی لباس یعنی گھاگھرا، چولی اور چمکدار رنگوں کی اوڑھنی، ‘چنری’، میں نظر آتی تھیں۔ ان کے بازو کندھے سے لے کر کلائی تک سفید رنگ کے ہاتھی دانت یا پلاسٹک کے چوڑوں سے بھرے ہوتے تھے، جو ان کے سہاگ اور روایتی ثقافت کی علامت تھے۔

    اس کے ساتھ وہ چاندی کے روایتی بھاری زیورات پہنتی تھیں اور اپنے ہاتھوں اور چہرے پر روایتی نقش و نگار کے گدنے بنواتی تھیں۔ ان کا یہ روایتی روپ لیاری کے بلوچی اور کچھی ماحول میں بالکل منفرد دکھائی دیتا تھا۔

    1947 میں جب برصغیر کی تقسیم کا سانحہ ہوا اور کراچی کے امیر ہندو تاجروں اور اشرافیہ کی اکثریت بھارت چلی گئی تو لیاری کے ان غریب محنت کش ہندو مارواڑی خاندانوں نے اپنے مسلم پڑوسیوں کی محبت اور یقین دہانی پر اپنا شہر چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا، کیونکہ ان کا روزگار اور جڑیں انہی ٹینریوں اور کراچی کی مٹی سے وابستہ تھیں۔

    گیلریوں کا سماج اور ‘تھالیاں بجانے’ کی منفرد روایت

    گزدر آباد، رنچھوڑ لائن، کی قدیم عمارتیں، جنہیں اسی معمار برادری نے اپنے ہاتھوں سے پیلے پتھر سے بنایا تھا، اپنے خاص طرز تعمیر کی وجہ سے ایک منفرد سماجی تانے بانے کو جنم دیتی تھیں۔ ان تین سے چار منزلہ عمارتوں کے سامنے طویل اور مشترکہ گیلریاں ہوتی تھیں، جو صرف ہوا اور روشنی کے لیے نہیں تھیں بلکہ پورے محلے کو ایک بڑے مشترکہ گھر میں تبدیل کر دیتی تھیں۔ مارواڑی خواتین دن بھر کا بیشتر وقت انہی گیلریوں میں گزارتی تھیں۔

    صبح کا ناشتہ ہو، دوپہر میں پیاز یا سبزیاں چھیلنا ہو، یا شام کی چائے، خواتین اپنی اپنی گیلریوں کے لوہے کے جنگلوں کے ساتھ کھڑی ہو کر آمنے سامنے یا اوپر نیچے کی منزلوں پر موجود دوسری خواتین سے پورے محلے کے سکھ دکھ شیئر کرتی تھیں۔ یہ گیلریاں اتنی قریب ہوتی تھیں کہ پڑوسی آرام سے ہاتھ بڑھا کر سالن کی کٹوری، ماچس کی ڈبیا یا چائے کی پتی ایک دوسرے کو پکڑا دیتے تھے۔

    انہی گلیوں اور کوارٹروں میں خواتین کے درمیان ہونے والی نوک جھونک اور بحث کے دوران ‘تھالیاں بجانے’ کی ایک انتہائی دلچسپ اور منفرد روایت مشہور تھی۔ مارواڑی خواتین کی لڑائی اکثر اونچی آواز اور مخصوص راجستھانی و مارواڑی جملوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ جب دو خواتین کے درمیان جھگڑا طول پکڑتا اور وہ تھک جاتیں تو محلے کی دیگر خواتین یا وہ خود اسٹیل یا پیتل کی تھالی کو چمچے سے زور زور سے بجاتی تھیں۔

    اس تھالی بجانے کا مقصد لڑائی میں ‘وقفہ’ دینا ہوتا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے کشتی کے مقابلے میں ایک مرحلہ ختم ہونے کی گھنٹی بجتی ہے۔ جب خواتین تھک کر اپنے گھروں کے کام کاج نمٹانے یا روٹی پکانے جاتیں تو تھالی بجا کر لڑائی کو عارضی طور پر روک دیا جاتا۔

    بعد میں گھریلو کاموں سے فارغ ہو کر جب دوبارہ میدان جنگ گرم کرنا ہوتا تو ایک بار پھر تھالی بجا کر دوسری خاتون کو گیلری میں آنے کا چیلنج دیا جاتا کہ ‘اب آؤ، اگلا مرحلہ شروع کریں۔’ یہ لڑائیاں محلے کی تفریح کا سامان ہوتی تھیں جن کا خاتمہ اکثر شام کو ہنسی مذاق اور صلح پر ہوتا تھا۔

    ونجھ وٹی کا کھیل اور روایتی تفریحات

    تقسیم سے قبل اور بعد کے ادوار میں گزدر آباد کی مسلم مارواڑی برادری کی تفریحات اور کھیل ان کی مضبوط سماجی جڑت کے عکاس تھے۔ چونکہ سنگ تراشی کا کام کرنے کی وجہ سے اس برادری کے مرد جسمانی طور پر انتہائی مضبوط اور چست ہوتے تھے، اس لیے ان کے کھیل بھی جسمانی طاقت کے مرہون منت تھے۔

    ان کا سب سے پسندیدہ، موروثی اور شاہکار کھیل ‘ونجھ وٹی’ یا ‘وانجھی بارا’ تھا۔ یہ کھیل کسی مہنگے آلات کا محتاج نہیں تھا بلکہ کھلے میدان یا مٹی والی زمین پر چاک یا کوئلے کی مدد سے بڑے بڑے چوکور خانے بنا کر کھیلا جاتا تھا۔ ان خانوں کو تقسیم کرنے والی لکیروں کو ‘پٹیاں’ یا ‘ونجھ’ کہا جاتا تھا۔

    یہ کھیل دو ٹیموں کے درمیان ہوتا تھا جس میں چار سے آٹھ کھلاڑی ہوتے تھے۔ دفاعی ٹیم کے کھلاڑی صرف اپنی مخصوص لکیر پر دائیں بائیں بھاگ کر لکیر کی حفاظت کر سکتے تھے، جب کہ ان کا کپتان مرکزی عمودی لکیر پر اوپر سے نیچے تک حرکت کر سکتا تھا۔ حملہ آور ٹیم کا مقصد لکیر پر کھڑے حریفوں کے ہاتھوں آؤٹ یا لمس ہوئے بغیر تمام خانوں کو پار کر کے آخری حد تک پہنچنا اور پھر وہاں سے کامیابی سے واپس پہلے خانے تک لوٹنا ہوتا تھا۔

    ونجھ وٹی میں سلاوٹ نوجوانوں کی دوڑنے کی چستی اور پینترا بدلنے کی صلاحیت دیکھنے کے لائق ہوتی تھی، اور جب کوئی کھلاڑی حریف کو چکمہ دے کر خانے پار کرتا تو گیلریوں میں کھڑا پورا محلہ زور دار نعروں سے گونج اٹھتا۔ عرس کے دنوں میں یا چاندنی راتوں میں رنچھوڑ لائن اور لیاری کی مختلف گلیوں کے درمیان ونجھ وٹی کے باقاعدہ مقابلے ہوتے تھے اور جیتنے والی ٹیم کو برادری کی طرف سے روایتی مٹھائی کھلائی جاتی تھی۔

    ونجھ وٹی کے علاوہ گلیوں میں کبڈی اور کشتی کے دنگل سجتے تھے، جب کہ راجستھانی ثقافت کے اثر کے باعث پتنگ بازی کا جنون بھی عروج پر ہوتا تھا۔ مردوں کی سب سے بڑی تفریح شام کے وقت محلے کے روایتی چائے خانوں پر لکڑی کے بنچوں پر بیٹھ کر کڑک دودھ پتی کے کپ کے ساتھ دن بھر کی مزدوری اور برادری کے معاملات پر بحث کرنا ہوتا تھا، جہاں پرانے ریکارڈ پلیئر پر موسیقی گونجتی تھی۔

    سیاسی و سماجی خدمات کا تاریخی باب، محمد ہاشم گزدر کا دور

    مارواڑی سلاوٹ برادری کی سیاسی اور بلدیاتی خدمات تاریخ کا ایک نہایت روشن باب ہیں۔ اس برادری کے مایہ ناز رہنما محمد ہاشم گزدر 1941 سے 1942 کے دوران کراچی کے میئر منتخب ہوئے۔ انہوں نے شہر کی بلدیاتی ترقی، صفائی ستھرائی اور پانی کی فراہمی کے نظام میں انقلابی اصلاحات کیں۔

    ہاشم گزدر تحریک آزادی کے سرگرم رہنما اور قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی اور معتمد ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے، جنہوں نے بمبئی لیجسلیٹو کونسل اور بعد میں سندھ کے وزیر داخلہ کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان کی پہلی مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن اور قومی اسمبلی کے دوسرے ڈپٹی اسپیکر بنے۔

    بلدیاتی خدمات کے ساتھ ساتھ، برصغیر میں کوآپریٹو ہاؤسنگ کا پہلا کامیاب تجربہ کرنے والے سنسیناٹس فابین ڈی ابریو نے 1908 میں کراچی کی پہلی منصوبہ بند ہاؤسنگ سوسائٹی قائم کی، جسے ان کے نام پر ‘سنسیناٹس ٹاؤن’ کہا گیا اور جو آج گارڈن ایسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    اس کی تعمیرات میں بھی سلاوٹ معماروں کا کلیدی ہاتھ تھا۔ اسی طرح تقسیم کے بعد رہائشی بحران کو حل کرنے کے لیے جیروم ڈی سلوا نے اپنے مسلم ساتھی کے ساتھ مل کر مشہور ‘حسین ڈی سلوا ٹاؤن’ بنایا تو اس میں بھی انہی کاریگروں کا پسینہ شامل تھا۔

    تعلیمی میدان میں برادری نے اپنے بل بوتے پر گزدر آباد میں فلاحی مراکز اور اسکول قائم کیے، جن میں 1949 میں قائم ہونے والا ‘ایم ایچ گزدر گورنمنٹ سیکنڈری اسکول’ آج بھی ان کی علم دوستی کا ثبوت ہے۔ برٹو روڈ، پیڈرو ڈی سوزا روڈ اور ڈی سلوا اسٹریٹ کے ساتھ ساتھ گزدر آباد کی گلیاں ان شخصیات کی یاد دلاتی ہیں۔

    عقیدت کے رنگ، مساجد اور عرس کے روایتی پکوان

    مذہبی عقائد کے معاملے میں مسلم مارواڑی برادری بنیادی طور پر اہل سنت والجماعت، فقہ حنفی، سے تعلق رکھتی ہے اور ان کا فکری رجحان صوفیانہ ہے۔ چونکہ راجستھان میں ان کے آباؤ اجداد کو حر جماعت کے بانی بزرگوں نے اسلام کا پیغام دیا تھا، اس لیے اس برادری کی ایک بہت بڑی تعداد آج بھی پیر پگارا کے خانوادے کی مرید ہے اور ان سے گہری عقیدت رکھتی ہے۔

    چونکہ یہ لوگ خود معمار تھے، اس لیے انہوں نے کراچی میں جو مساجد تعمیر کیں، وہ اپنی خوبصورتی اور پائیداری میں بے مثال ہیں۔ گزدر آباد کی مرکزی ‘جامع مسجد سلاوٹ’ اور ‘مسجد غوثیہ’ پیلے پتھر کی دستکاری، ہاتھ سے تراشے گئے محرابوں اور شاندار خطاطی کا شاہکار ہیں، جو برادری کے تمام سماجی فیصلوں کا مرکز رہی ہیں۔

    دوسری طرف، لیاری کے اولڈ سلاٹر یارڈ روڈ پر واقع کے ایم سی اسٹاف کمپاؤنڈ میں قائم ‘شری رام دیو جی پیر مندر’، رام شاہ پیر، ہندو مارواڑیوں کا سب سے بڑا مرکز ہے، جہاں ہر سال بھادوں، اگست اور ستمبر، کے مہینے میں راما پیر کا میلہ روایتی ڈنڈیا راس، سفید پرچم لہرانے کی رسم اور جاگرن کے ساتھ دھوم دھام سے منایا جاتا ہے، جس میں مقامی مسلم بلوچ پڑوسی بھی شرکت کرتے ہیں۔

    مسلم مارواڑیوں کے ہاں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا عرس، گیارہویں شریف، اور جشن عید میلاد النبیﷺ سب سے بڑے سالانہ اجتماعات ہوتے ہیں۔ اس موقع پر گزدر آباد کی تنگ گلیوں میں بڑے بڑے دیگچے سج جاتے ہیں اور فضا دیسی گھی، کیوڑے اور الائچی کی خوشبو سے مہک اٹھتی ہے۔ ان کے پکوان راجستھانی روایات اور کراچی کے چٹ پٹے ذائقوں کا ایک بہترین اور منفرد امتزاج ہوتے ہیں۔

    مارواڑی سفید پلاؤ

    یہ عرس کا شاہی پکوان ہے جو ہلکے مسالوں، دیسی گھی، سونف اور دھنیے کی یخنی میں تیار کیا جاتا ہے، جس میں گوشت مکھن کی طرح نرم ہوتا ہے۔

    گٹے کا سالن

    یہ خالص راجستھانی موروثی ڈش ہے جو بیسن کے رولز کو ابال کر، دہی اور ٹماٹر کی کھٹی گریوی میں پکا کر تیار کی جاتی ہے اور عرس کے لنگر میں نان کے ساتھ شوق سے کھائی جاتی ہے۔

    کھڈ گوشت

    عرس کے خاص موقع پر بکرے کے پورے گوشت کو مسالے لگا کر پپیتے کے پتوں میں لپیٹا جاتا ہے اور پھر زمین میں گڑھا کھود کر کوئلوں کی دھیمی آنچ پر کئی گھنٹوں تک پکا کر روایتی صحرائی ذائقہ کشید کیا جاتا ہے۔

    لاپسی

    نیاز اور تبرک کا آغاز و اختتام اس میٹھے کے بغیر ادھورا ہے۔ یہ ٹوٹے ہوئے گیہوں، دلیہ، کو دیسی گھی میں بھون کر، گڑ، الائچی اور خشک میوے ڈال کر دم پر تیار کی جاتی ہے۔

    ثقافتی پہچان اور مارواڑی زبان کا خمیر

    مارواڑی زبان اس برادری کی بقا اور شناخت کا سب سے مضبوط ستون ہے۔ یہ ہند آریائی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور بنیادی طور پر مغربی راجستھان، جودھپور اور جیسلمیر، کا ایک لہجہ ہے، جس کا خمیر سندھی، گجراتی اور کچھی زبانوں سے بہت ملتا جلتا ہے۔

    کراچی آنے کے بعد مسلم مارواڑیوں نے اردو کو بھی اپنایا، لیکن ان کا مخصوص لہجہ اور الفاظ سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتے تھے۔ ان کی خواتین شادیوں اور مذہبی تہواروں کے رت جگے میں ڈھولک کی تھاپ پر مارواڑی زبان میں روایتی لوک گیت ‘مانگڑ’ اور ‘ہمنگ’ گاتی ہیں، جن میں راجستھان کے صحراؤں، بارش کی دعاؤں اور اپنے بزرگوں کی ہجرت کا ذکر ہوتا ہے۔

    جدید دور کے باوجود یہ برادری اپنے گھروں کی چار دیواری کے اندر دادا دادی اور نانا نانی سے گفتگو کے لیے آج بھی خالص مارواڑی زبان ہی استعمال کرتی ہے تاکہ یہ ورثہ زندہ رہے۔

    ہجرت کی دھند اور موجودہ پھیلاؤ

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گنجان آبادی، روزگار کی تبدیلی اور معاشی ترقی کی وجہ سے یہ برادری اب صرف گزدر آباد، رنچھوڑ لائن، تک محدود نہیں رہی۔ جب لیاری سے چمڑے کی ٹینریاں کورنگی صنعتی علاقے منتقل ہوئیں تو چمڑے کے کاروبار سے وابستہ مسلم اور ہندو مارواڑی خاندانوں کی ایک بڑی تعداد کورنگی کے مختلف سیکٹروں، ناصر کالونی اور چمڑا چورنگی، میں منتقل ہو گئی۔

    اسی طرح بلدیہ ٹاؤن اور عثمان آباد میں بھی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے مارواڑی رہائش پذیر ہیں۔ برادری کے وہ لوگ جنہوں نے تعلیم حاصل کی یا بلڈنگ کنسٹرکشن، ٹھیکیداری، چمڑے کی برآمدات اور تھوک تجارت میں ترقی کی، وہ اب کراچی کے پوش اور متوسط علاقوں جیسے گلشن اقبال، گلستان جوہر اور فیڈرل بی ایریا میں منتقل ہو چکے ہیں۔

    سرکاری مردم شماری میں مارواڑی یا سلاوٹ برادری کا کوئی الگ خانہ نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے وہ لسانی طور پر دستاویزی ریکارڈ میں گم ہو جاتے ہیں، لیکن برادری کے فلاحی اداروں، جیسے جامعتہ السلاطین، کے تخمینے کے مطابق کراچی اور حیدرآباد کو ملا کر مسلم مارواڑی سلاوٹ برادری کی آبادی قریباً ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان ہے، جب کہ ان کے اکابرین اور سابق میئر ہاشم گزدر کا ابدی مسکن میوہ شاہ قبرستان کے خاندانی احاطے میں واقع ہے۔

    آج گزدر آباد کی پرانی اور خستہ حال عمارتیں، ان کی طویل گیلریاں اور سڑکوں کے کتبے اب خاموش نوحہ بن چکے ہیں۔ وہ چھینی اور ہتھوڑے کی آوازیں جو کبھی پتھروں کو زندگی دیتی تھیں، اب جدید کنکریٹ کے شور میں دب چکی ہیں، لیکن پرانے کراچی کی گلیوں کا رخ کیا جائے تو یہ پیلے پتھر آج بھی پکار پکار کر کہتے ہیں کہ اس شہر قائد کو معمار اعظم کا روپ دینے والے اصل تاجدار کون تھے۔ کراچی کی تاریخ ان کے تذکرے کے بغیر ہمیشہ نامکمل رہے گی۔

  • زاویہ: جغرافیائی شکنجہ اور بقا کا مقدمہ، کیا اسٹیبلشمنٹ تاریخ کی سب سے بڑی چال چلے گی؟

    زاویہ: جغرافیائی شکنجہ اور بقا کا مقدمہ، کیا اسٹیبلشمنٹ تاریخ کی سب سے بڑی چال چلے گی؟

    تاریخ اقوام عالم کے سامنے بعض اوقات ایسے کڑے، بے رحم اور سفاک لمحات آتے ہیں جہاں تساہل کی گنجائش اور غلطی کا مارجن صفر ہو جاتا ہے۔

    جولائی 2026 کا یہ تپتا ہوا مہینہ پاکستان کے لیے ایک ایسے ہی تاریخی، تزویراتی اور جغرافیائی امتحان کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ ایک طرف ابھی حال ہی میں دنیا بھر میں ’چٹانوں کا عالمی دن‘ منایا گیا، جو ہمیں دھرتی کے مضبوط، غیر متزلزل اور قدیم جغرافیائی ڈھانچے کی یاد دلاتا ہے، تو دوسری طرف خود پاکستان کا جغرافیہ اس وقت ایک دم گھونٹ دینے والے تزویراتی شکنجے میں تبدیل ہو چکا ہے۔

    پاکستان اس وقت ایک ایسے ’بیک وقت کئی محاذوں پر پھیلے بحران‘ کا شکار ہے، جہاں اس کی اندرونی سیاست مفلوج، معیشت وینٹی لیٹر پر اور سرحدیں بارود کی بو سے بوجھل ہیں۔ اس تاریک سرنگ میں اب سویلین قیادت کی بے بسی اور بے اختیاری پوری طرح عیاں ہو چکی ہے، اور اب فیصلہ کن گیند مکمل طور پر ملکی اسٹیبلشمنٹ کے کورٹ میں آ گری ہے۔

    مقتدرہ کو اب اپنی روایتی انا اور مائیکرو مینیجمنٹ کی پالیسی کو پس پشت ڈال کر نہ صرف اندرونی طور پر سیاسی فراخدلی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، بلکہ بیرونی محاذ پر برادر ملک سعودی عرب کے تاریخی و معتبر کردار کو بروئے کار لا کر ملک کو اس تاریخی دلدل سے نکالنا ہوگا۔

    جغرافیائی شکنجہ چار متحرک اور خطرناک محاذ

    اگر ہم پاکستان کے موجودہ جغرافیائی و سیاسی نقشے پر نگاہ دوڑائیں، تو ہمارا ملک اس وقت چار انتہائی متحرک اور مہلک محاذوں کے درمیان گھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

    جنوب مغربی محاذ ایران امریکہ جنگ کا ہولناک سایہ

    پہلا اور سب سے بڑا تزویراتی دھچکا ہمارے جنوب مغرب میں پڑوسی ملک ایران اور امریکہ کے درمیان چھڑنے والی تازہ ترین ہولناک جنگ ہے۔ جون 2026 میں ہونے والے ’اسلام آباد جنگ بندی معاہدے‘ کے ٹوٹنے کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی اور ساحلی شہروں پر فضائی حملوں نے پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

    ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے جوابی کارروائی کے طور پر آبنائے ہرمز میں خلیجی ممالک کے آئل ٹینکرز اور بحرین و اردن میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے عمل نے پاکستان کو براہ راست لپیٹ میں لے لیا ہے۔

    اس جنگ کا سب سے مہلک اثر ہماری معیشت پر پڑا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے خوف سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں حکومت پاکستان کو ملکی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پچاس فیصد تک کا کمر توڑ اضافہ کرنا پڑا ہے۔

    اس بیرونی جھٹکے نے ملک میں مہنگائی کا وہ طوفان نوح کھڑا کیا ہے جس نے عام آدمی سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ مزید برآں، فرنس آئل اور درآمدی گیس کی سپلائی معطل ہونے سے ملک کا توانائی کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہے، طویل لوڈشیڈنگ نے صنعتی پہیے کو جام کر دیا ہے، اور عالمی مالیاتی فنڈ کے حالیہ سخت پروگرام کے اہداف بھی کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    اس محاذ پر پاکستان کی بقا صرف اور صرف ’سخت اور غیر متزلزل غیر جانبداری‘ میں ہے۔ کسی بھی ایک فریق کا ساتھ دینا یا اپنی فضائی حدود کی فراہمی بلوچستان کے حساس بارڈر پر جنگ کی ایک نئی آگ بھڑکانے کے مترادف ہوگا۔

    مغربی محاذ کابل سے تلخی اور زیرو ٹولرینس

    دوسرا فعال محاذ ہماری مغربی سرحد یعنی افغانستان کا ہے۔ کراچی میں رینجرز پر ہونے والے حالیہ بزدلانہ حملے کے تانے بانے افغان سرزمین سے ملنے کے بعد اسلام آباد اور کابل کے مابین سفارتی و عسکری تلخی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔

    پاکستان کی عسکری قیادت اب اپنی دہائیوں پرانی ’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘ کی روایتی پالیسی کو دفن کر کے ’زیرو ٹولرینس‘ کا جارحانہ اصول اپنا چکی ہے۔ طورخم اور چمن بارڈرز پر سخت ترین سکیورٹی ضابطے نافذ ہیں اور بغیر پاسپورٹ و ویزا کے افغان شہریوں کی آمدورفت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    پاکستان کو اس مغربی محاذ پر اپنے قلیل عسکری اور مالی وسائل جھونکنے پڑ رہے ہیں تاکہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر ملک دشمن گروہوں کے حملوں کا راستہ روکا جا سکے۔

    تزویراتی ماہرین کو یہ شدید تشویش ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بحران کا فائدہ اٹھا کر پاکستان مخالف قوتیں مغربی سرحد پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں تاکہ پاک فوج کی توجہ اور دفاعی وسائل کو تقسیم کیا جا سکے۔

    مشرقی محاذ روایتی حریف کی گھات

    تیسرا محاذ مشرق میں روایتی حریف بھارت کا دیرینہ عناد ہے، جو ہمیشہ سے پاکستان کی اندرونی سیاسی کمزوری اور مغربی سرحدوں پر مصروفیت کا فائدہ اٹھانے کی تاک میں رہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان اندرونی طور پر کمزور اور معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار ہوا، مشرقی سرحد پر بھارت کی طرف سے کسی بھی قسم کے ایڈونچر ازم کا خطرہ دوچند ہو گیا۔

    اندرونی محاذ سیاسی انتشار اور معاشی مفلوجگی

    لیکن ان تمام بیرونی محاذوں سے زیادہ مہلک اور ہولناک چوتھا محاذ خود پاکستان کا مرکز یعنی اس کا اندرونی سیاسی اور معاشی خلفشار ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک ملک کے اندر سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل نہیں ہوگا، کوئی بھی ریاست بیرونی خطرات کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

    موجودہ سویلین حکمران اتحاد اور حقیقی اپوزیشن کے مابین نفرتیں اور خلیج اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ وہ ملکی بقا کے لیے کسی ایک میز پر بیٹھنے یا عارضی ’سیاسی جنگ بندی‘ کرنے پر بھی راضی نہیں ہیں۔ سویلین قیادت اس وقت عوامی مقبولیت کے بدترین بحران اور شدید دھڑے بندی کا شکار ہے، جس سے پورا نظام حکومت مفلوج ہو چکا ہے۔ عوام کا ریاست پر سے اعتماد اٹھ رہا ہے اور اپوزیشن مہنگائی کو ڈھال بنا کر ملک گیر احتجاج کی تیاریاں کر رہی ہے۔

    بند گلی سے نکلنے کا راستہ سیاسی فراخدلی

    ایسے حالات میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس تزویراتی بند گلی سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ اس کا واحد، حتمی اور معروضی جواب یہ ہے کہ اب گیند مکمل طور پر اسٹیبلشمنٹ کے کورٹ میں ہے۔ چونکہ سویلین پارٹیاں اپنی سیاسی بقا، نظریاتی دشمنیوں اور ووٹ بینک کے خوف سے طویل مدتی یا کڑوے فیصلے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اس لیے اسٹیبلشمنٹ کو خود آگے بڑھ کر ایک ’معاشی اور سیاسی منتظم‘ کا تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔

    لیکن اس کے لیے مقتدرہ کو اپنا روایتی طریقہ کار بدلنا ہوگا۔ انہیں اب انتہائی ’فراخدلی‘ کے ساتھ گراؤنڈ پر موجود ملک کی حقیقی اپوزیشن اور عوامی نمائندوں کے ساتھ پس پردہ بامقصد مذاکرات کا آغاز کرنا ہوگا۔

    اپوزیشن کو دیوار سے لگا کر، یا انہیں سیاسی عمل سے زبردستی باہر رکھ کر بنایا گیا کوئی بھی ’قومی ایجنڈا‘ یا ’میثاق معیشت‘ عوامی قبولیت حاصل نہیں کر سکے گا، اور ملک اسی طرح دائروں کے بے سود سفر میں بھٹکتا رہے گا۔ ملک کو اس وقت انتقام سے پاک ایک ’سیاسی عام معافی‘ اور تمام متعلقہ فریقوں کے مابین ایک طویل مدتی عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔

    سعودی عرب کا کردار معتبر ضامن اور تزویراتی شراکت دار

    اس اندرونی فراخدلی کے ساتھ ساتھ، پاکستان کو اس معاشی و سیاسی دلدل سے نکالنے کے لیے بیرونی طور پر سب سے معتبر چابی برادر ملک ’سعودی عرب‘ کے پاس ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاسی قیادت اور اہم متعلقہ فریقوں کے درمیان ڈیڈ لاک ناقابل حل ہوا، تو ریاض نے ہمیشہ ایک مخلص ’بڑے بھائی‘ اور ضامن کا کردار ادا کیا۔

    موجودہ علاقائی صورتحال میں پاکستان کا مستحکم ہونا خود سعودی عرب کے اپنے مفاد میں ہے۔ ایران امریکہ جنگ کے سائے میں سعودی عرب کو اپنی آئل تنصیبات اور اندرونی سلامتی کے حوالے سے شدید تزویراتی خدشات لاحق ہیں۔ اس ہولناک جنگی ماحول میں پاکستان کی ایٹمی پوزیشن اور اس کی مضبوط روایتی عسکری قوت ہی وہ واحد دفاعی حصار اور ’ایٹمی چھتری‘ ہے جس پر خلیجی ممالک انحصار کر سکتے ہیں۔ ایک کمزور، ایٹمی صلاحیت رکھنے والا مگر معاشی طور پر مفلوج پاکستان خود سعودی عرب کی اپنی دفاعی صلاحیت کے لیے ایک بہت بڑا سکیورٹی رسک ہے۔

    علاوہ ازیں، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اپنے پروگرام ’ویژن 2030‘ کے تحت پاکستان کے کان کنی اور توانائی کے شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اگر پاکستان کے اندر سیاسی ہیجان اور امن و امان کا بحران ختم نہ ہوا، تو ان کی یہ تمام تر سرمایہ کاری خطرے میں پڑ جائے گی۔

    چنانچہ، اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب کو اس سیاسی ڈیڈ لاک کو توڑنے کے لیے بطور ثالث استعمال کرے۔ سعودی قیادت کا احترام پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ، حکمران جماعتوں اور حقیقی اپوزیشن، تینوں کے ہاں بلا تفریق پایا جاتا ہے۔ اگر سعودی عرب پاکستان کو معاشی بیل آؤٹ پیکج دینے کے ساتھ یہ دوستانہ شرط عائد کرے کہ وہ تمام حقیقی سیاسی قوتوں کو ایک میز پر دیکھنا چاہتا ہے، تو پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کا کھویا ہوا اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور ملک میں ایک طویل مدتی سیاسی جنگ بندی ممکن ہو جائے گی۔

    جیسا کہ کارونجھر کی چٹانوں کے بارے میں تھر کے تھری لوگ کہتے ہیں کہ ’کارونجھر سونا دیتا ہے‘ کیونکہ وہ پہاڑ ان کی زندگی، روزگار اور پانی کے ذخائر کا ضامن ہے۔ بالکل اسی طرح پاکستان کا تزویراتی جغرافیہ اور اس کا دفاعی مقام بھی ہمارا سب سے قیمتی اور بیش بہا اثاثہ ہے، بشرطیکہ ہم اسے اندرونی لڑائیوں اور انتقام کی بھٹی میں جھونکنے کے بجائے عقل و دانش سے استعمال کریں۔

    چٹانوں کے عالمی دن پر ہمیں یہ آفاقی سبق یاد رکھنا چاہیے کہ جو قومیں اندرونی طور پر چٹان کی طرح مضبوط اور متحد نہیں ہوتیں، بیرونی طوفانی ہوائیں ان کے وجود کو ریت کے ذروں کی طرح اڑا کر لے جاتی ہیں۔

    پاکستان کے پاس اب مزید سیاسی تجربات، بند کمروں کے فیصلوں، انتقامی سیاست یا اندرونی خلفشار کی گنجائش قطعی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو اب اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اور فیصلہ کن چال چلنی ہوگی۔ انہیں سویلین قیادت کی مصلحت پسندی اور بے بسی کو بالائے طاق رکھ کر خود ایک قدم آگے بڑھانا ہوگا، حقیقی اپوزیشن کے لیے اپنے دروازے کھولنے ہوں گے اور سعودی عرب کی باوقار ضمانت میں ایک ایسا ’میثاق پاکستان‘ تشکیل دینا ہوگا جو اگلے دس سال کے لیے ملک کی معاشی اور خارجہ پالیسی کو روزمرہ کی گندی سیاست کی دست برد سے محفوظ کر دے۔

    اگر آج یہ موقع گنوا دیا گیا، تو ایران کی جنگ، افغانستان کا تناؤ اور اندرونی مہنگائی کا یہ بھیانک طوفان پاکستان کو ایک ایسے تاریک گڑھے کی طرف دھکیل دے گا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ وقت ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل رہا ہے اور تاریخ کی آنکھیں ہمیں دیکھ رہی ہیں۔

  • نگرپارکر: کارونجھر کی آغوش میں بسا ایک تاریخی شہر

    نگرپارکر: کارونجھر کی آغوش میں بسا ایک تاریخی شہر

    پارکر کے میدانوں پر، کارونجھر کی گود میں نگرپارکر کا خوبصورت شہر آباد ہے۔ جس کے دونوں اطراف سے کارونجھر (پہاڑ) سے بہہ کر آنے والی برساتی ندیوں کا گزر ہوتا ہے۔ شہر کے وسط کی خوبصورتی مٹی کے نلی دار کھپریلوں (نرین) سے بنی چھتوں والی پرانی بازار ہے، جسے ’پالن بازار‘ کہا جاتا ہے۔

    شہر میں داخل ہوتے ہی ایک قدیم جین مندر استقبال کرتا ہے، تو دوسرا کارونجھر سے ہم کلام ہونے کے لیے بازار سے باہر نکلتے وقت الوداع کہنے کے لیے تاریخ کا اونچا سر اٹھائے کھڑا ہے۔ بازار سے ایک راستہ کارونجھر میں موجود ’ساردھڑے دھام‘ کی طرف جاتا ہے، تو دوسرا راستہ گھڑٹیاری کے گھاٹ سے ہوتا ہوا کاسبو کی طرف نکلتا ہے۔ ساردھڑے جانے والے راستے پر چندن گڑھ کے آثار ہیں، ان آثاروں کے سامنے پنگل سوامی کا مندر ہے جس میں سورج کی پوجا کی جاتی تھی۔

    اس شہر میں کھپریلوں والا پرانا گھر ہو یا کوئی عام عمارت، یہاں کے اصل رہائشیوں کا یہ رواج رہا ہے کہ وہ گھر میں دیے (چراغ) کے لیے ایک خوبصورت طاقچہ (آلا) ضرور بنواتے ہیں۔

    جب بادل گھیر کر آتے ہیں اور پارکر کے میدانوں پر بارش کا سماں باندھتے ہیں، تب کارونجھر کی حسیناؤں کے دل میں جاگی ہوئی آرزو ایک لوک دوہے کا روپ اختیار کر لیتی ہے کہ:

    گهر نيگڙو، ڏيئو سچنت، آپ سميڻو مانرو ڪنت،
    پڇي ڀل وسو ميهولا، هون ستوڙي ڪران نچنت،

    (ترجمہ: خوبصورت و مضبوط گھر ہو، اس میں روشن چراغ جل رہا ہو، اور ساتھ میں میری ہی عمر اور ہم خیال میرا شوہر ہو، اس کے بعد بھلے بارشیں برستی رہیں، میں بے فکر ہو کر سکون کی نیند سوؤں گی)

    اسی کیفیت اور منظرنامے پر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:

    اڱڻ تازي، ٻَهَر ڪُنڊيون، پکا پٽ سُنهَن،
    سُرهي سيج، پاسي پرين، مر پيا مينهن وسن،
    اسان ۽ پِرينِ، شال هُون برابر ڏينهڙا۔

    (شاہ جو رسالو؛ کلیان آڈوانی، ص 393)

    (صحن میں اصیل گھوڑے بندھے ہوں، باہر دودھیل بھینسیں ہوں، زمین پر خوبصورت جھونپڑیاں بھلی لگ رہی ہوں، مہکتی ہوئی سیج ہو اور پہلو میں محبوب ہو، پھر بھلے موسلا دھار بارشیں برسیں؛ خدا کرے کہ ہمارے اور محبوب کے یہ (وصل کے) دن ہمیشہ قائم رہیں)