Tag: تاریخ

  • مشرق کی ملکہ کا مٹتا ہوا تمدن: جدید کراچی کی تکوین اور سندھی ہندو دانشوروں کا علمی و صحافتی ورثہ

    مشرق کی ملکہ کا مٹتا ہوا تمدن: جدید کراچی کی تکوین اور سندھی ہندو دانشوروں کا علمی و صحافتی ورثہ

    کراچی کی تاریخ دراصل برصغیر کے عظیم ترین تجارتی دماغوں، مدبرین اور دانشوروں کی مشترکہ محنت اور وژن کا مجموعہ ہے۔

    جب ہم آثار قدیمہ، لسانیات، ابلاغ عامہ اور شہری آبادیات کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اس شہر کے ماضی کا سراغ لگاتے ہیں، تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ کراچی کو مٹی کے ڈھیر سے اٹھا کر ‘مشرق کی ملکہ’ بنانے میں سندھی ہندو برادری، خصوصاً عامل اور بھائی بند طبقے، کا کردار بنیاد کا پتھر ہے۔

    یہ وہ برادری تھی جس نے نہ صرف اس شہر کی معاشی اور بلدیاتی بنیادیں استوار کیں، بلکہ جدید سندھی زبان، اس کے مروجہ رسم الخط، نثری ادب، تاریخ نویسی اور صحافت کو ایک سائنسی قالب میں ڈھال کر اسے جدید ترین علمی شکل دی۔

    آج کا کراچی جس تاریخی ورثے اور جن مٹتی ہوئی علمی روایات پر کھڑا ہے، ان کے پیچھے کارفرما فکری تحریک کا آغاز انیسویں صدی کے وسط سے ہوتا ہے۔

    بھائی بند اور عامل، تمدنی ارتقا کے دو متوازی دھڑے

    سندھ کے ہندو معاشرے کو بنیادی طور پر دو بڑے علمی اور عملی گروہوں میں تقسیم کیا جاتا تھا، جن کا کراچی کی منتقلی اور اس شہر کے تمدنی ارتقا میں الگ الگ مگر متوازی کردار رہا۔

    بھائی بند

    یہ بنیادی طور پر لوہانہ اور کھتری نژاد تجارتی طبقہ تھا، جس کا مرکز شکارپور، خدا آباد اور حیدرآباد تھا۔ انگریزوں کی آمد سے قبل یہ لوگ اونٹوں کے قافلوں کے ذریعے شاہراہ ریشم، وسطی ایشیا اور روس تک تجارت کرتے تھے۔ برطانوی راج میں جب کراچی کی بندرگاہ کھلی، تو یہ لوگ بڑے پیمانے پر یہاں منتقل ہوئے اور دنیا بھر میں اپنا تجارتی نیٹ ورک قائم کیا۔

    عامل

    یہ طبقہ انتہائی پڑھا لکھا، مغل اور کلہوڑا دور سے ہی درباروں میں دیوان اور منشی کے عہدوں پر فائز رہنے والا گروہ تھا۔ انگریزوں کے آنے کے بعد انہوں نے مغربی اور انگریزی تعلیم حاصل کی اور کراچی کی عدلیہ، کسٹمز، بلدیہ، صحافت اور انتظامیہ کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو کر شہر کے فکری منظرنامے پر چھا گئے۔

    سندھ ورک اور روایتی عالمی بینکاری نظام

    انیسویں صدی کے وسط سے لے کر بیسویں صدی کے وسط تک، حیدرآباد اور کراچی کے بھائی بند ہندوؤں نے، جنہیں عالمی منڈیوں میں ‘سندھ ورکی’ کہا جاتا تھا، بغیر کسی حکومتی یا فوجی سرپرستی کے دنیا بھر کے سمندری تجارتی راستوں پر اپنا غلبہ قائم کیا۔

    ان کا نیٹ ورک دنیا کے چار براعظموں، جبل الطارق، مالٹا، کینیا، ہانگ کانگ، سنگاپور، کوبے اور پاناما تک پھیل چکا تھا۔ وہ یہاں سے سندھی ریشمی کپڑا، کڑھائی، اجرک اور ہاتھی دانت کا سامان برآمد کرتے تھے اور وہاں کی دولت لا کر کراچی اور حیدرآباد میں لگاتے تھے۔

    ان کا بینکاری نظام جدید بینکاری قوانین کے بغیر چلنے والا دنیا کا ایک انتہائی محفوظ نیٹ ورک تھا، جس کی بنیاد ‘ہونڈی’ پر تھی۔

    عالمی قبولیت

    کراچی اور شکارپور سے جاری ہونے والی کچے کاغذ کی ایک پرچی، ہونڈی، کابل، قندھار، اصفہان اور بخارا کے ہندو صرافوں کے پاس جا کر فوراً نقد رقم میں تبدیل ہو جاتی تھی۔

    خفیہ رسم الخط، خدا آبادی یا وانکی

    یہ بینکار اپنے مالیاتی ریکارڈ رکھنے کے لیے ایک خاص رسم الخط استعمال کرتے تھے جو صرف ان کی برادری کے لوگ ہی پڑھ سکتے تھے، یوں ان کے بہی کھاتے چوری یا ہیک ہونے سے محفوظ رہتے تھے۔

    جدید سندھی رسم الخط اور قواعد کی تشکیل

    انیسویں صدی کے وسط میں برطانوی راج کے آغاز پر جب سندھی زبان کو دفتری اور تعلیمی زبان بنانے کا فیصلہ ہوا، تو اس برادری کے ادیبوں نے اسے عربی سندھی حروف تہجی کے قالب میں ڈھالنے سے لے کر اس کے کلاسیکی صوفیانہ مواد کو محفوظ کرنے تک لازوال خدمات انجام دیں۔

    عربی سندھی حروف تہجی، 1853

    برطانوی افسر سر بارٹل فریر کی سرپرستی میں جب سندھی زبان کے لیے ایک متفقہ رسم الخط بنانے کی کمیٹی بنی، تو اس میں مسلم علمائے کرام کے ساتھ دیوان مٹھارام کلیان داس اور دیگر ہندو عامل دانشوروں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے مل کر موجودہ 52 حروف تہجی پر مشتمل سندھی رسم الخط کو حتمی شکل دی تاکہ اسے سرکاری اسکولوں اور دفاتر میں رائج کیا جا سکے۔

    پہلی قواعد کی کتاب اور لغات

    بھیرومل لکشمی چند اور جیٹھمل پرسرام جیسے ماہرین لسانیات نے سندھی زبان کی پہلی باقاعدہ قواعد کی کتابیں اور سندھی سے انگریزی لغات مرتب کیں، جس نے کراچی اور حیدرآباد کے تعلیمی نظام کو ایک سائنسی بنیاد فراہم کی۔

    شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کی تدوین اور بقا

    آثار قدیمہ اور تمدنی تاریخ کے طلبہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر یہ ہندو ادیب نہ ہوتے، تو شاید سندھ کا سب سے بڑا صوفیانہ تمدنی ورثہ، یعنی ‘شاہ جو رسالو’، ہم تک اس سائنسی اور علمی شکل میں نہ پہنچتا۔ سندھ کے ہندوؤں کا مذہبی مزاج برصغیر کے دیگر حصوں سے بالکل مختلف اور صوفیانہ تھا۔ وہ مندروں کے ساتھ ساتھ اپنے گھروں اور ‘ٹکانوں’، یعنی عبادت گاہوں، میں گرو گرنتھ صاحب کا پرکاش کرتے تھے اور صوفی شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام سے گہرا لگاؤ رکھتے تھے۔

    ڈاکٹر ہوتچند مولچند گربخشانی

    ڈاکٹر گربخشانی برصغیر کے وہ عظیم محقق تھے جنہوں نے پہلی بار سائنسی اور تنقیدی بنیادوں پر ‘شاہ جو رسالو’ کو مرتب کیا۔ انہوں نے شاہ بھٹائی کے کلام سے الحاقی، یعنی جعلی، ابیات کو الگ کیا، مشکل الفاظ کے معنی اور لغت لکھی اور اسے تین ضخیم جلدوں میں شائع کر کے سندھی زبان کو دنیا کے اعلیٰ ترین ادبی معیار کے برابر لا کھڑا کیا۔

    دیوان لیلارام وطومل

    انہوں نے 1890 کی دہائی میں انگریزی زبان میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کی پہلی مفصل سوانح عمری اور ان کی صوفیانہ شاعری کا فلسفہ لکھ کر وادی سندھ کے اس صوفی کو عالمی سطح پر متعارف کروایا۔

    سندھی نثری ادب، ناول اور تاریخ نویسی کے بانی

    اگرچہ مرزا قلیچ بیگ کو جدید سندھی نثر کا معمار مانا جاتا ہے، لیکن ان کے شانہ بشانہ سادھو ہیرانند اور پروفیسر بھیرومل مہرچند ایڈوانی نے سندھی نثر کو بلندیوں پر پہنچایا۔

    بھیرومل مہرچند ایڈوانی

    انہوں نے ‘قدیم سندھ’ اور ‘سندھی جغرافیہ’ جیسی شاہکار کتابیں لکھیں جو آج بھی آثار قدیمہ اور تاریخ کے طلبہ کے لیے بنیادی ماخذ مانی جاتی ہیں۔ انہوں نے وادی سندھ کی تاریخ کو نوآبادیاتی یا متعصبانہ عینک سے دیکھنے کے بجائے خالصتاً سائنسی اور زمینی حقائق کے مطابق تحریر کیا۔

    دیوان کوڑومل چندن مل

    انہوں نے سندھی زبان میں پہلے سماجی ناول اور ڈرامے لکھے، جن کا مقصد معاشرے میں موجود توہم پرستی کا خاتمہ اور خواتین کی تعلیم کی ترویج تھا۔

    امرت لعل اونی

    انہوں نے کراچی بندرگاہ کی تاریخ، اونٹوں کے پرانے تجارتی قافلوں اور شاہراہ ریشم سے جڑے شکارپوری تاجروں کی معاشی تاریخ کو قلمبند کیا، جس کے بغیر آج جدید کراچی کی معاشی تاریخ لکھنا ناممکن ہے۔

    ابلاغ عامہ کا ارتقا، اولین اخبارات اور صحافت

    جب ہم کراچی اور سندھ میں جدید صحافت کی ابتدا کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہاں پریس اور اخبارات کو ایک باقاعدہ صنعت اور عوامی آواز بنانے میں سندھی ہندو دانشوروں اور تاجروں کا کردار انقلابی تھا۔ ان کا مقصد صحافت کو محض خبروں کا ذریعہ بنانا نہیں تھا، بلکہ وہ اسے سماجی اصلاح، صوفیانہ ہم آہنگی اور برطانوی حکومت کے خلاف آزادی کی تحریک کا ہتھیار مانتے تھے۔

    سادھو ہیرانند اور ‘سرسوتی’، 1890

    سادھو ہیرانند شوقی برصغیر کے ان اولین صحافیوں میں سے تھے جنہوں نے کراچی اور حیدرآباد سے ‘سرسوتی’ نامی ایک ماہنامہ جاری کیا۔ یہ رسالہ سندھی نثر، تاریخ اور سائنس کی ترویج کا ایک اہم ذریعہ بنا اور اس نے سندھ کے نوجوانوں میں لکھنے پڑھنے کا ذوق پیدا کیا۔

    دیوان لیلارام وطومل اور ‘سندھ ٹائمز

    یہ کراچی کے اولین انگریزی اخبارات میں سے ایک تھا، جس کے مدیر لیلارام وطومل تھے۔ اس اخبار نے کراچی بندرگاہ کے کسٹمز قوانین، بلدیاتی مسائل اور عام شہریوں کے حقوق کے حوالے سے برطانوی انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

    دیوان پرسرام وشنداس اور ‘روزنامہ سنسار سماچار

    یہ تقسیم سے قبل کراچی کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والا سندھی زبان کا روزنامہ تھا، جس کا جدید پرنٹنگ پریس کراچی کے قدیم شہری علاقے میں قائم تھا۔ یہ اخبار عالمی خبروں کے ساتھ ساتھ کراچی میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی اور عدالتی فیصلوں کو بھی تفصیل سے شائع کرتا تھا۔ اس اخبار کا معیار صحافت اتنا بلند تھا کہ اس کے اداریوں کا جواب خود انگریز کمشنر سندھ کو دینا پڑتا تھا۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1947 کی ہجرت کے بعد جب یہ صحافی اور ادیب ممبئی اور بھارت کے دیگر شہروں میں منتقل ہوئے، تو انہوں نے وہاں اپنی مادری زبان اور صحافت کو زندہ رکھنے کے لیے جن اخبارات کا دوبارہ آغاز کیا یا نئے پرچے جاری کیے، ان میں سے ایک اخبار کا نام انہوں نے ‘سندھ سماچار’ رکھا۔

    صحافت کا صوفیانہ اور انقلابی رخ

    جیٹھمل پرسرام گلراجانی نوآبادیاتی کراچی کی صحافت کے سب سے نڈر اور معتبر ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

    انہوں نے کراچی سے ‘سندھ واسی’ اور ‘ہندواسی’ کے نام سے اخبارات جاری کیے۔ ان اخبارات کی خاصیت یہ تھی کہ یہ صوفی شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست کے کلام کے ذریعے ہندو مسلم اتحاد اور تھیوسوفی کی ترویج کرتے تھے تاکہ کراچی کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو صوفیانہ ہم آہنگی کے ایک مرکز پر اکٹھا رکھا جا سکے۔

    آزادی صحافت کے لیے جیل کا سفر

    1919  میں جب برطانوی حکومت نے رولٹ ایکٹ نافذ کیا، تو جیٹھمل پرسرام نے اپنے اداریوں میں انگریز حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جس کی پاداش میں انہیں گرفتار کر کے قید کی سزا دی گئی، لیکن انہوں نے اپنے اخبار کا سر نہیں جھکایا۔

    تجارتی صحافت اور پریس کلبوں کی ابتدائی شکلیں

    سندھ چونکہ 1936 تک بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ تھا، اس لیے کراچی کے سندھ ورکی تاجروں نے بمبئی کے بڑے اخبارات میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی تھی تاکہ کراچی بندرگاہ کی تجارتی خبریں عالمی سطح پر شائع ہو سکیں۔

    کراچی کے جوڑیا بازار اور کھارادر سے ہندو تاجروں نے خصوصی ‘تجارتی خبرناموں’ کا آغاز کیا۔ ان ہفتہ وار پرچوں میں کراچی بندرگاہ پر آنے والے جہازوں، روئی، اناج اور چمڑے کی قیمتیں شائع ہوتی تھیں، جو برصغیر میں معاشی اور تجارتی صحافت کی اولین شکل تھی۔

    موجودہ کراچی پریس کلب، جو 1958 میں قائم ہوا، سے بہت پہلے نوآبادیاتی دور میں سندھی ہندو صحافیوں اور پارسی و مسلم دانشوروں نے مل کر شہر میں پریس کلب کی ابتدائی شکلیں اور صحافتی انجمنیں قائم کر دی تھیں۔

    سندھ جرنلسٹس ایسوسی ایشن’، 1920 کی دہائی

    جیٹھمل پرسرام، لیلارام وطومل اور سادھو ہیرانند کی کوششوں سے ایم اے جناح روڈ، سابقہ بندر روڈ، اور سولجر بازار کے سنگم پر اس انجمن کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ موجودہ پریس کلبوں کی ابتدائی شکل تھی، جہاں ایک بڑا ہال، اخبارات کی لائبریری اور ٹائپ رائٹر موجود ہوتے تھے۔ یہاں ہندو، مسلم اور پارسی صحافی مل کر بیٹھتے، چائے نوشی کرتے اور کلفٹن یا کراچی بندرگاہ سے آنے والی سیاسی اور تجارتی خبروں پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔

    ینگ مینز ہندو ایسوسی ایشن’ کا صحافتی ہال

    بندر روڈ پر واقع اس تاریخی عمارت کا نقشہ اور مالی معاونت سندھ ورکی تاجروں نے فراہم کی تھی، جو نوآبادیاتی کراچی میں پریس کلب کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ جب بھی بمبئی، دہلی یا یورپ سے کوئی بڑا سیاسی رہنما یا بحری تاجر کراچی بندرگاہ پر اترتا، تو اس کی پہلی پریس کانفرنس اسی عمارت کے ہال میں منعقد کی جاتی تھی۔

    کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کسٹمز پریس گیلری

    سیٹھ ہرچند رائے وشنداس اور دیوان ٹھاکر داس کی بلدیاتی کوششوں سے کراچی بندرگاہ کے قریب ایک مستقل پریس گیلری اور میڈیا روم قائم کیا گیا تھا، جہاں دنیا بھر سے آنے والے بحری جہازوں کے کپتانوں اور درآمدات و برآمدات کے اعداد و شمار پر روزانہ صحافیوں کو بریفنگ دی جاتی تھی۔ اسے اس دور کی معاشی صحافت کا پریس کلب سمجھا جاتا تھا۔

    بلدیہ اور عدلیہ کے معمار اور رہائشی بستیاں

    ان متمول تاجروں اور پڑھے لکھے افسر شاہی طبقے نے اپنی رہائش کے لیے جو محلے منتخب کیے، وہ اپنے طرز تعمیر اور شہری منصوبہ بندی کے لحاظ سے اس دور کے جدید ترین علاقے تھے، جیسے قدیم شہری علاقہ، جونا مارکیٹ، کھوڑی گارڈن، عامل کالونی، سولجر بازار، جمشید کوارٹرز اور آرام باغ۔

    دیارام گدو مل

    یہ نوآبادیاتی سندھ کی عدالتی تاریخ کے معتبر ترین ججوں اور جوڈیشل کمشنروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے دیوان دیارام جیٹھمل کے خاندان کو آمادہ کر کے کراچی کا پہلا تاریخی سائنس کالج 1887 میں قائم کروایا۔

    سیٹھ ہرچند رائے وشنداس

    بحیثیت صدر بلدیہ 1911 سے 1921 تک انہوں نے کراچی کا نقشہ بدل دیا۔ انہوں نے بندر روڈ کو روزانہ پانی سے دھونے کا نظام شروع کروایا تاکہ شہر طاعون سے محفوظ رہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کراچی میونسپل کارپوریشن کی کئی عمارتیں ان کے وژن کا نتیجہ تھیں۔ گارڈن ایسٹ میں واقع ان کا تاریخی بنگلہ اس دور میں آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کے رہنماؤں کی نشست گاہ تھا، جہاں قائد اعظم محمد علی جناح بھی تشریف لائے۔

    1941 کی مردم شماری اور ہجرت کا المیہ، 1947 تا 1948

    برطانوی ہند کی آخری باقاعدہ مردم شماری 1941 کے مطابق کراچی کی کل آبادی 386,655 تھی، جس کا آبادیاتی ڈھانچہ درج ذیل تھا۔

    سندھی اور گجراتی ہندو: 51.1 فیصد، شہر کی واضح اکثریت

    مسلمان، کچھی سندھی، بلوچ، میمن، بوہرہ اور خوجہ: 42.3 فیصد

    لسانی تناسب کے مطابق شہر کی 61.2 فیصد آبادی کی مادری زبان سندھی تھی، جبکہ اردو بولنے والوں کا تناسب محض 6.3 فیصد تھا۔ سندھی ہندو ایک انتہائی شہری برادری تھی، اسی وجہ سے حیدرآباد میں 72 فیصد اور سکھر میں 70 فیصد آبادی ہندوؤں پر مشتمل تھی۔

    اگست 1947 کے بعد اور خصوصاً جنوری 1948 کے فسادات کے نتیجے میں کراچی کی تقریباً نصف آبادی، یعنی ہندو برادری، چند ماہ کے اندر بادل نخواستہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر بھارت روانہ ہو گئی۔ اس عظیم ہجرت نے کراچی کو یکدم درج ذیل گہرے اور ناقابل تلافی زخم دیے۔

    مالیاتی اور عدالتی تعطل

    بندرگاہ کی تجارتی مالیاتی سرگرمیاں، ہونڈی کا نظام اور چیف کورٹ آف سندھ کا عدالتی نظام ججوں اور بینک کے عملے کے چلے جانے سے مفلوج ہو گیا۔

    لسانی اور تمدنی تبدیلی

    1951 کی مردم شماری تک کراچی کی آبادی 11 لاکھ ہو گئی۔ مسلم آبادی 96 فیصد ہو گئی اور ہندو آبادی سمٹ کر محض ایک فیصد رہ گئی۔ کراچی راتوں رات ایک سندھی اکثریتی شہر سے اردو اکثریتی شہر بن گیا، جس سے شہر کا قدیم صوفیانہ اور کثیر الثقافتی مزاج یکسر بدل گیا۔

    تعلیمی اور اسکولی نظام کا بحران

    سندھی میڈیم اسکولوں کے 80 فیصد سے زائد اساتذہ اور ہیڈ ماسٹر عامل ہندو تھے، جن کے چلے جانے سے تعلیم مہینوں تک متاثر رہی۔ حکومت پاکستان نے ہنگامی بنیادوں پر ان خالی شدہ اسکولوں، کالجوں اور ہاسٹلوں، جیسے مٹھارام ہاسٹل، کو مہاجر کیمپوں میں تبدیل کر دیا، جس سے ان کی تاریخی لائبریریاں اور سائنسی تجربہ گاہوں کا سامان ضائع ہو گیا۔

    بعد ازاں وفاقی دارالحکومت بننے کے بعد تعلیمی پالیسی کے تحت درجنوں پرانے سندھی اسکولوں کو اردو میڈیم میں تبدیل کر دیا گیا، جس سے شہر کا تعلیمی ڈھانچہ اپنی قدیم سندھی شناخت کھو بیٹھا۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ 1948 کے اوائل میں جب یہ تمام تجربہ کار ہندو مدیر، مالکان، تاریخ دان اور بلدیاتی معمار یکدم کراچی چھوڑ کر بھارت منتقل ہوئے، تو ان کے بنائے ہوئے صحافتی ہال، پرنٹنگ پریس اور تعلیمی ادارے ویران ہو گئے۔

    ممبئی اور پونا منتقل ہونے کے بعد بھی ان دانشوروں نے اپنی مادری زبان کا رشتہ زندہ رکھا اور بھارت کے آئین کے آٹھویں شیڈول میں سندھی زبان کو شامل کروانے کے لیے طویل قانونی اور سیاسی جدوجہد کی، جس میں وہ کامیاب ہوئے۔

    اگرچہ ان کے جانے کے بعد کراچی ایک گنجان عظیم شہر میں تبدیل ہو گیا اور اس کی جگہ جدید اخبارات اور نئے تمدن نے لے لی، لیکن ان کے قائم کردہ تعلیمی ادارے، ہسپتال اور پیلے پتھر سے تعمیر شدہ تاریخی عمارتیں آج بھی کراچی کے چپے چپے پر ان کے عظیم وژن، صوفیانہ ہم آہنگی اور لازوال خدمات کی خاموش گواہی دے رہی ہیں۔

    تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرا ماننا ہے کہ 4500 قبل مسیح میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث وادی سندھ کے مکینوں کی مرحلہ وار ہجرت کے بعد 1947 اور 1948 میں سندھ کے ان فرزندان زمین کی اچانک ہجرت نے بھی سندھ کو ایک بہت بڑا نقصان پہنچایا۔

  • کراچی شہر، بندرگاہ اور پارسی خاندان: تاریخ، تجارت، قانون اور عقائد کا مطالعہ

    کراچی شہر، بندرگاہ اور پارسی خاندان: تاریخ، تجارت، قانون اور عقائد کا مطالعہ

    سندھ کے ساحلی شہر کراچی اور اس کی قدیم بندرگاہ کی تاریخ کا ذکر برصغیر کی صدیوں پرانی ایرانی النسل برادری کے بغیر ادھورا رہے گا۔ یہ برادری گجراتی زبان بولنے والے پارسیوں پر مشتمل ہے۔ آج کے اس مضمون میں ہم اس برادری کا تفصیل سے جائزہ لیں گے۔

    ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں جب ایران میں ساسانی سلطنت کا زوال ہوا اور اس کے بعد خطے میں بڑے پیمانے پر مذہبی، سیاسی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہونے لگیں، تو قدیم زرتشتی مذہب کے پیروکاروں کے لیے اپنے عقیدے اور بقا کا ایک بڑا بحران پیدا ہو گیا۔ وہ نسلیں جو صدیوں تک ایران کے تخت و تاج اور ثقافت کی امین رہی تھیں، اب اپنے دین کو بچانے کے لیے وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔

    زرتشتیوں کے ایک بڑے گروہ نے ایران کے صوبے ‘خراسان’ اور پھر ساحلی شہر ‘ہرمز’ کا رخ کیا، جہاں سے انہوں نے گجرات کے بحری جہازوں کے ذریعے ہندوستان کے مغربی ساحلوں کی طرف ہجرت کا آغاز کیا۔

    پارسیوں کے یہ بحری جہاز 716 یا بعض روایات کے مطابق 785 میں ہندوستان کے صوبہ گجرات کے ساحلی علاقے ‘سنجان’ پر لنگرانداز ہوئے۔ اس وقت وہاں مقامی راجپوت راجہ یادیو رانا حکومت کرتا تھا۔ پارسیوں کی تاریخی دستاویز ‘قصہ سنجان’ فارسی زبان کی ایک رزمیہ نظم ہے جو 1599 میں بہمن کیکوباد سنجانا نامی ایک پارسی مذہبی پیشوا نے لکھی تھی۔

    ان کے مطابق، راجپوت راجہ نے ایرانی پناہ گزینوں کی آمد پر ابتدا میں ہچکچاہٹ کا اظہار کیا اور اپنی سلطنت میں گنجائش کی کمی ظاہر کرنے کے لیے پارسی پیشواؤں کو کناروں تک دودھ سے بھرا ہوا ایک پیالہ بھیجا، جس کا مطلب یہ تھا کہ ان کے پاس مزید لوگوں کی جگہ نہیں ہے۔

    پارسی مذہبی رہنما نے اس کا جواب انتہائی دانشمندی سے دیا۔ انہوں نے اس دودھ کے پیالے میں ایک چٹکی شکر ڈال دی، جو دودھ سے باہر گرے بغیر اس میں پوری طرح حل ہو گئی اور دودھ کو میٹھا کر دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ پارسی گجرات اور برصغیر کی سرزمین پر مقامی آبادی کے لیے بوجھ نہیں بنیں گے بلکہ ان کی ثقافت اور زندگی میں گھل مل کر اسے مزید شیریں اور خوشحال بنا دیں گے۔ راجہ یادیو رانا اس جواب سے حد درجہ متاثر ہوا اور اس نے پارسیوں کو چار بنیادی شرطوں پر پناہ دی۔

    • وہ مقامی زبان گجراتی اختیار کریں گے۔
    • ان کی خواتین مقامی لباس ساڑھی پہنیں گی۔
    • وہ اپنی شادی بیاہ اور خوشی کی تقریبات رات کے وقت کریں گے تاکہ مقامی آبادی کے آرام میں خلل نہ پڑے۔
    • وہ ہتھیار نہیں اٹھائیں گے اور مقامی راجہ کے وفادار رہیں گے۔

    پارسیوں نے ان شرائط کو تہہ دل سے قبول کیا اور صدیوں تک گجرات کے مختلف علاقوں جیسے سنجان، نوساری، سورت اور بھروچ میں پرامن زندگی گزاری۔ انہوں نے نہ صرف گجراتی زبان کو اپنی مادری زبان کے طور پر اپنایا بلکہ اپنے ناموں کے ساتھ گجراتی لہجے کا لاحقہ ‘جی’ جیسے دنشا جی، کاؤس جی اور جساوالا بھی جوڑ لیا، جو آج بھی ان کی شناخت کا حصہ ہے۔

    برصغیر کی تجارتی سلطنتوں کا عروج

    انیسویں صدی میں جب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر کے ساحلی شہروں بمبئی اور کلکتہ کو بین الاقوامی تجارت کے مراکز کے طور پر ترقی دینا شروع کی، تو گجرات کے ساحلوں سے پارسیوں نے ان شہروں کا رخ کیا۔ پارسیوں کی سب سے بڑی خوبی ان کی غیر معمولی تجارتی بصیرت، ایمانداری اور زبانیں سیکھنے کی قدرتی صلاحیت تھی۔ وہ جلد ہی انگریزوں، پرتگالیوں اور دیگر یورپی تاجروں کے معتبر ترین تجارتی شراکت دار بن گئے۔

    بمبئی میں ‘واڈیا خاندان’ نے بحری جہاز سازی کی صنعت کی بنیاد رکھی اور برطانوی بحریہ کے لیے ایسے شاندار اور مضبوط لکڑی کے جہاز تیار کیے جنہوں نے دنیا بھر کے سمندروں کا سفر کیا۔ اسی طرح ‘ٹاٹا خاندان’ نے ٹیکسٹائل اور لوہے کی صنعت میں قدم رکھا، اور سر جمشید جی نے چین کے ساتھ کپاس اور افیون کی تجارت کے ذریعے برصغیر کی سب سے بڑی تجارتی سلطنتوں میں سے ایک قائم کی۔

    پارسیوں نے دولت کمانے کے بعد روایتی تاجروں کی طرح اسے صرف تجوریوں میں بند نہیں رکھا بلکہ جدید مغربی تعلیمی اداروں کا رخ کیا۔ وہ برصغیر کے پہلے لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے انگریزی زبان سیکھی اور وکالت، عدلیہ، طب، صحافت اور انجینئرنگ جیسے اعلیٰ پیشوں میں اپنی مہارت کا لوہا منوا کر برصغیر کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی اور بااثر اشرافیہ میں صف اول کا مقام حاصل کر لیا۔

    کراچی بندرگاہ کی جدید کاری میں پارسیوں کا حصہ

    1839 میں جب برطانوی فوج نے منوڑہ کے قلعے پر قبضہ کیا اور 1843 میں سر چارلس نیپیئر نے سندھ کو برطانوی سلطنت کا حصہ بنایا، تو کراچی کی جغرافیائی اہمیت یکسر تبدیل ہو گئی۔ انگریزوں کو وسطی ایشیا، پنجاب اور شمال مغربی سرحد تک تجارتی اور فوجی رسائی کے لیے ایک بہترین بندرگاہ کی ضرورت تھی۔ اس وقت کراچی محض چند ہزار ساحلی باشندوں، ماہی گیروں اور مقامی تاجروں کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔

    بمبئی پریزیڈنسی کے تحت جب کراچی کے انتظامی معاملات چلانے کا آغاز ہوا، تو انگریزوں کے ساتھ جو سب سے پہلا متحرک، تعلیم یافتہ اور کاروباری طبقہ کراچی منتقل ہوا، وہ پارسی تاجر تھے۔ 1840 اور 1850 کے عشروں میں بمبئی سے بحری جہازوں کے ذریعے پارسی خاندان کراچی پہنچنا شروع ہوئے اور انہوں نے کیماڑی، صدر اور منوڑہ کے علاقوں میں اپنے ڈیرے جمائے۔

    ابتدائی دور میں کراچی بندرگاہ پر بڑے بحری جہازوں کے لنگرانداز ہونے کی سہولت موجود نہیں تھی کیونکہ سمندر کی لہریں اور ریت کے ڈھیر جہازوں کے راستے میں رکاوٹ بنتے تھے۔ سر چارلس نیپیئر اور بعد میں آنے والے برطانوی انجینئروں نے کراچی بندرگاہ کو جدید نمونے پر ترقی دینے کے لیے کئی منصوبے بنائے۔ ان منصوبوں پر عمل درآمد اور ان کے لیے مالی و انتظامی تعاون پارسیوں نے فراہم کیا۔

    1887 میں جب کراچی پورٹ ٹرسٹ ایکٹ منظور ہوا اور بندرگاہ کا تمام انتظام ایک باقاعدہ بورڈ کے حوالے کیا گیا، تو اس کے بانی ارکان اور طویل عرصے تک بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن رہنے والوں میں پارسی نام سب سے نمایاں تھے۔ ان تاجروں نے بندرگاہ کی درج ذیل بڑی تکنیکی ترقیوں میں حصہ لیا۔

    نیپیئر مول روڈ:

    1854 میں کیماڑی جزیرے کو کراچی کے مرکزی شہر سے جوڑنے کے لیے بنائے گئے پل اور سڑک کی تعمیر کے لیے پارسی تاجروں نے گودام فراہم کیے اور رسد کا انتظام سنبھالا۔

    منوڑہ بریک واٹر:

    سمندر کی لہروں کے دباؤ کو کم کرنے اور جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے منوڑہ کے ساحل پر پتھروں کی ایک بہت بڑی دیوار تعمیر کی گئی، جس کی وجہ سے برطانوی اور یورپی بحری جہازوں کے لیے کراچی کا راستہ کھل گیا۔ اس منصوبے کے لیے پارسیوں نے بندرگاہی فنڈ میں بڑی سرمایہ کاری کی۔

    برتھنگ اور کارگو ہینڈلنگ:

    پارسیوں نے بندرگاہ پر پہلی بار جدید جیٹیاں بنائیں اور جہازوں سے مال اتارنے کے لیے کرینیں اور جدید حسابی نظام متعارف کرایا۔

    کراچی بندرگاہ کے انیسویں صدی کے تجارتی دستاویزات اور ‘بمبئی پریزیڈنسی تجارتی گزٹ’ کے ریکارڈ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کراچی پورٹ کس طرح دنیا کی مصروف ترین بندرگاہوں میں شامل ہوئی۔ 1850 کے عشرے کے ریکارڈ کے مطابق سالانہ لگ بھگ ایک ہزار سے زائد چھوٹے بڑے جہاز یہاں آتے تھے۔

    بیسویں صدی کے آغاز تک کراچی پورٹ سلطنت برطانیہ کو گندم، کپاس اور اون فراہم کرنے والی سب سے بڑی برآمدی بندرگاہ بن چکی تھی۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے پرانے حسابی ریکارڈ میں روزانہ کی بنیاد پر پارسی کمپنیوں کے نام درج ہیں، جنہوں نے کوئلے، نمک، کپڑے اور مشینری کی درآمد اور کلیئرنس کے معاملات سنبھالے۔

    کراچی کے افق پر چمکتے پارسی خاندان

    کراچی کے نامور پارسی خاندانوں نے نہ صرف بندرگاہ کے کاروبار پر حکمرانی کی بلکہ شہر کی صنعت، جائیداد، ہوٹلوں اور عوامی بہبود کی بنیاد بھی رکھی۔ ذیل میں ان بڑے خاندانوں کا تفصیلی خاکہ پیش ہے۔

    1۔ کاؤس جی خاندان

    کاؤس جی خاندان کا شمار پاکستان اور برصغیر کی قدیم ترین جہاز رانی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ یہ خاندان 1883 میں ہندوستان کے مغربی ساحل سے تجارتی مواقع کی تلاش میں کراچی آیا تھا۔ انہوں نے کوئلے اور نمک کی تجارت سے اپنا کاروبار شروع کیا۔ اس دور میں بحری جہاز کوئلے سے چلتے تھے، اس لیے جہازوں کو کوئلہ فراہم کرنا ایک انتہائی منافع بخش اور اہم کاروبار تھا۔

    جلد ہی انہوں نے ‘کاؤس جی گروپ’ کے نام سے پاکستان کی سب سے بڑی جہاز رانی اور کارگو ہینڈلنگ کمپنی قائم کی۔ کراچی بندرگاہ پر آنے والے برطانوی اور دیگر بین الاقوامی جہازوں کو سنبھالنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ اس خاندان کی کاروباری دیانت داری اور سمندری قوانین پر گرفت اتنی مضبوط تھی کہ عالمی جہاز رانی کمپنیاں ان پر مکمل اعتماد کرتی تھیں۔ اس خاندان کے سب سے مشہور فرد اردشیر کاؤس جی تھے، جو پاکستان کے ایک بے باک کالم نگار، ماہر تعمیرات اور سماجی رہنما کے طور پر معروف ہوئے۔ انہوں نے کراچی کے ماحول اور تاریخی عمارتوں کو بچانے کے لیے عمر بھر جدوجہد کی۔

    2۔ ایڈلجی دنشا خاندان

    سیٹھ ایڈلجی دنشا کو کراچی کی تاریخ کا امیر ترین تاجر، زمیندار اور مخیر شخصیت مانا جاتا ہے۔ ان کا خاندان جائیداد اور تجارت کا بے تاج بادشاہ تھا۔ انیسویں صدی کے آخر میں کراچی کے مرکزی علاقوں صدر، ایمپریس مارکیٹ، ایم اے جناح روڈ اور سول لائنز میں ان کی سینکڑوں ایکڑ قیمتی زمین اور شاندار عمارتیں موجود تھیں۔

    ایڈلجی دنشا اور ان کے خاندان کے افراد کراچی پورٹ ٹرسٹ کے بانی اراکین اور طویل عرصے تک ٹرسٹی رہے۔ بندرگاہ کے آس پاس کارگو کے گوداموں اور کسٹمز کلیئرنس کے معاملات میں ان کا بڑا اثر و رسوخ تھا۔ انہوں نے اپنی کمائی ہوئی دولت کا ایک بڑا حصہ کراچی کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیا۔ ان کے بیٹے نادرشا ایڈلجی دنشا کی مالی معاونت اور عطیات کی بدولت کراچی کا پہلا انجینئرنگ کالج قائم ہوا، جسے آج ہم این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے خواتین کے لیے تاریخی لیڈی ڈفرن ہسپتال کی تعمیر کے لیے اس دور میں لاکھوں روپے کے فنڈز بھی فراہم کیے۔

    3۔ ڈوباش خاندان

    لفظ ڈوباش اصل میں سنسکرت اور گجراتی لفظ ‘دو بھاشا’ یعنی دو زبانیں جاننے والا سے نکلا ہے۔ قدیم دور میں جب غیر ملکی جہاز برصغیر کے ساحلوں پر آتے تھے، تو انگریزی یا دیگر یورپی زبانیں بولنے والے کپتانوں اور مقامی گجراتی و سندھی تاجروں کے درمیان براہ راست رابطہ ممکن نہیں ہوتا تھا۔ اس دور میں پارسیوں نے مترجم کا کردار ادا کیا اور جہازوں کو مقامی راشن، پانی اور دیگر سامان فراہم کرنے کا کاروبار شروع کیا۔

    کراچی میں ڈوباش خاندان کا تعلق 1855 سے ہے۔ جہانگیر فیروز شاہ ڈوباش اور ان کے بعد ان کی نسلوں نے کراچی بندرگاہ پر مال برداری کی خدمات اور جہاز رانی کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران، جب کراچی پورٹ اتحادی افواج کا ایک بڑا مرکز تھا، تو ڈوباش خاندان کی کمپنیوں نے امریکی اور برطانوی فوج کے لیے مال برداری کی خدمات انجام دیں اور یونانی و دیگر عالمی جہاز رانی کمپنیوں کی نمائندگی بھی کی۔

    4۔ آواری خاندان

    ہوٹل انڈسٹری میں آواری خاندان کا نام پاکستان کے کونے کونے میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس خاندان کے بانی دنشا آواری تھے، جنہوں نے 1944 میں آواری گروپ کی بنیاد رکھی۔ دنشا آواری نے اگرچہ ہوٹل کی صنعت میں نام کمایا، لیکن ان کے کاروبار کا آغاز بھی کراچی بندرگاہ سے جڑا ہوا تھا۔

    انہوں نے 1948 میں کراچی کے ساحل کے قریب مائی کولاچی اور نیٹی جیٹی کے پاس تاریخی ‘بیچ لگژری ہوٹل’ کی بنیاد رکھی۔ اس ہوٹل کا مقام اس لیے منتخب کیا گیا تھا تاکہ سمندر کے راستے آنے والے غیر ملکی جہاز رانوں، کپتانوں اور بین الاقوامی کاروباری شخصیات کو بندرگاہ کے قریب بین الاقوامی معیار کی رہائش، طعام اور تفریح فراہم کی جا سکے۔ بعد میں اس خاندان نے شاہراہ فیصل پر ‘آواری ٹاورز’ ہوٹل تعمیر کیا، جو آج بھی کراچی کی نمایاں عمارتوں میں شمار ہوتا ہے۔

    5۔ مینوالا خاندان

    مینوالا خاندان نے بھی کراچی کی ہوٹل انڈسٹری، رسدی خدمات اور جائیداد کے شعبے میں تاریخی خدمات انجام دیں۔ اس خاندان کے سربراہ سائرس ایف مینوالا نے 1951 میں صدر کے علاقے میں پاکستان کا پہلا فائیو اسٹار لگژری ہوٹل ‘ہوٹل میٹروپول’ قائم کیا۔ اس ہوٹل کا افتتاح شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے کیا تھا۔ ہوٹل میٹروپول طویل عرصے تک کراچی کی سیاسی و سماجی اشرافیہ، غیر ملکی سفارت کاروں اور بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے عملے کا سب سے بڑا مرکز رہا۔ اس کے علاوہ کیماڑی کے علاقے میں ان کا ‘گرینڈ ہوٹل’ بھی بحری مسافروں کے لیے ایک اہم قیام گاہ تھا۔

    6۔ کیٹرک اور رستم جی خاندان

    سر سہراب کیٹرک کا خاندان درآمد و برآمد اور شراب کی درآمد کے کاروبار کا بڑا نام تھا۔ ٹاور پر موجود ‘کیٹرک مینشن’ اور صدر کی ‘سہراب کیٹرک پارسی کالونی’ اسی خاندان کی یادگار ہیں۔ دوسری طرف سیٹھ ہرمز جی جمشید جی رستم جی نے کراچی میں ایک مضبوط تجارتی اور تعلیمی نیٹ ورک قائم کیا، جس نے شہر کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

    وکالت، عدلیہ اور طب کے شعبوں میں پارسیوں کی اہمیت

    کراچی کے پارسیوں نے نہ صرف تجارت اور معیشت میں نام کمایا بلکہ طب اور قانون کے شعبوں میں بھی صف اول کے ماہرین پیدا کیے۔ ان کی ایمانداری، پیشہ ورانہ مہارت اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے پورے ملک میں ان کا احترام کیا جاتا تھا۔

    نامور پارسی ڈاکٹر

    پرانے کراچی کے رہائشیوں کے لیے پارسی ڈاکٹر مسیحا کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کی ڈسپنسریاں اور ہسپتال سستے اور بہترین علاج کے لیے مشہور تھے۔

    ڈاکٹر فریدون سیٹھنا:

    انہیں پاکستان کے نامور اور معزز ماہر امراض نسواں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ طویل عرصے تک لیڈی ڈفرن ہسپتال کے طبی سربراہ رہے اور کراچی کی ہزاروں خواتین کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کیں۔

    ڈاکٹر برجور انکلیسریہ:

    وہ گارڈن روڈ پر مشہور ‘انکلیسریہ ہسپتال’ کے بانی تھے۔ انہوں نے اور ان کے خاندان نے کراچی میں نرسنگ ہومز اور جدید ہنگامی طبی سہولیات متعارف کرائیں۔

    ڈاکٹر کے این اسپینسر:

    وہ کراچی کے معروف ماہر چشم تھے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں لی مارکیٹ کے قریب تاریخی ‘اسپینسر آئی ہسپتال’ قائم کیا گیا، جس نے دہائیوں تک غریب اور مستحق مریضوں کا مفت علاج اور آپریشن کیے۔

    ڈاکٹر بیجن جی رستم جی:

    تاریخی ریکارڈ کے مطابق یہ کراچی کے پہلے پارسی ڈاکٹر تھے، جو 1858 میں بمبئی کے گرانٹ میڈیکل کالج سے تعلیم مکمل کر کے کراچی آئے اور سول ڈسپنسری کا چارج سنبھالا۔

    نامور پارسی وکیل اور جج

    کراچی بار اور سندھ ہائی کورٹ کی تاریخ پارسی قانون دانوں کی دلیری اور قانون پسندی کی گواہ ہے۔

    جسٹس دوراب پٹیل:

    یہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک انتہائی معتبر اور اصول پسند نام ہے۔ انہوں نے 1955 کے عشرے میں کراچی سے وکالت کا آغاز کیا۔ وہ سندھ ہائی کورٹ کے جج اور بعد ازاں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج بنے۔ 1981 میں جب جنرل ضیا الحق نے عبوری آئینی حکم نافذ کیا اور ججوں سے وفاداری کا نیا حلف مانگا، تو جسٹس دوراب پٹیل نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حلف اٹھانے سے انکار کر دیا اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے بانی اراکین میں بھی شامل تھے۔

    بیرسٹر فرامروز رستم جی اور بیرسٹر ہوشنگ رستم جی:

    کیٹرک اور رستم جی خاندانوں کے ان پڑھے لکھے نوجوانوں نے لندن کے مشہور ‘انز آف کورٹ’ سے بیرسٹری کی ڈگریاں حاصل کیں اور کراچی کی عدالتوں میں جرح کے کمالات دکھائے۔ بیرسٹر ہوشنگ رستم جی خاص طور پر بین الاقوامی کمپنیوں، جہاز رانی کمپنیوں اور کسٹمز سے متعلق پیچیدہ تجارتی مقدمات کے ماہر تھے اور ان کی قانونی مسودہ نویسی کو عدالتوں میں بہت اہمیت دی جاتی تھی۔

    قائد اعظم محمد علی جناح اور پارسی خاندانوں کے روابط

    قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی، سیاست اور ذاتی معاملات کا مطالعہ پارسی برادری کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔ ان کے پارسیوں سے تعلقات پیشہ ورانہ احترام سے لے کر انتہائی گہرے ذاتی رشتوں تک پھیلے ہوئے تھے۔

    قائد اعظم محمد علی جناح اپنے سیاسی سفر کے آغاز میں پارسی خاندان کے ‘دادا بھائی نوروجی’ کی شخصیت اور ان کے لبرل خیالات سے شدید متاثر تھے۔ دادا بھائی نوروجی، جنہیں احتراماً ‘گرینڈ اولڈ مین آف انڈیا’ کہا جاتا ہے، انڈین نیشنل کانگریس کے بانی اراکین میں شامل تھے اور ایک ممتاز ماہر معاشیات تھے۔ جب دادا بھائی نوروجی 1892 میں برطانیہ کی لبرل پارٹی کے ٹکٹ پر برطانوی پارلیمنٹ کے پہلے ایشیائی رکن منتخب ہوئے، تو لندن میں موجود نوجوان محمد علی جناح نے ان کی انتخابی مہم میں دن رات کام کیا۔

    جب دادا بھائی نوروجی 1906 میں کلکتہ کے کانگریس اجلاس کے صدر بنے، تو قائد اعظم نے ان کے نجی سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔ قائد اعظم کی ملکی سیاست میں ابتدائی شناخت قائم کرنے اور ان کے لبرل آئینی نقطہ نظر کو واضح کرنے میں دادا بھائی نوروجی کا بڑا کردار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں ایک اہم سڑک کا نام ‘دادا بھائی نوروجی روڈ’ رکھا گیا۔

    قائد اعظم کی ذاتی زندگی کا سب سے اہم اور رومانوی واقعہ ایک پارسی خاتون سے ان کی شادی ہے۔ قائد اعظم کے قریبی دوست سر دنشا پیٹٹ، جو بمبئی کے ایک انتہائی امیر اور نامور پارسی ٹیکسٹائل مل کے مالک تھے، ان کی صاحبزادی رتن بائی، جنہیں رتی بھی کہا جاتا تھا، جناح صاحب کی ذہانت اور شخصیت کے سحر میں گرفتار ہو گئیں۔ رتی اپنی خوبصورتی، فیشن کے ذوق اور تیز ذہن کی وجہ سے بمبئی کے حلقوں میں ‘بمبئی کا گلاب’ کہلاتی تھیں۔

    جب جناح صاحب نے سر دنشا سے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگا تو سر دنشا سخت ناراض ہوئے کیونکہ پارسی مذہب میں برادری سے باہر شادی کی سخت ممانعت ہے۔ انہوں نے اس شادی کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔

     رتی جب 18 سال کی ہوئیں تو انہوں نے اپنے والدین کا گھر چھوڑ دیا اور 18 اپریل 1918 کو جامع مسجد بمبئی میں مولانا نذیر احمد کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، جہاں ان کا اسلامی نام ‘مریم’ رکھا گیا۔ 19 اپریل 1918 کو قائد اعظم، جن کی عمر 42 سال تھی، اور رتی، جن کی عمر 18 سال تھی، کی شادی بمبئی میں جناح صاحب کے گھر پر منعقد ہوئی۔

    اس شادی کی وجہ سے پارسی برادری نے رتی کا مکمل بائیکاٹ کر دیا اور ان کے والد نے مرتے دم تک رتی اور جناح سے بات نہیں کی۔ ان کی ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام دینا رکھا گیا، جنہوں نے بعد میں ایک پارسی صنعت کار نیول واڈیا سے شادی کی۔

    ایک تاریخی نکتہ:

    قائد اعظم پیدائشی طور پر کچھی خوجہ اسماعیلی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ عدالتی ریکارڈ اور مؤرخین کے مطابق، 1901 کے قریب جب ان کی بہنوں کی شادیاں خوجہ اسماعیلی برادری سے باہر ہوئیں اور برادری نے اس پر اعتراض اٹھایا، تو جناح خاندان نے اسماعیلی طریقہ ترک کر کے خوجہ اثنا عشری مسلک اختیار کر لیا۔ رتی کے ساتھ ان کے نکاح نامے میں بھی ان کا مسلک اثنا عشری درج تھا۔

    زرتشتی مذہبی عقائد اور ان کے بارے میں غلط فہمیاں

    پارسیوں کا مذہب ‘زرتشت واد’ دنیا کے قدیم ترین توحیدی مذاہب میں سے ایک ہے، جس کی بنیاد ایران میں پیغمبر اشو زرتشت نے رکھی تھی۔ برصغیر کے عوام میں معلومات کی کمی کی وجہ سے ان کے عقائد کے بارے میں کئی سنگین غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، جن کا علمی اور تحریری ازالہ کرنا ضروری ہے۔

    بت پرستی کی نفی

    اکثر لوگ جب پارسیوں کے کمیونٹی ہال یا ان کی تاریخی عمارتوں کا دورہ کرتے ہیں، تو وہاں موجود تصویروں اور مجسموں کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ پارسی بت پرست ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زرتشتی مذہب میں بت پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ ایک خالص توحیدی مذہب ہے جو صرف ایک خدا ‘اہورامزدا’ یعنی عقل کل یا دانشمند آقا کی عبادت پر یقین رکھتا ہے۔ ان کے آتش کدوں کے اندر کوئی بت یا مجسمہ نہیں ہوتا۔

    ہالوں میں جو تصویریں لگی ہوتی ہیں، وہ ان کے پیغمبر ‘اشو زرتشت’ کی ایک علامتی اور فرضی شبیہ ہوتی ہے، جس کا مقصد صرف احترام ہے، پوجا نہیں۔ اس کے علاوہ ان کی عمارتوں پر ‘فروہر’ کا نشان ہوتا ہے، جو پروں والے ایک بزرگ کا خاکہ ہے۔ یہ انسان کی روح، ضمیر اور اچھے خیالات کی پرواز کی ایک علامتی تصویر ہے۔

    آتش پرستی کا ابہام

    برصغیر میں پارسیوں کو عام طور پر ‘آتش پرست’ کہا جاتا ہے اور یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ وہ آگ کو اپنا معبود مانتے ہیں، جبکہ حقیقت میں پارسی آگ کو خدا نہیں مانتے اور نہ ہی اس کی پوجا کرتے ہیں۔ زرتشتی فلسفے میں آگ، سورج اور روشنی کو خدا کی پاکیزگی، نور اور کائنات کی سچائی کا مظہر اور علامتی قبلہ مانا جاتا ہے۔ جس طرح مسلمان نماز پڑھتے وقت کعبہ شریف کی طرف رخ کرتے ہیں، لیکن کعبہ کے پتھروں کی پوجا نہیں کرتے، اسی طرح پارسی اپنی عبادت کے دوران آگ یا روشنی کی طرف رخ کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آگ دنیا کا سب سے پاک عنصر ہے، جو ہر چیز کو پاک کر دیتا ہے مگر خود کبھی ناپاک نہیں ہوتا، اس لیے یہ خدا کی صفات کی بہترین علامت ہے۔ ان کے آتش کدوں میں صدیوں سے روشن مقدس آگ کی دیکھ بھال مذہبی پیشوا انتہائی احترام سے کرتے ہیں۔

    زرتشتی اخلاقیات کے تین ستون

    زرتشتی اخلاقیات کا پورا نظام تین سادہ لیکن انتہائی گہرے اصولوں پر قائم ہے، جنہیں ہر پارسی کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہوتا ہے۔

    1۔ ہمت، اچھے خیالات:

    انسان کو اپنے ذہن کو حسد، نفرت اور جھوٹ سے پاک رکھ کر ہمیشہ مثبت اور تعمیری سوچ رکھنی چاہیے۔

    2۔ ہوخت، اچھے الفاظ:

    زبان سے ہمیشہ سچ، نرمی اور محبت پر مبنی الفاظ ادا کرنے چاہییں کیونکہ الفاظ انسان کے کردار کا آئینہ ہوتے ہیں۔

    3۔ ہورشت، اچھے اعمال:

    دوسروں کی مدد کرنا، درخت لگانا، پانی کو صاف رکھنا، کاروبار میں ایمانداری اختیار کرنا اور دنیا کو بہتر جگہ بنانا ہی اصل عبادت ہے۔

    ان کا عقیدہ ہے کہ کائنات میں دو متضاد طاقتیں کارفرما ہیں، ایک یزداں ‘سپینتا مینییو’ یعنی خیر کی طاقت اور دوسری ‘انگر مینییو’ یا اہریمن یعنی شر کی طاقت۔ انسان کو اپنے آزاد ارادے کے ذریعے ان تین اصولوں پر عمل کرتے ہوئے خیر کی طاقت کو غالب کرنا ہے۔

    جنازے کا طریقہ، دخمہ

    ان کا ایک منفرد عقیدہ مردوں کو دفنانے یا جلانے کے بجائے ‘دخمے’ یا ‘ٹاور آف سائلنس’ میں رکھنے کا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ انسانی جسم وفات کے بعد ناپاک ہو جاتا ہے۔ اگر اسے دفنایا جائے تو زمین، جلایا جائے تو آگ اور پانی میں بہایا جائے تو پانی ناپاک ہو گا۔ کائنات کے ان عناصر کی پاکیزگی برقرار رکھنے کے لیے وہ میت کو ایک بلند ٹاور پر رکھ دیتے ہیں، جہاں شکاری پرندے گوشت کھا جاتے ہیں اور ہڈیاں دھوپ میں سوکھ کر پاؤڈر بن جاتی ہیں۔ اگرچہ موجودہ دور میں شکاری پرندوں کی کمی کی وجہ سے کئی پارسی اب تدفین یا شمشان گھاٹ کا رخ بھی کر رہے ہیں۔

    اہم عدالتی مقدمات اور تاریخی تنازعات

    کراچی کی عدالتی تاریخ میں پارسی خاندانوں کی جائیدادوں، ٹرسٹ فنڈز اور مذہبی حقوق سے متعلق کئی ایسے مقدمات چلے، جنہوں نے پاکستان کے کارپوریٹ اور سول قوانین کی تشریح میں اہم کردار ادا کیا۔

    قائد اعظم کی وراثت کا مقدمہ

    قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات 1948 کے بعد کراچی ہائی کورٹ میں ان کی جائیداد اور مسلک کے تعین سے متعلق ایک طویل عدالتی مقدمہ شروع ہوا، جو دو دہائیوں تک چلتا رہا۔ یہ مقدمہ قائد اعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور ان کے دیگر رشتہ داروں، جیسے احمد علی، کے درمیان تھا۔ اس مقدمے میں پارسی برادری سے تعلقات اور قائد اعظم کی شادی کے سرٹیفکیٹ بطور ثبوت پیش کیے گئے۔

    عدالتی کارروائی کے دوران یہ ثابت کرنے کے لیے کہ جناح نے اپنی زندگی میں روایتی خوجہ اسماعیلی طریقہ ترک کر دیا تھا، رتی سے شادی کا 1918 کا سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیا گیا، جس پر ان کا مسلک اثنا عشری درج تھا۔ نامور قانون دان سید شریف الدین پیرزادہ نے بھی اس مقدمے میں اہم گواہی دی۔

    یہ مقدمہ پاکستان کی قانونی تاریخ میں ‘قانون وراثت’ اور مسلم پرسنل لا کی تشریح کے حوالے سے ایک سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔

    ایڈلجی دنشا رفاہی ٹرسٹ کا مقدمہ

    تقسیم ہند کے بعد جب ایڈلجی دنشا خاندان کے کئی افراد انگلینڈ اور امریکہ ہجرت کر گئے، تو کراچی میں موجود ان کی اربوں روپے مالیت کی جائیداد اور سینکڑوں ایکڑ اراضی کو سنبھالنے کے لیے قائم ٹرسٹ کے معاملات عدالتوں میں پہنچے۔ ان مقدمات میں یہ قانونی نکتہ زیر بحث آیا کہ آیا ایک غیر مسلم رفاہی ٹرسٹ کی زمین کو حکومت پاکستان متروکہ وقف املاک کے طور پر ضبط کر سکتی ہے یا نہیں۔

    کراچی ہائی کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلوں میں پارسی ٹرسٹیوں کے حقوق کو تحفظ دیا اور یہ طے کیا کہ پارسی پاکستان کے برابر کے شہری ہیں اور ان کے رفاہی اداروں کی جائیدادیں کسی بھی صورت میں ضبط نہیں کی جا سکتیں۔ انہی فیصلوں کی بدولت آج بھی این ای ڈی یونیورسٹی اور لیڈی ڈفرن ہسپتال جیسے ادارے کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔

    سمندری قانون کے مقدمات

    1950 اور 1960 کے عشروں میں جب پاکستان کی بحری تجارت عروج پر تھی، تو کاؤس جی گروپ اور ڈوباش کمپنیوں کے خلاف بین الاقوامی جہاز رانی کمپنیوں اور کسٹمز حکام کے درمیان کارگو نقصان اور کراچی ہاربر کے برتھنگ چارجز سے متعلق پیچیدہ مقدمات سندھ ہائی کورٹ میں دائر ہوئے۔

    ان مقدمات کی پیروی بیرسٹر ہوشنگ رستم جی اور جسٹس دوراب پٹیل، جج بننے سے پہلے، کرتے تھے۔ ان مقدمات کی وجہ سے پاکستان میں سمندری قانون کے اصول وضع ہوئے اور بندرگاہ پر کارگو ہینڈلنگ کی قانونی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا۔

    ماضی اور حال کا موازنہ

    انیسویں صدی کا کراچی ایک ایسا شہر تھا جس کی صفائی، امن اور ترقی کی مثالیں پورے ایشیا میں دی جاتی تھیں۔ اس دور میں پارسیوں کی آبادی اگرچہ چند ہزار تھی، لیکن شہر کے میئر، ڈاکٹر، وکیل اور تاجر اسی برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ جمشید نسروانجی نے کراچی میونسپل کارپوریشن کے صدر اور میئر کی حیثیت سے شہر کو جو نقشہ دیا، اس کی بدولت کراچی کی سڑکیں روزانہ رات کو سمندر کے پانی سے دھوئی جاتی تھیں۔

    کراچی شہر کی جدید تعمیر و ترقی میں پارسی خاندانوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ کراچی بندرگاہ سے لے کر زندگی کے ہر شعبے میں وہ متحرک اور سرگرم رہے۔ آج اور ماضی کے کراچی کا موازنہ کیا جائے تو شدید افسوس اور دکھ کا احساس ہوتا ہے۔ جب 1970 کے عشرے میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ملکی اداروں کو قومی تحویل میں لیا گیا، تو پارسی خاندانوں کا دل ٹوٹ گیا۔ ان کے بحری جہاز، فلور ملیں اور کاروباری ادارے سرکاری تحویل میں لے لیے گئے۔

    اس معاشی دھچکے اور بعد کے ادوار میں شہر کی امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث پارسیوں کی نئی نسل نے تیزی سے کینیڈا، انگلینڈ، امریکہ اور آسٹریلیا ہجرت کرنا شروع کر دی۔ ایک وقت تھا جب کراچی میں پارسیوں کی تعداد پانچ ہزار سے زائد تھی، لیکن آج 2026 میں یہ تعداد گھٹ کر محض چند سو افراد تک رہ گئی ہے، جن میں اکثریت بزرگ شہریوں کی ہے۔

    شہر کے قلب میں جمشید کوارٹرز میں واقع ‘بائی ویربائی جی کاؤس باغ’ پارسی کالونی آج بھی پرانے کراچی کے امن اور صفائی کا ایک نمونہ پیش کرتی ہے، جہاں اب بھی چند خاندان آباد ہیں۔

    ان کا ورثہ آج بھی کراچی کی روح میں زندہ ہے۔ ‘ماما پارسی گرلز ہائی اسکول’ اور ‘بائی ویربائی سوپاری والا، بی وی ایس پارسی بوائز اسکول’ آج بھی شہر کے ہزاروں مسلم، ہندو اور عیسائی بچوں کو بہترین تعلیم فراہم کر رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پارسیوں نے شہر سے صرف لیا نہیں بلکہ اسے ہمیشہ کے لیے سنوارا ہے۔

    کراچی جب تک قائم ہے، وہ اپنے اس معمار، دیانت دار اور امن پسند طبقے کا قرض دار رہے گا، کیونکہ پارسی صرف ایک برادری کا نام نہیں تھے بلکہ وہ کراچی کی تہذیب، اس کے اخلاق اور اس کے سنہری دور کی علامت تھے۔

  • سن 1893 میں بنی صدر کی تاریخی کچھی میمن مسجد: کراچی کے قلب میں اسلامی فنِ تعمیر اور مسلم شناخت کا مینار

    سن 1893 میں بنی صدر کی تاریخی کچھی میمن مسجد: کراچی کے قلب میں اسلامی فنِ تعمیر اور مسلم شناخت کا مینار

    نوآبادیاتی دور میں کراچی کا نقشہ اگر دیکھا جائے، تو یہ شہر مختلف برادریوں کا گلدستہ تھا۔ موجودہ دور کا مصروف ترین تجارتی مرکز ‘صدر’ برطانوی راج کے دوران بنیادی طور پر مسلمان، مسیحی، پارسی، یہودی اور ہندو برادریوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، جہاں سینٹ پیٹرک کیتھڈرل، کٹراک ہال اور جودھا مل جیسے نامور مندر اور عبادت گاہیں تعمیر ہو رہی تھیں۔

    ایسے میں صدر کے قلب میں واقع راجہ غضنفر علی روڈ پر ایک ایسی عمارت کی بنیاد رکھی گئی جس نے نہ صرف خطے میں اسلامی فنِ تعمیر کی لاجواب چھاپ چھوڑی، بلکہ صدر میں کچھی مسلم کمیونٹی کی مذہبی اور سماجی شناخت کو بھی مستحکم کیا۔ یہ عمارت ‘تاریخی کچھی میمن مسجد’ ہے۔

    اس تاریخی مسجد کی بنیاد 1893 میں برطانوی دورِ حکومت کے دوران رکھی گئی، جو اسے کراچی شہر کی قدیم ترین اور فعال ترین مساجد میں سے ایک بناتی ہے۔ اس کی تعمیر کا سہرا کراچی میں آباد ‘کچھی میمن’ برادری کے سر ہے۔

    یہ وہ دور اندیش کاروباری برادری تھی جو قیامِ پاکستان سے کئی عشروں قبل ہی گجرات کے ساحلی علاقے ‘کچھ’ (Kutch) سے ہجرت کر کے کراچی منتقل ہوئی تھی اور شہر کے تجارتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن گئی تھی۔

    اس دور میں صدر کے تجارتی علاقے میں مسلم ملازمین اور تاجروں کے لیے باجماعت نماز اور اذان کا کوئی مستقل گڑھ موجود نہ تھا، جس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اس برادری نے زمین حاصل کر کے اس پختہ مسجد کی بنیاد رکھی۔

    ثقافتی اور تعمیراتی لحاظ سے یہ مسجد گزری کے پیلے پتھر سے تیار کردہ کلاسیکی نوآبادیاتی طرز اور روایتی اسلامی فنِ تعمیر کا ایک حسین سنگم ہے۔

    جبکہ مسجد کے بیرونی حصے اور محرابوں پر جودھپوری اور مقامی راجگیروں کے ہاتھ کی خوبصورت نقش و نگار اور خطاطی دیکھی جا سکتی ہے۔

    مسجد کی سب سے بڑی انفرادیت اس کا پستہ ہرا رنگ کا اندرونی دالان ہے۔

    رنگین شیشے: مسجد کی کھڑکیوں میں نوآبادیاتی دور کا خاصہ سمجھے جانے والے روایتی رنگ برنگے شیشے نصب ہیں، جن سے چھن کر آنے والی روشنی مسجد کے ماحول کو ایک روحانی اور صدی پرانا تاریخی لمس بخشتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اندرونِ مسجد نصب قدیم کلاک اور نوادرات آج بھی جوں کے توں محفوظ ہیں۔

    جدت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اگرچہ اب اس کے مرکزی دروازے پر نماز کے اوقات بتانے والا ایک جدید ڈیجیٹل بورڈ نصب کر دیا گیا ہے، مگر اس کا اصل تاریخی ڈھانچہ اپنی اصل شکل میں برقرار ہے۔

    یہ مسجد محض ایک عبادت گاہ نہیں رہی، بلکہ اس نے کراچی کی سیاسی اور مذہبی تاریخ کو بنانے میں بھی کردار ادا کیا۔ پاکستان کی مایہ ناز مذہبی و سیاسی شخصیت، مفسرِ قرآن اور جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ اسی مسجد کے جوار (قرب و جوار) میں گزارا۔

    انہوں نے ایک طویل عرصے تک اس منبر و محراب سے امامت، خطابت اور درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیے، جس کی وجہ سے یہ مسجد تحریکِ ختمِ نبوت اور ملک کی سیاسی بیداری کا ایک اہم مرکز بنی رہی۔

    اگرچہ کچھی میمن برادری کا پاکستان سے قبل کا ایک اور بڑا مرکز آرام باغ (پرانا گاڑی کھاتا) میں بھی واقع ہے، لیکن صدر کی یہ کچھی میمن مسجد اپنے منفرد جغرافیائی محلِ وقوع، بازار کے بیچوں بیچ قائم ہونے اور اپنے پرسکون نوآبادیاتی طرزِ تعمیر کی وجہ سے کراچی کا ایک انمول تاریخی ورثہ ہے۔

    صدر کی بھیڑ بھاڑ میں یہ مسجد آج بھی 1893 کے کراچی کی امن پسندی اور خوبصورتی کی گواہی دیتی کھڑی ہے۔

  • یورپ کا وہ شہر جہاں ایک پل تاریخ، جنگ اور امید کی علامت بن گیا

    یورپ کا وہ شہر جہاں ایک پل تاریخ، جنگ اور امید کی علامت بن گیا

    بوسنیا ہرزیگووینا کا تاریخی شہر موسٹار دنیا کے اُن چند شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں ایک پل صرف آمد و رفت کا ذریعہ نہیں بلکہ پورے شہر کی شناخت بن چکا ہے۔ دریائے نیروتوا کے کنارے آباد یہ شہر صدیوں سے مشرق اور مغرب کے درمیان ثقافتی رابطے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہاں واقع مشہور ‘اسٹاری موسٹ’ یعنی ‘پرانا پل’ نہ صرف عثمانی فنِ تعمیر کا ایک شاہکار ہے بلکہ بوسنیا جنگ، تباہی اور دوبارہ تعمیر کی ایک زندہ یادگار بھی مانا جاتا ہے۔

    یہ پل سولہویں صدی میں عثمانی سلطنت کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس کی تعمیر سن 1557 میں شروع ہوئی اور 1566 میں مکمل ہوئی۔ اس منصوبے کی نگرانی عثمانی معمار معمار خیرالدین نے کی، جو مشہور عثمانی معمار سنان کے شاگرد سمجھے جاتے تھے۔ اس زمانے میں ایک ہی محراب پر مشتمل اتنا بڑا پتھریلا پل تعمیر کرنا انجینئرنگ کا حیرت انگیز کارنامہ تصور کیا جاتا تھا۔ پل تقریباً 29 میٹر لمبا اور دریائے نیروتوا سے قریب 24 میٹر بلند ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ اس پل کی تعمیر کے دوران عثمانی انجینئروں نے خاص قسم کے مقامی چونے کے پتھر ‘ٹینیلیا’ کا استعمال کیا تھا، جو ہرزیگووینا کے علاقے سے نکالا جاتا تھا۔ روایت ہے کہ پل کو مضبوط بنانے کے لیے پتھروں کو جوڑنے والے مسالے میں انڈوں کی سفیدی بھی شامل کی گئی تھی، اگرچہ بعض مؤرخین اسے ایک مقامی داستان قرار دیتے ہیں۔ اس پل کی خوبصورتی اور منفرد محرابی ساخت نے بعد میں یورپ کے کئی معماروں کو متاثر کیا۔

    شہر ‘موسٹار’ کا نام بھی اسی پل سے جڑا ہوا ہے۔ قرونِ وسطیٰ میں پل کی حفاظت کرنے والے محافظوں کو ‘موستاری’ کہا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہی لفظ پورے شہر کی پہچان بن گیا۔ یہ پل صرف دو کناروں کو نہیں بلکہ مختلف مذاہب اور قومیتوں کو بھی آپس میں جوڑتا رہا۔ عثمانی دور میں یہاں مسلمان، کروشین اور سرب آبادی ایک ہی تجارتی مرکز میں رہتی تھی، جس کی جھلک آج بھی شہر کی گلیوں اور عمارتوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔

    انیس سو ترانوے میں بوسنیا جنگ کے دوران یہ تاریخی پل شدید گولہ باری کے بعد منہدم ہوگیا۔ اس واقعے کی تصاویر دنیا بھر میں نشر ہوئیں اور بہت سے لوگوں نے اسے صرف ایک عمارت کی تباہی نہیں بلکہ مشترکہ تاریخ اور ثقافت کے ٹوٹنے کی علامت قرار دیا۔ پل کے گرنے کے بعد دریائے نیروتوا میں اس کے بڑے بڑے پتھر بکھر گئے تھے۔

    جنگ کے بعد یونیسکو، ورلڈ بینک، ترکی، اٹلی، نیدرلینڈز اور کئی دیگر ممالک نے اس پل کی بحالی میں حصہ لیا۔ تعمیرِ نو کے دوران ماہرین نے اصل عثمانی نقشوں اور پرانی تصاویر کی مدد سے پل کو دوبارہ اسی طرز میں تعمیر کرنے کی کوشش کی۔ کم معروف حقیقت یہ ہے کہ غوطہ خوروں نے دریائے نیروتوا کی تہہ سے اصل پل کے متعدد پتھر نکالے تاکہ جہاں ممکن ہو انہیں نئی تعمیر میں دوبارہ استعمال کیا جا سکے۔ نئی تعمیر میں بھی وہی ٹینیلیا پتھر استعمال کیے گئے جو صدیوں پہلے اصل پل میں لگائے گئے تھے۔

    سن 2004 میں پل دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا گیا اور اگلے ہی سال UNESCO نے موسٹار کے تاریخی علاقے کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے دیا۔ یونیسکو نے اسے مختلف تہذیبوں، مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی کی علامت قرار دیا تھا۔

    آج بھی موسٹار کی سب سے مشہور روایت پل سے دریائے نیروتوا میں چھلانگ لگانا ہے۔ مقامی نوجوان گرمیوں کے موسم میں اس بلند پل سے برف جیسے ٹھنڈے پانی میں غوطہ لگاتے ہیں۔ یہ روایت کئی صدیوں پرانی سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ اس کا باقاعدہ ریکارڈ بیسویں صدی سے ملتا ہے، لیکن مقامی لوگ اسے عثمانی دور سے جوڑتے ہیں۔ ہر سال یہاں بین الاقوامی ڈائیونگ مقابلے منعقد ہوتے ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔ نیروتوا کا پانی گرمیوں میں بھی انتہائی ٹھنڈا رہتا ہے، اسی لیے یہ چھلانگ صرف بہادری نہیں بلکہ جسمانی مہارت کا امتحان بھی سمجھی جاتی ہے۔

    موسٹار کی پرانی مارکیٹ آج بھی عثمانی دور کی فضا کو زندہ رکھتی ہے۔ پتھروں سے بنی تنگ گلیاں، ہاتھ سے تانبے کے برتن بنانے والے کاریگر، روایتی بوسنیائی قہوہ پیش کرنے والے کیفے اور لکڑی و دھات سے بنی یادگاری اشیا سیاحوں کو کئی صدی پیچھے لے جاتی ہیں۔ یہاں کے بازار میں آج بھی ایسی دکانیں موجود ہیں جو نسلوں سے ایک ہی خاندان چلا رہا ہے۔

    اگرچہ شہر نے خود کو دوبارہ تعمیر کرلیا ہے، لیکن جنگ کے آثار اب بھی واضح ہیں۔ کئی عمارتوں کی دیواروں پر گولیوں کے نشانات موجود ہیں، جبکہ بہت سے خاندان آج بھی جنگ میں کھوئے ہوئے اپنے عزیزوں کی یادیں سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہی تضاد موسٹار کو ایک منفرد شہر بناتا ہے، جہاں خوبصورتی اور درد ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

    موسٹار کو اکثر یورپ میں تہذیبوں کے سنگم کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں ایک ہی وقت میں مسجدوں کی اذانیں، چرچ کی گھنٹیاں اور مختلف ثقافتی روایات ایک ساتھ محسوس کی جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مورخین موسٹار کو صرف ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ یورپ میں بقائے باہمی کی ایک علامت بھی قرار دیتے ہیں۔

    آج دنیا بھر سے لاکھوں سیاح موسٹار کا رخ کرتے ہیں، مگر اس شہر کی اصل کشش اس کا خوبصورت پل نہیں بلکہ وہ داستان ہے جو اس کے پتھروں میں چھپی ہوئی ہے۔ ایک ایسا شہر جو جنگ میں ٹوٹ گیا، مگر دوبارہ کھڑا ہوا، اور ایک ایسا پل جو تباہ ہونے کے باوجود آج بھی لوگوں کو جوڑنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

  • ‘نظریہ ضرورت’ کے تحت عدالتی فیصلہ، جس نے ملک کی تاریخ کو یکسر بدل دیا

    ‘نظریہ ضرورت’ کے تحت عدالتی فیصلہ، جس نے ملک کی تاریخ کو یکسر بدل دیا

    پاکستان کی عدالتی تاریخ صرف قانونی فیصلوں کی تاریخ نہیں بلکہ اقتدار، فوج، سیاست، آئین اور ریاستی طاقت کی ایک ایسی کہانی ہے جہاں بعض مقدمات اتنے عجیب، متنازع اور غیر معمولی رہے کہ انہوں نے پورے ملک کی سمت بدل دی۔

    کچھ فیصلے ایسے تھے جن میں عدالت نے آمریت کو قانونی تحفظ دیا، کچھ میں منتخب وزرائے اعظم کو برطرف کیا گیا، جبکہ کچھ مقدمات میں چند منٹ کی پارلیمانی کارروائی نے پورے ملک کو آئینی بحران میں دھکیل دیا۔

    پاکستان کے عجیب ترین عدالتی مقدمات میں سب سے پہلے 1954 کا مولوی تمیز الدین کیس آتا ہے۔ اُس وقت پاکستان ابھی نیا ملک تھا اور آئین سازی جاری تھی۔ گورنر جنرل غلام محمد نے اچانک دستور ساز اسمبلی توڑ دی۔ یہ وہ اسمبلی تھی جو پاکستان کا آئین بنا رہی تھی۔ اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین خان عدالت پہنچے اور مؤقف اختیار کیا کہ گورنر جنرل کو اسمبلی توڑنے کا اختیار نہیں۔

    سندھ چیف کورٹ (برطانوی دور میں ہائی کورٹ کے لیے استعمال ہونے والا لفظ) نے اسمبلی کے حق میں فیصلہ دیا اور کہا کہ اسمبلی بحال ہونی چاہیے۔ مگر بعد میں وفاقی عدالت کے چیف جسٹس محمد منیر نے فیصلہ بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی ضرورت کے تحت گورنر جنرل کا اقدام درست تھا۔ اسی فیصلے سے ‘نظریہ ضرورت’ پیدا ہوا، جس نے بعد میں پاکستان کی تاریخ میں بار بار مارشل لاز کو قانونی جواز دیا۔

    عدلیہ کی جانب سے ‘نظریہ ضرورت’ کے تحت دیے جانے والے فیصلے نے آنے والے سالوں میں ملک کی تاریخ کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ کئی قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر اُس دن عدالت اسمبلی بحال رکھتی تو شاید پاکستان میں جمہوریت کی تاریخ مختلف ہوتی۔

    اس کے بعد 1977 کا نصرت بھٹو کیس آیا۔ جنرل ضیا الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا نافذ کردیا۔ آئین معطل ہوگیا، سیاسی رہنما گرفتار ہوئے اور ملک فوجی حکومت کے نیچے آگیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ نصرت بھٹو سپریم کورٹ پہنچیں۔

    سوال یہ تھا کہ کیا فوج آئین توڑ سکتی ہے؟ عدالت نے ایک بار پھر ‘نظریہ ضرورت’ استعمال کیا اور کہا کہ غیر معمولی حالات میں فوجی اقدام جائز ہوسکتا ہے۔ عدالت نے ضیا الحق کو انتخابات کرانے کی شرط کے ساتھ وقتی اختیار دے دیا، مگر یہی وقتی اختیار گیارہ سالہ آمریت میں بدل گیا۔ بعد میں ناقدین نے کہا کہ عدالت نے آئین کے بجائے طاقت کے سامنے سر جھکا دیا تھا۔

    پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے متنازع اور پراسرار مقدمہ ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس تھا۔ 1974 میں اپوزیشن رہنما احمد رضا قصوری پر حملہ ہوا جس میں ان کے والد نواب محمد احمد خان مارے گئے۔ بعد میں الزام لگا کہ حملے کے پیچھے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے۔

    فوجی حکومت نے بھٹو کو گرفتار کرلیا۔ لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ چلا، جہاں چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین نے انہیں سزائے موت سنائی۔ بھٹو کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ جج جانبدار ہیں اور مقدمہ سیاسی انتقام ہے۔ کیس سپریم کورٹ گیا جہاں سات رکنی بینچ نے چار تین کی اکثریت سے سزا برقرار رکھی۔ صرف ایک ووٹ نے ایک منتخب وزیر اعظم کی جان لے لی۔

    چار اپریل 1979 کو بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ بعد میں کئی ججوں، سیاستدانوں اور عالمی ماہرین قانون نے اسے ‘عدالتی قتل’ قرار دیا۔ حتیٰ کہ برسوں بعد سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں کہا کہ بھٹو کو شاید منصفانہ ٹرائل نہیں ملا تھا۔

    1990 کی دہائی میں اصغر خان کیس سامنے آیا، جو پاکستان کی سیاسی انجینئرنگ کی سب سے عجیب داستانوں میں شمار ہوتا ہے۔ سابق ایئر مارشل اصغر خان نے عدالت میں درخواست دی کہ 1990 کے انتخابات میں فوج اور خفیہ اداروں نے سیاستدانوں میں پیسے تقسیم کیے۔

    مقدمے میں انکشاف ہوا کہ مہران بینک کے ذریعے کروڑوں روپے سیاستدانوں کو دیے گئے تاکہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو روکا جاسکے۔ برسوں بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ واقعی سیاستدانوں میں رقوم تقسیم ہوئیں اور یہ غیر قانونی تھا۔ مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اتنا بڑا فیصلہ آنے کے باوجود عملی طور پر کسی بڑے کردار کو سزا نہ مل سکی۔

    2007 میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کی برطرفی کا مقدمہ بھی غیر معمولی تھا۔ فوجی صدر پرویز مشرف نے اچانک چیف جسٹس کو معطل کردیا۔ ٹی وی چینلز پر پہلی بار عوام نے ایک چیف جسٹس کو ریاستی طاقت کے سامنے کھڑا دیکھا۔ وکلا سڑکوں پر نکل آئے، تحریک چلی، پولیس نے لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس چلی اور عدالتیں سیاسی جنگ کا مرکز بن گئیں۔ بعد میں سپریم کورٹ نے افتخار چوہدری کو بحال کردیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک فوجی صدر کو عدالتی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

    پھر آیا این آر او کیس۔ جنرل پرویز مشرف نے 2007 میں قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری کیا، جس کے تحت بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور دیگر سیاستدانوں کے مقدمات ختم ہوگئے۔ بعد میں سپریم کورٹ نے این آر او کو کالعدم قرار دے دیا اور حکومت کو سوئس حکام کو خط لکھنے کا حکم دیا تاکہ زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولے جائیں۔

    وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے صدر کو استثنیٰ حاصل ہونے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے خط لکھنے سے انکار کردیا۔ سپریم کورٹ نے انہیں توہین عدالت میں طلب کیا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ سزا صرف چند سیکنڈ کی علامتی قید تھی، مگر اسی بنیاد پر وہ وزارت عظمیٰ سے نااہل ہوگئے۔ دنیا بھر میں یہ مثال حیرت سے دیکھی گئی کہ چند لمحوں کی سزا ایک منتخب وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کے لیے کافی بن گئی۔

    2016 میں پاناما کیس نے پورے پاکستان کو ہلا دیا۔ عالمی صحافتی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ دنیا بھر کی شخصیات آف شور کمپنیاں رکھتی ہیں، جن میں نواز شریف کے بچوں کے نام بھی شامل تھے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ لندن فلیٹس کرپشن کے پیسے سے خریدے گئے۔ سپریم کورٹ میں طویل سماعتیں ہوئیں۔ ٹی وی چینلز روزانہ عدالت کے باہر براہِ راست نشریات کرتے رہے۔
    دلچسپ بات یہ تھی کہ آخرکار نواز شریف کو براہِ راست کرپشن ثابت ہونے پر نہیں بلکہ اقامہ یعنی دبئی کی کمپنی سے وصول نہ کی گئی تنخواہ ظاہر نہ کرنے پر نااہل کیا گیا۔ ایک تنخواہ جو کبھی لی ہی نہیں گئی، وہ پاکستان کے وزیر اعظم کی نااہلی کا سبب بن گئی۔ یہی چیز اس کیس کو عجیب ترین مقدمات میں شامل کرتی ہے۔

    2022 کا ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس پاکستان کی آئینی تاریخ کے عجیب ترین اور تیز ترین عدالتی بحرانوں میں شمار ہوتا ہے۔ اُس وقت وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوچکی تھی۔ قومی اسمبلی میں ووٹنگ ہونی تھی۔ مگر اچانک ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے چند منٹ کی رولنگ دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد مسترد کردی اور کہا کہ یہ بیرونی سازش کا حصہ ہے۔ اسی لمحے وزیر اعظم نے صدر کو اسمبلی توڑنے کی سفارش کردی۔

    پورا ملک حیران رہ گیا کیونکہ چند منٹ میں حکومت، پارلیمان اور آئین سب غیر یقینی صورتحال میں چلے گئے۔ اپوزیشن فوراً سپریم کورٹ پہنچ گئی۔ عدالت نے مسلسل رات گئے تک سماعتیں کیں۔ ملک بھر کے ٹی وی چینلز پر براہِ راست کارروائی چلتی رہی۔ سوال یہ تھا کہ کیا ڈپٹی اسپیکر آئینی طریقہ کار کے بغیر تحریک مسترد کرسکتا ہے؟ سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے رولنگ کو غیر آئینی قرار دیا، اسمبلی بحال کردی اور حکم دیا کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی۔

    چند دن بعد عمران خان وزارت عظمیٰ سے ہٹ گئے۔ یہ شاید پاکستان کی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا جہاں چند منٹ کی پارلیمانی رولنگ نے پورے آئینی نظام کو بحران میں ڈال دیا اور عدالت کو فوری مداخلت کرنا پڑی۔

    پاکستان کی عدالتی تاریخ میں میمو گیٹ اسکینڈل بھی بہت عجیب سمجھا جاتا ہے۔ ایک خفیہ میمو کے ذریعے الزام لگا کہ پاکستانی حکومت نے امریکہ سے فوج کے خلاف مدد مانگی۔ ایک غیر تصدیق شدہ سفارتی نوٹ اتنا بڑا بحران بن گیا کہ سپریم کورٹ تک معاملہ پہنچ گیا۔ سفیر حسین حقانی کو استعفیٰ دینا پڑا اور پورا سیاسی ماحول ہل کر رہ گیا۔

    حالیہ برسوں میں سائفر کیس بھی غیر معمولی توجہ حاصل کرتا رہا۔ ایک سفارتی مراسلہ، قومی سلامتی، خفیہ دستاویزات اور سابق وزیر اعظم پر آفیشل سیکریٹس ایکٹ کے تحت مقدمات نے اسے پاکستان کی جدید تاریخ کے سب سے حساس قانونی تنازعات میں شامل کردیا۔ عدالتوں میں بند کمرہ سماعتیں ہوئیں، جیل ٹرائلز ہوئے اور فیصلوں پر شدید سیاسی بحث جاری رہی۔

    پاکستان کی عدالتی تاریخ کا عجیب پہلو یہ ہے کہ یہاں عدالتیں صرف قانونی ادارے نہیں رہیں بلکہ اکثر اقتدار کی جنگ کا مرکزی میدان بن گئیں۔ بعض فیصلوں نے آمریت کو طاقت دی، بعض نے منتخب حکومتیں ختم کیں، جبکہ کچھ مقدمات نے یہ سوال ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا کہ پاکستان میں اصل طاقت آئین کے پاس تھی یا طاقتور حلقوں کے پاس۔

  • صدر پاکستان آصف زرداری کا دورہ چین، پاکستان چین تعلقات کی طویل تعلقات کی تاریخ

    صدر پاکستان آصف زرداری کا دورہ چین، پاکستان چین تعلقات کی طویل تعلقات کی تاریخ

    میں نے گزشتہ رات صدر آصف علی زرداری کے چین کے دورے کے بارے میں چائنا سینٹرل ٹیلی وژن کی ایک مختصر ڈاکیومنٹری دیکھی جو صدر پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے آفیشل سوشل میڈیا پیج پر بھی شیئر کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں پاکستانی صدر کے بجائے انہیں زیادہ تر پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے داماد اور بینظیر بھٹو کے شوہر کے طور پر متعارف کروایا جا رہا تھا۔

    پاکستان اور چین کے تعلقات ہمیشہ ریاستی مفادات کے ساتھ ساتھ دوستی پر مبنی رہے ہیں مگر ان تعلقات کو مضبوط بنانے میں قیادت کی دور اندیشی اور ان کے وفد کے انتخاب کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ ایک طرف ذوالفقار علی بھٹو کی علمی اور سفارتی حکمت عملی ہے اور دوسری طرف صدر آصف علی زرداری کے دور کے وفود کی سیاسی نوعیت۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا روح رواں سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس وقت چین سے دوستی کی بنیاد رکھی جب دنیا دو بلاکس میں تقسیم تھی۔ بھٹو صاحب کی کامیابی کا راز صرف ان کی شخصیت نہیں بلکہ ان کی بااعتماد اور ماہر ٹیم بھی تھی۔

    عزیز احمد ایک تجربہ کار سفارتکار تھے۔ بھٹو صاحب انہیں اپنے وفد میں اس لیے شامل کرتے تھے تاکہ بین الاقوامی معاہدوں کی پیچیدگیوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ ان کی موجودگی چین کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کو باوقار موقف فراہم کرتی تھی۔

    عبدالحفیظ پیرزادہ نہ صرف ایک سیاستدان بلکہ قانون کے ماہر بھی تھے۔ چین کے ساتھ ہونے والے دفاعی اور اقتصادی معاہدوں کو قانونی شکل دینے اور پاکستان کے مفادات کے تحفظ میں ان کا کردار نہایت اہم تھا۔

    ڈاکٹر مبشر حسن ایک ماہر معاشیات تھے۔ انہیں بخوبی علم تھا کہ امریکہ اور روس جیسی عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے پاکستان چین کے ساتھ کس طرح معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔

    بھٹو صاحب کی حکمت عملی کے اثرات بھی نمایاں تھے۔ وہ چینی قیادت ماؤ زے تنگ اور چو این لائی سے برابری کی بنیاد پر بات کرتے تھے۔ انہوں نے وزارت خارجہ کو ایسے ماہرین سے مزین کیا جو اپنے شعبے میں مہارت رکھتے تھے جس سے پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا۔

    صدر آصف علی زرداری کے دور میں چین کے ساتھ تعلقات میں اقتصادی رخ پر زور دیا گیا جسے بعد میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کی شکل ملی تاہم ان کے وفود کے انتخاب پر اکثر تنقید بھی کی گئی۔

    جب ریاستی وفود میں ایسے افراد شامل کیے جائیں جن کا نہ خارجہ پالیسی سے تعلق ہو اور نہ ہی وہ سفارتی آداب سے واقف ہوں تو اس سے ملکی وقار متاثر ہوتا ہے۔ زرداری دور پر بڑی تنقید یہ رہی کہ اہم دوروں میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن کی علمی سطح بین الاقوامی فورمز کے معیار کے مطابق نہیں تھی۔ جب سیاسی وفاداری کی بنیاد پر افراد کو آگے لایا جائے تو میزبان ممالک میں پاکستان کی سنجیدگی پر سوال اٹھتے ہیں۔

    وفد کے انتخاب کا مسئلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ قابلیت تجربہ اور علم کی جگہ اگر سیاسی وفاداری اور ذاتی تعلقات کو بنیاد بنایا جائے تو اعلیٰ سطح کے وفود محض سیر سپاٹے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

    کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب اسے چلانے والے افراد عزیز احمد عبدالحفیظ پیرزادہ اور ڈاکٹر مبشر حسن جیسے ماہر ہوں۔ جب علم اور دانائی کی جگہ خوشامد لے لے تو ریاست کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    بھٹو صاحب نے چین کو مستقبل کا دوست بنایا مگر اس دوستی کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے ایسی ٹیم درکار ہے جو چینی قیادت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے نہ کہ صرف تصاویر بنوانے تک محدود رہے

  • تاریخ کا جبر، سیکولرزم اور ہماری بقا: اندھیروں سے روشنی تک کا سفر

    تاریخ کا جبر، سیکولرزم اور ہماری بقا: اندھیروں سے روشنی تک کا سفر

    انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حیرت انگیز تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک طرف انسان خود کو عقل، شعور اور اخلاقی برتری کا مالک سمجھتا ہے، تو دوسری طرف ہزاروں سالوں سے مذہب، زمین، قومیت اور طاقت کے نام پر خون کی ندیاں بہاتا رہا ہے۔ تاریخ صرف بادشاہوں اور جنگوں کی داستان نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی شعور کے ارتقاء، فکری آزادی اور سماجی ڈھانچوں کی تبدیلی کی کہانی بھی ہے۔

    آج جب ہم اکیسویں صدی میں کھڑے ہیں تو دنیا واضح طور پر دو حصوں میں بٹی ہوئی نظر آتی ہے: ایک طرف وہ قومیں ہیں جو سائنسی، معاشی اور سماجی طور پر عروج پر ہیں، اور دوسری طرف ہم جیسے ممالک ہیں، جو اب تک مذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت اور معاشی پسماندگی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کے ان موڑوں کو سمجھنا ہوگا جہاں قوموں نے اپنے راستے بدل کر نئے مستقبل تعمیر کیے۔

    مسلمانوں کا سنہرا دور: جب عقل امام تھی

    آٹھویں صدی سے تیرہویں صدی تک کا دور اسلامی تاریخ کا سنہرا دور کہلاتا ہے۔ مگر یہ سوال اہم ہے کہ اس عروج کی بنیادی وجہ کیا تھی؟ کیا یہ صرف مذہب تھا یا مذہب کی وہ تشریح، جس نے عقل اور تحقیق کو مرکزی حیثیت دی؟

    بغداد کے بیت الحکمت میں یونانی فلسفے، ہندی ریاضی اور ایرانی طب کے ترجموں اور تحقیق کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ انسانی علم کی تاریخ میں ایک انقلاب تھا۔ یہاں علم کو کسی مذہبی حد بندی میں نہیں جکڑا گیا، بلکہ تجربے اور مشاہدے کو بنیادی حیثیت دی گئی۔

    جب ابن الہیثم روشنی کے اصول بیان کر رہے تھے، یا الخوارزمی الجبرا کی بنیاد رکھ رہے تھے، تب یہ محقق مذہب کی تنگ تشریح سے آزاد ہو کر کائنات کی حقیقتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس دور میں معتزلہ جیسے فکری مکتبے موجود تھے، جو کہتے تھے کہ عقل خدا کی دی ہوئی سب سے بڑی نعمت ہے، اور مذہبی متن کو بھی عقل کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔

    لیکن تیرہویں صدی کے بعد حالات بدلنے لگے۔ اجتہاد کا دروازہ آہستہ آہستہ بند کر دیا گیا اور تقلید کو ترجیح دی گئی۔ فکری آزادی ختم ہونے لگی، اور مذہب کی سخت تشریح غالب آ گئی۔ نتیجے میں، وہ معاشرہ جو کبھی علم کا مرکز تھا، رفتہ رفتہ جمود کا شکار ہو گیا۔

    یورپ کا تاریک دور اور فکری بغاوت

    جس وقت مسلم دنیا سائنسی ترقی کے عروج پر تھی، یورپ تاریک دور سے گزر رہا تھا۔ چرچ کا مکمل راج تھا، اور پوپ کے حکم سے انکار کفر تصور کیا جاتا تھا۔ سائنسدانوں اور مفکروں کو مذہبی عدالتوں میں پیش کیا جاتا تھا، جہاں انہیں سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔

    کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کے درمیان ہونے والی تیس سالہ جنگ یورپ کی تاریخ کی سب سے تباہ کن جنگوں میں سے ایک تھی، جس نے نہ صرف لاکھوں جانیں لیں، بلکہ پورے معاشرے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔

    مگر یہاں ایک اہم فرق پیدا ہوا – یورپ نے اس تباہی سے سبق سیکھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اگر مذہب ریاست پر حاوی رہا تو امن، ترقی اور استحکام ناممکن رہے گا۔ 1648ء میں معاہدہ ویسٹ فیلیا ایک تاریخی موڑ ثابت ہوا، جس نے ریاست اور مذہب کے درمیان حدود مقرر کیں۔ یہی سیکولرزم کی بنیاد کا آغاز تھا۔

    سیکولرزم: جدید دنیا کی تعمیر کا بنیاد

    سیکولرزم کا مطلب مذہب سے انکار کرنا نہیں ہے، بلکہ مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دینا اور ریاست کو غیر جانبدار بنانا ہے۔ یہ ایک ایسا سماجی معاہدہ ہے، جہاں ہر شہری، کسی بھی عقیدے سے تعلق رکھنے کے باوجود، برابر حقوق کا مالک ہوتا ہے۔

    یورپ میں جب چرچ کی سیاسی طاقت کو محدود کیا گیا، تب سائنسدانوں کو آزادی ملی۔ نتیجے میں سائنسی انقلاب آیا، جس کے بعد صنعتی انقلاب، ٹیکنالوجی کی ترقی اور جدید معیشت وجود میں آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ قانون کی حکمرانی قائم ہوئی، انسانی حقوق کو تحفظ ملا، عورتوں کو معاشی اور سماجی میدان میں شامل کیا گیا، اور تعلیم کو مذہبی کنٹرول سے آزاد کیا گیا۔ یہ تمام عناصر مل کر جدید مغربی معاشرے کی تعمیر کا سبب بنے۔

    مسلم دنیا اور جدید بحران: تضاد کا شکار معاشرہ

    آج جب ہم مسلم دنیا، خاص کر پاکستان کی صورتحال دیکھتے ہیں تو ایک بڑا تضاد نظر آتا ہے۔ ہم سائنسی ایجادات – موبائل، انٹرنیٹ، ادویات، ٹیکنالوجی – کا استعمال تو کرتے ہیں، مگر ان کے پیچھے موجود سائنسی سوچ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

    ہمارا معاشرہ اب تک فرقہ واریت، مذہبی تعصب اور غیر سائنسی سوچ میں پھنسا ہوا ہے۔ ہم اپنی توانائی اس بحث میں ضائع کرتے ہیں کہ کون سچا ہے اور کون غلط، جبکہ دنیا مصنوعی ذہانت، جینیاتی انجینئرنگ اور خلائی تحقیق میں آگے بڑھ رہی ہے۔ آج عالمی معاشی نظام علم اور ڈیٹا پر مبنی ہے۔ وہ قومیں جو علم پیدا کرتی ہیں، وہی دنیا پر حکمرانی کرتی ہیں۔ جبکہ جو قومیں صرف ماضی میں رہتی ہیں، وہ معاشی غلامی کا شکار ہو جاتی ہیں۔

    پاکستان کے لیے راستہ: فکری انقلاب کی ضرورت

    اگر پاکستان کو ترقی کرنی ہے، تو صرف معاشی پالیسیوں سے کام نہیں چلے گا – اس کے لیے فکری انقلاب کی ضرورت ہے۔

    پہلا: سیاست اور مذہب کی علیحدگی۔ ریاست کی بنیاد شہریت پر ہونی چاہیے، نہ کہ کسی مخصوص مذہبی شناخت پر۔ جب ریاست غیر جانبدار ہوگی، تبھی تمام شہریوں کو یکساں مواقع ملیں گے۔

    دوسرا: تعلیمی اصلاحات۔ ہمیں اپنی تعلیم کو رٹہ نظام سے نکال کر تنقیدی سوچ پر لانا ہوگا۔ طلباء کو سوال کرنا، دلیل دینا اور تحقیق کرنا سکھانا ہوگا۔

    تیسرا: سماجی رواداری۔ ایک ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے، نہ کہ دبایا جائے۔

    چوتھا: سائنسی معیشت۔ معیشت کو زرعی یا قرضی نظام سے نکال کر ٹیکنالوجی اور صنعت کی طرف لے جانا ہوگا۔

    تاریخ کا سبق اور مستقبل کا سوال

    تاریخ بار بار ایک ہی سبق دیتی ہے: جو قوم عقل کو رد کرتی ہے وہ زوال کا شکار ہوتی ہے۔

    یورپ کا عروج اس لیے نہیں ہوا کہ انہوں نے اپنی ثقافت چھوڑ دی، بلکہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے ایک ایسا نظام بنایا جہاں علم، انصاف اور آزادی بنیادی اصول بنے۔ پاکستان کا مستقبل بھی اس بات سے جڑا ہے کہ کیا ہم ماضی کی زنجیروں میں جکڑے رہیں گے یا ایک نیا فکری سفر شروع کریں گے؟

    قائد اعظم کی 11 اگست والی تقریر بھی ایک ایسی ریاست کا تصور پیش کرتی ہے جہاں مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہو اور ریاست سب کے لیے برابر ہو۔

    اندھیروں سے روشنی کی جانب

    آج ہم ایک تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں۔ ایک طرف جمود، تعصب اور پسماندہ سوچ ہے، اور دوسری طرف علم، آزادی اور ترقی کا راستہ ہے۔ انتخاب ہمیں کرنا ہے۔

    اگر ہم نے اپنی فکری پیاس کو سائنس، فلسفے اور آرٹ کے ذریعے سیراب کیا تو ہم بھی ترقی کے راستے پر چل سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ماضی کی زنجیروں میں جکڑے رہے، تو تاریخ ہمیں بھی ان قوموں کی صف میں کھڑا کر دے گی جو اپنا مستقبل خود تباہ کرتی ہیں۔

    یہ سفر آسان نہیں مگر ناممکن بھی نہیں، کیونکہ تاریخ ثابت کر چکی ہے کہ جب انسان سوال کرنا شروع کرتا ہے، تبھی روشنی جنم لیتی ہے۔

  • زندگی کے اوپر بسا ہوا ماضی: پاکستان کے وہ شہر جہاں زمین کے نیچے تاریخ سانس لیتی ہے

    زندگی کے اوپر بسا ہوا ماضی: پاکستان کے وہ شہر جہاں زمین کے نیچے تاریخ سانس لیتی ہے

    کیا واقعی ایسے شہر موجود ہیں جہاں زندگی براہ راست ماضی کے اوپر کھڑی ہو؟ جہاں سڑکیں، گھر اور بازار اس زمین پر آباد ہوں جس کے نیچے صدیوں پرانی قبریں موجود ہوں؟ پاکستان کے کئی بڑے شہر اس حقیقت کی خاموش مثال ہیں، جہاں وقت کی تہیں ایک دوسرے کے اوپر جڑی ہوئی ہیں۔

    کراچی، جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے، دراصل ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں تاریخ اکثر زمین کے نیچے چھپی ہوئی ملتی ہے۔ سخی حسن، ماوا شاہ اور لیاری کے اطراف موجود قدیم قبرستان اب شہری پھیلاؤ کے باعث گنجان آبادیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ مستند رپورٹس کے مطابق شہر میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے دوران پرانی قبریں اور انسانی باقیات دریافت ہونے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ علاقے کبھی مکمل قبرستان تھے۔

    لاہور، جو صدیوں پرانی تہذیبوں کا مرکز رہا ہے، وہاں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ میاں میر قبرستان اور بی بی پاکدامن کے اطراف کے علاقے آج مصروف شہری زندگی کا حصہ ہیں، مگر ان کے نیچے تاریخ کی پرتیں موجود ہیں۔ تاریخی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ برصغیر کے قدیم شہروں میں قبرستان اکثر آبادیوں کے قریب یا اندر ہی قائم کیے جاتے تھے، جو وقت کے ساتھ شہری حدود میں شامل ہو گئے۔

    پشاور، جسے جنوبی ایشیا کے قدیم ترین مسلسل آباد شہروں میں شمار کیا جاتا ہے، اس حوالے سے اور بھی منفرد ہے۔ قصہ خوانی بازار اور اس کے گردونواح میں کھدائی کے دوران مختلف ادوار کے آثار ملے ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ شہر صدیوں سے بار بار آباد اور مدفون ہوتا رہا ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق ایسے شہر دراصل تہوں میں زندہ رہتے ہیں، جہاں ہر نئی آبادی پچھلی تہذیب کے اوپر قائم ہوتی ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ دنیا کے کئی تاریخی شہروں، جیسے قاہرہ اور استنبول، میں بھی یہی پیٹرن دیکھا جاتا ہے، جہاں پرانی قبریں اور آبادیاں نئی زندگی کے ساتھ ساتھ موجود رہتی ہیں۔ پاکستان کے یہ شہر بھی اسی تسلسل کا حصہ ہیں۔

    یہ منظر ہمیں ایک گہری حقیقت کی یاد دلاتا ہے۔ زندگی اور موت الگ نہیں، بلکہ ایک ہی کہانی کے دو رخ ہیں، جو وقت کے ساتھ ایک دوسرے میں ضم ہوتے رہتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل
    جہاں کہانیاں صرف نظر نہیں آتیں، بلکہ محسوس بھی ہوتی ہیں

     

  • کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت : تاریخی اہمیت، کپاس کی معیشت، اور ملکیتی تنازع

    کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت : تاریخی اہمیت، کپاس کی معیشت، اور ملکیتی تنازع

    کراچی کی تجارتی اور معاشی تاریخ میں چند عمارتیں ایسی ہیں جو محض دفتری استعمال تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ شہر کی اجتماعی یادداشت اور اقتصادی شناخت کا حصہ بن جاتی ہیں۔

    ایسی ہی ایک عمارت کراچی کے مرکزی کاروباری علاقے آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی عمارت ہے، جسے عام طور پر کراچی کاٹن ایکسچینج کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ عمارت صرف اینٹ اور پتھر کا ڈھانچہ نہیں بلکہ وہ جگہ تھی جہاں سے دہائیوں تک پاکستان کی کپاس کی معیشت کی سمت متعین ہوتی رہی۔ یہاں جاری ہونے والے نرخ ملک بھر کی ٹیکسٹائل صنعت، برآمدی معاہدوں، بینکاری نظام اور انشورنس سیکٹر کے لیے فیصلہ کن اہمیت رکھتے تھے۔

    کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کا قیام 1933 میں برطانوی دور میں عمل میں آیا۔ اس ادارے کا مقصد کپاس کی خرید و فروخت کو منظم کرنا، معیار مقرر کرنا اور نرخوں کا تعین کرنا تھا۔

    اس وقت کراچی برصغیر کی بڑی بندرگاہوں میں شامل تھا اور کپاس کی برآمد خطے کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہی تھی۔ اسی ضرورت کے تحت کراچی میونسپل کمیٹی کی ملکیتی زمین پر کاٹن ایکسچینج کی عمارت تعمیر کی گئی تاکہ کپاس کی تجارت کے لیے ایک مرکزی اور باقاعدہ پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے۔

    دستاویزی ریکارڈ کے مطابق اس عمارت کی تعمیر 1930 کی دہائی کے آخر یا 1940 کی دہائی کے آغاز میں مکمل ہوئی۔ زمین کراچی میونسپل کمیٹی کی ملکیت تھی، جو آج کی کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی پیش رو سمجھی جاتی ہے، جب کہ عمارت کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے میونسپل لیز کے تحت تعمیر کی۔

    اس دور میں یہ زمین کسی نجی فرد یا کمپنی کی ملکیت نہیں تھی بلکہ براہ راست ایک بلدیاتی ادارے کے انتظام میں تھی۔

    یہ بھی ایک کم معروف حقیقت ہے کہ کاٹن ایکسچینج کی عمارت اپنے دور کی تجارتی عمارتوں میں شمار ہوتی تھی، جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بولیاں اور اسپاٹ ریٹس نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی خریداروں کے لیے بھی حوالہ قیمت کی حیثیت رکھتے تھے۔

    قیام پاکستان کے بعد بھی یہ عمارت مسلسل کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے زیر استعمال رہی اور کئی دہائیوں تک کپاس کی قومی معیشت کا عملی مرکز بنی رہی۔

    وقت کے ساتھ ساتھ کراچی کے تجارتی نقشے میں تبدیلی آئی، اسٹاک ایکسچینج اور دیگر مالیاتی ادارے نمایاں ہوئے، مگر کاٹن ایکسچینج کی عمارت اپنی تاریخی اور معاشی اہمیت برقرار رکھتی رہی۔

    یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں جب اس عمارت پر ملکیتی تنازع سامنے آیا تو یہ معاملہ محض قانونی نہیں رہا بلکہ شہری اور تجارتی سطح پر ایک حساس موضوع بن گیا۔

    کاٹن ایکسچینج کی عمارت کیوں سیل کی گئی؟

    13 دسمبر 2025 کو وفاقی تحقیقاتی ادارے میں درج ایک ایف آئی آر کے تحت وفاقی اداروں، ایویکی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ اور ایف آئی اے نے اس عمارت کو ایویکی پراپرٹی قرار دیتے ہوئے کارروائی کی اور عمارت کو سیل کر دیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق زمین اور عمارت ایویکی ٹرسٹ کی ملکیت ہیں اور ماضی میں انہیں غیر قانونی طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

    عمارت کے سیل ہونے سے معمول کی تجارتی سرگرمیاں عارضی طور پر متاثر ہوئیں اور چند دن تک اسپاٹ ریٹس جاری نہ ہو سکے۔

    بعد ازاں ادارے نے سرکاری طور پر بتایا کہ عدالتی کارروائی کے دوران کپاس کی منڈی میں خلل سے بچنے کے لیے عبوری انتظامات کیے گئے ہیں، جن کے تحت اسپاٹ ریٹس متبادل مقام اور دفتری و آن لائن نظام کے ذریعے جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ ٹیکسٹائل صنعت، بینکوں اور دیگر متعلقہ شعبوں کو قیمتوں کے تعین میں تسلسل میسر رہے۔

    ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کا مؤقف ہے کہ تقسیم کے بعد بعض املاک کو سرکاری گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ایویکیو پراپرٹی قرار دیا گیا تھا اور یہ عمارت بھی انہی ریکارڈز میں شامل ہے۔

    بورڈ کے مطابق اگر کسی جائیداد کو کسی مرحلے پر ایویکی پراپرٹی قرار دے دیا جائے تو وہ وفاقی حکومت کی تحویل میں آ جاتی ہے، چاہے اس پر بعد میں کسی ادارے کا استعمال کیوں نہ رہا ہو۔

    تاہم اس مؤقف پر اعتراض بھی سامنے آیا ہے۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے مطابق یہ عمارت کبھی کسی ایسے فرد کی ملکیت نہیں رہی جو ہجرت کر گیا ہو، اس لیے اسے روایتی معنوں میں ایویکی پراپرٹی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    ان اداروں کا کہنا ہے کہ چونکہ زمین ابتدا ہی سے ایک بلدیاتی ادارے کی ملکیت تھی، اس لیے ایویکی قوانین کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا۔

    کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے عمارت کو سیل کرنے اور مکینوں کو نکالنے کے اقدام کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہوا ہے۔ اس سے قبل کراچی کے میئر نے وفاقی اداروں کو لکھے گئے خط میں اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا۔

    کے ایم سی کا مؤقف ہے کہ کارروائی بغیر پیشگی نوٹس اور اختیار کے کی گئی، جبکہ 2019 کے قانون کے بعد ایویکی پراپرٹی سے متعلق بعض اختیارات صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔ عدالت نے ابتدائی سماعت میں سخت کارروائی سے روکنے کا حکم دیا ہے۔

    مزید برآں کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ یہ ادارہ انڈین کمپنیز ایکٹ 1913 کے تحت قائم ہوا تھا اور جائیداد 1947 سے قبل ہی اس کے استعمال میں آ چکی تھی، اس لیے اسے ایویکی ٹرسٹ پراپرٹی ایکٹ 1975 کے تحت نہ تو چھوڑ دی گئی جائیداد اور نہ ہی ایویکی پراپرٹی قرار دیا جا سکتا۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے بعض دستاویزات پر جعلی ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ دوسری جانب بلدیاتی ادارے اپنے ریکارڈ اور لیز دستاویزات کو درست قرار دیتے ہیں۔ یہی متضاد سرکاری ریکارڈ اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

    یہ معاملہ اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے، جہاں تمام فریقین اپنے اپنے قانونی اور دستاویزی مؤقف پیش کر رہے ہیں۔ عدالت کے حتمی فیصلے سے قبل کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہو گا۔

    تاہم ایک بات واضح ہے کہ کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت محض ایک عمارت نہیں بلکہ کراچی کی تجارتی تاریخ، کپاس کی معیشت، اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی تشریح کا ایک اہم امتحان ہے۔ اس کا فیصلہ نہ صرف ملکیتی معاملہ طے کرے گا بلکہ مستقبل میں سرکاری زمینوں اور تاریخی تجارتی اداروں کے تحفظ کی سمت بھی متعین کرے گا۔

  • صدام حسین: اقتدار، مزاحمت، روپوشی اور انجام

    صدام حسین: اقتدار، مزاحمت، روپوشی اور انجام

    بیسویں صدی کی عرب اور مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں چند شخصیات ایسی گزری ہیں جنہوں نے صرف اپنے ملک نہیں بلکہ پورے خطے کی سیاست، جنگ، معیشت اور عالمی طاقتوں کے توازن کو متاثر کیا۔ صدام حسین انہی متنازع اور اثرانداز کرداروں میں شامل تھے۔

    کچھ حلقوں کے نزدیک وہ عرب خودمختاری اور مغربی بالادستی کے خلاف مزاحمت کی علامت تھے۔ کچھ کے لیے وہ ایک سخت گیر آمر، جنگوں کے معمار اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ دار تھے۔ صدام حسین کی زندگی دراصل اقتدار، خوف، قومی وقار، غلط فیصلوں اور بالآخر تنہائی کی داستان ہے۔

    یہ کہانی ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک پورے نظام کے عروج اور زوال کی ہے۔ غربت سے اقتدار تک اور پھر روپوشی سے پھانسی تک، صدام حسین کا سفر جدید عرب تاریخ کے سب سے تاریک ابواب میں شمار ہوتا ہے۔

    ابتدائی زندگی: محرومی سے اقتدار کے خواب تک

    صدام حسین 28 اپریل 1937 کو عراق کے قصبے الاعوجہ میں پیدا ہوئے جو تکریت کے قریب واقع ہے۔ ان کے والد ان کی پیدائش سے پہلے وفات پا چکے تھے۔ شدید معاشی اور سماجی دباؤ کے باعث والدہ نے کچھ عرصہ انہیں نانا کے گھر چھوڑ دیا۔

    یہ غیر محفوظ اور محرومی سے بھرا بچپن صدام کی شخصیت میں سختی، بداعتمادی اور طاقت کے ذریعے بقا کے تصور کو گہرا کرتا گیا۔ ان کی پرورش زیادہ تر چچا خیر اللہ طلفاح نے کی جو عرب قوم پرست اور سخت نظریات کے حامل تھے۔

    اسی ماحول نے صدام کے ذہن میں طاقت، ریاستی بالادستی اور قومی وقار کے تصورات کو مضبوط کیا۔ تعلیم میں وہ نمایاں نہ تھے مگر اقتدار کی خواہش کم عمری میں ہی نمایاں ہو چکی تھی۔

    بعث پارٹی اور سیاست میں داخلہ

    انیس سو پچاس کی دہائی میں عراق سیاسی انتشار، فوجی بغاوتوں اور نظریاتی کشمکش کا شکار تھا۔ 1957 میں صدام حسین نے بعث عرب سوشلسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

    1959 میں وزیر اعظم عبدالکریم قاسم پر قاتلانہ حملے میں مبینہ شمولیت کے بعد انہیں عراق چھوڑنا پڑا۔ وہ شام اور مصر میں رہے جہاں سیاسی روابط مضبوط کیے اور پارٹی کے اندر اپنی حیثیت مستحکم کی۔

    1968 کی بعث پارٹی بغاوت کے بعد صدام عراق واپس آئے اور تیزی سے اقتدار کے مراکز تک پہنچ گئے۔

    اقتدار کی سیڑھیاں: 1979  کا فیصلہ کن موڑ

    1968 کے بعد اگرچہ وہ صدر نہیں تھے مگر انٹیلیجنس، سیکیورٹی اداروں اور پارٹی تنظیم پر ان کا کنٹرول بڑھتا گیا۔ 1970 اور 1972 میں تیل کی قومی تحویل نے عراق کو معاشی طاقت دی اور صدام کو عوامی سطح پر مقبولیت ملی۔

    1979 میں صدر احمد حسن البکر کے استعفے کے بعد صدام حسین صدر بنے۔ اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے بعث پارٹی کے اندر صفائی مہم چلائی۔ درجنوں اعلیٰ رہنماؤں کو غدار قرار دے کر قتل یا قید کر دیا گیا۔

    یہی وہ مرحلہ تھا جب عراق ایک مکمل آمرانہ ریاست میں تبدیل ہو گیا۔

    ایران عراق جنگ

    1980 میں صدام حسین نے ایران پر حملہ کیا۔ ان کا خیال تھا کہ انقلاب کے بعد ایران کمزور ہے اور عراق خطے کی بڑی طاقت بن سکتا ہے۔

    یہ جنگ آٹھ برس جاری رہی۔ لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں۔ معیشت تباہ ہوئی اور معاشرہ گہرے زخموں کا شکار ہوا۔ اسی دوران کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اور کردوں کے خلاف انفال مہم نے صدام کی حکمرانی کو خوف پر قائم رکھا۔

    کویت پر حملہ: عالمی تنہائی کا آغاز

    1990 میں کویت پر حملہ صدام کی سب سے بڑی سیاسی اور تزویراتی غلطی ثابت ہوا۔ اس فیصلے نے امریکہ اور مغربی طاقتوں کو براہ راست عراق کے خلاف متحد کر دیا۔

    1991 کی خلیج جنگ میں عراق کو شدید شکست ہوئی مگر صدام اقتدار میں برقرار رہے۔ اس کے بعد طویل اقتصادی پابندیاں لگیں جن کا سب سے زیادہ بوجھ عام عراقی عوام نے اٹھایا۔

    2003: اقتدار کا خاتمہ اور فرار

    مارچ 2003 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق پر حملہ کیا۔ اس جنگ کا جواز بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا دعویٰ تھا جو بعد میں ثابت نہ ہو سکا۔

    چند ہفتوں میں بغداد سقوط کا شکار ہو گیا۔ ریاستی ڈھانچہ بکھر گیا اور دہائیوں سے قائم خوف کا نظام اچانک زمین بوس ہو گیا۔

    صدام حسین آخری بار بغداد کی سڑکوں پر نظر آئے۔ اس کے بعد وہ منظر سے غائب ہو گئے۔ اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی وہ طاقت بھی ختم ہو گئی جو برسوں ان کے گرد حصار بنی رہی تھی۔

    روپوشی کی زندگی

    صدام حسین نے بغداد کے بجائے تکریت اور اس کے نواحی علاقوں میں چھپنے کو ترجیح دی۔ وہ مستقل ایک جگہ نہیں رکتے تھے۔ کبھی دیہاتی گھروں میں، کبھی خفیہ کمروں میں اور کبھی زیر زمین گڑھوں میں پناہ لیتے رہے۔

    وہ محدود افراد پر ہی اعتماد کرتے تھے۔ نہ موبائل فون استعمال کرتے تھے اور نہ ریڈیو۔ پیغامات قاصدوں کے ذریعے بھجوائے جاتے تھے اور یہی انسانی روابط بالآخر ان کی گرفتاری کا سبب بنے۔

    امریکی انٹیلیجنس: انسانی سراغ کی بنیاد پر تلاش

    صدام حسین کی تلاش میں جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ انسانی معلومات پر انحصار کیا گیا۔ سابق بعث ارکان، ڈرائیوروں، کسانوں اور قریبی افراد سے تفتیش کی گئی۔

    بالآخر ایک اندرونی نیٹ ورک سے فیصلہ کن معلومات ملیں جن کی بنیاد پر کارروائی ممکن ہوئی۔

    آپریشن ریڈ ڈان

    13 دسمبر 2003 کو امریکی فوج نے تکریت کے قریب اد دور کے علاقے میں کارروائی کی۔ ایک فارم ہاؤس کے قریب زمین میں چھپا زیر زمین گڑھا دریافت ہوا۔

    اسی گڑھے سے بکھرے بالوں، داڑھی اور تھکے ہوئے شخص کو نکالا گیا۔ وہ صدام حسین تھے۔ نہ مزاحمت ہوئی اور نہ فائرنگ۔

    یہ ایک طاقتور آمر کے انجام کی علامت تھا۔

    گرفتاری کے بعد: مقدمہ اور انجام

    گرفتاری کے بعد صدام حسین کو عراقی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ دجیل قتل عام کے مقدمے میں انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیا گیا۔

    30 دسمبر 2006 کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔

    آج، تقریباً دو دہائیوں بعد، عراق اب بھی سیاسی عدم استحکام، فرقہ وارانہ تشدد اور بیرونی مداخلت کا شکار ہے۔ صدام حسین کے خاتمے کے ساتھ ایک آمر کا باب بند ہوا، مگر ایک ایسا طاقت کا خلا پیدا ہوا جو آج تک پُر نہ ہو سکا۔

    یہ سوال اب بھی قائم ہے۔
    کیا صدام حسین کے خاتمے نے عراق کو آزادی دی، یا اسے ایک طویل بحران کے حوالے کر دیا؟۔